Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 7)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 7)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

آہہہہہ۔۔۔

ہارون کو باہر نکلے دیکھ کچھ آوارہ لڑکوں نے اس پر فائر کیا تھا تاکہ وہ ہارون خان کو لوٹ سکے ۔۔۔

اس سے پہلے وہ غنڈے نما لڑکے ہارون پر حملہ کرتے جب سفان خان نے غصے میں آتے ان سب پر شوٹ کیا تھا۔۔۔

تبھی وہ سب بزدلوں کی طرح ڈر کر بھاگے تھے ۔۔۔

شکریہ بیٹا آپ کا۔۔۔۔

ہارون اس کے پاس آتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔

ارے سر یہ تو فرض تھا میرا آۓ کہاں جا رہے تھے آپ۔۔۔

سفان اپنی گرین آنکھوں سے مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

اووو اپنی پنک روز سے بات کرتے کرتے یاد ہی نہیں رہا کہاں آ گیا۔۔۔

ہارون آس پاس دیکھتے بولے تھے وہ اب ایک سنسنان جنگل نما جگہ پر چلتے چلتے آ چکے تھے ۔۔۔

کوئ بات نہیں آۓ آپ میں چھوڑ دیتا ہو۔۔۔۔

بیٹا آپ کو شاہد کہی دیکھا ہے میں نے۔۔۔۔

ہارون ساتھ چلتے دھیمی مسکراہٹ لاۓ بولے تھے ۔۔۔

ایسا ہی میں بھی سوچ رہا آپ کو کہی دیکھا ہے ۔۔۔

سفان بھی گہرا سوچتا بولا تھا۔۔۔

ہممممم چلو میں نے یہاں سے ائیرپورٹ جانا ہے ۔۔

پاکستان جاٶ میری پنک روز اداس ہو گی۔۔

ہارون ساتھ چلتے رکتے بولے تھے ۔۔

ہممم پاکستان میں نے بھی جانا ہے اکھٹے چلتے ہے ۔۔

میں یہی سے گزار رہا تھا جب آپ کو جاتا دیکھا تبھی آ گیا ہے ۔۔۔۔

سفان اپنی گاڑی کا دروازہ ان کے لیے کھولتا بولا تھا۔۔۔

بہت خوبصورت بچے ہو خوش نصیب ہو گے وہ ماں باپ جس کی اولاد ہو۔۔۔

ہمممم شاہد۔۔۔

سفان نے ٹوٹے دل سے کہا تھا۔۔۔

ہارون نے زیادہ توجہ نہیں دی تھی وہ روحان کو فون کرنے میں بزی تھے۔۔۔

————————————————————

مبارک ہو عین ۔۔۔

آدھی رات کو عمار آنیہ کے روم میں آتا گفٹ دیتا بولا تھا۔۔۔

ت۔تم۔کیوں۔آ۔ گ۔۔۔

بہت بہت شکریہ باربی کو گفٹ پسند آیا۔۔۔

آنیہ ڈرتی ہوئ عمار کو دیکھتی بول رہی تھی جب اچانک وہاں روحان آتا گفٹ لیتا دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

تم کیوں آ گے یہ۔۔۔۔

تم کیوں آ گے جانتے ہو اس ٹائم باربی سوتی ہے منہ اٹھا کر آ گے۔۔۔

عمار بدمزہ ہوتا بول رہا تھا۔۔۔

جب روحان شدید غصے سے چلایا تھا۔۔۔

وہ ہارون کی بات فون پر سن چکا تھا ہارون نے اسے بتا دیا تھا ٹھیک ہے اور پنک روز کو مت بتاۓ وہ آ رہے ہے ۔۔۔

تبھی وہ روحا کو نیند کی دوائ دیتا آنیہ کو دیکھنے اس کے روم میں آیا تھا۔۔۔

روحان کے روم کا بیک ڈور آنیہ کے روم سے نکلتا تھا ۔۔۔

میں بس گفٹ دینے آ ۔۔۔۔

باربی کو گفٹ پسند آیا ہے اب جاٶ ۔۔۔

باربی کو نیند آ رہی۔۔۔

۔ہ۔ہا۔ن۔جاو۔۔۔

روحان عمار کو جواب دیتا پھر آنیہ کو گھورتے بولا تھا۔۔۔

تبھی وہ جلدی بیڈ پر جاتی بولی تھی ۔۔۔

تمہاری آنکھوں کے سامنے سے لے کر جاٶ گا عین کو دیکھتے رہ جاٶ گے۔۔

عمار دانت پیستے ہوۓ روحان کے کان میں سرگوشی کرتے بولا تھا۔۔۔

ضرور۔

روحان طنزیہ مسکراہٹ لاۓ ایک لفظ بولا تھا۔۔۔

جبکہ ڈر سے کانپتی آنیہ بیڈ پر کمبل لے کر لیٹ چکی تھی ۔۔۔۔

ت۔تم نے سونا نہیں کیا۔۔۔

کافی دیر عمار کے جانے کے بعد بھی جب آنیہ آنکھیں بند کیے لیٹ گی تبھی پاس بیٹھے صوفے پر روحان کو دیکھتی گھورتی بولی تھی ۔۔۔

جانتی تھی جب تک وہ سو نہیں جاۓ گی تب تک جاگتا رہے گا۔۔۔۔

تم سلاٶ گی مجھے۔۔۔

روحان اس کی سرخ سفید گردن دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں آ جاٶ یہاں پر۔۔۔

آنیہ نیند سے بند ہوتی آنکھیں کھولتی بیڈ پر ہاتھ مارتی بولی تھی ۔۔۔

ابھی ٹائم نہیں آیا جب آے گا سب سلا دینا۔۔۔۔

روحان اسے دیکھتا اپنے روم کے ڈور کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔

ہاے م۔میرا۔سانس۔۔۔

آنیہ گہرا سانس لیتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ اس کے ناک میں روحان کے پرفیوم کی خوشبو گی تھی تبھی وہ شرماتی اب لیٹ چکی تھی۔۔

————————————————————

آٹھو یار۔۔۔

یہاں ہماری فیس جمع ہونی ہے آ جاٶ یار۔۔۔

صبح پلوشہ گہری نیند سو رہی تھی جب اسے زینب کا فون آیا تبھی ہربڑاتے ہوۓ اٹھی تھی ۔۔۔

ہاے مارے گے یار اچھا رک میں آتی ہو۔۔۔

پلوشہ ویسے ہی بکھری حالت میں اٹھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں جلدی آ لائن ہی کافی ہے ۔۔۔

زینب سے کہا کر فون بند کر چکی تھی۔۔۔

————————————————————

پنک روز بتاٶ کیسی لگ رہی میں۔۔۔

جنت روحا کے روم میں آتی تیار ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں ریڈ ٹاپ کے ساتھ بلیک جینز پہنے باب کٹ بال بنا میک اپ کیے وہ ہاتھوں میں گن لیتی کھڑی تھی ۔۔۔

گن پر ڈائمنڈ سے جے لکھا تھا۔۔۔

افففف بیٹا ایسے کپڑے نہیں پہنتے کل کو تمہاری شادی ہو گی بیٹیاں ایسی اچھی نہیں لگتی کل کو تمہارا اپنا گھر ہو گا یہ گھر نہیں رہے گ۔۔۔

افففف ماما میں بابا کو کہہ کر یہی رہ لو گی پھر تو یہ گھر

میرا ہو گا ۔۔

روحا پریشان ہوتی پاس آتی بول رہی تھی جب جنت انہیں کمر سے پکڑتے آرام سے بولی تھی ۔۔۔

سب سے بڑی ہو ایج دیکھو حجاب چھوٹی ہو کر شادی شدہ والی بن گی بیٹا تمہاری شادی ہو تاکہ اپن۔۔۔

ماما میں شادی خودی کر لو گی ایسے لڑکے سے جو گھر داماد بن جاۓ ۔۔۔

پھر ہمیشہ آپ کے پاس رہو گی ۔۔۔

بات ختم اتنی پریشان مت ہو ورنہ مسٹر ہارون خان ہم معصوم بچوں کو گھر سے نکال دے گے یہ کہہ کر ہم ان کی پنک روز کو پریشان کرتے ہے۔۔۔

روحا پھر بول رہی تھی جب جنت انہیں پرسکون کرتی بات کہہ کر وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔

روحا نے سر پکڑا تھا کیسے بچے ملے تھے اس کو جو زرا بات نہیں مانتے تھے ۔۔۔

————————————————————

ہاۓ اتنی لمبی لائن ۔۔۔

پلوشہ ٹاپ جینز پہنے تیار سی یونی میں آی تھی جب ایڈمن بلاک کے آفس پر لڑکے لڑکیوں کی اتنی لمبی لائن دیکھ کر چلائ تھی ۔۔۔

تم جلدی نہیں آ سکتی تھی اب کھڑی رہو۔۔۔

زنیب شدید غصے سے بولی تھی ۔۔۔

یار تیار ہو رہی تھی اچھا سوچ کیا کرے۔۔۔

پلوشہ اتنا رش دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں میں جیسا کہو ویسا ہی کرنا۔۔۔

پلوشہ کچھ سوچتی چیختے بولی تھی ۔۔۔

میں ایسا ب۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ اہہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

زنیب سارا پلان سنتی بول رہی تھی جب پلوشہ زمین پر لیٹتی چیخی تھی ۔۔۔

ہاے میرا پیٹ ہاے میں مر گی۔۔۔۔

پلوشہ اپنا سر پکڑے لیٹتے بولی تھی ۔۔۔

جہاں سب لڑکے لڑکیاں کھڑے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ہاے میں مر گی ہاے میری فیس ضائع ہو جانی ۔۔۔

پلوشہ اپنی ایک آنکھ کھولتے آس پاس رش دیکھتی پھر چلائ تھی ۔۔۔

بس کر ڈرامہ سامنے دیکھ سر شاہ زین آ رہے پاگل عورت۔۔۔

کافی دیر پلوشہ یہ ڈرامہ کرتی رہی سب جانتے تھے وہ ایسے ہی کام کرتی تھی تبھی کچھ اگنور کیے تو کچھ وہی کھڑے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

اپنی کار سے نکلتا شاہ زین نے سامنے سے منظر دیکھا تھا تبھی بھاگتا ہوا وہ آیا تھا پاس۔۔۔

کیا ہوا پلوشہ ۔۔

شاہ زین سب پیچھے کرتا پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

ہاے کالے بندر تم کہاں سے آ گے ۔۔۔

پلوشہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

ہوا کیا ہے۔۔۔

شاہ زین اگنور کرتا نرم لہجے سے پوچھا تھا۔۔۔

پیٹ میں درد ہو رہا اور فیس بھی جمع کروانی ا۔۔۔۔

اٹھو یہاں سے پیٹ یہ ہوتا ہے سر نہیں اور ہاں فیس جمع نہیں ہو گی تمہاری۔۔۔

شاہ زین اپنی مسکراہٹ روکے پلوشہ کا ہاتھ پکڑتے اسے اٹھاتے بولا تھا۔۔۔

سمجھ گیا تھا اس نے یہ تماشہ کیوں کیا۔۔۔۔

انہہہ کالے بندر سارا کھیل خراب کر دیا ۔۔۔

پلوشہ اپنا ٹاپ جینز پر لگی مٹی کو صاف کرتی منہ بناۓ بولی تھی۔۔

کلاس میں آ جانا ۔۔۔

شاہ زین سکون سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

————————————————————

دیکھو سر میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں جلدی سے پلوشہ کی فیس جمع کرو۔۔۔

جنت اریج پلوشہ ایڈمن بلاک کے سر کے آفس آے تھی پلوشہ نے جب دیکھا ایسا کچھ کرنے سے فیس جمع نہیں ہو گی تبھی جنت کو فون کرتی یونی بلا چکی تھی ۔۔۔

تبھی وہ ایک گھنٹے سے سر پر گن تانے دمھکی دیتی بول رہی ۔۔۔

جبکہ سر کا ایک ہی جواب تھا وہ ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔

دیکھو بیٹا پلوشہ کی فیس جمع ن۔۔۔

کیوں نہیں ہو سکتی تم بڑے ہو ورنہ ابھی گولی سے اڑا دیتی ۔۔۔

مسلسل دماغ خراب کر دیا تم نے ۔۔۔

سر ڈرتے بول رہے تھے جب جنت بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ پلوشہ کی فیس ہمیشہ برہان سر یا بلاج جمع کروا دیتے ہے ویسے بھی یہ یونی شاہ زین خان کی ہے تو انہوں نے پہلے ہی فیس جمع کروا دی تھی ۔۔۔

سر بامشکل ساری بات بولے تھے ۔۔۔

ہاےےےے یہ تم پہلے نہیں بتا سکتے تھے میرا ٹائم ویسٹ کر دیا ۔۔۔

جاٶ اب کافی بچوں کی فیس رہتی ہے وہ دیکھو۔۔

جنت پلوشہ کی طرف دیکھتی دانت پیستی ہوئ سر کے کندھے پر ہاتھ رکھتی بولتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

جنت ہارون خان کی دہشت سے سارے لڑکے لڑکیاں ڈرتے ویسے کھڑے سب دیکھ رہے ۔۔۔

ہاے جان بچ گی۔۔۔

سر شکر ادا کرتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

انہیں ڈر تھا کہی جنت ان کو گولی نہ مار دے۔۔۔۔

————————————————————

جیسا تم نے مجھے سب بتایا ہے تو اس کا حل کیا ہے ۔۔۔

زنیب پلوشہ کی ساری بات سنتی کیٹین پر بیٹھی بولی تھی ۔۔۔

بابا کے بزنس سے جان چھڑوانی ہے تو مجھے شادی کرنی ہو گی تاکہ میری جان چھوٹ جاۓ۔۔

پلوشہ لیز کھاتی بولی تھی ۔۔

ہاں تو کر لو شادی کسی بھی لڑکے سے تمہارے ایک اشارے پر سب تیار ہو جاۓ گے۔۔۔

زنیب اس کا خوبصورت چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

مسئلہ صرف یہی ہے شادی تو کسی سے ہو جاۓ گی لیکن کوئ ایسا ہو جیسے میں جب چاہو تب طلاق دے مجھے میں تو بس بابا کے بزنس سے جان چھڑاونا چاہتی ہو۔۔۔۔

پلوشہ اصلی مسئلہ بتاتی بولی تھی ۔۔۔

ہممممم۔۔۔پھر تو ایسا بندہ نہیں مل سکتا جو مل جاۓ ۔

تم ایسے لڑکے سے شادی کرو جو تمہارے جیسا امیر نہ ہو اور اتنا خوبصورت بھی نہ ہو تاکہ جب تم کہو تب وہ طلاق دے تمہیں۔۔۔

زنیب گہری سوچ میں ڈوبی بولی تھی ۔۔۔

کہاں سے ڈھونڈ لو میں ا۔۔۔

میں بتا سکتی ہو اگر تم سن لو۔۔۔۔

پلوشہ بول رہی تھی جب زنیب جلدی سے کرسی سے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں بول تاکہ میں شادی کر سکو۔۔۔

پلوشہ بے تاب ہوتی بولی تھی۔۔۔

شاہ زین سر سے شادی کر لو دیکھو یونی کے اونر ہونے کے باجود وہ خود ایک ٹیچر کی طرح سب کو پڑھاتے ہے ۔۔۔

ا۔۔۔۔

ییییککککککک۔۔۔۔

وہ کالا بندر اس کی طرف دیکھتے الٹی آتی ہے وہ میرے برابر کا نہیں ہے ۔۔۔

زنیب بول رہی تھی جب پلوشہ اکتاۓ ہوۓ لہجے سے بولی تھی ۔۔۔

یار خوبصورتی زیادہ اہم نہیں انسان کا خلاق اور دل اچھا ہونا چاہے ۔۔۔

مجھے شاہ زین جیسا ملتا تو ضرور شادی کرتی میں۔۔۔

زنیب بھی غصہ میں آتی بولی تھی ۔۔۔

تم ہی شادی کرو اس کالے بندر سے پلوشہ برہان نام ہے میرا اس کالے کی کیا اوقات ہے جو میرا شوہر بنے انہہہ۔۔۔

پلوشہ طش میں آتی کافی کا مگن زنیب کو مارتی بولی تھی ۔۔۔

جب زنیب پر کافی گرنے کی بجاۓ پیھچے کھڑے شاہ زین کے اوپر گری تھی ۔۔۔

اہہہہ۔۔۔۔

پلوشہ شاہ زین کو کافی میں بھیگے دیکھ بغیر شرمندہ ہوۓ پاس سے گزار کے چلی گی تھی ۔۔۔

شاہ زین اپنے بارے میں اتنی باتیں سنتا صرف مسکرایا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

میم آگے ہم کیا کرے گے ہمارے پاس کوئ ثبوت نہیں ہے شاہ میر خانزادہ کتنا بڑا کرپٹ ہے۔۔۔۔

زینیہ کورٹ کے کویڈور سے گزار رہی تھی جب ساتھ چلتا سکریٹری بھی ساتھ چلتا پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

زینیہ شاہ ایڈوکیٹ تھی غریبوں بے سہارا لڑکیوں کا کیس وہ لڑتی تھی ۔۔۔۔

جس بھی کیس میں اس نے ہاتھ ڈالا تھا اس میں کامیاب ہوئ تھی ۔۔۔

کچھ دن پہلے ایک کیس اس کے پاس آیا تھا شاہ میر خانزادہ نے اپنے ہی گھر کی نوکرانی کا ریپ کیا تھا۔۔۔

نوکرانی نے اپنے اوپر ہوۓ سارے ظلم زینیہ کے آفس آ کر بتایا تھا۔۔۔

کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی جو اس کے ساتھ ہوا اس کی کچھ سال کی بیٹی کے ساتھ بھی وہی ہو۔۔۔

زینیہ نے یہ کیس لے تو لیا تھا جبکہ شاہ میر خانزادہ دنیا کی نظر میں اچھا انسان تھا اس کے خلاف تک کوئ ثبوت نہیں آیا تھا۔۔۔

شاہ میر کی دمھکی سے اب نوکرانی بھی آج سناوئ میں مکر گی تھی اپنے بیان سے ۔۔۔۔

زینیہ کو اپنی ہار قبول نہیں تھی تبھی اس نے جج سے کچھ دن کا ٹائم لیا تھا۔۔۔

تبھی وہ سوچ رہی تھی کیا کرے۔۔

تم پریشان مت ہو میں روحان سے بات کرتی ہو۔۔۔

اس کیس میں زیان ہارون سبحان بابر روحان جنت سب اس کی مدد کر رہے تھے تاکہ زینیہ جیت جاۓ۔۔۔

ہاں روحان سب غلط ہو گیا یار وہ نوکرانی مکر گی اپنے بیان سے ا۔۔۔

فکر مت کرو گھر آو بات کرتے ہے اب جلدی سے گاڑی میں بیٹھو گھر آٶ آنی غصے میں گھوم رہی ہے۔۔۔

زینیہ وہی ماتھا مسلتی ہوئ بول رہی تھی جب روحان جلدی سے بولتا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔

توبہ ایک تو یہ بندہ بات بھی ایسے کرتا ہے جیسے ہوا کا جھوکا ہو۔۔۔

زینیہ فون کو روحان سمجھتی گھورتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

چچچچچ افسوس زینیہ دو نمبر کی وکیل کیس ہار رہی۔۔۔

زینیہ کورٹ کے باہر اتنی گاڑیوں میں گارڈز دیکھتی اپنی کار میں بیٹھ رہی تھی جب پیچھے سے اسے عمار کی آواز سنائ دی۔۔۔

اور تم کیا ہو دو نمبر کے سڑک چھاپ پولیس والے اسی انسان کی حفاظت کر رہے جو حیوان ہے ۔۔۔

زینیہ کو اپنا غصہ اتارنے کے لیے عمار مل گیا تھا تبھی وہ یونفارم پہنے وجہہ پرسنلٹی لے عمار کے سامنے آتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں کر رہا تمہیں اس سے کیا میں بس تمہیں وارن کرنے آیا ہو دور رہو اس کیس سے سمجھی۔۔۔

عمار اسے گھورتا سردپن سے بولا تھا۔۔۔

کیوں ڈر گے ا۔۔۔

ڈرتا نہیں ہو میں تم لڑکی ہو اور لڑکی کو اپنی عزت کی حفاظت کرنی چاہے ۔۔

زینیہ اسے طنزیہ نظروں سے دیکھتی بول رہی تھی جب عمار آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔

کیونکہ کافی لوگ زینیہ کو مسلسل گھور رہے تھے۔۔۔

مجھے اپنی عزت کی حفاظت کرنے آتی ہے بہتر ہو گا میرے کیس میں ٹانگ مت پھساٶ ا۔۔۔۔

تم ٹانگ کی بات کرتی ہو میں پورا کا پورا تمہارے کیس میں پھسا ہو دیکھتا ہو کیسے تم یہ کیس جیتی ہو ۔۔۔

زینیہ اسے دیکھتی پھر بول رہی تھی جب عمار اپنی بلیک گلاسز لگاۓ اسے کہتا شان سے اپنی کار میں جا کر بیٹھا تھا۔۔۔

اہہہہ دو نمبر سڑک چھاپ پولیس والا۔۔۔

زینیہ اسے ہی گھورتی اپنی کار میں بیٹھتی بولی تھی۔۔۔

———————————————————–

یہ کیا ہے ۔۔۔

دانین بلال کے پاس آتی اسے لیپ ٹاپ یوز کرتا دیکھ بولی تھی۔۔۔

اسے لیپ ٹاپ کہتے ہے آٶ اس میں گمیز بھی ہے تم کھیلو گی۔۔۔

بلال ریڈ ٹی شرٹ بیلو جینز رف سے حیلے میں بھی دل کش لگ رہا تھا۔۔۔

تبھی اپنے پاس آتی دانین کا ہاتھ پکڑے وہ بولا تھا۔۔۔

جی آپ سکھا دے مجھے۔۔۔۔

دانین جلدی سے اس کی گود میں آتی چہکتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

چلو پہلے ٹام اینڈ جیری کے کارٹون دیکھ لو میرے فیورٹ ہے ۔۔۔

بلال اسے کمر سے پکڑے اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھے بولا تھا۔۔۔۔

ہاں یہ اچھے ہے۔۔۔

دانین کارٹون دیکھنے میں بزی ہو گی تھی جبکہ بلال اس کے گہرے کالے بالوں میں چہرہ چھپاۓ آنکھیں بند کیے اس کی قربت محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

یہ کیا بے ہودگی ہو رہی ہے۔۔۔۔

بلال اور دانین اپنے کام میں بزی تھے جب زرمینا اندر آتی شدید طش سے چلائ تھی۔۔۔۔

و۔وہ۔آپ۔۔۔۔

شیٹ اپ ۔۔

زرمینا کے بدن میں تو آگ ہی لگ گی تھی بلال خان کی گود میں دیکھتے جو اب ڈرتے اٹھتے بول رہی تھی جب زرمینا نے اسے ڈانٹا تھا۔۔۔۔

بے ہودگی ہم نہیں تم کر رہی تھی ایک میاں بیوی کے روم میں آ کر سو پلیز آج کے بعد آنا ہو تو ڈور کو ناک کر کے آنا اب جاٶ یہاں سے۔۔۔

دانین کو کانپتا دیکھ بلال اٹھ کر کھڑا ہوتا زرمینا سے بولا تھا۔۔۔۔

خون بہا میں آئ لڑکی ک۔۔۔۔

بیوی ہےمیری اب شرافت سے باہر جاٶ گی یا دھکا دو تمہیں ۔۔۔

زرمینا بول رہی تھی جب بلال ضبط کرنے کے بادجود غرایا تھا ۔۔۔

۔یہ کیا رہی ہو دانی۔۔۔

بلال اسے باہر نکالتا جب دانین کی طرف دیکھتے پوچھا جو روتے ہوۓ اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہی تھی۔۔۔۔

وہ آپ کا لیپ ٹاپ ٹوٹ گیا مجھ تو آپ سزا دے گے مجھے۔۔۔

دانین اپنی شرٹ ساری اوپن کرتی روتے ہوۓ زمین پر ٹوٹے لیپ ٹاپ کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔

ڈر کی وجہ سے اسے وہ ٹوٹ چکا تھا۔۔۔

ششش ریلکس میری جان یہ پوری حویلی تمہاری ہے جو مرضی چیزیں توڑوں کوئ کچھ نہیں کہے گا اب تو تمہارا دوست ہے یہاں تو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔

بلال شوک ہوتا جلدی سے قریب آتا اس کی شرٹ کے بٹن بند کرتا آرام سے بولا تھا۔۔۔

پکا یہ خان حویلی میری ہے۔۔۔

دانین آنسو بہاتی بلال کے بھاری سفید ہاتھ پکڑتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاں دیکھو یہ روم بھی تمہارا یہ لو ٹوٹ گیا اب دیکھو کوئ ڈانٹ رہا تمہیں۔۔۔۔

بلال سامنے پڑے شیشے کے ٹیبل پر واس گراتا سکون سے بولا تھا۔۔۔۔

یاہووووو مطلب مجھے کوئ کچھ نہیں کہے گا۔۔۔۔

دانین خوشی سے جھومتی ہوئ بلال کے سینے سے لگے بولی تھی۔۔۔

ہاں بس خوش ایسے ہی رہا کرو روتی ہوئ بھوتنی لگتی ہو پوری۔۔۔

بلال اسے اپنے سینے سے لگاۓ بے اختیار اس کا ماتھا چھومتے بولا تھا۔۔۔۔

وہ خود حیران تھا کیوں اس ننھی سی جان کے لیے وہ اتنا نرم دل ہو گیا تھا۔۔۔

————————————————————

تم ایسا کرو آج شام کو کھانا بنا لینا میں سوچ رہی تھی کرن کو بلا لیتی کھانے پر۔۔۔

روحا ملازمہ سے بات کرتی ہال میں آئ تھی ۔۔۔

ہاں میرے لیے کافی بنانا۔۔۔۔

روحا اس سے پہلے کچھ کہتی جب ہال میں انٹر ہوتے ہارون بولے تھے۔۔۔۔

ہاروننننن۔۔۔۔

روحا ان کی آواز سنتی بے تابی سے چلاتی ان کے سینے سے لگی روی تھی۔۔۔۔

جبکہ پاس کھڑے سفان خان نے یہ منظر پیار سے دیکھا تھا۔۔۔۔

آپ آ گے آپ جانتے میں کتنا روی ت۔۔۔۔

شششش بس پنک روز ایسا کرو گی تو میں واپس چلا جاٶ گا۔۔۔۔

ہارون ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ انہیں پرسکون کرتے بولے تھے۔۔۔

آپ ٹھیک تو ہے گولی لگی تو نہیں۔۔۔۔۔۔

روحا انہیں اب شولڈر سے چھوتی بولی تھی۔۔۔۔

اففف پنک روز میں بلکل ٹھیک ہو اس سے ملو اس بچے نے جان بچائ میری ۔۔۔

ہارون اب روحا کو الگ کرتے سفان سے ملاتے بولے تھے۔۔۔

شکریہ بیٹا آپ کا آٶ یہاں بیٹھو۔۔۔

روحا سفان کے سر پر پیار دیتی نرمی سے بولی تھی ۔۔۔

سفان نے سوالیہ نظروں سے ہارون کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

اوپسسس ہم دونوں نے سفر ایک ساتھ کیا لیکن میں نے نام ہی نہیں بتایا۔۔۔

میں ہارون خان یہ میری بیوی ہے روحا ہارون خان مائ پنک روز۔۔۔۔

ہارون جلدی سے تعارف کرواتے بولے تھے۔۔۔

جیسے سنتے سفان کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا۔۔۔

————————————————————

ماما ماما مامام ۔۔۔۔

میں شادی کرنا چاہتی ہو اس لڑکے کے ساتھ آپ بس جلدی سے شادی کروا دے میری ۔۔۔

سفان بڑی مشکل سے بیٹھا تھا دل تو اس کا کر رہا تھا آگ لگا دے ہارون پیلس کو ۔۔۔

روحا ہارون پاس ہی بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب جنت جلدی سے اپنے ساتھ لاۓ لڑکے کو دیکھتی ایک ہی سانس میں بولی تھی۔۔۔۔

کیا طریقہ ہے جنت یہ۔۔۔

تمہاری شادی کہاں سے آ گی۔۔۔۔

ہارون سفان کے سامنے شرمندہ ہوۓ بولے تھے۔۔۔

کیا بابا شادی ہی کرنی ہے تو اس لڑکے سے کروا دے اس کا نام نہال ہے ۔۔۔

ا۔۔۔

بیٹا جاٶ روم میں آپ ہم بعد میں بات کرتے ہے۔۔۔

روحا جلدی سے جنت کے کندھے پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔

ریڈ ٹاپ ساتھ جینز پہنے خوبصورت چہرے پر صرف پنک لیپ گلوس لگایا تھا۔۔۔

منہ میں مسلسل چباتی ببل باب کٹ بال گہری کالی آنکھیں وہ ہہو بہو روحا جیسی تھی ۔۔۔

سفان اسے ہی دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔۔

لیکن م۔۔۔

بس بہت ہوا ابھی اور اسی وقت جاٶ یہاں سے جنت ہارون خان۔۔۔۔

جنت پھر بول رہی تھی جب ہارون شدید طش سے دھاڑے تھے۔۔۔۔

روحا کی سانسیں روکی تھی عرصے بعد اس نے ہارون خان کو شدید غصے میں دیکھا تھا۔۔۔

بابا۔۔۔

جنت بھی شوک ہوتی وہاں سے ناراض ہوتی بھاگتی اپنے روم میں چلی گی تھی۔۔۔۔

ہ۔ہار۔ہارون۔وہ بچ۔۔۔۔

جاٶ یہاں سے روحا تم بھی۔۔۔

روحا ڈرتے بول رہی تھی جب ہارون بات کاٹتے بولے تھے۔۔۔

انکل میں پھر کبھی آٶ گا۔۔۔۔

سفان جلدی سے غصہ کنٹرول کرتا بنا سنے اپنی کہہ کر چلا گیا تھا۔۔۔

بیٹا آپ بھی جاٶ۔۔۔

ہارون اب نہال کی طرف دیکھتے بولے تھے۔۔۔

جانتے تھے جنت اسے دمھکا کر ساتھ لائ تھی جو اب کانپتا ہوا کھڑا تھا۔۔۔

انکل میں مہوش سے شادی کرنا چاہتا ہو اور جنت مجھے دمھکی دیتی ساتھ لے آ۔۔۔۔

اچھا جاٶ تم یہاں سے بیٹا۔۔۔۔

نہال بول رہا تھا جب ہارون سردپن سے کہتے وہاں سے چلے گے تھے ۔۔

————————————————————

بہت شوق ہے مس جنت کو بیوی بنے کا چلو اب اسے بتایا جاۓ وہ کس کی بیوی بنے والی ہے ۔۔۔

رات اپنے روم میں بیٹھے سفان سگریٹ پیتے طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔۔

ہمم اب تو ہارون اور روحا کو پتہ چلنا چاہے اپنی اولاد کا دکھ کیسا ہوتا ہے ۔۔۔

سفان اپنی ہڈی پہنے اب روم سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔

————————————————————

کیسے بابا نے مجھ پر غصہ کیا کیسے ۔۔۔۔

جنت شدید غصے سے اپنا نائٹ ڈریس پہنے روم میں چکر لگاتی بولی تھی۔۔۔۔

ہارون کے ڈاٹنے پر روم سے باہر ہی نہیں نکلی تھی۔۔۔

اب تو رات بھی ہو گی تھی لیکن وہ کسی سے ملنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔

جنت ہارون خان کو بابا نے کیسے ڈانٹ لیا۔۔۔۔

جنت پھر مسلسل سوچتی بولی تھی ۔۔

جس باپ کو ہمیشہ دوست جیسا پایا آج ان کا ایسا روپ دیکھ اسے کافی دکھ ہوا تھا۔۔۔۔

ی۔یہ لائٹ بھی ابھی بند ہونی تھی۔۔۔

روم کی لائٹ بند ہوتے دیکھ ایک منٹ کے لیے جنت گھبراتی بولی تھی۔۔۔

اہہہہ۔اہہہہ کون ہے یہ جانور۔۔۔۔

جنت کھڑی تھی جب کوئ کھڑکی سے اندر آتا اسے پیچھے سے پکڑا تھا تبھی جنت جھٹکا کھاتی اسے گراتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاہاہااہاہاہ بڑی ہمت والی ہو مس جنت ۔۔۔۔

گرنے والا اب اٹھ کر کھڑا ہوتا جنت کو کمر سے پکڑے دیوار سے پن کرتا بولا تھا۔۔۔۔

کون ہو تم۔۔۔

کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی میں اسے صرف ماسک لگے چہرے پر گرین آنکھیں دیکھائ دے رہی تھی ۔۔۔

دشمنننننن۔۔۔۔

سفان خان مسکراہٹ لاۓ اس کے دونوں بازوں اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے اس کی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے لاک کیے اب وہ ایک ہاتھ سے جنت کی گردن سہلاتا بولا تھا۔۔۔۔

جنت کی سانسیں تیز ہوئ تھی اپنے اتنے قریب انجان لڑکے کو دیکھ۔۔۔۔

سفان کا بھاری سفید ہاتھ اب جنت کی شرٹ کے اندر جا رہا تھا۔۔۔۔

ب۔بابا۔۔۔۔۔

جنت بولنے والی تھی جب اس کے لبوں پر سفان کا بھاری ہاتھ آیا تھا۔۔۔۔

جنت بے بس ہوتی کھڑی تھی اب ۔۔۔