Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 13)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 13)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
شکریہ اس کافی کا بابا۔۔۔
صبح ڈائنیگ ٹبیل پر روحان آتا کافی کا مگ پکڑتے بولا تھا۔۔۔
جہاں روحا خاموش بیٹھی تھی جبکہ ہارون اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر دے رہا تھا۔۔
رکھو یہی پر یہ پنک روز کی ہے ۔۔۔
اپنی خودی بناٶ۔۔۔
ہارون خان برا سا منہ بناۓ بولے تھے۔۔۔
بابا پنک روز بھی میری ہے تو آپ دوسری بنا لے۔۔۔
روحان آرام سے روحا کے پاس بیٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
کوئ نہیں تم مجھے یہی دو چلو جاٶ شاباش اپنی بناٶ۔۔۔
ہارون خان اس کے ہاتھ سے مگ لیتے بولے تھے۔۔۔۔
پنک روز کچھ تو بولے بابا یہ کیا کر رہے ہے۔۔۔
روحان روحا کے شولڈر پر سر رکھے پیار سے بولا تھا۔۔۔
نہ کرے ہارون بیٹا ہے ہمارا۔۔۔
روحا بیزار ہوتی بولی تھی۔۔۔
پکڑو کافی اور تم آٶ میرے ساتھ کل رات سے ایسی شکل بنائ ہے تم نے ۔۔۔
جانتی ہو تم مجھے ایسی پسند نہیں ہے۔۔۔
روحا کی بات سنتے ہارون مگ واپس روحان کو دیتے روحا کا ہاتھ پکڑے اپنے پاس لاتے بولے تھے۔۔۔
بابا ایسا کرتے ہے آپ کی شادی کر دے اور پھر اپنی بیوی کے پاس رہنا پنک روز ہماری پھر کیوں روحان میں ٹھیک کہا رہی ۔۔
جنت بھی نیچے آتی ہوئ ہارون خان کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاں کرواٶ بابا کی شادی پھر پنک ر۔۔۔۔
خبردار ہارون اگر آپ نے کسی رنگ برنگ عورت سے شادی کی میں گھر سے نکال دو گی آپ۔۔
روحان مسکراہٹ روکے بول رہا تھا جب روحا ان کا کالر پکڑتے دانت پیستے بولی تھی۔۔۔
ہاہاہااہاہاہاا لو میں معصوم تو صرف اپنی پنک روز کا ہو۔۔
ہارون خان کو جب اپنی پنک روز دیکھتی ہے تو میں پاگل ہو کیا جو کسی غیر عورت کو دیکھو توبہ ۔۔۔
ہارون خان روحا کے ہاتھ پکڑتے اسے چومتے بولے تھے۔۔۔
توبہ آپ جیسے معصوم اگر دنیا میں آ جاۓ تو ب۔۔۔
آہمم آہمممم ماما آپ کے معصوم والے بچے بھی یہی ہے۔۔۔
روحا مسکراہٹ روکے ہارون خان کے گلاسز اتارے ان کی آنکھوں پر لب رکھتی بول رہی تھی جب جنت متوجہ کرواتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ہاہاہاااااا یہ بھی معصوم ہے ہاے۔۔۔
روحا قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہارون کے پلیس کے ہال میں انٹر ہوتے سفان نے بڑی مشکل سے یہ ہپی فمیلی والا سین دیکھا تھا۔۔۔
السلام و علیکم کیوٹ لیڈی۔۔۔
سفان زبردست مسکراہٹ لاۓ ان سب کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو۔۔۔
روحا مسکراتی ہوئ اٹھ کر سفان کو گلے لگاۓ بولی تھی۔۔۔
جبکہ جنت اور ہارون وہاں سے اسے اگنور کیے چلے گے تھے۔۔۔۔
سوری بیٹا وہ تمہارے انکل ت۔۔۔
کوئ بات نہیں کیوٹ لیڈی آنی کی غلطی تھی میں معافی مانگتا ہو۔۔۔
روحا شرمندہ ہوتی بول رہی تھی جب سفان نرمی سے بولا تھا۔۔۔
بیٹے معافی نہیں مانگتے بیٹا تم تو بڑے پیارے بیٹے ہو۔۔۔۔
روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
سفان خاموش بیٹھے روحان کی طرف بھی دیکھ رہا تھا جو گہری نظروں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔
ہاے آنی یہ ظلم ہے صبح صبح مجھ معصوم پر میری آنی پر قبضہ ہو گیا۔۔۔۔
سبحان جم ڈریس پہنتا ہوا مسکراتا اندر آتا بولا تھا۔۔۔
سبحان کو دیکھ کر سفان نے روحان کی طرف شوک ہوتے دیکھا تھا۔۔۔
روحان نے اکندھے اچکاۓ تھے۔۔۔
اب تم لیٹ آٶ گے تو کیوٹ لیڈی میری ہی ہو گی ۔۔۔
سفان اٹھ کر سبحان سے گلے ملتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
روحان ی۔۔۔۔
سفان خان جنت کا شوہر ہے ۔۔
سبحان حیران ہوتا بول رہا تھا جب روحان سنجیدہ ہوتا جواب دیتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
سفان کو فرق پڑا تھا لیکن اسے روحا کو منانا تھا جانتا تھا وہ مان گی تو ہارون خان بھی مان جاۓ گا رخصتی کے لیے۔۔۔۔
————————————————————
دوست یہ کون ہے ۔۔۔
صبح دانین ہال میں آتی بولی تھی جب بلال کے پاس کھڑی لڑکی کو دیکھ بولی تھی۔۔۔
یہ بھی تمہاری دوست ہے یہ بتایا کرے گی تم کیسے کپڑے پہنو گی کیا کھاٶ گی کیسے بولو گی۔۔۔
بلال اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ سامنے کھڑی اذکٰی کو دیکھ بولا تھا۔۔۔
میں نہیں بنا رہی صرف آپ دوست میرے انہہ۔۔۔۔
دانین اذکٰی کی طرف دیکھتی برا سا منہ بناۓ وہاں سے جاتی بولی تھی کیونکہ وہ بلال کی سیم ایج تھی۔۔۔
یار سوری وہ چھوٹی ہ۔۔۔
کوئ بات نہیں لالہ آپ کے ساتھ ہی حویلی جا رہی آہستہ آہستہ میرے ساتھ بھی دوستی کر لے گی۔۔۔
اذکٰی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
اسے اپنی یہ کیوٹ سی بھابھی پسند آئ تھی۔۔۔
ہاں یار چھوٹی کافی ہے بس تم اس کو سمجھاٶ گی کیا برا کیا اچھا ہے تم سمجھ گی میرا مطلب۔۔۔
بلال نروس ہوتا بولا تھا۔۔۔
ہاہاااہااہاہاا میں حیران ہو جس بلال خان کے آگے سب کی بولتی بند ہوتی ہے وہی بلال کی میری چھوٹی سی بھابھی کے آگے منہ بھی نہیں کھولتا۔۔۔۔
اذکٰی قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاے تمہاری
بھابھی کو ہنیڈل کر لو۔۔۔
بلال کچھ یاد آتا روم کی طرف بھاگتا بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
ارے میری ننھی سی جان کیا رو رہی۔۔۔
بلال روم میں آتا دانین کے پاس آتی بولا تھا جو پھولے منہ کے ساتھ سوں سوں کرتی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
م۔میر۔میرے ہے آپ۔۔۔
دانین روتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
میری جان میری ہی ہے دیکھو اس سے دوستی کر لو ورنہ پھر وہ مجھ سے دوستی کر لے گی پھر میرے پاس آجاۓ گی ۔۔
بلال اسے پکڑے اپنی گود میں بیٹھاۓ آرام سے بولا تھا۔۔۔
م۔مجھے آپ اچھے لگتے بلال۔۔۔۔
ہاےےے دوبارہ نام لو آج سے بلال ہی کہو گی۔۔۔
بلال خوش ہوتا دانین کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
مجھے شرم آتی ہے۔۔۔
دانین شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ہاہاااا اچھا میں نے ناشتہ نہیں کیا جاٶ اپنے دوست کے لیے ناشتہ لے کر آٶ۔۔۔
بلال اس کے بالوں کو سہلاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
وہ چاہتا تھا دانین اب ہر کام خود کرے تاکہ اسے پتہ چلے وہ بچی نہیں بیوی ہے بلال خان کی۔۔۔
ہاں ابھی لے کر آتی ہو پھر دونوں مل کر کھاتے ہے۔۔۔
دانین خوش ہوتی بیڈ سے چھلانگ لگاتے باہر جاتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاے میری چھوٹی بیوی۔۔۔
بلال مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
بابا میں سوچ رہ۔۔۔
پری کے بیٹے ہو میرے نہیں۔۔۔
بلاج برہان کے روم میں آتا بول رہا تھا جب برہان دانت پیستے بولے تھے۔۔۔
کیوں بابا ایسا کرتے ہے بیٹا ہو میں آپ اس لڑکی کے لیے ایسا ک۔۔۔
بھول گے تم وہ لڑکی تمہاری بیوی ہے بیٹی ہے میری۔۔۔
بلاج طش سے بول رہا تھا جب برہان سکون سے بولے تھے۔۔۔
پری تو شوک ہوتی دونوں میں پھس چکی تھی۔۔۔
بڑا شوق اسے بلاج کی بیوی بنے گا میں بتاٶ گا بیوی ہوتی کیا ہے ۔۔۔
اس کی وجہ سے دو سال ہو گے مجھ سے بات تک نہیں کر رہے آپ جو دیکھا وہی سچ تھا۔۔
اس کا کردار ا۔۔
چٹاخخخ ۔۔
دفع ہو جاٶ یہاں سے تم میرے بیٹے ہو ہی نہیں سکتے۔۔۔
سمجھ نہیں آتا کہاں کمی ہو گی تمہاری تربیت میں وہ معصوم بچی اگر خاموش ہے تو صرف ہماری وجہ سے ۔۔۔
بلاج غصے سے باہر آتا بول رہا تھا جب برہان آپے سے باہر ہوتے تھپڑ مارتے چیختے بولے تھے۔۔۔
بلاج تھپڑ کھاتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
برہان یہ کیا کیا بچہ ہے ہمارا ا۔۔۔
پری برہان کے پاس آتی پریشان ہوتی بول رہی تھی جب برہان اشارہ کرتے غصہ سے اسٹڈی روم کی طرف چلے گے تھے۔۔۔
————————————————————
بڑا شوق تمہیں میری بیوی بننے گا۔۔۔
بلاج آگ بگولہ ہوتا سیدھا اریج کے روم میں آتا شدید غصے سے بولا تھا۔۔۔
وہ جو باتھ لیے آفس کے لیے تیار ہونے والی تھی جب سامنے بلاج کو انٹر ہوتا دیکھ طنزیہ مسکراہٹ لائ تھی۔۔۔۔
ظاہر سی بات ہے بیوی ہو تمہاری اس بات پر کوئ بھی انکار نہیں کر سکتی یہاں تک میں بھی نہیں۔۔۔
اریج اپنے بالوں کو ٹاول سے خشک کرتی بولی تھی۔۔۔
ہممم لیکن میں تمہیں چھونا بھی پسن۔۔۔
بلاج میں نے پہلے ہی کہا تھا وہی بولا کرو کہ بعد میں خود سے نظریں ملا پاٶ تم۔۔۔
بلاج کا غصہ کسی طور ختم نہیں ہو رہا تھا تبھی دانت پیستے ہوۓ وہ بول رہا تھا جب اریج طش سے چلائ تھی ۔۔
ہاہااہاہاہا کیا ہوا دکھ ہوا۔۔۔
بلاج اس کے قریب آتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔۔
کچھ بھی سن سن سکتی ہو لیکن بلاج میں اپنے کردار کے بارے میں ایک لفظ نہیں سنو گی سمجھ تم ۔۔۔
اگر چپ ہو تو اس وجہ سے تمہارے عشق نے مجھے باندھ کر رکھا ہے جس دن اس قید سے باہر آئ اسی دن تم اریج کو نیو روپ میں دیکھو گے س۔۔۔۔
اریج اسے انگلی دیکھاتی بول رہی تھی جب بلاج اس کی خوبصورت ہونٹ جو باتھ لینے سے گیلے تھے بہکتا ہوا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔
چ۔چھ۔چھوڑو مج۔مجھے بلاج اب کیسے تم میرے ۔پاس آۓ م۔میں وہی ہو بدکردار اریج ۔۔۔
اریج کو سمجھ ہی نہیں آیا تھا کیا ہوا تبھی ہوش میں آتی اسے خود سے دور کرتی چلائ تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ڈر گی تم۔۔۔۔
اریج کے دونوں ہاتھ پکڑتے وہ طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔۔
ڈرتی نہیں ہو تم سے ۔۔
تم اس لیے میرے پاس آے تاکہ یہ بتا سکو میں بیوی تم شوہر ہو۔۔۔
تم میرا صبر مت آزماٶ بلاج ورنہ م۔۔۔۔
اریج سرخ چہرہ لیتی بول رہی تھی جب بلاج نے دوبارہ وہی عمل کیا تھا۔۔۔۔
د۔دفع ہو جاٶ۔
اریج اب زور لگاتی اسے خود سے دور کرتی روتی ہوئ واش روم بھاگ گی تھی ۔۔۔
بلاج کے ہر طنز کو وہ ہنس کر برداشت کر جاتی تھی ۔۔۔
لیکن آج بلاج کی قربت پاتے وہ بکھری تھی ۔۔۔۔
اسے اپنے آپ سے نفرت ہو رہی تھی۔۔۔۔
————————————————————
جنت کی رخصتی کروا دے ہارون ۔۔۔
روحا روم میں آتی جنت اور ہارون پر بمب گرا چکی تھی۔۔۔
لیکن پنک روز ت۔۔۔
آپ تیاری کرے ہارون اگر آپ نے میری بات نہیں مانی میں بابا کے پاس چلی جاٶ گی
۔۔
جنت اب بڑی ہو چکی ہے ویسے بھی سفان اچھا لڑکا ہے ۔۔
ہارون حیران ہوتے بول رہے تھے جب روحا دو ٹوک بولی تھی۔۔۔۔
کوئ نہیں جانتا تھا سفان نے روحا کو کیسے منایا تھا رخصتی کے لیے۔۔۔
تم جانتی ہو وہ کس کا بیٹا ہے ہاشم کا بی۔۔۔
جانتی ہو اچھے سے ضروری نہیں ہوتا ہارون جیسا باپ ہو ویسا بیٹا بھی ہو۔۔۔
سفان نے بتایا ہے روحان اس کا دوست ہے ۔۔۔
بچپن میں بھی میں نے نکاح کروایا تھا ۔۔۔
میں جانتی ہو سب ۔۔
آپ تیاری کرے بس۔۔۔
ہارون پاس آتے بول رہے تھے جب روحا روحان کو اشارہ کرتی اپنی کہتی روم سے باہر چلی گی تھی۔۔۔
بابا ماما ٹھیک کہہ رہی ہے سفان اچھا لڑکا ہے ۔۔۔
روحان بھی مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہممم۔۔
مسٹر سفان تیار رہنا تمہاری زندگی جہنم بنا دو گی۔۔۔
جبکہ دوسری طرف سفان بھی جنت کی زندگی جہنم بنانے کا سوچ رہا تھا۔۔
اب دونوں نہیں جانتے تھے کس کی زندگی جہنم بنے والی ہے ۔۔۔
————————————————————
بابا دیکھے میرے کتنے اچھے مارکس آۓ ہے۔۔۔
پانچ سالہ سفان اپنے باپ کے پاس آتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
میری ہے یہ صرف میری۔۔۔۔
ہاشم سفان کی بات کو اگنور کیے روحا کی پک دیکھتا بول رہا تھا۔۔۔
بابا میں بیٹا ہو آپ کا پلیز میری طرف دیکھے۔۔۔
پانچ سالہ سفان گرین آنکھوں میں آنسو لاتا بولا تھا۔۔
د۔دور دور رہو میری ہے یہ صرف میری جاٶ یہاں سے۔۔۔۔
ہاشم شدید غصے میں آتا اب سفان کو دھکا دیتا بولا تھا۔۔۔
نہیں ہے یہ عورت آپ کی سمجھے نفرت ہے مجھے اس سے نفرت۔۔۔
سفان شدید غصے میں آتا روحا کی پک لیتا بنا دیکھے پھاڑتا بولا تھا۔۔۔
ت۔تم دشمن میرے۔۔۔۔
ہاشم اب پاگلوں کی طرح اب سفان کو بے دردی سے مارتا ہوا پک کے ٹکڑاۓ اٹھاۓ روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
جبکہ زمین پر گرے سفان کے دل میں روحا کے لیے شدید نفرت آئ تھی ۔۔۔۔
————————————————————
بہارے یہ کیا کرنے والی ہو تم ۔۔۔۔
اماں اسے شاہ میر کو اپنے روم میں لے کر جاتے بولی تھی۔۔۔۔
اماں کام کرنے دے۔۔۔
بہارے برا سا منہ بناۓ کہتی اسے اپنے روم میں لے گی تھی۔۔۔۔
آج بہارے نے خود شاہ میر کو اپنے پاس بلایا تھا۔۔۔
وہ تو تھا ہی دیوانہ جلدی سے بھاگتا ہوا آ گیا تھا۔۔۔
ہمممم تو مسٹر شاہ میر کیا کر سکتے میرے لیے۔۔۔
بہارے اس کو بیڈ پر بیٹھاۓ اسے شراب کا گلاس دیتی بولی تھی۔۔۔۔
جو تم کہو بس ایک بار اپنا چہرہ دیکھا دو ۔۔۔
تمہاری تو آنکھیں ہی بہت پیاری ہے ۔۔۔۔
شاہ میر نشے میں جاتا بولا تھا۔۔۔۔
چلو پھر تم مجھے یہ بتاٶ اس رات کیا ہوا تھا جب ملازم۔۔۔۔
بہارے ابھی بول رہی تھی جب شاہ میر اسے بازوں سے پکڑے بیڈ پر گراتا خود اس کے اوپر آیا تھا۔۔۔۔
کیا اتنا کمزور سمجھ لیا تم اس ایڈوکیٹ زینیہ شاہ کی بات مان کر مجھے پھسا رہی تھی۔۔۔۔
بہارے کا رنگ اُڑا تھا آج پھر کسی نے اس چھوا تھا۔۔۔۔
شاہ میر شیطانی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔
چ۔چھوڑو ۔۔۔
بہارے اپنا آپ چھڑواتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
جب شاہ میر بولا تھا۔۔۔
ہاےےے کتنی خوبصورت ہو یہ آنکھیں یہ ہونٹ یہ گال۔۔۔
شاہ میر اس کا ماسک اتارے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا۔۔۔۔
بہارے کو گھن محسوس ہو رہی تھی خود سے کیونکہ شاہ میر کے منہ سے آتی شراب کی بدبو سے وہ خود کو گندہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
آ۔۔۔۔اہہہہ آہہہہہہ۔۔۔۔
اس سے پہلے شاہ میر اس کے چہرے پر جھکتا جب اچانک اندر آتے شانی نے زور سے شاہ میر کو پکڑے زمین پر گرایا تھا۔۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ میری روحی کو ہاتھ لگانے کی ہاتھ توڑ دینا میں نے ۔۔۔
سبحان اب اپنے روپ میں آتا اس کا ہاتھ پکڑاتا توڑتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ک۔کون۔ہ۔۔۔
تیری موت بہت جلد تجھے دو گا۔۔۔
شاہ میر اتنی مار کھاتے غنودگی میں جاتا بول رہا تھا جب سبحان اس کے منہ پر مکہ مارتا ہوا بولا تھا۔۔۔
لے کر جاٶ اسے رکھو ڈائمن کے ٹارچر ہاوس میں جب تک میں نہ کہو چھوڑنا نہیں۔۔۔
سبحان اپنے آدمیوں کو اندر بلاتا بے ہوش پڑے شاہ میر کو آٹھانے کا کہتا بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
ت۔تم ج۔۔۔
روحی ہو میری تم صرف میری سمجھی۔۔۔
پہلی دفعہ بہارے کانپی تھی ۔۔۔
وہ ہمت کرتی بول رہی تھی جب سبحان اسے گردن سے پکڑے اپنے چہرے کے قریب لاتا بولا تھا۔۔۔
اس کی سنہری شیشے جیسی آنکھیں سرخ انگارہ ہو چکی تھی غصے سے۔۔۔
د۔درو رہو میں بہارے ہو تمہاری روحی نہیں ن۔۔۔۔۔
تم روحی ہی ہو چلو میرے ساتھ۔۔۔۔
بہارے اپنا پیسنہ صاف کرتی بول رہی تھی جب سبحان اسے گود میں آٹھاۓ باہر جاتا بولا تھا۔۔۔
چ۔چھوڑو پتہ نہیں کون ہے میں نہیں جانتی ت۔تمہیں ۔۔۔
ہیلو ڈائمن میں آ رہا ہو تم تیار رہنا۔۔۔
بہارے چیخ چلا رہی تھی جبکہ سبحان اسے اگنور کرتا جاتا ہوا کان میں لگے ائیر پیس پر بولا تھا۔۔۔
ت۔تم اپنی ہوس پوری کرنا چا۔۔۔۔
بہارے کو وہ گاڑی میں بیٹھا رہا تھا جب وہ اسے مکہ مارتی بول رہی تھی۔۔۔
تبھی سبحان اس کے لبوں کو قید کرتا اس کی گردن پر بے ہوشی کا انجشکن لگا چکا تھا۔۔۔
جبکہ گود میں اب روحاب کا سر رکھے وہ مسکراتے کار چلا رہا تھا۔۔۔
وہ خوش تھا اسے اپنی روحی مل چکی تھی۔۔۔
