Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06

.
حفسہ اور دانیال آفریں کے گھر آئے حفسہ جیسے ہی کار سے اتری اسکو سامنے فھیم آتا دکھائی دیا اور حفسہ کا منہ بن گیا دانیال ابھی بھی کار میں بیٹھا ہوا تھا
“اسلم و علیکم…….”
فھیم نے حفسہ کو سلام کیا اور ہاتھ بڑھا کر دانیال سے ملا اور اس سے گویا ہوا
“تم کیوں کار میں بیٹھے ہو یار آؤ نا اندر…….”
“نہیں یار مجھے کچھ کام تھا میں نہیں آ سکتا…. . پِھر کبھی آؤنگا…..”
دانیال نے سن گلاسس اُتارتے کہا
“بھائی چلین نا ، تھوڑی دیر اندر چلین پِھر چلے جایئے گا…..” حفسہ کو اپنی پڑی تھی وہ فھیم کے ساتھ اندر نہیں جانا چاہتی تھی اسلیئے اسرار کرتی بولی
“نہیں حفی تم جاؤ نا میں دیکھتا ہوں ٹائم ملا تو آؤنگا……”
وہ اب جانے لگا جب فھیم نے دیکھا کہ وہ چلا گیا ہے تو حفسہ کی طرف رخ کیا جو بڑے سے نظر کے گلاسس پہنے ، کھلے ہوئے آدهے بال کیچ ہیئر مین قید کیئے ، ییلو کرتی اور وائٹ پجامہ اور دوپٹہ پہنے ، وہ برا سا منہ بنائے اسی کو دیکھ رہی تھی
“حفسہ تم……..”
“ٹائم کیا ہو رہا ہے ؟؟؟……..”
فھیم کچھ بولتا اِس سے پہلے حفسہ بات کاٹ کر بولی
“تمھارے منہ پہ تو بارہ بج رہے ہیں اور گھڑ دو بجا رہی ہے……”
فھیم شرارت سے ہاتهہ میں پہنی گهڑی دیکهتا بولا
“میں نے آپ سے صرف گھڑی کا پوچھا…….”
حفسہ برا من گئی
“بیٹری مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو ؟…….”
وہ دونوں ساتھ چلتے لان میں ، گھر کے دروازے کی طرف جا رہے تھے جب فھیم نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جن سے اسنے زور سے بکس اور موبائل پاکڑا ہوا تھا
“میں کیوں ڈروں گی آپسے بھلا میں نہیں ڈر رہی بلکل بھی نہیں…..””
حفسہ نے زبردستی مسکرانے کی سئی کی ورنہ فهیم کو اسکے چہرے پہ هوائیان اُڑھتی صاف محسوس ہو رہی تھی اور وہ اُس کے ڈرنے سے کافی لطف و آمیز ہو رہا تھا
“اچھا ایسی بات ہے تو چلو ٹیسٹ کر کے دیکھ لایتے ہیں….”
فھیم نے یہ کہتی ہی اسکا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا اور حفسہ یہ دیکھ کر وہیں رک سی گئی ، وہ حیران ہوتی ، ہاتھ چهڑانے کی جدوجهد کرتی ہوئی بولی
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟ چهوڑین فھیم کوئی دیکھ لے گا…….”
“چوڑ دیا ہاتھ اور حکم…””
وہ مسکراتا بولا اور ہاتھ چوڑ دیا حفسہ کا ، حفسہ کی جان میں جان آئی
“حفی آگئی تم……..”
اسی دوران آفریں آئی اور اُس کے گلے لگتے بولی
حفسہ سب سے مل کر اب آفریں کے کمرے میں بیٹھی آدهے گھنٹے سے بکس کھلے آفریں کی توجہ اس میں لانے کی کوشش کر رہی تهی جب آفریں تنگ ہوئی تو بکس بند کر کے حفسہ کا چشمہ اُتَار کر بولی
“تمہارا بھائی کیوں نہیں آیا ؟………”
آفریں نے آخر اکتاہٹ سموئے بول ہی دیا
“اچھا تو یہ بے چینی انکی وجہ سے ہو رہی ہے آفریں صاحبہ کو اور ان کو کچھ کام تھا تبھی نہیں آ پائے…….”
“حفسہ تکیئے پر لیٹتے ہوئے بولی……”
“فون کرتی ہوں ابھی اسکو میں، اس ویلے کو کونسا کام بهلا……..”
آفریں اسکا نمبر ملانے لگی
“لیکن کیوں فون کر رہی ہو ؟ آفی اب تمہارا کیا موڈ ہو رہا ہے ؟……..”
حفسہ کو پتہ تھا آفریں کے دماغ میں کچھ الٹا چل رہا ہے اسلیئے غصے سے بولی
آفریں نے اپنے ہونٹوں پے انگلی رکهے اسکو چُپ رہنے کا کہا
“ہاں کہان ہو تم ؟ اور آئے کیوں نہیں اندر…….”
دانیال نے جیسے ہی فون اٹھایا آفریں کا شکوہ سنا
“یار ہر وقت غصہ کرو تم تو بس بندے کو کوئی کام بھی ہوتا ہے اپنا……..”
دانیال خفا ہوا
“ہاں ہاں سمجھ گئی میں اور بیس منٹ میں تیار ہوجاؤ ہم آج شاپنگ پہ چل رہے ہیں…….”
آفرین کا یہ منسوبہ سن کر حفی نے اسکو گهورا…
“اچانک شاپنگ کہان سے سوجی تم کو لڑکی اور اِس ‘ہم’ میں یقیناً فہیم اور حفی بهی ہوں گے…….”
وہ چاروں ہمیشہ آؤٹنگ کرتے رہتے اسلیئے دانیال سمجھ گیا
“ہاں بلکل اور پھونچو بیس منٹ میں یور ٹایم اسٹارٹس نائو بائے………”
آفریں نے کہنے کے ساتھ فون رکهہ دیا
“اُف آفی پتہ تھا تمہارا پڑهنے کا اِرادَہ نہیں آج بھی……”
حفسہ لاچارگی سے بولی کیوں کہ اب اُس کے پاس کوئی چارا نہیں بچہ تھا آفریں نے پلین بنا لیا تھا
“میں بھائی کو بتا کر آئی……..”
وہ حفسہ کی بات کو اگنور کرتی بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی
‘پِھر سے اس جلاد کا سامنا کرنا پڑےگا………”
حفسہ کو اپنی پریشانی نے آں گھیرا________________
.
.
گاڑی انہوں نے ایک شاپنگ مال پہ روکی اور آفریں دانیال کو ایک کپڑون کی شاپ میں لے آئی اور حفسہ اسکو دیکھتی رہ گئی کیوں کہ اب صرف فھیم حفسہ کے ساتھ تھا
“یہ دیکھو دانی کیسا ہے……..”
وہ ایک ڈریس اپنے اوپر رکھتی ہوئی بولی
“تم جو بھی پہنو تم پہ اچھا ہی لگنا ہے……”
دانیال اسکو پیار سے دیکھتا ہوا بولا
“تم کبھی سیدھا جواب نا دینا بندر…….”
وہ اب دوسری ڈریسز دیکھتی ہوئی بولی
“آفی یہ تم تم کیا لگایا ہوا ہے ؟ تم سے بڑا ہوں اور تمہارا منگیتر بھی …. تم مجھے آپ کہا کرو……”
دانیال بیچارگی سے بولا
“آپ…………… وہ شرمانے لگی
“یہ ورڈ تو میں تمہیں بالکل بهی نہیں کہنے والی……”
وہ یکدم سے بولی اور اسکو زبان دکھائی جس پر دانیال کو آگ لگ گئی
“آسٹریلیا طوطی…….” دانیال نے برا سا منہ بناتے کہا
“بندر…….” آفریں بھی اسی کے انداز میں بولی ….
آفرین نے ایک اور ڈریس نکال کر دانیال کو دکهانے کے لیئے رخ پلٹا تو وہ حیران ہوگئی اور سامنے کهڑے اُس شخص کو خوفزدا نظرون سے دیکھنے لگی جو کهڑا ہوا کسی سے فون پر بات کر رہا تها..
” تم جیسی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے “
پِھر وہ ہی ازلان کی آواز اسکی کانوں میں گونجی … یہ وہ ہی تھا ….. وہ ہی غنڈون والا حلیہ … وائٹ ہاف سلیوز ٹی شرٹ پہنے اُس پہ بلیو پینٹ … ایک ہاتھ میں رومال لپٹا ہوا اور دوسرے ھاتھ میں بینڈس …. اُس کے کسرتی بازو جھلک رہے تھے …. سنہیرے بال بکھرے ہوئے ، ہلکی شیو ، برائون آنكھوں میں وہ ہی سنجیدگی …
“کیا ہوا آفی تم ٹھیک ہو ؟……..”
دانیال جو کہ آفریں کو ایسا پتھر بنا دیکھ رہا تھا اسکی نظروں کا تعقب کرتا پیچھے دیکھتا ہوا بولا …. اسکو کئی لوگ اپنے کاموں مین مصروف دکهائی دیئے
“دانی یہاں سے چلو پلیز……..”
آفریں دانیال کا بازو پکڑتی ہوئی بولی
“آفی ہوا کیا ہے ؟ ایسا کیا دیکھ لیا ہے تم نے ؟ اور ڈریس لینے آئی تھی تم وہ تو لیتی چلو…….”
دانیال کو حیرت ہو رہی تھی کہ آفریں نے ایسا کیا دیکھ لیا جو ایسا ری ایکٹ کر رہی ہے اسلیئے اسکو کندہوں سے پکڑتا ہوا بولا
“دانی بس چلو میں نے کہا نا…….”
آفریں کی آنكھوں میں خوف تھا کہیں یہ شخص اسکو دوبارہ نا دیکھ لے
“او کے او کے چلتے ہیں… ریلیکس……”
وہ دونوں اُس شاپ سے باہر نکال گئے
________________________________________
.
.
“تمہاری دوست تو تمہیں میرے ساتھ چوڑ کر چلی گئی…..”
آفرین دانیال کو لیکر ڈریس کی شاپ میں گئی تو حفسہ اسکو جاتا ہوا دیکھتی رہی پهر فھیم نے بولا تو حفسہ نے یکدم اسکو دیکھا اور بری شکل بنائی
“ایسے کیا دیکهہ رہی ہو.. کہیں پیار ویار هوگیا کیا؟……”
فھیم شرارت سے آنکهہ دباتا ہوا بولا
“فھیم یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ……..”
حفسہ نے سَر جھکا کے دھیرے سے کہا
“کیسی باتیں کر رہا ہوں میں ؟…….”
فھیم نے اُلٹا سوال کیا
حفسہ چُپ رہی اور کچھ نہیں بولی
“حفی تمہیں کچھ لینا ہے ؟ ……..”
فھیم اسکو خاموش دیکھتا ہوا بولا
“بس ایک دو بکس لینی تھی وہ لے لوں……..”
حفسہ بک شاپ کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
“بیٹری …. ہر وقت پڑہنے کا سوچنا….. چلو لایتے ہیں تمہاری بکس…..”
وہ دونوں چلنے لگے … حفسہ نے بکس خریدین اور پیمنٹ فھیم کرنے لگا تو حفسہ اپنا کلچ کھولتی ہوئی بولی
“آپ کیوں ؟ میرے پاس پیسے ہیں میں پے کرتی ہوں……”
“رکھو یہ پیسے ابھی میں دے رہا ہوں نا کیا فرق پڑھتا ہے پے تم کرو یا میں……..”
فھیم پے کر چکا تھا اب وہ دونوں ساتھ چل رہے تھے جب آفریں اور دانیال ان کو دکھائی دیئے وہ انکی طرف بڑھے
“فهیم میں اور آفی گھر جا رہے ہیں تم لوگ چلو گے؟……”
دانیال نے پوچھا کے کہین ان کو کچھ لینا نا ہو
“کیا ہوا بھائی آفی نے آج اتنی جلدی شاپنگ کرلی کیا ؟…..” حفسہ حیرت زدہ ہوئی اور آفریں چُپ کھڑی بوکهلا کر ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہیں وہ پِھر سے نا آجائے اور حفسہ کی آواز پہ اسکو دیکهتی ہوئی بولی
“نہیں بس میں تھک گئی ہوں گھر جانا چاہتی ہوں……..”
آفریں نے لہجہ نارمل رکها
“لیکن ابھی تو مجھے کچھ لینا تھا …. آفی تم فھیم بھائی کے ساتھ چلی جاؤ میں دانی بھائی کے ساتھ ہوں…….”
حفسہ کو کچھ یاد آیا تو وہ مشورہ دیتی بولی
“نہیں حفی تم فهیم کے ساتھ رہو میں آفی کو لے جا رہا ہوں گھر کیوں کہ مجھے کچھ اور بھی کام ہین اسلیئے …. فھیم تم فری ہو نا ؟……”
دانیال آفریں کے ساتھ کچھ وقت اکیلا گزارنا چاہتا تھا تاکہ اس سے اصل وجہ جان سکے.. اسلیئے بولا اور فھیم سے بھی جاننا چاہا کہ فری ہے یا نہیں…
“ہاں یار تم جاؤ بے فکر ہوکر میں فری ہوں آج ویسی بھی اور کار تم لوگ لیتے جاؤ ہم اجائینگے ٹیکسی سے …….”
فھیم کو تو موقع مل گیا
“آفریں اور دانیال چلے گئے تو فھیم نے حفسہ سے شرارت بھرے انداز میں پوچھا
“تمہیں واقعی کچھ لینا تھا یا میرے ساتھ رہنے کا بہانہ ہے یہ……””
“فھیم آپ غلط سمجھ رہے ہیں آپکو یاد نہیں کل آفریں کا برتھ ڈے ہے اسی کی گفٹ لینی تھی مجهے…….”
وہ سر جٹکتے هوئے بولی
“ارے ہاں میں کیسے بھول سکتا ہوں …. اچھا ہوا یار تم نے یاد دلایا…..”
فھیم چہکتا ہوا بولا ____________________________
.
.
دانیال اور آفریں مال سے باہر آئے تو آفریں تیز تیز قدم اُٹھاتی گاڑی کی طرف چل رہی تھی جب دانیال نے اسکا بازو پکڑا اور اپنی طرف کهینچتے بولا
“یہ کیا بچپنا ہے آفی ؟ کیوں کر رہی ہو ایسی حرکتیں تم کچھ دنوں سے، آخر ہوا کیا ہے بتاؤ مجھے….”
“دانیال پلیز گاڑی میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں .. اور دانیال چھوڑو مجھے یہاں لوگ ہیں بہت دیکهہ رہیں ہیں…….”
آفریں دانیال کو پیچھے هٹاتی ہوئی بولی اور بوكھلا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی ، لوگوں کی پرواہ کہان تھی اسکو ، ، اسکو تو بس اس شخص سے چھپنا تھا جو اُس کے دماغ پہ حاوی ہو چکا تھا
“آفی تمہیں کب لوگوں کی پرواہ ہونے لگی اور ادھر اُدھر کس کو ڈهونڈ رہی ہو تم ؟ یہاں ایسا کون دِکھ گیا ہے تمہیں جو تم چھپتی پِھر رہی ہو ؟……..”
دانیال اسکو اِس طرح دیکھ کر حیران ہوا اور عجیب نظروں سے دیکھتا ہوا کئی سوال پوچھ بیٹھا ، اسکا دماغ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا کیوں کہ آفرین کو وہ اِس طرح ڈرا ہوا پہلی بار دیکھ رہا تھا
“دانی میں تمہیں سب بتاتی ہوں پر پلیز گاڑی میں بیٹھو….”
آفریں نے جیسے ہی کہا دانیال چلتا ہوا لمبے ڈگ بھرتا ہوا گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کا دروازہ غصے میں زور سے بند کیا … آفریں بھی جلدی گاڑی میں بیٹھ گئی اب وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا اور خاموشی سے راستے پہ سنجیدہ نظر ٹکاتے ڈرائیو کر رہا تھا آفریں نے جب دیکھا کے وہ مال سے دور آ چکی ہے تو سکھ کا سانس لیا اور اب اسکی دانیال کے سنجیدہ چہرے پر نظر پڑی تو وہ پوچھ بیٹھی
“دانی کیا ہوا تم مجھ سے غصہ ہو ؟…….”
دانیال نے ایک نظر اسکو دیکھا اور پِھر بولا
“نہیں آفی مجھے افسوس ہوا کے تم مجھ سے باتیں چهپانے لگی ہو …….”
اُس کے لہجے میں دکھ نمایاں تھا
“دانی وہ اس دن میں اور حفسہ ریسٹورنٹ گئے تھے نا تو وہاں وہ……..”
آفریں اسکو سب بتا دینا چاہتی تھی لیکن وہ بولتے بولتے رک گئی اور سوچنے لگی کہ آخر بتانے والی ایسی کونسی بات ہے جو وہ دانیال کو بتائے کیوں کیہ جتنا اسنے اس شخص کو حاوی کر لیا تھا اپنے سَر پر ایسی کوئی حاوی کرنے جیسی بات ہوئی نہیں تھی
“بولو آگے آفی چُپ کیوں ہوگئی……..”
دانیال نے اسکو چُپ بیٹھا دیکھ کر کہا تو وہ ہوش کی دُنیا میں واپس آئی ….
“وہ وہ وہاں وہاں وہ کچھ لڑکوں نے ہم سے بدتمیزی کی تھی تو اسلیئے میں بھیڑ میں ڈر گئی تھی……”
اسنے کچھ سچ اور بہت سارے جھوٹ کو آپس میں ملا کر ایک ویلڈ اسٹوری بنا ڈالی
“کیا ؟ یہ تم مجھے اب بتا رہی ہو ؟ کتنے دن پہلے کی بات ہے ؟ کب ہوا کیسے ہوا ؟ اور اُس کے بعد کیا ہوا ؟ بتاؤ مجھے سب آفی……..”
دانیال کو یکدم غصہ آگیا اور وہ فکرمند ہونے لگا
“دانی کل کی بات ہے اور بس ایسے ہی کچھ آوارہ تھے پر ایک آدمی نے ان کو چُپ کروا دیا تھا اور ہم ریسٹورنٹ سے باہر بھی آگئے تھے ایسی کوئی فکر والی بات نہیں ہے دانی…….”
وہ اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھے تسلی دیتی بولی
اور وہ چُپ کر کے ڈرائیو کرتا رہا کیوں کہ اسکو غصہ تھا کہ آفریں نے اسکو اسی وقت کیوں نہیں بتایا ……
“آفی اگے سے کچهہ بهی ایسا ویسا ہو تو سب سے پہلے تم مجهے بتاو گی—- اور ایسے اکلیے کسی بهی ریسٹورنٹ نہیں جاوگی—–“
دانیال کے کہنے پر آفرین نے اپنی نظروں سے اسکو تسئلی دی…. تو دانیال کو تهوڑا اطمینان ہوا
دانیال آفریں کو گھر ڈروپ کر کے چلا گیا……….”
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *