Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 9)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 9)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
کیا تھا یہ انکل ۔۔۔
جنت کو بیڈ روم میں لے آۓ تھے جب ہارون نے بلاج کو فون کیا تھا۔۔۔
تبھی بلاج چیک کرتا زرا سختی سے بولا تھا۔۔۔۔
بیٹا میں بھی کیا کرتا یہ۔۔۔تم یہ بتاٶ جنت کیسی ہے اب۔۔۔
ہارون شرمندہ ہوتے بات چینج کیے بولے تھے۔۔۔
انجکشن لگا دیا ہے کافی بہتر ہو جاۓ گی آگے سے خیال رکھے گا انکل آپ سب جانتے ہے وہ ہارٹ پیشٹ ہے ایسے میں اگر ج۔۔۔۔
نہیں میری بیٹی کو ایسا نہیں ہو گا کچھ بھی تم کچھ بھی کرو بلاج بیٹا۔۔۔
بلاج پریشان ہوتا بول رہا تھا جب روحا مسلسل روتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔
ریلکس پھوپھو سب ٹھیک ہے خیال رکھے ہم سب جانتے ہے روحاب کے جانے کے بعد ہم سب نے کیسے جنت کو ہنیڈل کیا تھا۔۔۔۔
روحاب کے کڈنیپ ہونے پر جنت کو گیارہ سال میں ہارٹ اٹیک آیا تھا یہی وجہ تھی وہ ہارٹ پیشٹ بن چکی تھی۔۔۔
مامی آپ بات کرے سفان سے اسے کہے میری بیٹی کو اتنی بڑی سزا مت دے اگر نہیں رہنا چاہتا تو طلاق دے تاکہ میں اپنی بیٹی کو اس سے آزاد کروا دو۔۔۔۔
ہارون نسرین بیگم کا ہاتھ پکڑتے بولے تھے۔۔۔
ہاں تم فکر مت کرو میں فون کرتی آج ہی۔۔۔
نسرین بیگم روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
————————————————————
یہ میری ماما ہے سمجھے دور رہو۔۔۔
گیارہ سالہ جنت نے بارہ سالہ سفان کو غصے سے دھکا دیتے کہا تھا۔۔۔
جو روحا کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔۔۔۔
کیوٹ لیڈی اسے کہو آپ میری ہے ۔۔۔
سفان اپنی گرین آنکھوں میں نفرت لاۓ بولا تھا۔۔۔
میری ماما ہے اپنی ماما کے پاس جاٶ۔۔۔۔
جنت پھر بولی تھی۔۔۔
میری ماما ہی نہیں ہے ت۔۔۔
اچھا ایسا کرو تم میری ماما جیسی لڑکی سے شادی کر لو تاکہ میری ماما کا پیچھا چھوڑ دو۔۔۔
سفان اچانک اداس ہوتا بول رہا تھا جب جنت حال نکالتی بولی تھی۔۔۔
کیوٹ لیڈی آپ مجھے دے گی اپنے جیسی لڑکی جو بلکل آپ جیسی ہو۔۔۔
سفان روحا کا ہاتھ پکڑتے پیار سے بولا تھا۔۔۔
ہاہاہاہہاہا میری جیسی تو میری بیٹیاں ہے۔۔۔
روحا اس کی بات سنتی قہقہ لگاتی بولی تھی۔۔
تو اپنی کسی بیٹی سے شادی کروا دے تاکہ میرے پاس بھی کیوٹ سی لیڈی ہو۔۔۔
سفان اپنی سمجھ سے بولا تھا۔۔۔
تم مجھ سے شادی کر لو سفان بلکل ماما جیسی ہو۔۔۔
جنت اپنے بالوں کو جٹھکا دیتی بولی تھی۔۔۔
اپنی شکل دیکھی ہے بندر ہو کیوٹ لیڈی جیسی کوئ نہیں میری ہے یہ۔۔۔
سفان برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
م۔ما۔ماما میری ہے۔۔
جنت ہوش میں آتی چلائ تھی ۔۔۔۔
ابھی اس نے گھور نہیں کیا تھا کوئ اس کے قریب بیٹھا اس کی سانسوں کو سن رہا تھا۔۔۔۔
کیوں سفان کیوں کیا اتنی چھوٹی بات پر تم نے مجھے چھوڑ دیا کہ تمہیں ماما جیسی لڑکی چاہے تھی۔۔۔۔
نفرت ہے مجھے تم سے سفان خان نفرت۔۔۔
جنت اپنے اور سفان کے بارے میں سوچتی روتے ہوۓ چلائ تھی ۔۔۔
کیونکہ اسے بس اتنا یاد تھا بچپن میں نکاح کے بعد ایک دن سفان سے لڑائ ہوی تھی اس کے بعد سفان نے کبھی پاکستان رابطہ نہیں کیا تھا۔۔۔
روحاب کو ڈھونڈنے کے چکر میں بھول ہی چکی تھی کہ اس کی شادی ہوئ تھی۔۔۔۔
ک۔کو۔ن۔۔شششش سو جاٶ۔۔۔
جنت کو اپنی کمر پر ہاتھ محسوس ہوا تھا تبھی وہ ڈرتے بول رہی تھی جب سفان بولا تھا۔۔۔
بابا کدھر ہے ۔۔۔
جنت بچوں جیسی شکل بناۓ اسی کی گود میں سر رکھے بولی تھی ۔۔۔
اس کو یہ لمس انجانا نہیں لگا تھا۔۔۔
جبکہ سفان سکون سے بیٹھا اس کا جواب نہ دیتے سلا رہا تھا۔۔۔
————————————————————
پلوشہ اپنی تیز ہوتی سانسوں پر قابو پاۓ کب سے آنکھیں بند کیے کھڑی تھی جب اسے شاہ زین کا لمس محسوس نہیں ہوا تو جھٹ سے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔
میں مجبوری سے فائدہ نہیں آٹھاتا خیر آٶ گھر چلتے ہے۔۔۔
شاہ زین مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہمم۔۔۔
پلوشہ گہرا سانس لیتی ساتھ جاتی بولی تھی اس کے لیے یہی کافی تھا شاہ زین سے بچ گی تھی۔۔۔۔
———————————————————–
ہاے بھای ابھی تک جاگ رہے آپ۔۔۔
حجاب آذان کے ساتھ بابر سے ملنے گھر آئ تھی ۔۔
جب سبحان کے روم میں شرارتی انداز سے بولی تھی۔۔
نیند نہیں آ رہی تم سناٶ کیسی ہو موٹی۔۔۔
سبحان کافی پیتا ہوا بولا تھا۔۔۔
بھائ تمہیں سونا چاہے ایک بھی رات ایسی نہیں جو سوۓ نہ ہو ۔۔۔
حجاب فکر مند ہوتی بولی تھی۔۔۔
ریلکس مجھے جب نیند آۓ گی تب سو جاٶ گا۔۔۔۔
سبحان اسے پرسکون کرتا بولا تھا۔۔۔
آٶ میرے ساتھ میں بھی دیکھتی ہو کیسے نہیں سوتے۔۔۔
کیوں اس کی وجہ سے خود کو سزا دے رہے ہو۔۔۔۔
حجاب زبردستی اس کا ہاتھ پکڑتی بیڈ پر لیٹاتی ہوئ زرا سختی سے بولی تھی۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔
سبحان بھی ہار مانتا ہوا لیٹا تھا۔۔۔۔
تم۔نے مجھے نہیں بچایا سبحان کیا
ایسے دوست ہوتے ہے نفرت ہے مجھے نفرت۔۔۔
تمہارے باپ نے تمہیں بچایا ۔۔۔
اہہہہ اہہہہ نہیں نہیں روحی ایسا مت کہو ۔م۔میں ۔نے تمہیں بچانے کی کوشش کرو ۔گا۔۔۔۔
ابھی اسے لیٹے پانچ منٹ ہی ہوے تھے جب اسے دس سالہ روحاب خواب میں آتی خون سے لت پت شرٹ پہنے وہ روتی ہوئ اس سے شکوہ کر رہی تھی۔۔۔۔
وہی وہ چیختے چلاتے اٹھ کر بیٹھتا پھوٹ پھوٹ کر روتا بولا تھا۔۔۔۔
یہ روزانہ کا کام تھا یہی وجہ تھی سبحان رات کو سوتا نہیں تھا اسے پچیتھاو ہوتا تھا۔۔۔
سبحان میرا بچہ ایسے م۔۔۔
ماما وہ آئ آج کہتی میں نے بچایا نہیں اسے کیوں نہیں بچایا میں نے صرف آپ کے شوہر کی وجہ سے ۔۔۔
علیزے بابر آذان اس کے چیخنے کی آواز سنتے اندر آتی وہ بول رہی تھی جب سبحان بیڈ سے اٹھاتا ہوا بابر کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
بیٹا میں کوشش کر تو رہا ہ۔۔۔
کیا کوشش کر رہے آپ اگر کرتے کچھ تو آج میرے پاس ہوتی کتنے مان سے اس نے مجھے بلایا تھا کتنے مان سے کہا تھا سبحان مجھے بچاٶ۔۔۔
آور آپپپپپپ۔۔۔۔
بابر شرمندہ ہوتے بول رہے تھے جب سبحان اپنی سرخ سنہری آنکھیں لاتے غراتے ہوۓ وہاں سے واک آٶٹ کر چکا تھا۔۔۔
ماما و۔۔۔
ششش میری جان کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے تم جاٶ ریسٹ کرو ۔۔۔
حجاب ڈرتی آنسو بہاتی بول رہی تھی جب علیزے اسے گلے لگاتی پرسکون کرتی بولی تھی۔۔۔۔
آذان اسے پکڑے اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا۔۔۔
———————————————————–
ی۔یہ کیا طریقہ ہے پلوشہ۔۔۔
پری پلوشہ کو لنہگے میں دیکھتی زرا سختی اور ڈرتے بولی تھی۔۔۔
ماما شادی کر لی میں نے ا۔۔۔۔
پلوشہہہہ۔۔۔
پھوپھو یہ کیا کر رہی ہے۔۔۔
پلوشہ مسکراتی بول رہی تھی جب پری نے جیسے ہی غصے سے اسے تھپڑ مارنا چاہا تبھی شاہ زین نے روکا تھا۔۔۔۔
دیکھو اس۔ک۔۔۔
پھوپھو پلوشہ سے میں نے شادی کی کیونکہ مجھے پسند تھی یہ ا۔۔۔۔
شاہ زین پری کو پر سکون کرتا جھوٹی بات بتا چکا تھا۔۔۔۔
تو بیٹا ہمیں بتا دیتے ہم شادی کا انتظام کر۔۔۔۔
ارے انکل سب کچھ تو ہے میرے پاس آپ بس سادگی سے رخصتی کروا دے ۔۔۔۔
برہان مسکراتے ہوۓ پاس آتے بول رہے تھے جب شاہ زین نے پھر سکون سے کہا۔۔۔۔
ہمم۔م۔۔
برہان سمجھ گے تھے شاہ زین جھوٹ بول رہا کیونکہ پلوشہ ہکا بکا منہ کھولے کھڑی سب سن رہی تھی۔۔۔۔
۔شادی کر تو لی رخصتی ضروری ہے کی۔۔۔
پلوشہ ہکلاتی ہوئ بول رہی تھی جب پری کی گھوری سے چپ کر چکی تھی۔۔۔
ہممم چلو میں روحا آپو سے پوچھتا ہو تم یہاں روکو گے یا گھر چلے جاٶ گے۔۔۔
برہان سوچتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔۔
نہیں میں گھر جا رہا آپ بس رخصتی کروا دے۔۔۔
سن
سن۔۔۔
شاہ زین کہتا مسکراتا ہوا ہال سے باہر جا رہا تھا جب پلوشہ غصے سے بھاگتی ہوئ اس کے پیچھے آی تھی جب لڑکھڑاتے ہوۓ گرنے والی تھی جب رخ موڑے شاہ زین نے اسے باہوں میں پکڑا تھا۔
رخصتی کی اتنی جلدی ہے جو باہوں میں آی۔
شاہ زین مسکراتے بولا تھا۔
تم جیسے کالے سے شادی کر لی اب رخصتی کروا رہے ہو ایسی تو کوئ بات نہیں ہوئ تھی۔
پلوشہ دور ہوتی جلدی سے منہ بناۓ بولی تھی۔
وہ کیا ہے ناں مس وائف جب تک تم سے اپنا حق نہ لے لو تو چھوڑو گا کیسے۔
شاہ زین آرام سے بات کرتا پلوشہ کا سکون برباد کرتا چلا گیا تھا۔۔
پلوشہ کا رونے والا چہرہ بن چکا تھا۔۔۔
————————————————————
یہاں کیوں سو رہی تم۔۔۔۔
بلال رات کو دانین کو زمین پر سوتے دیکھ بولا تھا۔۔۔
روزانہ رات کو ایسے ہی سوتی ہو۔۔۔
دانین معصومیت سے بولی تھی۔۔۔۔
یہاں آٶ ہم دوست ہے تو ایک ساتھ سوۓ گے۔۔۔
بلال دکھی دل ہوتا بولا تھا۔۔۔
دانین کی باتیں سنتے وہ اکثر دکھی ہو جاتا تھا وہ سمجھتا تھا یہ دکھ اس کی وجہ سے ملا ہے ۔۔۔
اچھا یہ بتاٶ کبھی یاد نہیں آتی ماما لوگوں کی اور یہ شادی کے لیے کیسے مانی تھی۔۔۔۔
بلال دانین کو اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا۔۔۔۔
ماما لوگوں کی یاد بہت آتی ہے ۔۔۔
جس دن آپ کے ساتھ شادی کا ماما نے کہا تو مجھے نہیں تھا پتہ یہ ہوتی کیا ہ۔۔۔
اب پتہ شادی کیا ہوتی۔۔۔
دانین بول رہی تھی جب بلال اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ہاں شادی کا مطلب اچھا دوست آپ جیسا آج سے میں آپ کو جو کہو گی آپ وہی کرے گے مطلب کھیلنا کودنا کھانا پینا ڈانس کرنا سب کچھ۔۔۔
دانین اپنے ننھے سے ذہین سے جو سمجھ آیا بولی تھی۔۔۔
اچھا تمہیں پتہ خون بہا کیا ہوتا۔۔۔
بلال نے ایک نیا سوال پوچھا تھا۔۔۔
ماما نے کہا تھا یہ گیم ہے جیسے مجھے کوئ کچھ بھی کہے میں نے اچھے سے سب کام کرنا اور جیتنا ہے جس دن جیت گی اسی دن میں اپنی ماما کے پاس چلی جاٶ گی ۔۔۔۔
یہ دیکھو کمر یہ زرمینا آپی اور وہ افشاں جو ملازمہ ہے روز مارتی تھی۔۔۔
اور وہ رزتاج آنٹی ہے وہ کپڑے استری کرواتی تو ہاتھ پر لگا دیتی میرے۔۔۔
دانین اٹھ کر بلال کو اپنی کمر گردن بازو ہاتھ اپنی ٹانگیں
دیکھاتی بولی تھی۔۔۔
ت۔تمہیں پتہ تم جیت گی گیم دانین میری جان اب تم جب چاہو ماما کے پاس جا سکتی ہو۔۔۔۔
بلال اپنی نیلی آنکھوں سے ضبط کرتا دانین کے زخموں پر لب رکھے بامشکل بولا تھا۔۔۔
اس کا دل پھٹا جا رہا تھا کیا وہ اتنا بے خبر رہا اس معصوم سی ننھی جان سے جو روز درد سہتی تھی۔۔۔
یاہووووو مطلب میں جا سکتی ہو ماما کے پاس آپ بھی ساتھ جانا میرے۔۔۔
دانین اپنی خوشی سے پاگل ہوتی بلال کو ہگ کرتی بولی تھی۔۔۔
اچھا بتاٶ بس ہگ کرنا آتا ہے تمہیں۔۔۔
بلال دانین کے گلابی لب دیکھتا شرارتی انداز سے بولا تھا۔۔۔
نہیں کس بھی آتی ہے ۔۔۔
دانین سرخ گال لیے بولی تھی۔۔۔
اچھا تو کرو۔۔۔
بلال اپنی مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
ہاں ضرور آپ کی بات نہیں منع کر سکتی ورنہ گیم ہار جاٶ گی ۔۔۔۔
دانین اپنے ننھے لب بلال کی گال پر رکھتی بولی تھی۔۔۔۔
اہہہہ اسے کس کہتے ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔
بلال دانین کے سامنے حیران ہونے کا ڈرامہ کرتا بولا تھا۔۔۔
آپ کو کیسے پتہ ہو گا اتنے بڑے ہو گے مجھے سے عقل لیا کرے دیکھے سب جانتی ہو۔۔۔
دانین فخریہ انداز سے معصومیت سے بولی تھی۔۔۔
ہاں یار مجھے تو پتہ نہیں چلو تم روز سکھا دیا کرنا مجھے۔۔۔
بلال بھی اپنے لب اس کے گال پر رکھتا بولا تھا۔۔۔۔
چلو پکا آج سے آپ کو سکھاٶ گی۔۔۔
دانین اسے ہگ کرتی لیٹتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
دانین کا لمس پاتے بلال بھی سکون میں آتا سوچ رہا تھا آج سے وہ دانین کے ساتھ مل کر ہر کام کرے گا جس سے وہ خوش ہو۔۔۔
————————————————————
تم بہت پیارے ہو بہارے کو پسند آۓ۔۔۔
بہارے آج پھر باہر آتی سب لڑکوں کو دیکھ رہی تھی جب اسے سامنے بیٹھے سرخ سنہری آنکھیں لیے شانی دیکھا تھا۔۔۔۔
تبھی سب کو اگنور کیے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتی بولی تھی۔۔۔۔
مجھے بھی تم پسند آی مس بہارے۔۔۔
شانی بھی ہاتھ پکڑتا اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
ہممم چلو ساتھ میرے ۔۔۔
سب نے حسرت بھری نگاہوں سے بہارے اور شانی کو دیکھا تھا جو پہلی دفعہ خود کسی لڑکے کو اپنے روم میں لے کر جا رہی تھی ۔۔۔
تمہارے روم میں شیشہ نہیں۔۔۔
شانی اس کے خوبصورت روم کو دیکھتا بولا تھا جہاں ہر چیز تھی سواۓ شیشے کے۔۔۔
شیشے کا تب استعمال کیا جاۓ جب انسان خوبصورت ہو۔۔۔
بہارے سکون سے کھڑی بولی تھی۔۔۔
کیوں تم خوبصورت نہیں کیا۔۔۔۔
شانی اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
بلکل نہیں بد صورت لڑکی ہو مجھے نفرت ہے اپنی خوبصورتی سے تبھی شیشہ نہیں دیکھتی ۔۔۔
بہارے اپنی کیپ اتارتی بولی تھی۔۔۔۔
بالوں اور آنکھوں سے لگتا نہیں کہ تم بد صورت ہو ا۔۔۔۔
ہاہاہہاہااہاہاہہاہا۔۔۔
تم جانتے نہیں اس لیے خیر مجھے میرے شوہر نے چھوڑ دیا تم کیا چیز ہو ۔۔۔
شانی اس کے ڈراک براٶن بالوں کو کمر سے نیچے جھولتے دیکھ بول رہا تھا جب بہارے اب دستانے اتارتی بولی تھی۔۔۔
مطلب شادی شدہ ہ۔۔۔۔
شانی جو اچانک اداس ہوتے بول رہا تھا جب بہارے کے اگلے مرحلے پر وہ شوک ہوتا چپ ہو گیا تھا ۔۔۔
ڈراک براٶن آنکھیں صاف شفاف چہرہ چھوٹی سی ناک میں پہنی ڈائمنڈ کی نوز رنگ گلابی لب سفید رنگ ڈراک براٶن بال گردن پر گہرے کٹ کا نشان جو اس وقت نیلا ہوا تھا۔۔۔
بہارے اپنا ماسک اتار چکی تھی ۔۔۔
شانی کی نظروں میں اپنے لیے پسندگی دیکھ بہارے کا دل دھڑکا تھا۔۔۔
ی۔یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔
شانی کو سکتے کی حالت میں کھڑا دیکھ بہارے نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے سٹارٹ کیے تھے جب وہ شوک سے واپس آتا چلایا تھا۔۔۔
وہی جو تم جیسے مرد کرتے ہے دیکھو میں کتنی بد صورت ہو اب یہ تم بھی جانتے ہو میں تمہیں کس لیے لائ ہو روم میں۔۔۔
بہارے اب زہر اگلتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
تم ہوش میں تو ہ۔۔۔۔
ہوش میں ہو میں تبھی بول رہی ہو۔۔۔
شانی غصے سے غراتا پاس جاتے بولا تھا۔۔۔
جب بہارے بھی چیختی بولی تھی۔۔۔
تم سب مردوں کو یہی چاہے ہوتا ہے تو لو حاصل ک۔۔۔
چٹاخخ۔۔۔
بہارے اپنی شرٹ کو شولڈر سے سرکتی ہوئ نفرت سے بول رہی تھی جب شانی نے اسے روز دار تپھڑ مارا تھا۔۔۔
بہارے کا چہرہ دائیں جانب جھک گیا۔۔
بہارے اب لب بھینچے زمین کو گھورنے لگی۔
“اپنی اس زبان کو لگام دو۔۔۔۔۔۔”
شانی اسے جھنجھوڑتا ہوا بولا۔۔
تمہیں میں ایسا لگاتا ہو۔۔۔
” آئینہ دکھا رہی ہوں تو تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔۔”
بہارے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔۔
“عورت ہو تبھی چھوڑ رہا ورنہ میں اچھے سے بتاتا میں ہو کون ۔۔۔
تم اپنی حد میں رہو ورنہ میرے ہاتھوں سے گناہ ہو جاۓ گا۔۔۔۔
شانی کرخت لہجے میں بولا۔۔
“تم کون سا یہاں نیکی کرنے آۓ ہو ۔۔
یہاں رات کے اندھیرے میں سب لوگ گناہ ہی کرنے آتے ہے پھر تمہارے جیسے رئیس زادے رات کو یہاں گناہ کرتے پھر دن کی روشنی میں اچھے بن جاتے ہے۔۔۔۔
بہارے اس کے غصے کا اثر لئے بنا بولی۔۔۔
شادی کرو گی مجھے سے۔۔۔
شانی غصہ کنٹرول کیے بولا تھا۔۔۔
مجھ جیسی بد صورت طوائف سے کون شادی ک۔۔۔۔
بہارے خود کا مذاق بناتی بول رہی تھی جب شانی شدید غصے میں اسے گردن سے پکڑے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا۔۔۔۔
بہارے کا جسم کانپا تھا اسے امید نہیں تھی شانی ایسا کام کرے گا وہ تو بس اسے غصہ دلا رہی تھی۔۔۔۔
شادی کر لو میں رات کیا دن کو بھی تمہیں بتایا کرو گا تم کتنی خوبصورت ہو مس بہارے۔۔۔۔
شانی اسے نرمی سے چھوڑے اس کا سرخ چہرہ دیکھتے وہ سکون سے بولا تھا۔۔۔
دفع ہو جاٶ میں ٹھیک کہتی تھی تم جیسے مرد بس ہوس پوری ک۔۔۔
تیار رہنا مس بہارے بہت جلد ملے گے شادی کے دن۔۔۔
بہارے شدید غصے میں شانی کی کمر پر لات مارتی بول رہی تھی جب شانی دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کرتا نرمی سے چھوڑتا باہر جاتا بولا تھا۔۔۔
انہہہ ڈرامے باز۔۔۔
بہارے اپنے لب رگڑتی ہوئ منہ بناتی بولی تھی۔۔۔
———————————————————–
وہی تھی ڈائمن وہی تھی افففف ہاے میرا دل۔۔۔
شانی خوشی سے پاگل ہوتا بولا تھا۔۔۔
ڈائمن سمجھ سکتا تھا اس کی حالت کو ۔۔۔
میں بہت خوش ہو تمہارا بچپن کا عشق مل گیا مبارک ہو۔۔۔
ڈائمن خودی خوشی سے پاگل ہوتا بولا اسے ہگ کرتا بولا تھا۔۔۔
لیکن وہ ایسی کیوں تم تو جانتے ہو وہ کتنی ڈرپوک تھی پ۔۔۔
ریلکس تم اسے جلدی سے لے آٶ پھر سب پوچھ لے گے۔۔۔
شانی اچانک پریشان ہوتا بول رہا تھا ڈائمن اسے پرسکون کرتا بولا تھا۔۔۔
ہاے آج تو مجھے خوشی سے نیند ہی نہیں آنی ۔۔۔
ہاں سو جا اب میرا خود دل کر رہا اسے ملو جا کر پر مجبور ہو ا۔۔۔۔
اچھا بس کر میری ہے وہ چل بھاگ جا یہاں سے ۔۔۔
ڈائمن مسکراتا ہوا بول رہا تھا جب شانی برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔
آ جا تو میں تمہیں اچھی نیند دو گا۔۔۔
ڈائمن اب سردپن سے شانی کو ٹانگ سے پکڑتا اپنے ساتھ گھیسٹا ہوا جاتا بولا تھا۔۔۔
وہی شانی اب پیچھتا رہا تھا کیوں ڈائمن کو چڑ چکا تھا۔۔۔
————————————————————
بابا آپ میری ب۔۔۔۔
صبح بلاج ہاسپٹل سے سیدھا برہان کے آفس میں آتا بول رہا تھا جب سامنے اریج کو برہان کی چئیر پر بیٹھے وہی رک گیا تھا۔۔۔۔
بے بی پنک کلر کا تھری سوٹ پہنے بالوں کا بن بناۓ ناک پر غصہ گرے آنکھوں میں نفرت لیے گلابی ہونٹ صاف شفاف چہرہ لیے اریج اسے ہی طنزیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
تم یہاں کیوں نکلو باہر بابا کا آفس ہے ی۔۔۔
ایکسوزمی مسٹر بلاج آپ زرا ڈور ناک کر کے آۓ باس ہو میں جاۓ۔۔۔
بلاج غصے سے دانت پیستا ہوا بول رہا تھا جب اریج اپنا سفید ہاتھ سے اشارہ کرتی سکون سے بولی تھی۔۔۔
تم سمجھی کیا ہو اپنے آپ کو یونی کیا کم پڑ گی جو اب آفس آ کر بھی سب کو اپنا یہ حسن دیکھاتی ہ۔۔۔۔
ڈاکٹر بلاج جاٶ باہر یہ آفس میری بیٹی کا ہے اجازت لو ڈور ناک کرو پھر اندر آٶ۔۔۔۔
بلاج دانت پیستا ہوا اریج کے پاس جاتا بول رہا تھا جب برہان کافی کا مگ لاتے اسے اگنور کیے بولے تھے۔۔۔
لیکن باب۔۔۔
دیکھو یہ کافی میں نے بنائ اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔
بلاج بول رہا تھا جب برہان اریج کو مگ دیتے بولے تھے۔۔۔
بہت یمی ہے بابا۔۔۔
میں اندر آ سکتا ہو۔۔
بلاج ضبط کرتا آفس کے ڈور کے باہر کھڑا ہوتا بولا تھا جب دونوں اگنور کیے اپنی بات کر رہے تھے۔۔۔۔
مس اریج میں اندر آ جاٶ بابا سے با۔۔۔۔۔
بابا یاد آیا ایک مینٹنگ کرواۓ مجھے لگتا کوئ مسئلہ ہے۔۔۔
بلاج نے ایک دفعہ بھی کہا جب اریج نے دوبارہ کہا تھا۔۔۔
کیا سمجھتی ہو ایسے کام کر کے تم مجھے تڑپاٶ گی ۔۔۔
شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا میں تم جیسی لڑکی کا جو ہر لڑکے کے پاس رات گزا ۔۔۔۔
بلاجججججج۔۔۔۔
بلاج آپے سے باہر ہوتا اندر آتا اریج کو بازو سے پکڑتے دانت پیستا بول رہا تھا جب برہان دھاڑے تھے۔۔۔
ڈاکٹر بلاج اتنا مت گراٶ اپنے آپ کو میری نظروں میں ۔۔۔
تم نے چاہے محبت نہ کی ہو لیکن میں نے ہمیشہ عشق کیا ہے تم سے سو سوچ سمجھ کہ بولا کرو۔۔۔
اریج سکون سے بولتی وہاں سے وک آٶٹ کر چکی تھی۔۔۔
میں جانتا ہو یہ ڈارمہ سارا ہے تاکہ میرے بابا نفرت کرے مجھ سے ۔۔۔
دور جاتی اریج کو دیکھتے بلاج وہی سے دھاڑا تھا کیونکہ برہان بھی اسے نفرت سے گھورتے چلے گے تھے۔۔۔
————————————————————
ارے ایس پی آے ہے کیوں۔۔۔
بہارے اگلے دن جب اپنے روم سے باہر آی تو سامنے عمار کو پولیس یونفارم میں دیکھتی طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی۔۔۔
کام کر سکتی ہو بدلے میں پیسے ملے گے۔۔۔
عمار سیدھی بات پر آیا تھا۔۔۔
پیسے کیسے نہیں اچھے لگتے میں حیران ہو میری جیسی طوائف کے پاس ہی کیوں آ۔۔۔۔
شاہ میر خانزادہ تمہارے اوپر مرتا ہے کام یہ کرنا ہے کیسے بھی اپنے جال میں پھسا لو باقی کام میرا۔۔۔۔
بہارے نائٹ ڈریس پہنے ماسک لگاۓ سکون سے کھڑی بول رہی تھی جب عمار بولا تھا۔۔۔
جاٶ دروازہ اُدھر ہے میں ایسا کام نہیں کرتی کبھی خود چل کے کسی کے پاس جاۓ ۔۔۔
بہارے ساری بات سنتی آرام سے اشارہ کرتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
روحان ہارون خان کو جانتی ہو۔۔۔
عمار ضبط کرتا اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔
بہارے بنا موڑے ایک لفظ بولی تھی۔۔۔۔
ویسی ہو تم زہریلی وہ بھی بلکل ایسا ہی ہے ۔۔۔
انہہہہ کام ہی بتایا تھا تمہیں میں نے۔۔۔۔
عمار غصے سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
بہارے کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔۔
———————————————————–
ہاں زینیہ تمہارا کام ہو جاۓ گا میں دیکھ لیتی ہو۔۔۔
جنت بلیو جینز نیلی ہی شرٹ پہنے ساتھ لونگ شوز ہاتھوں میں گن لیے وہ سنسنان راستے پر اکیلی کھڑی تھی ۔۔۔
جب اسے زینیہ کا فون آیا تھا۔۔۔
یار میں کروا لیتی کام روحان بھای کو پتہ چلا تم اپنے روم کی بجاۓ کدھر ہو تو پکا کیس سے پہلے میری موت ہو گی۔۔۔
زینیہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔
تم آنی کو کہو پراٹھے بناۓ میں آ کر کھاتی ہو ٹھیک ہے۔۔۔
جنت سامنے سے ایک ٹرک کو آتے دیکھ وہ سکون سے بولتی فون کٹ کر چکی تھی۔۔۔۔
ہاے اللہٌجنت کو کچھ نہ ہو سچی ورنہ خالو اور روحان سے کون بچاۓ گا۔۔۔۔
زینیہ جنت کے روم سے باہر نکلتی نیچے کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
جہاں زیان حنین روحا ہارون روحان ہال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔
جبکہ زینیہ جنت کو اپنے کام کا بتایا تھا جیسے سنتی جنت ایک منٹ میں سب سے بچتی باہر چلی گی تھی۔۔۔
————————————————————
روکو۔۔۔
جنت اپنی گن سے ٹرک کے ٹائر پر فائر کرتی چلائ تھی۔۔۔
اے لڑکی جا یہاں سے۔۔۔
ٹرک سے ایک لڑکا باہر آتا شدید غصے سے بولا تھا۔۔۔۔
کیوں تمہاری سڑک ہے۔۔۔
جنت سکون سے کھڑی اس کی ٹانگ پر فائر کرتی بولی تھی۔۔۔۔
تم ایسے نہیں مانو گی۔۔۔۔
لڑکا اسے دیکھتا گہری نظروں سے دیکھتا ٹرک میں بیٹھے لڑکوں کو اشارہ کرتا بولا تھا۔۔۔۔
جبکہ دور اپنی گاڑی میں بیٹھے سفان خان سکون سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارے وا ہ ہ کیا مال ہے آج تو مزہ آۓ گا۔۔۔۔
ٹرک سے بیس پیچیس باڈی بلڈر والے لڑکے نکلتے باہر آتے سامنے اکیلی جنت کو کھڑا دیکھ بولے تھے۔۔۔
ہاں آو ایسی حالت کرو گی یاد کرو گے کس سے پالا پڑا۔۔۔
ایک منٹ کے لیے جنت ڈری تھی لیکن ہمت کرتی بولی تھی۔۔۔
جنت کی بات سنتے سب ہی اس پر حاوی ہو چکے تھے۔۔۔
جنت نے اپنے پاس آتے دو لڑکوں کی ٹانگوں پر فائر کیا تھا۔۔۔۔
جب پیچھے کھڑے لڑکے نے جنت کی شرٹ کو چاقو سے کاٹا تھا۔۔۔۔
تمہیں زیادہ شوق ہے مرنے کا۔۔۔۔
جنت رخ موڑے اسی لڑکے کو گردن سے دبوچتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
تم جیسی لڑکی ہو وہاں مرنے کو تیار ہے۔۔۔۔
ایک اور لڑکے نے جنت کا بازو پکڑتے کہا تھا۔۔۔
آ جا مرنے کو۔۔۔۔
جنت پہلے اس کے پیٹ میں ٹانگ مارتی دوسرے کے اوپر سے گھومتی ہوئ شولڈر پر بیٹھی تھی ۔۔۔
سفان یہ شو سکون سے بیٹھا دیکھ رہا۔۔۔
مسلسل ایک گھنٹے سے سب لڑکوں کو جنت اکیلی مار رہی تھی۔۔۔۔
وہ حیران تھا جنت میں اتنی ہمت آی کیسے تھی۔۔۔
کچھ لڑکے زخمی زمین پر پڑے تھے تو کچھ ابھی لڑ رہے تھے اس سے۔۔۔
ہ۔ہاہاہااہا بزدل مرد ایک لڑکی کا مقابلہ نہ کر سکے۔۔۔
کافی دیر سب کو ڈھیر کرتے جنت پھولے سانس لیتی بولتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
جنت کو ٹھیک اور زندہ جاتے دیکھ سفان غصے سے گاڑی سٹارٹ کرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اصلی مرد تم نے دیکھے ہی نہیں ۔۔۔
جنت ٹرک کے اندر جیتنی بھی ڈرگز تھی اس کی ویڈیو بناتی زینیہ کو سینڈ کر چکی تھی ۔۔۔۔
تبھی اب ٹرک سے باہر آ ہی رہی تھی جب وہی سارے لڑکے زخمی حالت میں آتے جنت کو وہی گراتے اس کے اوپر آتے بولے تھے۔۔۔۔
باہر سے ٹرک بند تھا کوئ نہیں جانتا تھا اس کے اندر کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔
اتنا لڑانے اور رات سے طیبعت خراب ہونے کی وجہ سے جنت نڈھال ہو چکی تھی ۔۔۔۔
تبھی اب وہ گھبرائ تھی ان سب کو دیکھ کر ۔۔۔
