Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 4)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 4)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
س۔سر شاہ زین۔۔۔
زینب ہکا بکا سی بولی تھی ۔۔
جو اپنی باہوں میں آتی پلوشہ کو گہری نظروں سے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
پلوشہ ویسے ہی اپنی تیز ہوئ دھڑکنوں کو روکتی آنکھیں کھولتے اپنے اوپر جکھے شخص کا چہرہ دیکھتا وہی اس کی آنکھیں باہر کو آئ تھی ۔۔۔
ت۔تم یہاں۔۔
پلوشہ اسے سامنے دیکھتی برا سا منہ بناتی اٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔
یہ پہن لو ۔۔
شاہ زین اس کی برہنہ صاف شفاف کمر دیکھتا اپنی جیکٹ اتارتے اس کی بات اگنور کیے بولا تھا ۔۔۔
تم سے مطلب میں پہنو یا ن۔۔۔
چلے آپ سب اپنا کام کرے آج ہمارا فرسٹ لیکچیر ہے ۔۔۔
وہ اسے گھورتی بولی رہی تھی جب شاہ زین اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاۓ سب کو اپنی طرف متوجہ کروایا تھا ۔۔۔
انہہ کالا ۔۔۔
پلوشہ اپنے کندھوں پر لیتی جیکٹ لیتی برا سا منہ بناۓ بولتی اپنی جگہ پر بیٹھی تھی ۔۔۔
————————————————————
تمہیں یہ شخص واقعی خوبصورت لگتا ہے ۔۔۔
پلوشہ اپنے سامنے سب کو لیکچیر دیتے شاہ زین کی طرف دیکھتی شوک ہوتی زینب سے پوچھا تھا ۔۔
جو بس اسے ہی سامنے دیکھنے میں بزی تھی ۔۔
یار ایسا مرد ہر لڑکی چاہتی ہے جس کی لائف میں شاہ زین جیسا انسان ہو اس کا لاٹری ہو گی ۔۔۔
بلیک جنیز ساتھ چاکلیٹ شرٹ پہنے گہرے کالے بال جو بار بار اس کے ماتھے پر آ رہے تھے ۔۔
خوبصورت بڑی بڑی سنہری شیشے جیسی آنکھیں جو ہر وقت چمکتی تھی ۔۔۔ گندمی رنگ چہرے کے پیارے نقش جہاں ہر وقت نرم سی مسکراہٹ رہتی تھی ۔۔
اتنا نرم مزاج شاہ زین کا دل تھا سب اس کے رنگ کا مذاق بناتا تھا لیکن وہ ہر کسی کو اگنور کر دیتا تھا ۔۔
ہر کسی کی عزت کرنے والا ۔۔
سب سے زیادہ مذاق پلوشہ اس کا بناتی تھی ۔۔
افف یہ خوبصورت ہاۓ خوبصورت تو آر ایج کے ہے ۔۔۔
پلوشہ شاہ زین پر ایک نظر ڈالتی ٹھنڈی آہ بھرتی بولی تھی ۔۔۔
ہاۓ میرا تو کرش ہے بس نام سنا ہے کبھی دیکھا نہیں میں ن۔۔۔
کزن ہے میرا۔۔
زنیب بھی آہ بھرتی بول رہی تھی جب پلوشہ مسکراہٹ روکے بولی تھی ۔۔
کییییییییاااا۔۔۔
زنیب ہکابکا ہوتی چیخی تھی ۔۔
روحان ہارون خان ۔آر ایج کے۔ ڈائمنڈ ائمپائر کا ون اینڈ اولی اونر ہے ۔۔۔جس کا ڈائمنڈز کا بزنس ملکی ہی نہیں غیر ملکی ممالک میں چلتا ہے ۔۔
جہاں اس کی کافی ممالک میں برانچز ہے ۔۔۔
پلوشہ خوش ہوتی اسے بتا رہی تھی ۔۔۔
ہاے مجھے تو ہارٹ اٹیک آ جاۓ گا ۔۔
زنیب شوک ہوتی ابھی بھی بول رہی تھی ۔۔
ہاں وہ پھوپھو کا بیٹا ہے اور یہ کالا میرے ماموں کا بیٹا ہے ۔۔
پلوشہ پھر شاہ زین کی طرف دیکھتی حقارت سے بولی تھی ۔۔۔
ہاے کتنے خوبصورت کزن ہے ۔۔
زنیب پھر اپنا رونا شروع کر چکی تھی ۔۔۔
———————————————————–
م۔ما ما۔ماما ک۔کھانا۔کھانا دے۔بھو۔بھوک لگی ہے ۔۔
ریڈ کلر کے نائٹ ڈریس پہنے بکھرے بال معصوم سی شکل لیے آنیہ کچن میں آتی کرن کو آواز دیتی بولی تھی ۔۔۔
جی ماما کی جان آٶ میرا بیٹا میں کھانا دو ۔۔۔
کرن اسے گلے لگاتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ج۔جل۔جل۔جلدی کر۔کرے ماما ہیرو سے بات کرنی ورنہ وہ غصہ کرے گے ناشتہ لیٹ کیوں کیا ۔۔۔
آنیہ بنا منہ دھوۓ بیٹھتی بولی تھی۔۔
ہاہاہاا۔۔۔
کرن اس کی حرکت پر قہقہ لگاتی مسکراتی ہوئ کچن میں چلی گی تھی ۔۔۔
آنیہ کا سارا خیال روحان اتنی دور رہ کر خودی رکھتا تھا ۔۔۔
ناشتہ لنچ ڈنر سب چیزوں کا خیال وہی کرتا تھا ۔۔
آنیہ سب کچھ مانتی تھی جیسے روبوٹ ہو اس کی ۔۔
ابھی بھی ناشتہ کرتے اسے ڈر تھا روحان کا فون آنے والا تھا ۔۔۔
ج۔جی بولے ۔۔
آنیہ کو ملازمہ اس کے ہاتھ میں فون دے کر جا چکی تھی جب روحان ویڈیو کال آ رہی تھی ۔۔۔
تبھی منہ میں پراٹھے کا نوالہ رکھتی وہ اٹکتے بولی تھی ۔۔۔
آنیہ کو عادت تھی اٹکتے ہوۓ بولنے کی تبھی وہ سب سے ایسے ہی بات کرتی تھی ۔۔
پہلے ناشتہ فینش کرو آرام سے ۔۔
روحان سکون سے اسے دیکھتا بولا تھا۔۔
ج۔جی اچھا۔۔
آنیہ نے جلدی سے نوالے کھاتے بولی تھی ۔۔
دیکھاٶ منہ کھول کر سب کھا لیا۔۔۔
روحان نے اب اگلا حکم دیا تھا ۔۔
ک۔کیا ۔ہے ہیر۔ہیرو میں بچی ۔نہیں ہو ۔۔
آنیہ منہ کھولتے اسے دیکھاتی اب روٹھے لہجے سے بولی تھی ۔۔
صحت کا خیال بھی رکھنا چاہے میری جان۔۔۔
روحان پیار سے چور لہجے سے بولا تھا۔۔
وہی میری جان لفظ سنتی سرخ گال لیتی شرماتے ہوۓ روم میں بھاگ گی تھی ۔۔
فون وہ وہی صوفے پر گرا چکی تھی ۔۔
ہاہااہا باربی ۔۔
روحان اب آف سکرین کی طرف دیکھتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔
ڈاکٹروں کے مطابق آنیہ ایج کے حساب سے صحت کے حوالے سے کافی ویک تھی ۔۔
تبھی روحان روزانہ اسے ایسے ہی کھانا کھلاتا تھا۔۔۔
میری بیٹی کتنی خوش ہے خان۔۔
کرن گل خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
خوش تو ہو گی روحان محبت بھی اتنی کرتا ہے آنیہ سے اور ویسے بھی یہ میری خانم جیسی پیاری ہے ۔۔
گل خان کرن کے ہاتھ پکڑتے اس پر لب رکھے بولے تھے ۔۔
میں کہاں پیاری میں تو اتنی بری تھی اور ڈر بھی یہی تھا کہی روحان میری بیٹی کو دکھ نہ دے لیکن اب تو آنیہ روحان کی اتنی محبت پاتے ہمیں ہی بھول گی ہے ۔۔
کرن افسردہ ہوتی بولی تھی ۔۔
کوئ بات نہیں خانم ہم آنیہ کا بہن بھائ ل۔۔۔
توبہ توبہ خان اتنے بے شرم ۔۔۔
بیٹی بڑی ہو گی ہماری ۔۔
گل خان موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بول رہے تھے ۔
جب کرن سب سمجھتی سرخ چہرہ لیے اسے مکہ مارتی کہتی کچن سے باہر چلی گی تھی ۔۔
————————————————————
فکر مت کرو کام ہو جاۓ گا ریلکس ہو جاٶ۔۔۔
روحان کال پر زینیہ سے بات کرتا بولا تھا۔۔
میں جنت آپو سے مدد لیتی پر تم جانتے ہو وہ غصے کی کتنی تیز ہے ۔۔
زینیہ زرا ریلکس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
سبحان کو کہہ دیتا ہو وہ تمہارے ساتھ رہے گا ۔۔
اگر زرا سا بھی کچھ غلط لگا تو فورًا وہی کرنا جو کہا میرے آدمی آ جاۓ گے ۔۔
روحان اسے ہداہت دیتا بولا تھا ۔۔
جنت کی طرح اسے زینیہ پلوشہ حجاب سب عزیز تھی ۔۔۔
لیکن سبحان کیوں ایسے تو سب کو شک ہو جاۓ گا ا۔۔
اچھا چھوڑو یہ بتاٶ آنی کدھر ہے ۔۔
روحان بات چینج کیے بولا تھا۔۔۔
میں ناراض ہو تم سے ایسا بھی کرتا ہے آپو کو روز فون کرتے ہو مجھے نہیں کرتے۔
حنین فون لیتی ایک ہی سانس میں بولی تھی ۔۔۔
زینیہ اپنے روم میں چلی گی تھی کیونکہ وہ زیان سے بات کرنے آئ تھی ۔۔
جو واک پر گے ہوۓ تھے ۔۔
ہاۓ میری اتنی پیاری آنی ناراض ہو گی چلے پھر چاکلیٹ نہیں بھی۔۔۔۔
تم سے ناراض ہو چاکلیٹ سے نہیں ۔۔
روحان بول رہا تھا جب حنین چاکلیٹ کی دیوانی جلدی سے بولی تھی ۔۔
ہاہاہااہا چلے آپ ناراضگی ختم کرے باقی خالو آپ کو پیار دے گے ۔۔۔
روحان اس کے پیچھے کھڑے زیان کو دیکھتا بات کرتا فون بند کر چکا تھا۔۔۔
ہاے میں تو مانی ہی نہیں اففف ی۔۔۔
اہہہہ۔۔۔
حنین ابھی سوچ رہی تھی جب زیان نے آہستہ سے اس کو کمر سے پکڑا تھا ۔۔
تبھی وہ ڈرتی چلائ تھی۔۔
روحان کتنا اچھا بیٹا ہے کاش ہمارا بھی بیٹا ہوتا آپ نے بھی بس زینیہ کے لیے مانے تھے ۔۔۔
حنین زیان کی طرف رخ کرتی اداس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
میری پوری زندگی تم ہو اور رہ گی زینیہ وہ ہمارے لیے کافی ہے بیٹا تو عمار ہے ہمارا تو دوسرے کی کیا ضرورت تھی ۔۔
زیان آرام سے اپنی انگلی حنین کے چہرے پر پھیرتے سکون سے بولے تھے ۔۔۔
ہاے میں بھی بھول گی میرے بیٹے نے آلو کے پراٹھے کھانے ہے چھوڑے مجھے۔۔۔
حنین اچانک زیان کو چھوڑتی باہر کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔
ارے جان روکو میں لے کر جاتا ہو۔۔
زیان اس کے پیچھے آتے مسکراتے بولے تھے ۔۔
آپ پیچھے آۓ تو بس بھول جاۓ پراٹھے بنے گے ۔۔
حنین جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔
———————————————————–
بات ہو سکتی ہے ۔۔
آذان آج بابر کے گھر آیا تھا تبھی حجاب کے روم میں آتا اجازت لیتا بولا تھا۔۔۔
ہاں آو اجازت کی کب ضرورت پڑی ۔۔
حجاب اپنے بیڈ سے کھانے پینے کی چیزیں اٹھاتی بولی تھی ۔۔
و۔وہ م۔۔
یہ بتاٶ کیا کھاٶ گے جلدی۔۔۔
آذان بول رہا تھا جب حجاب جلدی سے سب چیزیں سامنے رکھتی بولی تھی ۔۔
یہ چاکلیٹ ا۔۔
اچھا بتاٶ کیا کہنے آۓ تھے ۔۔
آذان نے چاکلیٹ آٹھائ تھی جب حجاب وہی لیتی اپنے منہ ڈالتے بولی تھی ۔۔
شادی کر لیتے ہے میں سوچ رہا۔۔۔
آذان اس کی حرکت دیکھتا مسکراہٹ روکے اپنا سر پر ہاتھ مارتے بولا تھا ۔۔
ہاں کر لو شام کو رخصتی کروا لو۔۔
حجاب ابھی بھی چاکلیٹ کھاتے لاپرواہی سے بولی تھی ۔۔
تو وہ س۔۔۔
آذان پوچھ رہا تھا جب حجاب نے اسے رات والا پلان بتایا تھا۔۔۔
پکا اپنی موت کا پروانہ لکھا ہے تم سب نے ۔۔۔
جانتی ہو اگر روحان کو پتہ چلا یہ سب اسے پاکستان لانے کی سازش تھی پھر۔۔۔
آذان بھی سب بھولتا شوک ہوتا بولا تھا۔۔
آنیہ ہے وہ بچا لے گی ۔۔۔
حجاب ریلکس ہوتی بولی تھی ۔۔
ہاے کتنا ایٹٹیوڈ ہے تم سب میں اللہٌہی حافظ ہے ا۔۔۔
کہاں جا رہے تم ۔۔
آذان جلدی سے بیڈ سے اٹھتا بول رہا تھا جب وہ حیران ہوتی بولی تھی ۔۔
موت کا فرشتہ آنے والا سوچا تیار ہو جاٶ۔۔۔
آذان جل کر کہتا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
س۔س۔
بولو فیل ہوئ کہ پاس۔۔۔
ڈائمن کو پرنسپل کا فون آیا تھا جب وہ ڈرتا بولتا جب ڈائمن دو ٹوک بولا تھا ۔۔
ج۔جی فیل ہو گی ا۔۔
۔۔
پاس کرو اسے ٹاپ پر آۓ ایک نمبر بھی کم نہی ہونا چاہے ورنہ تمہاری سانسوں کی گنتی کم ہو جاۓ گی ۔۔
انعام مل جاۓ گا تمہیں ۔۔
پرنسپل اپنا پیسنہ خشک کرتا بول رہا تھا جب وہ پھر سردپن سے بولا تھا ۔۔
ل۔لیکن سر کی۔کیس وہ بلکل فیل
ہے ایک بھی پیپر نہیں ٹھ۔۔۔
تم پرنسپل کیسے بن گے ہاتھ ہے اپنے ہاتھوں سے لکھو پیپر چھوڑو تم مت لکھنا اتنا برا لکھتے ہو ایسا کرو میں اپنے آدمی بھیج رہا ہو وہ لکھے گے ۔۔
پرنسپل بول رہا تھا جب ڈائمن پھر بولتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔
پاگل ہے کیا جس استاد نے پڑھایا اسے ہی دمھکی دی گی ۔۔
پرنسپل سکون کا سانس لیتا خودی بولا تھا۔۔
انہہہ اہہہ۔۔
ابھی وہ سکون سے کھڑا تھا جب چار پانچ آدمی پرنسپل آفس گھسے تھے ۔۔
ان سب کو دیکھتے وہ چلاۓ تھے ۔۔
ڈائمن سر نے بھیجا ہے ۔۔
اب دس پندرہ آدمی اندر آتی رعب سے بولے تھے۔۔
ڈائمن ہے یا ہوا جو منٹوں میں تم سب کو بھیج دیا ۔۔
پرنسپل شوک ہوتا برا سا منہ بناۓ ان سب کو صوفے پر بیٹھاۓ اب ایک ایک پیپر دیتا بولا تھا ۔۔۔
اسے غصہ تھا جس انسان کو پڑھا لکھا کر بڑا کیا آج وہی ان کی جان نکالنے پر آیا تھا ۔۔
اس پیپر پر نام کیوں نہیں لکھا۔۔
تقربیاً تین گھنٹے بعد پرنسپل پیپرز لیتا اس پر نام نہیں لکھتے دیکھ غصے سے بولا تھا ۔۔
وہ کب سے برداشت کر رہا تھا ان ہٹے کٹے پہلوانٶں کو جو بیٹھے پیپر لکھ رہے تھے ۔۔
پیپرز چیک کرو اور نمبر لگاٶ نام کی پرواہ مت کرو وہ ہم دیکھ لے گے ۔۔
ان میں سے ایک آدمی اسے گردن سے دبوچتے ہوۓ بولا تھا ۔۔
یہ ڈائمن سر نے انعام دیا ہے ۔۔
دوسرا آدمی اسے ایک بوکس دیتا بولا تھا ۔۔
جس میں بہت ہی خوبصورت ڈائمنڈ کا پین تھا جس پر ہزاروں ڈائمنڈز لگے اپنی قیمت بتا رہے تھے ۔
پرنسپل وہی خوش ہوتا چپ ہو گیا تھا ۔۔
ہر سال ایسے ہی ہوتا تھا جب بھی وہ فیل ہونے لگتی ڈائمن پرنسپل کے پاس آپنے آدمی بھیج کر اسے ٹاپ کروا دیتا اور بدلے میں اسے ڈائمنڈ کے پین دیتا تھا ۔۔
————————————————————
ہاے پنک روز کیسی ہو۔۔
روحان روحا کو فون کرتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔
کب آٶ گے ۔۔
روحا اس کی بات اگنور کرتی اپنی کہی تھی ۔۔۔
جلدی آ جاٶ گا موم آپ فکر مت کرے ۔۔
روحان سنیجدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
خیال رکھتے ہو اپنا۔۔
روحا فکر مند ہوتی بولی تھی ۔۔
ہمممم آپ کیسی ہے ماما۔۔۔
روحان اسی سے الٹا سوال کر چکا تھا ۔۔۔
کیسی ہونا چاہے اس ماں کو جس کے سارے بچے بکھرے ہو ۔۔۔
روحا آبدیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔
تمہیں شرم نہیں آتی میری پنک روز کو رولا دیا ۔۔
پاکستان آٶ ٹانگیں توڑ دو گا ۔۔۔
ہارون خان روم میں آتے روحا سے فون لیتے زرا سختی سے بولے تھے ۔۔
ارے بابا پنک روز کہہ رہی تھی آپ ان سے محبت نہیں کرتے اور وہ میرے پاس آنا چاہتی ہے ۔۔
روحان سمجھ گیا تھا ہارون نے بس روحا کا موڈ ٹھیک کرنے کےلیے کہا تھا ۔۔۔
تبھی مذاق کرتا بولا تھا ۔۔
میری پنک روز کیسی نہیں ہے تم یہ چھوڑو یہ بتاٶ کام کیسا ہو رہا ۔۔۔
ہارون بھی سیریس ہوتا بات چینج کرتا بولا تھا ۔۔
کام بلکل ٹھیک ہے اور ہاں یاد آیا زینیہ کو سکیورٹی چاہے آپ اس کا انتظام کروا دے ۔۔۔
روحان کچھ یاد کرتا جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
آئ جی کی بیٹی ہے زیان کروا دے گ۔۔۔
بابا دانین اور روحاب کے ساتھ جو ہوا میں نہیں چاہتا اب ہماری فمیلی کی کسی بیٹی کے ساتھ ایسا ہو آپ کروا دے ۔۔۔
ہارون خود کافی سیریس ہوتے بول رہے تھے جب روحان کہتا فون بند کر چکا تھا ۔۔۔
ک۔کیا کہتا روحان کیا مان گیا آنے کے لیے ۔۔۔
روحا جلدی سے ہارون کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں میری جان وہ کہتا جلد ہی پاکستان آۓ گا ۔۔۔
ہارون روحا کا ماتھا چومتے مسکراتے ہوۓ جھوٹ بولا تھا ۔۔
ہاۓ سچی میں آپنے بیٹے کے لیے مزے والے کھانے بناٶ گی دیکھنا آپ میں اسے واپس نہیں جانے دو گی ۔۔۔
روحا جلدی سے روم سے باہر جاتی بول تھی ۔
جب ہارون نے اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔
بیٹے سے پہلے شوہر کا خیال کر لے پنک روز ۔۔۔
ہارون نرمی سے روحا کے لبوں کو چومتے بولے تھے ۔۔
بچے بڑے ہو گے لیکن آپ بے شرم ہی رہے گے ۔۔
روحا روٹھے پن سے کہتی اب بیڈ پر جا کر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔
اچھا صبح وہ بلیک ساڑھی پہنا تم خوبصورت لگتی ہ۔۔۔
آپ کا کیا ہے میں تو اس نائٹ شرٹ میں بھی خوبصورت لگتی ہو ۔۔۔
روحا کے پاس آتے ہی ہارون ان کی گود میں سر رکھتے اس کے ہاتھوں کو پکڑتے بول رہے تھے جب روحا ان کا ماتھا چومتی بولی تھی ۔۔۔
تم تو ویسے ہی بڑی خوبصورت ہو پنک روز۔۔
ہارون روحا کی گردن کو اپنی طرف جھکاتے بہکے ہوۓ انداز سے بولے تھے ۔۔۔
بے شرم۔۔۔
روحا ان کو اپنے سینے سے لگتی آنکھیں بند کرتی لیٹتی بولی تھی ۔۔
روحا کا گھبرانا شرمانا ہارون کو آج بھی پاگل کر دیتا تھا ۔۔۔
———————————————————–
م۔ما۔ماما میں پاس۔ہو گی ۔۔۔
اگلے دن صبح صبح آنیہ چہکتی ہوئ کرن کے روم میں آتی بولی تھی ۔۔
دیکھا میرا بیٹا کتنا لائق ہے کتنی محنت کی میرے بیٹے نے ۔۔
گل خان آنیہ کو آپنے پاس بلاۓ سینے سے لگاتے پیار سے
بولے تھے وہ جانتے تھے یہ کام بھی کس ہے ۔۔۔
م۔می۔میں۔نے بہ۔بہت محنت کی تھی بابا ۔۔۔
آنیہ ابھی تک بے یقین تھی کیسے وہ ہر سال پاس ہو جاتی تھی ورنہ اس کے حساب سے اس کے سارے پیپرز خراب ہوتے تھے ۔۔
ٹ۔ٹاپ کیا میں نے بابا ۔۔۔
آنیہ پھر خوش ہوتی چیختے بولی تھی ۔۔۔
ہاں میرا بیٹا بہت محنت کرتا تھا تبھی ۔۔
کرن اس کا ماتھا چومتی ہوئ مسکراہٹ روکے بولی تھی ۔۔۔
جانتی تھی پڑھائ کا نام سن کر آنیہ کی جان جاتی تھی ۔۔
پارٹ۔ٹی پارٹی کرے گے اب ۔۔۔
آنیہ خودی پلان بناتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ضرور یہ حجاب کی شادی ہو جاۓ اس کے بعد۔۔۔
گل خان خوش ہوتے پیار سے بولے تھے ۔۔
————————————————————
آے آنی آپ یہاں آئ ۔۔
سبحان اپنے گھر روحا کو انٹر ہوتا دیکھ خوش ہوتا بولا تھا ۔۔
و۔وہ ہارون آفس چلے گے جنت بھی گھر نہیں رہتی اتنے سارے نوکروں کے ساتھ رہتے دم گھٹتا تھا بس اپنی پیاری بہن سے ملنے آ گی ۔۔
کہاں ہے علیزے ۔۔۔
روحا صفائ دیتی بولی تھی ۔۔۔
ریڈ کلر کی خوبصورت ساڑھی پہنے بنا میک اپ براٶن بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا کیے اپنے خوبصورت چہرے پر دھمیی سی مسکراہٹ آنکھوں میں اداسی لاۓ وہ سبحان کے سامنے نروس سی کھڑی تھی۔۔۔
ارے آنی آپ کا ہی گھر ہے آۓ اور ماما بابا تو مال گے شاپنگ ک۔۔۔
اچھا میں جاتی ہو پھر ۔۔۔
سبحان کو بے حد ان پر پیار آیا تھا تبھی اسے کندھوں سے پکڑتے ہال میں لاتے وہ مسکراتا بولا رہا تھا جب روحا جلدی سے بولی ۔۔
کیوں ہم آپ کے بچے نہیں کیا ۔۔۔
سبحان روٹھے پن سے بولا تھا ۔۔۔
تم تو بہت پیارے بیٹے ہو میرے ۔۔۔
روحا اس کا ماتھا چومتے بولی تھی ۔۔
ہاہاہاہاہہا آنی اگر ہارون انکل اور روحان کو پتہ چل گیا اس کی پنک روز نے مجھے کس کیا تو پکا میری موت ۔۔۔
آپ حجاب کے پاس جاۓ میں کافی بنا کر لاتا ہو آپ کو پسند ہے ۔۔۔
سبحان قہقہ لگاتا ہوا بولتا ہوا کچن کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
شکر ہے آنی آپ آ گی ۔۔
روحا ابھی اندر آی تھی جب حجاب جلدی سے خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا کوئ پریشانی ہے ۔۔
روحا خود پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں جلدی سے بتاۓ میں کون سی چاکلیٹ کھاٶ۔۔۔
حجاب اس کے سامنے کافی زیادہ چاکلیٹس کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہہاہااہاہااہاہ ۔۔۔
روحا کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
یہ لے آنی کافی ہارون انکل اور روحان جیسی تو نہیں بنائ لیکن مزے کی ہو گی ۔۔۔
سبحان کافی کے مگ لاتا روم میں آتا روحا حجاب کو دیتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں تمہارے ہاتھ کی ہمیشہ کافی روحاب کو پسند ت ۔۔۔۔
روحا خوش ہوتی بولتی ایکدم چپ کر گی تھی ۔۔۔۔
یہ دیکھے آنی یہ کم موٹی ہے جو اور زیادہ ہو گی ۔۔۔
سبحان سب سکتا تھا روحا کی حالت کو تبھی بات بدلتا حجاب کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔
جو کافی کے ساتھ چاکلیٹ کھا رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا۔۔۔
روحان اپنے آفس بیٹھا تھا جب اسے پلوشہ کا فون آیا تبھی دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔
و۔و
جلدی بولو گی کام ہے مجھے۔۔
پلوشہ کی تو ہمیشہ روحان کی خوبصورت آواز سن کر بولتی بند ہو جاتی تھی تبھی روحان سردمہری سے بولا تھا ۔۔۔
جنت اغوا ہو گی ہے ۔۔
پلوشہ ایک ہی سانس میں بولی تھی ۔۔
اچھا مذاق ہے کسی میں ہمت نہیں ہارون خان کی بیٹی کو ہاتھ لگا سکے ۔۔
عیجب پاگل لڑکی ۔۔۔
روحان اپنی کہہ کر فون بند کر چکا تھا ۔۔۔
رنگگگ۔۔۔
روحان ابھی لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا ۔۔۔
جیسے ہی اس نے موبائل آن کرتے ہی سامنے ویڈیو دیکھتا آن کر چکا تھا ۔۔
جیسے جیسے ویڈیو چل رہی تھی روحان کے دماغ کی نیس پھٹنے والی ہو گی تھی ۔۔۔
زندگی میں دوسری دفعہ ہو گھبرایا تھا کہ شاہد اب ماضی دوہرایا نہ جاۓ ۔۔۔
ویڈیو میں جنت زخمی شرٹ پھٹی منہ اور ناک سے خون آتا رسیوں سے جکڑی باندھی گی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہی تھی ۔۔۔
روحان پاگلوں کی طرح اپنے آفس سے نکلتا گاڑی میں بیٹھتا ائیرپورٹ کی طرف بھاگا تھا۔۔
اب اسے کسی بھی حال میں جنت کی عزت بچانی تھی ۔۔
ایک بہن کو کھو چکا تھا دوسری کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔
————————————————————
تم یہاں ہو یہ بڑے بڑے گیٹ تم جیسوں کے لیے ہی لگاۓ ہے ۔۔
رات کو ہارون گھر آیا تو اتنا سناٹا دیکھتا سیدھا کچن میں آیا تھا ۔۔
جب سامنے والے کو دیکھ ہارون نے برا سا منہ بناتے کہا تھا ۔۔
مسٹر ہارون خان وہ گیٹ آپ جیسوں کے لیے ہے میرے لیے نہیں ۔۔۔
وہ طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
ہاں ایک تم ہی عقل مند رہ گے ۔۔
ہارون خان جلتا ہوا بولا تھا۔۔
ارے شکریہ جو آپ جیسے مین آف دی بزنس مین کا آیورڈ لینے والے نے مجھ نا چیز کی تعریف کی ۔۔۔
وہ مسلسل منہ میں سگریٹ دباۓ زرا سر کو تھوڑا جھکاتے داد لینے والے انداز سے بولا تھا ۔۔۔
تمہارا قتل پکا اب۔۔
ہارون غصے سے چھڑی لیتے اس کی طرف بڑھے بولے تھے ۔۔۔
وہی وہ ابھی بھی سکون سے کھڑے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا ۔۔
