Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04

اسکو دھوپ میں کھڑے ہو کر بہت گرمی لگ رہی تھی جسکی وجہ سے اسکی سفید گلابی جلد اب سرخ پڑنے لگی
آفریں باہر کھڑی حفسہ کا انتظار کر رہی تھی اور اب اسکو فون ملانے لگی
“ہاں حفی جلدی آؤ یار باہر کھڑی ہوں بہت دھوپ لگ رہی ہے ….”
اسنے فون بند کر دیا اور بیگ میں رکھا
اسنے اپنے هلکے پتلے سے وجود پہ گلابی چوٹی سی فروک جس پر ییلو پولکا ڈوٹس کی ڈیزائن تھی اور ییلو کلر کی ہی ٹائیٹس زیب تن کی ہوئی تھی اور گلے میں چھوٹا اسکارف گردن کے گرد لپیٹے ہوئے تھا وہ بہت لبرل تھی اور فیضان کی لاڈلی تھی وہ بکس کو سَر کی پیشانی پر رکھے دھوپ سے اپنا چہرہ بچہ رہی تھی اور سن گلاسس لگائے اسد کے آلیشان بنگلے جو کہ پرپل وائٹ کلر کا خوبصورت بڑا سا بنگلہ تھا اسکو دیکهنے لگی… وہ باہر کھڑی حفسا کا ویٹ کر رہی تھی دھوپ اسکی گوررنگت کو اور چمکا رہی تھی
اور اسکو دور سے دانیال آتا دکھائی دیا
وائٹ کلر کی ٹی شرٹ اور بلو کلر کا ٹرائوزر پہنے اپنے کالے گھنے بالوں میں ہاتھ چلاتا آفریں کے پاس آیا
“اسلم وعلیکم…”” وہ اباسی لیتا ہوا بولا
آفریں نے اسکا چہرہ دیکھا
خم دَار آنکھیں … ہلکی سی اسٹائلش دھاڑی.. آفرین نے اندازہ لگیا کہ وہ ابھی ابھی اٹھ کر آیا تھا
“تم ابھی اُٹھے ہو ؟ مطلب ساری رات پِھر سے جاگے تم ، کرتے کیا ہو تم ساری رات جاگ کر آج تو بتاؤ….”
آفریں شروع ہوگئی تھی اور ایک ہاتھ میں بکس پکڑے دوسرا ہاتھ کمر پر رکھتے وہ اُس کی روز کی عادت سے غصہ ہوئی
“یار سلام کا جواب دینے سے گناہ نہیں مل جاتا تمہیں اور باہر کیوں کھڑی ہو اندر آؤ…..”
وہ اسکی باتوں کو روز کی طرح اگنور کیئے بولا
“تمہاری طرح فارغ نہیں ہوں میں اتنی ، جانا ہے یونیورسٹی مجھے، اپنی بہن حفسہ کو بلاؤ اسی کا ویٹ کر رہی ہوں…”” وہ ناراض ہوتی بنگلے کے گیٹ کو دیکھ کر بولی
“کبھی سیدھے منہ بات نا کرنا آسٹریلین طوطی….”
وہ جاتے جاتے منہ بنا کر بول گیا
اور وہ ہمیشہ کی طرح اِس لقب سے چڑ جاتی اب آنکھیں پھاڑ کر اسکو غصے سے جاتا ہوا گھورنے لگی
“ایسے مت دیکھ پگلی پیار ہوجائیگا….”
دانیال مڑ کر آنکھ مارتے ہوئے بولا
“بدتمیز شوخے تمہیں تو میں واپس آتے سوناؤنگی اچھی والی….”
وہ اسکو ہاتھ میں پکڑا ہوا اپنا پین مار کر بولی
اور وہ اسکو زُبان دکھاتا اندر حفسہ کو بلانے چلا گیا
“بندر کہیں کا…..” وہ چڑ گئی
اسکو دو منٹ بعد حفسہ آتی دکھائی دی… لون کا لائٹ گرے دو پیس سوٹ گلے میں پھیلایا ہوا ریشمی دوپٹہ اور بَڑی پونی کیئے ، معصوم میک اپ سے پاک چہرہ … حسفا ہمیشہ سے ہی سادہ اور معصوم تھی
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی تو ڈرائیور گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا
“کہان مر گئی تھی تم میڈم کب سے دھوپ میں کھڑی جل رہی تھی میں…..”
وہ دانیال کا غصہ اب حفسہ پہ نکال رہی تھی
“کیا ہو گیا آفی صرف پانچ منٹ ہی تو لیٹ ہوئی ہوں میں اور تم کیوں تپی ہوئی ہو بھائی سے جهگڑا ہوا ہے کیا پِھر سے ؟…..”
وہ دونوں بچپن کی سہیلیان تھی اور بہت اچھی طرح جانتی تھی ایک دوسرے کو
اب حفسہ سمجھ گئی تھی کی یہ بلاوجہ کا غصہ دانیال کی وجہ سے ہے
“ہاں تمہارا یہ بدتمیز بھائی اور میرا ڈبل بدتمیز بھائی دونوں سے ناراض ہوں میں…..”
آفرین نے منہ بناتے اقرار کیا
“تم بھی خوامخاہ ہر کسی سے چهوٹی باتوں پر ناراض ہوجایا کرو بس…..”
حفسہ اسکی نیچر سے واقف تھی کہ وہ چهوٹی چهوٹی باتوں پر چھ کر ناراض ہو کر بیٹھ جاتی تھی
“تم کبھی میری سائڈ نہ لینا حفی ، کیسی دوست ہو تم بھی……”
وہ اب اُس سے بھی چڑ رہی تھی
“ڈرائیور انکل گاڑی پاس والے ریسٹورنٹ پہ لے کے چلیئے…..”
آفریں ڈرائیور سے بولی اور حفسہ حیران ہوئی
“وہاں کیوں ؟ تمہیں تو یونیورسٹی کے لیئے دیر نہیں ہو رہی تھی ؟ اور نانی کو پتہ چل گیا نا تو وہ بہت ناراض ہونگی آفی…..”
حفسہ حیرت سے بولی
“یار ابھی تو مجھے اپنے پیٹ کی فکر ہے گھر سے ضد میں کچھ کھایا نہیں اب بہت بھوک لگی ہوئی ہے….”
آفریں پیٹ پر ہاتھ رکھے بیچارگی سے بولی
“سدھر جاؤ آفی تم….”
حفسہ کو ڈر لگنے لگا کہ نانی کو نا پتہ لگ جائے ورنہ ان دونوں کی شامت آنی تھی
آفریں سیٹ سے سر ٹکاتی اسکو دیکھ کر دهیٹهون کی طرح مسکرا کر بولی
“میں سدھر گئی نا تو دُنیا نے بگڑ جانا ہے جگر—-
اور ڈرائیور انکل آپ بھی کسی کو نہیں بتائیےگا ٹھیک ہے نا ؟ اور وہ جو کل آپنے بیماری کا بہانہ کر کے کام سے چھٹی لی اب طبیعت ٹھیک ہے نا ؟………”
آفی اسکو دهمکاتی ہوئی چالاکی سے بولی
“ج ج ج.. جی بیبی جی کسی کو نہیں پتہ چلےگا…..”
ڈرائیور اسکی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے هچکچاتے ہوئے بولا اور حفسہ آفریں کو افسوس سے سر هلائے دیکھ کر رہ گئی
وہ دنون ریسٹورنٹ پہنچین..
یہ ایک خوبصورت مگر چھوٹا سا ریسٹورنٹ تھا گولڈن اور وائٹ ماربلس سے بنا ہوا وہ دونوں کالج کے زمانے میں چھٹی کے بعد یہاں آ کرتی تھی اور اب دیڈه سال کے بَعْد یہاں چکار لگا تھا دونوں کا، وہ شیشے کے دروازے سے اندر داخل ہوئی تھیں اور صبح کے وقت یہاں سنہری روشنیاں جگ مگا رہی تھی جو پورے ریسٹورنٹ کو چمکا رہی تھی وہ دونوں کوئی ٹیبل تلاش کرنے لگ گئی صبح کا وقت تھا اسلیئے بہت تھوڑے سے لوگ تھے جو اکثر یہاں ناشتہ کرنے آتے
“چلو حفی اُس کونے والی ٹیبل پر بیٹهتے ہیں…..””
آفریں کی نظر ایک کونے والی جگہ پر پڑی جہاں روشنی کم پڑھ رہی تھی تو حفسہ کو اس ٹیبل کی طرف اشارہ کرتی بولی….
وہاں اندھیرا ہوا رکھا تھا اور ٹیبل والا بلب بھی آف رکھا گیا تھا وہ دونوں وہاں بیٹھ گئی اور ٹیبل پر ایک چائے کا کپ اور ساتھ میں کوئی چابیاں رکھی ہوئی تھی
“آفی شاید یہاں پر کوئی بیٹھا ہوا ہے پہلے سے ہی.. ہم کسی اور ٹیبل پر بیٹهہ جاتے ہیں…..”
حفسہ وہ سامان دیکھ کر اب اٹھتے ہوئے بولی
“بیٹھو یہیں حفی_ جو بھی بیٹھا تھا چلا گیا نا ، اب ہم بیٹھے ہیں اسلیئے چُپ کر كہ بیٹھو یہیں پر……”
آفریں اسکا ہاتھ پکڑ کر بٹھاتے ہوئے بولی اور وہ کپ اور کیز اٹھا کر دوسری سامنے والی ٹیبل پر رکھ دیئے
اسی دوران ویٹر آیا اور بولا
“میڈم یہاں کوئی اور بیٹھا ہوا ہے آپ کسی دوسری ٹیبل پر چلی جائیں ……”
“جو بھی بیٹھا ہے میں نے انکا سامان وہاں رکھ دیا ہے ، کہیں اور بیٹھنا ہے تو وہ بیٹهینگے، ہم نہیں…….”
آفریں کو اب ضد آ چکی تھی اب وہ اٹھنے سے رہی اور ویٹر کو بھرم سے بولتی ٹانگ پہ ٹانگ چڑا کر بیٹھی رہی
سامنے والی ٹیبل پر تین آوارہ لڑکے اب آفریں کو دیکھ رہے تھے اسکی ڈریسنگ ہی ایسی تھی کہ سامنے والے کو اپنی طرف متوجہ کر دیتی اور اوپر سے اسکا قاتلانہ حسن وہ تینوں غلیظ نظروں سے آفریں کو دیکھ رہے تھے جن کو حفسہ نے نوٹ کیا
“لیکن میڈم جی………”
“دو اورنج جوس اور سینڈوچ لایئے شکریہ…….”
ویٹر نے بولنا چاہا تو آفریں مغرورانہ انداز اپناتے اسکی بات کو بیچ میں کاٹتی بولی
اب ویٹر خاموشی سے آرڈر لیکے چلا گیا
“آفریں ہمیں چلنا چاہیئے یونیورسٹی کے لیے دیر ہو رہی ہے…..”
حفسہ ان لڑکو کا اِرادَہ بھانپ کر بولی
“کچھ کھائے بغیر میں نہیں جانے والی کہیں بھی……”
آفرین موبائل پہ انگلیاں چلاتی بولی
حفسہ نے اسکو موبائل میں مصروف بیٹھا دیکھ کر اپنی بُک کھولی اور پڑھنے لگی
ابھی کوئی اندر داخل ہوا اور ان دو لڑکیوں پہ نظر پڑی جو اسکا سامان ہٹا کر اسکی ٹیبل پر بڑے مزے سے بیٹھی ہوئیں تھیں
اسکو غصہ آیا اور چہرے پہ بلا کی سنجیدگی اور بھوری آنكھوں میں غصہ لیئے وہ ان کی طرف بڑ رہا تھا
ٹک ٹک …. اسنے اپنے هاتهہ کی انگلیون کے پوروں سے ٹیبل بجائی اور دونوں یکدم سَر اٹھا کر اُس مغرور شخص کی طرف دیکھنے لگیں
“یہ میری ٹیبل ہے یہاں میں بیٹھا ہوا تھا پہلے اور کچھ کام سے باہر گیا تھا ، آپ دونوں کہیں اور بیٹھ جائیں….”
وہ غصہ ضبط کیئے بولا
اور اب آفریں کو بھی غصہ آرہا تھا کہ اِس ٹیبل میں ایسا کیا تھا جو ہر کوئی پیچھے ہی پڑھ گیا ہے
“جی سوری ہمہین معلوم نہیں تھا ہم ابھی اٹھتے…….”
“ہم نہیں اٹهینگے…. آپ جا کر دوسری ٹیبل پر بیٹھ جائیے آپکا سامان بھی وہیں رکھا گیا ہے ، بیٹھ جاؤ حیفی……”
حفسہ اَٹھ کر بولی جب آفریں اسکی بات کاٹ کر بول پڑی وہ بھی ضدی تھی کہان ایسے اٹهنے والی تھی اور پِھر سے موبائل میں مصروف ہوگی
پِھر وہ مغرور شخص لال آنكھوں سے اسکو دیکھنے لگا حفسہ نے اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھا اور پِھر دوبارہ بیٹھنے کی ہمت نا ہوئی اسکی
اس لڑکے نے اچانک آفریں کے ہاتھ سے موبائل کھینچ کر دوسری ٹیبل پر اچھالا اور بولا
“جاؤ اب تمہارا بھی سامان وہیں پر ہے جاکر بیٹھ جاؤ وہاں…….”
آفریں کچھ پل کے لیئے پتھر بنی رہی ، منہ کھولے، ہاتھ اسی موبائل پکڑنے والے انداز میں تھے اسکو یہ اندازہ نہیں تها کہ یہ شخص اتنی بدتمیزی پر اُتَر آئیگا
“سنائی نہیں دیا ؟ اٹھو یہاں سے فوراً…….”
وہ اب تیز آواز میں بولا وہاں کے لوگ اب انکی طرف متوجہ تھے جس میں ویٹرس کے ساتهہ دو بهوڑے ، دو تِین ادهیڑ عمر خاتون اور وہ تین آوارہ لڑکے تھے
وہ ہوش کی دُنیا میں آئی اور اَٹھ کر اُس کے مقابل میں کهڑی ہوکر بولی
“یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ ؟ شرم نہیں ہے تمہیں ذرا سی بھی ؟ جاؤ اور میرا موبائل اٹھا کے دو مجھے فوراً……”
“نوکر نہیں ہوں میں تمہارا جا کر خود اٹھالو…..”
وہ کہہ کر وہ اس ٹیبل کی طرف بڑها جہاں آفریں نے اسکی چابیاں رکھی تھی اسنے کیز اٹهائیں اور اپنی ٹیبل کی طرف آیا
“تمہیں لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے کیا ؟ بد تمیز انسان اور میں یہاں سے کہیں نہیں اٹھنے والی سن لو تم کان کھول کر…….”
آفریں واپس اس کرسی پر بیٹھ گئی اور اس شخص کو گھورنے لگی اور ڈری ہوئی حفسہ ان دونوں کی بحث دیکھنے لگی
وائٹ اور بلیک چیک کی شرٹ جس کے اوپر والے دو بٹن کھلے ہوئے تھے اس پر جینس… گلے میں ایک لاکٹ اور ھاتھوں میں کئی سارے بینڈس بندھے ہوئے آفریں کو وہ بالکل غنڈا ٹائپ لگا اور اسکو ایک آنکھ نا بھایا
“اوکے جیسی تمہاری مرضی …. لگتا ہے آج تمہارا موڈ میرے ساتھ ناشتہ کرنے کا ہے….”
وہ بولتا ہوا حفسہ کی کرسی پر بیٹھ گیا
اور آفریں کو تو آگ ہی لگ گئی تهی کتنا ڈھیٹ انسان تھا وہ
آفریں ایک جهٹکے سے اٹھی اپنا بیگ اور موبائل لیا اور انگلی دکھا کر اسکو بولی
“تمہیں میں دیکھ لوں گی مسٹر جو کوئی بھی ہو تم…….”
“ازلان نام ہے میرا اور کر لینا جو تم کر سکتی ہو…..”
وہ کہان کسی سے ڈرنے والا تھا اسلیئے چابیئان گماتا ہوا بولا
“یہاں اجائیں آپ میڈم جانے کی کیا ضرورت ہے ہم تو آپکے لیئے اپنا پورا ٹیبل ہی چهوڑ سکتے ہیں……..”
آفرین اسکو گهور کر جانے لگی حفسہ کے ساتھ جب پیچھے سے آتی آواز نے اسکو روکا …. یہ وہ ہی لڑکے تھے جو کب سے ان دونوں کو گهور رہے تھے
“آفی چلو مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا بس چلتے ہیں ہم……”
حفسہ اسکا بازو کهنچتی ہوئی بولی
“تم لوگوں کی ماں بہینیں بیٹتھی ہونگی ایسے ہی کسی کے ساتھ ، انکو بٹهالو……..”
وہ بھی آفریں تھی… جواب دیئے بغیر کہاں جانے والی تھی اور آفریں کے ان جملوں نے ان لڑکون کو آگ لگا دی تھی اور ازلان آرام سے نارمل اندازِ میں جوس پیتا سب دیکھنے لگا جیسے کوئی فلم چل رہی ہو
باقی سب بهوڑے شور سے تنگ آکر جا چکے تھے اب ان کے اور ویٹرز جو کہ اپنے کام میں مصروف تھے ان کے سوا وہاں کوئی نا تھا
“اوہ میڈم خیال سے بات کرو ایسا نا ہو کے پچتانا پڑے تمہیں بعد میں…….”
ایک لڑکا آفریں کی طرف بڑھا اور اپنا ہاتھ اُس کے بازو پر لے ہی جا رہا تھا تبھی اسکو پیچھے سے ایک تیز آواز نے روکا
“وہیں رک، لڑکی کے پاس مت جا ورنہ تو سہی سلامت اپنے پیروں پر گھر نہیں جا پائیگا…….”
ازلان اسکے پیچھے سے کالار پکڑتا بولا
آفریں اب سہم گئی تھی اس لڑکے کو اپنی طرف بڑهتا دیکھ اور جب ازلان نے اسکو روکا تب آفریں نے سکھ کا سانس لیا
“چهوڑ بے…….”
وہ لڑکا ازلان کو اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ جو کہتا ہے کر کہ ہی رہتا ہے اور یہاں سب اُس کے غصے سے بھی واقف تھے اسلیئے وہ کالر چهڑوا کے واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا
“تم جیسی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے اور اگر اب تھوڑی سی بھی شرم باقی ہو نا تو یہاں سے چلی جاؤ دونوں……..”
ازلان ان دونوں کو ایک اچهاتری نظر سے دیکھتا ہوا بولا اور اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا اسکی پشت اب ان دونوں کی طرف تھی
آفریں کو غصہ تو بہت آیا اسکی بات پر ابھی وہ اسکو منہ توڑ جواب دینے کے لیئے آگے بڑھی ہی تھی کہ حفسہ نے اسکو روک لیا
“چلو آفریں بس بہت ہو گیا اب اور تماشہ مت بناؤ……”
اور آفریں ازلان کو غصیلی نظر سے دیکھ کر تیز قدم اُٹھاتی وہاں سے چلی گئی اور حفسہ بھی اس کے پیچھے چل دی
“کیا ضرورت تھی آفی ایسے تماشہ کرنے کی ہم کسی اور ٹیبل پر بیٹھ جاتے تو یہ سب ہوتا ہی نہیں…….”
حفسہ اور وہ یونیورسٹی پھونچی تو حفسہ بولی کیوں کہ گاڑی میں وہ دونوں ڈرائیور کی وجہ سے چُپ تھیں
“اس کمینے انسان کا مطلب کیا تھا کے میری جیسی لڑکی اور تم نے مجھے کیوں روکا حفی میں بھی سناتی اسکو اچھی والی…….”
آفریں پِھر سے سب کا غصہ اس پر اُتَار رہی تھی
“چُپ رہو آفی اب .. پِھر سے تم نے ایسا کوئی تماشہ کیا نا تو میں دانی بھائی کو شکایت لگا دونگی تمہاری…..”
حفسہ نے اسکا موڈ سہی کرنے کے لیئے بات کو الگ رخ دیا
اور دانیال کا نام سن کر آفریں کے چہرے کو ایک خوبصورت مسکراہٹ نے چهوا جس کو وہ حفسہ سے چھپانے لگی اور بولی
“ہاں تمہارا بھائی تو کوئی گبر سنگھ ہے نا جس کی دھمکی سے میں ڈرونگی……”
“واہ واہ نام سنتے ہی لڑکی کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی واہ دانی بھائی مان گئے آپکی بھی پاور ہے….”
حفسہ اپنے بھائی پر فخر کرتے بولی
“پاور ہو ہی نا جائے اس دانی کی …. اور اسکی تو آج ساری پاور شاور میں نکالونگی……”
آفریں کو اسکی دیر سے سونے والی بات یاد آئی تو بول پڑی
“اوکے ہٹلر ابھی تو چلو کلاس لینی ہے…….”
وہ دونوں اب مسکرا کر کلاس کی طرف بهڑنے لگی
انکی دوستی ہی ایسی تھی ایک ناراض ہوجاتی تو دوسری اوٹ پٹانگ حرکتیں یا باتیں کر کے دوسری کا موڈ منٹون میں سہی کر دیتی…. ان دونوں کی تو جان بستی تھی ایک دوسری میں………
….
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *