Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35

آفرین لان میں آئی تو اسکو کئی سارے مہمان دکھائی دیئے…
اس نے یوں ہی ادھر ادھر دیکھا تو ازلان اسکو کہیں بهی نظر نہ آیا….
وہ حفسہ کے کمرے میں چلی گئی جہاں حفسہ ہلکے گلابی رنگ کے چولی شرارے میں ملبوس بہت خوبصورت لگ رہی تھی…..
“آفی دیکھو ٹھیک لگ رہی ہوں نا ؟……””””
حفسہ نے آفریں کو آتا ہوا دیکھا تو رخ پلٹ کر اس سے مشورہ مانگا
“ہاں حیفی بہت پیاری لگ رہی ہو ، فھیم بھائی کے پیار کا رنگ خوب چڑها ہے تم پر……””””
آفریں اسکو شانوں سے تھامتے ہوئے بولی
“اللہ اللہ آفی…..شرم کرو…. شادی کے بعد بهی نہیں سدهری تم……””
حفسہ نے پِھر سے آئینے کی طرف رخ کرلیا اور خود کو دیکھنے لگی…….
وہ گلاسس اٹھانے لگی
“اب تو ان گلاسس کا پیچھا چھوڑ دو … آج اِس فھیم بھائی کی سوتن کو یہیں رکھ دو تم……””””
آفریں نے اسکو گلاسس اٹھاتے دیکھا تو بول پڑی….
“تم سب لوگوں کو پتہ نہیں میرے گلاسس سے کیا مسئلہ ہے……”””
حفسہ آفریں کو دیکھتے ہوئے بولی
آفریں بس مسکرا دی…..
“آفی ایک بات پوچھوں…..”””
حفسہ آفریں کے ساتھ صوفے پہ بیٹھی فکرمندی سے بولی
آفریں نے سَر اثبات میں ہلایا…..
“تم آج جب سے آئی ہو خاموش خاموش لگ رہی ہو ؟ ازلان بھائی اور تمھاری ابھی تک نہیں بنی کیا ؟ ؟……”””
“حفسہ میں خاموش اسلیئے ہوں کہ اب میرے پاس بولنے کو کچھ رہا نہیں…..جو بولتی ہوں جو سوچتی ہوں اس کا اُلٹا ہی ہوجاتا ہے …. اور رہی بات ازلان کی تو مجھے نہیں پتہ یہ رشتہ کیسے چلے گا……”””
آفریں زخمی مسکراہٹ چہرے پہ لائے بولی….
اور ازلان والی بات پر اسکو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے…
انکا رشتہ کس راستے پر ان کو لے چلا تها اسکو سمجھ نہیں آیا……
“آفی… ازلان بھائی کو دِل سے اپنا لو …. وہ اتنے برے نہیں ہیں جتنا ہم دونوں ان کو سمجھ بیٹھے تھے … پہلے میں ہی تم سے خفا تھی نا کہ ان سے نکاح کیوں کیا ہے … اب میں ہی بول رہی ہوں ان کو اپنا کر دیکھو … جانے والے تو چلے جاتے ہیں انکے جانے سے کسی کی زندگی رک تو نہیں جاتی نہ…..””””
حفسہ اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھے مسکرا کر بولی…
“حفسہ میں نے جن جن کو دِل سے اپنایا ہے انہوں نے ہی میرے ساتھ برا کیا ہے …مجھے نہ لگتا ہے میری قسمت میں یہ محبت وحبت ہے ہی نہیں….. میں پِھر سے اِس محبت کے راستوں سے نہیں گزرنا چاہتی … نا ہی اب کسی سے دِل کا رشتہ بنانا چاہتی ہوں……”””
آفرین کے ساتهہ پچھلے دنوں سے جو ہوتا آرہا تھا.. آفرین وہ سب یاد کرتے بولی…
پہلے فیضان اور باقی گھر والو کی زبردستی کرنے پر کسی سے نکاح کرنا…. پِھر دانیال کا اسکو چھوڑنا اور اسکا دیا ہوا دھوکا…..
آفرین کو لگا.. وہ شاید ہی اب کسی کو اپنے دِل میں جگہ دے سکے…..
لیکن محبت تو کرنے کا نام نہیں ہونے کا نام ہے…
“آفریں ایسا کیوں کہہ رہی ہو…. بس خود کو ایک موقع تو دو … سب ٹھیک ہوجائیگا…..”””
“یہی موقع تو میں خود کو نہیں دینا چاہتی نا حیفی …. اور خیر میرا چھوڑو تم اپنا بتاؤ …. جلاد کے ساتھ زندگی کیسی جا رہی ہے …..”””
آفرین اسکو مسکراتے ہوئے دیکهہ کر بولی … اور اپنی بات نمٹانا چاہی..
“جیسی بھی ہو گزارنی تو اب اس جلاد کے ساتھ ہی ہے … اور ویسے اتنے برے بهی نہیں ہیں وہ….”””
حفسہ سَر جھکائے بولی
“اوہ ہو….برے نہین تو کیا ہیں ؟ ؟……”””
آفرین اسکو چهیڑتے ہوئے بولی
“نہیں پتا……”””
حفسہ اٹھ کھڑی ہوئی اور منہ دوسری طرف کردیا…
وہ بول کر پچتائی
“بڑی شرما رہی ہو…. خیر میں…..”””
آفریں اس کے پاس جاکر بولی…
“نہیں نہیں میں کیوں شرماوں…پاگل ہو کیا…..”””
حفسہ اسکو گھورتے ہوئے بولی
“اچها بھابهی جی.. زرا یہ تو بتائیں کہ یہ بریسلیٹ فھیم بھائی نے منہ دکھائی میں دیا کیا…..”””
آفریں اُس کے ہاتھ میں پہنے بریسلیٹ کو دیکھتے ہوئے بولی
“نہین یہ تو منگنی پہ دیا تھا…منہ دکھا……””””
حفسہ جو کہ روانی سے بول رہی تھی آفریں کے مسلسل گھورنے سے بات ادھوری چهوڑی اور زبان دانتوں تلے دبائی….
“کیا ؟ کیا کہا تم نے ؟ منگنی پر ؟ اور تم مجھے اب بتا رہی ہو….کیسی دوست ہو بهاڑ میں جاؤ…..”””
آفریں خفا ہوتے ہوئے بیڈ پہ بیٹھ گئی …
“یار سوری نا ناراض مت ہو جانا اب…. اور شرم آرہی تھی نا تمہیں بتانے سے… تم پهر سے تنگ کرنا شروع ہوجاتی….”””
حفسہ آفرین کے پاس بیٹھی اسکا ہاتھ پکڑے منانے لگی…
“شرما رہی تھی…. آئی بڑی…..”””
آفرین اسکی نقل اتارتے بولی …
“سوری نا آفی….””
“چل کوئی نئی… معاف کیا کیا یاد رکهے گی…..”””
آفرین مسکراتے ہوئے بولی
“اور ایک بات تجھے بتانی تھی وہ یونیورسٹی کے دنوں میں ازلان بھائی نے مجھ سے نمبر مانگا تھا اور………..””””
حفسہ نے اس دن والا قصہ بھی آفریں کو سنا ڈَلا…..
“اچها مطلب اسکو تم نے نمبر دیا تھا…..””
آفرین اسکو گھورتے ہوئے بولی
“ہاں سوری… مجهے تب ڈر لگتا تها ان سے اسلیئے…..”””
“چهوڑ اب اسکی وجہ سے سوری کر رہی ہو …جو ہو گیا سو ہو گیا … بھابی جی چلیں نیچے مہمان آگئے ہیں… آپکو ہی بلانے لائی تھی……”””
آفرین مسکراتے ہوئے بولی اور حفسہ کو شانون سے پکڑتی باہر لے جانے لگی
_________________________________________
.
.
آفریں حفسہ اور فھیم کے ساتھ صوفوں پہ بیٹھی تلاشتی نظروں سے ادهر اُدھر دیکھ رہی تھی …. جب اسکی نظر ازلان پر پڑی….
وہ عظمہ سے تو مل چکی تھی پر ازلان اسکو اب نظر آیا تھا…
بلیک شلوار قمیض پہنے … بالوں کو پَف اسٹائل دیئے… ہاتهہ میں سلور کلر کی گھڑی … چہرے پہ سنجیدگی لیئے وہ دو تِین مردوں سے باتوں میں مہو تھا….
کمال کی کشش دکھی تھی آج آفرین کو ازلان میں …
وہ اپنی نظریں اس پر سے ہٹا نہیں پائی….
ازلان نے مسلسل خود پر آفریں کی نظر محسوس کی تو چہرہ موڑے ایک نظر اسکی طرف دیکھا …
جو آدهے بالوں کو کیچر مین قید کیئے نیوی بلیو فراک پہنے ہلکے سے میک اپ میں کوئی پری دِکھ رہی تھی اور وہ پری اسی کو دیکھ رہی تھی … ازلان کو اچها لگا کہ آج اسنے ڈہنگ کے کپڑے پہنے ہیں اور بالون کو کهلا نہیں چهوڑا
ازلان ایک نظر اسکو دیکھ کر منہ موڑے گیا اور
واپس سے گفتگو میں مصروف ہو گیا….
آفریں ابھی تک اسکو ہی دیکھ رہی تھی …
جب حفسہ اسکو بہت دیر سے نوٹ کر رہی تھی تو آخر بول پڑی
“آفریں اتنا مت دیکھو ازلان بھائی کو ….سب کیا سوچینگے…..””””
آفرین حفسہ کی بات سن کر ہوش میں آئی اور سَر جھٹک کر وہاں سے چلی گئی….
ازلان اپنے آفس کے لوگوں سے فارغ ہوا تو سٹیج پر دیکھا جہاں آفریں اب موجود نہیں تھی
“کیا ہوا ازلان کسی کو ڈھونڈ رہے ہو ؟……”””
وہ ہر طرف پاگلوں کی طرح دیکھ رہا تھا جب غزل نے اس سے پوچھا
“آن… ہاں وہ آفرین … کہاں ہے وہ…..”””
ازلان ہچکچاتے ہوئے بولا… چوری جو پکڑی گئی تهی……
غزل پہلے اس باولے پر مسکرائی اور پِھر بولی
“ایسے سب کے سامنے پاگلوں کی طرح دهونڈوگے تو لوگ کیا کہینگے ….اور آفریں تو شاید…. میں نے اندر جاتے ہوئے دیکھا تها اسکو……”””
ازلان غزل کی بات سن سَر ندامت سے سَر کهجاتا ہوا وہاں سے نکل گیا…
غزل بهی مسکرادی…..
ازلان اندر آیا تو آفریں اسکو لاونچ میں دکھی جو کہ اسٹول پہ چڑهے ایڑیاں اوپر کیئے اوپر کی دراز سے کچھ سامان نکال رہی تھی….
اسکی ازلان کی طرف پشت تھی تو اسکو دیکھ نا سکی….
ازلان دھیرے دھیرے چلتا ہوا اُس کے پیچھے جا کھڑا ہوا…..
آفریں کا بیلنس بگڑا وہ گرنے لگی اور اپنی آنکھیں میچ گئی… کسی سہارے نے اسکو تھام لیا تھا….
وہ آنکھیں میچے ازلان کی گردن کی گرد باہیں باندھے اسکی بانہوں میں گری ہوئی تھی …
“آنکھیں کھول لو…. تمہیں سنبھالنے والا ابھی موجود ہے … گرنے نہیں دونگا……””
آفریں نے ازلان کی آواز سن کر یکدم آنکھیں کھولیں …
اور ان بھوری آنکھوں میں دیکھا … جو اسی کی آنکھیں پڑهہ رہی تھیں
آفرین آنکھیں کھولے بس ازلان کو دیکھے جا رہی تھی تو ازلان مسکرا دیا …
آفرین کو ہوش آتے ہی اسنے اپنی بانہوں کی گرفت ازلان کی گردن پر ڈھیلی کی….
“اتارو مجھے…….””””
ازلان نے اسکو اتارا تو اتنی دیر میں لائٹ چلی گئی …
پورے لاونچ میں اندھیرا چھا گیا…
آفرین نے ڈر کر ازلان کے کالر کو تهام کیا
“ازلان یہیں ہو تم؟…..”””
وہ اسکی کالر پکڑے بولی
“نہیں میں چلا گیا ہوں …. کالر تم نے کسی جن کی پکڑی ہوئی ہے …..”””
ازلان اسکی بیوقوفی پر مسکراتے ہوئے بولا …
‘مزاق مت کرو… اور جانا نہیں تم کہیں بھی …مجھے اندھیرے سے ڈَر لگتا ہے …..”””
آفرین اُس کے کالر کو اور مضبوطی سے تھامتے ہوئے بولی…
ازلان موقع دیکھتے ہی اکسے اور قریب آیا
آفرین اُس کے سینے پہ ہاتھ رکهے اسکو هٹانے کی کوشش کرنی لگی …
“موقعے کا فائدہ مت اٹھاؤ بدتمیز انسان…..”””
“موقع ہوتا ہی فائدہ اٹھانے کے لیئے ہے……”””
ازلان نے اسکا ہاتهہ اپنے سینے سے هٹا کر اپنے ہاتهہ میں پکڑ لیا…….
“ازلان چھوڑو مجھے … کوئی اجائیگا…..”””
آفریں بری طرح اس میں پهنس چکی تھی…
“یہ کوئی ہوتا کون ہے آنے والا … اور آنے دو جس کو انا ہے…. گرین کارڈ تو ملا ہوا ہے اب ہمہیں…….””””
ازلان آفریں کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا….
“ازلان اُتَر آئے نا آخر اپنی بدتمیزی پر تم……””””
آفرین اکتا کر بولی …
“اُف اب بجلی والوں کو کیا موت پڑی ہے جو اِس وقت عذاب میں ڈال دیا ہے…….””
فیضان کی آواز ان دونو کی سماعتوں سے ٹکرائی …
وہ موبائل کی ٹارچ جلاتا ہوا اندر بڑبڑاتا ہوا آرہا تھا…
“ازلان ابو آئے ہیں چھوڑو…..”””
آفرین نے فیضان کے آنے سے بهی ازلان کو اسی پوزیشن میں کھڑے دیکھا تو دانت پیستی ہوئی بولی….
فیضان کی نظر اندھیرے میں کھڑے دو وجودوں پر پڑی تو اسنے ٹارچ ان پر لگائی ….
جس سے آفریں شرم سے لال پڑ گئی وہ نظریں جھکا گئی اور کوشش کرنے لگی خود کو ازلان سے دور کرنے کی …
البتہ ازلان منہ موڑے فیضان کو مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا ، مسکراہٹ دل جلانے والی تهی…
“ہیلو سسر جی کیسے ہیں آپ…..”””
ازلان نے مسکراتے ہوئے کہا…
فیضان آنکھیں جھکا گیا …
غصے کے رنگ فیضان کے چہرے پر دیکھ کر ازلان کافی لطف و آمیز ہو رہا تھا اور مزید لطف اٹھانا چاہتا تھا….
اسکی تو عادت بن چکی تهی فیضان کو تپانے کی..
“شرم نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں تم میں…..”””
فیضان آنکھیں جهکائے غصے سے بولا …
“یہ دیکھو.. شرم تو آپکو کرنی چاہیئے سسر جی….. میاں بِیوِی کا رومینس چل رہا ہو تو ایسے ٹارچ ان پہ لگائے کھڑے نہین ہوجاتے ….اور چلو اپنی تسئلی کے لیئے ٹارچ لگائی ہی لی تو بعد میں اصل معاملا دیکھ کہ ہٹا دینی چاہیئے نا…..”””
ازلان نے اسکی جلتی ہوئی ٹارچ کو دیکھتے ہوئے کہا.. جو ابهی تک ان دونوں پر تهی…
آفرین نے بس اسکو گھورنے پر اکتفا کیا……
“فیضان جلدی سے ٹارچ ہٹاتا ہوا اوپر کی طرف بڑھ گیا…
کتنے بد لحاظ ہو تم … ابو ہیں وہ میرے تھوڑی شرم ہی کر لیتے تم…….””
آفرین تڑخ کر بولی…
“میرے سسر جی بھی تو ہیں….ان کو تپانے میں مزہ آتا ہے بس… دنیا کی ہر خوشی ایک طرف سسر جی کو تپانے کی خوشی ایک طرف…..””
ازلان مسکراتا ہوا بولا اور آفرین کا ہاتهہ بهی آزاد کرنے لگا…. آفرین نے اندھیرے کے باعث اسکا ہاتھ نہیں چهوڑا…
لائٹ آئی تو آفریں یکدم سے ہاتھ چهڑوا کر بهاگنے کی کوشش کرنے لگی …
ازلان نے اسکا ارادہ بهانپ کر پهر سے اسکا ہاتهہ مضبوطی سے پکڑ لیا…
“آہ… ازلان مجھے دَرْد ہو رہا ہے….”””
آفرین کے ہاتھ پر لگا زخم دکھا تو وہ کہرا کر بولی…..
ازلان نے ہاتھ چهوڑ کر اسکے ہاتھ کو دیکھا….
تو کل رات کا منظر اسکی آنکھوں کے آگے گھوم گیا… اسکو نیدامت ہوئی …
“آفریں کل کے لیئے سوری…..”
ازلان شرمندہ نگاہوں سے آفریں کو دیکھتا ہوا بولا …
“ازلان تم ایک وحشی انسان ہو …. تمھارے ساتھ رہنے سے اب مجھے خوف آنے لگا ہے ……”””
آفرین نم آنکھوں سے بولی … اسکو کل رات والی بات بھولی نہیں تهی……
“کہا نا سوری ….. آئِنْدَہ ایسا کروں تو جان لے لینا میری بس…..”””
ازلان کی آنکھوں مین اب غصہ اُتَر آیا یہ سن کر کہ آفرین کو اس کے ساتهہ رہنے سے خوف آرہا ہے…
آفرین نے اسکی یہ بات سنی تو اسکا دِل ایک پل کو دهڑکنا بھول گیا … اسکو عجیب سا احساس ہوا اُس کے ایسا بولنے سے…. شاید اسکا دل دکها…
“تم ہمیشہ بس تکلیف ہی دیتے رہتے ہو…..”””
آفرین شکوہ کرتی بولی
“اب کون سی تکلیف دی ؟ ……”””
ازلان نے الجھ کر اسکو دیکھا
آفریں اسکو چند سیکنڈز دیکھنے کے بَعْد افسوس سے سر ہلاتی وہاں سے نکلدی…
اور ازلان بھی اسی کے پیچھے چل دیا…
جب آفریں کی کچھ سہیلیوں نے ان دونوں کو آگے پیچھے دیکھا تو کهسر پھسر کرتی آفرین کے پاس گئیں….
“واہ آفریں تمہارا شوہر تو تم پہ بالکل لٹو ہے…..””””
کومل آفرین کو کہنی مارتی شرارت سے بولی اور ورشہ بھی ہنس دی……
آفرین نے ان دونوں کی بات سن کر ازلان کو دیکھا …
جو پوری محفل کے سامنے بنا کسی کی پروا کیئے مشروب کا گلاس پیتا اسی کو دیکھ رہا تھا…..
“پاگل ہے تھوڑا سا…..”””
آفریں ازلان کو دیکھتی عجیب زاویے بنائے بولی…
“پاگل؟ نہیں کرو یار، بہت ہینڈسم ہے قسمے… میں تو کب سے اسی کو دیکھے جا رہی ہوں …کیا بندہ ہے……””””
کومل اپنے دِل پہ ہاتھ رکھے شوخ پن سے بولی …
“اب اتنا بھی ہینڈسم نہیں ہے خیر…….”””
آفرین جل کر بولی … اسکو سمجههہ نہین آئی کہ اسکو غصہ کس پر آرہا ہے …
کومل کا اسکی تعریف کرنے پر یا بلاوجہ اسکو ہینڈسم کہنے پر….
“یار آفی آفریں ہو تم پر …. اتنے ہینڈسم شوہر کو تم ہینڈسم نہیں مان رہی … کالے جوڑے میں تو قہر ڈھا رہا ہے … اُف……”””
کومل ازلان کو دیکھے فدا ہوتے بولی
“لگتا ہے تمھارے شوہر پر ڈاکا ڈالنے کا سوچ رہی ہے یہ کومل…….”””
ورشہ ہنستے ہوئے آفریں سے بولی … آفریں کا دِل تو نہیں چاہا مسکرانے کا پر زبردستی مسکرا دی…
“بهاڑ میں جاؤ کومل…..”””
آفرین اُس کے شانے پہ مکا مارتے بولی کیوں کہ وہ ازلان سے نظر نہیں ہٹا رہی تھی…. آفرین اسکو ہوش میں لانا چاہتی تهی.. جو ازلان میں مدہوش تهی…
“آفی مجھے اِجازَت دے بس تو.. اس سے جاکر بات کروں ….”””
کومل آفرین کو دیکھتی ہوئی بولی…
“جاؤ بات کرو کچھ بھی کرو…..مجھے کیا……”””
آفریں نے زبردستی لاپروا بننے کی کوشش کی…
کومل اسکو گلے لگاتے وہاں سے نکل گئی…
“اب دیکھنا اِس کمینی کے ناٹک ذرا تم…..”””
ورشہ آفریں کے شانے پہ ہاتهہ رکھے بڑے مزے سے بولی… اور آفرین غصیلی نگهائوں سے ازلان کو ہی دیکھ رہی تھی مانو آنکھوں سے وارن کر رہی ہو کہ کوشش بھی مت کرنا کسی سے بات کرنے کی ….
کومل ایک ادا سے ازلان کے سامنے سے گزرتی اپنی رنگ اُس کے پیروں میں گرا گئی …
اور پِھر سے اسی کی سامنے اکر ایکٹنگ کرنے لگی …..
“پتہ نہیں میری رنگ کہان گر گئی ہے …اتنی قیمتی تھی اللہ……..”””
ازلان نے ایک نظر اس میک اپ سے لبریز لڑکی کو دیکھا اور واپس سے نظریں آفریں پر گاڑ دیں ….
وہ آفرین اور اسکی دوست کی نظریں خود پر پاکر الجھ رہا تھا…. جو کہ ایسے کهڑی سب دیکهہ رہی تهیں مانو کوئی فلم چل رہی ہو….
“اهمم … ایکسیوز می… آپ کے پیروں میں میری رنگ پڑی ہوئی ہے …اٹھا دینگے؟؟……”””
کومل کمال کی ایکٹنگ کرتے ہوئے مسکراتی ہوئی ازلان سے بولی……
ازلان نے ایک اچهاتری نظر اس پر ڈالی…
“میرا خیال نہیں کہ آپ کوئی لولی لنگڑی ہیں…. آپ یہ رنگ خود بھی اٹھا سکتی ہیں……”””
ازلان نے اپنے پیروں کے پاس پڑی رنگ کی طرف اشارہ کیا اور خود دو قدم پیچھے ہٹا…..
کومل نے شرمندگی سے آفریں والوں کی طرف دیکھا تو ورشہ نے اسکو ٹهینگا دکھایا …
آفرین بھی ہلکا سا مسکرائی….
وہ دونون ان کی باتیں نہیں سن پا رہیں تهیں.. پر ازلان کے چہرے پر بیزاری اور کومل کے چہرے پر شرمندگی انکو سب سمجها گئی….
ازلان ان تینوں کو اِس طرح دیکھ کر پورا ڈرامہ سمجھ گیا کہ کیوں یہ سب ہو رہا ہے اور کیوں آفرین اور اسکی دوست بڑے مزے سے کھڑی اسی کی طرف دیکھ رہیں تھیں ….
“اچها آپ کو رنگ اٹھا کے دینی ہے …اٹھا دیتے ہیں… کوئی مسئلہ ہی نہیں …..””””
ازلان نے مسکرا کر کومل سے کہا تو کومل نے یکدم اس کی طرف دیکھا جو رنگ اٹھا کر کھڑا ہو چکا تھا ….
ازلان نے آفرین کو دیکھا پِھر سے آفریں کی آنکھوں میں غصہ آگیا…..
“پہنا بھی دیں نا پلیز…..”””
کومل اپنا ہاتھ آگے کرتی ہوئی بولی
ازلان نے ایک نظر آفریں کو دیکھا
اور مسکرارتے ہوئے کومل کا ہاتھ بنا پکڑے اسکی انگلی میں رنگ ڈالتا بولا …..
“خود پہن لو آگے…..”””
اسنے بس کومل کے ناخن کے نیچے رنگ لے جا کر کڑے تیوروں سے کومل کو کہا تو کومل نے جھٹ سے رنگ اپنی انگلی میں پہن لی…
“بہت ہینڈسم ہیں ویسے آپ…..”””
کومل نے موقعے پہ چونکا مارنا چاہا
“اچها.. اور آپکی شکل مجھے نظر نہیں آرہی….میک اپ کی اوزون لیئر جو چڑھی ہوئی ہے چہرے پر… اسلیئے تعریف کی امید مت رکھنا … اور پہن لی نا رنگ … نکلنے والی کرو اب برائے مہربانی…..””””
ازلان نے اسکا چونکا لگنے نہیں دیا اور ازلان نے مسکراتے ہوئے اسکو اچھی والی سنا ڈالی….. دور سے کوئی دیکھتا تو ضرور یہی سمجھتا کہ خوش گپے چل رہے ہیں …..
سو آفرین اور ورشہ بھی یہی سمجھیں….
آفریں کا تو دِل چاہا کہ ابھی کے ابھی جاکر ازلان کا گلا دبا دے …..
وہ لب بهینچے ازلان کو ہی دیکھ رہی تھی …
کومل کے جانے کے بعد ازلان نے آفرین کو مسکرا کر دیکھا اور وہاں سے نکال گیا….
“حد درجے کا بدتمیز ہے….”””
کومل نے بڑبڑایا
“بڑا ہنس ہنس کر بات کر رہے تھے تم دونون واہ بھائی…..”””
کومل کے آتے ہی ورشہ نے کومل کو کہا…
“یہ بندہ تو کھڑوس ہے پر ہینڈسم بھی بہت ہے … بس اکڑو ہے کافی زیادہ…..”””
کومل نے لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ کہا ….
اور آفریں بنا سنے وہاں سے نکل گئی…..
سب جانے لگے تو عظمہ نے آفریں سے کہا…
“بیٹا تم چل رہی ہو ہماری ساتھ ؟…….”””
“نہیں خالہ میرا آج یہیں رکنے کا اِرادَہ ہے ….شادی کے بعد رکی ہی نہیں ہوں یہاں……”””
آفریں کے بولنے سے ازلان نے چونک کر اسکو دیکھا…
“آج رکنا ضروری تو نہیں…..”””
بے ساختا ازلان کے لبوں سے نکلا…..
سب نے ازلان کو دیکھا…
“ٹھیک ہے رک جاؤ …کوئی بات نہیں بیٹا … ماں باپ کی یاد تو آتی ہی ہوگی نا… چلو ازلان…..”””
عظمہ بات کو سمبهالتے ہوئے بولی
ازلان کو پتہ تھا آفریم ناراض ہے کل والی بات پر اسلیئے ایسا کر رہی ہے….
تو وہ چُپ رہا……………….
___________________________________________
.
.
ازلان عظمہ کو چھوڑتا ہوا گھر جانے کے بجائے سمندر کنارے بیٹھا ہوا مچلتی ہوئی لہروں کو دیکھ رہا تھا …. آج سارا دن اس نے آفریں کے بنا گزارا تھا اُس کے دِل کو وہ سکون نہیں مل رہا تھا جو آفرین کے ساتهہ ہونے سے ملا کرتا…. دِل جیسے بے چین تھا اسکا آج….
سگریٹ پیتا ہوا وہ آفریں کی یادوں میں ہی گم تھا…..
کل کے کیئے کی سزا تھی جو وہ اج بگھت رہا تھا….
اس نے چمکتے ہوئے چاند کو دیکھا….
جو اسکو آفریں کی یاد دلاتا …. پر پِھر بھی وہ آفریں کو چاند سے زیادہ خوبصورت قرار دے چکا تھا…..
ہاتھ پر کل کے زخم ابھی بھی تھے اور شاید دِل پر بھی….
اُدھر آفریں کمرے میں بیٹھی ہوئی موبائل کو ہی تک رہی تھی کہ شاید ازلان کا فون آجائے … وہ نہیں سمجهہ پائی کہ کیون اسکی کال کا ویٹ کر رہی ہے….
جب بہت دیر انتظار کے بعد بھی فون نہیں آیا تو وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی اور چاند کو دیکھنے لگی….
“پتہ نہین ازلان کو اِس چاند میں کیا دکھتا ہے …. اسکو اتنا کیوں دیکھتا رہتا ہے……”””
آفریں بھی چاند میں وہ ہی خوبی ڈهونڈنے لگی جو کہ ازلان کو چاند کو دیکھنے پر مجبور کرتی ہے……
پر اسکو چند میں چمک کے علاوہ ایسا کچھ نا دکھا…..
فون کے میسج کی رنگ بجی تو ایک امید سی پیدا ہوئی کہ ازلان کا مسج ہوگا پر جیسے ہی میسج کھولا وہ ازلان نہیں بلکہ کومل کا تھا جس مین وہ ازلان کا نمبر مانگ رہی تھی
“اف ایک تو اس پر بهی آج غصہ ہے بہت… کیسے دانت نکال کر بات کر رہا تها اس سے……”””””
آفریں نے خفا ہوتے ہوئے سَر جھٹکا…..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *