Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 10)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 10)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
اصلی مرد تم نے دیکھے ہی نہیں ۔۔۔
جنت ٹرک کے اندر جیتنی بھی ڈرگز تھی اس کی ویڈیو بناتی زینیہ کو سینڈ کر چکی تھی ۔۔۔۔
تبھی اب ٹرک سے باہر آ ہی رہی تھی جب وہی سارے لڑکے زخمی حالت میں آتے جنت کو وہی گراتے اس کے اوپر آتے بولے تھے۔۔۔۔
باہر سے ٹرک بند تھا کوئ نہیں جانتا تھا اس کے اندر کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔
اتنا لڑانے اور رات سے طیبعت خراب ہونے کی وجہ سے جنت نڈھال ہو چکی تھی ۔۔۔۔
تبھی اب وہ گھبرائ تھی ان سب کو دیکھ کر ۔۔۔
چ۔چھوڑو۔ مجھے۔۔۔
جنت نے ہمت جمع کرتے پھولے سانس سے کہا تھا۔۔۔۔
ارے اصلی مرد بتا رہے۔۔۔
ایک لڑکے نے کہتے جنت کی شرٹ کا بازو پھاڑا تھا۔۔۔
جنگلی انسان کیا اتنا کمزور سمجھ لیا ہے مجھے۔۔۔۔
جنت شدید غصے میں آتی زور سے ٹانگ مارتی اٹھتی ٹرک سے باہر گی تھی۔۔۔۔
جب دوسرے لڑکے نے پکڑ کر اسے دوبارہ قابو کیا تھا۔۔۔
جنت ہمت ہارتی آنکھیں بند کر چکی تھی۔۔۔۔
اصلی مرد تو دیکھے ہی نہیں تم نے۔۔۔
اس سے پہلے کوئ کچھ کرتا جب ٹرک کا دروازہ توڑتے اندر آتے سفان سرد مہری سے بولا تھا۔۔۔
اس کی گرین آنکھیں آگ اگل رہی تھی ۔۔۔
جبکہ چہرے پر ماسک لگاۓ نیلی ہی ہڈی پہنے وہ شان سے کھڑا تھا۔۔۔
ابے تو کون ہے۔۔۔
سب بد مزہ ہوتے بولے تھے۔۔۔
سفان جو خود واپس چلا گیا تھا جب کچھ سوچتے اس نے گاڑی موڑی تھی ۔۔۔۔
ٹرک کے اندر جاتے جنت اور لڑکوں کو دیکھتے وہ ماسک لگاۓ اندر کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
نفرت ہی سہی لیکن جنت اس کی بیوی تھی۔۔۔
تبھی وہ بچانے آ گیا تھا۔۔۔
اب کیا ہوا تم سب کو۔۔۔
جنت سفان کی باڈی اور آنکھیں ہی دیکھ کر فدا ہو گی تھی تبھی خود بھی اٹھ کر ان سب کو مارتی بولی تھی ۔۔۔
اب دونوں مل کر سب کو مار رہے تھے۔۔۔۔
ش۔ک۔شکریہ۔۔۔
سب کو ڈھیر کرتے جنت سفان کے پاس آتی پھولے سانس سے بولی تھی۔۔۔
جبکہ سفان کی نظریں اس کی گردن پر لگا چوٹ کا نشان اور برہنہ شولڈر دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔
ہاں جاٶ اب یہ پہن لو۔۔۔
سفان ہوش میں آتا اپنی ہڈی جنت کو پہناتے بولا تھا۔۔۔۔
ا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے جنت کچھ کہتی جب زخمی لڑکا چاقو لے جنت کے شولڈر پر وار کیا تھا تبھی سفان اسے اپنے سینے سے لگاۓ اپنا رخ لڑکے کی طرف کر چکا تھا۔۔۔۔
جنت خاموشی سے سفان کے دل کی دھڑکن سن رہی تھی ویسے ہی اسے پیسنے چھوٹ رہے تھے۔۔۔۔
اب بھاگو یہاں سے۔۔۔
جنت جو آنکھیں بند کیے ساتھ لگی کھڑی تھی جب سفان کی رعب دار آواز سے ہوش میں آتی بنا دیکھے باہر کو بھاگی تھی۔۔۔
ہاں ڈائمن کافی لوگ ہے میرے خیال سے دل ہمارے کام آۓ گا۔۔۔۔
ہاں بھیجو آدمی۔۔۔
سفان ڈائمن کو فون ملاتا ہوا جلدی سے بولا تھا۔۔۔
جبکہ ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔۔۔
————————————————————
زینیہ جاٶ جنت کو بلاٶ۔۔۔۔
سب لان میں بیٹھے تھے جب روحان بولا تھا۔۔۔
ک۔کیوں۔۔۔
زینیہ گھبراتی ہوئ بولی تھی۔۔
وہ دیکھو ہم سب نے ریس لگائ ہے جنت کو بلاٶ جلدی۔۔۔۔
روحان سب دیکھتے بولا تھا۔۔۔
جہاں ہارون زیان بابر اسامہ برہان گل خان سب کھڑے تھے۔۔۔
اچھا وہ سو رہی ہے۔۔۔
زینیہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی تھی۔۔۔
کیونکہ جنت ابھی تک نہیں آی تھی۔۔۔
بابا جنت سو رہی آپ ریس لگاۓ۔۔۔۔
روحان اونچی آواز سے بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
یاہوووو ہارون بھائ اور تیز بھاگے۔۔۔
حنین جوش میں آتی چیختی بولی تھی۔۔۔۔
نہیں زیان لالہ آپ جیتے گے۔۔۔
روحا برا سا منہ بناے حنین کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ن۔نہیں میرے بابا جیتے گے۔۔۔
آنیہ معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
تم چاہتی ہو بابا جیتے۔۔۔
باربی کی طرف دیکھتے روحان نے کہا تھا۔۔۔۔
جبکہ سب بھاگ رہے تھے۔۔۔۔
گل بابا کو جیتنا چاہے۔۔۔۔
روحان آنیہ کی طرف دیکھتا خود اٹھ کر بھاگتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
سب کے چہروں پر ہنسی آئ تھی ۔۔۔۔
————————————————————
میں تمہارا باپ ہو۔۔۔
ہارون مسکراہٹ روکے بولے تھے۔۔۔
یہ بھی بابا میرے۔۔۔۔
روحان اپنے دانت نکالتے گل خان کو اپنے شولڈر پر اٹھا چکا تھا۔۔۔
ارے بیٹا یہ ک۔۔۔
بابا بیٹا بھی کہتے ہے اور یہ بات بھی کہہ رہے ۔۔۔
ارے یار یہ غلط اب مجھے کون اٹھاۓ گا۔۔۔۔
ہارون خوش ہوۓ تھے چاہے روحان پوری زندگی باہر رہ تھا پر تربیت بلکل ٹھیک ہوئ تھی جانتا تھا ہر رشتہ کیسے پورا کرنا تھا۔۔۔۔
ارے بابا میں ہو نہ آپ کے پاس۔۔۔۔
جنت پھولے سانس سے بھاگتی ہوئ آتی ہارون کو اپنے شولڈر پر اٹھا چکی تھی۔۔۔
کرن زینیہ اریج حجاب پلوشہ حنین روحا عمارہ علیزے سب کا منہ کھول چکا تھا۔۔۔
جب جنت نے ہارون کو اپنے شولڈر
بیٹھایا تھا۔۔۔
پھر تو ہم بھی اٹھاۓ گے اپنے بابا کو۔۔۔
عمار بھی مسکراتا ہوا زیان کو اپنے شولڈر پر اٹھا چکا تھا۔۔۔۔
آذان اسامہ کو سبحان بابر کو اپنے شولڈر پر اٹھا چکا تھا۔۔۔۔
بلاج اور شاہ زین اپنے کام کی وجہ سے نہیں آۓ تھے۔۔۔
تبھی اب برہان اکیلے کھڑے تھے۔۔۔۔
پری کا دل دکھی ہوا تھا سب کے بیٹے وہاں تھے۔۔۔۔
چلو اب سٹارٹ کرتے ہے۔۔۔
جنت یہ کہتی ڈور لگا چکی تھی۔۔۔۔
اب روحان اور جنت بھاگنے میں سب سے آگے تھے۔۔۔
یاہووووو جنت جلدی ہارون بھائ جیتنا چاہے۔۔۔
حنین اٹھ کر کھڑی ہوتی چلائ تھی ۔۔۔
ارے آنی دیکھنا میں جیتنو گی۔۔۔
جنت روحا کے قریب جاتے بولی تھی۔۔۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے روحان عمار جنت سبحان آذان میں سے کوئ بھاگتا ریس کی لاسٹ لائن تک جاتے جب سب کو کراس کرتے کوئ برہان کو اپنے شولڈر پر بیٹھاۓ سب کو ہارا چکا تھا ۔۔۔
وہی تزیلہ بیگم روحا حنین پری علیزے کرن نسرین بیگم سب کا منہ حیرت سے کھولا تھا۔۔۔
———————————————————–
بابا چلے ہم جیتے گے ضرور۔۔۔
برہان وہی کھڑے تھے جب پیچھے سے بلال خان آتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
بل۔بلا ۔۔۔
ارے جلدی کرے بابا ہم نے جیتنا ہے۔۔۔
برہان ہکلاتے شوک ہوتے بول رہے تھے جب بلال انہیں شولڈر پر آٹھاۓ بھاگا تھا۔۔۔۔
یاہووووو یاہووووو ہم جیت گے دوست ۔۔۔۔
سب ویسے ہی بلال کے شولڈر پر برہان کو دیکھ رہے تھے جو ریس جیت چکے تھے۔۔۔۔
اس سے پہلے کوئ کچھ کہتا جب شارٹ فراک ساتھ جینز پہنے بالوں کی دو پونیاں بناۓ پھولے گال لیے دانین بھاگتی ہوئ سب کو اگنور کیے بلال کے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔
پریسہ اور برہان حیران تھے کیسے دانین بلال خان کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے ۔۔۔۔
ہاں ہم جیت گے اب خوش ہو۔۔۔
بلال بھی سب کو اگنور کیے بولا تھا۔۔۔
بہت بہت بہت ہاے میرے بابا جیت گے۔۔۔
دانین خوشی سے پاگل ہوتی اب بلال کے گال پر لب رکھے بولی تھی۔۔۔۔
جہاں بلال شرمندہ ہوا تھا وہی سب نے مسکراہٹ روکی تھی دانین کی حرکت پر ۔۔۔۔
————————————————————
“”ایک سال پہلے۔۔۔۔
ڈاکٹر ڈاکٹر دیکھو میرے پوتے کو کیا ہوا ۔۔۔۔
دلشیر خان اپنی رعب دار آواز سے ہاسپٹل آتے غراے تھے۔۔۔۔
جی سر کیا ہوا آپ کے پوتے کو۔۔۔
بلاج اپنے ہی ہاسپٹل اتنا شور سنتا اپنے کیبن سے باہر آتا بولا تھا۔۔۔
دیکھو میرے پوتے کو یہ الٹیاں کر رہا ہے ۔۔۔۔
دلشیر خان پریشان ہوتے اپنے پندرہ سالہ پوتے کو دیکھ بولے تھے۔۔۔۔
دیکھے سر یہ نشے کی وجہ سے ہوا ہے آپ ایسا کرے کہی اور لے جاۓ کیونکہ کافی ڈاکٹرز نے ہرتال کی ہے اور میں ہارٹ سرجن ہو۔۔۔۔
بلاج کو جتنا سمجھ آیا چیک کرنے کے بعد سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
تم ڈاکٹر ہو کرو علاج جلدی ورنہ پورے ہاسپٹل کو آگ لگا دو گا۔۔۔۔
دلشیر خان غراے تھے۔۔۔
د۔۔۔
ڈاکٹر بلاج میرا نام بلال خان ہے دلشیر خان کا بڑا پوتا آپ مجھے بتاۓ کیا ہوا۔۔۔۔
بائیس سالہ سلجھا ہوا بلال اپنی نیلی آنکھوں میں نرمی لاۓ بولا تھا۔۔۔
دیکھو بلال نشے کی وجہ سے اس کا جگر خراب ہو چکا ہے یا صاف کہو تو پھٹنے پر آ چکا ہے اور تمہارے دادا مان ہی نہیں رہا ایسا کرو جگر والے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاٶ میں بتا دیتا ہو۔۔۔
بلاج اسے سمجھاتے بولا تھا۔۔۔
ہاں میں بھی دار جی کو یہی کہہ رہا تھا چلو کوئ بات نہیں میں لے جاتا ہو۔۔۔۔
بلال اپنا غصہ کنٹرول کیے بولا تھا۔۔۔
کیونکہ وہ خود کتنی بار کہہ چکا تھا۔۔۔
لیکن دار جی مان ہی نہیں رہے تھے۔۔۔۔
دار جی چلے ہم ک۔۔۔۔
دار جییییی۔۔۔۔
بلال بلاج کے کیبن سے باہر آتا بول رہا تھا جب اسے کے پیچھے آتے بلاج پر انھوں نے فائر کیا تھا۔۔۔
تبھی بلال چلایا تھا۔۔۔۔
مار دیا اس نے میرے پوتے کو مار دیا ڈاکٹر تو بچاتا ہے ا۔۔۔
دار جی ہوش میں تو ہے کچھ نہیں ہوا آپ یہ کیا کہہ رہے ہے۔۔۔
بلال جلدی سے اپنے بھای کے پاس آتا اس کی سانسیں چیک کرتا بولا تھا۔۔۔
جو اب زندگی کی بازی ہارتا سکون سے سو رہا تھا۔۔۔۔
چلے دار جی یہاں سے ۔۔۔
بلال دار جی کو ہنیڈل کرتا اپنے ساتھ لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔۔
کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا بلاج کی بات سہی تھی نشے سے اس کا جگر پھٹ گیا تھا ۔۔۔
لیکن دار جی اسی پر الزام لگا رہے تھے۔۔۔
————————————————————
“”دو دن بعد۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہے دار جی ۔۔۔
پریسہ اور برہان بلاج کو دلشیر خان کے آدمی پکڑے اس کے گاٶں لے آۓ تھے ۔۔۔۔
تبھی بلاج حیران ہوتا بولا تھا۔۔۔
اس دن کی بات وہ برہان اور پریسہ کو بتا چکا تھا۔۔۔
خون بہا ہو گا جو تم پورا کرو گے لڑکے ۔۔۔
دار جی اپنی پنچایت پر بیٹھے رعب سے بولے تھے۔۔۔
آجکل کے زمانے میں خون بہا سسٹم خیر میں نے پہلے ہی کہا تھا آپ کے پوتے کی موت نشے کی وجہ سے ہوئ تھی زیادہ نشہ کرنے سے
اس کا جگر پھٹ گیا تھا ۔۔
آپ کو جیتنے پیسے چاہے ہم دینے کو تیار ا۔۔۔۔
پیسوں کی کمی نہیں ہمارے پاس خون بہا کا مطلب موت کے بدلے موت ۔۔۔
یا پھر شادی ۔۔۔۔
بلاج غصہ سے بول رہا تھا جب دار جی سکون سے بولے تھے ۔۔۔
ٹھیک ہے میں شادی کر لیتا ہو ا۔۔۔۔
نہیں تمہاری شادی نہیں تمہاری بہن کی شادی میرے پوتے بلال خان سے ہو گی ۔۔۔
بلال خان جو پنچایت پر آبھی آ رہا تھا یہ الفاظ سنتے وہ رک چکا تھا۔۔۔۔
بلکل نہیں دار جی اگر آج تک میں چپ ہو کر سب برادشت کر رہا اس کا مطلب نہیں آپ کچھ بھی کرے۔۔۔۔
ایک ایسی لڑکی سے میری شادی کروا رہے جیسے میں جانتا ہی نہیں وہ انسان ہے کوئ بھیڑ بکری نہیں۔۔
اس سے پہلے بلاج بولتا جب بلال رعب سے آتا چلایا تھا۔۔۔۔
ساری پنچایت کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
کیونکہ اس گاٶں کا ہونے والا سردار تھا بلال خان ۔۔۔
اس گستاخی کی سزا مل۔۔۔
سو سزا بھی قبول ہے دار جی لیکن میں ایسی لڑکی پر ظلم ہرگز نہیں کرو گا ۔۔۔۔
میں یہ قانون ختم کرنا چاہتا ہو آپ ایسا کر رہے ۔۔۔
اس گاٶں کا سردار میں ہو تو میرا یہی فصیلہ ہے یہ سب یہاں نہیں ہو گا۔۔۔۔
سوری بلاج تمہیں میری وجہ سے اتنی پریشانی اٹھانی پڑی آٶ میں تمہیں گھر چھوڑ دو۔۔۔
دار جی بول رہے تھے جب بلال بھی اپنی کہتا پریسہ برہان بلاج کو اپنے آدمیوں سے چھڑواتا ہوا پنچایت سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔۔
بہت شکریہ بیٹا یقیناًتمہاری ماں نے اچھی تربیت کی تھی جو ہر ماں کا دکھ سمجھ گے میری بچی بہت چھوٹی ہے۔۔۔
پریسہ ساتھ جاتی روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
ارے آنٹی بس کرے سب ٹھیک ہو گا بس دار جی زرا سخت مزاج کے ہے ۔۔۔۔
بلال انہیں پرسکون کرتا بولا تھا۔۔۔۔
وہاں سے پریسہ برہان بلاج واپس اپنے گھر چلے گے تھے۔۔۔۔
———————————————————–
روکو بلال اگر تم یہاں سے گے تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔۔۔۔
پریسہ لوگوں کی گاڑی ابھی گاٶں کی حددو سے باہر نہیں نکلی تھی جب دار جی کے آدمیوں نے قابو کر لیا تھا وہی بلال کو دیکھتے وہ گن اپنے سر پر رکھے بولے تھے۔۔۔۔
کیوں دار جی آپ ایسا ظلم کرنا چاہتے ہے خون بہا ہی کرنا ہے تو زرمینا کی شادی کروا دے میری ہی کیو۔۔۔۔
بس بہت ہوا تم ابھی اور اسی وقت اس ڈاکٹر کی بہن سے شادی کرو گے ۔۔۔
بلال واپس پریسہ لوگوں کو آتا دیکھتے بول رہا تھا جب دار جی بولے ۔۔۔
دارجی میں نکاح کرنے کو تیار ہو آپ کی پوتی سے پر میری بہن پر ایسا ظلم مت ک۔۔۔
بلال خان کی شادی تمہاری چھوٹی بہن دانین برہان سے ہو گی ۔۔۔
بلاج دانت پیستے ہوۓ بول رہا تھا ۔۔۔
جب دار جی سکون سے بولے تھے۔۔۔۔
نہیں نہیں میری بیٹی بہت معصوم ہے و ۔۔۔۔
ریلکس آنٹی ایسا کچھ نہیں ہونے والا دار جی بس ویسے ڈرا رہے ۔۔۔
پریسہ روتی ہوئ بول رہی تھی جب بلال خود پریشان ہوتا اسے پرسکون کرتا بولا تھا۔۔۔
جس سسٹم کو وہ ختم کرنا چاہتا تھا وہ خود کیسے یہ سب کر سکتا تھا۔۔
بلال کا یہی سوچ کر دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
تم ایسے نہیں مانو گے۔۔۔
دار جی نے جب دیکھا بلال کسی طور نہیں مان رہا تبھی اپنی ٹانگ پر گولی چلائ تھی۔۔۔۔
دار جی۔۔۔۔
بلال درد سے تڑپتے ان کے پاس بیٹھا تھا جن کی ٹانگ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔
شادی کرو ابھی۔۔۔۔
دار جی بولے تھے۔۔۔
اپنے ماں باپ کے بعد دار جی کو ہی بلال نے اپنے قریب پایا تھا جن کا وہ اکلوتا پوتا اور وارث تھا۔۔۔۔
میں تیار ہو۔۔۔
بلال ہار مانتا حامی بھر چکا تھا ۔۔۔
وہ بھی اسے ظلم میں شامل ہو گیا تھا۔۔۔۔
جیسے تیسے کرتے بلال نے بلاج کو تسلی دی تھی وہ اس کی بہن کا خیال رکھے گا وہی بلاج راضی ہوتا دانین کا نکاح بلال سے کروا چکا تھا۔۔۔۔
لیکن دانین سے نکاح کے بعد دار جی نے بلال کو ملک سے باہر بھیج دیا تھا۔۔۔
پریسہ برہان بلاج کی نظر میں بلال دانین کا خیال رکھ رہا تھا جبکہ دور بلال تنہا بیٹھا پچتھا رہا تھا کیوں وہ دانین کو بنا دیکھے دار جی کے کہنے پر یہاں آ گیا تھا۔۔۔۔
وہی معصوم سی دانین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے۔۔
————————————————————
دانین میرا بچہ۔۔۔
پریسہ کب سے دانین کو اپنے سینے سے لگاۓ اپنی پیاس بجھا رہی تھی۔۔۔
بلال بلاج کو سب کچھ بتا چکا تھا بلکہ شرمندہ بھی تھا وہ دانین کی حفاظت نہیں کر سکا تھا ۔۔۔
لیکن بلاج خوش تھا اس کی بہن بلال کے ساتھ خوش تھی۔۔۔
ماما بس کرے دیکھیں میں نے گیم پاس کر لیا۔۔۔
دانین اب برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
ہاں میرے بچے نے گیم پاس کر لیا۔۔۔
برہان پیار سے اس کا ماتھا چومتے بولے تھے۔۔۔۔
چلو بہت باتیں ہو گی سب آرام کرے شام کو مہندی ہے سب تیاری کرو ۔۔۔
مہر صاحب سب کو متوجہ کرتے بولے تھے۔۔۔
کیونکہ شام کو شاہ زین پلوشہ جنت سفان کی مہندی تھی۔۔۔
نسرین بیگم نے بتایا تھا سفان پاکستان آ گیا تھا وہ کہہ رہا تھا شام تک آ جاۓ
گا تبھی سب نے یہ پلان کیا تھا پلوشہ کے ساتھ جنت کی بھی رخصتی کر دی جاۓ۔۔۔
جنت بھی خاموشی سے سب سن رہی تھی اب وہ کوئ بات نہیں ٹالنا چاہتی تھی ہارون اور روحا کی ۔۔۔
سب باری باری دانین سے ملتے چلے گے تھے۔۔۔
———————————————————
میں کیسی لگ رہی ہو۔۔۔
شام کو آنیہ یلیو کلر کا لہنگا پہنے بنا میک اپ کیے روحان کے روم میں آتی بولی تھی۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔
روحان اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
م۔می۔میک اپ۔۔تو۔ک۔ہی نہیں۔۔۔
آنیہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
لو میک اپ ابھی ہو گا۔۔۔۔
روحان مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔۔
اب روحان لیپ بام اپنی ڈرسینگ ٹیبل سے اٹھاتا جلدی سے اس کی آنکھوں اور لب پر لگاتا بولا تھا۔۔۔
لیکن مجھے نظر نہیں آ رہا میک اپ۔۔۔
آنیہ شیشے کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو سب سے پوچھنا تعریف ہو گی۔۔
روحان اب اس کے بالوں کا جوڑا بناۓ پیار سے بولا تھا۔۔۔۔
اچھ۔ل۔اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
آنیہ اپنی طرف سے مکمل تیار ہوتی باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہااہا۔۔۔
روم میں آتی روحا کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ آنیہ کا چہرہ دیکھ چکی تھی جس کے لبوں پر صرف لیپ بام لگی تھی۔۔۔
کیا ماما۔۔۔
روحان اپنی مسکراہٹ روکے اپنا سر جھکاۓ بولا تھا۔۔۔۔
———————————————————
کالے تم بڑے خوش ہو گے آخر اتنی خوبصورت بیوی جو ملنے والی ہے ۔۔۔
مہندی کلر کا فل نیٹ کا لہنگا پہنے ہلکے میک اپ میں پلوشہ ساتھ بیٹھے شاہ زین کے ساتھ جھولے پر بیٹھی تھی۔۔۔
تبھی وہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔
شاہ زین اس کی بات اگنور کیے اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
انہہ کالا۔۔۔
پلوشہ اپنے سرخ گال لیتی سامنے دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
وہی شاہ زین نے اپنی مسکراہٹ روکی تھی ۔۔۔
میم کیا نیم لکھنا ہے آپ کے ہاتھ پر ۔۔۔
جنت بھی سیم پلوشہ جیسی تیار ہوۓ اپنے جھولے پر اکیلی بیٹھی تھی کیونکہ سفان ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔۔۔
جنت کے شولڈر لیس شرٹ ساتھ شرارہ پہنا تھا ۔۔۔
کیونکہ لہنگا اسے ہنیڈل نہیں ہوتا تھا۔۔۔
مہندی لگانے والی نے اسے چپ دیکھتے پوچھا تھا۔۔
جنت ہارون خان۔۔۔
جنت مسکراتی بولی تھی۔۔۔
میم شوہر کا نام لکھن۔۔۔
شوہر آ گیا جو اس کا نام لکھو تم میرا نام لکھو میں بیٹھی ہو یہاں۔۔۔۔
لڑکی بول رہی تھی جب جنت غصے سے دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔۔
لان میں آۓ کافی مہمان باتیں کر رہے تھے یہ کیسی دلہن تھی جس کا شوہر ابھی تک نہی آیا تھا۔۔۔۔
سب بھی سفان کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔۔
جو سکون سے اپنے روم میں بیٹھا مسلسل سگریٹ پینے میں بزی تھا جیسے گہری سوچ میں ہو۔۔۔۔
————————————————————
ارے دیکھو دو نمبر کی وکیل بھی آۓ ہے ۔۔۔
شارٹ شرٹ کیپری پہنے ہلکا میک اپ کیے سامنے سے چلتی ہوئ آتی زینیہ کو دیکھتے عمار بولا تھا۔۔۔
ہاں جہاں رشوت خور ملازم ہو وہاں مجھے آنا پڑتا ہ۔۔۔۔
زبان سبھنال کر بات کرو۔۔۔
زینیہ بھی حساب برابر کرتی بول رہی تھی جب عمار آگ بگولہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کیوں آگ لگی انہہہ ۔۔۔
زینیہ اسے اگنور کیے وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔۔
عمار اب سوچ رہ تھا کیوں اس کو چڑ بیٹھا تھا۔۔۔۔
تم بہت پیاری لگ رہی ہو ارو۔۔۔
زینیہ اریج کے گلے لگی بولی تھی ۔۔۔
شکریہ جانی۔۔۔
اریج نے بھی زینیہ جیسی ڈرسینگ کی تھی۔۔۔۔
ہاں بلکل چڑیلیں لگ رہی ہو ۔۔۔
سبحان وہاں آتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔
تم بھوت لگ رہے ہو رکو ابھی بتاتی ہو۔۔۔
حجاب سبحان کے پیچھے بھاگتی بولی تھی۔۔۔
ہاے بچاٶ اس موٹی سے ہاۓ میری زندگی۔۔۔
پورے لان میں سبحان آگے جبکہ حجاب اسے کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔۔۔
اہہہ اہہہہ ۔۔
سامنے سے آتے آذان سے سبحان اور حجاب ٹکراے تھے۔۔۔۔
سبحان تو جلدی سے دور ہوا تھا جبکہ اپنے دھیان میں بھاگتی سیدھی آذان کے اوپر گری تھی۔۔۔۔
ت۔تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔۔۔
حجاب اپنا سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔
بالوں کا جوڑا بناۓ ہلکے میک اپ ناک میں نوز رنگ پہنے سرخ سفید رنگ ہاتھوں پر مہندی لگاۓ حجاب آذان کے اوپر گری بجلیاں گراتی بولی تھی۔۔۔۔
نہیں تمہارے علاوہ کچھ دیکھائ نہیں دیا۔۔۔
آذان سب کچھ بھلاۓ حجاب کی گردن کو چھوتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
آ۔آذان آٹھا۔مہندی لگی ہاتھوں کو۔۔۔۔۔
حجاب گھبراتے ہوۓ لہجے سے بولی تھی ۔۔۔
ہ۔ہاں ضرور۔۔۔۔
آذان بھی ہوش میں آتا بولا تھا۔۔۔
تبھی حجاب کو کروٹ کے بل کرتے اب اوپر آتے اسے اپنی باہوں میں آٹھا چکا تھا۔۔۔۔
میں ن۔نے کہا تھا مجھے اٹھاٶں یہ نہیں کہہ تھا باہوں میں آٹھا لو۔۔۔
آذان حجاب کو باہوں میں آٹھاۓ اب چلتا جنت کے پاس جا رہا تھا تبھی مہمانوں کو اپنی طرف گھورتا پاتے حجاب شرمندہ ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
پھر کیا ہو۔۔۔۔
آذان اس کی بات سنتا اسے اپنے قریب کرتا اپنا منہ اس کی گردن میں چھپاۓ بولا تھا۔۔۔۔
پ۔پاپا۔۔۔۔
شجرت جلدی سے بولی تھی جو سبحان کی گود میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔
اگر بیوی سے فرست میں ملے جاۓ تو بیٹی کو بھی گود میں آٹھا لو۔۔۔
سبحان مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
ہاں تجھے بھی اٹھا لیتا ہو ۔۔۔
آذان حجاب کو اتارے شرمندہ ہوۓ بنا جلتے بولا تھا ۔۔
ہاں ضرور ۔۔۔
سبحان مسکراہٹ روکے آذان کی طرف آتا بولا تھا۔۔۔
جا یہاں سے فوجی تیری نیت خراب ہے ۔۔۔
آذان اس کے سینے پر مکہ مارتے بولا تھا۔۔۔
————————————————————
یہ ڈائمنڈز اتنے فالتو ہے تو کچھ ہمیں بھی دے دو۔۔۔۔
بلاج روحان کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
سبحان بلاج عمار بلال آذان سب روحان کے پاس بیٹھے تھے جب وہ بولا تھا ۔۔
کیونکہ روحان نے دانین کو ڈائمنڈ کی رنگ دی تھی۔۔۔۔
ہاں کافی ہے لینے تو نے۔۔۔
سب لڑکوں نے سیم ڈرسینگ کی تھی جس پر روحان کے دے ڈائمنڈ پروچ لگے تھے۔۔۔
دوست مجھے تیار تو کر دیتے ۔۔۔۔
دانین بنا تیار ہوۓ وہی بلال کے پاس آتی روٹھے لہجے سے بولی تھی۔۔۔۔
یہاں آ کر بھی وہ بلال سے سارے کام کروا رہی تھی ۔۔۔
یہاں آو میرا بچہ ۔۔۔۔
بلاج دانین کو اپنی گود میں بیٹھاۓ بولا تھا۔۔
ماما سے تیار ہو جاتی وہ شوہر ہ۔۔۔
دوست بھی ہے تو یہی تیار کرواۓ گے۔۔۔۔
بلاج اسے سمجھا رہا تھا جب دانین اٹھتی بلال کا ہاتھ پکڑے وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاا بچی ہے ابھی ۔۔۔۔
بلاج خود قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
ہاں شوہر کو بھی بچہ بنا لیا۔۔۔
روحان سامنے دیکھتا بولا تھا جہاں بلال کے شولڈر پر بیٹھی دانین دانت نکالے جا رہی تھی ۔۔۔
ہ۔ہیرو ۔۔۔
سب ابھی وہی دیکھ رہے تھے جب آنیہ منہ پھولاے آتی روحان کو دیکھتی بولی ۔۔۔
بولو باربی۔۔۔
روحان سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
یہ دیکھو لیپ گلوس ختم ہو گیا اور لگاٶ ۔
آنیہ اپنے لبوں کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی۔۔۔۔
بہت زیادہ لیپ گلوس لگا ہے دیکھو سبحان ۔۔۔۔
روحان اب سبحان کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
جہاں سبحان بلاج آذان نے روحان کے گھورنے پر سر ہاں میں ہلا کر بتایا تھا کہ آنیہ کے لبوں ہر لیپ گلوس لگا ہے ۔۔۔۔
ا۔اچھ۔اچھا۔ٹھیک ۔۔
آنیہ خوش ہوتے روحان کے گال پر لب رکھتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
کیوں جھوٹ بولتے ہو حالانکہ ہم سب جانتے تھے آنیہ نے آج میک اپ نہیں کیا پھر بھی ہم یہی کہہ رہے کہ م۔۔۔
میری باربی ہے مجھے ایسی ہی پسند ہے اگر میک اپ کرے گی تو صرف میرے لیے جیسے صرف میں ہی دیکھو گا تم ابھی زبان کم چلایا کرو ایس پی عمارررررر۔۔۔۔
عمار جو جلتا ہوا بول رہا تھا تبھی روحان بھی اٹھ کر دانت پیستا ہوا کہتا وہاں سے واک آوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
انہہہ باربی تمہاری ہے کہ۔۔۔
عمار بھی اس کی نقل اتارتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
آنیہ کی وجہ سے کبھی روحان اور عمار کی نہیں بنی تھی۔۔۔
————————————————————
تم صرف یہ کپڑے پہنو گی۔۔
بلال منہ کھولے بس دانین کے کپڑے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا دانین کو کیسے سمجھاۓ۔۔۔
ہاں کیوں مسئلہ ہے ۔۔۔
دانین معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
نہ۔نہیں وہ اچھا تم رکو میں پری ماما کو بلاتا ہو۔۔۔
بلال نروس ہوتا جلدی سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔۔
ارے شکر آنٹی آپ آ گی پلیز دانین کو تیار کر دے ۔۔۔
بلال جیسے ہی باہر آیا سامنے سے آتی روحا کو دیکھتے وہ بولا تھا۔۔۔
اچھا بیٹا۔۔۔
روحا مسکراہٹ روکتی بولی تھی جان گی تھی وہ کیوں نروس ہوا تھا۔۔۔
شکریہ۔۔۔
بلال جلدی سے کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔
ہاں تم پاکستان آٶ مجھے ضرورت ہے یار دانین بچی ہے اور اسے نہیں پتہ کیا کپڑے پہنے ا۔۔۔۔
تم سمجھ سکتی ہو نہ۔۔۔
بلال کسی سے فون پر بات کرتا نروس ہوتا بولا تھا۔۔۔
ہاہااہاہاہہا بلال خان ایک ننھی سی بچی سے ڈرتا ہے ۔۔۔
وہ اس کی حالت انجواۓ کرتی قہقہ لگاتی بولی تھی۔۔
انہہہ بلال خان نہیں ڈرتا چوزی کہی کی ۔۔۔
بلال برا سا منہ بناۓ کہتا فون بند کر چکا تھا۔۔۔۔
———————————————————–
اففف میری کمر۔۔۔
جنت اپنے روم میں آتی بولی تھی۔۔۔
پلوشہ کی رسم ہو چکی تھی کافی دیر جب سفان نہیں آیا تبھی جنت بیزار ہوتی اٹھ کر اپنے روم میں آ چکی تھی۔۔۔۔
نسرین بیگم ہارون روحا سب پریشان تھے سفان کے نہ آنے سے کافی لوگ باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔
چھوڑ کیوں نہیں دیتی اس شخص کو جس سے شادی کرنے والی ہو۔۔۔
جنت اپنے مہندی لگے ہاتھوں سے جیسے تیسے ڈوپٹہ اتار چکی تھی ۔۔۔
جب روم میں اندھیرہ ہوتے سفان اندر آتا اسے کمر سے دبوچتے بولا تھا۔۔۔
ک۔کو۔کون ہو۔چھوڑو مجھ۔۔۔
جنت اچانک کسی کی گرفت پاتی ڈرتے بولی تھی۔۔۔۔
بتایا تو تھا دشمن ہو۔۔۔
سفان جنت کے باب کٹ بالوں کو چھوتا بولا تھا۔
پ۔
پلیز چھوڑ دو ۔میں شادی شدہ ہو۔۔
جنت پہلی دفعہ گھبراتی بولی تھی۔۔۔
وہ ابھی تک حیران تھی کون تھا ایسا جو ہارون خان اور روحان ہارون خان کی موجودگی کے باجود بنا ڈرے اندر آ جاتا تھا۔۔۔
سفان کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔
سسسسی۔۔۔
جنت اپنی گردن پر بنے زخم پر سفان کے دانت محسوس کرتی تڑپی تھی۔۔۔
چ۔چھوڑ۔۔۔۔
جنت اسے خود سے دور کرتی بولی تھی۔۔۔۔
کیوں چھوڑو تمہیں میں نے تمہاری جان لینی یے ۔۔۔۔
سفان دور ہونے کی بجاۓ جنت کا منہ دیوار سے لگاتا اس کے شولڈر پر بنے زخم کو کاٹتا بولا تھا۔۔۔۔
سسسسی۔۔۔
شولڈر پر تازہ بنے زخم سے لگاتار خون نکلتے جنت درد سے کرائ تھی۔۔۔۔
کیونکہ سفان نے اتنی شدت سے کاٹا تھا جیسے چھڑی ہو۔۔۔
ایسی درد بھری آواز میں سنا چاہتا تھا۔۔۔
سفان دوبارہ اس کے زخم پر کاٹتا بولا تھا۔۔۔۔
ک۔کیو۔کیوں ۔۔۔
جنت اتنا خون بہنے کی وجہ سے نڈھال ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
اپنے بچاٶ کے لیے جنت نے رخ موڑتے مہندی والے ہاتھ سفان کی شرٹ پر مارے تھے۔۔۔
جس سے مہندی بھی خراب ہو چکی تھی۔۔۔۔
بتا تو رہا دشمن ہو۔۔۔
سفان سکون سے بولتا اب جنت کو بیڈ پر گراے بولا تھا۔۔۔
پ۔پلیز ۔م ت کرو۔۔
جنت اب واقعی گھبراتی منت کرتی بولی تھی۔۔۔
اس میں اتنی ہمت نہیں تھی جو چیخ چلا کر کسی کو بلا لے ۔۔۔
کیا سمجھتی ہو خوبصورت ہو تو کیا تمہیں یوز کرو گا بلکل بھی نہیں تیار رہنا فیس ٹو فیس ملنے کے لیے۔۔۔۔
سفان اس پر جھکے دوبارہ گردن کے زخم کو کاٹتا اٹھتا ہوا کہتا جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ شولڈر سے بہتا مسلسل خون کی وجہ سے جنت اپنے حواس کھو رہی تھی۔۔۔
