Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 18)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 18)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
“””روحان
آنیہ
“آذان
حجاب اسپشیل![]()
![]()
روحان میری جان دیکھو میری بات سنو آنیہ چھوٹی ہ۔۔۔
روحا روحان کو ناشتہ دیتی سمجھاتے ہوۓ بول رہی تھی جب روحان غصے سے منہ بناۓ اٹھا تھا۔۔۔۔
ماما آپ کے پاس دو گھنٹے ہے گل بابا سے بات کرے ورنہ میں باربی کو ایسے ہی لے آٶ گا ویسے بھی میرے نکاح میں ہے ۔۔۔
روحان اپنی کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
یہ سارا قصور ہارون کا ہے ۔۔۔
ہارو۔۔۔۔۔
روحا اب شدید غصے میں آتی ہارون کو آواز دینے والی تھی جب اسے اپنی کمر پر ہارون خان کا سیفد بھاری ہاتھ محسوس ہوا تھا۔۔۔
ارے جان صبح صبح شیرنی بنی ہو خیر تو ہے ۔۔۔
ہارون اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھتے شوخ ہوتے بولے تھے۔۔۔
یہ غلط ہے ہارون کیا ضرورت تھی بچوں کو ہمارے نکاح والی بات بتانے کی اب دیکھے روحان ضد کر رہا ہے ۔۔
روحا ہارون کی طرف دیکھتی بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاں تو بچوں کو پتہ چلنا چاہے ان کا باپ اپنی پنک روز کے لیے کتنی کریزی تھا۔۔۔
ہارون خان مسکرا کر کہتے روحا کی نوز پن چومتے بولے تھے۔۔۔
ہٹے پیچھے بے شرم ہو گے توبہ۔۔۔۔
روحا انہیں دور کرتی سرخ چہرہ لیتی کچن میں جاتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاہاہہا۔۔۔
ہارون کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
————————————————————
دیکھ بھای تو ہمیں شام کو بھی نہ بلا خود کر لے بلکہ جب بچے پیدا ہو جاتے تب بتاتا یہ سب۔۔۔
عمار آذان سبحان سفان شاہ زین روحان کے پرسنل ہاوس میں آۓ تھے۔۔ جہاں ان سب کو اس نے بلایا تھا۔۔۔۔
جب سارے کافی پیتے ہوۓ اس کی انوکھی بات سن رہے تھے۔۔۔
شکر کرو بلا لیا ورنہ ارادہ تو یہی تھا۔۔۔
روحان عمار کا طنز سنتا بے شرمی سے اپنا کافی کا مگ پیتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاں سو سکتا ہے یار یہ سب ڈائمن جو ہے یہ تو ناشتے میں بھی ڈائمنڈ کھاتا ہے ۔۔۔
سفان بھی جلتا ہوا بولا تھا جہاں روحان کے مگ پر ڈائمنڈ سے آر اے لکھا تھا۔۔۔۔
تجھے کیوں آگ لگی۔۔۔
روحان سفان کو طنزیہ نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
آنیہ بہن ہے میری کچھ مجھ سے پ۔۔۔۔
بہن تو میری بھی تیرے حوالے ہے مسٹر سفان خان میں نے بھی تو تجھ پر بھروسہ کرتے دی ہے ۔۔۔۔
سفان اب غصے سے بول رہا تھا جب روحان اسے کاٹ دار نظروں سے طنز کرتا بولا تھا۔۔۔
جب سفان نے اپنا پہلو بدلا تھا۔۔۔
ویسے باربی کا عزیز بھای جان کیوں چپ ہے ۔۔۔
روحان اب خاموش بیھٹے عمار پر طنز کرتا بولا تھا۔۔۔۔
دفع ہو جا بہن ہو گی تیری میری نہیں ہاں میری فیورٹ کزن تھی جو تجھ جیسے شیطان کے پاس جا رہی ہے ۔۔
بڑی کوشش کی تھی تجھ سے بچ جاۓ یہ تو اب بمب گرا مجھ پر کہ تیرا نکاح بچپن میں ہوا تھا عین کے ساتھ۔۔۔۔
عمار اب غصہ میں دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔۔
ارے سب چھوڑو میں پکا کہا سکتا ہو ہارون چاچو نے کبھی بھی اس کی بات نہیں مانی دیکھنا یہ ٹائم ویسٹ کر رہا ۔۔۔
آذان بھی جلتا ہوا کہتا اب وہاں سے بھاگا تھا کیونکہ روحان نے اپنا مگ اسے مارا تھا۔۔۔۔
اوےےےے بدمعاش شرم کرو تم سب کا معصوم والا بڑا بھای ہو ہاےےےے کبھی تو عزت کرو میری چھوٹے ہو تم سب لوگ۔۔۔
ٹوٹے مگ سے ڈائمنڈ اٹھاتے آذان اپنی پاکٹ میں ڈالتا دہای دیتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاں تم جیسے بھای جان ہو تو بسسسسس۔۔۔۔
روحان مسکراتا ہوا طنز کرتا بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
ہارون آپ کیا کم تھے آپ کا بیٹا آپ سے بھی زیادہ بے شرم ہے توبہ توبہ ۔۔
روحا ہارون کے پاس آتی غصہ کرتی بولی ۔۔
اففف پنک روز کتنی دفعہ کہا غصہ مت کیا کرو نیت خراب ہوتی میری ۔۔
ہارون روحا کو اپنے حصار میں لیتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
تبھی روحا اب تنگ آئ تھی اس کی حرکیتوں سے ۔۔۔
شرم کرے کچھ بچے جوان ہو گے آپ ایسے بے شرم رہنا کبھی جو سیریس ہو آپ ۔۔
روحا ہارون کا وجہہ چہرہ دیکھتی بولی جو آج بھی ویسے کا ویسا خوبصورت تھا ۔۔
تین دفعہ سیریس ہوا م۔۔۔
ہارونننننننننن
ہارون سوچتا ہوا بول رہا تھا جب روحا بات کا مطلب سمجھتی چیختے ہوے بولی ۔۔
اچھا میری پنک روز بتاٶ کیا کر دیا میرے شیر نے ۔۔
اچانک ہارون سنجیدہ ہوتا بولا ۔۔
کہتا ہے باربی سے شادی کرے گا میں نے سمجھایا کہ باربی ابھی بچی ہے آگے سے کہتا موم میں ہنیڈل کر لو گا ۔۔۔
روحا روحان کی نقل اتارتی ہوئ بولی ۔۔
روحا ہارون کو تقربیاًچار دفعہ یہ بات بتا چکی تھی جبکہ ہارون خان نے زرا اثر نہیں لیا تھا ان کی بات کا۔۔۔
آپ سے بات کر رہی میں یہاں کوئ فرشتے نہیں بیھٹے جن سے میں بول رہی ۔۔
روحا جو اپنی بات بتا رہی تھی خود کو مسلسل گھورتے ہارون کو دیکھتی بولی ۔۔۔
کیا یار پتہ بھی ہے جب تم ساتھ ہوتی کوئ ہوش نہیں رہتا پھر ایسا کیوں کرتی ہو ۔۔
ہارون روحا کی گردن پر لب رکھنے کے جھکتے ہوے بولے جب روحا نے اسے روک دیا ۔۔۔
اب سمجھ آیا بیٹا آپ کا ہے تو بے شرم بھی باپ پر گیا ۔۔
میں نے کہا اسے باربی بچی ہے اسے شادی لفظ کا مطلب نہیں پتہ اتنی معصوم ہے وہ ۔۔۔
آگے سے کہا جاتا موم آپ بھی تو معصوم تھی ڈیڈ نے ہنیڈل کر لیا تھا ۔۔۔
اب اس کو کون بتاۓ باپ کو دورہ پڑ جاتا ہے اپنی پنک روز کو دیکھ کر ۔۔۔
مجھے تو معاف کرے سارا قصور آپ کا میں بات نہیں کرتی ۔۔۔
روحا ہارون کو دور کرتی خودی غصہ سے بولتی جا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ جس کو وہ اتنی لمبی تقریر سنا رہی تھی وہ پھر اسی کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے۔۔
پتہ تم کتنی خوبصورت ہو پنک روز اور جب غصہ کرتی ہو تو اففففف جان نکل جاتی میری ہاےےےےے ۔۔۔
ہارون اپنے دل پر ہاتھ رکھتے گرتے آنکھ ونک کرتے بولے تھے ۔
آپ سے بات کرنی فضول ہے توبہ ہے ۔۔
روحا شرماتے ہوے کہتی روم سے بھاگ گی تھی ۔۔۔
ہاے میری معصوم پنک روز آج بھی ویسی ہے ۔۔۔
ہارون مسکراتے بولے تھے۔۔۔
اچھا جی بچو تیار رہو زرا میں بھی دیکھو میری پنک روز کو کون تنگ کرنے والا آ گیا۔۔۔
ہارون اب گل خان کو فون ملاتے سوچتے بولے تھے۔۔۔
———————————————————–
س۔سر و۔وہ ہارو۔۔۔
کتنی دفعہ کہا ہے میں بزی ہو ڈسٹرب مت کیا کرو۔۔۔
ڈائمن اپنے روم میں بیٹھا ضروری فائلز دیکھ رہا تھا جب ایک گارڈ اندر آتا ڈرتے بول رہا تھا جب وہ بنا متوجہ دے بولا۔۔۔
و۔۔
ش۔۔
ببر شیر کے بیٹے ہو ابھی خود ببر شیر نہیں بنے تم۔۔۔
گارڈ بولتا جب ڈائمن اسے ڈانٹتا ہوا خود شوک ہوا تھا سامنے تیار سے ہوۓ ہارون خان کو دیکھ کر جو اسے زہر اگلتی نظروں سے دیکھتے بولے تھے۔۔۔
ہاہاہہاہا کیا با۔۔۔
میری پنک روز کو تنگ کرتے تمہیں شرم نہیں آتی کیا وہ میری ہے اس کی وجہ سے تم تینوں کو برداشت کیا ۔۔۔
ڈائمن مسکراتا ہوا ہارون سے گلے مل رہا تھا جب ہارون اس کے چہرے پر مکہ مارتے دانت پیستے بولے تھے۔۔۔
ہاں تو ڈائمن کو اپنی باربی چاہے ویسے بھی بابا ہم سب جانتے ہے اپنی پنک روز کو پانے کے لیے کیا کچھ سہ آپ نے ۔۔۔
روحان اب ڈھیٹ ہوتا ہارون خان کو اپنے گلے روز سے لگاتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔
ڈائمن ہو گے سب کے لیے تم میرے لیے وہی ایک دن والے روحان خان ہو گل سے بات ہو گی وہ مان گیا باقی تم دیکھ لو اور ہاں ہو سکے تو میری پنک روز سے دور رہا کرو یار میں بڑا جلیس ہوتا ہو۔۔۔
ہارون خان مسکراتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
آپ کو تنگ کرنے میں مزہ آتا ہے بابا آپ بیسٹ بابا ہے ہمارے لو یو ۔۔۔
روحان خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔
نہیں میں اچھا نہیں ہو میری پنک روز اچھی ہے تبھی میں ایسا ہو چلو اب تیار رہنا۔۔۔
ہارون خان اب مسکراتے کہتے وہاں سے چلے گے تھے۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا حجاب طیعبت ٹھیک ہے ۔۔۔
آذان شام کو روم میں آتا بولا تھا۔۔۔
ہاں بس ٹھیک ہو تم کہاں تھے۔۔۔۔
حجاب زرد چہرہ لیتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاں وہ بس آج علیشبہ کی برسی تھی بس۔۔
آذان اچانک اداس ہوتے بولتے چپ ہو گیا تھا ۔۔۔
اچھا یہ دیکھو میں نے یہ ڈریس شجرت کے لیے لیا ہے ۔۔
حجاب اس کے دل کی حالت سمجھتی ہوئ بات چینج کیے بولی تھی ۔۔۔
سب جانتے تھے آذان کتنی محبت کرتا تھا علیشبہ سے ۔۔
اچھا ہے ۔۔
آذان بد دل ہوتا کہتا دوبارہ روم سے چلا گیا تھا۔۔۔
وہی حجاب کا دل دکھا تھا اس کی بے حسی دیکھ کر ۔۔۔
————————————————————
مبارک ہو بہت کرن تمہاری بیٹی اب میری ہوئ ۔۔۔
رات کو سب ہارون پلیس آۓ تھے جب صرف ریڈ بھاری لہنگے میں ملبوس بنا میک اپ کے آنیہ گھبرای شرمائ سی سب کے درمیان بیٹھی تھی ۔۔۔
جبکہ ساتھ بیٹھے مہرون شروانی پہنے روحان کا چہرہ بھی آج مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
تبھی روحا کرن کو گلے ملتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا روحا میں نے بہت غلط کیا تھا اب بیٹی ہوئ تو احساس ہوتا ایک بیٹی کا احساس کیسا ہوتا ہے میں جانتی ہو تم کبھی میری بیٹی کو کچھ نہیں کہو گی ل۔۔۔
افففف کرن اب تو ہم دونوں بوڑھی ہو گی تمہیں لگتا میں تمہاری بیٹی کے ساتھ ایسا کرو گی سب سے بڑی بات اس کا دیوانہ اپنی باربی کو کچھ کہنے دے گا دیکھو یہ انوکھی رخصتی ۔۔۔
کرن اس کے ہاتھ پکڑتے بول رہی تھی جب روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ روحان نے کہا تھا آنیہ میک اپ کے بنا ہی دلہن بن کر آۓ۔۔
شکریہ روحا تم بہت اچھی ہو۔۔۔۔
کرن شکرگزار ہوتی بولی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ویسے ہارون تمہارا بیٹا تم سے بھی آگے والا تیز ہے ۔۔۔
بابر برہان زیان اسامہ ہارون گل خان سب بیٹھے تھے جب اسامہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔
ہاں میرا بیٹا ہے ۔۔
ہارون خان فخر سے بولے تھے۔۔۔
ویسے ہارون بھای ایک بات تو بتاۓ ابھی بھی آپو کا جادو چلتا آپ پر یا نہیں مجھے بتاے زرا۔۔۔۔
برہان شریر لہجے سے ہارون کو دیکھتے بولے تھے ۔۔۔
ہاے میری پنک روز یہاں رہتی بلکہ میری تو سانس بن چکی ہ۔۔۔
ارے برہان کیوں ہارون کو چھڑ دیا اب اس کا پنک روز نامہ سٹارٹ ہو جانا ۔۔۔
زیان بھی مسکراتے ہارون کو تنگ کرتے بولے تھے ۔۔۔۔
ہاں تو میری معصوم سی پنک روز ہے بلکل میری جیسی۔۔۔
اہااہاہااااہ۔۔
ہارون خان بھی بے شرم ہوتے آنکھ ونک کرتے بولے تھے جب اسامہ کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
اوےے ماہا ٹھرکی بھی ہنستا ہے ۔۔۔
زیان اسامہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاں تو سنجیدہ انسان تیرے حصے کا میں ہی ہنسو گا ہاےے کیسا سالہ ملا مجھے میرا یہ دک۔۔۔
آٶ گڑیا آو۔۔۔
اسامہ زیان کے کندھے پر سر رکھے اپنا رونا رویا تھا جب زیان اس کے پیھچے دیکھتے بولے تھے ۔۔
ارے عمارہ یہ تمہارا بھای بہت اچھا میں یہی کہہ رہ۔۔۔
اسامہ جلدی سے پیچھے دیکھتے ڈرتے بول رہے تھے جب سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
ہاہاہہاہااہاہاا۔۔
————————————————————
بہت خوبصورت لگ رہی ہو باربی افففف مجھے یقین نہیں آ رہا میری خواہش پوری ہو گی ۔۔۔
آنیہ کو اب روحان کے روم میں لاتے بیڈ پر بیٹھا چکے تھے جب گھوگھنگٹ لیے آنیہ کے پاس آتے روحان سنجیدہ چہرہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
آنیہ بلکل خاموش تھی ۔۔
دیکھو میں بہت سیریس ہو کبھی یہ رومانٹک بات نہیں کی نہ ہی کرنی آتی بس اتنا کہو گا تم میری بچپن کی عاشقی ہو ایسا عشق تمہارے سوا مجھے کوئ نہیں نظر آتا تھا۔۔
تم بول کیوں نہیں رہی ۔۔۔
اچھا یہ لو اپنی منہ دیکھائ تمہیں شروع سے لیپ اسٹک پسند تھی آج سے یہ لگایا کرنا۔۔۔
روحان ایک ریڈ باکس سے لیپ اسٹک نکالے بولا تھا جس پر چار پانچ ڈائمنڈ لگے تھے ۔۔۔
روحان آہستہ سے آنیہ کا ہاتھ پکڑے بول رہا تھا جو بلکل چپ تھی۔۔۔
اچھا ڈرو مت میں لائٹس آف کر دیتا ہو۔۔۔۔
آنیہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے کہا تھا جب روحان اب لائٹس آف کرتا اب واش روم چلا گیا تھا چینج کرنے ۔۔۔۔
————————————————————
حج۔۔۔۔
رات کو فارغ ہوتے آذان روم میں آتا بول رہا تھا جب سامنے حجاب کو دیکھتے وہ الفاظ بھول گیا تھا۔۔۔۔
کیونکہ حجاب پرپل کلر کی سیلو لیس میکسی پہنے کھڑی تھی۔۔۔
وہ میکسی علیشبہ کی تھی جو عمارہ نے اسے دی تھی پہنے کو تبھی وہ ڈرتے ڈرتے پہن چکی تھی ۔۔۔
آذان شکر تم آ گے وہ میں کہہ رہی تھی ش۔۔۔۔
حجاب جلدی سے اپنے پاس آتے آذان کو دیکھ ڈرتی بول رہی تھی جب آذان بنا سنے اسے کمر سے پکڑے اپنے قریب کر چکا تھا۔۔۔
ش۔شجرت ۔م۔ما۔۔۔
حجاب گھبراتی ہوئ بول رہی تھی جب آذان نے بے اختیاری سے اپنے لب اس کی گردن پر رکھے تھے ۔۔۔۔
علیشبہ کی میکسی میں ملبوس آذان اسے علیشبہ ہی سمجھ رہا تھا۔۔۔
تبھی وہ اپنے آپ سے اختیار کھوتا اس کے قریب آیا تھا۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔
آذان حجاب کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا اس کے گال چومتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا۔۔۔
آ۔آذان ۔و۔وہ م۔میں ۔کہہ۔ر۔۔۔۔
شششش بڑی مشکل سے تم میرے پاس آئ ہو میں دور نہیں جانے دو گا۔۔۔۔
حجاب گھبراہٹ پر قابو پاتی اس سے دور ہوتی بول رہی تھی جب آذان اس بیڈ پر گراے خود اس پر جھکتے لبوں کو سہلاتے بولا تھا۔۔۔
حجاب کا دل تیزی سے دھڑکا تھا اس کے ردعمل پر ۔۔۔۔
بہت محبت کرتا ہو میں تم سے ۔۔۔
آذان نے یہ کہتے
ساتھ ہی حجاب کے لبوں پر اپنی مضبوط گرفت کی تھی ۔۔۔
حجاب بھی گھبراتی شرماتی آنکھیں بند کیے اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
وہ بھی تو اسے بچپن سے عشق کرتی تھی ۔۔۔
تبھی اسے خود سپردگی دیتی وہ مسکرای تھی۔۔۔۔
میں نہیں جانتا یہ سب کب ہوا لیکن میں آج بھی تم سے محبت کرتا ہو ۔۔۔
آذان حجاب کا چہرہ دیوانہ وار چومتا ہوا اپنا اظہار بتا رہا تھا۔۔۔۔
شاہد تب سے جب تمہیں یونی میں پہلے دن دیکھا لو یو علیشبہ لویو سو مچ علیشبہ۔۔۔۔
آذان اب اس کی میکسی کی بیک کی زپ اوپن کرتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا۔۔۔
میکسی شولڈر سے نیچے سرکی تھی ۔۔۔
حجاب نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی تھی ۔۔
مطلب آذان مجھے علیشبہ سمجھ کر پاس آیا افففف۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی حجاب نے افسوس سے آنکھیں بند کرتے دوبارہ کھولی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے آذان اپنی گستاخیوں کی حد پار کرتا جب حجاب اسے دور کرتی بیڈ سے اٹھی تھی ۔۔۔
کہاں جا رہی ہو علیشبہ میں ترس گیا ہو تمہاری قربت ک۔۔۔
م۔می۔میں ح۔حجاب ۔ہو۔ع۔علیشبہ نہیں ۔۔۔
آذان بہکے ہوۓ انداز سے دور جاتی حجاب کا ہاتھ پکڑے بول رہا تھا جب آنسوں کو روکتے بامشکل حجاب بولتی اپنی میکسی پکڑے واش روم بھاگی تھی ۔۔۔
اففف اففف کیوں کیا میں اتنا پاگل ہو گیا تھا۔۔۔
آذان اب ہوش میں آتا خود کو کوستا وہی سر پکڑے بیٹھ چکا تھا۔۔۔
————————————————————باربی تم بول کیوں نہیں رہی اور یہ کمبل کیوں لے لیا۔۔۔
روحان کپڑے چینج کیے بیڈ پر کمبل میں کروٹ لیے آنیہ کے پاس لیٹاتا اسے بیک ہگ کرتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
ہاں جانتا ہو تم شرما رہی ہو میں سمجھ سکتا ہو۔۔۔
روحان خاموش آنیہ کی ٹانگوں پر اب اپنی بھاری ٹانگ رکھتا ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔
یار یہ غلط ہے میں کتنا بول چکا ہو تم ہو کہ ڈر کر بیٹھی ہو حد ہے یار ایسے تو نہیں ہوتا تمہیں اندازہ بھی ہے میں کتنا تڑپا ہو تمہاری قربت ک۔۔۔۔
ہاہاہہاہہاہا ہااہاہااہاہاا ہہاہاہااہاہہااا ۔۔۔
ہاے میری عزت جانے والی تھی ہاے بچاٶ مجھے ۔۔۔
ہاے ارو شکریہ جان تم نے مجھے بچا لیا ۔۔۔۔
توبہ توبہ ڈائمن تمہارے اتنے گندے خیال توبہ ہاے شرم آ گی ۔۔
روحان جو اپنے ہاتھ آگے کیے آنیہ کی گردن پر سہلاتا سرگوشیاں کرتا بول رہا تھا ۔۔
اس سے پہلے وہ اس کا رخ اپنی طرف کرتا چہرے پر جھکتا جب کمبل سے بلاج قہقہ لگاتا ہوا باہر آیا تھا۔۔۔
جبکہ روم کی لائٹ آن ہو چکی تھی جہاں اریج جنت عمار سبحان سفان زینیہ کھڑے تھے ۔۔۔
تمممممممم۔۔۔
روحان بغیر شرمندہ ہوتا بیڈ سے اٹھاتا دھاڑا تھا۔۔۔۔
ہاں میں کچھ شرم ہوتی حیا ہوتی بڑا ہو تم سے میں ۔۔
بلاج مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔۔
ییییککککککک یہ میں نے تمہیں ہاتھ لگایا تھا ویسے یہ مذاق کس کا تھا۔۔۔
روحان اب اپنے ہاتھ کو دیکھتا برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
سفان کا ۔۔۔
جنت دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔
اتنا بھی اندھا عشق نہیں ہونا چاہے بندے کا جو فیل نہ کر سکے لڑکی ہے یا لڑکا توبہ توبہ
عمار اس کا مذاق بناتا ہوا بولا تھا۔۔۔
تم چپ کرو سڑک چھاپ پولیس والے ا۔۔۔
ارے چھوڑو دیکھو مجھے منہ دکھائ ملی ہاے اللہٌجی شرم آ گی ۔۔۔
روحان مسکراتے عمار کے پاس آتا بول رہا تھا جب بلاج اب شرمانے کا ڈرامہ کرتا اپنی شرٹ منہ میں لیتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاہاہہاہہاہااہاہہاہہا تجھے ڈاکٹر ک نے بنایا ۔۔۔
سبحان کا قہقہ چھت پھاڑ تھا تبھی وہ بولا تھا ۔
ہاے بنا تو دلہا تھا پر ڈاکٹر بن گیا کیا بتاٶ میرے چھوٹے چھوٹے دکھ۔۔۔
بلاج اریج کی طرف دیکھتا ڈرامہ کرتا بولا تھا۔۔۔
بس کرو یہ بتاٶ باربی کہاں ہ۔۔۔
باربی سے ملنے کے لیے پہلے ہمیں ایسی منہ دکھائ چاہے ۔۔
روحان اب پریشان ہوتا بول رہا تھا جب سفان بولا تھا۔۔۔
ہاں ضرور تجھے میں اسپشیل والی منہ دکھای دو گا تو مل مجھے زرا اکیلے میییییی۔۔۔
روحان سفان کے پاس آتا اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے دانت پیستے بولا تھا ۔۔
چلو آٶ میں تم سب کو یہ ڈائمنڈ دو گا تاکہ اسے کھا کر مر جاٶ سارے۔۔۔
سفان جلدی سے جان بچاتا باہر جاتا بولا تھا۔۔۔
پہلے تم مرنا۔۔۔
جنت اس کے پیچھے جاتی بولی تھی۔۔۔
ہاہااہااہاہاہااا ۔۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا کیونکہ بلاج وہ ڈائمنڈ والی لیپ اسٹک لے کر روم سے بھاگ گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
س۔سور۔سوری ہیرو۔۔۔۔
روحان سب کو روم سے باہر نکالتا ہوا ویسے ہی سوچ میں گم کھڑا تھا جب اسے اپنے سینے پر چھوٹے سے ہاتھ محسوس ہوۓ ساتھ ہی آنیہ کی سرگوشی سنائ دی تھی۔۔۔
باربی آج تو سزا ملے گی پکا۔۔۔
روحان پرسکون ہوتا اس کے ہاتھ پکڑتا اب پیار سے بولا تھا۔۔۔۔
م۔میم۔میں ب۔بیٹھ۔بیٹھی تھی بلاج بھا۔بھای نے آ۔کر اٹھ۔اٹھ۔۔۔
آنیہ اب ڈرتی بول رہی تھی جب روحان اب اپنے سامنے آنیہ کو پاتے جس سے وہ شدت سے عشق کرتا تھا سب بھولے اسے
کمر سے پکڑے آہستہ سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا۔۔۔۔
آنیہ اس کے عمل پر تڑپتی دور ہوئ تھی۔۔۔
ہ۔ہیرو۔ی۔وا۔ہیرو یہ والی سزا نہیں چ۔۔۔۔
آنیہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتی رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب روحان نے اسے اپنی گرفت میں لیتے بیڈ پر گراے اس پر حاوی ہوتے پھر وہی عمل کیا تھا۔۔۔۔
بہت محبت کرتا ہو میں باربی شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے ۔۔۔
روحان آنیہ کی گردن پر لب رکھتے سکون سے بولا تھا۔۔۔
م۔میں ب۔۔۔
آنیہ شرماتے بول رہی تھی جب روحان دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کرتا اپنی شدت اس پر لٹانے لگ گیا تھا۔۔۔۔
آنیہ جان چکی تھی روحان کی اس کے لیے تڑپ کو دیکھ کر جو سب بھلاۓ اپنی باربی کو عشق کر رہا تھا۔۔۔۔
آنیہ خوش تھی روحان جیسے ہمسفر کو پا کر وہی روحان خوش تھا اپنی باربی کو پا کر ۔۔۔۔
بالآخر ڈائمن کو اپنی باربی مل گی تھی ۔۔۔
دونوں ہی اپنی آنے والی زندگی میں خوش تھے ۔۔۔
