Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14

دانیال کو گهر آتے گیارہ بج چکے تھے گھر میں نیم اندھیرا تھا سب سو چکے تھے
وہ لاؤنچ میں آیا تو حفسہ کو صوفے پہ بیٹھے دیکھا جو کتابوں میں منہ دیئے ابھی تک پڑھ رہی تھی وہ لاونج میں سست قدم چلتا ہوا صوفے پہ اپنا کوٹ پھینکتا بیٹھ گیا حفسہ نے اسکو مسکرا کر دیکھا اور پوچھا
“کیسا رہا ڈنر بهائی ؟……”
“ھممم اچھا…..””
دانیال بنا کوئی تاثر لیئے بولا تو حفسہ کی مسکراہٹ غائب ہوگئی
“بھائی پِھر سے جهگڑا ہو گیا آپکا اور آفی کا ؟ کیوں کہ آپ اِس طرح تب ہی ہوتے ہیں جب آپ دونوں کی لڑائی ہوتی ہے…..””
حفسہ نے خود سے اندازہ لگایا
دانیال نے اسکی ایک کتاب اٹھائی اور اسکو کھولے دیکھ کر بولنے لگا
“ایسا کچھ نہیں بس تھک گیا ہوں…..”
“میں کافی لاؤں بھائی ؟……”
حفسہ نے فکرمندی سے کہا
دانیال نے کتاب بند کرتے حفسہ کو دیکھا اور بولا
“ایک بات پوچھوں تم سے حفسہ اور وعدہ کرو تم مجھے سب سچ بتاوگی……. “”
“جی بھائی پوچهیں نا……””
حفسہ اپنا چشمہ اتارتی ہوئی بولی
“اس دن ریسٹورنٹ میں کیا ہوا تھا سہی سہی بتاؤ….””
دانیال نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا
“کب اور کونسا دن ؟…..”
حفسہ دماغ پہ زور ڈالتی ہوئی بولی
“وہ ہی شاید آفی کا کسی سے جهگڑا ، لڑکوں کا تنگ کرنا . . مجھے بتاؤ اصل بات کیا ہے….””
دانیال ٹوٹے پھوٹے الفاظون میں اسکو یاد کرواتا بولا، حفسہ کو یاد پڑا تو اسنے ساری بات دانیال کو سنا ڈالی، دانیال سب کچھ سن کر ماتهے پہ هاتهہ مارتا رہ گیا… اسنے ٹینشن میں آکر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
“مطلب آفی سچ کہہ رہی تھی…..””
دانیال دھیرے سے بڑبڑایا
“پر ہوا کیا ہے بھائی…..””
حفسہ اب پریشان ہوگئی تو اسنے جاننا چاہا
“کوئی خاص بات نہیں تم اسٹڈی کرو….””
وہ کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا اور حفسہ سوچ میں پڑ گئی پِھر یہ سوچ کر شانے اچکا دیئے کہ کچھ دیر کی لڑائی ہوگی پهر ٹھیک ہوجاینگے جیسا ہمیشہ ہوا کرتا تھا اور واپس اپنے کتابون میں گھس گئی___________________________________
.
.
دانیال اپنے کمرے میں آیا اور فریش ہوکر هلکے پھلکے کپڑے پہن کر اپنے کمرے کے صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنی موبائل کو تکتے ہوئے سوچنے لگا
“کس منہ سے اب اس سے معافی مانگوں….””
اسنے سوچ کر موبائل صوفے پر ہی اچھال دیا اور ھاتھوں کو آپس میں جکڑ کر کہنیاں اپنے گهٹنوں پر ٹکاتا ہوا خود سے بڑبڑایا
“میں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ آفی مجھے دھوکہ دے گی اور نا جانے کیا کیا بول دیا اسکو …. ڈفر ہوں میں پہلے نمبر کا…..””
دانیال گدهے تو نے آفی پہ یقین کیا کیوں نہیں آخر….””
اب دانیال کو خود پہ غصہ آنے لگا
اسنے ہمت جمع کر کے پِھر سے فون اٹھایا اور آفرین کا نمبر ملانے لگا
رنگ جاتی رہی لیکن آفریں نے فون نہیں اٹھایا وہ سو چکی تھی اور موبائل اسکا کلچ میں ہی رہ گیا تھا جو کہ سائیلنٹ پر تھا
دانیال نے دوبارہ کال ملائی ، اس بار بهی فون نہیں اٹھایا گیا دانیال نے ہار نا مان کر تیسری دفعہ پِھر چوتهی دفعہ کال کی جب اسکو ریسپونس نہیں ملا تو وہ لب بینچ کے خود سے بڑبڑایا
“مہارانی سو چکی ہے شاید میری نیندیں اڑا کر……””
اسنے اب ایک میسج ٹائپ کیا اور خود بھی سونے لگا اسکو کافی کروٹیں بدلنے کے بعد ہی نیند نصیب ہوئی_______
.
.
آفریں صبح اٹھی تو خود کو اسی حلیئے میں دیکھ کر واشروم چلی گئی اور فریش ہوکر لائٹ گرین ڈھیلی سی شرٹ پر بلیک پلازہ پہن لیا اسکو آج یونیورسٹی بھی جانا تھا تو اس کے لیئے تیار ہونے لگی
اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر بالو کی اونچی پونی ٹیل بنائی ، کریم چہرے پر لگاتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی اور اپنا موبائل تلاش کرنے لگی اسکی نظر صوفے پہ پڑے کلچ پر گئی تو اسکو یاد پڑا کہ رات کو موبائل اسنے نہیں نکالا تھا اسنےکلچ سے اپنا موبائل اٹھایا اور دانیال کی پانچ مسڈ کالس دیکھی اسکی آنکھوں میں غصہ اُتَر آیا اور ایک میسج بھی تھا اس نے میسج اوپن کیا جس میں دانیال نے ایک شعر لکھا تھا
“ناجانے میں ہوگئی خطا ہم سے
جو ایسے منہ موڑ لیا تم سے
کان پکڑوں یا پڑوں پیر تمهارے؟
تم روٹهی ہو تو لگتا ہے روٹھ گیا ہوں خود سے…..””
آفی کو اسکی اوٹ پٹانگ سی کی ہوئی شاعِری پر ہنسی آئی تو اُس کے ساتھ رات والا رد عمل بھی یاد پڑا
“اب روٹهتے رہو خود سے
کیوں کہ میں نا پٹونگی اب تم سے…..””
آفریں چاہ کر بھی خود کو رپلائے نا کرنے پر مجبور نہیں کر سکی اور یہ لائنز ٹائپ کر کہ موبائل چارج پر لگا کر نیچے ناشتہ کرنے چلی گئی… ناشتہ کر کے کمرے میں آئی الماری کھول کر کوئی بڑا سا دوپٹہ تلاش کرنے لگی جو کہ اسکو اپنی الماری میں نہیں ملا….
“شاپنگ کر کہ کوئی ڈھنگ کے کپڑے لینے پڑینگے…
میں نہیں چاہتی کہ لوگ مجھے بری نظر سے دیکھیں… “
وہ ایک بلیک چھوٹا سا اسکارف گلے میں سہی سے لپیٹے ہوئے موبائل اٹھا کر حفسہ کے گھر کے لیئے نکل گئی_…….
آفریں اِس بار گاڑی میں بیٹھی رہی، اسنے حفسہ کو میسج کر کے آنے کا کہا اور حفسہ کو اپنے ساتھ کوئی سیاه دوپٹہ بھی لانے کو کهہ دیا….
حفسہ دس منٹ بعد اسکو آتی ہوئی دکھائی دی اور گاڑی میں بیٹھ کر حفسہ نے اسکو شیفون کا ایک سیاه دوپٹہ دیا جس کو آفریں نے شال نمونے اچھی طرح پھیلا کر پہن لیا
حفسہ عجیب نظروں سے اسکو دیکھتی رہی تهی کیونکہ آفریں تو چھوٹے اسکارف سے تنگ رہی تھی اور آج دوپٹہ ایسے پھیلا کر پہنا ہوا تھا
“تمہیں کیا ہوا آفی دوپٹہ لینے لگی ہو تم بھی…..””
حفسہ آخر پوچھ بیٹھی
“بس یار دِل چاہا رہا تها…..””
آفریں نے مختصر کہا تو حفسہ مسکراتی ہوئی سر هلانے لگی اسکو آفریں میں یہ بدلاؤ اچھا لگا وہ ہمیشہ آفریں سے کہتی رہی تھی پر آفریں اسکی بات کو سریس نہیں لیتی تھی . .
“وہ تمہارا بھائی سو رہا تھا کیا ؟……”
آفریں نے چہرے پہ خفگی لاکر حفسہ سے دانیال کا جاننا چاہا
“ہاں سو رہے تھے بھائی کل بھی بہت پریشان لگے ؟ کل ڈنر تو ٹھیک رہا نا تم دونوں کا؟……”
حفسہ نے آفریں سے پوچھ ڈلا
“ہاں بالکل پرفیکٹ رہا ڈنر شاید ہی کبھی کسی نے ایسا ڈنر کیا ہو…….””
آفریں گہرا سانس لیتی ہوئی ہوئی بولی________
.
.
دانیال اٹھا تو اٹھتے ہی موبائل اٹھایا، آفریں کا میسج پڑہا.. میسج پڑهہ کہ اسکے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی
“مان تو گئی ہو جانو.. اب تمہیں تھوڑا دانیال کے منانے کا طَریقَہ دکهایا جائے تو بس سب پہلے جیسا ہوجائے گا…..””
دانیال خود سے بولتا ہوا واشروم گیا، چینج کر کے آفس کے لئیے نکل لیا….
دانیال نے فیضان کو بول کر یونیورسٹی ڈرائیور کو جانے سے روکا اور خود اِجازَت لی کہ وہ ان دونوں کو ود ڈراپ کرے گا آج
تو فیضان نے بهی اسکو اجازت دے دی
آفریں اور حفسہ گاڑی کے انتظار میں گیٹ پر کھڑی تھی، آفریں نے جیسے ہی دانیال کی گاڑی کو دیکھا اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور ایک خفگی نمودار ہوئی
جب کہ حفسہ نے مسکراتے کہا
“آج بھائی لینے آئین ہیں چلو آفی……””
“نہیں نہیں میں نہیں چلونگی تم جاؤ اپنے بھائی کے ساتھ میرا ڈرائیور آتا ہی ھوگا……””
آفریں دانیال کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی تو بول پڑی
اسی دوران دانیال ان دونوں کی طرف آیا
“آج تم دونوں کو میں ڈراپ کردیتا ہوں میں نے ماموں کو کہہ دیا تھا کہ ڈرائیور نا بهیجین…..”””
اب آفریں کو اسکی بات پر غصہ آیا تو اسکی طرف قہر برساتی نظر ڈالتی ہوئی گاڑی میں جا بیٹھی ، حفسہ بھی پیچھے والی سیٹ پر اُس کے ساتھ بیٹھ گئی
دانیال ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے بولا
“آفی آگے آؤ تم…..””
“میں یہیں ٹھیک ہوں…….””
آفریں موبائل چلاتی ہوئی بولی
“میں تم لوگوں کا ڈرائیور نہیں ہوں جو میڈموں کی طرح پیچھے بیٹھی ہوئی ہو اور میں ڈرائیو کروں…..”””
دانیال کسی بھی حَال میں آفریں کو اگے بٹھانا چاہتا تھا تو بہانہ بنایا
“آپ نے خود آج شوق سے ڈرئیور کی نشست لی ہے مسٹر دانیال اسد… اور حفی تم چلی جاؤ.. مین ادہر ہی ٹهیک ہوں…””
آفریں اسی اندازِ میں موبائل چلاتی بولی
دانیال نے اسکی بات پر ایک قهقہ مارا…
“نہیں آفی تم بیٹھو نا بھائی کے ساتھ…..””
حفسہ دانیال کا اِرادَہ سمجهہ گئی اسلیئے اگے نہیں گئی
“جاؤ نا یار حفی تمھارے بھائی کو ورنہ ڈرائیور والی فیلنگ آرہی ہے…..””
آفریں خفا ہوتے بولی تو حفسہ فرنٹ سیٹ پہ جاکر بیٹھ گئی اب دانیال کے دماغ میں ایک اور شرارت سوجهی تو اسنے بیک ویو مرر کو ایسے سیٹ کیا کہ اسکو پیچھے بیٹھی آفریں دکھائی دے رہی تهی
آفریں نے اسکی یہ حرکت نوٹ کی تو تپتے ہوئے سَر جھٹک گئی..
پِھر اگنور کرتی موبائل میں مصروف ہوگئی، دانیال ڈرائیو کرتا بار بار مرر سے اسکو دیکھ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ اب اس پہ بری طرح سے تپ چکی تھی، آفرین نے اپنے بیگ سے ایک کتاب نکالی اسکو کھول کر چہرے کے سامنے پکڑا تا کہ دانیال کو اسکا چہرا نا دکھ سکے
حفسہ نے اسکو کتاب میں گهسا دیکھا تو حیرت سے بولی
“تمہارے ھاتھوں نے کب زحمت کی کتاب اٹھانے کی اور اسکو پڑهنے کی….””
دانیال نے اسکی بات پر آفریں کو تنگ کرنے کے گریز سے قہقہ مارا تو آفریں کو اور غصہ چڑه گیا ، وہ غصے سے حفسہ کو دیکھتی ہوئی بولی
“مجھ میں حفسہ پڑهاکو کی بڈهی روح گھس گئی ہے سنا….؟”
آفریں نے یہ کہتے ہوئے کتاب بند کردی
اور وہ دونوں بھائی بہن اسکو تپتا ہوا دیکھ کر ہنسی دبائے بیٹھے تھے جس کو آفریں نے با خوبی نوٹ کر لیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی اسکو خود بھی اپنی حرکتوں پر ہنسی آنے لگی تھی جس کو وہ ان دونوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی تو باہرکی طرف نطریں مرکوز کرلیں…..
.
دانیال نے حفسہ کو گھر چهوڑا اور آفریں کو لیئے دوسری سمت چل دیا آفریں نے دیکھا کہ وہ اسکو دوسرے راستے پر لے جا رہا ہے تو وہ بول پڑی
“دانیال مجھے میرے گھر چھوڑ دو یہ کہاں لے جا رہے ہو ؟….””
“بےبی گھر بھی چهوڑ دونگا پہلے تمہارا موڈ تو ٹھیک کرلوں نہ….””
دانیال مسکراتا ہوا بولا
“دانیال میں نے کہا گھر چھوڑو مجھے ابھی کے ابھی…..””
آفریں چلائی
“چُپ کر کے بیٹھو کہا نا چهوڑ دونگا تھوڑی دیر میں…..””
دانیال بھی چلایا
“بندر کہیں کے…..””
وہ غرائی
“طوطی……””
دانیال مسکراتا بولا
اب آفریں کے پاس کوئی چارا نہیں تھا تو وہ خاموشی اختیار کر کہ بیٹھ گئی
دانیال اسکو کل والے سمندر پہ ہی لے آیا آفریں نے وہ جگہ دیکھی تو دانیال سے پوچھ بیٹھی
“یہاں کیوں لائے ہو ؟….”
صبر کرو بتاتا ہوں…..””
دانیان یہ کہتے ہی گاڑی سے اترا اور آفرین کی سائڈ کا دروازہ کھولا
“میں گاڑی سے نہیں اترنے والی…..””
آفریں نے اپنے بازو سینے پہ باندهے کہا
“پلیز آفریں منانے کا موقع تو دے ہی سکتی ہو نا…..””
دانیال نے التجا کی
آفریں نے اسکو دو سیکنڈز کے لیئے دیکھا اور گاڑی سے باہر آگائی
دانیال نے اپنی پینٹ کی جیب سے ایک سرخ پٹی نکالی اور آفرین کو دیکھتا ہوا بولا
“تمہیں یہ باندهنا ہوگا اپنی آنکهوں پر…..””
“کیون پاگل ہو کیا…..””
“پلیز آفی…..””
آفریں نے اسکی بات سن کر اُس کے ہاتھ سے وہ کپڑے کی پٹی لی اور اپنے آنكھوں کے اوپر باندهہ لی
دانیال آفریں کا ہاتھ پکڑتا آگے اسکو لے جا رہا تھا تو آفریں نے ہاتھ چهڑا کر کہا
“مجھے چهونے کی ضرورت نہیں دانی….””
دانیال نے اسکی بات پر عمل کیا اور منہ سے بتاتا ہوا اسکو ایک جگہ رکنے کو کہا
وہ رک گئی دانیال نے پیچھے سے اسکی پٹی اتاری تو اسکی آنکھیں ایک عجب ہی سا منظر دیکھ رہین تھیں……
آفریں کی آنكھوں کے سامنے ایک خوبصورت سا منظر تھا سامنے ریت پہ موم بتیاں رکھ کر انکو دِل کی شیپ میں لایا ہوا تھا اور اُس کے اندر ریت پہ انگلی سے “سوری” لکھا ہوا تھا … اُس کے پیچھے سمندر جس میں سورج ڈوبتہ ہوا نظر آرہا تھا شام ڈهلنے کو تھی..
یہ منظر کافی پرکشش معلوم ہو رہا تها
آفریں نے دِل ہی دِل میں اپنے بندر کی کوششوں کو سراہا پر خود پر کوئی تاثر نہیں ظاہر ہونے دیا کیوں کہ کل رات جو دانیال نے کیا تھا اسکو اتنی جلدی معاف نہیں کیا جا سکتا تھا
“کیسا لگا ؟…..”
دانیال اُس کے پیچھے کھڑا اسی کو دیکھ کر بولا ہلکی سے ہوا سے آفریں کی پونی سے لمبی زلفین نکلتی دانیال کا چہرہ چھو رہی تھیں
“سہی ہے بس، پر یہ مت سمجهنا کہ میں نے تمہیں معاف کردیا……”””
آفریں اس منظر کو دیکھتے ہوئے بولی
“سوری آفی کل رات میں نے تم پہ یقین نہیں کیا اور ایسے ہی کسی کی باتوں میں آکر تمھارے ساتھ برا پیش آیا معاف کردو اپنے بندر کو…..””
دانیال آفرین کے آگے آتا کان پکڑ کر بولا
“نہیں دانیال کل جو تم نے کیا میں وہ کبھی نہیں بھول سکتی….””
آفریں کے آنکھوں کے سامنے دانیال کی کل رات والی لال آنکھیں سامنے آئیں اور اسکا لہجہ یاد آیا تو وہ افسردہ ہوكر بولی
“سوری آفی غلطی ہوگئی.. بس کسی کو تمهارے اتنے پاس آتا دیکها تو مجهہ سے برداشت نہیں ہوا….””
اب دانیال یہ کہتا ہوا ریت پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کان پکڑتا ہوا بولا
“اب بھی معاف نہیں کروگی ؟……”
آفرین اسکو یون دیکھ کر حیران ہوئی اور جھٹ سے جاکر اُس کے ساتھ ریت پر بیٹهہ گئی
“یہ کیا کر رہے ہو تم دانیال پاگل مت بنو اٹھو….””
“تمہیں منانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تب تک نہیں اٹهونگا جب تک تم معاف نہیں کر دیتی……””
دانیال بضد ہوا
“اچها تو زبردستی مناوانا چاہتے ہو مجهے تم…..””
آفریں غصہ ہوئی
“ہاں نا…..””
دانیال مسکرایا
“تم ایسے کسے کسی ایرے گیرے پر یقین کر سکتے ہو ؟ اور کل تم نے میرے کریکٹر پر سوال اٹھایا تھا دانی….””
آفریں کے لبوں پہ شکوہ آئی
“وہ بس ایک ری ایکشن تھا جو کہ اچانک وہ سب دیکھ کر نکلا …..آفی میں بالکل نہیں سہہ سکتا کہ تمہیں کوئی اور دیکهے بهی اور کل رات وہ لڑکا…..””
دانیال نے بات ادهوری چھوڑدی
آفریں سمجھ سکتی تهی اور اب اسے زیادہ دیر تک اس سے ناراض نہیں رہا جا رہا تھا پر آفریں نے اسکو مزید تڑپانے کا سوچا، وہ اَٹھ کھڑی ہوئی دانیال بھی مسکراتا ہوا اٹهنے لگا تو آفریں نے کہا
“تم کیوں اَٹھ رہے ہو تم نے تو کہا تھا کہ تب تک بیٹهو گے جب تک میں مان نہیں جاتی…..””
آفریں نے اسکو اپنی بات یاد دلائی
“تم نہیں مانی ابهی بھی ؟…..”
دانیال اسی پوزیشن میں بیٹھ گیا اور سوال کیا
“نہیں تو اور واپس اپنے کان پکڑو اسی طرح…..””
آفریں نے حکم دیا
دانیال کو پتہ تھا وہ مان گئی ہے پر پهر بهی اب اسکی بے جا ضد پوری کر رہا تھا اور اپنے کان پکڑ لیئے دانیال کو پتہ تھا وہ کیا کرنے والی ہے
آفریں نے موبائل نکال کر اسکی پکچر لی اور بولی
“اب کبھی مجھے یون ستایا نا تو یہ پکچر پوسٹ کردونگی تمھاری سن لو…..””
“او کے کردینا …..اب تو مان گئی نا ؟…..””
دانیال نے پِھر سے وہی سوال کیا…..””
“نہیں پہلے گول گپے کھلاؤ….””
آفریں کی ایک اور فرمائش
“لیکن میں نے کہا تھا تم نہیں مانی تو میں نہیں اٹهونگا اب اٹهون کیسے.. تم تو مانی ہی نہیں….””
دانیال نے چالاکی دکھائی
“آدھی مان گئی ہوں نہ اور آدہی گول گپون کے بعد….”
آفریں نے بات بنا ڈالی کیوں کہ سوال اب پانی پوری کا تھا
دانیال مسکراتا ہوا اٹھا اور وہ دونون ہی ریت پر ننگے پاؤن چلنے لگے تو دانیال اسکو محبت سے دیکھتا ہوا بولا
“یہ لڑکیان کیون اتنا پانی پوری کے پیچهے پاگل ہوتی ہیں….””
دانیال نے چہرے کے عجیب زاویئے بنا کر کہا
“کیون؟ کتنی لڑکیون کو پانی پوری کهلا چکے ہو تم جو تمہین اتنا پتا ہے لڑکیون کے بارے میں….””
آفرین آنکهوں کی پتلیان سکڑتی ہوئی بولی
“کالج کے زمانے میں کهلائے تهے دو لڑکیون کو بس….””
دانیال نے کوئی کسر نہیں چهوڑی آفرین کو زچ کرنے کی
“ہان وہ ماہا اور آمنہ ہی ہونگی جو تم جیسے بندر کے پیچهے پڑی ہوئی تهیں اور مت بهولو تمهارا نمبر بهی انکو میں نے ہی دیا تها، تهینکس ٹو می…..””
آفرین زچ ہونے کے بجائے اسکو اپنا احسان یاد دلاتے بولی تو دانیال کا منہ اتر گیا
“کن چڑیلوں مین پهنسا دیا تها تم نے مجهے یار.. اور تمہیں زرا سی بهی جیلسی نہیں ہوتی تهی تب؟…..””
دانیال نے حیران ہوتے پهوچها
“نہیں جیلسی تو بالکل نہیں ہوتی تهی تب…..”
آفرین شانے اچکائے لاپرواہی سے بولی
“چلو تب نہیں.. پر اب تو ہوگی نہ….””
دانیال شرارت سے بولا
“ارادے کیا ہیں تمهارے….””
آفرین نے آبرو اچکا کر دانیال کو دیکهتے ہوئے کہا..
“نیک ہیں نیک ارادے… صرف اب اس طوطی کا ہے یہ بندر.. چڑیلین اب نہیں پسند…..””
دانیال آفرین کا ہاتهہ پکڑتے ہوئے بولا
“زیادہ فری نہ ہو اب تم اچها…””
آفرین انکهین سکوڑتی ہوئی بولی اور اپنا ہاتهہ اس سے چهڑوایا
“اوکے.. آج معاملہ تهوڑا سنگین ہے تمهاری بات ماننی ہوگی ……””
دانیال دونون هاتهہ ہوا مین اٹهاتا بولا
آفریں اسکو دیکهہ کر مسکرادی
اور وہ دونوں وہاں سے ساتھ قدم اٹھاتے چل دیئے
دانیال نے اسکو پانی پوری کھلا کر گھر ڈروپ کر دیا اور خود بھی گھر چلا گیا__________________________
جاری یے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *