Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 21)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 21)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
““اریج
بلاج رخصتی اسپشیل ۔۔
مجھے کافی دو ۔۔
سفان فون میں بزی ہوتا کافی مانگتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا۔۔۔
جنت اپنی شرٹ بیڈ پر رکھتے روم سے باہر جاتی سکون سے بولی تھی۔۔۔
لو کافی۔۔۔
کافی دیر بعد جنت روم میں آتی اسے کافی کا مگ دیتی بولی تھی۔۔۔
گرم ہے یہ۔۔۔
سفان مگ پکڑتا سکون سے بولا تھا۔۔۔
کیوں تمہارے ہاتھ ٹوٹ گے ہے خودی فیل کرو گرم ہے یا نہیں ۔۔۔
جنت اسے مگ دیتی دوبارہ بیڈ کے قریب جاتی بولی تھی۔۔۔
اچھا دیکھتا ہوا گرم ہے یا نہیں ۔۔۔
سفان مگ لیے جنت کے پیچھے آتا سکون سے بولا تھا۔۔۔
اچھا سنو وہ بلاج اور ارو کی شادی ہے م۔۔۔۔
اہہہ اہہہ یہ کیا طریقہ ہے وحشی انسان۔۔۔
جنت بول رہی تھی جب سفان وہی کافی جنت کی شرٹ کی بیک نیک کے اندر انڈیلتا ہوا مسکرایا تھا وہی جنت چیخی تھی۔۔۔
تمہیں تمہارے ماں باپ بھای سے اس لیے دور لایا تھا کہ تمہیں احساس ہو اس کے بنا لائف گزارے تو کیسا فیل ہوتا ہے پر نہیں تمہیں تو اکیلا پن بھی محسوس نہیں ہوتا اب جاٶ شوق سے اپنے کزن کی شادی پر مس جنت بلاٶ یہاں مری اپنے باپ کو کہ لے کر جاۓ بلکہ تمہیں دیکھے اتنے درد میں مجھے سکون آے گا۔۔۔۔
سفان اب جنت کو بالوں سے پکڑتے دانت پیستے غرایا تھا۔۔۔
اوووو میں سمجھ گی تو سنو مسٹر سفان تم چاہتے ہو میرے ماں باپ مجھے دکھ میں دیکھ کر دکھی ہو تو بھول ہے تمہاری کہ مجھے درد ہوا ہے یا میں فون کر کے بلاو گی ان سب کو ۔۔۔
رہی بات شادی پر جانے کی میں دیکھ لو گی سب اب دفع ہو یہاں سے تم۔۔۔
اپنی جلتی کمر کو محسوس کرتی جنت پر سکون کا ڈرامہ کرتی سفان کو کہنی مارتی واش روم کی طرف جاتی بولی تھی۔۔۔۔
اہہہہ ڈرامہ ۔۔
سفان بنا شرمندہ ہوتے منہ بنتا اب بیڈ پر بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
رات کو یہ ڈریس پہنو گی میں عمار بتاٶ کیسا ہے ۔۔۔
پرپل کلر کی فل بھاری فراک جو نیٹ کی بنی ہوئ تھی وہ عمار کو دیکھاتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
میری جان جو پہنے گی اچھی ہی لگو گی ۔۔۔
عمار زینیہ کو کمر سے پکڑتے اس کا ماتھا چومتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاں خوبصورت ہو تبھی اچھی لگے گی اچھا بتاٶ بال کھلے چھوڑو یا نہیں ۔۔۔
زینیہ اب عمار کی شیو پر ہاتھ پھیرتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
یار کچھ بھی کر لینا مجھے تو تم پسند ہو بلکہ میں تو کہتا ہو بلاج خودی رخصتی کروا لے گا ہم گھر رہتے ہے ۔۔۔
عمار اب زینیہ کی گردن پر لب رکھتے مدہوش ہوتا بولا تھا۔۔۔
عمارررررر ارو تمہاری بہن ہے شاہد اور میری دوست بھی تم ایسے کیسے سکتے ہو ۔میں نے جانا ہے ۔۔۔
زینیہ اس سے دور ہوتی چیختی بولی تھی۔۔۔۔
افففف جنگلی بلی جانتا ہو تم وکیل ہو اب یہ چیخ چیخ کر میرے معصوم سے کانوں کا پردہ مت پھاڑا کرو ۔۔۔
جانتا ہو بہن ہے میری تبھی بول رہا مجھ جیسا سنجیدہ انسان کسی کے فکشن میں جاۓ یا نہیں ایک ہی بات ہے ۔۔۔۔
عمار اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیتا اب اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
تم آ جانا یار بھای ہو ایسے بھی سڑیل مت بنا کرو آذان بھای کو دیکھا ہے کتنے اچھے ہے کبھی جو ان کو غصے میں دیکھا ہو ہم سب نے ۔۔
تم تو بابا جیسے ہو وہ بھی کسی فکشن میں نہیں جاتے یہ سوچ کر وہ سنجیدہ انسان ہے ۔۔۔۔
زینیہ اس کی گرفت سے باہر نکلتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
یار کیا ہے تمہیں چین نہیں بار بار دور چلی جاتی ہو پاس آٶ ابھی۔۔۔۔
عمار اکتاۓ ہوۓ لہجے سے بولا تھا۔۔۔۔
کام ہے بہت مجھے ماما ویٹ کر رہی ہو گی میرا جانے دو ۔۔۔
زینیہ اس کا غصہ سے پھولا چہرہ دیکھ پاس آتی نرمی سے اس کے ہونٹوں کو چومتی باہر جاتی بھاگتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
ہ۔ہلیو روحان میں نے بات کرنی تھی۔۔۔
کمر پر مسلسل ہوتے درد سے تنگ آتی جنت نے روحان کو فون کیا تھا۔۔۔۔
بولو آپو ۔۔
روحان اپنے آفس تھا تبھی بزی ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
و۔وہ میں کہہ رہی تھی میں نہیں آ پاٶ گی تم سب انجواۓ کرنا ۔۔
پہلی دفعہ جنت کو احساس ہوا تھا اپنوں سے دور رہ کر کیسا فیل ہوتا ہے ۔۔
کمر پر جلنے کے درد کو برداشت کرتی جنت ہاری تھی ۔۔۔۔
زندگی میں کبھی بھی روحا ہارون روحان نے اسے کوئ درد برداشت کرنے نہیں دیا تھا۔۔۔۔
لیکن آج وہ کر رہی تھی۔۔۔۔
کیوں آپو طیبعت ٹھیک ہے اگر نہیں ٹھیک میں بلاج بھای کو بھیج دیتا ہو وہ چ۔۔۔
ا۔ارے نہیں پاگل وہ میری شادی کر دی تم لوگوں نے بس شوہر کو بھی تو ہنیڈل کرنا ہے سو کام ہوتے ہے ویسے بھی سفان سے میری شادی کر دی تو مجھے ٹائم بھی دو میں سمجھ سکو اسے ۔۔۔
جنت اپنے آنسو کنٹرول کرتی بامشکل بولی تھی۔۔۔۔
ہممم چلے جیسی آپ کی مرضی آپ خوش رہے ہمارے لیے کافی ہے آپو ۔۔۔
خیال رکھنا کچھ دن بعد چکر لگاٶ گا میں۔۔
روحان سمجھ گیا تھا جنت جھوٹ بول رہی ہے تبھی دو ٹوک جواب دیتا اسے پر سکون کرتا خود بے چین ہو چکا تھا۔۔۔
اور ہاں میرے بے بی کو کس دینا دو چار ۔۔۔
جنت اب مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
جی دے دو گا باربی کو کس اور کچھ کہنا چاے آپ۔۔۔
روحان اب مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔
نہیں اور کچھ نہیں ۔۔۔
جنت نے کہتے فون بند کر دیا تھا۔۔۔
———————————————————–
یہ غلط ہے بابا بہت غلط۔۔۔
بلال ہال میں انٹر ہوا جب اسے دانین کے شور کی آواز سنائ دی۔۔۔
میں نے کیا کیا دانین۔۔
دار جی معصوم بنتے بولے تھے۔۔۔
آپ کو لڈو نہیں کھیلنے آتی میں جیت رہی تھی آپ نے اپنی دوسری گوٹ آگے رکھ دی۔۔۔
دانین ابھی بھی بول رہی تھی۔۔۔
کیا ہو رہا یہاں۔۔۔
بلال مسکراتا ہوا پاس آتا صوفے پر بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔
دیکھو دوست بابا نے یہ کیا کیا۔۔۔
دانین اس کی گود میں آتی بولی تھی۔۔
اچھا میں مان گیا یہ سب کیا تم سزا دو مجھے بات ختم۔۔۔
بلال کی گود میں جاتی دانین کو دیکھ دار جی اب مسکراتے بولے تھے ۔۔
یاہوووو مطلب میں جیت گی تھی اب سزا یہ آپ گھوڑا بنے مجھے جھولے لینے ہے۔۔۔
دانین اب تالیاں بجاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاہہہاہاہہہاہہاہاہ۔۔۔۔
ہاے میں بوڑھا کہاں بنو گا تم بلال کو بناو۔۔۔
دارجی اب بلال کی طرف اشارہ کرتے بولے تھے۔۔۔
یہ غلط دارجی ہارے آپ سزا مجھے واہ۔۔۔
بلال مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اب اتنا تو بنتا ہے پوتے ہو میرے۔۔۔
دارجی بھی مسکراتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
وہ گاٶں کا سردار ملک کا ڈی ایس پی اب ایک گھوڑا بنا ہے بڑی بات ہے یہ ۔۔۔
بلال اب قالین پر گھوڑا بنتا اوپر دانین کو بیٹھاتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔
بابا آپ بھی آے مزہ آ رہا۔۔۔۔
پورے ہال کا چکر لگاتے اب دانین دار جی کو بھی دعوت دیتی بولی تھی ۔۔
سارے ملازمین منہ کھولے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
تم ایسا کرو پورے گاٶں کو مجھ پر بیٹھا دو۔۔۔
بلال اب تھکتا ہوا اب سیدھا لیٹتا زمین پر سینے پر دانین کو بیٹھاتے منہ بناے بولا تھا۔۔۔۔
آپ پر پورا گاٶں کیسے آۓ گا میں ہی پوری آ گی۔۔۔۔
دانین پریشان ہوتی اب اپنا گال بلال کے گال پر رکھتی بولی تھی۔۔۔
دار جی یہ دیکھتے مسکراتے ہوۓ روم میں گے تھے جبکہ ملازمین بھی چلے گے تھے بس ہال میں دونوں ہی اکیلے تھے۔۔۔
ہاں یہ تو سوچنے والی بات تھی چلو پہلے بلاج کی شادی سے ہو آۓ تب کرے گے یہ کام ۔۔۔
بلال اسے کمر سے پکڑتے اپنے اوپر لیٹاۓ سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
ہاں ضرور اچھا یہ تو بتاۓ یہ ہونٹ پنک کیسے ہے کیا لیپ اسٹک لگاتے آپ ۔۔۔
دانین اب اس کے لبوں پر انگلی رکھتی بولی تھی۔۔۔
نہیں یہ نیچرل ہے دیکھو تو۔۔۔
بلال نے یہ کہتے ہی دانین کے چھوٹے ہونٹوں کو قید کرتے کہا تھا۔۔۔۔
جبکہ دانین پہلی دفعہ شرمائ تھی بلال کے لمس پر ۔۔۔
————————————————————
یہ کیا ہو رہا ہے ببلی ۔۔۔
روحاب اماں کے روم سے باہر آتی سامنے کا منظر دیکھتی زرا غصے سے بولی تھی۔۔۔
کیونکہ اس کے روم کے باہر کھوٹھے کی ساری لڑکیاں اندر کو جھانکتی کھڑی تھی۔۔۔
اففف بہارے تم نے بتایا کیوں نہیں تمہارا شوہر اتنا خوبصورت ہے ہاے کاش میرا ہوتا ببلی کے چھوٹے چھوٹے دکھ ۔۔۔
ببلی روحاب کا ہاتھ پکڑتے اندر کا منظر دیکھاتی بولی تھی۔۔۔
جہاں شرٹ لیس ہوۓ سبحان جم کر رہا تھا ۔۔۔۔
قالین پر جھکا سبحان پش اپس کر رہا تھا جبکہ کشادہ مضبوط سینے پر پیسنہ بہا رہا تھا ۔۔۔
ی۔یہ کیا طریقہ ہے شانی لڑکیاں ہے یہاں۔۔۔
روحاب سب سے جلیس ہوتی جلدی سے اندر جاتی روم کا دروازہ بند کرتی اب سبحان کے سر پر کھڑی ہوتی غصہ سے بولی تھی۔۔۔
ہاں تو میں کیا کرو روحی اب جم بھی تو کرنا ہے ۔۔۔
سبحان اب اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا تھا۔۔۔
ک۔کچ۔تو شرم کرو شرٹ ہی پہن لو۔۔۔
روحاب اس کا برہنہ سینہ دیکھتی رخ موڑتے ہکلاتے بولی تھی۔۔۔۔
لو اب بیوی سے کیسی شرم ویسے بھی یہاں رہ رہا ہو تو مجھے یہ سب کرنا پڑے گا کیا تم جلیس ہوئ ہو۔۔۔
سبحان اسے اپنے سینے سے لگاۓ اس کے کان کی لو چومتا سکون سے بولا تھا۔۔۔
روحاب کی دھڑکن تیز ہوئ تھی۔۔۔
ت۔تو جاٶ پھر یہاں سے تم ۔۔۔
سبحان نے روحاب کا رخ اپنی طرف کیا تھا جب آنکھیں بند کیے وہ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔
پتہ کیا تم میری وہی چھوٹی والی روحی ہو جو آج بھی گھبراتی اور ڈرتی ہے ۔۔۔
جو آج بھی جلیس ہوتی ہے کہ کہی اس کا شانی کسی کا نہ ہو جاۓ ۔۔۔
پر تم یہ نہیں جانتی میں ہمیشہ تمہارا رہو گا چاہے جو مرضی ہو جاۓ ۔۔
سبحان اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا اب ایک ایک نقش چومتا بولا تھا۔۔۔
چ۔چھوڑو م۔۔۔۔
روحاب اب گھبراتی دور ہو رہی تھی جب سبحان نے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھتے اس کی آواز کو رکا
تھا۔۔۔
روحاب کے لیے یہ دوسری دفعہ جٹھکا تھا جب سبحان اس کے اتنے قریب آیا تھا۔۔۔
————————————————————
ہا۔ے ہیرو ۔شک۔شکر ہے آپ آ گے سب چلے گے ہال آپ ہی کا ویٹ کر رہی تھی میں۔۔۔
شام کو جب سارے تیار ہوۓ چلے گے تب روحان آیا نہیں تھا جس پر روحا نے آنیہ کو کہا تھا وہ روحان کے ساتھ آے ۔۔
تبھی اسے آتا دیکھ وہ جلدی سے بولی تھی۔۔۔
جہاں ریڈ ساڑھی پہنے ہلکے میک اپ بالوں کو کھلا چھوڑے وہ تیار سی روحان کے دل کی دھڑکن تیز کر چکی تھی۔۔
ہاں چلے جاتے ہے ویسے آج تو جانے کا موڈ ہی نہیں ہے پر کیا کرو بلاج بھای ہے میرا تو جانا بھی مجبوری ہے۔۔۔
آنیہ کو کمر سے پکڑتے روحان بہکا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہ۔ہیرو یہ رومینس پھر سہی کر لینا ابھی لیٹ ہے ہم۔۔۔
آنیہ اس کے تیور دیکھتی جلدی سے دور جاتی بولی تھی۔۔۔
اچھا آپو نے کہا تھا تمہیں کس کرو۔۔۔
روحان اسے کمر سے پکڑتے اب دیوار سے پن کرتا بولا تھا۔۔۔
اچھا مجھے بھی آپو یاد آ رہی ہم کسی دن ملنے جاۓ ان سے ۔۔۔
آنیہ بس جنت کی بات سنتی خوش ہوتی بولی تھی۔۔۔
ہاں جاۓ گے۔۔۔
روحان بہکا ہوا اپنے لب اس کی گردن پر رکھے بولا تھا۔۔۔
چلے کس ہو گیا اب چلتے ہے۔۔
آنیہ جلدی سے دور ہوتی بولی تھی۔۔۔
ابھی رہتی ہے۔۔
روحان مدہوش ہوتا دوبارہ اسے دیوار سے لگاۓ اب ساڑھی کا پلو نیچے کرتا وہاں شولڈر پر لب رکھے بولا تھا۔۔۔۔
ہ۔ہیرو میں نے رونے لگ جانا ہے اگر میرا میک اپ خراب ہوا تو۔۔۔
گردن شولڈر کان پر روحان کا پر حدت لمس پاتے اب چہرے پر اس کے لب محسوس کیے آنیہ نے رونی شکل بنا کر کہا تھا۔۔۔۔
مطلب شوہر رومینس کر رہا اس کی فکر نہیں میک اپ کی پڑی ہے اب تو نہیں چھوڑو گا۔۔۔۔
روحان اب اپنے لب اس کی گال پر رکھتے شریر لہجے سے بولا تھا۔۔۔
ن۔نہیں پلیز ہیرو ۔۔
روحان اس کا ایک ایک نقش چومتا اب اپنے لب اس کے لیپ اسٹک لیے ہونٹوں پر رکھنے والا تھا جب آنیہ چلائ تھی۔۔۔۔
اہہہ باربی ۔۔۔
روحان اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کیے نرمی سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتا اس کی لیپ اسٹک خراب کر چکا تھا۔۔۔۔
جس کا اندازہ اسے اپنی کمر پر آنیہ کے مکے کھاتے فیل ہوا تھا۔۔۔
————————————————————
مسٹر کالو میری مدد کرو گے۔۔۔
پلوشہ شاہ زین کے سامنے تیار ہو کر آتی نظریں چڑاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاں بتاٶ ۔۔۔
شاہ زین مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔
پلوشہ اپنی کل والی حرکت پر پہلے ہی شرمندہ تھی۔۔۔
ہ۔ہاں وہ میرے بال بنا دو مجھے بنانے نہیں آتے ۔۔
پلوشہ اب اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
یہاں آو۔۔
شاہ زین اسے کرسی پر بیٹھاے اب اس کے بالوں کو کھولتا بولا تھا۔۔۔۔
ویسےکون سا پرفیوم لگاتے ہو خوشبو پیاری ہے۔۔۔
شاہ زین کے ہاتھوں کا لمس اپنے بالوں پر پاتی پلوشہ آنکھیں بند کیے بولی تھی۔۔۔
تم ساتھ ہوتی میرے تبھی ایسی خوشبو آتی ہے ۔۔۔
شاہ زین مسکراہٹ روکے اس کے بالوں کے کرل بناتے بولا تھا۔۔۔
اچھا مطلب مجھے بھی خوشبو آتی ہے واہ ہ کیا بات ہے۔۔۔
پلوشہ اب اٹھتی شاہ زین کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ہاں ہو سکتا ہے ایسے ۔۔۔
وہ مسکراتے بولا تھا۔۔۔
اچھا تمہیں کسی نے بتایا تم مسکراتے کیوٹ لگتے ہو۔۔۔
اس کی مسکراہٹ دیکھ پلوشہ اپنا سفید ہاتھ اس کی شیو پر رکھتی کھوئ ہوئ بولی تھی۔۔۔
نہیں تم بتاٶ پیاری لگتی کیا۔۔۔
شاہ زین ویسے ہی مسکراتا بولا تھا۔۔۔
ہاں بہت جیسے معصوم بچے کی ہو۔۔۔
پلوشہ اب اپنا چہرہ اس کے چہرے کے پاس لاتی کھوے ہوۓ لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
اب چلے ہم شادی پر بلاج ویٹ کر رہا ہو گا۔۔۔۔
پلوشہ کو کل والی حالت میں دیکھ شاہ زین اسے ہوش میں لاتا بولا تھا ۔۔
شادی کس کی شادی مسٹر کالو۔۔۔
اپنا ہاتھ اب وہ اس کے ہونٹوں پر رکھتی گم صم سی حالت میں بولی تھی۔۔۔۔
بلاج کی شادی تمہارا بھای ہے وہ اب چلے۔۔۔
پلوشہ کے ماتھے سے نمودار ہوتے چھوٹے چھوٹے پسینے کے قطرے شاہ زین اپنے ہاتھ سے صاف کرتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔
ہاں ہاں یاد آیا مجھے چلو چلتے ہے ۔۔۔
پلوشہ ہوش میں آتی اب پیچھے ہوتی بولی تھی ۔۔۔
وہ آج پھر شرمندہ ہو گی تھی ۔۔۔
پریشان مت ہو تم جب چاہو پاس آ سکتی ہو بیوی ہو میری اور شرمندہ بھی مت ہوا کرو بلکہ دوست بنا لو جو بات ہو کر لیا کرو ٹھیک ۔۔۔
شاہ زین نرمی سے پلوشہ کو کمر سے پکڑے اپنے شولڈر سے لگاۓ سکون سے سمجھاتا بولا تھا۔۔۔
سچی تمہیں پتہ تمہاری مسکراہٹ بہت پیاری ہے خاص کر تمہارے یہ ہونٹ ۔۔۔
پلوشہ اب بچوں جیسا خوش ہوتی شاہ زین کے شولڈر پر سر رکھتے ساتھ جاتے بولی تھی۔۔۔۔
ہاہاہااہاہاہہاہا سہی ۔۔۔
شاہ زین نے قہقہ لگایا تھا جب پلوشہ نے منہ بناۓ اسے گھورا تھا۔۔۔۔
————————————————————
اور کتنی دیر بیٹھنا پڑے گا مجھے۔۔۔
اسیٹچ پر دلہا بنا بلاج اب بے اقرار ہوتا بولا تھا ۔۔
کیونکہ اریج ابھی تک نہیں آی تھی۔۔۔
صبر کر لے آ جاۓ گی اریج ۔۔
عمار اسے دیکھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاں صبر کر لو تم سب کی شادی ہو گی اب چاہتے ہو میری بھی نہ ہو ہاں نہ سالے صاحب۔۔۔
بلاج اب برا برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
ہاں ہم یہی چاہتے ہے ۔۔۔
آذان بھی مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاے میری بددعا تجھے حجاب چھوڑ کر چلی جاۓ اب بول آمین۔۔۔
بلاج اب دانت نکالے آذان کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
اور تجھے ہم اپنی بہن بھی نہیں دے گے سوچ لے۔۔
عمار بھی دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
ہاے ایسا ظلم مت کرو کاش یہ سننے سے پہلے ڈائمن گر کیوں نہیں گیا اسیٹچ سے۔۔۔
بلاج اب خاموش بیٹھے روحان کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔
اففف توبہ پہلی دفعہ دیکھا ایسا دلہا جو اپنی شادی پر بھی پٹر پٹر بول رہا ہے ۔۔۔
روحان بھی اسے گھورتا بولا تھا۔۔۔
چل خوش ہو جا اب دیکھ لیا مجھے تو نے ۔۔۔
بلاج اب ڈھیٹ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاہااہاہاہاہاہاا ۔۔۔
بلاج کی حالت دیکھ آذان اور عمار کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔
———————————————————–
مہرون کلر کے لہنگے ڈراک میک اپ کیے ناک میں نوز رنگ پہنے اریج منہ بناۓ بلاج کے ساتھ اب بیٹھی تھی ۔۔۔
کتنے تماشے کیے تھے اس نے وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی لیکن عمارہ کی بات مانتے وہ دل پر پتھڑ رکھتی مان چکی تھی۔۔۔
چلو سالے صاحب رخصتی کروا دو ۔۔
بلاج خودی دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
توبہ انکل لگتا آپ کا بیٹا کچھ زیادہ ہی بے صبرہ ہو رہا ہے ۔۔۔
عمار برہان کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ہاں تو اپنا ٹائم بھول گیا تھا کتنی منتیں کی تو نے اب مجھ معصوم پر ترس کھاٶ یار سالوں بعد تو شادی ہونے والی میری۔۔۔
بلاج اپنی گول گول آنکھوں کو گھومتا بولا تھا۔۔۔
افففف ۔۔۔
اس کی حرکتیوں سے تنگ آتی اریج نے سر پکڑا تھا۔۔۔۔
————————————————————
یہ کیا طریقہ تھا بلاج کچھ شرم کرتے۔۔۔
اریج اب دلہن بنی بیڈ پر سکون سے بیٹھے بلاج کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ہاے شرم تو تمہیں آے گی مجھے نہیں جانی ۔۔۔
بلاج آنکھ ونک کرتا بولا تھا۔۔۔۔
اریج کا چہرہ یہ سن کر لال ہوا تھا ۔۔
بلاج نے سب سے کہہ کر رخصتی کروا لی تھی جیسے ہی عمار آذان شاہ زین روحان سبحان کی گاڑی سٹارٹ ہونے والی تبھی بلاج ان کی گاڑی پنچر کرتا خودی اریج کو لے اپنی کار بھاگا چکا تھا۔۔۔۔
تبھی اب اریج بار بار غصہ کر رہی تھی کیونکہ اپنے بھاہیوں کے سامنے وہ کتنا شرمندہ ہوئ تھی۔۔۔۔
———————————————————–
کھول دروازہ بلاججججج۔۔۔
بلاج کے روم کے باہر کھڑے سبحان عمار آذان روحان شاہ زین بولے تھے۔۔۔
وہ سارے پیدل چل کر آے تھے ۔۔۔
تبھی آگ بگولہ ہوۓ پڑے تھے۔۔۔
اریج تو گھبرا ہی گی تھی سب کی آواز سنتی
وہ باہر۔
اریج نے سب کے خوف سے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔
اس کی شفاف چمکتی گرے آنکھیں اس کی ناک میں جھولتی سادہ سی نتھلی پر نظریں ٹکی
ہوئی تھی جو اس کے بولنے یا حرکت کرنے پر اس کے سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے مس ہو جاتی،۔۔
اس کی نتھلی اور ہونٹوں کا یہ ملن بلاج کے جذبات کو اتھل پتھل کر رہا تھا، اس کا دل کیا ہاتھ بڑھا کر اس کی حرکت کرتی نتھلی کو چھوئے، ۔
اس کا دل اسے دیکھ کر باغی ہو رہا تھا، وہ بھی اس لڑکی کو دیکھ کر جس پر وہ اپنا پورا حق رکھتا تھا، ۔۔
بیوی تھی اس کی وہ
بھول جاؤ سب ۔ابھی یہ وقت بہت قیمتی ہے۔
ان فضول باتوں میں ضائع کر کہ اسے برباد مت کرو۔۔۔۔
بلاج نے اس کا دوپٹہ اتار کر ایک طرف کرتے سکون سے بولا تھا۔۔۔
بھاری ہونے کی وجہ سے اس نازک اندام کے لیے مشکل کا سبب بنا ہوا تھا۔۔۔
اسے لرزتا دیکھ بلاج نے اسے کہا۔۔۔
جاو چینج کرلو۔۔۔
وہ پھرتی سے واش روم کی طرف مڑی ۔۔۔۔
جیسے جان بچی سو لاکھوں پائے۔۔۔۔
بلاج اسکی تیزی پر مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
کیا ہے پھاڑ کھانے کو آ رہے سارے جاٶ کام کرو اپنا اب ڈسٹرب مت کرنا۔۔۔۔
باہر ہوتے شور کو سنتے بلاج دروآزہ کھولتے تھوڑی سی گردن باہر نکالے بولا تھا۔۔۔
تو با۔۔۔
صبح بات کرے گے باے۔۔۔
ان سب کے غصے سے بھرے چہرے دیکھ بلاج جلدی سے کہتا دروازہ بند کر چکا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ نکلی تو دلہن والے لباس سے آزاد ہو چکی تھی،
بستر کے قریب کھڑی سوچ میں مبتلا تھی اب کیا کروں۔۔۔
کہ بیڈ پر لیٹے ہوئے شہروانی اتارے بلاج نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے اس کے اوپر لڑھک گئی،
“یہ کیا کر رہے ہو تم ۔۔
اسے اتنے قریب دیکھ کر وہ گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی..
اریج چاہے جتنا بھی غصہ سہی لیکن محبت آج بھی کرتی تھی تبھی آج بھی وہ گھبرا رہی تھی ۔۔۔
“اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں..” یونہی لیٹے ہوئے اس کی کمر پر اپنے بازوؤں کا گھیراؤ مزید تنگ کیا تو وہ مزید اس کے قریب ہوگئی تھی،۔۔
اتنا قریب کہ اس کے سینے میں تیزی سے دھڑکتے دل کی آواز وہ باآسانی سن سکتا تھا،۔۔
وہ اس کے اتنا قریب تھا کہ بےترتیب سانسوں کے زیر و بم کو بخوبی گن سکتا تھا،۔۔
کیوں گھبرا رہی ہو میری جان ۔۔۔
بلاج نرمی سے اس کی ناک چومتا بولا تھا۔۔۔
اس وقت وہ اس کے اتنا قریب تھا کہ اس کے وجود سے اٹھتی گرمائش وہ اپنے وجود پر محسوس کر سکتا تھا،۔۔
وہ اس کے اتنا قریب تھا ۔۔اس کی قربت کی وجہ سے اس کے چہرے پر آتے جاتے حیا کے رنگ اس سے چھپے نہ رہ سکے تھے، ۔۔
وہ سب دیکھ رہا تھا اریج نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی تھی۔۔
میں چاہتا ہوں۔۔جیسے میں نے اپنے جذبات صرف ایک کے لیے سمبھال کر رکھے ہیں۔۔
میرے ہمسفر کے جذبات بھی میری طرح خالص ہوں صرف میرے لیے ہوں۔اس نے اس کے کان کے قریب آتے ہی سرگوشی نما آواز میں سحر پھونکا۔۔۔۔۔
اس کے جھکے سر کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بے اختیار ہو کر بلاج نے اپنا پہلا حق اس پر استعمال کیا..
اپنی گردن پر جا بجا اس کے نرم گرم ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے اریج نے شرم سے آنکھیں میچ لیں تھی۔۔۔
بلاج کے چوڑے سینے پر جمے اس کے نرم مخملیں ہاتھ نے بےاختیار ہو کر اس کے شولڈر کو مٹھیوں میں قید کر لیا تھا۔۔۔
اس کا تیزی سے دھڑکتا دل جیسے باہر نکلنے کو بےتاب تھا،
پھر بلاج نے اس کی کلائی میں خوبصورت نازک سے ڈیزائن والا بریسلٹ پہنایا۔۔۔
“میں.. میں خود پہن لوں گی..” لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی..
، لمحے بھر کو نظروں کا ٹکراؤ ہوا، پھر اس نے نظریں جھکا لیں..
بلاج نے اسے مزید بولنے کا موقع نہ دیتے ہوئے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتے اسے آج اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا۔۔۔۔۔
