Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 14)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 14)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
“عمار
زینیہ”سفان جنت
”رخصتی اسپشیل
روحی میری بہن۔۔۔
سبحان اسے گود میں آٹھاۓ سیدھا ڈائمن کے فارم ہاوس لایا تھا۔۔۔
جب سامنے ڈائمن خود بے ہوش پڑی روحاب کو گود میں لیتا بولا تھا۔۔۔
ہاں یہ روحی ہے پر مانتی نہیں ہے ہمیں کچھ کرنا ہو گا ڈائمن۔۔۔
سبحان اس کے ساتھ چلتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہممم کرتے ہے کچھ پہلے روحی کو آرام چاہے ۔۔۔
میں چاہتا ہو ہم دونوں کے علاوہ کسی کو پتہ نہ چلے یہ روحاب ہے ۔۔۔
تم سمجھ سکتے ہو میں ایسا کیوں کر رہا۔۔۔
ہاں سمجھ گیا شاہ میر بھی اس فکشن میں آ رہا ۔۔۔
سبحان اس کی سنتا ہوا خود روحاب کے سرہانے بیٹھتے بولا تھا۔۔۔
اوےےے مجنوں گھر جاٶ یہاں روح۔۔۔۔
نہیں روحان پلیز مجھے رہنے دو یہاں میری بیوی ہے یہ مجھ پر اعتبار کرو پلیز ۔۔۔
ڈائمن مسکراہٹ روکے بول رہا تھا جب سبحان التجا کرتا بولا تھا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے کوئ مسئلہ ہو مجھے بتا دینا۔۔۔
ڈائمن مسکراتا ہوا بولتا اب روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
———————————————————
بابا یہ غلط بات ہے میں رخصتی ہرگز نہیں کروا رہی ۔۔
زینیہ کو جیسے ہی پتہ چلا اس کی رخصتی ہونے والی وہ بھی اتنی جلدی تبھی وہ آگ بلوگہ ہوۓ زیان شاہ کے روم میں آتی بولی تھی۔۔۔
شرم کرو زینی کوئ ایسا بولتا ہے ک۔۔۔
حنین کیا ہو گیا بیٹی ہے ہماری یہاں آٶ بیٹا۔۔۔
حنین زینیہ کا لہجہ سنتی طش سے بول رہی تھی جب زیان شاہ دونوں کو مخاطب کرتے بولے تھے۔۔۔
دیکھو میرا بیٹا ۔۔۔
سب جانتے تھے تمہاری اور عمار کی کبھی نہیں بنی تھی لیکن ایک دن تمہاری ضد پر کہ تمہیں عمار سے محبت ہے ہم سب نے دو سال پہلے نکاح کروا دیا۔۔۔
تم نے کہا مجھے آگے پڑھنا ہے ۔۔
میں نے اجازت دے دی۔۔۔
تم نے کہا تمہیں وکالت کرنی ہے تمہاری ماما کے خلاف جا کر میں نے اپنی بیٹی کو سپورٹ کیا۔۔
جانتی ہو ایک وکیل کی زندگی بھی پولیس اور آرمی جیسی ہوتی ہے ہر موڑ پر جان کو خطرہ۔۔
تم ہم دونوں کی پوری زندگی کی نشانی ہو ہم دونوں نے تمہاری ہر بات مانی ۔۔۔
تمہارا ہر شوق پورا کیا اب تمہاری شادی ہونی چاہے۔۔۔
زیان زینیہ کو اپنے سینے سے لگاۓ آہستہ آہستہ سمجھاتے بول رہے تھے۔۔۔۔
جبکہ حنین بھی سکون سے ان کے پاس بیٹھی تھی ۔۔۔
میں آئ جی ہو میری جان کو بھی خطرہ ہے اس کے ساتھ میری فمیلی کی بھی ۔۔۔
میں اب چاہتا ہو میری پیاری بیٹی شادی کر کے عمار کی زمہ داری بن جاۓ۔۔۔
میں نہیں چاہتا جیسے ہارون کی فمیلی کے ساتھ ہوا وہ میری بیٹی کے ساتھ بھی ہو۔۔۔
روحاب کو سب ڈھونڈ رہے ہم سب جانتے ہے سامنے ہر وقت مسکراتے ہارون کے دل پر کیا گزارتی ہو گی اپنی بیٹی کے لیے ۔۔۔
سالوں ہو گے لیکن ہمیں روحاب نہ ملی کتنی کوشش کی ہم نے ۔۔۔
زیان آبدیدہ ہوتے بول رہے تھے۔۔۔
ان کا اکثر دل روتا تھا ہارون خان کو دیکھ کر جو بڑے صبر سے ہر کسی سے پیار سے بات کرتے تھے۔۔۔۔
م۔میں بوجھ ہو گی ۔۔۔۔
زینیہ آنسو بہاتی ہوئ بولی تھی ۔۔
بیٹیاں کبھی بھی ماں باپ پر بوجھ نہیں ہوتی بیٹا وہ تو رحمت ہوتی ہے ۔۔۔
میں تو بڑا خوش نصیب ہو جو مجھے تم ملی ۔۔۔
بس یہ کہنا چاہتا ہو عمار بہت اچھا بیٹا ہے میرا تم سے عشق کرتا ہے اب اس کے ساتھ رہو تاکہ وہ میری شیرنی کے ساتھ خوش رہے ۔۔۔
اب جاٶ بیٹا تیاری کرو میرا پیارا بیٹا۔۔۔
زیان اس کا ماتھا چومتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
وہی زینیہ خاموشی سے اٹھ کر چلی گی تھی۔۔۔
اب وہ اپنے باپ کو انکار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
ارے واہ میرے ساتھ رہ کر تم ذہین ہو گے مسٹر زیان۔۔۔
حنین مسکراتی زیان کے سینے پر سر رکھے مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاہااہااا تم جیسی کے ساتھ میں ذہین ہو گا۔۔۔۔
زیان قہقہ لگاتے حنین کا ماتھا چومتے بولے تھے۔۔۔
وہی حنین شرماتی ہوئ اپنا چہرہ ان کے سینے پر چھپا چکی تھی۔۔۔
———————————————————–
اہہہہ میرا سر۔۔۔
روحاب کو جیسے ہی ہوش آیا اپنا سر پکڑے وہ اٹھتی بولی تھی۔۔۔
وہ سبحان کے روم میں لیٹی تھی۔۔۔
ک۔کیا میں سبحان کے گھ۔۔۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔
روحاب جلدی سے روم سے باہر آتی آس پاس دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
میں جیتنی معافی مانگو ہارون وہ کم ہے ۔۔۔
روحاب خود جلدی جلدی سیڑھیاں اتر رہی تھی جب ہال میں کسی کی سرگوشیاں سنتی وہی روک گی تھی۔۔۔۔
ارے یار کیوں معافی مانگ رہے تمہارا قصور بلکل نہیں ہے یہ تو بس قسمت میں ایسا لکھا تھا۔۔۔
روحا اور میری ہم دونوں کی آزمائش ہے یہ ہمارا رب دیکھنا چاہتا ہے ہمارے اندر کتنا صبر ہے ۔۔۔
مجھے یقین ہے ایک دن آۓ گا جب میری روحی میرے پاس ہو گی۔۔۔
بابر کو ایک مجرم ملا تھا جس نے باقی لوگوں کے
مل کر روحاب کو کڈنیپ کیا تھا۔۔
بابر نے تبھی ہارون کو اپنے گھر بلایا تھا ۔۔
لیکن اس سے پہلے وہ آدمی کچھ کہتا جب اس نے خود کشی کر لی۔۔۔
اب ہارون بابر کے ساتھ فجر کے وقت اسی کے گھر تھا تبھی وہ شرمندہ ہوتا بول رہا تھا۔۔۔
جب ہارون خان مسکراتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
بلیک پینٹ چاکلیٹ براٶن ٹی شرٹ پہنے جو ہارون کے کسرتی جسم پر خوب اچھی لگ رہی تھی ۔۔
ہالف سیلو سے اس کے ہیوی مسلز کالے گہرے بال جو ماتھے پر بکھرے کانپٹی پر ہلکی سی سفیدی خوبصورت آنکھوں پر گلاسز لگاۓ خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ روحاب کو اپنا باپ ویسا ہی نوجوان لگا تھا۔۔۔
جیسے ہارون خان کو وقت چھوۓ بنا گزار گیا ہو۔۔۔۔
تمہارا صبر بہت ہے یار میری دعا ہے روحی مل جاۓ۔۔۔
بابر ان کے گلے لگتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
مل جاۓ گی مجھے اپنے رب پر پورا یقین ہے وہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں ہونے دیتا ۔۔۔
اچھا میں چلتا ہو پنک روز ویٹ کر رہی ہو گی ۔۔۔
ہارون خان اب مسکراتے واپس جاتے بولے تھے۔۔۔۔
کیا چوری چوری دیکھا جا رہا روحی۔۔۔
روحاب جو اپنے باپ کو دیکھتی آنسو بہاتی سیڑھیوں سے نیچے دیکھ رہی تھی جب سبحان اسے بیک ہگ کیے بولا تھا۔۔۔
م۔میں بہارے ہو سمجھے۔۔۔
روحاب جلدی سے خود پر قابو پاتی اسے دھکا دیتی روم میں جاتی بولی تھی۔۔۔
ارے تم روح۔۔
مجھے جانے دو میں تمہیں نہیں جانتی ۔۔۔
سبحان اس کے پیچھے آتا بول رہا تھا جب وہ بولی تھی۔۔۔
ہاں چلی جانا کل میری دو کزنوں کی شادی ہے وہ دیکھ لو پھر مس روحی۔۔۔
سبحان مسکراتا ہوا روحاب کے قریب آتا اس کی پلکوں پر پھونک مارتا ہوا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
———————————————————–
نہیں عمار تم میرے ساتھ ایسا کر سکتے مجھے وہ سب یاد آ۔۔۔
ریلکس زینی میرے پاس آ جاو میں نے تمہیں ج درد دیا اس کا مرہم میں بنو گا ۔۔۔
تم بس سو جاٶ کل ملے گے ۔۔۔
زینیہ اب غصے سے فون پر بات کرتی بول رہی تھی جب عمار سکون سے کہتا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔
کیسے بھول جاٶ عمار میں کیسے۔۔۔
زینیہ بیڈ پر گرتی مسلسل روتے ہوۓ چلائ تھی۔۔۔
———————————————————–
“”ایک سال پہلے۔۔۔
اب خوش ہو تم عمار تمہارا برتھ ڈے اچھا گزارا ۔۔۔
زینیہ عمار کے سامنے مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
بہہہہت بہتتت خوش میری جان تم جانتی نہیں ہو کب ہماری لڑائ محبت میں بدلی میں بھی نہیں جانتا اب تو تم میرا عشق بن چکی ہو ۔۔
عمار بھی خوش ہوتا زینیہ کو گلے لگاۓ بولا تھا۔۔۔
شرم کرو عمار ۔۔۔
زینیہ جلدی سے اس سے دور ہوتی شرماتے بولی تھی۔۔۔
سال پہلے عمار نے زینیہ کو پرپوز کیا تھا وہ اس سے محبت کرتا ہے زینیہ بھی اس سے محبت کرتی تھی ۔۔۔
کچھ ماہ پہلے عمار نے اپنے ایک مشن کے لیے کوئٹہ جانا تھا تبھی وہ زیان سے ضد کرتا زینیہ سے نکاح کر چکا تھا۔۔۔
سب خوش تھے ٹام انیڈ جیری جیسے لڑاتے اب محبت کرنے لگ گے تھے زینیہ بھی عمار کا ساتھ پاتی بہت خوش تھی ۔۔۔۔
عمار کی برتھ ڈے تھی وہ چاہتا تھا زینیہ اس کے پاس آے اور وش کرے۔۔۔
تبھی زینیہ کسی کو بنا بتاۓ اکیلی کوئٹہ عمار کے بنگلے میں ملنے آ چکی تھی ۔۔۔
ویسے بھی اب وہ اس کی بیوی تھی کہی بھی جا سکتی تھی اس کے ساتھ ۔۔۔
زیان تو بے حد خوش تھے عمار جیسا بیٹا پا کر انہیں اس پر پورا یقین تھا۔۔۔
کسی شرم یار بیوی ہو میری۔۔۔
عمار اسے دوبارہ کمر سے پکڑے بولا تھا۔۔۔۔
ع۔عمار پل۔۔۔
ششش ریلکس میں مذاق کر رہا تھا ویسے بھی میں بہت جلد تمہیں پورے حق سے اپنے گھر لانا چاہتا ہو بس یہ مشن پورا ہو جاۓ ۔۔۔
آٶ کیک کٹ کرے ۔۔
زینیہ پھر اس سے دور ہوتی گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب عمار اسے پرسکون کرتا بیڈ روم میں لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔
لیکن عمار برتھ ڈے تو ہو گیا تمہارا۔۔۔
زینیہ آرام سے اندر آتی بولی تھی۔۔۔
وہ دوستوں کے ساتھ منایا تھا اب میں اپنی بیوی کے ساتھ منانا چا رہا تھا۔۔۔
عمار اس کے سامنے ٹیبل پر خوبصورت سا کیک رکھتا بولا تھا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔
زینیہ کو پتہ تھا عمار بلکل زیان کی طرح سنجیدہ تھا وہ اگر بولتا تھا تو صرف زینیہ کے سامنے اور زینیہ کو ہی پورا حق تھا وہ اسے تنگ کرتی تھی۔۔۔۔
ہپی برتھ ڈے عمار مائ لو۔۔۔
کیک کٹ کرتے زینیہ نے کیک کا چھوٹا سا پیس اٹھاۓ عمار کو کھلاتے شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔
شکریہ میری جان ۔۔۔
عمار کیک کھاتا نرمی سے زینیہ کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اچھا رات کافی ہو گی تم یہی رہو میں دوسرے روم میں جاتا ہو کوئ مسئلہ ہو مجھے بتا دینا۔۔۔
عمار روم سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔
ہممم سہی۔۔۔
زینیہ حامی بھرتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
آہہہ آہہہ بچاٶ۔۔۔
عمار جو بیڈ پر ابھی شرٹ اتارے لیٹا تھا جب اسے زینیہ کے چلانے کی آوازیں آئ تھی۔۔۔
تبھی پاگلوں کی طرح ویسے ہی
باہر بھاگا تھا۔۔۔
کیا ہوا زینی کیا ہ۔۔۔۔
عمار جلدی سے روم میں آتا بول رہا تھا جب سامنے کھڑی زینیہ نے کیک اس کے چہرے پر لگایا تھا۔۔۔
یہ کیا حرکت تھی زینی میری جان نکل گی کہ کیا ہوا تمہیں۔۔۔
ریڈ کلر کی فل میکسی پہنے جس پر ریڈ ہی لونگ کورٹ پہنا ہوا تھا ڈراک میک اپ کیے زینیہ کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔۔
عمار اسے گھورتا اب اندر آتا زرا سختی سے بولا تھا۔۔۔
دیکھو کیک ضائع ہو رہا تھا میں نے سوچا ختم کر دو۔۔
زینیہ ابھی بھی کیک ہاتھوں میں لیتی عمار کے پورے چہرے پر لگاتے بولی تھی۔۔۔۔
زینی بس کرو کتنی دفعہ کہا مجھے یہ سب نہیں پسند جاٶ سو جاٶ۔۔۔
اچانک عمار غصے سے اسے گھورتا بولا تھا۔۔۔
دفع ہو جاٶ تم یہاں سے سڑک چھاپ پولیس والے۔۔۔
زینیہ ابھی غصے میں آتی اب اپنا لونگ کورٹ اتارتے عمار کے منہ پر مارتی روٹھتی ہوئ بیڈ کی طرف رخ مورۓ کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔
عمار کو احساس ہوا تھا وہ کتنا غصہ کر چکا ہے تبھی شرمندہ ہوتا کیک کا ایک پیس اٹھاۓ اب زینیہ کے پاس آ رہا تھا۔۔۔
جبکہ اس کی میکسی پہنے بیک لیس برہنہ کمر کو دیکھتے عمار آہستہ آہستہ اس کے پاس آ رہا تھا۔۔۔۔
سوری میری جان ۔۔۔
عمار وہ کیک کا پیس اس کی برہنہ کمر پر لگاۓ آہستہ سے سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔۔
وہی زینیہ کی دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔
اس نے کبھی امید نہیں رکھی تھی عمار اسے ایسے مناۓ گا۔۔۔
———————————————————–
زینی میری جان اٹھ جاٶ پارلر جانا ہے تم نے ۔۔۔
زینیہ روتے ہوۓ ویسے ہی سو چکی تھی جب صبح ہوتے حنین اس کے پاس آتی اسے اٹھاتے بولی تھی۔۔۔۔
ماما سونے دے۔۔۔
زینیہ اپنا سر ان کی گود میں رکھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
بیٹا اٹھ جاٶ رخصتی بھی کروانی ہے ۔۔۔
حنین اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
رخصتی۔۔۔
زینیہ شوک ہوتی اب اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی ۔۔
جلدی آو ۔۔
حنین اسے ہکا بکا چھوڑتی باہر جاتی بولی تھی۔۔۔
اس رات کا منظر سوچتے زینیہ کی آنکھوں سے آنسو آۓ تھے۔۔۔
————————————————————
جنت یہ کیا بیٹا تمہاری رخصتی ہے کسی جنگ میں نہیں جا رہی تم ۔۔۔
روحا جنت کے روم میں آتی طش سے بولی تھی ۔۔
کیونکہ جنت اپنے سوٹ کیس میں کپڑوں کی بجاۓ گنز چاقو بمب رکھ رہی تھی۔۔۔
ماما وہاں جنگ ہ۔۔۔
یہاں آو بیٹا میرا بیٹا بہت پیارا ہے کبھی اپنے ماما بابا کی تربیت پر کوئ غلط لفظ نہیں آنے دے گی ۔۔۔
جنت بول رہی تھی جب روحا اسے اپنے پاس بلاۓ آرام سے سمجھاتی بولی تھی۔۔۔
کسی کی جرات نہیں ماما جو آپ لوگوں کو کچھ کہے میں زبان ک۔۔۔
دیکھو یہ والی زبان یوز نہیں کرنی میری جنت تو بہت پیاری ہے کبھی بھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دے دی میں جانتی ہو ۔۔۔
جنت پھر بول رہی تھی جب روحا اس کا ماتھا چومتی بولی تھی ۔۔۔
آپ کیا چاہتی ہے ماما ۔۔۔
جنت ان کا ہاتھ پکڑتی سنجیدہ ہوتے بولی تھی۔۔۔۔
وہاں خوش رہنا بیٹا کبھی اپنے شوہر کو شکایت مت کرنے دینا ہم نے تمہاری تربیت کیسی کی ہے بلکہ بتانا کہ تم ہارون خان کی بیٹی ہو۔۔۔
کبھی کچھ ہو جاۓ تو مجھ سے شیئر کرنا یا اپنے بابا ہے ۔۔۔
ایک اور بات تاشہ سفان کی خالہ ہے اسے کم ہی بلایا کرنا بڑی چالاک عورت ہے بلاوجہ بولتی ہے باقی میری بیٹی بہت پیاری ہے وہ سب کو خودی ہنیڈل کر لے گی ۔۔۔
سفان کو بیوی کا پیار دینا تم سمجھ رہی میری بات یہ ڈریسنگ بھی مت کیا کرنا اچھے ڈریس پہنا۔۔۔
روحا اسے اب آہستہ آہستہ سمجھا رہی تھی۔۔
اففف ماما ریلکس جنت ہارون خان نام میرا آپ ٹیشن مت لے ۔۔۔
جنت انہیں پر سکون کرتی اب اٹھ کر واش روم جاتی بولی تھی ۔۔
————————————————————
بہت پیاری لگ رہی ہو باربی ۔۔۔
آنیہ کو صرف سادہ سی ریڈ فراک میں دیکھتے روحان اس کے روم کے ڈور کے پاس کھڑا ہوتا اسے گہری مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔۔
کہ۔ل۔کہاں ۔ا۔اچھی لگ رہی میں ہیرو کو۔کوئ میک اپ کیا ہی نہیں۔۔۔
آنیہ برا سا منہ بناۓ پاس جاتی بولی تھی۔۔۔
میری نظروں سے دیکھو دنیا کی سب سے خوبصورت باربی لگ رہی ہو ۔۔۔
روحان آہستہ سا نیچے جھکتے بہت نرمی سے آنیہ کی ناک چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ت۔تم مج۔مجھے ہاتھ کیوں ۔نہیں لگاتے کیا میں بری ہو۔۔۔
آنیہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
روحان کے چہرے پر مسکراہٹ آی تھی اس کی بات سن کر ۔۔۔
جس دن شادی کرو گا تب ہاتھ لگاٶ گا ۔۔۔
میں نہیں چاہتا کوئ غلطی کر دو۔۔
چلو آ جاٶ جلدی جنت ویٹ کر رہی ہو گی۔۔۔۔
روحان اسے دیکھتا ہوا اب نیچے جاتا بولا تھا۔۔۔
آنیہ کا چہرہ بلیش کیا تھا اس کی بات پر ۔۔۔
————————————————————
تمہیں چین نہیں ہے کیا جو تنگ کر رہی ہو ابھی توڑ دو گا بے شرم دلہن۔۔۔۔
اسیٹچ پر جنت اور سفان بیٹھے تھے۔۔۔
پنک کلر کے شرارے پہنے ہلکے میک اپ کیے وہ سادہ سی تیار رخصتی کے لیے بے چین ہوتی بیٹھی تھی۔۔
جبکہ سنجیدہ شکل لیے گولڈن شلوار کرتے میں بیٹھا سفان تھا۔۔۔
جنت کب سے اس کی ٹانگ پر اپنی ہیل والے شوز مار رہی تھی تبھی وہ چڑاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
تمہارا ٹانگ کیا جسم کے دو ٹکرے ڈائمن کرے گا زرا شرم کرو ۔۔۔
جنت دانت نکالے سامنے سے آتے روحان کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔۔
ہ۔ہاے ڈائمن۔۔۔
روحان نام میرا ۔۔۔
سفان ڈراتا ہوا اٹھ کر روحان سے گلے ملتا ہوا بول رہا تھا جب وہ ٹوکتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اسے نہیں پسند تھا کام کے علاوہ سفان یا شانی اسے ڈائمن کہے ۔۔۔
کیسے ہو ۔۔۔
روحان اس کی گرین آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ٹ۔ٹھیک۔۔۔
سفان گہرا سانس لیتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ارے یار اتنا ڈر کیوں رہے ہو۔۔۔
روحان اسے بیٹھاتے ہوے بولا تھا۔۔۔
تیری بہن جنگلی ہے بس اس لیے۔۔۔
سفان زبردستی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔
ہاہاہااہاہا بہن کس کی ہے یہ بھی دیکھ۔۔۔
روحان قہقہ لگاتا آنکھ ونک کرتا بولا تھا۔۔۔
جبکہ جنت اس کے شولڈر پر اپنا چہرہ رکھے سفان کو سکون سے زبان دیکھا رہی تھی۔۔۔۔
ہال میں آۓ سب مہمانوں کا حیرت سے منہ کھولا تھا اسیٹچ پر کرتب کرتی جنت کو دیکھ جو ایسے خوش تھی جیسے اس کی شادی نہیں کوئ نارمل سی پارٹی ہو۔۔۔
————————————————————
توبہ توبہ آجکل کی لڑکیاں کیسے دانت نکال رہی ہے ۔۔
وہ دیکھو زیان کی بیٹی کیسے خاموش بیٹھی ہے سلجھی ہوئ بیٹی ہے لگتا خوش نہیں بچاری اپنی شادی میں۔۔۔
دو عورتیں سامنے دیکھتی کھڑی ہوتی چغلی کر رہی تھی۔۔۔
جنت اور سفان کے دوسری سائیڈ پر بے بی پنک کلر کا لہنگا پہنے ڈراک میک اپ کیے وہ سکون سے خاموش بیٹھی تھی جبکہ عمار بلیک شروانی پہنے سب سے ہنس بول رہا تھا۔۔۔
آج تو وہ روحان سے بھی ہنس کر بول رہا تھا۔۔
ایسی ہی لڑکیاں ہوتی جس کا بھای اور باپ خود اپنی بیٹی کو کسی کام کے لیے نہ روکے تو بیٹیاں ایسی ہی بنتی ہے ۔۔۔
دوسری عورت اب سامنے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
جہاں اب جنت ہارون اور روحان کے ساتھ مل کر وہی کھڑی قہقہ لگاتی سفان کا مذاق بنا رہی تھی۔۔۔
جبکہ روحان ہارون ہنستے مسکراتے ہوۓ اس کا ساتھ دے رہے تھے۔۔۔
کیوں آنٹی اگر دلہن سنجیدہ ہو کر بیٹھ جاۓ آپ کی نظروں میں اس پر ظلم ہو رہا اگر دلہن ہنس بول کر بات کر لے تو وہ بری لڑکی بن جاتی ہے واہ ہ ۔۔۔
کیا لوجک ہے آپ سب کا بیٹی ہے کوئ کھلونا نہیں جہاں آپ لوگوں نے کہہ دیا بیٹی وہی کرے۔۔۔
ویسے بھی اگر اس کے باپ اور بھای کو اعتراض نہیں آپ سب کو بھی نہیں ہونا چاہے ۔۔
بیٹیاں سب کی ہوتی ہے بلکہ ہر دلہن کو اپنی خوشی ظاہر کرنی چاہے وہ خوش ہے یا نہیں آنھوں نے زندگی گزارنی ہے آپ لوگوں نے ۔۔۔
آئندہ خیال کرنا آپ سب کسی کا دل دکھ بھی جاتا ہے ۔۔۔
روحاب جو بلیک شرٹ پہنے ریڈ ٹاپ پہنے چہرے پر ماسک لگاۓ سبحان کی ضد پر ہال میں آئ تھی جب دو عورتوں کی بات سنتی ان کے قریب جاتی کھری کھری سنا چکی تھی۔۔۔۔
انہہہ ۔۔
عورتیں برا سا منہ بناتی وہاں سے ہٹ گی تھی۔۔۔
روحاب خوش تھی اس کی ساری فمیلی ہنسی خوشی رہ رہی تھی کوئ بھی اسے یاد نہیں کر رہا تھا۔۔۔
وہ خوش تھی اس جیسی گندی لڑکی کو یاد کرنا بھی نہیں چاہے تھا۔۔۔
اسیٹچ پر اب سارے فوٹو شارٹ کروا رہے تھے۔۔۔۔
آٶ میرے ساتھ ملو سب سے۔۔۔
سبحان اس کا ہاتھ پکڑے اسیٹچ کی طرف لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔
ک۔کیوں جاٶ تم وہاں پر ۔۔۔
روحاب پہلے گھبراتے بعد میں زرا سختی سے بولی تھی۔۔۔
ہاے اس سے ملو میری دوست ہے ۔۔۔
سبحان اس کی بات سنے بنا اسیٹچ پر آتے بولا تھا۔۔۔
————————————————————
یہ تم نے ماسک لگایا ہے ۔۔۔
اریج روحاب سے ملتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
و۔وہ۔۔
اسے کرونا ہے اس لیے۔۔۔
سبحان روحاب کی طرف دیکھتا اس کی بات کاٹتا بولا تھا۔۔۔
وہ سب سے مل چکی تھی ۔۔۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔
کیا نام ہے تم بہت پیاری ہو تمہیں پتہ میری بھی اسی بہن ہے کیوٹ سی۔۔۔
روحاب اب جنت کے پاس ملنے آئ تھی جب روحاب کا چھوٹا ملائم سا ہاتھ پکڑتی اچانک آبدیدہ ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
ب۔بہارے نام میرا۔۔۔
روحاب اپنے آنسووں کا گلا گھوٹنے بامشکل بولی تھی ۔۔۔
بہت پیارا ہے ۔۔
جنت نرمی سے اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
یہ میری مام۔۔۔۔
جنت سامنے اسیٹچ پر آتی روحا کو دیکھ بول رہی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے وہ گرتی جب روحاب نے جا کر پکڑا تھا ان کو۔۔۔
دھیان سے ماں۔۔۔۔
روحاب کے منہ سے اچانک یہ لفظ نکلے تھے۔۔۔
م۔مطلب آنٹی ۔۔۔
روحاب اب روحا کا ہاتھ پکڑے گھبراہٹ پر قابو پاتے بولی تھی۔۔۔۔
کوئ بات نہیں بیٹا آپ مجھے ماں کہہ سکتی ہو۔۔۔
روحا پیار سے اس کے چہرے کو چھوتی بولی تھی۔۔۔
ج
جی۔۔۔
روحاب اب ان کو ساتھ لاۓ جنت کے ساتھ کھڑا کیا تھا
۔۔
سب اپنی اپنی فمیلی کے ساتھ کھڑے فوٹو شارٹ کروا رہے تھے جبکہ روحاب سائیڈ پر اکیلی کھڑی تھی۔۔۔۔
یہاں آو ۔۔۔
روحان سے رہ نہیں گیا تھا اپنی جان سے پیاری بہن کو اکیلا کھڑا دیکھ تبھی ایک سائیڈ پر جنت دوسری سائیڈ پر روحاب کو کھڑا کیے وہ بولا تھا۔۔۔
جنت کی سائیڈ پر روحا کھڑی تھی جبکہ روحاب کی سائیڈ پر ہارون خان مسکراتے کھڑے تھے۔۔۔
ب۔بابا۔۔۔
روحاب اپنے شولڈر پر ہارون خان کے ہاتھ کا لمس پاتی ایکدم ان کی طرف دیکھتی شوک ہوتی بولی تھی۔۔۔
کتنے سال وہ اپنے ماں باپ کے لمس کے لیے ترس رہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا آپ ٹھیک ہے ۔۔۔
ہارون خان پریشان ہوتے اس کا ماتھا پیسنے سے بھیگے دیکھ بولے تھے۔۔۔۔
ن۔نہیں وہ گھر جانا میں نے اماں ویٹ کر رہی۔۔۔۔
روحاب قابو سے باہر ہوتی اسیٹچ سے بھاگتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
بیٹا ی۔۔۔
ریلکس خالو میں دیکھ لیتا ہو۔۔۔
روحان بھی پریشان ہوا تھا پر جانتا تھا سبحان سب ہنیڈل کر لے گا تبھی وہ ہارون کو دیکھتے کہتا وہاں سے جاتا بولا تھا ۔۔
اہہہ اہہہ۔۔۔
اچانک ہال کی ساری لائٹس آف ہوئ تھی۔۔۔
تبھی روحا چلائ تھی۔۔۔
ج۔جنت کہاں ہے ۔۔۔
ہال میں دوبارہ لائٹس آۓ دیکھ سب حیران ہوتے اب جنت کو وہاں نہ پاتے بولے تھے۔۔۔
جنت کہاں ہے سفان یہ حرکت تمہاری ہے ۔۔۔
روحان غصے سے غراتے اب سفان کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ن۔نہیں یار۔۔
سفان گھبراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
