Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 30) Last Episode
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 30) Last Episode
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
نہ کرو سفان سونے دو۔۔۔
جنت گہری نیند سو رہی تھی جب اسے محسوس ہوا اس کے کان کچھ چبھ رہا ہو تبھی وہ کروٹ اس کی طرف کیے آنکھیں کیے بولی تھی۔۔۔
پاس لیٹی روحاب نے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی ۔۔۔
کیونکہ سفان کی جگہ وہ لیٹی تھی جیسے جنت اسے سفان سمجھ رہی تھی۔۔۔
سو جاٶ آٶ میں سلاتی ہو ۔۔
جنت روحاب کا سر پکڑے اپنے سینے پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
یہ تم نے کب سے بال لمبے رکھ لیے۔۔۔۔
جنت اس کے بال سہلاتی برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ہااہاہہاہاہہاہااہاا توبہ ہے آپو چھوڑے مجھے میری عزت پر ہاتھ ڈال رہی آپ ۔۔
میں سفان لالہ نہیں ہو جو ایسا کر رہی آپ ۔۔۔
جنت جو بات کرتی اب روحاب پر اپنی ٹانگ رکھتی اور آرام سے اس کا گال چومتی بول رہی تھی جب روحاب آوٹ آف کنٹرول ہوتی دور جاتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔
تم کب آئ ۔۔
اتنی صبح آ گی ہو اور سفان کدھر ہے ۔۔۔
جنت بنا شرمندہ ہوے بکھرے بال لیے اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی جو سفان کی شرٹ میں ملبوس تھی ۔۔۔۔
وہ شانی کو کوئ کام تھا روحان اور سفان لالہ سے اس لیے وہ آیا تو میں بھی آ گی ۔۔
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے صبح کے دس بج رہے ہے ۔۔
روحاب جنت کی حالت دیکھتی مسکراہٹ روکے بولی تھی کیونکہ وہ دوبارہ نیند میں جا رہی تھی ۔۔۔۔
آپو لگتا آپ سوئ نہیں رات ۔۔۔
روحاب اسے شرارتی انداز سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
کہاں سفان نے سونے نہیں دیا ۔۔۔
جنت بے باک ہوتی دانت نکالے بولی تھی ۔۔۔
اففف توبہ آپو آپ کا کوئ حال نہیں ۔۔۔
روحاب اسے شرمندہ کروانے کی بجاۓ خودی شرمندہ ہوتی وہاں سے جاتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہااہاہاہا اب کیا ہوا ۔۔۔
جنت قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ روحاب پچھتا رہی تھی یہاں کیوں آی ۔۔۔
————————————————————
ہاں میں آ جاو گا لیکن آج نہیں دانین کی برتھ ڈے پارٹی ہے تم ایسا کرو پرسوں کی میٹنگ رکھ لو ا۔۔۔۔
ہر وقت کام ہی کیا کرو بس میری فکر ہے تمہیں ۔۔۔
روحاب کے جانے کے بعد جنت ویسے ہی لیٹ چکی تھی جب سفان کو روم میں آتا دیکھ وہ مسکرای تھی جو اسے اگنور کیے فون میں بزی ونڈو کے پاس کھڑا بات کر رہا تھا جب وہ برا سا منہ بناۓ اٹھ کر جاتی اسے بیک ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔
بعد میں بات کرتا میں ۔۔۔
سفان اپنے سکیرٹری کو کہتا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔
تمہاری جگہ کوئ اور لڑکی ہوتی تو شرم سے میرے سامنے ہی نہ آتی لیکن تم تو جنت سفان خان ہو میں کیسے بھول گیا۔۔۔
سفان مسکراتا جنت کے دونوں ہاتھ پکڑے اسے سامنے لاتا بولا تھا جو اسی کی شرٹ پہنے اسی کے سینے سے لگی مسکرا رہی تھی ۔۔۔
ہاں تو کیوں شرماٶ میں ۔۔۔
جنت اپنی باہیں اس کی گردن میں حائل کیے مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
اگر میں تمہیں شرمانے پر مجبور کر دو تو ۔۔۔
سفان نرمی سے اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
مجھے چلینج بہت پسند ہے ۔۔۔
جنت بھی اپنے لب اس کے گال پر رکھتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
نیچے سب پوچھ رہے تھے جنت کہاں ہے ۔۔۔
سفان اسے جھٹکے سے اپنی گود میں اٹھاۓ بولا تھا جب جنت کے بال اس کے چہرے پر گرے تھے۔۔۔
پھر تم نے کیا کہا ۔۔۔
اپنی کمر پر چلتی اس کی انگلیوں سے گھبراتی جنت بولی تھی ۔۔۔
دل سے وہ اب ڈری تھی اس کا چلینج قبول کر کے ۔۔۔
میں نے کہا جنت رات سوئ نہیں تھی ۔۔۔۔
سفان اپنے دانتوں سے اس کی شرٹ کا اوپر بٹن توڑتا بولا تھا۔۔۔
ی۔یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے۔۔۔
جنت تو مذاق سمجھی تھی لیکن اب اپنی شرٹ کا دوسرا بٹن ٹوٹتا دیکھ وہ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔
میں تو معصوم ہو کچھ نہیں کر رہا ۔۔
سفان اس کے سرخ گال دیکھتا مسکراہٹ روکے اب دیوار سے پن کیے بولا تھا۔۔۔۔
ن۔نہ کرو نیچے سب ہے ہاں یاد آیا آج پارٹی ہے میں نے ابھی کپڑے دیکھنے ہے ۔۔۔۔
جنت جلدی سے اسے دھکا دیتی بیڈ پر گراتی خود دور جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاااااا شرما گی میری بیوی ۔۔۔
لال انگارہ چہرہ دیکھتے سفان بیڈ پر لیٹا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔۔
لو یو مائ ڈئیر جانِجنت ۔۔۔
جنت جلدی سے سفان کے اوپر جھکتی اس کے لبوں کو نرمی سے چھوتی اب واش روم کی طرف بھاگتی بولی تھی ۔۔۔۔
افففف میں نے کیسے سوچ لیا میری بیوی ڈرپوک ہو سکتی ہے ۔۔۔
سفان اپنے لبوں پر اس کا لمس محسوس کرتا شوک ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
س۔سر آج ہماری ضروری مینٹنگ ہے نیوزی لینڈ کے ساتھ پچاس کڑوڑ کی ۔۔۔
امید ہے آج ہماری ڈیل ہو جاۓ گی ۔۔۔
روحان کا سکیرٹری کار میں اس کے ساتھ بیٹھا بولا تھا۔۔۔۔
جو آج کافی دن بعد آفس جا رہا تھا۔۔۔
ہمممم۔۔۔
اپنے لیپ ٹاپ پر ضروری ای میلز دیکھتا روحان بولا تھا۔۔۔۔
ت۔۔۔
بولو باربی طیبعت ٹھیک ہے تمہاری ۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ بولتا جب اس نے رنگ کرتا فون اٹھایا تھا جہاں آنیہ کی کال آ رہی تھی ۔۔۔
تبھی وہ فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ۔م۔میری طیبعت نہیں ٹھیک آ۔آپ آ جاۓ۔۔۔
آنیہ پاس بیٹھی ہنسی کنٹرول کیے جنت اور روحاب کو دیکھتے بولی تھی ۔۔۔
جھنوں نے کہا تھا وہ اسے فون کر کے تنگ کرے ۔۔۔۔
ریلکس میری جان میں آ رہا ۔۔۔
نہی۔۔۔۔
روحان سکون سے کہتا آنیہ کی سننے بنا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
مینٹنگ کینسل کرو مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔
روحان سکون سے آڈر دیتا بولا تھا۔۔۔
لیکن سر ہم نے بہت محنت کی ہے اس ڈیل کے لیے پورے چار ماہ م۔۔۔
میری باربی نہیں ٹھیک ایسی ہزار ڈیلز گی بھاڑ میں ۔۔۔
سکیرٹری حیران ہوتا بول رہا تھا جب روحان سردپن سے بولا تھا۔۔۔۔
سر ہمارا نقصان ہ۔۔
اب اگر تم ایک لفظ بھی بولے تو جان سے جاٶ گے۔۔۔
وہ ایک بار بول رہا تھا جب روحان اسے گھورتا بولا تھا۔۔۔
ڈر سے اپنا سانس وہ رک چکا تھا ۔۔۔
جانتا تھا وہ جو کہتا ہے وہی کرے گا۔۔۔۔
————————————————————
و۔وہ آ رہے ہے اہہہ اہہہہ۔۔۔
آنیہ اچانک روتی ہوئ چلائ تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہاہاا کیسے بچوں کی طرح رو رہی ہو میرا بھای اب اتنا بھی جن ٹائپ کا نہیں ہے جو ڈرتی ہو ۔۔۔
جنت اپنی ہنسی کنٹرول کیے بولی تھی جہاں آنیہ نے رونی شکل بنا کر رکھی ہوئ تھی ۔۔۔
آپ۔ن۔نہیں جانتی آ کر کیا کرتے ہے ایک کام بھی نہیں کرنے دیتے آج میں نے خود واک کرنی تھی ۔۔۔
اب آ جاۓ گے خودی طوفان بن کر۔۔۔
آنیہ روٹھے بچوں کی طرح شکل بناۓ کہتی وہاں سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاۓ چلی گی تھی۔۔۔
ہاہااہااہاا ہاہہاہاہہاہاہ ا۔۔۔۔
ہاے شانی آ گیا اچھا آپو میں جاتی ہو ۔۔۔۔
روحاب جو قہقہ لگانے میں بزی تھی جب سامنے سے آتے سبحان کو دیکھتی اپنی جان بچاتی بھاگی تھی ۔۔۔۔
اففف کیسے ڈرتی ہے ساری اپنے شوہروں سے ۔۔۔
جنت اس کی حالت بھی انجواۓ کرتی بولی تھی ۔۔۔
تم نہیں ڈرتی اس لیے سب ڈر جاتی ہے جانِسفان۔۔۔
سفان اس کے پیچھے کھڑا بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
و۔وہ روحی اندر ہے میں بلا کر لاتی ہو ۔۔۔
اپنے قریب اس کا لمس پاتے جنت کانپتی ہوئ اب اٹھ کر سبحان کو دیکھتی بہانہ بناتی اندر کو بھاگی تھی ۔۔
اسے کیا ہوا۔۔۔
ان سے انجان سبحان نے سفان کو دیکھا تھا جو اب مسکراہٹ روکے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہمممم۔۔۔
سفان نے اکندھے اچکاتے اشارہ کیا تھا مجھے نہیں پتہ ۔۔۔
———————————————————–
بابا میں دانین سے عشق کرتا ہو میں نے تو اسے مارا بھی نہ۔۔۔
لیکن وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی بیٹا ۔۔۔
بلال رونی شکل بناۓ برہان کو فون ملاۓ بول رہا تھا جب وہ سکون سے بولے تھے ۔۔
میں کہو گا وہ آ جاۓ گی بابا ایک بار بات کروا د۔۔۔۔
تم یہی گھر آ جاٶ شاہد تب مان جاۓ ورنہ وہ تو ہماری سنتی ہی نہیں ۔۔۔
بلال بول رہا تھا جب برہان مسکراہٹ روکے بولے تھے ۔۔۔
کیونکہ دانین ان کے پاس بیٹھی کاپی پر بڑا بڑا کر کے الفاظ لکھ کر دے رہی تھی جیسے دیکھتے وہ بول رہے تھے۔۔۔
جی بابا میں شام تک آتا ہو ۔۔۔
بلال راضی ہوتا فون بند کر چکا تھا۔۔۔
آ رہا ہے وہ ۔۔۔
یاہوووووو یو آر دی بیسٹ بابا ان دی ولڈ ۔۔۔۔
لو یو بابا جان ۔۔۔
برہان دانین کو بتاتے بول رہے تھے جب صوفے پر اچھلتی دانین نعرہ لگاتی ان کے گال چومتی اب اپنے روم میں بھاگی تھی۔۔۔
برہان مسکراے تھے اپنی پیاری بیٹی کی حرکت پر ۔۔۔۔
———————————————————–
م۔میم آۓ میرا ہاتھ پکڑے واک کر۔۔۔
ج۔ا۔جاٶ۔میں بچ۔بچی نہیں ہو ۔۔
آنیہ لان میں واک کرنے آی تھی جب ملازمہ ہکلاتی بول رہی تھی جیسے دیکھتے وہ طش سے بولی تھی۔۔۔
ارے میری جان غصہ کر رہی ہے ۔۔۔
روحان اس کے قریب آتا بنا اسے سوچنے کا موقع دے گود میں آٹھاۓ اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
آ۔آپ آ گے م۔میں مذاق کر رہی تھی۔۔۔
آنیہ جلدی سے اس کی گردن میں باہیں ڈالے بولی تھی۔۔۔
میری جان نے واک کرنی تھی کیسے بھول جاتا میں ۔۔۔
روحان اب آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کا ماتھا چومتا بولا تھا جب آنیہ نے بلش کیا تھا۔۔۔۔
آ۔آپ بہت اچھے ہے روحان کتنا خیال رکھتے ہے۔۔۔
اس کی گود میں شرماتی آنیہ بولی تھی ۔۔۔
وہ ہر اس کا کیئر کرنے والا انداز اس کا عشق دیکھ ہر حیران ہو جاتی تھی ۔۔۔
جیسے وہ ٹوٹ کر چاہتا تھا ۔۔۔
تمہیں پتہ میں ایسا کیوں ہو ۔۔۔
روحان اوپر دیکھتا مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
ک۔کیوں ہے۔۔۔
آنیہ اس کی شیو کو چھوتی بولی تھی۔۔۔
اشارہ کرتا بولا تھا۔۔۔
جہاں ہارون خان روحا کو کرسی پر بیٹھاۓ ان کے بال بنا رہے تھے جبکہ روحا شرما رہی تھی۔۔۔۔
بابا بہت اچھے ہے روحان ماما سے محبت بھی بہت کرتے ہے ۔۔۔
آنیہ بھی یہ منظر دیکھتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
وہ سارا دن دیکھتی تھی کیسے ہارون روحا کا خیال رکھتے تھے۔۔۔
تو پھر میں اپنے بابا جیسا ہی ہوا میری جان ۔۔۔
روحان اب ہارون پیلس کے اندر انٹر ہوتا بولا تھا۔۔۔
آنیہ بہت خوش تھی روحان جیسا ہمسفر پاتے وہ مطمئن تھی اپنی میریڈ لائف سے ۔۔۔
———————————————————–
ہانی میری جان آج تم وہی ساڑھی پہنا جو تم نے اس وقت پہنی تھی۔۔۔
زیان شام کو گھر آتے حنین کو بیک ہگ کیے بولے تھے۔۔۔
توبہ ہے زیان اب ہماری بیٹی کے بھی بے بی ہونے والا آپ کو یہ سب یاد آ رہا رہنے دے میں نہیں پہن رہی ۔۔۔
زیان جو اپنا چہرہ ان کے بالوں میں چھپاۓ کھڑے تھے جب ہانی اپنا رخ ان کی طرف کرتی بولی تھی۔۔۔
میری جان نہیں ہو پہن لینا یہ تمہارے معصوم شوہر کی خواہش ہے مان جاٶ ۔۔
زیان مسکراتے ان کا گال چومتے بولے تھے ۔۔۔
اچھا پہن لو گی اب خوش ۔۔۔
ہانی شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
اور ہاں ڈانس بھی کرنا میرے ساتھ ۔۔۔
زیان اب دور جاتی ہانی کا ہاتھ پکڑتے بولے تھے۔۔
تاکہ اس عمر میں میری ہڈیاں ٹوٹ جاۓ ۔۔۔
ہانی برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاہہاہااا۔۔۔
جب زیان کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
————————————————————
زینی میری جان اس میں رونے والی کیا بات ہے یار۔۔۔
عمار زینیہ کو چپ کرواتے بولا تھا جو اسی کے سینے سے لگی رو رہی تھی ۔۔۔
عمار میں موٹی ہو گی یہ دیکھو یہ والا ڈریس آنا ہی نہیں ۔۔۔
زینیہ بیڈ پر بیلو شرٹ دیکھتی بولی تھی۔۔۔
یہ ییلو فراک آ جاۓ گی میری جان کو پہن لینا سمپل۔۔۔
عمار اس کا ماتھا چومتا ہوا حل بتاتے بولا تھا۔۔۔
سب نے رات کو سیم ڈریسنگ کرنی ہے تمہاری بیلو ہو گی میری ییلو۔۔۔۔
زینیہ ابھی سوں سوں کرتی بولی تھی۔۔۔
اففف یہ دیکھو بیلو ڈوپٹہ لے لینا میں ییلو واچ پہن لو گا پھر سیم سیم ہو جاۓ گا۔۔۔۔
عمار اسے پیار سے سمجھاتا ہوا اب اس کے بال سہلاتے بولا تھا۔۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے ۔۔۔
زینیہ خوش ہوتی اسے ہگ کیے بولی تھی ۔۔۔
میری جان رویا مت کرو مجھے درد ہوتا ہے ۔۔۔
عمار اس کے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
سوری میں زرا پریشان ہو گی تھی ۔۔۔
زینیہ اب مسکراتی اس کی شیو پر لب رکھتی بولی تھی۔۔۔
زینیہ کی حرکت پر عمار مسکرایا تھا۔۔۔۔
میری شیرنی بھی پریشان ہوتی ہے حیرت ہے ۔۔۔
عمار زینیہ کو اب بیڈ پر لیٹاۓ اس پر جھکتے بولا تھا۔۔۔
اففف عمار ابھی میں نے تیار ہ۔۔۔
زینیہ گھبراتی ہوئ بول رہی تھی جب عمار نے نرمی سے اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لیا تھا۔۔۔
زینیہ مسکرای تھی اس کا لمس پاتے ۔۔۔
———————————————————–
اگر تم ایسا کرتی رہی تو بس ہم پارٹی میں پہنچ جاۓ گے ۔۔۔
سی گرین کا کرتا شلوار پہنے تیار سا شاہ زین اپنی باہوں میں کھڑی پلوشہ کو سیم اسی کی ڈریسنگ میں تیار اسے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
جو بس اس کے چہرے کو سکون سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
بلکل جانے کا موڈ نہیں ہے میرا تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہو دل کرتا وقت یہی رک جاۓ زین ۔۔۔
پلوشہ آرام سے اپنی باہیں اس کی گردن میں ڈالے بہکے ہوۓ انداز سے بولی تھی ۔۔۔
لگتا میری مسز کا دل کچھ اور چاہ رہا ہے ۔۔۔
شاہ زین اس کی اپنے لیے اتنی دیوانگی دیکھ کمر سے پکڑے بولا تھا۔۔۔
ہاں یہی سمجھ لو۔۔۔
پلوشہ اس کے دونوں گال چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
لیپ سٹک خراب ہو جاۓ گی تمہاری ۔۔۔
شاہ زین اپنے لبوں پر چلتی اس کی انگلی دیکھ بولا تھا۔۔۔۔
پھر کیا ہوا میں دوبارہ لگا لو گی ۔۔۔۔
پلوشہ اس کے لبوں کو سہلاتے مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
شاہد ہم نے جانا ہے ۔۔۔
شاہ زین اس کی خوشبو میں مدہوش ہوتا بولا تھا۔۔۔
آج وہ بہت پیاری لگ رہی تھی سی گرین فراک کے ساتھ اس نے حجاب پہنا تھا۔۔۔
ایک کس کرنے سے کتنا ٹائم لگے گا زین ۔۔۔
پلوشہ اپنے لب اس کے لبوں پر نرمی سے رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
شاہ زین مسکرایا تھا وہ ایسا ہی کرتی تھی جب بھی اسے شدت سے پیار آتا تو ایسے ہی وہ اپنا اظہار ظاہر کرتی تھی۔۔۔۔
———————————————————–
میرے خیال سے پارٹی میں جانے کو رہنے دیتے ہے ۔۔۔
تیار ہوئ روحاب کو بیک ہگ کیے سبحان محبت سے بولا تھا۔۔۔۔
جو بلیک اور گرے کلر کی فل فراک پہنے بلیک ہی کلر کا حجاب پہنے اور ساتھ سبحان نے سیم کلر کی ڈرسینگ کی تھی ۔۔
تبھی اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھے بولا تھا۔۔
وجہ ہم جانے والے ہے بلال آنے والا ہے بس۔۔۔۔
روحاب اپنا رخ اس کی طرف کرتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہ تیار ہوئ سبحان کا دل بہکا رہی
تھی۔۔۔
جہاں اتنی خوبصورت بیوی ہو وہاں کیسے ہم باہر جا سکتے ہے۔۔۔
سبحان اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ب۔بعد میں کرنا چلو اب جلدی باہر بابا ویٹ کر رہے ہو گے۔۔۔
روحاب گھبراتی دور جاتی بولی تھی۔۔۔
روکو تو سہی ایک چھوٹی سی کس ہی دے دو۔۔۔۔
سبحان اسے کمر سے پکڑے اس کے لبوں کو اپنی انگلی سے سہلاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
نہیں سب۔۔۔
روحاب گھبراتی ہوئ بول رہی تھی جب سبحان جلدی سے اس کی سانسوں کو قید کیا تھا۔۔۔۔
اس کے ردعمل پر روحاب نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں سے پکڑی تھی۔۔۔
————————————————————
دانین کہاں ہو یار دانین ۔۔۔
بلال خان برہان کے گھر آتے ہی چلایا تھا ۔۔۔
جہاں ہر طرف اندھیرہ ہوا تھا۔۔۔
دیکھو دانین میں بہت محبت کرتا ہو تم سے ایسا م۔۔۔
ہپی برتھ ڈے ٹو یو ۔
ہپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔
بلال ابھی بھی بے چین ہوتا بول رہا تھا جب ہال کی ساری لائٹس آن ہوتے ہی یہ آواز گونجی تھی۔۔۔
برتھ ڈے میرا نہیں د۔۔۔
بلال شوک ہوتا سب کو اتنا تیار دیکھتے بول رہا تھا جب دارجی بولے تھے ۔۔۔
میرے پیارے پوتے اگر آپ کو یاد آے تو آج آپ کا بھی برتھ ڈے ہے مطلب تم دونوں میاں بیوی کا برتھ ڈے ہے ۔۔۔
۔
دارجی بلال کا ماتھا چومتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
ہپی برتھ ڈے بلال ۔۔۔۔
پنک کلر کے شرارے کے ساتھ وہائٹ کلر کی کرتی پنک ہی ڈوپٹہ جیسے اچھے سے سیٹ کیا گیا تھا کھولے لمبے بال ہلکے سے میک اپ میں تیار دانین بلال خان چلتی ہوئ بلال کے سینے سے لگتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
دانین میری جان تم جانتی ہو میں کتنا تڑپا ہو ا۔۔۔
آہمممم آہممم۔۔۔
بلال دانین کا چہرہ پکڑے دیوانہ وار چومتے بول رہا تھا جب سب نے ہوئٹنگ کی تھی۔۔۔
کیا ہے بلال کتنی مشکل سے میک اپ کیا تھا اب دوبارہ کرنا پڑے گا ۔۔۔
دانین اب بیزار سی شکل بناۓ کہتی وہاں سے گی تھی ۔۔
ہاہاہہاہاہاہاااا جا بھای میک اپ کر اپنی چھوٹی بیوی کہ اب ۔۔۔۔
بلاج قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
جا ہی رہا ہو تم کو آ کر پوچھتا ہو میں ۔۔۔
بلال سب کو گھورتا اب اس کے پیچھے جاتا بولا تھا۔۔۔۔
———————————————————-
یہ کیا آذان تم ابھی تک تیار نہیں ہوۓ جلدی اٹھو یار ۔۔۔
شانی کا فون آیا وہ کہتا بلال آ گیا ہے ۔۔
علیزے اور بابر شجرت دیتے ان کو باہر تک چھوڑ کر آتی حجاب اپنی فراک ہنیڈل کیے اب روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں آذان صرف پینٹ اور شرٹ پہنے سکون سے بیڈ پر لیٹا تھا ۔۔
یار جانے کا دل نہیں کر رہا دیکھو تم کتنی پیاری تیار ہوئ ہو تعریف کرنے کا دل کر رہا میرا۔۔۔
اپنے پاس کھڑی حجاب کو بازو سے پکڑتے اپنے سینے پر گراے وہ بہکا ہوا بولا تھا۔۔۔
جہاں اس نے ٹی پنک کلر کی فل فراک پہنی تھی اسی کلر کا تھری پیس آذان نے پہنا تھا ۔۔
آذان یہ مذاق کا وقت نہیں ہے چلو بابا لوگ چلے گے ہے ۔۔۔
حجاب اس پر سے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
یار میں تمہاری تیاری کو ضائع نہیں کرنا چاہتا بس تبھی چا رہا ہو ت۔۔۔
تم جو بھی کرنا چاہو بعد میں کرنا اب اچھے بچوں کی طرح تیار ہو جاٶ چلو شاباش ۔۔۔
آذان بول رہا تھا جب حجاب اسے پکڑتی کھڑا کرتی آرام سے کوٹ پہناتے بولی تھی ۔۔۔
کتنی ظالم بیوی ہو زرا پیار ن۔۔۔
آذان پھولے منہ سے بول رہا تھا جب حجاب نے اس کے گال پر لب رکھے تھے وہی وہ مسکرایا تھا۔۔۔۔
اچھا اب مان جاٶ پلیز میری جان ۔۔۔
حجاب اب اس کا دوسرا گال چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
مجھے تمہاری یہ ادا بہت پسند ہے تمہیں منانا آتا ہے ۔۔
آذان اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا۔۔۔
اب پاگل انسان کو منانا آسان ہو جاتا ہے میرے لیے۔۔۔
حجاب مسکراہٹ روکے دور جاتی بولی تھی۔۔۔
ہاں پاگل ۔۔۔
ایک منٹ مجھے پاگل کہا تم نے ابھی روکو میں بتاتا ہو۔۔۔
آذان راضی ہوتا بول رہا تھا جب سمجھ آتے دوبارہ اسے اپنی گرفت میں قابو کیا تھا ۔۔۔
نہ۔نہیں سوری وہ میں مذ۔۔۔
حجاب اب گھبراتی بول رہی تھی جب آذان مدہوش ہوتا اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔۔۔۔
————————————————————
سوری بلال میں نے بس مذاق کیا تھا ورنہ میں پاگل ہو کیا جو اتنے اچھے شوہر کو چھوڑ دو ۔۔۔
آپ نے ہی مجھے بتایا کہ کوئ ہے جو مجھ سے عشق کرتا ہے آپ میرے ہر کام خود کرتے تھے ۔۔۔
بس یہ پارٹی بھی آپ کے لیے میں نے پلان کی ہے ۔۔۔
جس کے پاس آپ جیسا شوہر ہو وہ لڑکی کبھی نہیں چھوڑے گی مجھے آپ سے عشق ہے ۔۔۔
یہ ننھی سی دانین بلال خان اپنے بلال کے عشق میں پوری ڈوبی ہوئ ہے ۔۔
لو یو بلال۔۔۔
بلال وہائٹ کرتا شلوار پہنے باہر آیا تھا جب دانین اسے کرسی پر بیٹھاۓ اس کے بال بناتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
لو یو ٹو میری جان ۔۔۔
میں بہت ڈر گیا تھا جب یہ سنا تم رہنا نہیں چاہتی میرے ساتھ ۔۔۔
بلال دانین کو اپنی گود میں
بیٹھاۓ اس کے پھولے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
میں نے مذاق کیا تھا آپ اتنا کچھ کرتے ہے میرے لیے یہ چھوٹی سی پارٹی میں نے رکھ لی آپ کے لیے ۔۔۔
دانین شرماتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا مجھے برتھ ڈے گفٹ چاہے ۔۔
دانین اب چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
بتاٶ کیا چاہ۔۔۔۔
مجھے بے بی چاہے جو بلکل آپ جیسا ہو نیلی آنکھوں والا ۔۔۔
بلال مسکراتا بول رہا تھا جب دانین اسی کے سینے میں منہ چھپاے بولی تھی۔۔۔۔
پھر تو مجھے بھی گفٹ چاہے تم سے چلو کس کرو پھر تمہارا گفٹ ملے گا۔۔۔
بلال مسکراتا اس کے بالوں کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
چلیں آنکھیں بند کرے میں کرتی ہو۔۔۔
دانین اپنے ننھے ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اور شرماتے ہوۓ اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکی تھی ۔۔۔
اپنے لبوں پر اس کا لمس پاتے بلال نے مسکراتے اسے کمر سے پکڑا تھا۔۔۔
————————————————————
ہپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔
ہپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔۔
سب کی تالیوں کے درمیان دانین اور بلال نے کیک کٹ کیا تھا۔۔۔
خوش رہو میری جان ۔۔۔
پلوشہ دانین کو کیک کھلاتی اسے ہگ کیے بولی تھی۔۔۔
شکریہ آپو ۔۔۔
دانین مسکراتی بولی تھی۔۔۔
مبارک ہو ججیو میری چھوٹی بہن تم سے راضی ہو گی۔۔۔
بلاج بلال کو کیک کھلاتا مذاق کرتا بولا تھا۔۔۔
شکریہ سالے صاحب آپ لوگوں کی کرم نوازی ہے یہ۔۔۔۔
بلال دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔۔
عمار یار تم تو بتا دیتے مجھے اس پلان کا ۔۔۔
بلال عمار کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
سر بلال میں کہاں بتاتا اب ہماری چھوٹی نے منع کیا تھا سب کو اس پلان کے بارے میں نہ بتانے کا۔۔۔
عمار دانین کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا۔۔۔
کتنی دفعہ کہا ہے سر میں تب ہو جب تم ڈیوٹی پر ہو ویسے میں بلال ہی ہو۔۔۔
بلال مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
چلو آو سارے ایک فمیلی پک ہو جاۓ ۔۔۔
روحان اب سب کو دیکھتا چلایا تھا۔۔۔۔
————————————————————
ہارون خان روحا ۔۔روحان آنیہ ۔سفان جنت۔
زیان شاہ حنین ۔زینیہ عمار۔
اسامہ عمارہ ۔آذان حجاب شجرت۔
بابر علیزے سبحان روحاب۔
برہان پریسہ ۔پلوشہ شاہ زین ۔بلاج اریج۔دانین بلال۔
دارجی مہر صاحب ۔تنزیلہ بیگم ۔نسرین بیگم۔کرن گل خان ۔۔
ساری فمیلی ایک ساتھ کھڑی اب پک بنوا رہے تھے ۔۔۔
سب ہی خوش تھے بالآخر آج سب کی فمیلی پوری ہو گی تھی ۔۔۔
غموں کے بادل ختم ہو چکے تھے اب بس خوشیاں ہی خوشیاں تھی ۔۔۔
ڈی جی والے بھای کوئ سونگ لگا دو ۔۔۔۔
جنت پک بنوانے کے بعد ڈی جے والے کو اُونچی آواز سے بولی تھی۔۔۔
———————————————————-
پنک روز کتنا کہا تھا وہ لہنگا پہن لو ۔۔۔
ہارون خان روحا کو کمر سے پکڑے کپل ڈانس کرتے بولے تھے جو پنک ساڑھی میں ملبوس ان کی پناہوں میں کھڑی شرما رہی تھی۔۔۔
کیا ہے ہارون ہمارے بچے بڑے ہو گے بلکہ بچوں کے بھی بچے ہونے والے ہے لیکن آپ ویسے ہی بے شرم ہے۔۔۔
روحا سرخ گال لیتی اس کے سینے پر مکہ مارتی بولی تھی۔۔۔
اففف یار مجھے آج بھی یاد ہے تم اس دن کتنی حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
ویسے میں سوچ رہا تھا روحان اکیلا ہے کیوں نہ اس کا کوئ بھای لایا ج۔۔۔
ہارونننننننننن۔۔۔۔
ہارون خان انہیں تنگ کرتے مسکراہٹ روکے بول رہے تھے جب روحا شرم سے لال چہرہ لیتی چلای تھی۔۔۔۔
ہاہااہاہااااااا مجھے پتہ میرا نام ہارون خان ہے ب۔۔۔
آپ کا نام بے شرم ہونا چاہے تھا بس بات ختم ۔۔۔
ہارون خان ان کے بال سہلاتے بول رہے تھے جب روحا انہی کے سینے میں منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔
اچھا سنو تو س۔۔۔
میں کچھ نہیں سن رہی ۔۔
ہارون ان کا چہرہ پکڑے بول رہے تھے جب روحا ویسے ہی منہ چھپاۓ بولی تھی۔۔۔
ہاہاہااہااہاہ میری معصوم پنک روز۔۔۔
ہارون خان قہقہ لگاتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
————————————————————
ڈراک بیلو کلر کی فل فراک پہنے سر پر حجاب لیے اریج بلاج کی باہوں میں کھڑی کپل ڈانس کر رہی تھی ۔۔۔
سیم کلر کی ڈریسنگ بلاج نے کی تھی ۔۔۔۔
میں چاہتا ہو میری پیاری سی بیٹی ہو جس کی گرے آنکھیں ہو ۔۔۔
بلاج کپل ڈانس کرتا اس کی آنکھوں کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
لیکن میں بیٹا چاہتی ہو جو تمہارے جیسا ہو۔۔۔
اریج بلاج کی شیو کو چھوتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
چلو جڑواں کر لے گے جیسے میں اور پلوشہ تھے۔۔۔۔
اریج کو اپنے سینے سے زور سے لگاۓ بلاج بے باک ہوتا بولا تھا۔۔۔
افففف توبہ ہے میں ابھی تک حیران ہو تم ڈاکٹر کیسے بن گے۔۔۔۔
اریج شرم سے پانی پانی ہوتی اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ بولی تھی۔۔۔
بس یار کیا بتاٶ میں خود نہیں جانتا کیسے بن گیا ڈاکٹر۔۔۔۔
بلاج اس کے بالوں کو چومتا معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
اففف یہ منحوس تمبو پہن لیا میں نے سارا قصور تمہارا ہے سفاننننن۔۔۔
جنت سفان کے ساتھ کپل ڈانس کر رہی تھی جب لہنگے سے ہی پاٶں بار بار اٹک رہا تھا ۔۔۔
تبھی وہ جنھجلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ملٹی کلر کے فل بھاری لہنگے میں ملبوس وہ ہلکے سے میک اپ میں سفان کی پناہوں میں کھڑی بولی تھی ۔۔۔
سیم کلر سفان نے پہنا تھا۔۔۔
تو یار میں اٹھا لیتا ہو ۔۔۔۔
سفان اس کا غصے سے سرخ چہرہ دیکھتے مسکراہٹ روکے اسے اپنی گود میں اٹھاۓ بولا تھا۔۔۔
سفان ۔۔۔
جنت سفان کی گردن میں منہ چھپاے بھاری سرگوشی کرتی بولی تھی۔۔۔
بولو جانِ سفان۔۔۔
سفان اس کے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
مجھے بیٹا چاہے جو بلکل تمہارے جیسا ہو پیارا سا۔۔۔۔
ایسی ہی گرین آنکھیں ہو۔۔۔
جنت اس کی آنکھوں کو چومتی شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔
سوچ لو ہنیڈل کرنا پڑے گا ۔۔
سفان اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
وہ تم ہنیڈل کرلینا میں کیوں کرو گی ا۔۔۔
بچہ میں نے ہنیڈل کرنا تو تم کیا کرو گی۔۔۔
جنت اپنی انگلی اس کے گال پر پھیرتی بول رہی تھی جب وہی انگلی سفان اپنے لبوں میں دباۓ بولا تھا۔۔۔
میں عشق کرو گی تم سے ۔۔۔
جنت شرماتے ہوۓ اس کا گال چومتی ہوئ بولی تھی۔۔
ہاہاہہاہاہاہ ۔۔۔
سفان اس کی حرکت پر دل کھول کر قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
————————————————————
ہاے میں تھک گی روحان۔۔۔
روحان کے سینے پر سر رکھے آنیہ رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔
تو میری جان میں ہو نہ اٹھانے کے لیے ۔۔۔
کریم کلر کی فراک ساتھ ملٹی کلر کے ڈوپٹہ لے آنیہ ہلکے میک اپ میں پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
اسی کلر کا شلوار کرتا روحان نے پہنا تھا۔۔۔۔
ر۔روحان میں چاہتی ہو ہمارا بیٹا ہو بلکل آپ جیسا خوبصورت ہو ۔۔۔۔
آنیہ جو جب بھی اس پر بے حد پیار آتا تھا تبھی وہ اس کا پورا نام لیتی تھی ۔۔۔
ابھی بھی شرماتے ہوۓ اس کی آئ برو میں لگے ڈائمنڈ کو چھیرتی وہ بولی تھی۔۔۔۔
مجھے بیٹی چاہے تمہاری جیسی بلکل ڈول ہو۔۔۔
روحان اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
ل۔لیکن مجھے بی۔بیٹا چاہے بات ختم ۔۔
میں اسے آپ جیسا بناو گی ۔۔
آنیہ شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔
اچھا جیسے تمہاری مرضی۔۔۔
روحان اس کی آنکھوں کو چومتا بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
حجاب میں سوچ رہا تھا شجرت کا بھای آنا چاہے اب۔۔۔
آذان حجاب کو کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاے مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
کیا ہے آذان شجرت ابھی چھوٹی ہے ا۔۔۔
میں بھی وہی چاہتا ہو شجرت کا بھای آ جاۓ گا تو کمپنی ملے گی اسے۔۔۔
حجاب شرماتے ہوۓ بول رہی تھی جب آذان اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
شرم کرو آذان سب ہے یہاں۔۔۔
حجاب آس پاس دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں سب ہی اپنے آپ میں بزی تھے۔۔۔۔
یار میری ننھی سی خواہش ہے شجرت کا بھای آ جاے۔۔۔
آذان اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
شجرت اگنور ہو جاۓ گی اگر ایسا ہوا پھر ر۔۔۔
ریلکس یار کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک رہے گا شجرت کو کوئ اگنور نہیں کرے گا۔۔۔۔۔
آذان آس کے بال سہلاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہمم۔۔۔
حجاب اس کے سینے پر سر رکھے بولی تھی۔۔۔
سب کو اپنا عشق مل چکا تھا سب ہی خوش تھے اپنی زندگی میں ۔۔۔
سب نے ہی اپنا ہر غم بھول کر عشق پایا تھا ۔۔
ہارون روحا حنین زیان بابر علیزے اسامہ عمارہ پریسہ برہان کرن گل خان سب ہی خوش تھے اپنے بچوں کو اتنا خوش باش دیکھ کر ۔۔۔
جنھوں نے عشق کیا تھا اور اتنی مشکلات سہتے سب ہی آج خوش تھے۔۔۔
دھیمے سروں پر سب ہی اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ کپل ڈانس کر رہے تھے ۔۔۔۔
”عشق بالا لو” سرخ بالا، سوز بالا، فیض بالا لو” ہوتا ہے جو لو سے زیادہ فیض بالا لو عشق بالا “”![]()
“لو ہوا جو درد بھی تو ہم کو آج کچھ زیادہ ہوا عشق بالا لو یہ کیا ہوا ہے کیا خبر یہی پتا ہے زیادہ ہوا اگر یہ اس کو بھی ہوا ہے پھر بھی مجھ کو زیادہ ہوا عشق بالا لو ““
““میری نیند جیسے پہلی بار ٹوٹی ہے آنکھیں مڑ کے میں نے دیکھی ہے صبح تیری ہوئی دھوپ زیادہ لے کے روشنی دینے چڑھا عشق بالا لو ““![]()
““جا کے بادلوں کی چال کے پیچھے سے گہری چاندنی یہ مجھ کو اتنا لے کے نور ساتھ چاند یہی چھپا چھپا ہوا عشق بالا لو “
““ہوا جو درد بھی تو ہم کو آج کچھ زیادہ ہوا عشق بالا کو یہ کیا ہوا ہے کیا خبر یہی پتا ہے زیادہ ہوا اگر یہ اس کو بھی ہوا ہے پھر بھی مجھ کو زیادہ ہوا““![]()
““ کیوں نہ ایسا ہوتا جو ملتے تم ہو جاتے گم ساتھ میرے ہوتے ہوتے ہو کا سمجھاتے ہم تھم جاتے ہم، وہ دل مرے ٹوٹا زیادہ زیادہ تارا جب گرا زرا زیادہ زیادہ مانگوں دل تیرا بڑا یہ دل نادان تھا پر آج کچھ زیادہ ہوا عشقِ بالا لو““![]()
““ کیوں زیادہ ہوا’ عشق بالا لو ہوا جو درد بھی تو ہم کو آج کچھ زیادہ ہوا عشق بالا لو سرخ بالا، سوز بالا، فیض بالا لو ہوتا ہے جو لو سے زیادہ فیض بالا لو عشق بالا لو““![]()
![]()
![]()
ختم شد![]()
![]()
