Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 8)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 8)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
اہہہہ۔اہہہہ کون ہے یہ جانور۔۔۔۔
جنت کھڑی تھی جب کوئ کھڑکی سے اندر آتا اسے پیچھے سے پکڑا تھا تبھی جنت جھٹکا کھاتی اسے گراتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاہاہااہاہاہ بڑی ہمت والی ہو مس جنت ۔۔۔۔
گرنے والا اب اٹھ کر کھڑا ہوتا جنت کو کمر سے پکڑے دیوار سے پن کرتا بولا تھا۔۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔
کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی میں اسے صرف ماسک لگے چہرے پر گرین آنکھیں دیکھائ دے رہی تھی ۔۔۔
دشمنننننن۔۔۔۔
سفان خان مسکراہٹ لاۓ اس کے دونوں بازوں اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے اس کی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے لاک کیے اب وہ ایک ہاتھ سے جنت کی گردن سہلاتا بولا تھا۔۔۔۔
جنت کی سانسیں تیز ہوئ تھی اپنے اتنے قریب انجان لڑکے کو دیکھ۔۔۔۔
سفان کا بھاری سفید ہاتھ اب جنت کی شرٹ کے اندر جا رہا تھا۔۔۔۔
ب۔بابا۔۔۔۔۔
جنت بولنے والی تھی جب اس کے لبوں پر سفان کا بھاری ہاتھ آیا تھا۔۔۔۔
جنت بے بس ہوتی کھڑی تھی اب ۔۔۔
اہہہہ۔۔۔
جنت ہارون خان نام ہے مسٹر دشمن اتنی جلدی ہار نہیں مانتی۔۔
اس سے پہلے سفان کا ہاتھ اس کی شرٹ کے اندر جاتا جب جنت اس کے ہاتھ پر کاٹتی ہوئ اس کی گرفت ڈھیلی پڑی دیکھ زور سے ٹانگ سفان کی ٹانگوں کے درمیان ماری تھی۔۔۔۔
سفان زمین پر گرا اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔
ہااہہاہہاہاا کمزور جن۔۔۔۔
جنت بیٹا ۔۔۔
سفان اٹھتا دوبارہ اس کے قریب جاتا بولنے والا تھا جب اسے باہر ہارون کی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔۔
بہت جلد ملے گے مس جنت ۔۔۔
سفان ایک منٹ کے لیے اپنا ماسک اتارے جنت کو کمر سے پکڑے اس کی گردن پر دانت گاڑتے سرگوشی کرتا جیسے آیا تھا ویسے چلا گیا تھا۔۔۔۔
اہہہ جنگلی۔۔۔
جنت جلدی سے کھڑکی کے پاس آتی بولی تھی ۔۔
تب تک وہ جا چکا تھا۔۔۔
————————————————————
جی بابا۔۔۔
اپنی حالت ٹھیک کرتی جنت ڈور اوپن کرتی بولی تھی اسی وقت لائٹ آئ تھی۔۔۔
بابا کی جان نے کھانا کیوں نہیں کھایا ابھی تک۔۔
ہارون اسے گلے لگاتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔
ان کا پیار پاتے جنت کا سارا غصہ اُڑ چکا تھا تبھی پرسکون ہوتی انہیں ہگ کر چکی تھی۔۔۔
وہ پنک روز کھلاۓ گی مجھے۔۔۔۔
جنت روم میں آتی روحا کو دیکھتی شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔۔
بلکل نہیں پنک روز میری ہے تم بابا سے کھا لو۔۔۔
روحان روم میں انٹر ہوتا بولا تھا۔۔۔
جنت جانتی تھی سب اس کے لیے یہ سب کیا اور کیوں کر رہے تھے۔۔۔
یار یہ غلط ہے تم دونوں میری ہی پنک روز پر نظر لگا کر بیٹھے ہو مجھ معصوم پر ترس کھاٶ۔۔۔
ہارون روحا کو کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ بولے تھے۔۔۔
شرم کر لے ہارون بچے بڑے ہو گے لیکن آپ افففف توبہ جنت تم کھانا کھا لینا۔۔۔۔
روحا سرخ چہرہ لیتی ہارون کے سینے پر مکہ مارتی جنت کو کہتی باہر چلی گی تھی۔۔۔۔
لو بابا اب تو پنک روز پکی میری آپ سے ناراض ہو گی ۔۔۔
روحان مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
منا لو گا تم یہی پر رہو ۔انہہ۔۔۔
ہارون جلدی سے روم سے باہر جاتے منہ بناتے بولے تھے۔۔۔
آٶ کھانا کھا لو۔۔۔
روحان جنت کو بالوں سے کھیچتا ہوا بولا تھا۔۔۔
وہ مل جاۓ گی نہ روحان۔۔۔
اچانک جنت اس کے سینے سے لگتی بولی تھی۔۔۔
بہت جلد میری جان ہم سب ڈھونڈ رہے ہے ۔۔۔
روحان عقیدت سے اس کا ماتھا چومتا بولا تھا۔۔۔
ہمممم۔۔۔
جنت گہری سوچ میں ڈوبی تھی ۔۔
———————————————————–
آذان تمہارا بھی فرض ہے کچھ شجرت کو ہنیڈل کر لیا کرو۔۔۔
حجاب شجرت کو آذان کی گود میں ڈالتی بولی تھی۔۔۔
جبکہ وہ اسی کے قریب بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔
یار بزی ہوتا اچھا چلو میری بیٹی بتاۓ گی ماما کیسی ہے ۔۔۔
آذان اپنا لیپ ٹاپ سائیڈ پر کرتا شجرت کو پکڑتا بولا تھا۔۔۔
جبکہ حجاب یک ٹک اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
حجاب نے ہمیشہ آذان سے محبت کی تھی ۔۔۔
لیکن آذان نے دو سال پہلے اپنی کلاس فیلو علیشبہ سے پسند سے شادی کی تھی ۔۔۔
سب نے اس بات پر اعتراض کیا تھا سواۓ حجاب کے وہ سمجھتی تھی اس جیسی موٹی لڑکی سے کون شادی کر سکتا ہے تبھی وہ سب بھلاۓ آذان کی شادی میں شریک ہوئ تھی ۔۔۔
علیشبہ ایک نرم دل لڑکی تھی اس کی زیادہ حجاب سے بنی تھی ۔۔۔
آذان اپنی لائف میں بہت خوش تھا۔۔
لیکن ایک دن علیشبہ کو پتہ چلا تھا وہ کینسر کی مرئضہ بن چکی ہے ۔۔۔۔
جس دن اس نے اپنی بیٹی کو جنم دیا تھا اسی دن اس نے اپنی مرضی سے سب سے اجازت لے کر حجاب اور آذان کا نکاح کروا دیا تھا۔۔۔
وہ جانتی تھی حجاب سے زیارہ کوئ بھی شجرت کا خیال نہیں رکھ سکے گی ۔۔۔
حجاب کو ننھی سی شجرت بہت پسند آئ تھی وہ خودی سارا دن اسے ہینڈل کرتی تھی ۔۔۔
دن با دن علیشبہ اپنی زندگی کی جنگ ہار رہی تھی ۔۔۔
آذان کو
صرف علیشبہ کے سوا کچھ دیکھائ نہیں دیتا تھا۔۔
تبھی کچھ ماہ پہلے وہ اس دنیا سے چلی گی تھی ۔۔۔
سب گھر والوں کے کہنے پر آذان راضی ہو گیا تھا حجاب کو گھر لانے پر کیونکہ شجرت اس کے بنا ایک پل نہیں رہتی تھی۔۔۔
آذان کے حساب سے انسان کی زندگی میں صرف ایک بار محبت ہوتی ہے ۔۔
بابا کی جان بتاۓ ماما کیسی ہے ۔۔۔
شجرت تھی تو عیلشبہ کی بیٹی لیکن وہ کاربن کاپی حجاب جیسی تھی گول موٹی سی ۔۔۔
م۔ماما۔پ۔پیاری۔۔۔
شجرت اپنے ڈمپل شو کرواتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہااہاہا میرا بیٹا۔۔۔
حجاب آذان کی رونی شکل دیکھتی قہقہ لگاتی شجرت کا گال چومتی بولی تھی۔۔۔
مطلب بابا کو ٹائم دینا پڑے گا اپنی بیٹی کو ۔۔۔
آذان بھی شجرت کا گال چومتا بولا تھا۔۔۔
اچھا سنو شجرت کو انجکشن لگوانا ہے تم ہمارے ساتھ جانا۔۔۔
حجاب اسے ہی دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ضرور تم مجھے بتا دینا ۔۔
آذان شجرت سے کھیلتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
گہرے کالے بال جو ماتھے پر آ رہے تھے۔۔
کالی گہری آنکھیں ہلکی شیو کسرتی جسم بھرپور پرسنلیٹی کا مالک آذان حجاب کا دل دھڑکانے پر تیار تھا۔۔۔
بہتتتت پیارے ہو ت۔۔۔۔
آذان جو شجرت سے کھیل رہا تھا جب حجاب اس کے گال پر لب رکھتی بول رہی تھی جب آذان نے اچانک اپنا چہرہ اس کی طرف کیا تھا تبھی حجاب کے لب اس کے گال کے بجاۓ لبوں پر آۓ تھے ۔۔۔۔
حجاب جھٹکا کھاتی پیچھے ہونے والی تھی جب
اپنے لبوں پر نرم گرم لمس پاتے آذان نے حجاب کو کمر سے پکڑے اپنے قریب کیے آنکھیں بند کیے اس کی قربت محسوس کی تھی۔۔
جیسے ہی آذان کو سمجھ آئ وہ کیا کر چکا ہے تبھی اسے چھوڑا تھا۔۔۔
حجاب سرخ چہرہ لیتی جان چھڑواتی باہر کو بھاگی تھی۔۔۔
آذان بھی شرمندہ ہوتا شجرت کی طرف متوجہ ہوا تھا جو سو چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
ارے میری جان کیا کر رہی ہے۔۔۔
پری صبح ناشتہ بنانے میں بزی تھی جب برہان نے انہیں کمر سے پکڑتے کہا تھا۔۔۔
شرم کرے برہان بچے بڑے ہو گے ۔۔۔
پری سرخ چہرہ لیتی انہیں پیچھے کرتی بولی تھی ۔۔۔
کون ہے گھر تمہارا وہ نالائق بیٹا ڈاکٹر بلاج ہاسپٹل ہوتا ہے اور میری شہزادی بیٹی پلوشہ سو رہی ہے ابھی ۔۔
برہان ان کے گال پر لب رکھتے بولے تھے۔۔۔
نالائق نہیں میرا بیٹا اتنا بڑا ڈاکٹر ہے انہہ آپ خود نکمے ہے۔۔۔
پری برا مانتی بولی تھی ۔۔۔
نالائق تو ہے جو اس نے اریج کے ساتھ کیا اچھا نہیں کیا۔۔۔
برہان سیریس ہوتے بولے تھے۔۔۔
برہان وہ ایک غلط فہمی ہے آپ اسے سمجھاۓ وہ سمجھ جاۓ گا بچہ ہے ۔۔۔
پری بھی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
کہاں بچہ ہے مجھ سے قد بڑا ہے اس کا خیر میں اپنی بیٹی سے ملنے جا رہا تم آنا چاہو گی تو آ جاٶ۔۔۔
برہان بات چینج کیے کھڑے ہوتے بولے تھے۔۔۔
آپ جاۓ میں پلوشہ کو دیکھ لو۔۔۔
پری نرمی سے برہان کے ماتھے پر لب رکھتی جلدی سے وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
ہااہاا اب کون بے شرم تھا۔۔۔
برہان قہقہ لگاتے بولے تھے۔۔
————————————————————
مورننگ بیٹا ۔۔۔
اریج وک سے واپس آئ تھی جب سامنے ہال میں بیٹھے آسامہ کے ساتھ بیٹھے برہان نے مسکراتے کہا تھا۔۔۔
ارے بابا آپ صبح صبح آ گے کیا ہوا پری ماما نے گھر سے نکال دیا کیا۔۔۔
اریج خوشی سے چیختی برہان کے سینے لگی شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔۔
ہاے بیٹا کیا بتاٶ بوڑھا ہو گیا تمہاری ماما نے نکال دیا سوچا اپنی پیاری سی بیٹی کے گھر چلا جاٶ ۔۔
برہان اریج کی گرے آنکھوں میں دیکھتے بولے تھے۔۔۔
غلط بات بیٹا بابا ہے تمہارے ۔۔۔
عمارہ کافی لاتی اریج کو ڈانٹا تھا۔۔۔
چھوڑو چھوٹی یہ بتاٶ میں اپنی بیٹی سے کچھ مانگنے آیا ہو۔۔۔
برہان عمارہ کو جواب دیتے اب اریج کی طرف دیکھتے بولے تھے۔۔۔
یار بہو ہے تمہاری ا۔۔۔۔
بہو بعد میں بیٹی ہے میری یہ ۔۔۔۔
آسامہ مسکراتے بول رہے تھے جب برہان بات کاٹتے بولے تھے۔۔۔
جی بابا بولے۔۔
اریج ان کا ہاتھ پکڑتی بولی تھی۔۔۔
دیکھو صاف بات ہے اب تو بوڑھا ہو گیا میں بلاج تو اپنا ہاسپٹل ہینڈل کرتا ہے اس کے پاس ٹائم نہیں ہے ۔۔۔
میرا بزنس بھی میرا مینجر ہنیڈل کرتا ہے پر میں چاہتا ہو اب وہ تم ہنیڈل کرو بلکہ وہ تمہارا ہی بزنس ہے خودی دیکھ لو۔۔۔
برہان نے تفصیل سے ساری بات بتائ تھی ۔۔
ڈیڈ آپ کیا کہتے ہے ۔۔۔
اریج نے الجھی نظروں سے آسامہ کی طرف دیکھتے پوچھا تھا۔۔۔
بیٹا برہان ٹھیک کہہ رہا ویسے بھی تم گھر فری رہتی ہو اس طرح بزی رہو گی۔۔۔۔
اسامہ پرسکون ہوتے بولے تھے۔۔۔
جی ٹھیک ہے بابا میں آ جاٶ گی پہلے زرا ریس لگاۓ ماما کے پاس کون جاتا ہے ۔۔۔
اریج حامی بھرتی اب شرارتی انداز سے اٹھ کر بھاگتی بولی تھی۔۔۔
میں پہلے جاٶ گا تمہاری ماما کے پاس۔۔۔۔
برہان بھی کافی کا مگن چھوڑے باہر اس کے پیچھے جاتے بولے تھے۔۔۔۔
اسامہ اور عمارہ مسکراۓ تھے اریج کی حرکت پر ۔۔۔
————————————————————
ہاے کتنا خوبصورت آفس ہے روحان کا ۔۔۔
پلوشہ آج تیار ہوئ روحان کے آفس کے باہر کھڑی اوپر منہ اٹھاۓ شوک ہوتی بولی تھی۔۔
جہاں شیشے کی بنی خوبصورت بڑی بلڈنگ کے اوپر ڈائمنڈز سے آر ایج کے ڈائمنڈ ائمپائر لکھا تھا۔۔۔۔
آہستہ آہستہ وہ اندر انٹر ہوتی منہ کھولے سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جہاں ایسے لڑکیاں لڑکے فاسٹ کام کر رہے تھے جیسے ہوا کا کوئ جھوکا ہو۔۔۔
میں آپ کو جاب سے نہیں نکال رہا بس یہ کہو گا آپ میرے آفس کے اچھے آدمی ہے آپ گھر جاۓ سلیری آپ کو ویسے مل جایا کرے گی۔۔۔۔
بس میرے سامنے مت آنا۔۔۔
پلوشہ جیسے ہی روحان کے آفس میں انٹر ہوئ اسے اس کی بھاری خوبصورت آواز سنائ دی تھی ۔۔۔
س۔سر م۔میری بیوی آپ ۔کی ماما سے۔سو۔ر۔ی۔۔۔
سوری نہیں چاہے میری ماما کو آپ میرے بابا کی ایج کے ہے تبھی سزا نہیں دے رہا ورنہ میری ماما کے ایک ایک آنسو کا بدلہ میں آپ کی سانس نکال کر لے سکتا ہو اب جاۓ ٹائم ویسٹ مت کرے۔۔۔۔
مینجر ڈرتا بول رہا تھا جب روحان اپنی ڈراک براٶن آنکھوں میں سردپن لاۓ بولا تھا۔۔۔
ج۔جی ۔۔
وہ سر جھکاۓ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
بولو پلوشہ کیوں آئ ہو یہاں ۔۔۔
پلوشہ منہ کھولے کھڑی تھی جب روحان کی آواز سنتی ہوش میں آی تھی۔۔۔
رائیل بلیو کلر کا تھری پیس پہنے بھورے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بڑی بڑی ڈراک براٶن آنکھیں آئ برو پر چمکتا ڈائمنڈ بھوری ہلکی شیو۔ کسرتی جسم عنابی ہونٹ جس میں دبی سگریٹ وجہہ پرسنلٹی لیے وہ اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔
و۔وہ۔۔۔
جلدی بات کرو مجھے جلدی ہے۔۔۔
پلوشہ اس کے کورٹ پر لگے ڈائمنڈ پروچ کو دیکھتی بول رہی تھی جب وہ بولا۔۔۔
شادی کر لو مجھ سے میں جانتی ہو عین سے عشق کرتے ہو لیکن صرف نکاح کر لو میں کچھ نہیں کہو گی بابا کو جیسے ہی کوئ ملے گا بزنس ہنیڈل کرنے والا کچھ ماہ بعد مجھے طلاق دے دینا۔۔۔
مجھے صرف نام چاہے تم جانتے ہو یہ بزنس اسٹڈی مجھے بلکل نہیں پسند ۔۔۔
جان بچانے کے لیے مجھے یہی راستہ ملا ہے ۔۔۔
مجھے کچھ نہیں چاہے اپنا حق بھی نہیں بس شادی کر لو پ۔۔۔۔
پانی پی لو ۔۔۔
پلوشہ کرسی پر بیٹھتی ایک ہی سانس میں بولنا شروع ہو چکی تھی ۔۔۔
جیسے اسے دوبارہ کبھی موقع نہیں ملے گا بولنے کا تبھی روحان اپنی مسکراہٹ روکے اسے پانی کا گلاس دیتا بولا تھا۔۔۔۔
شکریہ روحان۔۔۔
پلوشہ پانی پیتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
پہلی بات باربی سے میں عشق کرتا ہو میرا عشق اس کی امانت ہے میں اس میں خیانت نہیں کر سکتا۔۔۔
شادی سے انکار ہے ہاں بزنس کی بات ہے تو میں خود ماموں جان سے بات کرتا ہو۔۔۔
دوسری بات تم بہت خوبصورت ہو لیکن تم جنت آپو کی طرح میری بہن ہو ۔۔۔
میں نے ہمیشہ ایسی کی عزت دی ہے میری لائف میں پہلی اور آخری لڑکی آنیہ روحان خان ہے ۔۔۔
روحان تحمل سے بولا تھا جب پلوشہ سب سنتی اداس ہوئ تھی۔۔۔۔
دیکھو نکاح کر لو میں کچھ نہیں ک۔۔۔۔
ٹائم ختم ہوا جاٶ یہاں سے اور ہاں ماموں جان سے بات کر لو گا۔۔۔
پلوشہ رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب وہ سکون سے بات کاٹتا بولا تھا۔۔۔
بھاڑ میں جاٶ تم ایسے بھائ ہ۔۔۔۔
تم پہلے جاٶ میں بعد میں آٶ گا وہ رہا دروازہ۔۔۔۔۔
پلوشہ ٹیبل پر پاٶں مارتی اٹھتی بول رہی تھی جب روحان پھر سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
———————————————————–
ہممممم سوچ تو اچھی ہے اگر میری سن لو تو اچھی بات ہے ۔۔۔
پلوشہ اب جنت کے پاس اس کے سنٹر آتی سب بتا چکی تھی جب وہ سوچتی بولی ۔۔۔
بول یار میرا تو کھانا بھی حرام ہوا ہے یہی سوچ کر بابا یہ ظلم مجھ پر کرے گے۔۔۔
پلوشہ جلدی بولی تھی۔۔۔
شاہ زین سے ش۔۔۔
وہ کالا بندر کہی کا کبھی بھی نہیں ۔۔۔
جنت بول رہی تھی جب پلوشہ حقارت سے بولی ۔۔۔
پھر ٹھیک ہے جاٶ یہاں سے ۔۔۔
جنت اپنی گن جینز میں ڈالتی اٹھتی بولی تھی۔۔۔
اچھا بولو۔۔۔
پلوشہ ہار مانتی بولی تھی۔۔۔
شاہ زین سے شادی کر لو پہلی بات وہ دل کے بہت اچھے ہے دوسرا تمہارے کہنے پر طلاق بھی دے گے ۔۔۔
جنت اسے سارا پلان سمجھاتی بولی تھی۔۔۔
ہمممم میں یہ قربانی دینے کو تیار ہو شاہ زین کو منا لو گی تم۔۔۔
پلوشہ بھاری دل سے حامی بھرتی بولی تھی۔۔۔
جنت ہارون خان نام میرا تم فکر مت کرو ۔۔۔
جنت اسے ساتھ باہر لے کر جاتی مسکراتے بولی تھی۔۔۔
———————————————————–
کیا اپ کو یہ نکاح قبول ہے؟” مولوی صاحب نے پوچھا۔
جبکہ شاہ زین بجائے جواب دینے کے حیران پریشان سا ان سب کا منہ دیکھے جا رہا تھا۔۔
جو دس لوگ اس پر بندوکیں تانے کھڑے تھے۔۔
جبکہ جنت خود ایک طرف اپنی اسی ڈریسینگ بلیک جینز اور بلیک ہی شرٹ میں ملبوس تھی۔۔
اور ایمرجنسی کے طور پر اس نے اسی ڈریس کے اوپر پرپل لہنگا پہنا ہوا تھا۔۔
اپنے چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے وہ شاہ زین کو دیکھنے میں مصروف تھی،۔
جسے وہ اسکے گھر سے اٹھوا کر لائی تھی اور ایمرجنسی شیروانی پہنائے اب بندوکوں کی نوک پر اس سے نکاح پڑھوا رہی تھی۔۔
جبکہ ریڈ لہنگا پہنے پلوشہ برا سا منہ بناۓ بیٹھی تھی۔۔۔
جنت اپنے بندوں سے شاہ زین کو بے ہوش کروا کر گھر سے اٹھوا چکی تھی ۔۔۔
تبھی وہ ہوش میں آتا بولا تھا۔۔۔
“یہ کیا ہے جنت ۔۔۔
شاہ زین نے سکون سے پوچھا تھا۔۔۔
دیکھو شاہ زین بھائ پلوشہ کو شادی کرنی آپ سے تو آپ کر لے ۔۔۔
جنت اسے سارا مسئلہ بتا چکی تھی تبھی پلوشہ کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی۔۔
ریڈ لہنگا پہنے بنا میک اپ کیے بکھرے بال برا سا منہ بناۓ پلوشہ کو اسی روپ میں بھی دیکھ کر شاہ زین کی دھڑکینں تیز ہوئ تھی ۔۔۔
میری ایک شرط ہے جو صرف پلوشہ کو بتاٶ گا۔۔۔
شاہ زین مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
ہاں جلدی بولو۔۔۔
پلوشہ اپنا کان شاہ زین کے پاس لاتی بولی تھی۔۔۔
جبکہ اب اس کی شرط سنتے پلوشہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔۔۔
مجھے منظور ہے ۔۔۔
پلوشہ اپنا دھواں ہوتا چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔
ہاں یار جلدی کرو، میرے سے یہ تھان نہیں سنبھالا جا رہا،
جنت اپنا لہنگا پکڑتی برے منہ سے بولی تھی۔۔۔
پلوشہ کی وش تھی شادی ایک ہی دفعہ ہوتی ہے تبھی خود اپنا جنت اور شاہ زین کو ایسا تیار کیا تھا اس نے چاہے شادی کونٹریکٹ ہی سہی لیکن تھی اس کی شادی ۔۔۔
چلیں مولوی سرکار شروع کرے مجھے غصہ دلانا ہے کیا۔۔۔
ورنہ یہ گولیاں تجھے مار دو گی ۔۔۔
اور اسکی دھمکی کارگر بھی ثابت ہوئی تھی، مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کردیا۔
نکاح ہو چکا تھا پلوشہ نے سائن کرتے اپنے سارے حقوق شاہ زین خان کے نام کر چکی تھی ۔۔
جبکہ نکاح ہوتے ہی جنت اور اسکے آدمیوں نے دل کھول کر فائرنگ کھول دی۔۔۔
بس کرو یار چلو اب چلتے ہے نکاح ہو گیا۔۔۔۔
پلوشہ جلدی سے اٹھتی جنت کو روکتی ساتھ جاتی بولی تھی جب شاہ زین نے روکا تھا۔۔۔
تم جاٶ جنت پلوشہ کو میں لے جاٶ گا پھوپھو کے پاس اب بیوی ہے میری۔۔۔
شاہ زین مسکراتا بولا تھا۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے اب میں بھی شادی کر لو کسی کو ڈھونڈ کر۔۔۔۔
جنت اپنے بندوں کو ساتھ لے کر جاتی بولی تھی۔۔۔
تو مس وائف شرط پوری کرو گی۔۔۔۔
شاہ زین زرد چہرہ لیے پلوشہ کو کمر سے پکڑتے دیوار کے ساتھ لگاتے بولا تھا۔۔۔۔
ہ۔ہا۔ہاں ضرور ڈرتی نہیں میں۔۔۔
پلوشہ ہکلاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ہممم۔۔
شاہ زین اسے گہری نظروں سے دیکھتا اس پر جھکا تھا۔۔
وہی ضبط سے پلوشہ نے آنکھیں بند کی تھی۔۔۔
اب تو پھس چکی تھی شاہ زین سے شادی کر کے ۔۔۔
———————————————————–
م۔میں۔ک۔کتنی گندی لڑکی ہو چچچچ مجھے خود سے گھن آتی ہے ۔۔۔۔
کمرے میں فل اندھیرہ کیے وہ حجاب لیے جاۓ نماز پر بیٹھی خود سے نفرت کرتی اکیلی بیٹھی روتی بولی تھی۔۔۔۔
مج۔مج۔مجھے مرنا چاہے ہاں مجھے مرنا جیسے مجھ جیسے ناپاک لڑکی اس دنیا میں نہیں رہنی چاہے بلکل نہیں رہنی چاہے ۔۔۔
وہ اپنے جسم کو نوچتی ہوئ اب آس پاس کچھ ڈھونڈتی چلائ تھی۔۔
م۔مجھے تو میرے اپنوں نے چھوڑ دیا تو کس کے لیے ایسی رہو می۔میں۔۔۔
میر۔میرا کوئ نہیں۔۔۔
سامنے بیڈ کے سائیڈ پر پڑے شیشے کے جگ پر ہاتھ مارتی اس کو توڑتی اس کا ٹوٹا شیشہ اٹھاۓ اپنی نبض پر رکھتی وہ بولی تھی۔۔۔۔
م۔میں لڑکی کہلانے کے لائق نہیں ہو ۔۔
یہ کہتے ساتھ ہی وہ اپنی نبض کاٹ چکی تھی۔۔۔
———————————————————–
مس زینیہ ایڈوکیٹ کیسی ہے ۔۔۔
زینیہ اپنے آفس میں بیٹھی فائل دیکھ رہی تھی جب شاہ میر خانزادہ اس کے آفس کے اندر آیا تھا۔۔۔۔
تمہیں تمیز نہیں ہے اجازت لے کر آ۔۔۔۔
افففف کتنی خوبصورت ہو تم۔۔۔
زینیہ اسے اپنے آفس میں دیکھتی آپے سے باہر ہوتی اٹھ کر چلائ تھی جب شاہ میر اپنی ٹانگ ایک کرسی پر رکھے سکون سے بولا تھا۔۔۔
کس وجہ سے آۓ ہو۔۔۔
زینیہ اپنے آفس سے باہر اس کے گارڈز اور اپنے گارڈز دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
کیس سے پیچھے ہو جاٶ ورنہ ت۔۔۔۔
ورنہ کیا کرو گے۔۔۔۔
شاہ میر بول رہا تھا جب زینیہ دانت پیستی بولی تھی۔۔۔
سوچو اکیلی آفس میں ہو کچھ بھی ہو سکتا ہے تم عورت ہو میں مرد ت۔۔۔۔
شاہ میر اسے ڈراتا ہوا جان بوجھ کر بات آدھوری چھوڑی تھی۔۔۔۔
چٹاخخخخخ۔۔۔۔
عورت ہو تو کیا کرو گے اپنی یہ بزدلی صرف عورتوں پر نکال سکتے ہو ہمت ہے تو جج کے سامنے یہ گندی زبان کھولو ۔۔۔
ابھی چاہو تو تم پر ہراسمنٹ کا کیس کر سکتی ہو گندی نالی کے کیڑے۔۔۔۔
زینیہ شدید طش میں آتی شاہ میر کے گال پر تھپڑ مارتی چلائ تھی۔۔۔۔
یو۔۔۔۔۔
غلطی سے بھی چھونا مت مجھے جانتے ہو کون
میں۔۔
لڑکی سمجھ کر مجھے کمزور بنا رہے ہو ۔۔۔
شاہ میر زینیہ کی کلائ پکڑتے بولنے والا تھا جب وہ بولی تھی۔۔۔
یہ تپھڑ بہت بھاری پڑے گا تم پر۔۔۔
شاہ میر اسے دمھکی دیتا بولا تھا۔۔۔
جاٶ پہلے اپنے گارڈ سبنھالو۔۔۔
زینیہ پیھچے کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی ۔۔۔
شاہ میر پیچھے دیکھتا شوک ہوا تھا۔۔۔
یہ ڈور لگوا لینا اب ٹوٹ گیا۔۔۔
روحان شیشے کے ڈور سے ویسے ہی اندر آتا زینیہ کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
شاہ میر کے گارڈز سارے زخمی نیچے گرے پڑے تھے۔۔۔
کیوں پیسے دو م۔۔
آی جی کی بیٹی کو خودی لگوا لینا۔۔۔
زینیہ مسکراتے بول رہی تھی جب روحان قریب آتا بولا تھا۔۔۔۔
تمہاری یہ ہمت تم ن۔۔۔
اووو ہلیو مسٹر ہاتھ پیچھے کرو میرا کورٹ گندہ ہو جاۓ گا۔۔۔
شاہ میر روحان کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے غصہ سے بولا تھا جب روحان اس کا ہاتھ دور کرتا سکون سے بولا تھا۔۔۔
تم جانتے ہو میں کیوں نہیں ڈری تم جیسے حیوان سے ۔۔۔
جس بیٹی کے پاس زیان شاہ اور ہارون خان جیسا باپ ۔۔روحان ہارون خان جیسا بھای ہو وہ لڑکی کبھی نہیں ڈرتی سمجھ آئ سو پلیز گیٹ آوٹ فرام ہئیر۔۔۔۔
زینیہ شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھتی اس پر چلائ تھی۔۔۔
جبکہ ڈور کے پاس کھڑے عمار کی طرف شکوہ کرتی نگاہوں سے دیکھا تھا زینیہ نے ۔۔۔
————————————————————
جی مامی بات کرنی تھی آپ سے ۔۔۔
ہارون کے گھر نسرین بیگم آئ تھی جب انھوں سے کہا۔۔۔
ہاں بولو بیٹا کیا بات ہے ۔۔۔
نسرین بیگم اپنا ہاتھ ہارون کے سر پر رکھتی بولی تھی۔۔۔
وہ مامی آپ کو تو پتہ ہو گا وہ کہاں ہے کیونکہ آپ ہی ہے جس کو پتہ میں چاہتا تھا وہ آ جاۓ اور جن۔۔۔
بابا آپ میری شادی کروا دے میں کسی بھی لڑکے سے کرنے کو تیار ہو جلدی کرواۓ میں یہاں رہو گی۔۔۔
ہارون ہمت جمع کرتے بول رہے تھے جب جنت بنا دیکھے اندر آتی بولی تھی۔۔۔
بیٹا تمہاری شادی نہیں ہو سکتی ا۔۔۔
لیکن کیوں بابا۔۔۔
ہارون خان اسے سمجھاتے بول رہے تھے جب جنت ضدی انداز سے بولی تھی۔۔۔
تم۔جا۔۔۔
نہیں پہلے آپ بتاۓ کیوں شادی نہیں ہو س۔۔۔۔
کیونکہ تمہاری شادی ہو چکی ہے سنا تم نے ۔۔۔۔
جنت پھر ان کی بات کاٹتی بولی تھی جب ہارون خان شدید غصے سے چلاۓ تھے۔۔۔
ک۔کس۔سے۔۔۔
جنت ہکلاتی بولی تھی۔۔۔
سفان خان سے شادی ہوئ ہے تمہاری ۔۔۔
ہارون پھر چلاۓ تھے ۔۔
م۔میری ش۔شادی ہو۔گ۔۔۔۔
جنت پہلی دفعہ گھبراتی بولتی بے ہوش ہوتی وہی گری تھی۔۔۔۔
بیٹا بیٹا۔۔۔۔
ہارون جلدی سے اسے پکڑتے چلاۓ تھے جو بلکل دنیا سے بے خبر بے ہوش پڑی تھی ۔۔
