Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 16)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 16)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
““سبحان
روحاب
“بلاج
اریج اسپیشل![]()
اماں مجھے روحاب سے ملنا ابھی۔۔۔۔
سبحان ہال سے سیدھا کوٹھے پر آتے اماں کے پاس آتے بولا تھا۔۔۔
ر۔روحاب کو۔۔۔۔
بہارے ہی روحاب ہے مجھے ملنا ہے ابھی اس سے ۔۔
اماں ہکلاتے بول رہی تھی جب سبحان زرا سختی سے بولا تھا۔۔۔
لیکن روحاب اس ٹائم کسی سے نہیں ملتی فجر کا وقت ہو گیا تم جاٶ یہا۔۔۔
شوہر ہو اس کا میں جب چاہے مل سکتا ہو آپ روکنے والی نہیں ہے ۔۔۔۔
اماں اسے منع کرتی بول رہی تھی جب سبحان طش سے کہتا روحاب کے روم کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔
————————————————————
دیکھا میں کہتی تھی وہاں کسی کو میرا خیال نہیں آتا کسی کو پرواہ نہیں سب خوش ہے اپنی لائف میں ۔۔۔
ا۔اچھی ۔ب۔بات ہے مجھ جیسی گندی لڑکی کو یاد بھی نہیں کرنا چاہے نفرت ہے مجھے اپنے آپ سے کیوں مجھے موت نہیں آتی کیوں۔۔۔
سبحان روم میں انٹر ہوا تو اس کی سماعتوں میں یہ الفاظ پڑے تھے۔۔۔۔
مرنا چاہے مجھے ہاں اماں روز بچا لیتی مجھے۔۔۔۔
وہ اب جاۓ نماز سے اٹھتی واش روم بھاگی تھی۔۔۔۔
وہائٹ شلوار کرتے میں ملبوس سادہ کا چہرہ لیے ڈوپٹے سے حجاب کیے سبحان کو وہ بہارے لگی ہی نہیں جو دن کی روشنی میں بہارد ہوتی تھی ۔۔۔
یہ تو اس کی معصوم ڈری سمہی روحاب تھی جو بھاگ کر واش روم گی تھی۔۔۔۔۔
روحی روحی یہ کیا کر رہی ہو پاگل ہو۔۔۔۔
سبحان کچھ غلط محسوس کرتا اس کے پیچھے بھاگا تھا جو فنائل کی بوتل اپنے لبوں سے لگا رہی تھی تبھی وہ طش میں آتا چلایا تھا۔۔۔۔
ت
تم۔کون ہو جا۔و مجھے مرنے دو جاٶ۔۔۔
روحاب اب ویران نظروں سے سبحان کو دھکا دیتی بولی تھی۔۔۔۔
میں تمہارا شانی یاد کرو روحی تم بیوی ہو میری ہمارا نکاح ہوا تھا۔۔۔۔
سبحان اب آہستہ سے اسے شولڈر سے پکڑے اپنے ساتھ لگاۓ باہر لاتا ہوا نرمی سے بولا تھا۔۔۔
ش۔شانء ۔نی شانی مطلب م۔میرا سبحان ۔۔۔۔
روحاب آنسو بہاتی اب سبحان کی شیو کو چھوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں میں ہو محسوس کرو میری جان۔۔۔
سبحان اس کے چھوٹے سفید ہاتھ پکڑتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔
و۔وہ ل۔لوگوں ن۔نے مج۔مجھے گندہ ک۔کر دیا ت۔تم بھی دور رہو سب چھوڑ گے مجھے شانی م۔مجھے نفرت ہے ۔۔۔
روحاب اچانک طش سے چلاتی سبحان کے مکے مارتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
تم بہت پیاری ہو میری جان بلکہ اچھی ہو کوئ گندی نہیں ہوئ اچھا شادی کرو گی مجھ سے دیکھنا میں رکھو گا اپنی روحی کا خیال ۔۔۔
سبحان اسے زبردستی سینے سے لگاۓ بولا تھا۔۔۔۔
ل۔لیکن ماما لوگوں ن۔نے مجھے چ۔چھوڑ د۔۔۔
چھوڑا نہیں تھا وہ سب ڈھونڈ رہے سب اپنی روحی سے بہت محبت کرتے ہے یار تم ہو ہی اتنی پیاری۔۔۔۔
روحاب اب سوں سوں کرتی روتی بول رہی تھی جب سبحان اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اچ۔اچھا واقعی۔۔۔
روحاب بچوں جیسی خوش لاتے چہرے سے بولی تھی۔۔۔
ہاں واقعی اب ہم دونوں شادی کر لے گے تو اور زیادہ والی پیاری لگو گی۔۔۔
سبحان اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ت۔تو جلدی شادی کرو می۔میں اپنے بابا کے پاس جانا چاہتی ہو شانی۔۔۔۔
سبحان نے اس کی گردن پر نیند کا انجکشن لگایا تھا جب وہ نیند میں جاتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
ہممم اب کیا کرنا شانی۔۔۔
سبحان اب ڈائمن کو ہر بات بتا چکا تھا جیسے سن کر وہ اور زیادہ پریشان ہوا تھا۔۔۔
مجھے اپنی روحی کے لیے سب کرنا پڑے گا میں اسے ایسے حالت میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔
سبحان خود اپنا ماتھا مسلتا ہوا بولا تھا۔۔۔
تم اسے گھر ل۔۔۔
نہیں ڈائمن وہ خوف کھاتی ہے ہم سب سے پتہ نہیں اس کے ذہین میں کیا ڈالا گیا ہے اپنے آپ کو اول فول بول رہی ہے اس کی ایسی حالت نہیں وہ ہمارے ساتھ رہ سکے مجھے رہنے دو اس کے ساتھ پلیز۔۔۔
ڈائمن بول رہا تھا جب سبحان التجا کرتا بولا تھا۔۔۔
ہممم چلو مرضی ہے ویسے بھی روحی تمہاری بیوی ہے تم اچھے سے ہینڈل کر سکتے ہو۔۔۔
ڈائمن بھی حامی بھرتا ہوا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔
———————————————————-
اماں آپ سب کچھ بتاۓ۔۔۔
بس آپ ہی ہے جو سب جانتی ہے ۔۔۔
سبحان اب اماں کے روم میں آتا بولا تھا۔۔۔
م۔میں ک۔۔۔
پلیز مجھے بتاۓ میرے لیے ضروری ہے جانا ورنہ میری روحی ایسی نہیں تھی۔۔۔۔
اماں پریشان ہوتی بول رہی تھی جب سبحان منت کرتا بولا تھا۔۔۔
میں بس اتنا جانتی ہو جب مجھے روحاب ملی تب وہ دس سال کی تھی۔۔۔۔
میں تو خواجہ سرا ہو ایک رات میں کسی کی شادی سے واپس آ رہی تھی سنسنان راستے سے وہاں مجھے روحاب سکول یونفارم میں بے ہوش ملی تھی۔۔۔۔
پ۔۔۔
آگے کیا ہوا ۔۔۔
اماں آنسو بہاتے بول رہی تھی جب سبحان اپنی سنہری
سرخ آنکھیں لیتا بولا تھا۔۔۔
روحاب کو اٹھا کر میں یہاں لے آی شاہد دو ہفتوں بعد اسے ہوش آیا تھا۔۔۔
جب اسے ہوش آیا تو اس کی زبان پر صرف یہی لفظ تھے وہ گندی ہو چکی ہے ۔۔۔۔
م۔مطلب۔۔۔
سبحان نے ڈرتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔۔
اس کا کہنا تھا اس کا ریپ کیا گیا تھا یہ میں نہیں جانتی روحاب سچ کہا رہی یا اپنے دماغ کے فتور سے ایسا بول رہی تھی۔۔۔
لیکن مجھے یقین کرنا پڑا اس پر ۔۔۔
اس دن کے بعد روحاب کے کبھی مجھے نہیں بتایا اس کے ساتھ کیا ہوا تھا کہاں تھی وہ۔۔۔
یہاں رہنے لگ گی وہ یہاں کی لڑکیوں سے یہ لفظ سنتے وہ گندی ہے اس جیسی لڑکیوں کا گھر نہیں ہوتا اس کے ماں باپ نہیں رکھتے اپنے پاس بلا بلا بلا۔۔۔
بس یہ سنتے وہ بڑی ہوئ تھی۔۔۔
دن کی روشنی میں وہ بہارے بنی تھی لیکن رات کی تنہائ میں جیسے ہی اکیلے ہوتی روحاب بن جاتی۔۔۔
کوئ ایسی رات نہیں آئ جب وہ اپنے رب کے آگے روتے ہوۓ معافی نہ مانگی ہو بلکہ وہ خود کی جان لینے سے بھی ڈرتی نہیں تھی یہ تو میں اسے بچا لیتی تھی۔۔۔
اماں روتی ہوئ سبحان کو سب کچھ بتا چکی تھی ۔۔۔۔
ک۔کبھی آپ نے اسے نہیں کہا وہ چلے جاۓ اپنے گھر۔۔۔۔
سبحان شوک ہوتا ضبط کرتا بولا تھا ۔۔
بہت دفعہ کہا لیکن اس کے ذہین میں بات بیٹھ چکی ہے آپ سب لوگ اسے اپناۓ گے نہیں۔۔۔
ہم جیسوں کی اولاد نہیں ہوتی لیکن میں نے ہمیشہ روحاب کو بیٹی سمجھ کر پالا ہے ۔۔۔
میں چاہتی ہو تم اسے یہاں سے لے جاٶ ۔۔۔
اماں سبحان کا ہاتھ پکڑتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔۔
میں لے جاٶ گا فکر مت کرے آپ ویسا ہی کرے جیسا میں کہو آپ کو بس یہی حل ہے روحاب اپنے اس ٹراما سے باہر آ جاۓ گی۔۔۔۔
سبحان کچھ سوچتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
دل سے اسے ڈر تھا کہ جو وہ کرنے جا رہا وہ غلط ہو گا یا صیح لیکن وہ اپنی روحی کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔
————————————————————
اہہہ میرا سر اماں آ۔۔۔۔
صبح روحاب اپنے بیڈ سے اٹھتی سر پکڑتے بول رہی تھی جب اپنے ساتھ لیٹے شرٹ لیس سبحان کو دیکھتے وہ شوک ہوئ تھی۔۔۔۔
ت۔تم یہاں کیسے۔۔۔
روحاب شوک ہوتی اسے گھورتی بولی تھی۔۔۔
ظاہر سی بات ہے شوہر ہو تو بیوی کے پاس ہی ہو گا۔۔۔
سبحان سکون سے آنکھ ونک کرتا اس کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ک۔کیا مطلب ی۔یہ لہ۔لنہگا۔۔۔
روحاب اب اپنی حالت دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
بکھرے بال صاف شفاف چہرہ سرخ عروسی لہنگا جس کی کرتی کے اوپری بٹن کھولے ہوۓ تھے۔۔۔۔
تبھی وہ اپنی حالت پر حیران تھی اسے یاد نہیں آ رہا تھا ہوا کیا ہے ۔۔۔
یار رات نکاح ہوا پھرررررر۔۔۔
سبحان اپنا سر اس کی گود میں رکھتے زرا شوخ ہوتا جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑتا بولا تھا۔۔۔
ا۔ایسا نہیں ہو سکتا ا۔۔۔
کیوں نہیں ہو سکتا بہارے۔۔۔
روحاب اسے خود سے دور کرتی بیڈ سے اٹھتی بول رہی تھی جب سبحان گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
ک۔کیونکہ میں بہارے نہیں روحاب ہارون خان ہو سمجھے تم شانی۔۔۔
روحاب اب چلاتے ہوۓ چیخی تھی۔۔۔
تم واقعی روحاب ہو۔۔۔
سبحان خوشی سے پاگل ہوتا اس کے قریب جاتا بولا تھا وہ خوش تھا اس کا یہ جھوٹا پلان کامیاب ہوا وہ یہی چاہتا تھا روحاب خود سے قبول کرے وہ ہے کون۔۔۔
دور رہو مجھ سے میں گندی ہو چکی ہو ۔۔
ریلکس روحی کچھ نہیں ہوا تھا ایسا میری جان۔۔۔
کیوں ہاتھ لگایا مجھے وحشت ہو رہی مجھے ۔۔
روحاب سبحان کی ہر بات اگنور کیے اسے دور کرتی چلاتے ہوے بولی ۔۔
یہ کیا بکواس ہے کتنی دفعہ کہا ایسا کچھ نہیں ہوا تھا پھر بھی ۔۔۔
اس کی بات سنتے سبحان کا دماغ بھک سے اڑا تھا تبھی اسے پکڑتے غصہ سے بولا ۔۔۔
ہوا تھا سب کچھ ہوا تھا یہاں یہاں اس کے ہاتھ مجھے نوچ رہے تھے ۔۔۔
تم نے فیل نہیں کیا لیکن یہ درد میں نے آج تک محسوس کیا ہے ۔۔۔
اس کا وحشت بھرا لمس مجھے آج بھی محسوس ہو رہا ہے ۔۔
دیکھو یہاں چھوا تھا اس نے ۔۔
روحاب اب پاگلوں کی طرح چیختی اسے بتاتی اپنا عروسی لہنگا نوچتی بولی رہی تھی ۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے مسلسل آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
میری طرف دیکھو میں شوہر ہو تمہارا مجھ سے بہتر کوئ نہیں جان سکتا ایسا کچھ نہیں ہوا تم سمجھتی کیوں نہیں ہو ۔۔
میں جان چکا ہو تم گندی نہیں ہو بلکہ میری روحی ہو
سبحان اب بے بس ہوتا اس سے جھوٹ بولتا اس کے قریب جاتا ہوا بولا ۔۔۔
کیسے دیکھ لیتا اسے درد میں جس سے وہ عشق کرتا تھا ۔۔۔
چ۔چھوڑو م۔میں گندی ۔ہو ت۔تم جھوٹ بول رہے۔۔۔
روحاب اس سے دور ہوتی بولی تھی۔۔۔
میں جھوٹ کیوں بولو گا یار تم اچھی ہو۔۔۔
سبحان اسے سمجھاتا اب اپنے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھتا آنسو بہاتا بولا تھا۔۔۔
نہیں نہیں چھوڑو مجھے دیکھو وہ نوچ رہا مجھے ۔۔
روحاب اسے پیچھے کرتی چیختی ہوی بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
روحییییی۔۔۔
اپنی باہوں میں جھولتی روحاب کو دیکھ سبحان چیخا تھا اس کی پوری زندگی جیسے ختم ہو گی
تھی۔۔۔
————————————————————
ڈاکٹر ڈاکٹر کیا ہوا روحی کو۔۔۔
سبحان اسے اٹھاۓ ہاسپٹل لایا تھا جب کافی دیر چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر باہر آیا تھا جب سبحان بے تاب ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
نروس بریک ڈاٶن ہوا ہے کسی بات کا گہرا صدمہ لیا ہے ۔۔۔
بس دعا کرے ہوش آ جاۓ ورنہ کوما میں جانے کے چانس زیادہ ہے ۔۔۔
ڈاکٹر اپنی خبر سے سبحان اور آندھی طوفان بن کر آتے روحان پر بجلی گرا چکا تھا۔۔۔۔
م۔می۔۔۔
تمہاری وجہ سے ہوا کیا ہوتا اگر تم روحی کو گھر لے آتے ہمارے ساتھ رہتی وہ لیکن تمہیں بس اپنی پڑی تھی۔۔۔
پہلے بھی کہا تھا میری بہن کو تکلیف دی تو سانسیں چیھن لو گا تمہاری شانی۔۔۔۔
سبحان اپنے سامنے روحان کو دیکھتا بول رہا تھا جب روحان پاگلوں کی طرح اسے مارتا ہوا بولا تھا۔۔۔
بسسسسس بہت ہو گیا روحی پہلے تم سب کی ذمہ داری تھی اب میری ہے بہت برداشت کر لیا میں نے یہ سب اور نہیں روحی کو میں ٹھیک کرو گا اور سالے صاحب یہ زور آزامائ کم کیا کرو منہ توڑنا مجھے بھی آتا ہے سمجھ بھول گے میجر سبحان ہو میں۔۔۔
سبحان اب خود روحان کو زور زور سے مارتا اپنے دل کی بھڑاس نکالتا بولا تھا۔۔۔
اور تو بھول گیا میں کون ہو ڈائم۔۔۔
ڈائمن ہو گے سب کے میرے لیے سالے ہی ہو سمجھے زرا تعمیز سے بات کیا کرو اب جاٶ یہاں سے۔۔۔
روحان اپنے لبوں سے نکلتا خون صاف کرتا بول رہا تھا جب سبحان روحاب کے روم میں جاتا آنکھ ونک کرتا زور سے ڈور بند کر چکا تھا۔۔۔
روحان مسکرایا تھا سبحان کی حالت پر ۔۔۔
ہاے بچارے کو زیادہ مار دیا۔۔۔
روحان دل میں سوچتا اب واپس جاتا بولا تھا۔۔۔
اسے یقین تھا سبحان روحاب کو بہت جلد گھر واپس لاۓ گا۔۔۔
————————————————————
بابا میں ہرگز اریج سے شادی کرو گا سمجھ آپ۔۔۔
ناشتے کے ٹیبل پر برہان پری کو بتا رہے تھے وہ جلد ہی اریج کو بہو بنا کر اپنے گھر لانا چاہتے ہے جب بلاج طش میں آتا بولا تھا۔۔۔۔
وہ ضرور آے گی چاہے تم راضی ہو یا نہ ہو ۔۔۔
برہان بھی طش میں آتے بولے تھے۔۔۔
میں یہ گھر چ۔۔۔
شوق سے چھوڑ دو بلکہ بھاڑ میں جاٶ ۔۔۔
بلاج دمھکی دیتا بول رہا تھا جب برہان بھی بولتے وہاں سے چلے گے تھے۔۔۔
انہہہ ۔۔
بلاج بھی بنا ناشتہ کیے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
پری نے دکھ سے اپنا سر پکڑا تھا ۔۔۔
————————————————————
ہاں سرفراز ایسا کرو رات کا ڈنر رکھ لو تاکہ میٹنگ کرنے میں آسانی ہو ورنہ میں ہرگز نہیں آٶ گی۔۔۔
اریج ناشتے کی ٹیبل پر اکیلی بیٹھی فون پر اپنے سکیرٹری کو فون کرتی بول رہی تھی۔۔۔۔
تم باز نہیں آٶ گی اپنی حرکتیوں سے ۔۔۔
بلاج اب اپنا غصہ اتارنے اریج کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔
آٶ بلاج چاۓ پیو ۔۔۔
اریج سکون سے فون بند کرتی اب بلاج کو چاۓ کا مگ دیتی بولی تھی۔۔۔۔
کچھ تو شرم کرو اریج کیوں چاہتی ہو میں تمہیں طلاق دے دو کتنی محبت سی نکاح کیا تھا ت۔۔۔۔
مجھے اپنے عشق میں باندھ کر تم نے ہر دفعہ مجھے دھتکارا ہے مسٹر بلاج تیار رہنا بہت جلد میں تمہارے ساتھ ایسا کرو گی ۔۔۔
کیونکہ میرے صبر کا پیمانہ ختم ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔۔
سنا تم نے ۔۔۔
طلاق کا لفظ سنتے اریج سب کچھ بھلاۓ طش سے کہتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔
انہہہ۔۔
بلاج بھی برا سا منہ بناۓ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
————————————————————
“”دو سال پہلے ۔۔۔۔
اففف اففف ارو میں اتنا خوش ہو مجھے میرا عشق مل گیا ہاےےے ۔۔۔
اریج اور بلاج کا نکاح ہو چکا تھا جب بلاج اریج کے روم میں ملنے آتا بولا تھا۔۔
جہاں اریج مسکراتی ہوئ اپنی جیولری اتار رہی تھی ۔۔۔
یار تم سنتی نہیں ہو میری بات۔۔۔
بلاج اسے بزی دیکھتا کمر سے پکڑے اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھے بولا تھا۔۔۔
بلاج سن تو رہی میں مجھے ہنسی آ رہی تمہارا عشق دیکھ کر کیسے بچوں جیسا خوش ہو رہے۔۔۔۔
اریج اپنا رخ بلاج کی طرف کرتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اہہہ تمہیں ہنسی ہی آے گی عشق جو نہیں ک۔۔۔۔
میں تم سے عشق کرتی ہو مسٹر بلاج لیکن میں شرط لگا کر کہہ سکتی ہو میرا عشق تمہارے عشق سے زیادہ والا پکا ہے ۔۔۔۔
بلاج اس کی ناک کو چومتا ہوا بول رہا تھا جب اریج بھی اس کی ناک کو چومتی بولی تھی ۔۔۔
دیکھے گے۔۔۔
بلاج یہ کہتا اس پر جھکا تھا ۔۔۔
جب اریج نے روکا۔۔۔۔
بس چلو جاٶ صبح میں نے یونی جانا ہے جاو بھاگو یہاں سے۔۔۔
اریج اسے دور کرتی اب واش روم جاتی بولی تھی ۔۔۔
اہہہ ایک چھوٹی سی کس ہی دے دو یار بندہ خوش ہو جاتا ہے اپنے نکاح پر ۔۔۔
بلاج اس کے پیچھے جاتا ہوا رونی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔۔
اب جاٶ ۔۔۔
اریج شرماتے ہوۓ بلاج کے گال پر کس کرتی بولی تھی۔۔۔۔
جب بلاج بھی مسکراتا ہوا روم سے چلا گیا تھا۔۔۔
———————————————————–
ارے یار یونی آنا تھا تم لوگوں نے یہاں بلا لیا ۔۔۔
صبح اریج ایک ہوٹل میں آتی اپنے دوستوں سے ملتے بولی تھی ۔۔۔
یار پارٹی کرتے ہے تمہارا کل نکاح ہوا ہے ۔۔۔
اریج کی دوست گل تاشہ مسکراتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ہاں ضرور میں دو گی ۔۔۔
اریج بھی حامی بھرتی ہوئ سب کے لیے آڈر دے رہی تھی۔۔۔۔
دور بیٹھا اپنے دوست کے ساتھ آیا بلاج یہ منظر دیکھتا خوش ہو رہا تھا۔۔۔
اچھا یار میں چلتی ہو اب۔۔۔
کھانے پینے کے بعد اریج اب سب کو باۓ کرتی اٹھی تھی جب چکرا کر کرسی پر گری تھی۔۔۔۔
سب کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ آی تھی ۔۔۔
وہ بے ہوش پڑی اریج کو اٹھا کر اوپر بنے روم میں لے گے تھے۔۔۔۔
————————————————————
یار مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر اریج کو ہوش آیا تو کافی غصہ کرے گی۔۔۔۔
دو گھنٹے اریج کو بیڈ روم میں لیٹاۓ سب دوستوں نے اب اپنے دوست ارسلان کی شرٹ اتارے اریج کو پہنائ تھی ۔۔۔
جب گل تاشہ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
ارے یار یہ جیسٹ مذاق ہے اریج نے ہم سب کو یونی میں چار سال جینا حرام کیا تھا اتنا تو بنتا ہے ویسے بھی ہم کچھ غلط نہیں کر رہے اریج جاگ جاۓ تو بتا دے گے۔۔۔
ارسلان کو وہ باہر ہی کھڑا کر چکی تھی جبکہ خود وہ اریج کے ساتھ تھی ۔۔۔
آ گیا ہوش ارسلان اریج کو جلدی آٶ۔۔۔
اس کی دوست اریج کو ہوش میں آتی دیکھ بولی تھی۔۔۔
جب پلان کے مطابق ارسلان اندر آیا تھا ۔۔
————————————————————
کیا بکواس ہے ارسلان منہ توڑ دو گی میں تمہارا۔۔۔
ارسلان مسکراہٹ روکے جھوٹ بول رہا تھا جب اریج دانت پیستی ہوئ بولی تھی۔۔۔
کیا یار کسی لڑکی ہو ہم نے سوچا تھا تم رو گی چلاٶ گی لیکن تم کتنے نڈر انداز سے کہا رہی ہو ہم نے مذاق کیا ہاں یار یہ مذاق تھا۔۔۔
اریج کی دوست اب رونی شکل بناۓ پاس بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ انھوں نے یہی توقع کیا تھا اریج روے گی لیکن وہ تو سکون سے بیڈ پر بیٹھتی دانت نکال رہی تھی۔۔۔۔
تم سب بھول گے شیطان کی نانی ہو میں بچو۔۔۔
اریج اب مسکراتی اٹھتی بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ اریج کو نہ پا کر بلاج اب پریشان ہوتا اوپر کی رومز کی طرف آ رہا تھا۔۔۔۔
تمہیں ڈر نہیں کیا اگر یہ سب سچ ہوتا تو فرض کرو بلاج بھائ یہاں ہوتے تو کیا کرتی۔۔۔
ارسلان ویسے ہی بیڈ پر شرٹ لیس لیٹتے بولا تھا۔۔۔
بلاج کو یقین ہے مجھ پر ویسے بھی عشق میں اپنی عاشق کی ہر بات پر یقین کیا جاتا ہے میں تبھی گھبرای نہیں تھی ۔۔۔
اریج ویسے ہی مسکراتے فخر سے بول رہی تھی ۔۔۔
اچھا بندر اپنی شرٹ لو میں ا۔۔۔۔
بل۔بلاج ب۔بھائ۔۔۔
اریج واش روم کی طرف جاتی بول رہی تھی جب روم میں انٹر ہوتے طش میں آتے بلاج کو دیکھ سب ہکلاے تھے۔۔۔
ارے بلاج تم آ گے م۔۔۔
چٹاخخخ۔۔۔
اریج مسکراتی ویسے ہی بلاج کے سامنے آتی بول رہی تھی جب بلاج نے تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔
ب۔بل۔۔۔
شیٹ اپ جیسٹ شیٹ اپ۔۔۔
اریج اپنے گال پر ہاتھ رکھتی شوک ہوتی بول رہی تھی جب بلاج بولتا دانت پیستے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
بلاج بلاج ۔۔۔
سوری اریج ہماری وجہ سے ایسا ہوا ہم معافی مانگ ل۔۔۔
میں دیکھو لو گی ویسے ہی غصے میں ہو گا۔۔۔۔
ارسلان لوگ پریشان ہوتے بولے رہے تھے جب اریج کہتی اب بلاج کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔۔
———————————————————–
بلاج بلاج میری بات سنو پلیز۔۔۔
اریج بلاج کے پیچھے آتی اب پریشان ہوتی برہان پلیس آی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔
برہان باہر ہال میں آتے بولے تھے ۔۔
بابا پلیز بلاج کو کہے وہ سب مذاق تھا ا۔۔۔
یہ تھپڑ کس نے مارا بیٹا۔۔۔
اریج اب روتی ہوئ برہان کے پاس آتی بول رہی تھی جب اس کا سرخ گال دیکھتے وہ پریشان ہوتے بولے تھے۔۔۔۔
اریج کو بس بلاج کی پرواہ تھی ۔۔۔
بابا اس لڑکی کو کہے میں کس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ میں اسے ابھی طلا ۔۔۔۔
چٹاخ خخخ۔۔۔۔
بلاج آگ بگولہ ہوتا چیختا بول رہا تھا جب اریج کی ساری بات سنتے برہان نے بلاج کے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔۔
زبان کاٹ کر رکھ دو گا دفع ہو جاٶ یہاں سے تم میرے بیٹے نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔
برہان آپے سے باہر ہوتے چلاے تھے۔۔۔
اریج تو بلاج کی اتنی بے اعتباری دیکھ کر ہی اندر سے ٹوٹ گی تھی۔۔۔۔
بلاج نے اس دن کے بعد اسے نہیں بلایا تھا اریج بھی سب بھلاۓ ہنسی مسکراتی اپنی زندگی گزار رہی تھی ۔۔۔
اریج کو بہت فرق پڑا تھا بلاج کی بے رخی دیکھ کر پر وہ خاموش سب سہہ رہی تھی۔۔۔
————————————————————
میں نے بات کرنی ہے ۔۔۔
اریج میٹنگ سے فارغ ہوتی رات کو آفس آی تھی جب نڈھال سے بلاج کو دیکھتے وہ حیران ہوئ تھی۔۔۔
ہاں کرو بات۔۔۔
اریج حیران ہوتی بولی تھی ابھی صبح ہی وہ اس سے لڑ کر گیا تھا اور یہ والا بلاج
تو کوئ اور تھا۔۔۔
و۔وہ ارو گل تاشہ ن۔نے سب مجھے بتا دیا اس دن ک۔کیا ہوا تھا۔۔۔
بلاج شرمندہ ہوتا بولا تھا۔۔۔
بلاج اپنے ہاسپٹل کے کیبن میں بیٹھا تھا جب ارسلان اور گل تاشہ نے آ کر اسے سب بتا دیا تھا۔۔۔
دو سال پہلے اریج ان سب کو بھی منع کر چکی تھی بلاج کو کچھ نہ بتاۓ لیکن اب اریج کو اتنا اکیلا دیکھ ارسلان اور گل تاشہ شرمندہ ہوتے بلاج کے پاس آتے بتا چکے تھے ۔۔۔
بلاج سب سنتا شرمندگی کے مارے مرنے والا ہو گیا تھا ۔۔
تبھی اب وہ مجرم نڈھال سا بنا اریج کے آفس آیا تھا۔۔۔
————————————————————.
ارے واہ ہ مسٹر بلاج کچھ جلدی نہیں آ گے آپ اریج اب بلاج کو شرمندہ دیکھ خود نفرت انگیز لہجے سے بولی تھی۔۔۔
کیونکہ اب وہ اپنے عشق کی زنجیروں سے آزاد ہو چکی تھی وہ اس لیے اتنے سال چپ تھی بلاج خود اس سچائ کے پاس پہنچے۔۔۔
اریج د۔دیکھو تم بیوی ہو میری۔۔
بلاج کمزور لہجے سے بولا تھا ۔۔
آج کیسے یاد کر لیا بھول گے کیا میں وہی لڑکی ہو جو ہر رات لڑکوں کے ساتھ گزارتی ہے ۔۔
اریج اسے اپنے سامنے آفس میں دیکھتی غراتے ہوے بولی ۔۔۔
یہی سنایا تھا تم نے مجھے ان دو سالوں میں بلاج۔۔
بکواس بن۔۔۔
اووو مسڑ برا لگا کیا ہاےے تب کہاں تھے جب سب کے سامنے میری عزت کا جنازہ نکالا تھا ۔۔۔
میں نے اپنے دوستوں کو فخر سے بتایا تھا بلاج ایسا نہیں جبکہ تم نے کر کے بتایا سب کو کتنی گندی سوچ کے مالک تھے۔۔۔
چلے جاٶ یہاں سے دفعہ ہو جاٶ ورنہ میں بھول جاٶ گی تم باس کے شریف بیٹے ہو ۔۔
برہان بابا کی وجہ سے میں تمہاری ہر بکواس سن لیا کرتی تھی کیونکہ نہیں چاہتی تھی ایک باپ اپنے اکلوتے بیٹے سے نفرت کرے۔۔۔
وہ اس کی بات کاٹتی غصہ سے بولی ۔۔۔
بھول رہی ہو تم میری بیوی۔۔۔
کوئ بیوی نہیں شوہر ایسا ہوتا کیا اپنی بیوی کو ذلیل کر دے جاٶ یہاں سے ورنہ میں خود چلی جاٶ گی ۔۔
وہ پھر اس کی بات کاٹتے سر پکڑے چلاتے ہوے بولی ۔۔
اچھا میں جاتا ہو اپنے آپ کو دکھ مت دو پتہ ہے تمہیں عشق۔۔۔
آی سے گیٹ آوٹ فرام ہئیر
وہ پھر درد سے چلاتے بولی ۔۔۔
جبکہ اس کی گرے آنکھیں ضبط سے سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔
بلاج اب نڈھال سا ہوتا آفس سے باہر آنسو بہاتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اریج اتنی جلدی اسے معاف نہیں کرے گی ۔۔۔
