Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 11)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 11)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

ب۔بھائ۔۔۔۔با۔بابا۔۔۔۔

جنت درد سے تڑپتی ہوئ چلا رہی تھی۔۔۔

ساونڈ پروف روم ہونے کی وجہ سے کسی کو آواز سنائ نہیں دے رہی تھی۔۔۔

جنت تم ایسا کر۔۔۔

جنت جنت کیا ہوا۔۔۔

سبحان جو اپنے دھیان میں روحا کا پیغام لیے اندر آتا بول رہا تھا جب سامنے جنت کی حالت دیکھتا پاس جاتا بولا تھا۔۔۔۔

ی۔یہ سب کس نے کیا تمہارے ساتھ۔۔۔۔

پھٹے ہونٹ شرٹ گردن سے نیچے سرکی اور گردن پر مسلسل خون نکلتا ساتھ ہی شولڈر سے خون نکل کر پورے بیڈ پر بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔

جنت آہستہ آہستہ اپنے حواس کھو چکی تھی۔۔۔۔

سبحان نے جلدی سے اپنی شرٹ اتارے جنت کو پہناتے گود میں آٹھاۓ باہر کو بھاگا تھا۔۔۔۔

کیونکہ جنت کا علاج صرف بلاج کر سکتا تھا سب کو پتہ تھا جنت ہارٹ پیشٹ ہے ۔۔۔۔

————————————————————

ارے میری گڑیا بہت پیاری ہے ۔۔۔

روحان دانین کے گال کھیچتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں آپ کو پتہ مجھے کس بھی آتا ہے ۔۔۔۔

دانین شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

اس وقت سب ہارون کے پیلس ہال میں بیٹھے دانین کی باتیں سنتے مسکرا رہے تھے جو بلال کے شولڈر پر سر رکھے بول رہی تھی۔۔۔۔

پھر تو پہلے میرا بچہ مجھے کرے گا۔۔۔۔

دانین کے آنے پر سب سے زیادہ خوشی پلوشہ کو ہوئ تھی۔۔۔۔۔

کیونکہ دانین اس کے لیے بلکل بیٹی جیسی تھی شاہ زین بڑے غور سے پلوشہ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔

جی آپ۔۔۔

کیا ہوا جنت کو سبحان ۔۔۔

دانین بول رہی تھی جب اچانک تنزیلہ بیگم کی نظر سیڑھیوں سے نیچے آتے سبحان کے سینے سے لگے خون اور جنت کو اس کی باہوں میں دیکھتی گھبراتی بولی تھی ۔۔۔

کیا ہوا کیا جنت کو۔۔۔

ہارون روحان بھی اچانک پاس آتے بولے تھے۔۔۔

پتہ نہیں خالو آپ آے ساتھ جلدی جنت کی سانسیں کم چل رہی ہے ۔۔۔

سب پریشان ہوتے کھڑے ہو چکے تھے جب سبحان بنا کسی کو دیکھتے باہر بھاگتا بولا تھا۔۔۔۔

بلاج بھی اپنے ہاسپٹل میں ڈاکٹرز کو الرٹ کر چکا تھا۔۔۔۔

جنت میری بچی۔۔۔

روحا روتی ہوئ حنین کے گلے لگی تھی ۔۔

ریلکس آپو جنت کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔

حنین نے روتے ہوۓ حوصلہ دیا تھا ۔۔

————————————————————

کیا ہوا ڈائمن اتنی رات کو بلا لیا۔۔۔۔

سفان اپنے روم میں ابھی آیا تھا جب اسے ڈائمن کی کال آئ تھی ۔۔۔

جبھی جلدی سے اس کے پلیس آیا تھا۔۔۔۔

جہاں سو سے زیادہ آدمی باری باری سر جھکاۓ کھڑے تھے۔۔۔

جبکہ ڈائمن طوفان بنا چکر لگا رہا تھا۔۔۔۔

کیسے ہوا یہ سب بتاٶ مجھے کوئ ڈائمن کے گھر آ کر اسی کی بہن پر تشدد کرتا چلا گیا ۔۔۔

کہاں مر گے تھے سارے۔۔۔

ڈائمن غرایا تھا۔۔

س۔سوری س۔۔۔

کیا سوری میری بہن کو کسی نے نشانہ بنایا کون ہے ایسا دشمن جو وہاں گیا۔۔۔

پتہ لگاٶ جلدی دفع ہو جاٶ سارے ورنہ ایک منٹ میں دل نکال لو گا تم سب کا۔۔۔

ڈائمن شدید غصے سے غرایا تھا۔۔۔۔

کیا جنت ڈائمن کی بہن۔۔۔نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔

سفان گھبراتا ہوا سوچ رہا تھا جب خود کو تسلی دیتا بولا تھا۔۔۔۔

سفان اچھا ہوا تم آگے کام کرو مجھے O- خون چاہے تم یہاں سب کے باری باری خون لے کر چیک کرواو یہ کام دس منٹ میں ہونا چاہے ۔۔۔۔

خاموش کھڑے سفان کو دیکھتے ڈائمن اپنی کہہ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔

وہی سفان کی دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی۔۔۔۔

نہیں میرا وہم ہو گا جنت اس کی بہن کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔

سفان خود کو تسلی دیتا اب آدمیوں کا بلڈ نکال رہا تھا۔۔۔

————————————————————

ہارون آپ پریشان م۔۔۔۔

پنک روز مجھے لگتا میرا یہ مکافات عمل ہے جیسے تمہیں دکھ تکلیف دی ویسے ہی میری بیٹیاں دکھ درد میں ہے ۔۔۔۔

خون کا بندوبست ہو گیا تھا سفان نے آ کر خون دے دیا تھا ۔۔۔

تبھی جنت بے ہوش تھی بلاج نے کہا تھا صبح تک اسے ہوش آ جاۓ گا۔۔۔

تبھی اس کے بیڈ کے قریب بیٹھے ہارون آنسو بہا رہے تھے جب روحا پاس آتی بولی تبھی وہ ان کے گلے لگتے بولے تھے۔۔۔۔

غلط بات ہارون آپ نے کب مجھے دکھ درد دیا بلکہ آپ تو میری پوری زندگی ہے مجھے کبھی دکھی نہیں ہونے دیا آپ نے تو اپنے عشق سے مجھے مکمل کیا ہے ۔۔۔

روحا انہیں پیار سے سمجھا رہی تھی ۔۔۔

پنک روز تم سے زبردستی نکاح کیا تھا تب تم روی تھی رخصتی کروای اس کے بعد بھی کافی دفعہ تمہیں رولایا تھا ۔۔۔

یہ اسی کی سزا ہے جو میری دونوں بیٹیاں جھیل رہی ہے ۔۔۔۔

ہارون ان کے ہاتھ پکڑتے بولے تھے۔۔۔۔

ہارون وہ آزمائش تھی یہ بھی آزمائش ہے آپ کا کوئ قصور نہیں ہے جس کے پاس آپ جیسا شوہر اور باپ ہو اس لڑکی کو کبھی بھی دکھ نہیں مل سکتا آپ تو بیسٹ ہے بہت پیارے ہے ۔۔۔

جو شخص غریب لڑکیوں کی شادیاں کرواتا ہو جو ہر غریب

کے گھر راشن جاتا ہو وہ انسان کتنا اچھا ہے یہ مجھ سے بہتر کوئ نہیں جاتا ۔۔۔۔

ویسے ہی روحاب کا ہم سے دور جانا بھی آزمائش ہے مجھے یقین ہے ایک دن وہ بھی ہمارے پاس آ جاۓ گی ۔۔۔

سفان بہت اچھا ہے ہماری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے گا ۔۔۔۔

جنت خوش رہے گی ۔۔۔

چلے یہ بچوں جیسی شکل مت بناۓ ورنہ میں رو دو گی۔۔۔۔

روحا انہیں آہستہ آہستہ سمجھاتی ہوئ ان کے ہاتھ پکڑی وہاں لب رکھتے بولی تھی۔۔۔

پنک روز تم بہت اچھی ہو میں بہت خوش نصیب ہو تمہیں پا کر ۔۔۔

ہارون ان کا ماتھا چومتے بولے تھے۔۔۔

بہت اچھی بات یہاں رومینس چل رہا۔۔۔۔

حنین پری برہان زیان اندر آتے بولے تھے۔۔۔۔

ہاں تو تم لوگ بھی کر لو۔۔۔۔

روحا کی بات سنتے پری حنین کے ساتھ ہارون کا بھی منہ کھولا تھا۔۔۔۔

ہاہاہہاہااہاہہا یہ میری پنک روز ہے۔۔۔۔

ہارون قہقہ لگاتے بولے تھے۔۔۔

جی آپ کی ہو کوئ شک آپ کو۔۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔۔

وہی سب نے مسکراہٹ روکی تھی کیونکہ ہارون کے آنکھ ونک کرنے پر روحا شرمای تھی ۔۔۔

————————————————————

بس اتنا بدلہ تھا تمہارا۔۔۔

فجر کے وقت سفان ابھی ہال میں انٹر ہوا تھا جب تاشہ نفرت سے باہر آتی بولی تھی۔۔۔

کیا کر دیا ۔۔۔

سفان دو ٹوک بولا تھا۔۔۔

درد دو اسے اکیلا کرو جیسے تم ہوۓ اس کی ماں کی وجہ سے ۔۔۔

یہ درد دینے کا فائدہ ابھی بھی وہ وہی سب کے پاس ہے۔۔۔

تاشہ بولی تھی۔۔۔

ہممم بات تو سہی کی۔۔۔

سفان گہری سوچ میں ڈوبا بولا تھا۔۔۔۔

وہی تاشہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔

————————————————————

ارے یار کچھ نہیں ہوا کیسے سب بیٹھ گے ہو۔۔۔۔

جنت کو ہوش آ چکا تھا جب سب کو دیکھتی وہ زبردستی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

کون تھا۔۔۔۔

روحان نے سرد مہری سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

و۔وہ ہاں کل کسی سے لڑای ہوئ تھی تو وہ لڑکے نے یہاں چاقو سے وار کیا تو رات کو ڈریس چینج کرنے والی تھی جب یہ زخم پر ہاتھ لگا اور خون ن۔۔۔

کتنی بڑی ہو گی تم اب جھوٹ بھی بولو۔گی۔۔۔

جنت بہانہ بناتی بول رہی تھی جب روحان سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔

وہی جنت نے ہار ماتے دانت نکالے تھے۔۔۔

شکر آپو آپ ٹھیک ہو میں کس کرو گی سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔۔

دانین جلدی سے بیڈ پر چڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاں کرو کس ۔۔۔

جنت بھی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

تبھی دانین نے اس کے گال پر لب رکھے تھے۔۔۔۔

درد کم ہوا۔۔۔

دانین نے معصومیت سے پوچھا تھا۔۔۔۔

ہاں کم ہوا درد۔۔۔۔

جنت مسکراہٹ روکے بولی تھی۔۔۔

بس بلاج بھاہیٶ اب سے میں ڈاکٹر چلے کس کرو سب کو درد ختم ہو جاۓ گا۔۔۔۔

دانین اٹھ کر کھڑی ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاے کتنے بڑے ہو سب میں تو چھوٹی سی ہو سارے بیٹھ جاٶ ۔۔۔۔

دانین وہی لائن پر سب کو کھڑا کیے بولی تھی۔۔۔۔

بلاج عمار آذان شاہ زین بلال سبحان روحان کو دیکھتی بولی تھی جن کی ٹانگوں کے برابر وہ آ رہی تھی۔۔۔۔

ہاں اب بتاٶ درد کم ہوا۔۔۔۔

سب نیچے جھکتے دانین سے اپنے اپنے گال پر کس لے رہے تھے جب وہ تراتی بولی تھی۔۔۔

ہاں درد کم ہوا۔۔۔۔

بلال مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔۔

مجھے بھی کس ملے گی۔۔۔۔

روحان فون سنے باہر گیا تھا جب سفان اندر آتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ارے سفان تم کب آۓ۔۔۔۔

بلاج اس سے ہاتھ ملاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

جی ابھی آیا ہو۔۔۔

سفان جنت کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔

جو منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

بھورے بال بھوری ہلکی شیو کسرتی جسم گرین آنکھیں عنابی ہونٹ خوبصورتی کا شاہکار لے وہ جنت کے دل کی دھڑکن تیز کر چکا تھا۔۔۔۔

آٶ جنت سے مل لو۔۔۔

سبحان مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں میں اپنی بیوی سے ہی ملنے آیا تھا۔۔۔۔

سفان مسکراتا ہوا اس کے پاس بیٹھتا بولا تھا۔۔۔

اگر اچھے سے میرا معائنہ کر لیا ہو تو بندہ سلام کا جواب دے ۔۔۔

سفان اسے گھورتا بولا تھا۔۔۔

ہاں ۔و۔وعلیکم السلام کیسے ہو۔۔۔

جنت ہکلاتے ہوش میں آتی بولی تھی۔۔۔

ٹھیک۔۔۔

سفان اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

————————————————————

بہارے کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔

اماں اسے دیکھتی بولی تھی وہ تیار سی باہر جا رہی تھی۔۔۔۔

پیسے کمانے اماں وہ پولیس والے کے پاس جا رہی میں۔۔۔

بہارے ببل کھاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

لیکن کیوں ی۔۔۔

اماں کتنی دفعہ کہو یہ حرام ہے مجھے نہیں پسند ۔۔

اماں اسے دیکھتی بول رہی تھی جب بہارے کہتی باہر چلی گی تھی۔۔۔۔

افففف لڑکی کیا کرو اس کا ۔۔۔

اماں اپنا ماتھا پیٹتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

———————————————————–

بولو پولیس والے کیا کرنا ہے ۔۔۔

عمار اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب بہارے اندر آتی بولی تھی۔۔۔۔

بیٹھو گی نہیں ک۔۔۔۔

نہیں میں صرف کام کرو گی تم بتاٶ۔۔۔۔

عمار شوک ہوتا بول رہا تھا جب بہارے کھڑے

ہی بولی تھی ۔۔۔۔

عمار کو امید نہیں تھی بہارے اتنی جلدی مان جاۓ گی۔۔۔۔

ہاں کام یہ شاہ میر ک۔۔۔۔

تم میرا کام کرو گی مس بہارے۔۔۔

عمار اٹھ کر پاس آتا بول رہا تھا جب زینیہ آندھی طوفان بنی اندر آتی بولی تھی۔۔۔

اب یہ کون ہے۔۔۔

بہارے زینیہ کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔

یہ میری ب۔۔۔۔

کزن ہو۔۔۔

عمار بول رہا تھا جب زینیہ دانت پیستی بولی تھی۔۔۔

میرے خیال سے دونوں لڑ لو پھر مجھے بتا دینا۔۔۔۔

عمار اور زینیہ آپس میں لڑ چکے تھے۔۔۔

تبھی بہارے باہر جاتی بولی تھی ۔۔

پیسوں کی فکر مت کرو میں تمہیں دو گی ۔۔۔۔

زینیہ باہر اس کے پیچھے آتی بولی تھی۔۔۔۔

یہ پاگل ہے میری بات سنو شاہ میر کو ایسا پھساٶ اپنے جال میں اسے پتہ بھی نہ چلے۔۔۔۔

عمار غصے سے باہر آتا بولا تھا۔۔۔۔

تمہیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی وہ انسان اچھا نہیں اسے بھیجو گے اگر یہ لڑکی ہو کر جا سکتی ہے تو میں کیوں نہی۔۔۔۔

زینیہہہہہ۔۔۔

زینیہ آپے سے باہر ہوتی چلاتی بول رہی تھی جب عمار دھاڑا تھا۔۔۔۔

بہارے یہ کاڈر رکھو میں تمہیں فون کر کے خود بلاٶ گا۔۔۔۔

زینیہ کو غصے سے پولیس اسیٹیشن سے باہر جاتے دیکھ اس کے پیچھے بھاگتے ہوۓ عمار نے بہارے کو کہا تھا۔۔۔

عیجب پاگل لوگ ہے۔۔۔۔

بہارے دانت پیستی ہوئ بولتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔

————————————————————

کیا رخصتی کیوں مامی اتنی جلدی جنت کو ٹھیک ہونے دے اور پلوشہ کی کر دیتے ہے۔۔۔

جنت کو گھر لے آۓ تھے جب نسرین بیگم نے اپنا فصیلہ سنایا تھا ۔۔۔

بابا آپ کروا دے میں راضی ہو۔۔۔۔

جنت پاس بیٹھی سنجیدہ ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

لیکن بیٹ۔۔۔

ارے بابا کر دے ویسے بھی روحان نے پھر شادی کرنی ہے۔۔۔

سنجیدہ بیھٹے روحان کو دیکھتی جنت آنکھ ونک کرتی مزاخیا انداز سے بولی تھی۔۔۔۔

ویری فنی۔۔۔

روحان برا سا منہ بناۓ کہتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔

اچھا بابا آپ تیاری کرے میں زرا اپنے بھای کو منا لو۔۔۔

جنت جلدی سے اٹھ کر بھاگتی ہوئ روحان کے روم کی طرف جاتی بولی تھی۔۔۔

————————————————————

کوئ اداس ہو رہا شاہد۔۔۔

جنت روم میں آتی روحان کو بیک ہگ کرتی بولی تھی۔۔۔۔

کہاں میں تو بہت خوش ہو شکر تم جا رہی ہو اب میں سکون سے باربی سے شادی کرو گا۔۔۔

تمہاری جیسی جلاد نند چلی جاۓ گی۔۔۔۔

روحان آنسو ضبط کرتا جنت کا ہاتھ پکڑتا سامنے لاتا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں کرو تیرے بچے ہو گے دیکھنا مارا کرو گی۔۔۔

جنت اس کا ناک کھیچتی بولی تھی ۔۔۔

سفان بہت اچھا ہے جنت تمہارا خیال رکھے گا۔۔۔

روحان اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا۔۔۔۔

ہمممم۔۔۔

جنت گہرا سوچتی اس کے سینے سے لگ چکی تھی۔۔۔

روحان اس بات پر سکون سے تھا سفان خان جنت کا شوہر ہے۔۔۔

————————————————————

ارے سبحان یہاں آنا زرا۔۔۔

اریج پلوشہ کی رخصتی پر تیار ہوئ لان میں آئ تھی جب سامنے سے آتے سبحان کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔

جو شجرت کو لے آذان کے پاس جا رہا تھا ۔۔۔

ہاں بولو ویسے پیاری لگ رہی ہو۔۔۔

بے بی پنک کلر کی لونگ فراک پہنے سادہ سے میک اپ میں اریج بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔

جبکہ اس کی گرے آنکھیں چمک رہی تھی۔۔۔

تم بھی بہت پیارے ہو۔۔۔

اریج سبحان کی طرف دیکھتی بولی تھی جو فل بلیک کلر کے کرتے شلوار میں ملبوس کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔

اچھا کام بتاٶ پھر حجاب کے پاس جانا ۔۔۔

سبحان مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہاں یہ جنت کو دینے تھے تم اگر دے آو۔۔۔

اریج گلاب کے گجرے اسے دیتی بولی تھی۔۔۔۔

تم جانتی ہو وہ میری شکل دیکھ کر ہی نفرت کرتی ہے۔۔۔

تم ہی رکھو۔۔۔

سبحان گجرے اس کے ہاتھ پر دوبارہ رکھتا مسکراتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

یہ منظر دور سے آتے بلاج نے دیکھا تھا۔۔۔

باہر کے لڑکوں سے دل نہیں بھرا جو گھر کے ل۔۔۔۔

پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتی ہو سوچ سمجھ کر بولا کرو ورنہ اپنی ہی نظروں میں گر جاٶ گے۔۔۔

بلاج پاس جاتا طش سے بول رہا تھا جب اریج بات ٹوکتی اپنی کہتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔

انہہہ چور کو جب ڈر ہو تبھی وہ اگلے بندے پر الزام لگا دیتا ہے۔۔۔

بلاج نفرت انگیز نظروں سے دور جاتی اریج کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

مجھے مٹھائ مت کھلاٶ یار سچی کبھی اتنا میٹھا نہیں کھایا۔۔۔۔

بلال لوگ ابھی ہال میں آۓ تھے جب بلاج عمار آذان سبحان کے ہاتھ وہ لگا تھا۔۔۔۔

تبھی وہ ڈرتا بولا تھا۔۔۔

زیادہ میٹھا کھانے سے اکثر اس کی طیبعت خراب ہو جاتی تھی ۔۔۔

جبکہ وہ ان سنا کرتے مسلسل اس کے منہ میں برفی رس گلا گلاب جامن ڈال رہے تھے۔۔۔۔

د۔دوست یہ کیسے پہنتے ہے۔۔۔۔

ہال میں آتی دانین ایک شاپنگ بیگ لاتی بولی تھی۔۔۔۔

بیگ سے باہر آتی چیزیں دیکھ بلال کے ساتھ ساتھ بلاج آذان

سبحان عمار چہرہ سرخ ہوا تھا کیونکہ دانین چہریں ٹیبل پر نکال چکی تھی ۔۔۔

آ۔آٶ تم میرے ساتھ۔۔۔

بلال جلدی سے سامان اٹھاتا دانین کو لے روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔

ہہاہہاہاہاااااہاہہاہاہااہااہاہ بلال خان کو ملی چھوٹی سی بیوی۔۔۔۔

بلاج کا قہقہ گونجا تھا وہ بلال کا مذاق بناتے بولا تھا۔۔۔۔

سب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔

————————————————————

دیکھو میری جان ایسی چیزیں بس مجھے دیکھایا کرو روم میں سب کو نہیں دیکھاتے اور جب بھی مدد چاہے مجھے ہی کہا کرو ٹھیک۔۔۔

تم بلال خان کی بیوی ہو تو زرا عقل والی ہو جاٶ۔۔۔

روم کی ساری لائٹس آف کیے بلال دانین کو کپڑے پہناتے آرام آرام سے بول رہا تھا۔۔۔۔

اچھا دوست لیکن لائٹ کو آن کر دو۔۔۔

دانین اندھیرے میں ہی بلال کا شولڈر پکڑے معصومیت سے بولا تھا۔۔۔۔

بس ایک منٹ۔۔۔۔

بلال کہتے ہی دانین کا رخ موڑے اس کی شرٹ کی زپ بند کرتا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں ی۔۔۔

اہہہہہ اہہہہ۔۔۔

لائٹس آن کرتے بلال بول رہا تھا جب اسے پیٹ میں شدید درد ہوا تھا تبھی وہ تڑپتے ہوۓ بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔۔

کی۔کیا ہوا دوست ۔۔۔

دانین جلدی سے اس کے پاس آتی بولی تھی۔۔۔۔

بلاج کو بلاٶ ۔۔۔

بلال یہ کہتا واش روم میں بھاگا تھا۔۔۔۔

————————————————————

بھای۔بھای۔۔۔

دانین سیڑھیوں سے نیچے آتی گھبراتی بولی تھی ۔۔۔

وہ سب وہی بیٹھے تھے۔۔۔

آرام سے میرا بچہ کیا ہو۔۔۔

بلاج جلدی سے پریشان ہوتا بولا ۔۔۔

وہ دوست کو درد ہو رہا۔۔۔

دانین جلدی سے بولتی واپس بھاگی تھی۔۔۔۔

————————————————————

“کمینوں ، کمبختوں کہا تھا نا میں نے کہ مجھے مزید مت کھلاؤ۔!”

درد سے دوہڑے ہوتے ہوئے بلال اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بمشکل ان سب کو کوسا تھا جنھوں نے میٹھائ کھلائ تھی۔۔۔

“مجھے کیا پتا تھا۔؟ کہ تو اتنا نازک مزاج نکلے گا۔!” اپنے آپ کو خان کہتے ہو خان تو بڑے طاقتور ہوتے ہے ۔۔۔

بلاج نے بیزاری سے کہا کر پہلو بدلا تھا۔

دوست کو کیا ہوا ہے جی ؟ ۔۔

دانین نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔۔۔

آذان نے مسکراہٹ روکے ایک نظر بیڈ پر درد سے دوہڑے ہوتے بلال کو دیکھا اور بولا.

اسے ”لوززز موشن” ہوئے ہیں !

ہاہااہاہاہاا۔۔

آذان کی بات پر سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

سبحان اور عمار نے حیرت سے دانین کو دیکھا جو فورا چھلانگ لگاتی بیڈ پر بلال کے بلکل قریب بیٹھی تھی ۔۔۔

بلال نے آبرو اچکا کر بلاج کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

بلاج کندھے اچکاتا ”مجھے کیا پتا ” والا ایکسپریشن چہرے پہ سجائے دانین کو دیکھنے لگا جو اب کچھ کہنے کے لیئے لب کھول رہی تھی.۔۔

آپ جلدی سے بات مجھے بتا دے ۔

تاکہ آپ کا درد جلدی سے ٹھیک ہو جائے !۔۔

دانین نظریں اس کے چہرے پر ٹھکاۓ بولی تھی۔۔۔

بلاج سبحان آذان عمار بلال سب نے آنکھیں پھاڑے دانین کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

ک.ک.کون سی بات۔۔۔

بلال نے پیٹ کے درد پر ضبط کرتے ہوئے دانین سے پوچھا تھا۔۔۔

جو اور پاس آس کے قریب آ گی تھی۔۔۔

آپ کے پیٹ میں کوئ بات وہ بتا دے درد ختم ہو جاۓ گا اور پلوشہ آپو ایسے ہی کرتی تھی جب ان کے پاس کوئ بات ہوتی جب تک وہ نہیں بتاتی تھی تب تک وہ درد سے تڑپتی رہتی تھی۔۔۔

تو آپ بھی بتا دو۔۔۔

دانین اپنے حساب سے معصومیت لاۓ بولی تھی۔۔۔

دانین کی بات سنتے سب کا دل کیا اپنا سر دیوار پر مار لے ۔۔۔

اور بلال خان وہ تو پیٹ کا درد بھلائے گہرے صدمے میں چلاگیا تھا۔۔۔

ارے بچہ میں نے ”لوزز موشن” کہا تھا ‘۔۔

بلاج اپنی مسکراہٹ روکے پیار سے بولا تھا۔۔۔

جب وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔

لوزز موشن مطلب ؟۔۔

دانین نے الجھی نظروں سے بلاج کو دیکھتے پوچھا ۔۔

تو وہ گہری سانس بھر کر بلال کو دیکھتے بولا۔۔

لوزز موشن کا مطلب بلال کے پیٹ میں جو درد ہے وہ زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے ہے !۔۔

اور کوئ بات نہیں ہے بچہ۔۔

بلاج نے دانین کو سمجھایا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی اچھا بولی تھی۔۔۔

سالے صاحب بیوی اتنی چھوٹی بھی نہیں ہونی چاہے یار۔۔۔

کمرے کی خاموشی کو بلال خان کی صدمے سے بھرپور آواز نے توڑا ۔۔۔

عمار کو اس پر بےحد ترس آیا تھا۔۔۔

جبکہ سبحان اور آذان کے چہرے اپنے قہقہے روکنے کے چکر میں بری طرح لال ہوچکے تھے۔۔۔

تمہیں ہی شوق تھا خون بہا کی لڑکی سے شادی کرنے کا میں نے بتایا بھی تھا میری دانی ابھی بچی ہے ۔۔۔

بلاج مسکراہٹ روکے مضوعنی ہمدردی سے بلال کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔

انہہہ اتنی بچی ہو گی یہ نہیں جانتا تھا میں۔۔۔

بلال بیڈ سے ایک جھٹکے میں اٹھا نتیجہ پیٹ میں سے گڑبڑ کی آواز آئی تو وہ اونچی اونچی بڑبڑاتے ہوئے واشروم کی طرف بھاگتے بولا تھا۔۔۔

تو پھر وہاں کہاں جارہا ہے ؟

دانین یہاں بیٹھی ہے واشروم نہیں!۔۔

بلال کے بڑبڑانے پر آذان نے پیچھے سے ہانک لگائی ۔۔

تو وہ غصے میں واش روم میں بولا تھا۔۔۔

تم سب کی ایسی حالیتں ہو اور میں سب واش رومز بند کر دو۔۔۔

بلال کی بات سنتے بلاج آذان سبحان عمار کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔

اب یہ کیوں بول رہے ان کو کہو واش روم میں بولنا منع ہے۔۔

دانین پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

ہاہاہاا ارے بچہ کچھ نہیں تم ایسا کرو یہ میڈیسن دینا۔۔۔

بلاج قہقہ لگاتا میڈیسن باکس سے گولی نکالے بولا تھا۔۔۔۔

————————————————————

بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔

اسیٹچ پر دلہن بنی پلوشہ کو دیکھ شاہ زین مسکراتے سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

گولڈن کلر کا بھاری لہنگا پہنے ساتھ ڈراک میک اپ کیے تیار سی پلوشہ شاہ زین کی نظروں کا مرکز بنی ہوئ تھی۔۔۔

جبکہ گولڈن ہی شروانی پہنے شاہ زین بھی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔

انہہہ۔کالا۔۔۔

پلوشہ اپنا سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔

اس کا مقصد صرف اتنا تھا شاہ زین اس کے قریب نہ آۓ جبکہ وہ بنا بات پر غور کیے سب اگنور کر رہا تھا۔۔۔

اچھا یہ بتاٶ میرے سامنے ہی چپ رہتی ہو۔۔۔

شاہ زین اب بھی مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

انہہہ کالے منہ بند کرو اگر بول نہیں رہی اس کا مطلب یہ نہیں ڈر گی۔۔۔

چپ کر کے بیٹھو۔۔۔

پلوشہ بیزار ہوتی بولی تھی۔۔۔

شاہ زین مسکراتے اب بلکل چپ ہو گیا تھا۔۔۔

————————————————————

ہاے ماما آپ آ گی شکر ہے جلدی سے بند کر دے۔۔۔

جنت اپنے روم میں کسی کی آہٹ پاتی جلدی سے بولی تھی ۔۔

لہنگا وہ پہن چکی تھی جبکہ شرٹ وہ پہن رہی تھی۔۔۔

باب کٹ بالوں کی وجہ سے اس کا صاف شفاف شولڈر دیکھ رہا تھا۔۔۔

شولڈر سے نیچے آتی شرٹ جس کو بند کرنے کی کوشش وہ کر رہی تھی۔۔۔۔

سفان شوک ہوتا جنت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

وہ رخصتی کے لیے تیار ہو رہی تھی جبکہ سفان ہارون خان کو ذلیل کرنے کے لیے اسے اغواہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

اتنی بھی پیاری نہیں ہو تم۔۔۔۔

سفان پاس جاتا اس کی شرٹ کی زپ بند کرتا طنزیہ بولا تھا۔۔۔

میں نے کہا بھی نہیں تھا تم مجھے پیاری کہو۔۔۔

ویسے کیوں آۓ ہو۔۔۔

گرے شروانی پہنے خوبصورت سا تیار ہوۓ سفان کی طرف دیکھتی جنت بولی تھی۔۔۔۔

اغواہ کرنے آیا ہو۔۔

سفان اسے ڈارتے بولا تھا۔۔۔۔

ہاے سچی میری وش تھی میں اغواہ ہو جاٶ پھر ہیرو نکاح کرے میں رو تڑپو کاش ایسا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔

جنت سفان کی بات کو ہلکا لیتی بیڈ پر پڑے ڈوپٹے کو پکڑتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

اففف کیوں بھول جاتا ہو یہ عام لڑکیوں کی طرح نہیں ہے۔۔۔

سفان نے توقع رکھی تھی جنت روے گی تڑپے گی منت کرے گی جبکہ وہ تو خود سکون سے بول رہی تھی۔۔۔

اغواہ تو تم ہو گی مس جنت اگر ایسا نہیں ہوا تو تمہارا باپ کیسے ذلیل ہو گا سب کے سامنے۔۔۔

سفان سردمہری سے کہتا جنت کو کلائ سے پکڑے بولا تھا۔۔۔

م۔مطلب کیا ہے اس بات کا۔۔۔

جنت طش میں آتی ہکلاتے بولی تھی ۔۔

ارے میری جان مطلب تو جلدی سمجھ آ جاۓ گا ویسے بھی کام تو ہونے دو ۔۔۔

سفان اس کی گردن کو چھوتا ہوا بولا تھا۔۔۔

بکواس بند کرو میں سمجھی تھی تم مذاق کر رہے ہو جبکہ یہ سب میرے بابا کا کیا قصور ہے۔۔۔

جنت بھی اسے گردن سے دبوچتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

ابھی تو گیم سٹارٹ ہوا ہے آگے آگے دیکھو ہوتا کیا ہے۔۔۔

سفان یہ کہتا جنت کی گردن پر بے ہوشی کا انجشکن لگاتا بولا تھا۔۔۔

ک۔ک۔۔۔

اس سے پہلے جنت کچھ کہتی جب وہ بے ہوش ہوتی اسی کی باہوں میں جھولی تھی۔۔۔۔

اب مزہ آے گا مس روحا ہارون خان کہ تڑپ کیسی ہوتی ہے۔۔۔

بے ہوش جنت کو اپنے کندھے پر ڈالے سفان کھڑکی سے باہر نکلتا سفاکیت سے کہتا چلا گیا تھا۔۔۔۔

سفان نے جان بوجھ کر یہ بات اپنے آدمیوں کے ذریعے شادی ہال میں پھیلا دی تھی ۔۔

رخصتی کے وقت جنت کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گی ہے ۔۔۔

وہی سارے پریشان ہوتے مہمانوں کی بھی باتیں سن رہے تھے۔۔۔۔

جنت کے جانے کی خبر سنتے روحان اور ہارون نے یہی فصیلہ کیا تھا پلوشہ کی رخصتی کر دی جاۓ ۔۔۔

پلوشہ بھی روتی ہوئ رخصت ہو چکی تھی ۔۔۔

————————————————————-

سوری سفان جنت یہی ہو گی تم جانتے ہو اسے مذاق کی عادت ہے۔۔۔

سفان جو سکون سے جنت کو ٹھکانے لگاۓ خود معصوم سا دکھی ایسٹیچ پر دلہا بنے سب کی سنتا دل میں خوش ہو رہا تھا۔۔۔

جب وہائٹ کرتا شلوار پہنے روحان جلدی سے اسیٹچ پر آتا بولا تھا۔۔۔

ڈا۔ڈائ۔ڈائمن ت۔۔تم۔۔۔

سفان اچانک اٹھتا ہوا ہکلاتا بولا تھا۔۔۔

کیا ہوا سب خیریت ہے سفان میں ڈائمن ہو تو یہ جان کر شوک کیوں ہوۓ ۔۔۔

ویسے بھی جنت کی عادی ہے مذاق کرنے کی یہی ہو گی۔۔۔

روحان پرسکون ہوتا بولتے وہاں سے واپس چلا گیا تھا۔۔

ج۔جنت ڈائمن کی بہن ہے مط۔مطلب میری موت۔۔۔۔

سفان اب واقعی گھبراتا ہوا اسیٹچ سے اترتے فون ملا رہا تھا۔۔۔

ج۔جنت کو چھوڑ دو جلدی جہاں سے پکڑا تھا وہی چھوڑ دو۔۔۔۔

سفان اپنا پیسنہ صاف کرتا بولا تھا۔۔۔

ج۔جی سر وہ میڈم یہاں نہیں پتہ نہیں کہاں گی ہے وہ۔۔۔

سفان کا آدمی ڈرتا ہوا بولا تھا۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ۔۔

سفان کا دل بند ہوا تھا یہ جان کر کہ وہاں بھی جنت نہیں جہاں وہ خود چھوڑ کے آیا تھا۔۔۔

دور کھڑے روحان روحا ہارون سفان کی حالت دیکھتے یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ جنت کے لیے پریشان تھا۔۔۔۔

اب کوئ نہیں جانتا تھا جنت گی کہاں تھی ۔۔۔