Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 12)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 12)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
“یہ شادی ہر گز نہیں ہوگی۔؟؟
تین سو چالیس افراد جو سیاہ کپڑوں میں ملبوس ہاتھوں میں ہتھیار لیے شادی ہال میں داخل ہوئے تو انکے پیچھے سے ایک انتہائی دبنگ نسوانی آواز گونجی ۔۔
،جسے سنتے ہی جو نہال اپنی دلہن کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا خوف سے دلہن مہوش کے دوپٹے کو منہ میں ڈال کر اپنی چیخوں کا گلا گھونٹنے لگا۔۔
“کیا کہا تھا کہ تم صرف میرے ہو۔تمہیں دیکھنے اور تمہیں چھونے کا حق صرف میرا ہے تو پھر تمہاری ہمت کیسے ہوئی اِس کبوتری کو یہ سارے حق دینے کی ہاں بتاؤ مجھے۔”۔۔
گرے بھاری لہنگا پہنے بنا میک اپ کے وہ گن لیے مسکراتی ہوئ جنت نہال کے پاس آتی
صوفے کے ہتھے پر اپنی ایک ٹانگ رکھ کر وہ اُس کے اوپر جھکتے ہوئے غرا کر بولی۔۔
۔تو وہ اُسے اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھ کر خود میں سمٹنے لگا۔۔
ج۔جن۔جنت یہ کیا حرکت ہے۔۔۔م۔میری شادی ۔ہے۔۔۔
تبھی اُسکی دلہن مہوش جو کہ ابھی بنی نہیں تھی ۔۔۔
اس نے بری ہمت جتا کر ڈھارتے ہوئے کہا۔۔
تو جنت اُسکی ڈھار پر اپنی ٹانگ صوفے سے ہٹا کر غصے سے اُسکی جانب بڑھی۔۔۔
جو اُسے اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر اب اپنی کم عقلی پر ماتم کر رہی تھی کہ کیوں اُس شیرنی کو اپنی جانب متوجہ کیا اُس نے ۔۔
“ہاں کیا کہہ رہی تھی۔مس کبوتری کہ میں کون ہوں۔؟۔
وہ اُسے چہرے سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے بولی۔۔
،اُسکا لہجہ نہایت ہی خطرناک تھا جسے سن کر مہوش زور سے کانپنے لگی۔۔۔
ی۔یار نہ کرو ت۔ترس کرو کلاس فیلوز ہے ہم ۔۔۔
پلیز شادی ہونے دو بڑی مشکل سے سب مانے ہے تم آ گی ہماری شادی روکنے۔۔۔
مہوش اُسکی سخت گرفت پر روتے ہوئے بولی تھی۔۔
تو وہ اُسے وہی صوفے پر پٹک کر اب اُسکی جانب بڑھی جو صوفے کے پیچھے چھپا اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اُسے اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر نہال نے ایک چیخ مار کر وہاں سے اٹھا اور ہال کے دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
نہ۔ک۔کرو جنت۔میں ہ۔ہارون انکل کو فون کرتا ۔ہ۔ہو۔۔۔
نہال اب دروازے تک جاتا ڈرتے ہوۓ بولا تھا۔۔
پکڑو اسے۔۔۔
جنت پستول غصے سے نیچے پھینکتے ہوئے ڈھار کر بولی ۔۔
تو وہ دروازے پر دو سانڈ نما آدمیوں کو کھڑے دیکھ کر
خوف سے اپنے قدم پیچھے لینے لگا۔۔۔
“دیکھوں مم،مجھے جانے دو مم۔میں نے آخر تمہارا کیا بگاڑا ہے جج۔جو تم میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی گرل باس ۔ای۔ایسا مت کرو یار۔۔۔
وہ ہکلاتے ہوئے بولا تو اُسکی بات پر گرل باس نے زور دار قہقہہ مارا اور پستول نیچے سے اٹھا کر اُسکے چہرے پر پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
بابا کے سامنے کہہ دیتے کہ تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہے میں ترس کھا کر لیتی پر تم بزدل انسان۔۔۔
خیر مولوی صاحب نکاح کرواو ان کا جلدی۔۔۔
جنت مسکراتی ہوئ کہتی اب مولوی کو دیکھ بولی تھی۔۔۔
ش۔شک۔شکریہ۔۔۔۔
ابے چھوڑ شکریہ تم جانتے ہو میرا جو شوہر ہے بڑا خوبصورت ہے شکر تمہارے جیسے النگور سے شادی نہیں کی۔۔۔
نہال خوش ہو کر بول رہا تھا جب جنت مسکراتی ہوئ بولتی اب دونوں کا نکاح کرواتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔۔
جبکہ اس کے جانے کے بعد بھی نہال اس کی دہشت سے کانپ رہا تھا ابھی تک۔۔۔
————————————————————
ہاے مسٹر ہارون خان ۔۔
کیسے ہو آج بھی ویسے ہی ڈیشنگ ہینڈسیم ہو لگتے ہی نہیں تین بچوں کے باپ ہو۔۔۔۔
بلیک شلوار کرتا پہنے اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے کالی گہری آنکھوں پر گلاسز لگاۓ عنابی ہونٹ مسکراتا چہرہ آج بھی لاکھوں لڑکیوں کا دل دھڑکاتے تھے۔۔۔
تبھی ہال میں انٹر ہوتی تاشہ سیدھی ہارون کے پاس آتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
آپ کون۔۔
ہارون خان زرا سختی سے بولے تھے۔۔۔
ہاے یہ رعب افففف بڑا مس کیا کاش میرے ہوتے ت۔۔۔
ہارون۔۔۔
تاشہ فدا ہوتی اپنا ہاتھ ہارون خان کے چہرے پر لگاتے بول رہی تھی جب سامنے سے روحا آتی بولی تھی۔۔۔
بلیک نیٹ کی ساڑھی پہنے بالوں کا جوڑا بناۓ ہلکا سا میک اپ کیے خوبصورت چہرے پر پریشانی سجاۓ وہ ہارون کے پاس آی تھی۔۔۔۔
ریلکس پنک روز جنت آ جاۓ گی میری جان پریشان نہیں ہوتے۔۔۔۔
ہارون ان کو شولڈر سے پکڑتے ان کا ماتھا چومتے بولے تھے۔۔۔
یہ منظر دیکھتے تاشہ نے برا سا منہ بنایا تھا۔۔۔
ی۔یہ کون۔ہے۔۔۔
روحا سامنے تاشہ کو دیکھتی پریشان سی بولی تھی۔۔۔
یہ آنی ہے میری۔۔۔
سفان جلدی سے پاس آتا بولا تھا۔۔۔
اہہہ پہلے بتاتے آپ بیٹا آپ کی آنی ہے آۓ میں لے کر چلتی ہو آپ کو۔۔۔۔
روحا اچانک مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔
ایک پل کے لیے سفان کو ترس آیا تھا روحا پر جو پریشان ہونے کے بادجود بھی سب سے مسکراتے مل رہی تھی ۔۔۔
یہ کیسے شادی ہو سکتی ہے جب تمہاری بیٹی ہی بھاگ گ۔۔۔۔
تاشہہہہہہہ۔۔۔۔
سفان کی رشتے دار ہو
تبھی میں چپ ہو گیا ورنہ میرے بچوں کے لیے کوئ بکواس کرے ہارون خان زبان کاٹ دیتا ہے ۔۔۔
آپ آی شادی میں تو انجواۓ کرے ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا ۔۔۔
سفان لے جاٶ اپنی آنی کو ۔۔۔
تاشہ مسکراتی بول رہی تھی جب ہارون خان دھاڑے تھے۔۔۔
کیا ہوا ہارون بھای ۔۔۔
حنین پریشان آتی بولی تھی۔۔۔
ہانی یہ کہتی میری جنت بھاگ گی ہے شادی م۔می۔
ششش ریلکس آپو ایسا کچھ نہیں ہوا جنت آ جاۓ گی آپ جانتی ہے اسے مذاق کی عادت ہے ۔۔۔
روحا حنین کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بول رہی تھی جب حنین تاشہ کو گھورتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
روحا کے آنسو دیکھ کر ہارون خان کا پارہ ہای ہوا تھا۔۔۔
ت۔۔۔
بابا۔۔۔
اس سے پہلے ہارون خان بولتے جب جنت ہال میں انٹر ہوتی چلاتی ہارون کے سینے سے لگی تھی۔۔۔
وہی روک جاٶ جنت تم میری بیٹی ہرگز نہیں ہو۔۔۔
ہارون خان اسے خود سے الگ کرتے بولے تھے۔۔۔
لیکن۔با۔۔۔
مر گی تم میرے لیے جنت اتنا ذلیل کروا دیا تم نے دفع ہو جاٶ۔۔۔
میں تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتا آج سے تم مر گی میرے لیے۔۔۔
ہارون خان پھر دھاڑے تھے۔۔۔
تم کیوں مسکرا رہے ہو۔۔۔
تاشہ سفان کو سوچ میں گم مسکراتے دیکھ پاس آتی غصے سے بولی تھی۔۔۔
دیکھا آنی ہارون انکل نے کیسے جنت کو ڈانٹا ا۔۔
کہاں ڈانٹ رہا ہارون دیکھو کیسے سینے سے لگایا ہے۔۔۔
سفان بول رہا تھا جب تاشہ سامنے دیکھتی بولی۔۔۔
سفان نے حیران ہوتے سامنے دیکھا جہاں جنت سب سے مسکراتی ہوئ مل رہی تھی۔۔۔
مطلب یہ خیال تھا میرا۔۔۔
سفان برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
————————————————————
بیٹا مجھے بتا کر جاتی آپ میں ہنیڈل کر لیتا سب کچھ۔۔۔
جنت مسکراتی ہوئ سب ہارون کے سینے لگی بتا چکی تھی کیسے نہال کی شادی کروا کر آی تب وہ مسکراتے بولے تھے۔۔۔
ارے بابا ماما کہاں جانے دیتی مجھے تبھی خالو سے پلان شیئر کر کے میں نے سب کچھ کیا۔۔۔
جنت اب زیان کے سینے سے لگی بولی تھی۔۔۔
ہارون کا منہ کھولا تھا۔۔
سنجیدہ انسان تم ایسا بھی کر سکتے تھے میں شوک ہو۔۔۔
ہارون مسکراتے بولے تھے۔۔۔
ہاہاہاہہاہاہہاہا ۔۔
اب میری بیٹی کی فرمائش تھی تو مانی ہی تھی میں نے۔۔۔
زیان قہقہ لگاتے بولے تھے۔۔۔
مجھے بتا دیتے تو اچھا تھا میری پنک روز نے رو رو کر برا حال کر لیا اپنا۔۔۔۔
ہارون روحا کو اپنے سینے سے لگے مسکراتے بولے تھے۔۔۔
بابا میرے خیال سے آپ کو ماما کے علاوہ کچھ دیکھائ نہیں دیتا۔۔۔
روحان بھی پاس آتا بولا تھا۔۔۔
بے شرم۔۔
روحا ہارون کے کان میں سرگوشی کرتی پیچھے ہوئ تھی۔۔۔
جیسے تمہیں باربی دیکھائ دیتی ویسے ہی مجھے پنک روز نظر آتی ہے۔۔۔
ہارون مسکراتے آنکھ ونک کرتے بولے تھے ۔۔۔
ارے بیٹی میری ہے تو میرے جیسی ہی ہو گی۔۔۔
حنین جنت کو گلے لگاے بولی تھی۔۔۔
بلکل نہیں جنت میری جیسی ہے ۔۔۔
پری پاس آتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
ہاہاہہاہااہاہاایایایاا میں اپنی ماما جیسی ہو مائ پنک روز۔۔۔
جنت قہقہ لگاتی روحا کو گلے لگاے بولی تھی۔۔۔
جنت کو بولنے کے بجاۓ سب اس کےساتھ ہنستے مسکرا رہے تھے سفان کا سارا پلان خراب ہو چکا تھا۔۔۔
سفان بیٹا میں اپنی بیٹی کو رخصت ہرگز نہیں کر رہا اگر ہو سکے تو جلد ہی طلاق کے کاغذ بھیج دینا۔۔۔
کیونکہ میں اپنی بیٹی کو وہاں نہیں بھیج سکتا جہاں میری پنک روز کی عزت نہ ہو۔۔۔
ہارون خان نام ہے میرا جنت میری بیٹی ہے کوئ لاورث نہیں ہے جو تمہاری آنی بلاوجہ بول رہی تھی ۔۔۔
ہارون خان اب سفان پر بمب گراے سکون سے کہتے سب کو لے ہال سے چلے گے تھے۔۔۔
لیکن انکل می۔۔
سوری بیٹا جہاں میری پنک روز کی عزت نہیں وہاں میری پھول جیسی بیٹی کی بھی عزت نہیں ہو گی ۔۔
میری بیٹی کے لیے ہم سب کافی ہے تم جلد ہی طلاق کے کاغذ بھیج دینا۔۔۔
سفان کا رنگ اُڑا تھا تبھی وہ بھاگ کر ہارون کا ہاتھ پکڑے بولا تھا۔۔۔
جب وہ مسکراتے کہتے وہاں سے چلے گے تھے۔۔۔
اتنا تو میں جانتی ہو تمہیں مجھ سے دھواں دار عشق نہیں تھا ۔۔۔
یہ تم جو بھی کر رہے مجھے اور بابا کو ذلیل کرنے کے لیے کر رہے ۔۔۔
پر افسوس مسٹر سفان خان تم بھول گے یہ ساری میری فمیلی ہے دیکھو سب میرے ساتھ ہے جب تک یہ سب میرے ساتھ ہے تب تک جنت ہارون خان کبھی بھی کمزور نہیں ہو سکتی۔۔۔۔
مبارک ہو تمہارا پلان فاپ ہو گیا ۔۔۔
جنت جلدی سے سفان کے پاس آتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اور ہاں یاد آیا۔۔۔
جنت کہتی واپس جا رہی تھی جب پھر پاس آتی بولی۔۔۔
ڈائمن کی بہن ہو میں مجھے اتنے ہلکے میں مت لینا۔۔۔
پیپرز بھیج دینا مجھے۔۔۔
جنت شیطانی مسکراہٹ لاۓ سفان کو آنکھ ونک کرتی وہاں سے بھاگ گی تھی۔۔۔۔
سفان تو ابھی تک ہکا بکا تھا سب فمیلی کا اتنا پیار دیکھ کر ۔۔۔۔
تاشہ تو کب سے وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔
———————————————————-
افففف شجرت بیٹا مت تنگ کرو یار۔۔۔۔
حجاب بیڈ پر نڈھال سی بیٹھی تھی جب گود میں آتی شجرت کو دیکھتی وہ بولی تھی۔۔
کیا ہوا حجاب طیبعت ٹھیک ہے۔۔۔
آذان نائٹ ڈریس پہنے بیڈ پر آتا پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
ہاں بس تھک گی شاہد اس لیے ۔۔۔
حجاب مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاں تھک گی ہو گی تم ریسٹ کرو شجرت مجھے دو آج بابا کے ساتھ سوۓ گی ۔۔۔
آذان برا سا منہ بناۓ شجرت کو گود میں آٹھاۓ بولا تھا۔۔۔
ن۔نہی۔م۔ماما۔۔
شجرت اس کی گود سے نکلتی ہوئ حجاب کے پاس آتی روتے بولی تھی۔۔۔
ارے ماما کی جان آٶ یہاں ہم سوتے۔۔۔
حجاب جلدی سے اسے پکڑے بولی تھی۔۔۔
اس کی جان بستی تھی ننھی سی شجرت میں تبھی اپنی تھکن کی پرواہ کیے بنا وہ بولی تھی۔۔۔
ی۔یہ۔ک۔ا۔۔۔
ششش تم شجرت کو سلاو آرام سے۔۔۔
آذان تھکن سے چور ہوتی حجاب کو دیکھتے اس کے پیچھے آتا بیٹھ کر اس کے شولڈر دبا رہا تھا جب حجاب ڈرتے بولی تبھی وہ بولا تھا۔۔۔
حجاب کی مکیسی کا تھوڑا سا گاٶن اتارے آذان اپنے بھاری سفید ہاتھ سے اس کے شولڈر دبا رہا تھا۔۔۔
جبکہ حجاب کی گود میں سوتی شجرت اور آذان کا لمس پاتے حجاب کی تھکن جا رہی تھی اور نیند اس پر حاوی ہو رہی تھی۔۔۔۔
شکریہ حجاب میری بیٹی کو ۔۔
ہ۔ہماری بیٹی ہے آذان۔۔۔
آذان نرمی سے اس کے کان کی لو چومتا بول رہا تھا جب نیند میں جاتی حجاب بولی تھی۔۔۔
اووو سوری میں بھول گیا تھا ہماری بیٹی۔۔۔
آذان اب اپنے ہاتھ حجاب کے پیٹ پر رکھتے بولا تھا۔۔۔۔
اچھا میں س۔۔۔
آذان اب حجاب کی کمر اپنے سینے سے لگاۓ بیڈ کے ساتھ خود کو لگاۓ بول رہا تھا جب اسے حجاب کی نیند میں جاتی گہری سانسوں کی آواز سنائ دی تبھی وہ چپ ہو گیا۔۔۔۔
اہہہہ شجرت کی ماما۔۔۔
آذان پیار سے حجاب کا گال کیھچتا ہوا بولا تھا۔۔۔
وہ خوش تھا اپنی فمیلی میں۔۔۔
————————————————————
کیا حرکت تھی آنی یہ جنت آج میرے پاس ہوتی سب آپ کی وجہ سے ہوا۔۔۔
سفان غصے سے اپنے پلیس میں انٹر ہوتا ہال میں کھڑی نشے سے جھولتی تاشہ کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔
ت۔تم م۔مجھ ۔کیو۔ں ب۔۔۔
ششش آنی آپ نے شراب پی ہے اور یہ کیا پہنا ہے پاکستان ہے انگلینڈ نہیں ہے۔۔۔
چھوٹی سی ریڈ کلر کی نائٹی میں ملبوس نشے سے جھولتی تاشہ کو دیکھ سفان شوک ہوتا نظریں چڑاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
تم نہیں جانتے اس روحا کی وجہ سے میری بہن ہمیشہ ہر خوشی کے لیے ترستی رہی ہے ۔۔
سہاگن ہو کر بھی انھوں نے بیوہ کی زندگی گزاری اور میں ہمیشہ ہارون خان کے لیے ایسی ہی رہی کبھی شادی نہ کی۔۔۔
سب اس روحا ہارون خان کی وجہ سے ہوا تم مجھے ہی بول رہے۔۔۔
ارے تمہیں تو چاہے اپنی بیوی کو ساتھ لاتے زبردستی ہی سہی۔۔۔
انہہہہ تم بھی اپنے باپ کی طرح روحا کی بیٹی پر مر مٹے جیسے وہ پوری زندگی بس روحا کے لیے تڑپتا رہا آخری ٹائم بھی اسے تمہاری بجاۓ روحا کی پرواہ تھی۔۔۔۔
تاشہ شراب پیتی روز کی طرح آج بھی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔۔۔
سفان کا دماغ پھٹا تھا آج بھی سب کچھ سنتے تبھی وہ غصے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
————————————————————
اچھا یہ تو بتاٶ نہال کے پاس کیسے گی تم۔۔۔۔
روحان کے روم میں جنت آئ تھی جب وہ اسے بیڈ پر بیٹھاۓ آرام سے بولا تھا۔۔۔
وه زیان خالو نے اپنے آدمی باہر کھڑے کیے تھے میں نے نہال کی شادی پر بھی جانا تھا سو کھڑکی سے باہر نکل گی سامنے آدمی تھے تو ان کو لے کر میں چلی گی۔۔۔
جنت سفان کی بات گول کرتی جھوٹ بولی تھی۔۔۔
کیونکہ سفان کے آدمیوں سے ہی زیان کے آدمیوں نے بچایا تھا جنت کو۔۔۔
اچھا خالو کی بجاۓ مجھے بتا دیتی تم میں مدد۔۔۔۔
کیا روحان میں سونے آی ہو تم یہاں یہ پوچھ رہے ہو ۔۔
روحان بول رہا تھا جب جنت روٹھے لہجے سے بولا تھا۔۔۔
ہممم آو سو جاٶ مرو یہاں پر۔۔۔۔
روحان اسے بیڈ پر جگہ دیتا برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
جانتا تھا جنت کیا کرنے والی ہے۔۔۔۔
وہی ہوا جو وہ سوچ رہا۔۔۔
جنت اسے ٹانگ مارتی بیڈ کر گراتی خود پورے بیڈ پر سو چکی تھی۔۔۔
جبکہ قالین پر روحان گرا ہوا تھا۔۔۔
ڈائمن ہو م۔۔۔
ڈائمن کی بہن میں ہو سمجھے۔۔۔
روحان دانت پیستے بول رہا تھا جب جنت بیڈ کے نیچے کی طرف سر کیے بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ روحان کے روم کی کھڑکی پر وہ کھڑی شخصت ہمیشہ کی طرح منہ پر ماسک لگاۓ آنسو بہاتی یہ بہن بھای کا پیار دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
———————————————————–
و۔وہ۔سب۔خوش ۔ہے۔سب ۔ب۔بھول۔گ۔گے۔مجھے۔۔۔
اچ۔اچھی با۔بات ہے سب بھ۔بھول گے۔مج۔مجھ جیسی گندگی ۔ک۔و۔یاد کرنا چاہے۔گا۔۔
م۔میں۔گندی ل۔لڑکی ہو۔۔۔
ک۔کیوں نہیں مر جاتی ۔۔
چچچچ گھن آتی مجھے اپنے آپ سے۔۔۔
یکککککک۔۔۔۔
وہ آج بھی جاۓ نماز پر بیٹھی اپنے جسم کو نوچتی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلا رہی تھی۔۔۔۔
اس کے چلانے کی آوازیں روم سے باہر جا رہی تھی۔۔۔۔
م۔مجھے موت کیوں
نہیں آتی میں گندی لڑکی ہو ۔۔۔
مجھے مرنا۔چاہے ۔مجھے سب نے چھ۔چھوڑ د ۔۔۔۔
وہ روتے ہوۓ آہستہ آہستہ جاۓ نماز پر لیٹتی بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔
روزانہ وہ اپنوں کو یاد کرتی ایسے ہی رات کے اندھیرے میں روتی تھی ۔۔۔
————————————————————
ہاے کالے کیسے ہو آخر مجھ جیسی لڑکی سے شادی ہو ہی گی تمہاری۔۔۔۔
شاہ زین سب مہمانوں کو فارغ کرتا روم میں آیا تھا جب ریڈ نائٹی پہنے پلوشہ اپنے ہاتھوں پر لوشن لگاتی بولی تھی۔۔۔
شاہ زین کا بنگلہ دیکھ کر پلوشہ کا شوک سے منہ کھولا تھا لیکن جلد ہی وہ اپنی حیرت پر قابو پا چکی تھی۔۔۔
شاہ زین کے ماں باپ اس کی کم عمری میں ہی وفات پا چکے تھے پری نے ہی شاہ زین کی پرورش کی تھی۔۔۔
بچپن میں بھی پلوشہ کے مذاق کا نشانہ وہ بنتا تھا۔۔۔
لیکن نرم مزاج شاہ زین ہمیشہ اس کی ہر بات کو اگنور کر دیتا تھا۔۔۔۔
پلوشہ نے شروع سے ہی یہی سوچا تھا شاہ زین غریب ہے جو ان کے ساتھ گھر رہتا تھا۔۔۔
لیکن اب اس کی امیری دیکھ وہ حیران ضرور ہوئ تھی۔۔۔۔
روم میں آنے کے بعد پلوشہ نے جلدی سے لہنگا اتار کر جان بوجھ کر نائٹی پہنی تھی تاکہ شاہ زین اس کو ڈانٹے ۔۔۔
لیکن پہاڑ تو تب اس پر گرا جو شاہ زین نے اسے کہا تھا۔۔۔۔
یہاں سو جاٶ آرام سے میں دوسرے روم میں جا رہا ہو۔۔۔
کوئ چیز چاہے ہو تو لے لینا کیونکہ آج سے یہ سب تمہارا ہے ۔۔۔
ایسے کپڑے پہن سکتی ہو تم کیونکہ ہم دونوں کے علاوہ اس بڑے سے بنگلے میں کوئ نہیں ہوتا۔۔۔
گھر کے میل ملازم اپنے کورٹر میں ہے ۔۔۔
شاہ زین روم کے ڈور پر ہی کھڑا سکون سے بولتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
انہہہ کالا ۔۔۔
پلوشہ جلتی ہوئ بیڈ پر لیٹ گی تھی۔۔۔۔
————————————————————
آ جاٶ کیا ہوا بھوک لگی کیا۔۔۔
کافی دیر کروٹیں چینج کرتے پلوشہ آخر بیزار ہوتی شاہ زین کے روم کے قریب آئ تھی جب اسے شاہ زین کی سکون بھری آواز سنائ دی تھی۔۔۔۔
ہا۔ں۔و۔۔۔
پلوشہ اندر آتی بول رہی تھی شوک ہوتی الفاظ وہی رک گے تھے۔۔۔
جہاں بلیک شارٹس پہنے بلیک ہی بینان پہنے شاہ زین کی ہیوی باڈی دیکھ رہی تھی۔۔۔
پلوشہ تو شوک تھی سادہ سا نظر آنے والا شاہ زین کی باڈی اتنی خوبصورت اور ہیوی ہو بھی سکتی ہے۔۔۔
وہ بزی لیپ ٹاپ یوز کرتا بنا دیکھے بولا تھا۔۔۔
آ جاٶ تمہارا ہی سب کچھ ہے اب ۔۔۔
شاہ زین اب لیپ ٹاپ چھوڑے اٹھ کر پلوشہ کے پاس آتا اس کا ہاتھ پکڑتے بیڈ بیٹھاتے بولا تھا۔۔۔
یہ لو سنیڈوچ کھا۔۔۔
اپنے کالے ہاتھ دور کرو میں اپنے ہاتھ سے کھا سکتی ہو۔۔۔۔
شاہ زین سنیڈوچ کی پلیٹ لاتا خود کھلا رہا تھا جب ہوش میں آتی پلوشہ زرا سختی سے بولی تھی۔۔۔
اچھا۔۔۔
شاہ زین مسکراتا ہوا کہتا اپنی جگہ پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ یوز کرنے لگ گیا تھا۔۔۔
پلوشہ کو تو آگ ہی لگ گی تھی شاہ زین کو پرسکون دیکھ کر تبھی پلیٹ اٹھاتی وہاں سے اپنے روم میں چلی گی تھی۔۔۔۔
شاہ زین کے لبوں پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
————————————————————
ہاے ماموں۔۔
آدھی رات کو عمار زیان کے گھر آتا بولا تھا۔۔۔
ارے بیٹا آٶ آٶ۔۔۔
زیان مسکراتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
جی بس زینیہ سے ملنا تھا۔۔۔
عمار دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
اہاہااہاہااااا اب ہم غریب لوگوں کو کون پوچھ سکتا ہے۔۔۔
زیان قہقہ لگاتے بولے تھے۔۔۔
ارے ماموں جان شرمندہ کروا رہے آپ م۔۔۔
تمہارے ماموں کبھی خود شرمندہ نہیں ہوتے تبھی یہ کرتے ایسا تم جاٶ بیٹا زینی کے پاس۔۔۔
عمار سرخ چہرہ لیے بول رہا تھا جب حنین وہاں آتی بولی تھی۔۔۔۔
تم جو ہو سب کو شرمندہ کروانے کے لیے۔۔۔
زیان مسکراہٹ روکے حنین کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے بولے تھے۔۔۔
ہاہاہاہہاہا مامی اب آپ شرمندہ ہو گی ماموں واقعی دوسروں کو شرمندہ کرواتے ہے۔۔۔۔
عمار حنین کا سرخ چہرہ دیکھتا قہقہ لگاتا وہاں سے بھاگتا بولا تھا۔۔۔۔
آپو ایویں ہارون بھای کو بے شرم کہتی ہے بے شرم تو آپ ہے زیان کچھ شرم کرتے عمار کے سامنے۔۔۔
حنین اپنا سرخ چہرہ لیتی اب زیان کو گھورتی بول رہی تھی۔۔۔
تم نے کہا میں شرمندہ کرواتا ہو بس وہی بتا رہا تھا کیسے کرواتا ہو۔۔۔
زیان حنین کو اپنی گود میں بیٹھاۓ مسکراتے بولے تھے۔۔۔۔
زیان آپ بھی۔۔۔۔
حنین شرماتی کہتی ان کے سینے میں منہ چھپا چکی تھی۔۔۔۔
————————————————————
ہاے صبح جانا پڑے گا شاہ میر کا منہ دیکھنے۔۔۔
زینیہ نائٹ ڈریس پہنتی شیشے کے سامنے کھڑی برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
ا۔۔
زینیہ سوچ ہی رہی تھی جب کسی کے ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کرتی وہ چپ ہوئ تھی۔۔۔۔
د۔دور رہو عمار ۔۔۔
زینیہ جلدی سے خود سے عمار کو دور کرتی بولی تھی۔۔۔
جبکہ دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی۔۔۔
کیوں ایسا کرتی ہو زینی ۔۔۔
عمار دوبارہ اسے کمر سے پکڑے بولا تھا
تھا۔۔۔
شرم آتی مجھے تم سے زیادہ خود سے۔۔۔
گھن آتی خود سے ۔۔
اس رات کا سوچو تو دماغ پھٹنے پر آ جاتا میرا۔۔۔۔
زینیہ غصے سے دور جاتی چلاتی بولی تھی۔۔۔
شرم کیوں زینی میں ت۔۔۔۔
شرم اس بات پر کیسے اپنے بابا ماما کو جواب دو میں کیسے اپنے آپ کو دیکھو۔۔۔
جو شرم حیا تمہارے سامنے تھا وہ تم نے ختم کر دیا ۔۔۔
اور خود کو دیکھو گناہ کر کے ا۔۔۔۔
عمار شرمندہ ہوتا پاس آتا بول رہا تھا جب زینیہ نفرت سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
جب وہ بولا۔۔۔
گناہ نہیں تھا زینی میرا عشق تھا حق تھا میرا تم پر ہاں مانتا ہو اس رات میں بہک گیا تھا۔۔۔
عمار اس کا چہرہ پکڑے بولا تھا۔۔۔
رات کے اندھیرے میں جو رشتہ بنایا جاۓ وہ گناہ ہ۔۔۔
بیوی ہو میری تم سمجھی یہ بات تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی میں مان تو رہا غلطی ہو گی جو کہ تمہاری نظر میں ایسا ہے۔۔۔
جبکہ مجھے پتہ وہ ہمارا رشتہ ہے تم ہمارے پاک رشتے کو گالی نہیں دے سکتی ۔۔۔
اب جلد ہی تیار رہو ماموں سے رخصتی کی بات کرتا ہ۔۔۔
تم ایسا بلکل نہیں کچھ کرو گے عمار میں پہلے ہی شرمندہ ہو کسی سے آنکھ ملانے کے قابل نہیں رہی میں۔۔۔
عمار بھی طش میں آتا چلا رہا تھا جب زینیہ روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
تیار رہنا عمار کی دلہن بن کر میری بیوی ہو پورے حق سے لے کر جاٶ گا۔۔۔۔
عمار اس کا ماتھا چومتا واپس جاتا بولا تھا۔۔۔۔
نہیں کرو گی میں رخصتی۔۔۔
زینیہ روتی ہوئ بیڈ پر گرتی اب اس رات کا واقعہ سوچتی اور زیادہ پھوٹ پھوٹ کر روی تھی۔۔۔۔
