Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 17)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 17)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

““بلال💕دانین

”شاہ زین 💕پلوشہ اسپیشل 💖

ر۔رکو دانین بس کرو میں تھک گیا یار بھاگ کر ۔۔۔۔

بلال اسے اپنے ساتھ گاٶں لے آیا تھا جب دانین اب حویلی میں آتی مسلسل اس سے پکڑ پکڑای کھیلتی ہوئ اکیلی ہال میں بھاگ رہی تھی جبکہ بلال بھی بچہ بنا اس کا ساتھ دے رہا تھا۔۔۔

ی۔یہ اتنے موٹے ہے آپ پکڑ کر دیکھاۓ مجھے۔۔۔

دانین اس کی طرف منہ کرتی پھولے سانس سے پھولی تھی۔۔۔

کہاں موٹا ہو یار دیکھو میں ہار گیا۔۔۔۔

دانین کے سرخ پھولے گال دیکھتے بلال اب ڈرامہ کرتا بولا تھا۔۔۔

یاہووووو م۔۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔

دانین خوشی سے اچھلتی بول رہی تھی جب ہال میں اسے رعب دار آواز سنائ دی۔۔۔

د۔د۔دار جی آ۔پ۔۔۔

اپنے سامنے سفید کرتے شلوار کندھوں پر کالی شال لیے سرخ سفید رنگ لیے نیلی آنکھیں بڑی بڑی مونچھوں والے رعب دار سے کھڑے دار جی کو دیکھ دانین ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

یہ کیا گستاخی ہے بلال خان بھول گے تم سردار ہو یہ اس لڑکی کے ساتھ تم بچے بنے ہو کیا ایسے مرد ہ۔۔۔۔

مرد وہی ہوتا دار جی جو اپنی بیوی کو عزت دے محبت دے اس کی ہر چھوٹی چھوٹی بات کو مانے تاکہ اس کی بیوی خوش رہے وہ مرد ہوتا ۔۔۔

جو آپ بتا رہے وہ مرد نہیں ہوتے جو مظلوم عورت پر ظلم ڈھاۓ وہ مردانگی نہیں ہوتی ۔۔۔۔

دار جی اب بلال کو پیسنے میں دیکھتے غصے سے بول رہے تھے جب بلال خان دانین کو سینے سے لگاۓ سکون سے بولا تھا۔۔۔

جو تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔۔

د۔دار جی آپ۔بھی کھیلے گ۔۔۔

بلاللللللل اس لڑکی کو لے جاٶ یہاں سے ورنہ میں بھول جاٶ گا یہ تمہاری بیوی ہے ۔۔۔

دانین کے ساتھ اتنے نرمی سے برتاو کرتے بلال کو دیکھ دار جی پہلے ہی غصے میں تھے جب دانین کی بات سنتے طش سے چلاۓ تھے۔۔۔۔

ہممم۔۔

بلال بھی غصے سے دانین کو لے اپنے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔

———————————————————–

ی۔یہ دار جی ایسے کیوں کرتے ہے کیا میں نے ان کی چاکلیٹ چڑائ ہے بلال۔۔۔

کافی دیر سوچنے کے بعد دانین پریشان سی اب بلال کے پاس آتی بولی تھی۔۔۔

کیونکہ وہ بیٹھا اپنی ضروری فائلز چیک کر رہا تھا۔۔۔

ہاں تم نے ان کا خوبصورت پوتا چڑایا ہے اس لیے وہ غصے میں رہتے ہے ۔۔۔

بلال مسکراتا ہوا اپنا کام چھوڑے دانین کا ہاتھ پکڑتے بولا تھا۔۔۔

اچھا لیکن آپ ان کے بھی ہے بات تو سہی کہی ایسا کرنا رات ان کے ساتھ سو جانا پھر وہ خوش ہو گے۔۔۔

دانین اپنی طرف سے حال نکالتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

لیکن مجھے اب تمہارے سوا نیند بھی نہیں آتی اب کیا کرو۔۔۔۔

بلال اپنی مسکراہٹ روکے اب دانین کو اپنی گود میں بیٹھاۓ معصومیت سے بولا تھا۔۔۔۔

آپ ایسا کرنا میں کس کرو گی یہاں پھر جلدی نیند آ جاۓ گی ماما ایسا کرتی تھی میرے ساتھ۔۔۔۔

دانین اس کے ماتھے پر اپنے ننھے لب رکھتی اپنے طور سے بولی تھی۔۔۔

ہاں یہ ٹھیک چلو ابھی کرو مجھے کس۔۔۔

بلال اس کی گال سہلاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

لیکن آپ کو نیند نہیں آ رہی۔۔۔

دانین پریشان سی اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔

تم کرو کس مجھے نیند آ جاۓ گی دیکھنا۔۔۔

بلال اب اس کے سرخ پھولے گال پر لب رکھتا بولا تھا۔۔۔

اچھا۔۔۔

دانین نے راضی ہوتے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے تھے۔۔۔۔

————————————————————

اب کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی۔۔۔

بلال اس سے کس لینے کے بعد دوبارہ فائلز میں بزی ہو گیا تھا جبکہ دانین کب سے ویٹ کر رہی تھی بلال سو کیوں نہیں رہا تبھی وہ اب اسے غصے سے گھور رہی تھی۔۔۔۔

تبھی بلال مسکراہٹ روکے اس کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔

آپ سوۓ نہیں وجہ۔۔۔

دانین اب لڑاکا عورتوں کی طرح منہ بناۓ کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔

یہ کس غلط تھی اس سے نیند نہیں آتی ۔۔۔۔

بلال بھی کھڑا ہوتا اسے کمر سے پکڑے سکون سے بولا تھا۔۔۔۔

اچھا میں ٹھیک والی کس کرتی ہو زرا نیچے آٶ۔۔۔

دانین اب اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے بولی تھی۔۔۔

میں بتاتا ہو ٹھیک والی کس کونسی ہوتی ہے جانِ بلال۔۔۔

بلال کو دانین کی حرکتیں کیوٹ لگ رہی تھی تبھی اسے دوبارہ گود میں آٹھاتے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے پاس لاتا بہکے ہوۓ بولا تھا۔۔۔

ہاں بتاٶ ت۔۔۔۔

دانین راضی ہوتی بول رہی تھی جب اس کی گردن نیچھے کو جھکاتے ہوۓ بلال نرمی سے اس کے گلابی ہونٹ اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔۔۔۔

دانین کے لیے یہ سب نیا تھا تبھی اسے مکے مارتی نیچے اترتی اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتی اب بلال کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

ی۔یہ۔کیا تھا۔۔۔

دانین اپنی آنکھیں بڑی کرتی بولی تھی۔۔

یہ کس تھی ٹھیک والی جب ہم کسی سے پیار کرتے ہے تب کی جاتی ہے ۔۔۔

بلال اس کے پاس آتا اس کے بلش کرتے گال سہلاتا بولا تھا۔۔۔

م۔مطلب میں کسی کو بھی کر سکتی ہو میں ابھی دارجی کو کر کے آتی ہو مجھے وہ اچھے لگتے بلکل بابا جیسے ہے ۔۔۔

دانین اپنی سمجھ سے کہتی روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔

جبکہ بلال کے پیسنے چھوٹے تھے اس کی بات پر تبھی اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔

۔ر۔و۔روکو یہ صرف تم مجھے کر سکتی ہو ۔۔

بلال جلدی سے اسے پکڑے پیار سے بولا تھا۔۔۔

دارجی کو نہیں کیا۔۔۔

دانین اس کی طرف سوالیہ انداز سے بولی تھی۔۔۔۔

و۔وہ ہاں یاد آیا ۔۔۔

دار جی تو دوست نہیں تمہارے وہ تو بابا جیسے ہے تو ہم ان سے ایسے والا پیار نہیں کر سکتے تم مجھ سے کرو میں دوست تمہارا ۔۔

اچھا پھر میری بات سنے آپ۔۔۔

دانین راضی ہوتی اب بلال کے ہاتھوں کو پکڑتی روم میں جاتی بولی تھی ۔۔

بلال نے سکون سے سانس لیا تھا۔۔

ہاں بولو جان۔۔

بلال اسے لیے اب بیڈ پر بیٹھتے بولا تھا۔۔۔

م۔مجھے جب بھی آپ پر پیار آۓ گا میں ایسے کرو گی ٹھیک ورنہ میں دار جی کو دو گی انہیں دوست بنا لو گی ۔۔۔

دانین اب شرماتے ہوۓ معصومیت سے بولا تھا۔۔۔

ہاہاہہاہاہااہاہاہا ہاں جان ضرور اب تو صرف تمہارا ہو۔۔۔

بلال اس کی بات سنتا قہقہ لگاتا دانین کی ناک کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔

و۔۔۔

بلال تمہیں دارجی بلا رہے ہے ۔۔۔

اس سے پہلے دانین اور کچھ کہتی جب زرمینا اندر آتی بولی تھی۔۔۔۔

پڑھی لکھی ہونے کا فائدہ تمہارا زرمینا ہے تو جاہل ہی یہ نہیں پتہ ایک کپل کے روم میں آنے سے پہلے نوک کرتے ہے ۔۔۔

بلال زرمینا کو گھورتا ہوا طش سے بولا تھا۔۔۔

تو کپل کو چاہے یہ رومینس رات کو کرے دن کو نہیں انہہ۔۔۔

زرمینا بے باک کہتی وہاں سے جلتی ہوئ چلی گی تھی۔۔۔

اچھا سنو جان اذکٰی کے ساتھ رہنا میری غیر موجودگی میں اسی کے ساتھ رہ کرو یہ چڑیل ہے اس کے پاس مت آنا ۔۔۔

اب میں آو تو اچھے سے تیار رہنا اوکے۔۔۔

بلال اپنی ہنسی کنٹرول کرتا دانین کو دیکھتا بولا تھا جو زرمینا کو بری نظروں سے گھور رہی تھی۔۔۔

اچھا ۔۔

دانین اچھے بچوں کی طرح بات مان چکی تھی۔۔۔

————————————————————

یہ کیا طریقہ ہے بلال خان تم اس گاٶں کے سردار ہو تمہیں یہ سب بچوں جیسی چیزیں زیب نہیں دیتی ۔۔۔

اس لیے تمہاری شادی اس لڑکی سے کروائ میں نے بدلہ لینا تھا لیکن یہاں تم ہی بچے بنے ہو اس کے ساتھ۔۔۔

بلال دار جی کے پاس آیا تھا جب وہ آگ بگولہ ہوتے بولے تھے۔۔۔

دارجی شادی آپ نے کروائ تھی اگر آپ کو یاد ہو۔۔۔

دوسری بات بیوی ہے میری میرا فرض بنتا ہے اسے ہر خوشی تھی پہلے ہی آپ نے یہ ظلم ہم دونوں پر کم نہیں ڈھایا ایک کم عمر لڑکی کی شادی مجھ سے کروا کر ۔۔۔

اس کی عمر کی لڑکیاں اپنا بچپن انجواۓ کر رہ ہے جبکہ دانین۔۔۔

میں نہیں چاہتا دانین بھی ایسی زندگی گزارے جیسے میری ماں نے گزاری تھی۔۔۔

آپ نے تب بھی میری ماں کی پرواہ کیے بنا بابا کی دوسری شادی ایک ایسی عورت سے کروا دی جس کی پہلے ہی اولاد تھی۔۔۔۔

میں کب کا یہ گاٶں چھوڑ چکا ہوتا اگر میری ماں نے مجھے یہ نہ کہا ہوتا بلال تم اس حویلی کے اکلوتے پوتے ہو۔۔۔

آپ کی میں بہت عزت کرتا ہو دار جی میرے دادا ہے اس لیے چپ رہتا ہو۔۔۔

میں یہ سسٹم ختم کرنے والا ہو بہت جلد ۔

ویسے بھی میرا یہ شوق نہیں ہے میں ڈی ایس پی بلال خان ہو دارجی آپ سمجھے کچھ ۔۔۔

بلال بھی تحمل سے ساری بات بتا چکا تھا۔۔۔

یہ کیا کہہ رہے ہو بلال یہ ساری زم۔۔۔

میں جانتا ہو یہ سب میرا ہے لیکن دار جی میری بات بھی سنے اگر دانین کے ساتھ ایسا برتاو ہوا جیسے خون بہا لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے میں ایک منٹ میں آپ کو اور گاٶں کو چھوڑ دو گا۔۔۔

پھر اس پوتی زرمینا کو دینا سب ۔۔

بس بہت ہوا اب میں وہ کم عمر بلال نہیں رہا جو اپنی امی کی وجہ سے چپ کر جاتا تھا۔۔۔۔

آپ کا ہی خون ہو میں دار جی یہ تو آپ بھی جانتے ہے میں غصے کا کتنا برا ہو۔۔۔

دار جی شوک ہوتے بول رہے تھے جب بلال دوبارہ سکون سے بولتا اب روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

میں یہاں ایک سادہ سی بات کرنے آیا ہو امید ہے سب میری بات سمجھ جاۓ گے۔۔۔

بلال اپنی حویلی کے باہر پورے گاٶں کو اکھٹا کیے سکون سے بولا تھا۔۔۔

پورا گاٶں اپنے نرم مزاج سردار کو دیکھ رہے تھے جو مسکراتا ہوا سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

جیسا کہ سب جانتے ہے میں اس گاٶں کا سردار ہو تو میرا حکم چلے گا ۔۔

اس گاٶں میں خون بہا ۔۔کم عمر میں شادی۔۔۔

بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلاونہ یہ سارے سسٹم اب ختم ہو۔۔۔

بلکہ میں یہاں گالز کے لیے سکول کالج بنا رہا ہو۔۔۔

آپ سب ویسے ہی رہے جیسے ہم سب رہتے ہے یہ بھول کر کس کی بیٹی خون بہا میں آی یا گی۔۔۔۔

آپ سب کا سوال ہو گا میں یہ سب ختم کر رہا تو خود ایک ایسی لڑکی سے شادی کیوں کی۔۔۔۔

بلال اپنے گاٶں کے لوگوں کے چہروں پر حیرت دیکھتا ہوا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

تب میں بے بس تھا

تھا اپنے دار جی کے آگے لیکن اب نہیں اور ایک بات میں اس گاٶں کے سردار ہونے کے ساتھ ڈی ایس پی بھی ہو کوئ مسئلہ ہو میرے پاس آنا ۔۔

یہ ہے مسز بلال خان میں چاہتا ہو جیسے آپ لوگ مجھے عزت اور محبت دیتے ہے ویسے ہی میری بیوی کو دی جاۓ گاٶں میں بھی اور حویلی میں بھی ۔۔۔۔

جس دن کسی نے برا برتاو کیا دانین کے ساتھ میں اسے فوراًگاٶں سے نکال دو گا چاہے وہ حویلی کا ہی کوئ آدمی ہو۔۔۔

بلال سکون سے بولتا پاس آتی بیلو فراک حجاب پہنے کیوٹ سا چہرہ لیے دانین کا ہاتھ پکڑتے دور کھڑی زرمینا کو دیکھتے دانت پیستے بولا تھا۔۔۔۔

جی بڑے خان جی ہم ایسا ہی کرے گے۔۔۔۔

گاٶں کے لوگ خوش ہوتے نعرہ لگاتے بولے تھے۔۔

شکریہ آپ سب کھانا کھاۓ اب۔۔۔

بلال مسکراتا ہوا اپنے ملازموں کو اشارہ کرتا اب دانین کے ساتھ اندر چلا گیا تھا۔۔۔

———————————————————–

ادھر آٶ بلال نے کیا عزت دے دی تم تو سر پر چڑ گی چلو برتن دھو جا کر اب شکل کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔

بلال دانین کو خوش کرنے کے لیے دانین کی عمر کے بچوں کو حویلی کے اندر بلا چکا تھا جس کے ساتھ وہ سارا دن خوش ہوتی کھیلتی رہی تھی۔۔۔۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے بلال کسی کام سے مردان خانے گیا تھا جب سیڑھیوں سے خوشی سے ناچتی دانین کو آتے دیکھ زرمینا اسے بالوں سے پکڑتی کچن میں لاتی بولی تھی۔۔۔۔

ی۔یہ کیا طریقہ ہے آپی شرم آنی چاہے میں مسز خان ہو چھوڑو مجھے۔۔۔

دانین جو اذکٰی کو اس بچوں کے ساتھ بیٹھاتی نیچے چاۓ کا کہنے آئ تھی جب زرمینا کی بات سنتے خود غصے میں آتی اسے دھکا دیتی بولی تھی۔۔۔۔

تمہاری یہ اوقات ی۔۔۔

بلال خان کی بیوی اور دوست ہے انہہ آپ جیسے چڑیل نہیں ہو میں اب میں پہلی والی دانین نہیں میرے پاس دوست ہے ۔۔۔

زرمینا شدید غصے میں آتی دانین کے پاس جاتی بول رہی تھی جب دانین دور سے طش میں آتے بلال کے پاس بھاگ کر جاتی بولی تھی۔۔۔۔

ب۔بل۔۔۔

نکلو اس حویلی سے باہر ابھی اور اسی وقت جس جائیداد کے لیے تم دونوں ماں بیٹی بیٹھی تھی میں نام کر چکا تم لوگوں کے ابھی نکلو باہر۔۔۔۔

زرمینا بلال کو دیکھتی ڈرتی ہوئ بول رہی تھی جب بلال کچن کے اندر آتا طش سے چلایا تھا۔۔۔

اس کی آواز سنتے سارے نوکر سر جھکاۓ کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔

م۔۔۔

صرف دو گھنٹے ہے تمہارے پاس اب دفع ہو۔۔۔۔

زرمینا کوشش کرتی بول رہی تھی جب بلال دھاڑا تھا۔۔۔

یاہوووو چڑیل چلی گی ہاے لو یو دوست۔۔۔۔

زرمینا کو رونی شکل لے کر جاتے دیکھ دانین اب خوش ہوتی چمپ لگاتی بلال کو شولڈر سے پکڑے اپنی طرف جھکاۓ نرمی سے اس کے ہونٹوں پر لب رکھ چکی تھی۔۔۔۔

بلال خان شوک ہوا تھا اس کے عمل پر ۔۔۔

د۔دانی میری جان یہ صرف روم میں کرتے ہے آٶ۔۔۔

بلال جلدی سے دانین کو پیچھے کرتا ہکلاتا ہوا سب ملازموں کی طرف دیکھتا بولا تھا جو سر جھکاۓ کھڑے تھے۔۔۔

اچھا چلو پھر میرے ساتھ ہاے میں خوش ہو اب یہ چلی جاۓ گی۔۔۔۔

دانین بغیر شرمندہ ہوۓ بلال کا سفید بھاری ہاتھ پکڑتی جاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

بلال کے لبوں پر مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔

————————————————————

““ایک ہفتے بعد۔۔۔

پنک روز پنک روز۔۔۔

روحان روحا کے روم میں آتا بولا تھا۔۔۔

بولو کیا ہوا۔۔

روحا پریشان سی اس کے پاس آتی بولی تھی۔۔۔

باربی سے شادی کروا دے۔۔۔

روحان نے دو ٹوک بات کی ۔۔

ایسے کیسے مط۔۔۔

ماما نکاح ہو چکا ہے ہمارا بس شادی کرواۓ ہماری یا پھر سادہ سی رخصتی یہاں تو گھر اس کا میں ویسے ہی لے آٶ گا اسے اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہے ۔۔۔

روحا ابھی بول رہی تھی جب روحان نے اپنا پورا پلان بتایا۔۔۔

دیکھو بیٹا آنیہ بچی ہے اس کی عمر ابھی اٹھارہ نہیں ہوئ ویسے بھی وہ اسٹڈی کر رہی ۔۔

اگر ابھی شادی کا کہا تو گل لالہ کو تیاری ک۔۔۔

ماما باربی اگلے ماہ اٹھارہ کی ہو جاۓ گی۔۔۔

اسٹڈی پہلے ہی اسے پسند نہیں تھی باقی میں ہنیڈل کر لو گا۔۔۔

گل بابا کو کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہمارے پاس اللہٌکا دیا سب کچھ ہے کہ میری سات نسلیں بھی آرام سے بیٹھ کر کھا سکتی ہے ۔۔۔

آپ بس بابا سے بات کرے ورنہ میں باربی کو یہاں سے اتنا دور لے جاٶ گا ۔۔۔

روحا سمجھاتی ہوئ بول رہی تھی جب روحان بھی سہولت سے بولا تھا۔۔۔

بھول گے ہو تم ہارون کے بیٹے ہ ۔۔

ہارون خان کا بیٹا ہو تبھی کہہ رہا یہ تو آپ بھی جانتی ہے ماما بابا نے کیسے نکاح کیا تھا آپ سے۔۔۔

روحا زرا سخت لہجے سے بول رہی تھی جب ایک دفعہ پھر روحان بولتا جیسے آیا تھا ویسے چلا گیا۔۔۔

افففف یہ میری اولاد تھی یہ سارا قصور ہارون کا ہے ۔۔۔

روحا اب ہارون خان کا تصور کرتی غصے سے روم سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔

————————————————————

کیا ہے کالے تم میرے ساتھ کیوں آ رہے ہو۔۔۔

پلوشہ آج یونی آی تھی جب اپنے ساتھ آتے شاہ زین کو دیکھ کر وہ

دانت پیستی بولی تھی۔۔۔

کلاس میں جاٶ۔۔

شاہ زین مسکراتا ہوا اپنی کہہ کر چلا گیا تھا۔۔۔

اس ایک ہفتے میں کوئ ایسا دن نہ تھا جب پلوشہ نے شاہ زین کی انسلٹ نہ کی ہو بلکہ اب وہ سرے عام ہی اسے کبھی کالا تو کبھی مولوی کہہ کر بلا لیا کرتی تھی۔۔۔

————————————————————

وہ کلاس میں کافی دیر سے پہنچی تھی ۔۔۔۔

“May I come in Sir”

ایک پروفیسر جو کلاس کو ” پروگرامنگ فینڈامینٹل”

کے اہم پونٹس بتا رہا تھا ماتھے پر بل ڈالے دروازے کی جانب دیکھا ۔۔۔

” Yes Come_in “

پلوشہ نڈر ہوتی اب کلاس میں کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔

“کلاس سٹارٹ ہوئے آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے کہا تھیں آپ ۔۔۔۔”

سر بازو پر بندھی گھڑی کو دیکھ کر بولے تھے۔۔۔

وہ بڑی گہری نظروں سے پلوشہ کو دیکھ رہے تھے ۔۔

جس نے براٶن کلر کا ٹاپ ساتھ بلیو جنیز پہنے ہلکے میک اپ کیے وہ منہ میں ببل ڈالے مسلسل چبا رہی تھی۔۔۔

کلاس کے ہر لڑکے کی نظر پلوشہ کے سراپے پر اٹکی ہوئ تھی جو بے نیاز اب کھڑی ہوئ تھی۔۔

وہ کالا حبشی میرے ساتھ تھا اس لیے لیٹ ہو گی۔۔

پلوشہ جلتی ہوئ بولی تھی جب پاس بیٹھی زنیب نے روز سے اسے لات ماری تھی۔۔۔

مطلب۔۔۔

سر نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔۔۔

و۔وہ ہاں سر میں لیٹی اٹھی تھی اس لیے۔۔۔

پلوشہ اپنی غلطی چھپاتے دانت نکالے بولی تھی۔۔

اچھا بیٹھ جاٶ۔۔۔

سر اسے بیٹھاتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔

“Variable Declaration” تو کلاس میں

کا بتا رہا تھا” وہ اسے کہنے کے بعد پھر سے کلاس کو پڑھانا شروع یو چکے تھے ۔۔۔۔

“افففف۔۔

پلوشہ بیزار سی زنیب کے پاس بیٹھی بولی تھی۔۔۔

پلوشہ اب زینب کو اپنے ساتھ ہوۓ سارے واقعے بتا رہی تھی ۔۔۔

ہاے سر کتنے پیارے ہے کاش میری شادی ہوتی ان سے۔۔۔

زینب رشک لیتی بولی تھی۔۔۔

ہاں تم کر لینا جب میں طلاق لو گی اس کالے سے۔۔۔

پلوشہ دانت نکالتی ہوئ تھی ۔۔۔

جب دونوں کی ہنسی نکلی تھی۔۔۔

اور یہیں پر وہ دونوں پھنس گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔

“Hey you Late Comer Stand Up “

“ایک تو کلاس میں آپ لیٹ آئ سکینڈلی دانت نکال رہیں آپ ۔۔۔۔

What’s your Name ?

( پروفیسر ایسے ہنستا دیکھ کھڑا کر کے پوچھنے لگا)

آپ سر یہ سوچ لے مجھے کھڑا کرنا ہے یا بیٹھانا ہے ابھی تو بیٹھی تھی میں۔۔۔

پلوشہ معصوم سی شکل بناۓ اپنا بولی تھی۔۔۔۔

اس کی بات پر پوری کلاس ہنسنے لگ گئی تھی

” Silance !

آپ دونوں کلاس سے آؤٹ ہو جائیں 5 سیکنڈ کے اندر اندر ۔۔۔۔”

“سوری سر “

دونوں بروقت بولیں تھیں۔۔۔۔

” I hate Word Sorry So

You Both get out “

سر کا جواب سنتے ہی وہ دونوں خاموش ہو چکی تھی ۔

شکل دیکھی ہے تم نے اپنی جانتے نہیں ہو کون ہو میں۔۔۔

پلوشہ اب آپے سے باہر ہوتی سر پر چلای تھی۔۔۔

زبان سنھبال ک۔۔۔

ارے شاہ زین سر آۓ آے۔۔۔

سر ابھی پلوشہ کو بول رہا تھا جب اندر آتے شاہ زین کو دیکھتے ساری کلاس کھڑی ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

یونی کا ہر بچہ جانتا تھا شاہ زین اس یونی کا اونر تھا۔۔۔

کیا ہو رہا یہ۔۔۔

شاہ زین پلوشہ کا سرخ چہرہ دیکھتا بولا تھا۔۔۔

شاہ دیکھو اس نے انسلٹ کی میری۔۔۔۔

پلوشہ جلدی سے شاہ کو بازوں سے پکڑتے معصوم بچے کی طرح شکایت لگاتے بولی تھی۔۔۔۔

سر بہروز آپ میرے آفس آے اور پلوشہ تم گھر جاٶ۔۔۔۔

شاہ زین اپنی مسکراہٹ روکے سکون سے بولا تھا۔۔۔

وہ خوش ہوا تھا چاہے سب کو دیکھانے کے لیے لیکن پلوشہ نے اسے شوہر مانا تو سہی۔۔۔

س۔سر یہ جھوٹ بول رہی لڑک۔۔۔

بیوی ہے یہ میری مسز شاہ زین باقی باتیں آپ میرے آفس میں آ کر کرے۔۔۔

پلیز کلاس آپ سب بیٹھ جاۓ۔۔۔۔

سر ابھی ہکلاتا بول رہا تھا جب شاہ زین سکون سے اسے اور کلاس کو مخاطب کرتا بولتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔

———————————————————–

ہاۓ کتنا اچھے ہے سر میرا تو دل جیت لیا۔۔۔

پلوشہ جو ابھی تک شاہ زین کے لمس میں کھوئ ہوئ تھی جب کیٹین میں بیٹھے زینب نے حسرت سے کہا تھا۔۔۔

اتنا بھی اچھا نہیں اب وہ دیکھو کیسے ملازم کی طرح خودی کام کرنے لگ جاتا ہے انسان کی اپنی بھی تھوڑی قدر ہونی چاہے ۔۔۔

پلوشہ اب کیٹین کے ساتھ والی بلڈنگ کی طرف دیکھتی منہ بناتی بولی تھی جہاں شاہ زین اپنے بلیک کرتے شلوار میں سادہ سا تیار ہوا مزدروں کے ساتھ مل کر ایٹیں اٹھا رہا تھا۔۔۔۔

ہاے پتہ نہیں تم کس پھتڑ کی بنی ہو آج کل کے دور میں ہر لڑکی ایسا شوہر چاہتی ہے یار جو دل کا بہت اچھا ہ۔۔۔

انہہہ خوبصورت بھی انسان کو ہونا چاہے۔۔

زینب اب غصے میں آتی بول رہی تھی جب پلوشہ اپنی کہتی اب وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔

————————————————————

ت۔۔تم یہاں لیٹو گی۔۔۔

رات کو کھانا کھانے کے بعد شاہ زین بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب پرپل نائٹی پہنے پلوشہ اس کے قریب بیٹھی تھی تبھی وہ بولا تھا۔۔۔

اور تم کیا سمجھتے ہو میں ناولز کی ہیروہین کی طرح بولو گی ۔۔۔

آجی سنتے ہیں آپ بیڈ پر سو جاۓ میں زمین پر سو جاٶ”” انہہ ایسا کچھ نہیں ہوتا فضول۔۔۔

پلوشہ اب اپنی نائٹی کا اپر سر پر رکھے روتی ہوئ ہیروہین کی ائیٹنگ کرتی بولی تھی۔۔۔

شاہ زین نے اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔

مطلب اب میں شوہر ہو تمہارا اگر میں نے کچھ کر د۔۔۔۔

تو میں کون سا ننھی کاکی ہو جو شرما کر پوچھو گی یہ سب کیا تھا یہاں کہو گی ایسا مت کرو بلا بلا بلا بس کرو کالے اپنا کام کرو مجھے سونے دو۔۔۔۔

شاہ زین ویسے ہی لیپ ٹاپ یوز کرتا بول رہا تھا جب پلوشہ اپنی نائٹی کا اپر اتارتے ہوۓ اس کے قریب بیٹھتی بولی تھی۔۔۔۔

شاہ زین کی نظریں رک گی تھی پلوشہ کو ایسے روپ میں دیکھ کر جہاں اس کی نائٹی بس تھائ تک بامشکل آ رہی تھی۔۔۔

شاہ زین جانتا تھا پلوشہ اسے تنگ کرنے کے لیے ایسے کپڑے پہنتی تھی۔۔۔

اتنا بھی کالا نہیں میں ایویں مذاق بناتی ہو اس کا۔۔۔

بلیک بینان ساتھ ساڑٹس پہنے کسرتی جسم جس کے مسلز بینان سے باہر دیکھ رہے تھے ہشابشا خوبصورت جس پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی۔۔۔۔

کام میں بزی شاہ زین کو دیکھتے پلوشہ نے دل میں سوچا تھا۔۔۔

شاہ زین اپنا کام کر رہا تھا جب اسے اپنے ہاتھ پر پلوشہ کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا وہ اگنور کیے اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔۔

————————————————————

پلوشہ کو ویسا لمس واپس چاہے تھا تبھی وہ شاہ زین کو بنا بتاۓ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ کو چھو رہی تھی یہ سوچ کر وہ محسوس نہیں کر رہا۔۔۔۔

تمہارا ہاتھ خوبصورت ہے کالے ۔۔۔۔

پلوشہ سے جب رہ نہیں گیا تو خود اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتی بولی تھی۔۔۔

نہیں میرا ہاتھ تو کالا ہے۔۔۔

شاہ زین ویسے ہی بزی ہوتا بولا تھا جہاں اس کے سفید خوبصورت ہاتھ میں اس کا سانولا ہاتھ تھا۔۔۔

لیکن اس میں سکون ہے ایک عیجب سا۔۔۔۔

پلوشہ اب اس کا ہاتھ اپنی کمر پر رکھتے آنکھیں بند کیے بولی تھی۔۔۔۔

شاہ زین کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔۔

اچھا یہ بتاٶ کبھی یہ سکون نہیں ملا۔۔۔

پلوشہ اب اس کا ہاتھ اپنے شولڈر پر رکھے لیٹتی آنکھیں بند کر چکی تھی۔۔۔۔

ہاں ملا تھا جب دانین چھوٹی سی ہوتی تھی اس کے بعد نہیں ملا کبھی۔۔۔

پلوشہ اس کا ہاتھ اب اپنے چہرے پر سہلاتے بولی تھی۔۔۔

اچھا چلو تمہیں کچھ سناٶ میں۔۔۔

شاہ زین اب سمجھ چکا تھا پلوشہ ایسی کیوں بنی تھی کیونکہ وہ پیار کی بھوکی تھی اسے وہ پیار پریسہ سے نہیں ملا تھا جو دانین دیتی تھی۔۔۔۔

ہاں سناٶ۔۔۔

پلوشہ اپنا چہرہ اس کی طرف کرتی بولی تھی۔۔۔۔

یہ سنو پیاری آواز ہے۔۔۔۔

شاہ زین اپنا لیپ ٹاپ چھوڑتا اس کے قریب لیٹتا ہوا اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

جہاں اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔

اہہہہ بہت سویٹ ہے یہ کیا میں روز سن سکتی ہو۔۔۔۔

پلوشہ اپنا ہاتھ ہٹاتی وہاں اپنا کان رکھتے بچوں جیسے خوش ہوتی بولی تھی۔۔۔

ہاں ضرور۔۔۔

شاہ زین بھی مسکراتا بولا تھا۔۔۔

بہت مزہ آ رہا سچی ایسا لگ رہا کوئ سلو میوزک ہے جو آہستہ آہستہ کان میں جا رہا ہے ۔۔۔۔

پلوشہ اب سب بھولے آرام سے اس کے سینے پر لیٹتی دل پر کان لگاتی آنکھیں بند کرتی بولی تھی۔۔۔۔

کالے تم اتنے بھی برے نہیں ہو۔۔۔۔

پلوشہ اب اپنے بازوں اس کی گردن میں حائل کیے آنکھیں بند کرتی کہتی وہی سو چکی تھی۔۔۔۔

شاہ زین اس کی حرکت پر مسکراتا ہوا اب سوچ رہا تھا جلد ہی پلوشہ وہ بنے گی جو وہ چاہتا ہے ۔۔۔۔