Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 3)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 3)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
جنت گرے شخص کے اوپر آتی طنزیہ مسکراہٹ لاتی اس سے گن لیتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ نیچے گرے شخص کی ڈراک براٶن آنکھیں مسکرای تھی ۔۔
ایک شیطانی سوچ آ کر ۔۔
وہی جنت اس کی آنکھوں کی چمک میں کھو چکی تھی ۔۔
ت۔آہہہہہ۔۔۔
اس سے پہلے جنت کچھ کہتی جب نیچے گرے انسان نے جھٹکے سے اپنا سر جنت کے سر پر مارتے اسے دور گرایا تھا ۔۔۔۔
بلیک پینٹ ساتھ ریڈ شرٹ پہنے اپنے بوب کٹ بالوں کے ساتھ کالی گہری آنکھیں سرخ پھولے گال لے جنت اب اکیلی سنسنان سڑک پر گری تھی ۔۔۔۔
بلیو جینز ساتھ پنک کلر کا ٹاپ منہ پر ماسک لگاۓ آپنی ڈراک براٶن آنکھوں میں ایک انجانا خوف لاۓ سر پر کیپ پہنے وہ سڑک سے اٹھتی جنت کے اوپر جھکی تھی ۔۔۔۔
گرل باس ہو گی سب کے لیے میرے لیے تم کچھ بھی نہیں ہو سمجھی بہارے نام ہے میرا ۔۔۔
انہہ ۔۔۔
بہارے ہو یا خزاں تم نے میرے گلاسز بھی توڑ دے ۔۔۔
جنت بہارے کی ٹانگ پکڑتی دوبارہ گراتی شدید طش سے چلائ تھی ۔۔۔
تو اپنے باپ سے کہو وہ لے دے اس میں پاٶں پکڑنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔
بہارے اپنی ٹانگ چھڑاوتی برا سا منہ بناۓ دور بھاگی تھی ۔۔۔
ت۔۔۔
جنت اٹھتی پیچھے سے اس کی کیپ اتارتی بولی تھی ۔۔۔۔
جب اس کے کھولے ڈراک براٶن بال کمر سے نیچے جھولتے دیکھ وہ حیران ہوئ تھی ۔۔۔
ی۔یہ تو ماما جیسے اس کے بال اور آنکھیں بھی ویسی ۔۔۔
اوےےےے رک تمہیں گن چاہے میں دیتی ہو روکو تو سہی ۔۔
جنت دور جاتی بہارے کے پیچھے بھاگتی کچھ سوچتی پریشان ہوتی چلائ تھی ۔۔
جبکہ بہارے سب بھلاۓ بھاگی جا رہی تھی ۔۔۔
ر۔روح۔روحان۔۔۔۔
جنت کو بھاگنے سے سانس پھول گیا تھا ۔۔
تبھی وہ روحان کو فون ملاتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
ر۔ر۔۔۔
کیا ہوا آپو آپ بھاگی تھی کیا ضرورت تھی میں نے منع کیا تھا گارڈز کدھر ہے ۔۔
اس سے پہلے جنت کچھ کہتی جب اس کی پھولی سانس کو محسوس کرتا روحان غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔
و۔وہ ملی ۔مجھ۔سچی و۔وہی تھی ۔۔
جنت اس کی بات اگنور کیے بولی تھی ۔۔
تم نے چہرہ دیکھا اس کا ۔۔
روحان بے تاب ہوتے سوال پوچھا تھا۔۔۔
نہیں و۔۔۔۔
چلو جاٶ پھر گھر ۔۔۔
جنت نہ میں کرتی بول رہی تھی جب روحان سردپن لاۓ بولتا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔
————————————————————
ہاے حجاب مہندی پر کوئ کھاتا ہے کیا ۔۔
پلوشہ حجاب کے ہاتھ میں چاکلیٹ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں تم بھی کھاٶ یمی ہے ۔۔۔
حجاب مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔
کم کھایا کرو موٹی گول گپا بن چکی ہو۔۔۔
آذان زبردستی مسکراہٹ لاۓ حجاب سے چاکلیٹ لیتا خود کھاتا بولا تھا۔۔۔
تم بھی تو موٹے ہو ۔۔
حجاب اس کی باڈی دیکھتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہااہاہاا اچھا یہ بتاٶ گرل باس کدھر ہے ۔۔۔
پلوشہ سب کی طرف دیکھتی قہقہ لگاتا بولی تھی ۔۔۔
وہ آتی ہو گی لو آ گی ۔۔۔
آذان سامنے سے آتی جنت کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
لان میں سارے بیٹھے مہمان جنت کی لک دیکھ رہے تھے جو چلتے ہوۓ بھی لڑکا لگ رہی تھی ۔۔۔۔
کہاں تھی تم ۔۔۔
پلوشہ جنت کے کندھے پر مکہ مارتی غصے سے بولی تھی ۔۔۔
ارے یار وہ کام تھا چھوڑو یہ بتاٶ مہندی ہو گی ۔۔۔۔
جنت حجاب کے گال پر کس کرتی پلوشہ کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
یہ غلط بات ہے سب کو کس مجھے بھی چاہے ۔۔۔
پلوشہ کے بولنے سے پہلے بلاج وہاں آتا رونی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
میں کیوں کس کرو جاۓ ڈاکٹر صاحب اپنے مرئض دیکھے ۔۔۔
جنت مسکراتی ہوئ بلاج کے گال کھیچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاۓ تم کرو کس ڈاکٹر کا معصوم سا دل خوش ہو جاۓ گا ۔۔۔
بلاج جنت کا ہاتھ پکڑتے شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہاہاا کس نے تمہیں ہارٹ سرجن بنا دیا ۔۔۔
جنت قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔
میں خوبصورت بھی بہت ہو یار ۔۔
بلاج شرمانے کی ایکٹینگ کرتا بولا تھا۔۔۔۔
شرم کرو بلے میرے دو پیارے سے بھائ بھی یہاں ہے ۔۔۔
جنت آذان اور عمار کی طرف دیکھتی اسے وارن کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں تو میں کون سا ڈرتا ہو ان سب سے ۔۔۔
بلاج نڈر ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ارے روحان بھائ آپ آ ۔۔۔
دیکھ بہن ہارٹ کا ڈاکٹر ہو کیوں مجھے ہارٹ اٹیک دینے کو تیار ہو ۔۔۔
جنت مذاق کرتی اُونچی آواز سے بول رہی تھی جب بلاج جلدی سے ڈرتا پیچھے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
مجھے بہت خوشی ہوتی روحان کے علاوہ مجھے تین بھائ اور ملے ہے ۔۔۔
جنت اچانک سنجیدہ ہوتی بلاج کے سینے پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔۔
بلاج پلوشہ حجاب آذان عمار اریج سب جنت کی فیلیگز سمجھ سکتے تھے ۔۔۔۔
تو اسی بات پر ہمیں کس دو ۔۔۔
عمار مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
چلیں میں کرتی ہو۔۔
جنت راضی ہوتی سب کو لائن پر کھڑا کرتی سب کے ہاتھوں پر کس کر رہی تھی ۔۔۔
بلاج عمار آذان سب کے ہاتھ پکڑتے کس کرنے کے بعد وہ ساتھ کھڑی پلوشہ اریج زینیہ حجاب کے گال پر کس کرتے آگے آئ تھی ۔۔۔
جیسے ہی وہ آگے آی کسی نے اس کے سامنے اپنا سفید بھاری ہاتھ کیا تھا۔۔۔
جیسے ہی وہ نیچے جھکتی اس کے ہاتھ پر لب رکھنے والی تھی وہی کھڑے شخص کے پاٶں میں فوجی لونگ شوز دیکھتے وہ جٹھکے سے پیچھے ہوئ تھی ۔۔۔
تم کیوں آۓ ہو یہاں ۔۔۔
جنت شدید غصے میں سامنے فوجی یویفارم پہنے سبحان کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
سب جانتے تھے جنت اس سے کتنی نفرت کرتی تھی ۔۔۔۔
آنی نے بلایا تو آنا پڑا مجھے ۔۔۔
سبحان مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
وہی مہمانوں میں آئ لڑکیاں تو سبحان کو فوجی روپ میں دیکھ کر پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔
تو ملو جا کے انہہ بلاوجہ آ گے اچھا ہوتا اگر وہی کسی میشن میں مر جاتے ۔۔۔
جنت زہر اگلتی ہوئ بولی تھی ۔۔
وہ بھول گی تھی پاس کھڑی اس کی بہن کے دل پر کیسی گزاری ہو گی ۔۔۔
جنتتتت تم سب سے بڑی ہو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کچھ بھی بول دو۔۔۔
بھائ ہے میرا جانتی ہو پورے سال بعد آیا ہے ا۔۔
اور میرے بھائ کا کیا تم سب جانتے ہو وہ بھی تیرہ سال ہو گے انہیں پاکستان سے گے ہوۓ نیوزی لینڈ چلے گے ۔
ان تیرہ سالوں میں آج تک اپنے بھائ کا لمس نہیں پایا میں نے ۔۔
صرف اس شخص کی وجہ سے نفرت ہے مجھے آرمی والوں سے ۔۔
یہ تو صرف تمہارے بھائ کے لیے اتنا کہہ ۔۔۔
انہہہ سب ڈرامہ میرا کوئ بھائ نہیں ہے ۔۔۔
حجاب غم سے چلاتے بول رہی تھی جب جنت بھی شدید غصے میں آتی چلائ تھی ۔۔۔
دیکھو آپو میں بھی تمہارا بھائ ہو اس میں سبحان کا قصور نہیں ہے وہ ت۔۔۔
بس کرے یہ سب اسی کا قصور ہے نفرت ہے مجھے تم سے سنا تم نے ۔
بلاج اسے نرمی سے سمجھا رہا تھا جب جنت پھر چلاتے بولی تھی ۔
اس کی آواز سنتے ہارون روحا علیزے بابر عمارہ آسامہ زیان حنین برہان پریسہ سب آ گے تھے ۔
کیا ہوا ۔۔
علیزے سمجھ تو گی تھی کیا ہوا تبھی وہ سبحان کو گھورتی بولی تھی ۔۔
اچھا نہیں کیا ماما آپ نے ۔۔۔
جنت سب کو چھوڑے روحا کی طرف شکوہ کرتی نگاہوں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
کیوں بلایا روح اسے ۔۔۔
علیزے بھی روحا کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ریلکس علیزے میں سمجھ سکتی ہو جب بچے ماں باپ سے دور ہو جاۓ ان کے اوپر کیا گزارتی ہے میں نے سبحان کو خودی بلایا کیونکہ حجاب اس کی لاڈلی بہن ہے ۔۔۔
میں نہیں چاہتی میری وجہ سے کوئ بھی اپنے بچوں کو قصوروار سمجھے ۔۔۔
سبحان کا حق ہے اپنی بہن کی ہر خوشی میں شامل ہو ۔۔
جنت کو ہارون ہینڈل کر لے گے ۔۔۔
آپ سب انجواۓ کرے دیکھے میری بیٹی کیسے اداس ہو گی ہے ۔۔۔
روحا خود پر ضبط کرتی حجاب کے پاس جاتی اس کا ماتھا چومتے بولی تھی ۔۔۔
لیکن ر۔
بس کرو یار ورنہ میں نے سب کو اپنے بابا کے گھر سے باہر نکال دینا ہے ۔۔۔
علیزے بول رہی تھی جب روحا مسکراتی ہوئ بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاے ایسے تو نہیں میں پاگل اپنی روح کے لیے کیا تھا اگر ہماری شادی ہو جاتی ۔۔۔
پریسہ سب کا موڈ کرنے کے لیے روحا کو ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاے بے شرم بھابھی کتنی دفعہ کہا روحا آپو صرف میری ہے دور رہا کرے اب تو بوڑھی ہو گی آپ تو۔۔۔
حنین جیلس ہوتی پری اور اس سے دور کرتی خود روحا کو زور سے ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہاہااااہ۔۔۔
بس کرو یار چلو مہندی کا فکیشن ختم کرو جاٶ تم دونوں کو نیند آئ ہے ۔۔۔
روحا دونوں کی حالیتں دیکھتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
میری جان کیا کر رہی ہے ۔۔۔
جنت وہاں سے غصے سے نکلتی گل خان کے پلیس آ گی تھی ۔۔۔
جب انیہ کے روم میں انٹر ہوتے وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہ دنیا جہاں سے بے خبر ہوتی ہاتھ میں لیپ ٹاپ پکڑے سو رہی تھی ۔۔۔
وہی لیپ ٹاپ پر ویڈیو کال چل رہی تھی جہاں دوسری طرف روحان بس مگن ہوا انیہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہاہاہااہا بھای اب تو جان چھوڑ دیا کرے اب تو یہ بڑی ہو گی ہے ۔۔۔۔
جنت لیپ ٹاپ اپنی طرف کرتی بولی تھی ۔۔۔
پہلے باربی کو اٹھاٶ بیڈ پر لیٹاٶ اسے ۔۔۔
اور میری وائس کلیپ آن کر دو تاکہ وہ سکون سے سو سکے ۔۔۔
روحان اس کی بات اگنور کیے اپنی بات کہی تھی ۔۔۔
اففف بھای ۔۔
جنت اس کا پاگل پن والا عشق دیکھتی جھرجھری لیتی ہوئ بولی تھی ۔۔
جنت نے ایک ہی جٹھکے میں گہری نیند سوتی انیہ کو گود میں آٹھاۓ بیڈ پر لیٹایا تھا ۔۔۔
وہی اس کے موبائل پر روحان کی وائس آن کر دی تھی جس میں روحان اپنی بھاری اور خوبصورت آواز میں اسے قرآن پاک کی تلاوت سنا رہا تھا ۔۔۔
وہی انیہ نیند میں مسکراتی اپنے پاس پڑے ٹیڈی بیر کو گلے لگا تھا جس پر اس نے روحان کی پک لائ تھی ۔۔۔
سبحان پر اتنا غصہ کیوں ۔۔
روحان جنت کی طرف دیکھتا سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔
دے دی جاسوس نے تمہیں خبر تم جانتے ہو نفرت ہے مجھے اس سے ۔۔۔
جنت طش سے بولی تھی ۔
اس بچارے کا قصور نہیں ہے بلاوجہ وہ اتنے سالوں سے تمہارے غصہ کا نشانہ بنا ہے ۔۔
روحان سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔
اہننہہ دفع کرے یہ بتاۓ کب آ رہے ۔۔۔
جنت بھی سیریس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
بہت جلد۔۔۔
یہ لفظ میں بہت سالوں سے سن رہی ہو ۔۔۔
کیا تب آٶ گے جب میں مر جاٶ گی ۔۔۔
روحان بات ٹالتا بول رہا تھا جب جنت دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔
ارے تم بڑی ڈھیٹ بندی ہو اتنی جلدی نہیں مرو گی ۔۔
چلو خیال رکھو اپنا ۔۔۔
روحان اپنی کہتا جلدی سے کال کٹ کر چکا تھا ۔۔۔
———————————————————–
خوبصورت پنک کلر کے فل روم میں جہاں ہر چیز پنک کلر کی تھی جہازی سائز بیڈ پر اندھیرہ کیے وہ سب خاموش بیٹھی ہوئ تھی ۔۔۔
جیسے کسی گہری سوچ میں ہو ۔۔۔
کیا کرے ایسا کہ روحان پاکستان آ جاۓ ۔۔۔
جنت کو اداس دیکھتی اریج زینیہ حجاب پلوشہ سب اکٹھی بیٹھی سوچ رہی تھی ۔۔۔
حجاب تو تھکن کی وجہ سے وہی لیٹتی کبھی نیند میں جاتی تو کبھی اٹھ جاتی ۔۔۔
جنت ویسے ہی خاموش بیٹھی تھی ۔۔۔
کچھ تو ایسا ہو دھماکے دار کہ روحان پاگلوں کی طرح بھاگتا ہوا آے ۔۔
زینیہ بھی اداس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
آئنڈیا بس تھوڑا سا کام کرنا پڑے گا ہمیں ۔۔
اریج اپنے شیطانی دماغ سے سوچتی چیختی بولی تھی ۔۔
رہنے دو کیوں مجھے شادی سے پہلے ہی مارنا چاہتی ہو جانتی ہو وہ چھوٹے ہوتا تھا تب ہی اتنے غصے رعب والا تھا اس کی وحشت ناک ڈراک براٶن آنکھوں میں دیکھ کر میری تو بھوک کی مر جاتی ہے ۔۔
اریج کا پلان سنتی سب سے پہلے حجاب ڈرتے بولی تھی ۔۔
مجھے پسند آیا ہے تھوڑا سا خطرناک بناتے ہے پھر مزہ آیا گا ۔۔۔
یا تو روحان کے ہاتھوں موت پکی یا تو وہ پاکستان آ جاۓ گا ۔۔۔
یار ایک ہی لائف ہے جب تک وہ اچھے سے نہ گزارے تو فائدہ زندہ رہنے کا ۔۔۔۔
پلوشہ خوش ہوتی اپنا پلان بھی سنتاتی بولی تھی ۔۔۔
وہی حجاب کے پیسنے چھوٹے تھے اس کا یہ پلان سنتے ۔۔
شاباش دیکھا میری کمپنی کا اثر ہے گڈ جاب جانی ۔۔۔
اریج اور جنت ایک ساتھ اس کے گال ہر کس کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ارے چھوڑو میری عزت پر ہاتھ ڈال رہی ہو ۔۔
پلوشہ دونوں کو دور کرتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
ہاۓ کب صبح ہو گی ۔۔۔
زینیہ بے تاب ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جب ہم سوۓ گے یار سونے دو ۔۔
حجاب اب تنگ آتی بولی تھی ۔۔
سب جنت کے روم میں ہی سونے آۓ تھی ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا پری ۔۔۔
برہان رات کو پریسہ کے پاس آتا فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔
میں سوچ رہی تھی بلاج کی شادی جنت سے کروا د۔۔۔
یہ کیسی بات ہے جنت بلاج کو بھائ مانتی ہے ایسا کچھ نہیں ہونے والا ۔۔۔
پری بول رہی تھی جب برہان سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔
پتہ نہیں کس کی نظر لگ گی ہم سب کو ہمارے سارے بچے کتنے خوش تھے ۔۔۔
روحاب اور دانین کا سوچ کر رونے کا دل کرتا ہے ۔۔
پری اچانک اداس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہمارے سارے بچے ٹھیک ہے ایک دن آۓ گا سب مل جاۓ گے ۔۔۔
برہان پری کو اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔
میری تو ایک بیٹی دور ہوئ ہے میں روز تڑپتی ہو برہان ۔۔
روح کا کیا حال ہوتا ہو گا اس کے دونوں بچے اس سے دور ہے ۔۔۔
کتنے حوصلے والی ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا ہو گا۔۔۔
پری اب روتی بول رہی تھی ۔۔۔
میری آپو بہت بہادر ہے یار جہاں اتنا صبر کیا یہ تھوڑا سا صبر بھی سہی ۔۔۔
برہان بھی اداس ہوتے بولے تھے ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا تھک گے آپ ۔۔۔
روحا ہارون کے کندھوں پر ہاتھ رکھتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہ اسٹڈی ٹیبل پر لیپ ٹاپ رکھے کام کر رہا تھا ۔۔
ارے میری پنک روز کہاں تھک گیا میں جب تک تمہاری جیسی انرجی میرے پاس ہے میں بلکل ٹھیک ہو ۔۔۔
ہارون مسکراتے ہوۓ روحا کا ہاتھ پکڑے اپنی گود میں بیٹھاۓ بولے تھے ۔۔۔
کیا کر رہے بچے سب گھر پر ہ۔۔۔
گھر پر ہے روم میں تو نہیں پنک روز آج بھی گھبراتی ہو ۔۔۔
روحا گھبراتی بول رہی تھی جب ہارون اس کی ناک کی نوز رنگ کو چومتے بولے تھے ۔۔۔
آج تک آپ کا رومینس نہیں گیا توبہ ہے ۔۔
روحا ہارون کا خوبصورت چہرہ دیکھتی پیار سے بولی تھی ۔۔
ہارون کی خوبصورتی میں فرق نہیں آیا تھا بس سر کے بال صرف کنپٹی ہی سفید تھے باقی آنکھوں پر نظر کا چشما لگ چکا تھا ۔۔
جو اس کی باوقار پرسنلٹی کو اور زیادہ خوبصورت بنا رہی تھی ۔۔۔
زندگی کے اب تک کے خوبصورت سفر تک میرا ساتھ دینے کا شکریہ جیسے مجھ جیسی بکھری کھڑوس لڑکی کو آپ نے اپنے عشق سے ہنیڈل کیا اس کا شکریہ کرنا میرے لیے کم ہو گا ۔۔۔
روحا ہارون کی گلاسز اتارے وہاں اپنے لب رکھتی بولی تھی ۔۔۔
یا تو رو لو یا رومینس کر لو یار میں اکنفیوژ ہو رہا ۔۔
ہارون اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بولا تھا ۔۔۔
آپ سے بات کرنا فضول
ہے بے شرم ہو گے ۔۔
روحا سرخ چہرہ لیتی جلدی سے اٹھتی بولتی بیڈ پر جا کر بیٹھ گی تھی ۔۔۔
————————————————————
س۔سر ۔۔
بولو۔۔۔
وہ اپنے روم میں تنہا بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا ۔۔
جب اس کا سکرٹیری اندر آتا ڈرتا بولا تھا ۔۔۔
تبھی وہ بنا دیکھے بولا تھا ۔۔۔
سر پاکستان سے آپ کی دادی کا فون آیا ہے ۔۔۔
سکریٹری ڈرتے ڈرتے فون اسے پکڑاتے بولا تھا ۔۔
ہممم۔۔
وہ اپنے منہ میں سگریٹ دباۓ فون لیتا اپنے ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
سلام گرئنڈ موم۔۔
وہ فون لیتا سردمہری سے بولا تھا۔۔
کچھ شرم کرو سلام پورا لیتے ہے پورا لو اور یہ انگریز بنے کی ضرورت نہیں دادی ہو ۔۔
دادی فون پر ہی غراتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا سوری میں سلام کر دیتا ہو۔۔
السلام و علیکم۔۔
اب خوش ۔۔
وہ دوٹوک بات ختم کرتا بولا تھا ۔۔۔
کب آو گے میں ترس گی ہو تمہیں دیکھ۔۔۔۔
چاندنی کیسی ہے ۔۔
دادی آبدیدہ ہوتی بول رہی تھی جب وہ اپنے مطلب کا سوال پوچھ چکا تھا۔۔
ہاں حجاب کی مہندی تھی وہاں گی ہی نہیں اور خودی تھک کر سو گی ۔۔۔
دادی مسکراتی بولی تھی ۔۔
جانتی تھی اسے آنیہ سے کتنی محبت تھی ۔۔۔
چلے کوئ اور کام ۔۔
وہ ایسے بول رہا تھا جیسے وہ کوئ سوال کرنے والی میشن ہو بس ۔۔۔
کب آو گے ا۔۔۔
اپنا خیال رکھنا دادی میں جلد ہی آ جاٶ گا ۔۔
روم میں آتے اپنے آدمیوں کو دیکھتے وہ سب اگنور کرتا اپنی کہہ کر فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔
س۔سر یہ ڈائمن سر نے آپ کے لیے بھیجا ہے ۔۔۔
اس کے سامنے ایک شیشے کا بوکس رکھتے وہ گھبراتے بولے تھے ۔۔۔
کیونکہ شیشے کے بوکس میں دس بارہ دل دھڑک رہے تھے جو اس بوکس میں سیو کیے رکھے تھے ۔۔۔
زبردست۔۔
اتنے سارے دل دیکھتے اس کی گرین آنکھیں مسکرائ تھی ۔۔۔
تبھی وہ خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔
جبکہ سارے آدمی حیران تھے کیا یہ پاگل تھا یا ڈائمن جو اسے ایسے زندہ دل بھیجتا تھا ۔۔۔
————————————————————
شکریہ ڈائمن۔۔۔
وہ اپنے مخصوص روم میں بیٹھا اپنے سامنے پڑی لاشیں دیکھ رہا تھا ۔۔
جب اسے فون آیا تبھی وہ مسکراتا فون آٹھا چکا تھا ۔۔
جب وہ بولا ۔۔۔
جب اور چاہے تب بتا دینا ۔۔۔
ڈائمن دو لفظی بات کرتا فون کاٹ چکا تھا ۔۔۔
دونوں ایک جیسے تھے اپنے کام سے کام رکھنے والے نہ کسی سے ملتے نہ زیادہ بولتے ۔۔
بس اتنا بولتے جس میں دو یا چار لفظ ہوتے ۔۔
وہ دونوں ہی سب کے لیے چلتی پھرتی موت تھی فرق صرف اتنا تھا ایک کی آنکھیں ڈراک براٶن تو دوسرے کی گرین تھی ۔۔۔
آٹھاٶ اسے تم لوگ جانتے ہو مجھے خون نہیں پسند ۔۔۔
ڈائمن سگریٹ اپنے لبوں میں لیتا حکم دیتا بولا تھا۔۔۔
حکم ملتے ہی سب ایسے کام کرنے لگ گے جیسے روبوٹ ہو ۔۔۔
———————————————————–
ایسے ہی یونی جاٶ گی ۔۔۔
صبح پری پلوشہ کو جینز ٹاپ کے ساتھ جاتے غصے سے بولی تھی ۔۔
کیونکہ ٹاپ بامشکل اس کی کمر تک آ رہا تھا ویسے بھی وہ بنا کسی سٹالر کے جا رہی تھی ۔۔
تو کیا ہوا موم میں بلکل ٹھیک ہو ایسے اچھا فیل ہوتا ہے ۔۔
پلوشہ بے نیاز ہوتی بولی تھی ۔۔
بیٹا تم خوبصورت ہو میں مانتی ہو اس کا مطلب یہ نہیں تم ایسے جاٶ اپنی حفاظت کرنا سکھو ۔۔
ہم سب کو دیکھو کیسے میں علیزے روحا حنین سب پردہ کر۔۔۔
اوووو پلیز موم آپ سب بڑی ہو گی جوان بچے ہے اس کا مطلب یہ نہیں میں بھی کر لو ۔۔
مجھے ایسا اچھا لگتا آپ پریشان مت ہوا کرے ۔۔
پلوشہ پری کے گال پر کس کرتی سب اگنور کرتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔
ہاے ہمارے بچوں کو کیا ہو گیا۔۔۔
پری پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
کلاس میں اتنی خاموشی کیوں ہے ۔۔۔
پلوشہ اپنی کلاس میں انٹر ہوتی بولی تھی ۔۔
حجاب نے منع کر دیا تھا وہ شادی نہیں کرے گی تبھی اس کی بارات نہیں لائ گی تھی ۔۔۔
سب کو پتہ تھا جنت کے غصے کی وجہ سے یہ سب وہ کر رہی سبھی اسے منا رہے تھے ۔۔
تو بارات نہ ہوتی دیکھ پلوشہ آج یونی آ گی تھی ۔۔۔
تم نہیں جانتی کیا کمسٹری کے نیو سر آ رہے ہے آج ۔۔۔
زینب بے تاب ہوتی پاس جاتی بولی تھی ۔۔
وہ پلوشہ کی بیسٹ فرنیڈ تھی۔۔۔
تو اس میں خوش ہونے والی کیا بات ہے ۔۔
پلوشہ بے نیاز ہوتی بولی تھی ۔۔
ہاے تم نہیں جانتی سر کتنے خوبصورت ہے خان ہے وہ۔۔
اچھا ۔۔
پلوشہ اس کی بات سنتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔
کیونکہ اسے خوبصورتی بہت پسند تھی جہاں حسن دیکھتی پاگل ہو جاتی تھی ۔۔۔
شاہزین خان نام ہے ان کا ۔۔۔
زینب نے اسے بتایا تھا۔۔۔
پلوشہ یہ نام سنتی ایک منٹ کے لیے گھبرائ تھی ۔۔۔
اچھا چل۔
اہہہ اہہہہ۔
پلوشہ آگے چلتی بول رہی تھی جب پیچھے سے ٹاپ دروازے سے اٹکتے وہ پیچھے کی طرف گرتی چلائ تھی ۔۔
اس سے پہلے کلاس میں بیٹھے ہوس بھری نظروں سے دیکھتے لڑکے اٹھ کر پلوشہ کو پکڑتے۔۔
جب کسی کی مضبوط گرفت میں آتی پلوشہ کو گرتے دیکھ وہ ٹھنڈی آہیں بھرتے بیٹھ گے تھے ۔۔۔
س۔سر شاہزین۔۔۔
زینب ہکا بکا سی بولی تھی ۔۔
جو اپنی باہوں میں آتی پلوشہ کو گہری نظروں سے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
پلوشہ ویسے ہی اپنی تیز ہوئ دھڑکنوں کو روکتی آنکھیں کھولتے اپنے اوپر جکھے شخص کا چہرہ دیکھتا وہی اس کی آنکھیں باہر کو آئ تھی ۔۔۔
