Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 24)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 24)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
“”سبحان
روحاب
“آذان
حجاب اسپشیل ![]()
ارے واہ واہ کیا حسن چھپا کر رکھا گیا ہے کاش تم سب میری بیویاں ہوتی ۔۔۔
شاہ میر اپنے آڈے میں جنت آنیہ روحاب زینیہ ان سب کو رسیوں سے باندھے دیکھ ان کے پاس آتا خباثت سے بولا تھا۔۔۔
چ۔چھوڑ مجھے تجھے میں بتاتی ہو حسن ہوتا کیا ہے ۔۔
روحاب شاہ میر کو دیکھتی غرائ تھی ۔۔۔
اففف تم تو ویسی کی ویسی ہو پتہ چھوٹے ہوتے بھی اتنی پیاری تھی تم ۔۔۔
شاہ میر روحاب کے پاس جاتا بولا تھا۔۔۔
دور رہو گندے انسان کیوں پکڑا ہے ہمیں ۔۔
اس سے پہلے شاہ میر روحاب تک جاتا جب درمیان میں جنت ٹانگ مارتی اسے اس سے دور کرتی غرای تھی۔۔۔
ویسے میں سوچ رہا تھا تم لوگوں کی ماں خوبصورت ہے تبھی تو بیٹیاں اتنی پیاری ہے ۔۔۔
زمین سے اٹھتے شاہ میر اب جنت کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاہہہاہاہااہااییاا اوے چوزے تو نے ہمیں بزدل سمجھ لیا ہے کیا جو باندھ کر رکھا ہے ایک بار چھوڑ ہم تجھے بتاۓ گی اچھے سے کون حیسن ہے زیادہ ۔۔
زینیہ قہقہ لگاتی سکون سے بولی تھی۔۔۔
ویسے وکیل صاحبہ کتنا اچھا ہوتا تم یہ کیس نہ لیتی نہ ہی میں تم سب کو پکڑتا ویسے یہ بلبل کون ہے بڑی ڈری سہمی سی لگتی ہے ۔۔۔
مجھے تو یہ بھی بڑی پسند آئ ہے ۔۔۔۔
شاہ میر زینیہ کا جواب دیتا اب آنیہ کو دیکھتے بولا تھا جو مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔
ہ۔ہمیں چ۔چھوڑ ۔د۔دو پلیز۔۔۔
آنیہ ڈرتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
افففف توبہ ہے ہم سب ڈر نہیں رہی اور تم کیسے کانیپ رہی ہو ڈائمن کی بیوی ہو زرا بہادر بنو ۔۔
جنت اب دانت پیستے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ی۔یہ ڈا۔ڈائمن۔ک ۔کون ہے اب د۔دیکھو بھای ۔ہم۔ہمیں چھوڑ د۔ا۔۔۔۔
چپ کرو یار یہ لڑکی کتنا بولتی ہے میرے کان پک گے ہے ۔۔۔۔
آنیہ روتے ہوۓ پہلے جنت پھر شاہ میر کو دیکھتی منت کرتی بول رہی تھی جب روحاب بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
ارے میرا بچہ چپ کرو ہم سب اسے مل کر مارے گی تم تو چپ کرو بہن ۔۔۔
مسلسل روتی آنیہ سے تنگ آے جنت بولی تھی۔۔۔
ہممم ساری کی پیاری ہے آج کی رات تو مزے ہے ۔۔۔
پہلے ان دونوں لڑکیوں کو میرے روم میں لایا جاۓ ۔۔۔
شاہ میر روحاب اور جنت کی طرف اشارہ کرتا اپنے روم میں جاتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاں ہاں بلاٶ ہم دونوں کو روم میں ۔۔۔
جنت اب شیطانی دماغ لڑاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
جبکہ شاہ میر کا آدمی اب ان دونوں کے ہاتھ کھول رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
افففف بلاج میں حیران ہو ابھی تک تمہیں ڈاکٹر کس نے بنا دیا ہے ۔۔۔
اریج ابھی روم میں آی تھی جب اسے بیک ہگ کیے بلاج نے اس کا گال چوما تھا تبھی وہ جنھجلاتی بولی تھی۔۔۔۔
بس بن گیا ڈاکٹر اب کیا کرو مجھ معصوم کا قصور کوئ نہیں ۔۔
بلاج اس کا دوسرا گال بھی چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
تم معصوم ہو توبہ تم بے شرم ہو مجھ سے بہتر کوئ نہیں جانتا ۔۔
اریج اپنا رخ اس کی طرف کرتی جنھجلاتی بولی تھی ۔۔۔
اب جیسا ہو تمہارا ہی ہو ۔۔
بلاج بے باک ہوتا دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
کیوں ہو ایسے میں جب بھی کوشش کرتی ہو غصہ کرو تم یہ بے شرموں والی شکل بنا کر مجھے مانا لیتے ہو ۔۔۔
اریج اپنے لب اس کے گال پر رکھتی بولی تھی۔۔۔۔
اہہہہ اب اتنا بھی بے شرم نہیں میں تم بدنام کر رہی ہو میں تو بڑا شریف ہو ۔۔
بلاج اریج کو بیڈ پر دھکا دیتا شرارتی انداز سے بولا تھا۔۔۔
ہاں تم شریف ہو توبہ توبہ اپنی مثال دو کوئ میں نہیں مانتی ۔۔۔
اریج لیٹتے اسے گھورتے بولی تھی جو اس پر جھکا ہوا تھا۔۔۔
دیکھو مجھے یہ بھی معلوم نہیں کس ہوتی کیسے ہے ۔۔۔
بلاج ویسے ہی دیکھتا اس کی آنکھوں کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
اہہہہ اتنے بھی ننھے کاکے نہیں تم ا۔۔۔
ارے کاکوں سے یاد آیا اب ہمارا کاکا بھی آنا چاہے کیا کہتی ہو تم ۔۔۔
اریج ایک دم کروٹ چینج کیے اس کے اوپر آتی طنز کرتی بول رہی تھی جب بلاج کچھ سوچتا بولا تھا۔۔۔
توبہ تم واقعی بے شرم ہو مجھے معاف کرو ۔۔۔
اریج اپنا سرخ چہرہ لیتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
اچھا سنو کاکی لے آتے ہے ۔۔۔۔
روم سے باہر جاتی اریج کو آواز دیتے بلاج آنکھ ونک کرتا بولا تھا۔۔۔
جب اریج نے اپنا جوتا اتار کر اسے مارا تھا۔۔۔۔
ہاے ہاے معصوم شوہر پر تشدید ہو گیا کوئ تو بچاۓ۔۔۔
اب بلاج کی اکیلے روم میں دہائیاں تھی ۔۔۔
ہاہااہاہاہااہاہاہا۔۔۔
جبکہ روم سے باہر کھڑی اریج کا قہقہ گونجا تھا اب ۔۔۔
———————————————————-
حجاب تم کدھر جا رہی ہو اب ۔۔۔
علیزے حجاب کا سامان دیکھتی حیران ہوتی بولی تھی۔۔۔
ماما اپنے گھر جا رہی میں ۔۔
حجاب سکون سے بولی تھی۔۔۔
لیکن بیٹا تم ایسے کیسے جا سکتی ہو خودی کہہ تھا ک۔۔
اففف ماما خودی آئ تھی تو خودی واپس جاٶ گی ویسے بھی آذان اپنی ہر غلطی کی معافی مانگ چکا ہے مجھے ایسے اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔
حجاب علیزے کے گلے لگتی بولی تھی ۔۔۔
کچھ دن رہ لیتی ا۔۔۔
ماما آپ ہی روز کہتی تھی ابھی تک گی نہیں اب پھر رہ لو میرا شوہر ویٹ کر رہا ہے آپ اپنے شوہر کے پاس جاۓ ۔۔۔
علیزے بول رہی تھی جب حجاب انہیں گلے لگاتی سامنے سے آتے بابر کو دیکھتے شوخ ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ارے میری بی پی لو کی میشن کے بارے میں کچھ غلط مت کہنا ۔۔۔
مارو گا۔۔۔
بابر بھی علیزے کو کمر سے پکڑتے شوخ ہوتے بولے تھے۔۔۔
بابا میری یہ مجال کرنل کی بیوی کو تنگ کرو بس تبھی جا رہی میں اپنے گھر۔۔۔
حجاب مسکراتی ان کے سینے سے لگتی بولی تھی۔۔۔۔
توبہ بچے کم تھے آپ بھی سٹارٹ ہو گے۔۔۔
علیزے لال چہرہ لے بولی تھی۔۔
میرا بیٹا خوش ہو کر جاۓ ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔
بابر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
حجاب دونوں کی دعا لیتی اپنے گھر چلی گی تھی۔۔۔
————————————————————
تمہیں بڑا شوق ہے رومینس کا ہم تمہیں سکھاتی ہے کیسے کرتے ہے ۔۔۔
جنت زینیہ روحاب آنیہ کو شاہ میر اپنے روم میں لا چکا تھا جب جنت اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کرتی غرای تھی۔۔۔
اتنا بھی کمزور سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی زیان شاہ کی بیٹی ہو میں ۔۔
زینیہ روز سے لات اس کے پیٹ میں مارتی فخر سے بولی تھی۔۔۔۔
چ۔چھوڑو کیا طریقہ ہے یہ ۔۔۔
شاہ میر ان سب کی قابو میں آتے غصے سے غرایا تھا۔۔۔۔
کیوں بزدل ہو ابھی تو ہم نے کچھ کیا ہی نہیں ایک تو ہمارے شوہر کیوں نہیں آ رہے ۔۔۔
روحاب اسے گردن سے دبوچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
روحاب کے چہرے پر ابھی بھی ماسک لگا ہوا تھا۔۔۔۔
پ۔پلیز مت مارو اس بچارے کو یہ بھای ہمیں چھوڑ دے گ۔۔۔۔
ارے میرا بچہ کیوں رو رہا ہے چپ کر جاٶ دیکھنا ابھی اس کی حالت۔۔۔
آنیہ روتے ہوۓ بول رہی تھی جب جنت اس کے پاس آتی اس کا گال چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
ا۔س۔اسے کہو یہ چھوڑ دے ہمیں۔۔
آنیہ ابھی بھی روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
یہ چھوڑے کا سکون سے ہمیں اب دیکھنا۔۔۔۔
زینیہ نے یہ کہتے ہی پاس پڑا ڈنڈا اٹھا کر شاہ میر کے سر پر مارتی بولی تھی۔۔۔
اب وہ تینوں اسے مارنا شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔
————————————————————
م۔معاف ک۔کر دو میں ان۔جنگلیوں کو۔اٹھا لایا ہو م۔مجھے معاف کر دو ۔۔۔
مسلسل ان تینوں سے مار کھاتے خون میں لت پت ہوتا شاہ میر اب منت کرتا بولا تھا۔۔۔۔
ہارون خان کی بیٹی ہو میں تم مجھے ابھی جانتے نہیں
ہو۔۔
جنت ایک دفعہ پھر پھولے سانس سے شاہ میر کی کمر پر لات مارتی غرای تھی۔۔۔
جب روحاب نے حیریت سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
ج۔جنت آپو۔۔۔
روحاب نے ہکلاتے ہوۓ اس کا نام آہستہ سے پکارہ تھا۔۔۔۔
چل اب جیل چل ہمارے ساتھ ۔۔
زینیہ اس کی پھٹی شرٹ سے پکڑتے اٹھاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
م۔مجھے۔پھانسی ٹھیک تھی ی۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔
شاہ میر اٹھتا بولتا ان تینوں کو اب دھکا دیتا روم سے باہر بھاگا تھا ۔۔۔
جب سامنے کھڑے عمار روحان سبحان سفان سے ٹکڑایا تھا۔۔۔۔
کہتے ہے جب گیڈر کی موت آتی ہے وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے ۔۔۔
ایسی حالت سے اچھا تھا سکون سے پھانسی لیتے۔۔۔
سبحان اسے کالر سے پکڑتے غرایا تھا۔۔۔۔
م۔مجھے پھانسی منظور ہے یہ پوری جنگلی بلیاں ہے ۔۔۔
شاہ میر ابھی بھی خوف زردہ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
لے جاٶ اسے ۔۔۔
عمار اسے پکڑتا پولیس کے حوالے کرتا بولا تھا۔۔۔
تم ٹھیک ہو باربی اور یہ رو کیوں رہی ہو اتنا۔۔۔
روحان جلدی سے آنیہ کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔
ہ۔ہیر۔ہیرو یہ اچھا آدمی نہیں تھا۔۔۔۔
آنیہ اس کے سینے سے لگی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
واہ ہ شیرنی کیا حالت کی ہے اس کی۔۔۔
عمار سفان سبحان جنت زینیہ روحاب کی طرف دیکھتے بولے تھے۔۔۔۔
اتنی بھی بزدل ن۔۔۔
اہہہ۔۔اہہہہ۔۔
جنت مسکراتی بول رہی تھی جب ایک گولی اس کے شولڈر سے چھوتی گزاری تھی۔۔۔۔
تم چاہتے ہو تمہاری موت ہمارے ہاتھوں آے۔۔۔
سبحان اپنی گن کا رخ شاہ میر کی طرف کرتا بولا تھا جو پولیس سے گن لیے جنت پر شوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
بہت مارا اس لڑکی نے بلکہ اس لڑکی نے بھی مارا میرا خیال ہے یہ وہی روحاب ہے جو ڈیڈ نے اغواہ کی تھی اب تو یہ جان سے جاۓ گی ۔۔۔
شاہ میر جلدی سے روحاب کو قابو کیے اس کی گردن پر گن رکھے بولا تھا ۔۔۔
خبردار اگر میری روحی کو کچھ ہوا ڈائمن کچھ کرو روحی میری بہن ۔۔
جنت یہ سنتے اب شدید غصے میں روتی چلائ تھی جس بہن کو بچانے کے لیے اس نے اتنے سال لگاۓ ڈھونڈنے میں آج وہ سامنے تھی۔۔۔
ویسے آج بھی نرم ملائم ہ۔۔۔۔
شاہ میر اپنی گن سے گردن سے نیچے چھوتا بول رہا تھا جب سبحان اپنی سائلینٹ لگی گن سے گولی شوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
جو سیدھی شاہ میر کے منہ کے اندر گی تھی۔۔۔
چچچچ چچچچ افسوس تجھے ایسی ہی موت دینی چاہے تھے۔۔۔۔
اب روحان عمار سفان بھی اس پر گولیوں کی برسات کرتے سکون سے بولے تھے۔۔۔۔
جو اب زمین پر گرا اپنی زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔۔۔۔
روحی میری ب۔۔۔۔
روکو اسے کوئ۔۔
جنت جلدی سے اس کے پاس جاتی بول رہی تھی جب ڈر سے روحاب وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔
تبھی وہ چلائ تھی ۔۔
ریلکس جنت شانی دیکھ لے گا آٶ گھر چلے۔۔۔۔
سبحان اس کے پیچھے بھاگا تھا جب روحان جنت کو سینے سے لگاۓ نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
اففف آج لیٹ ہو گیا میں شجرت کے کپڑے بھی چینج کروانے میں نے ۔۔۔
آذان اپنے آفس سے لیٹ روم میں آتا خود سے بولا تھا ۔۔۔
وہ خودی شجرت کو ہنیڈل کرتا تھا۔۔۔
ماما کی جان ماما نے بھی اپنی بیٹی کو بہت مس کیا ہاں پتہ تمہارے بابا نہیں اچھے ماما اچھی ہے۔۔
آذان نے جیسے ہی اندر جاتے دیکھا تو حیران رہ گیا تھا حجاب شجرت کو گود میں لیے چکر لگاتی بول رہی تھی جبکہ شجرت نیند میں جا رہی تھی۔۔۔۔
ظاہر سی بات ہے اب ماما گھر نہیں تھی تو بابا گندے تو ہو گے۔۔۔
آذان خوش ہوتا اسے بیک ہگ کیے اس کا گال چومتے بولا تھا۔۔۔۔
دور رہو اپنی بیٹی کے لیے آی ہو میں۔۔
حجاب اسے نکھرا دیکھاتی کوڈ میں لیٹاتی بولی تھی۔۔۔۔
لیکن میں تو آج اپنی بیوی سے پیار کرنا چاہتا ہو بہت سارا۔۔۔
آذان اب اسے بیڈ پر دھکا دیتے خود اس پر حاوی ہوتا بولا تھا۔۔۔
م۔میں تمہاری محبت نہیں ہو جو تم پیار ک۔۔۔
ہاں تو تم میری محبت بلکل نہیں ہو ۔۔۔
حجاب گھبراتی ہوئ اسے دیکھتی بول رہی تھی۔۔
جب آذان اس کے گال پر لب رکھتے بولا تھا۔۔۔
حجاب کا دل ٹوٹا تھا اس کی بات سن کر۔۔۔۔
محبت وہ ہوتی جو بار بار ہو ۔۔۔
مجھے تم سے محبت نہیں عشق ہے مس حجاب ایسا عشق جو ہمیشہ تم سے رہے گا مجھے ۔۔۔
میری سانسوں کو ضروری ہو گی ہو تم۔۔۔
آذان اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کیے اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے اپنا اظہارے محبت بیان کیا تھا۔۔۔۔
ک۔کیا سچی آذان تمہیں م۔۔۔
ہاں میری جان مجھے جیسے ایک بیٹی کے باپ کو اپنی گولو مولو سی حجاب آذان شاہ سے عشق ہے ۔۔۔
کیا تم مجھے قبول کرو گی کہ میں تمہیں بتا سکو تم کتنی عزیز ہو مجھے۔۔۔
حجاب شوک ہوتی پوچھ رہی تھی جب آذان نرمی سے اس کا ناک چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
م۔مجھے بھی عشق ہے تم سے ۔۔۔
حجاب نے بھی شرماتے ہوۓ اعتراف کیا تھا۔۔۔۔
اہہہ شکریہ میری جان میں کبھی تمہیں درد نہیں دو گا۔۔۔
آذان نرمی سے اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیتا بولا تھا۔۔۔۔
اب وہ آہستہ آہستہ اپنے عشق کا
رنگ حجاب کے جسم پر چھوڑ رہا تھا۔۔۔
جس پر کبھی وہ گھبراتی تو کبھی شرماتی تھی۔۔۔۔
———————————————————
روحی روحی میری جا۔۔۔۔
دور رہو نہیں ہو میں تمہاری روحی میں وہ گندی والی بہارے ہو تم نے سنا وہ شاہ میر نے کیا کہا تھا۔۔۔۔
روحاب ابھی گھر آی تھی جب پیچھے پیچھے سبحان پریشان ہوتا آتا بول رہا تھا جب روحاب غصے سے جاگ گراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
ت۔تم اچھی لڑکی ہو میں شوہر ہو میں جانتا ہو تمہیں زرا گندی ل۔۔۔
ہو میں گندی لڑکی ان سب کا لمس میرے جسم پر آج بھی ہے وحشت ہوتی ہے وہ نوچ رہے مجھے۔۔۔
سبحان قریب جاتا بول رہا تھا جب روحاب پھر چلاتی بولی تھی۔۔۔۔
ت۔تم جانتے ہو اس انسان نے یہاں میرے آگ ل۔۔۔
بسسسس بسسسسس بہت ہو گیا جب تک میں تمہارے قریب نہیں آو گا تم نہیں مانو گی کہ تم اچھی لڑکی تھی اور آج بھی ہو ۔۔۔
روحاب اپنے کپڑے نوچتی بول رہی تھی جب آپے سے باہر ہوتا سبحان اسے کندھوں سے پکڑتے بولا تھا۔۔۔
د۔دور۔رہو تم ب۔بھی مج۔مجھے یوز ک کر کے چھوڑ د۔۔۔
روحاب اب روتی اسے خود سے دور کرتی بول رہی تھی جب سبحان نے نرمی سے اس کی گردن پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔
تم بہت پیاری ہو جان۔۔۔
سبحان اس کی خوشبو میں مدہوش ہوتا اب اس کے کان کی لو کو چومتا بولا تھا۔۔۔
م۔میں اچھی نہیں و۔۔۔
روحاب ابھی بھی آنسو بہاتے روتی بول رہی تھی جب سبحان نے اس کے دونوں ہاتھ قابو میں کرتے اسے بیڈ پر گرایا تھا ۔۔۔
بہت حیسن ہو ۔۔۔
سبحان اس کی شرٹ اپنے دانتوں سے گردن سے پھاڑتا بولا تھا۔۔۔۔
ا۔انہوں نے مج۔مجھے گندہ ک۔۔۔
سبحان نے اب لائٹ آف کیے اس کی شرٹ اتارتے بیوٹی بون پر ہونٹ رکھے تھے جب روحاب ترپٹتی ہوئ بول رہی تھی جب سبحان نے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے تھے۔۔۔
میرا عشق ہو تم چاہے جیسی بھی سہی میں اپنانے کو تیار ہو روحی۔۔۔۔
سبحان اب اپنا لمس اس کے زخمی جسم پر چھوڑتا سرگوشیاں کرتا بولا تھا۔۔۔۔
روحاب بھی سکون میں آتی اب خودسپردگی دیتی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی۔۔۔۔
سبحان نے بالآخر اپنے عشق کو ڈھونڈ کر اپنا ہی لیا تھا ۔۔۔۔
دونوں ہی اب ایک دوسرے میں مگن اپنی زندگی کی شروعات کر چکے تھے۔۔۔۔
