Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 26)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 26)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

”روحان💕آنیہ

”عمار💕زینیہ

“شاہ زین💕پلوشہ اسپشیل 💏

کی۔کیا ہ۔ہوا ہیرو۔۔۔

آنیہ پریشان سے روحان کو چکر لگاتے دیکھ آنیہ پاس آتی بولی تھی۔۔۔۔

پتہ نہیں یار دل گھبرا رہا مجھے لگتا آپو ٹھیک نہیں ہے فون بھی ملا رہا ہو پر اٹھا نہیں رہی۔۔۔

روحان پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہی۔نہیں کچھ نہیں ہوا ہو گا آپ ویسے پریشان ہو رہے ایسا کرے سفان سے مل لیتے آپ ۔۔

آنیہ پاس آتی اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولی تھی۔۔۔

ہمم یہی سوچ رہا میں ایک دفعہ مل لو تو دل کو تسلی ہو گی ۔۔۔

روحان زبردستی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔

اچھا اچھا سوچا کرے مج۔مجھے ہی سوچ لیا کرے آپ پ۔پریشان نہیں ہو گے ۔۔۔

آنیہ اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اس کے سینے پر سر رکھتے بولی تھی ۔۔۔۔

میں اپنی باربی کا ہی سوچتا ہو میری جان شکریہ میری لائف میں آنے کا۔۔۔

روحان اسے کمر سے پکڑتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔

م۔میں مذاق۔ک۔کر رہی تھی ۔۔۔

آنیہ روحان کو رومانٹک ٹون میں آتا دیکھ جلدی سے روم سے جاتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاہااہاہااہاہاہاا۔۔۔

روحان کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔

————————————————————

ڈاکٹر اب کیسی ہے میری وائف۔۔

سفان ڈاکٹر کے کیبن میں آتے پریشان ہوتے بولا تھا۔۔۔

اب تو ہوش آنے والا ہو گا بہت جلد بس خیال رکھے گا انہیں کوئ ٹیشن مت دے خوش رکھے

انہیں ہر خوشی دے ان کو کافی ویک ہے آپ کی مسز امید ہے آپ میری بات سمجھ گے ہو گے۔۔

ڈاکٹر اسے دیکھتا تحمل سے بولا تھا۔۔۔

جی بہتر۔۔۔

سفان نے پریشانی سے سر جھکاۓ کہا تھا۔۔۔۔

————————————————————

مسٹر کالو میں کیسی لگ رہی ہو ۔۔۔

شاہ زین بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب اس کے پاس شلوار کرتے میں ملبوس سر پر حجاب لیے وہ شرماتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

بہتتت ہی زیادہ حسین لگ رہی ہو لفظوں سے بیان کرنا مشکل ہے ۔۔۔

شاہ زین اسے ایسے روپ میں دیکھتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔

لو تم تعریف تو کرو مسٹر کالو میں تمہارے قریب آتی ہو ۔۔

پلوشہ شرماتی ہوئ اس کے قریب آتی شولڈر پر سر رکھے بولی تھی۔۔۔

اچھا یہ تبدیلی کیسے آئ ۔۔۔

میں نے تو کبھی ایسا کچھ کہا ہی نہیں تھا تم تو مجھے ہر روپ میں پیاری لگتی ہو۔۔۔

کیا میں ایسی اچھی نہیں لگتی کیا وہ تو بس تنگ کرنے کے لیے ایسے کپڑے پہنتی تھی میں ۔۔

مجھے یہ پہن کر ایسا فیل ہوتا جیسے میں کسی محفوظ جگہ پر ہو مطلب کوئ میرے جسم پر نظریں نہیں گاڑھتا ۔۔۔۔

پلوشہ ابھی بھی مسکراتے بولی تھی۔۔۔

عورت کا یہی لباس ہوتا ہے جس میں وہ مکمل دیکھے اور یقین کرو تم مجھے دنیا کی حسین لڑکی لگ رہی ہو۔۔۔۔

شاہ زین نرمی سے اس کا ہاتھ چومتا بولا تھا۔۔۔۔

کیا واقعی میں تمہیں اچھی لگ رہی۔۔۔

پلوشہ اس کی طرف بچوں جیسا دیکھ کر سوالیہ انداز سے بولی تھی۔۔۔۔

ہاں بہت پیاری اچھا آٶ کوئ مووی دیکھے۔۔۔

شاہ زین اسے ٹی وی کی طرف متوجہ کرتا بولا تھا۔۔۔۔

ہمممم۔۔۔

پلوشہ سکون سے اس کے شولڈر پر سر رکھے بولی تھی۔۔۔

اب وہ خاموشی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

اب اتنا بھی پیارا نہیں ہو جو بار بار مجھے ہی دیکھ رہی ہو مووی دیکھ لو۔۔۔

مسلسل خود کو گھورتے پاتے دیکھ شاہ زین مسکراتے بولا تھا۔۔۔۔

اہہہہ۔۔

پلوشہ اب روٹھا سا منہ بناۓ سامنے چلتی مووی کی طرف متوجہ ہو گی تھی۔۔۔۔

ش۔شاہ۔ز۔زین م۔میں ر۔روم میں جا۔رہی ہو۔۔۔۔

مووی میں ایک سین ریپ کا آیا تھا جیسے دیکھتی پلوشہ اب گہرے گہرے سانس لیتی بولی تھی۔۔۔

پیسنے سے شرابور وہ شاہ زین سے دور جاتی بولی تھی۔۔۔۔

کیا ہوا پلوشہ تم ٹھیک تو ہو م۔۔۔

م۔میں ٹھیک ہ۔ہاں میں ٹھیک ہو ت۔تم مووی دیکھو۔۔۔۔

پلوشہ جلدی سے خود پر قابو پاتی روم کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔

پلوشہ پلوشہ۔۔

شاہ زین پیچھے چلایا تھا ۔۔۔

————————————————————

ڈا۔ڈائم۔ڈائمن تم یہاں کیسے۔۔۔۔

اگلے دن صبح کو ہاسپٹل میں آتے روحان کو دیکھتے سفان گھبراتے بولا تھا۔۔۔۔

کیا ہو گیا اتنا گھبرا کیوں رہے ہو میں تم سے ہی ملنا چاہتا تھا تبھی مری آیا تھا۔۔۔۔

جب تمہاری آنی نے بتایا تم ہاسپٹل ہو جنت کو لے کر آۓ ہو بس آ گیا سب ٹھیک ہے ۔۔۔

روحان پاس آتا سکون سے بولا تھا جبکہ سفان خان کا سکون وہ ختم کر چکا تھا۔۔۔۔

سر آپ کی مسز کو ہوش آ گیا۔۔۔

نرس پاس آتی سفان پر بمب پھوڑ چکی تھی۔۔۔

کیا ہوا آپو کو کیا زیادہ طیعبت خراب ہو گی مجھے ملنا ہے ان سے ۔۔۔

سفان سے پہلے روحان اس کے روم میں جاتا بولا تھا۔۔۔۔

نہ۔نہیں وہ بس م۔۔۔

سفان کو سمجھ نہیں آیا تھا وہ کہے تبھی روحان کے گھورنے پر ایکدم چپ ہو گیا تھا۔۔۔۔

آپو آپو کیا ہوا آپ کو ۔۔۔

ہوش میں آتی جنت کو دیکھ روحان پاس جاتا فکر مندی سے بولا تھا۔۔۔

ر۔روحان۔م۔میں ٹھیک ہو ت۔تم کیسے ہو۔۔۔۔

جنت بامشکل بولی تھی۔۔۔

ی۔یہ حالت کس نے کی تمہاری مجھے بتاٶ جان سے مار دو گا میں ۔۔

سر اور ہونٹ زخمی دیکھ روحان اب طش سے چلایا تھا۔۔۔۔

سفان کی سانسیں ہی روک گی تھی۔۔۔۔

و۔وہ واش روم میں گر گی تھی اب کیا تفتش کرنے لگ جاتے ہو یہ بتاٶ ماما بابا کیسے ہے۔۔۔

جنت زبردستی مسکراتے بولی تھی ۔۔۔

سفان نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔

ہمممم۔۔

روحان سب سمجھ گیا تھا لیکن جنت کی بات سنتے وہ راضی ہو چکا تھا اب وہ بیٹھا اس سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔

سفان روحان کو سکون میں دیکھتا اب خود بھی سکون میں آ چکا تھا۔۔۔

————————————————————

زینی کدھر ہو یار ۔۔۔

عمار روم میں آتا جنھجلاتا بولا تھا۔۔۔

یہی ہو کیا ہوا سڑک چھاپ پولیس والے۔۔۔

زینیہ گلاسز لگاۓ اسٹڈی روم سے باہر آتی بولی تھی۔۔۔

یار تم اب کون سا کیس لڑنے والی ہو ایک شاہ میر کا ہی کافی تھا کیوں کرتی ہو اچھا بلا تو کما رہا ہو میں سکون سے گھر بیٹھو ۔۔

عمار زینیہ کو کمر سے پکڑتے پیار سے بولا تھا۔۔۔۔

اسے آج پتہ چلا تھا زینیہ ایک ایسے کیس کو لینے والی تھی جو انتہا کے خطرناک آدمی تھے۔۔۔۔

تم کیا ڈرتے ہو سب سے جو ایسے بچوں جیسی شکل بنا کر مجھے کہہ دیتے ہو میں تو ضرور کیس لو گی بس بات ختم۔۔۔

زینیہ اپنی گلاسز عمار کو لگاتی روٹھے پن سے بولی تھی۔۔۔۔

یار تم سمجھتی کیوں نہیں میں تمہیں خطرے میں نہیں دیکھ سکتا تم یہ کیس کسی اور کو دے دو بس بات ختم۔۔۔

عمار اس کی آنکھوں کو چومتا نرمی سے اس کی نقل اتارے بولا تھا۔۔۔

عمار کیا میں وکیل اس لیے بنی تھی کہ تم ہر کیس میں مجھے روک دو یار وہ بے سہارہ عورتوں کا سہارہ بنی ہو میں وہ مجھے اپنا مسیحا سمجھتی ہے تبھی میرے پ۔۔۔۔

جو بھی ہے میں یہ ہرگز اجازت نہیں دو گا تم کوئ بھی کیس لڑو وکیل بنا تمہارا شوق تھا جو زیان بابا نے پورا کیا اب کچھ نہیں کرو گی ویسے بھی تمہاری حالت یہ اجازت نہیں دیتی ۔۔۔

عمار اس کی بات کاٹتا نرمی سے بیڈ پر بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔

لیکن ع۔۔۔

بس زینی میں نے جو کہنا تھا کہہ دے اب سکون سے گھر میں رہو ان عورتوں کے لیے میں کوئ اچھی وکیل رکھ دو گا فیس بھی میں ہی دے دو گا۔۔۔۔

عمار اب روم سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔

سڑیل انسان اہہہ۔۔۔

زینیہ روٹھا سا چہرہ بناۓ بولا تھا۔۔۔

———————————————————–

کیا ہوا پلوشہ سب ٹھیک ہے ۔۔۔

شاہ زین پریشان ہوتا روم میں آتا بولا تھا جہاں فل اندھیرہ کیے وہ بیڈ کے نیچے دیوار سے لگی بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔

جب وہ اس کے قریب بیٹھتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔

ش۔شاہ زی۔زین وہ آ جاۓ گا۔

گن۔گن۔گندہ انسان۔۔۔۔

پلوشہ اپنے بالوں کو نوچتی بولی تھی۔۔۔

کون آ جاۓ گا دیکھو میں یہی ہو بتاٶ کیا ہوا۔۔۔۔

شاہ زین اس کا ہاتھ پکڑتے پلوشہ کو اپنی گود میں بیٹھاۓ اس کے بال سہلاتا بولا تھا۔۔۔

و۔وہ م۔میں کیا بتاٶ شاہ زین م۔میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔

پلوشہ اس کے سینے سے لگی روتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

میری طرف دیکھو میں دوست ہو تمہارا اچھے والا مجھے بتاٶ میں کچھ نہیں کہو گا ۔۔۔

شاہ زین نرمی سے اس کے ہاتھ چومتا بولا تھا۔۔۔

ت۔تم واقعی کچھ نہ۔نہیں کہو گے۔۔۔

پلوشہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔

ہاں میں سن رہا بولو۔۔۔

پلوشہ کو اب اپنے سینے سے لگاۓ وہ بولا تھا۔۔۔

و۔وہ ج۔جب میں چھوٹی تھی تب گھ۔گھر کے ملازم نے میرا ریپ کیا تھا۔۔۔۔

اس وقت مجھے خود نہیں تھا پتہ کیا ہوا وہ ذلیل ملازم اسی دن ہمارے گھر سے بھاگ گیا تھا۔۔۔۔

پلوشہ اب پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔۔

شاہ زین سکون سے سن رہا تھا۔۔۔

ج۔جب ماما کو بتانے والی تھی کہ اس ملازم نے کیا کیا اسی دن دانین کی موت ہو گی ہمارا سارا گھر بگڑ گیا ماما کو ہوش ہی نہیں تھا میں نے بھی نہیں بتایا پھر۔۔۔

م۔میں نے کبھی کسی سے محبت نہیں نہ ہی مجھے کسی نے دی ماما اپنی حالت میں نڈھال رہتی تھی بابا ان کی وجہ سے پریشان رہتے تھے بلاج لڑکا تھا اسے کیا بتاتی میں ۔۔

پلوشہ ابھی بھی روتی بول رہی تھی۔۔۔

اچھا بھول جاٶ سب میں ہو تمہارے پاس ۔۔۔

شاہ زین اس کے آنسو صاف کرتا اس کے گال سہلاتا بولا تھا ۔۔۔

ن۔نہیں اس انسان نے گندہ کر دیا مجھے م۔میں اچھی لڑکی ہی نہیں گناہ ہو گیا مجھ سے ۔۔۔

پلوشہ اپنے دل کا غبار نکالتی روتی بولی تھی۔۔۔۔

م۔میں تبھی ایسی بنی ایسے کپڑے پہنتی تھی خود سے نفرت تھی مجھے۔۔۔

پلوشہ اب خودی روتی بول رہی تھی۔۔۔۔

جب شاہ زین اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

دیکھا سب دھوکے باز نکلے مرد ہوتا ہی ایسا ہے

اہہہہ اہہہہہ

پلوشہ کافی دیر شاہ زین کا ویٹ کرتی رہی جب روم میں دوبارہ وہ نہیں آیا تبھی شیشے کے واس توڑتے وہ چلائ تھی۔۔۔۔

ز۔زینب نے ٹھیک کہا تھا سب مرد ایک جیسے ہوتے ہے صرف عورت کا جسم چاہتے ہے ی۔یہ مسٹر کالو بھی وہی نکلا جیسے ہی اسے پتہ چلا میں کسی لڑکی تھی چھوڑ گیا مجھے ۔۔

اہہہہ اہہہہ۔۔۔

پلوشہ اب ساری چیزیں توڑتی روتی ہوئ چلا رہی تھی۔۔۔

ارے ارے یہ کیا کر دیا کس بات کا غصہ ہے یار میں ایک ضروری کال میں بزی ہو گیا تھا۔۔۔۔

شاہ زین جلدی سے روم میں آتا پلوشہ کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔

د۔دور رہو ن۔نفرت ہے مج۔مجھے تم بھی ویسے ہی مرد نک۔۔۔

پلوشہ اسے دھکا دیتی بول رہی تھی جب شاہ زین نے اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔

اس کا لمس پاتے پلوشہ ایکدم سکون میں آی تھی۔۔۔

اب بولو کس بات کا غصہ ہے اس ناک پر ۔۔

شاہ زین نرمی سے اس کا ناک چومتا بولا تھا۔۔۔

پلوشہ نے سکون سے آنکھیں بند کی تھی۔۔۔

و۔ہ۔وہ ملا۔۔۔

شششش سب بھول جاٶ بس یاد رکھو ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے کافی ہے یہ جو ہمارے درمیان حسین پل ہے اسے انجواۓ کرو۔۔۔۔

پلوشہ بول رہی تھی جب شاہ زین اس کا بال سہلاتا پیار سے بولا تھا۔۔۔۔

ت۔تمہیں فرق ن۔نہیں پڑا م۔میں ایسی ل۔۔۔

کیوں تمہیں کوئ بیماری ہے جو ایسا کہہ رہی ہو بلکہ میں تو بہت خوش نصیب ہو مجھے تمہاری جیسی معصوم بیوی ملی بس مجھے یاد کیا کرو باقی سب بھول جاٶ وہ ماضی تھا۔۔۔۔

پلوشہ اسے اتنا پر سکون دیکھتی ہکلاتے بول رہی تھی جب شاہ زین اسے بیڈ پر بیٹھاۓ پیار سے بولا تھا۔۔۔۔

م۔میں معصوم ن۔۔۔

میری نظر سے دیکھو ایک ننھی سی بچی ہو جو کسی سے اپنے چیزیں شیئر نہیں کرتی اب تم ایسا کرو سو جاٶ میں رات تک آ جاٶ گا وعدہ کرو اپنا خیال رکھو گی ۔۔۔۔

شاہ زین پلوشہ کا گال سہلاتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔

ہممم۔۔

پلوشہ اب سکون سے بولی تھی۔۔۔

ت۔تم جلدی آٶ گے وعدہ کرو۔۔۔

دروازے کے قریب جاتے شاہ زین کو بھاگ کر بیک ہگ کیے وہ پیار سے بولی تھی۔۔۔۔

ہاں میری جان میں آ جاٶ گا وعدہ تم خیال رکھنا اب کچھ بھی ایسا ویسا مت کرنا۔۔۔

شاہ زین اس کے ہاتھ نرمی سے پکڑتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔۔

اچھا اب کس بھی کرو میں گڈ باۓ والی ۔۔۔

پلوشہ اس کے سامنے آتی معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔

ہاں کرو۔۔۔

شاہ زین اس کے سامنے جھکتے آرام سے بولا تھا۔۔۔

اب جاٶ تم۔۔۔

پلوشہ شرماتے ہوۓ اس کے ماتھے پر کس کرتی بولی تھی۔۔۔

جب شاہ زین بھی اس کا ماتھا چومتا مسکراتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

ک۔کیسی ہے آپو اب۔۔۔

رات کو بیڈ پر آتے روحان کو دیکھ آنیہ بولی تھی۔۔۔

ٹھیک ہے اب دل کو سکون آیا۔۔۔

روحان اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے بولا تھا۔۔۔۔

آ۔پ۔آپ کو ات۔اتنی عزیز۔تھی جنت اور روحاب تو چھوڑ کر کیوں گے تھے۔۔۔۔

آنیہ اپنی ننھی سی انگلیاں اس کی شیو پر پھیرتی بولی تھی۔۔۔۔

اس کی بات پر روحان کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔

روحاب کی گمشدگی پر میں بہت بکھرا اور ٹوٹ سا گیا تھا۔۔۔۔

میری کلاس کے ایک سر تھے میری نظر میں وہ اچھے سر تھے لیکن حقیقت میں وہ ایک شیطان جیسا تھا۔۔۔

روحاب کے جانے کے غم میں اتنا مبتلا ہو چکا تھا وہ سر مجھے روز ڈرگز دیتے تھے۔۔۔

میں اتنا لاپرواہ ہو گیا تھا ان سے ڈرگز لیتا عادی بن چکا تھا۔۔۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ گیارہ سال کی عمر میں میرے رویگھٹے کھڑے ہو چکے تھے۔۔۔۔

روحان آہستہ آہستہ اس کے بال سہلاتا بول رہا تھا۔۔۔

ک۔کیا ہو اتھا۔۔۔

آنیہ نے پریشان ہوتے پوچھا تھا۔۔۔

وہ اتنا گھٹیا انسان تھا مجھے گندی گندی موویز دیکھتا تھا۔۔۔۔

میں پہلے چیختا چلاتا تھا اسے کہتا تھا مجھ پر یہ ظلم مت کرو کہ ایک عورت کا تقدس کو بھول جاٶ میں ۔۔۔

لیکن وہ مجھے ڈرگز اور موویز کا عادی بنا کر اس ملک کا مجرم بنانا چاہتا تھا۔۔۔

میں جب ماما اور جنت کو دیکھتا میری آنکھوں کے سامنے وہ موویز والے سینز آ جاتے پھر مجھے وحشت ہوتی تھی اپنی ماں اور بہن سے ڈرتا تھا کوئ گناہ نہ کر دو میں ۔۔۔

تبھی بالآخر ان سب سے تنگ آتے میں پاکستان چھوڑ کر چلا گیا ۔۔

اپنی ماں اور بہن سے دور رہ کر میں وہ گناہ کرنے سے بچ گیا جو وہ استاد کی شکل میں شیطان مجھے کہتا تھا ۔۔۔

وہاں رہ کر دکھ تو کافی ہوتا تھا اپنے گھر والوں سے دور رہا لیکن پھر دل مطمین ہو جاتا تھا میری ماں اور بہن مجھ سے محفوظ رہی۔۔۔

بس اس لیے میں سب سے دور رہا کہ کوئ گناہ نہ ہو جاۓ مجھ سے۔۔

روحان اپنا سارا ماضی اسے بتا چکا تھا۔۔۔

آ۔آپ بہت اچھ۔اچھے ہے روحان مجھے عشق ہے آپ سے کتنی ۔م۔محبت کرتے ہے آپ سب سے ۔۔۔

آنیہ سب سنتی آنسو بہاتی روحان کے گال کو چومتی بولی تھی۔۔۔۔

مجھے بھی تم سے عشق ہے میری جان بلکہ میری رگوں میں بستی

ہو اب تو۔۔۔

روحان بھی اپنے دل کا غبار نکالے سکون سے اس کے گال چومتا بولا تھا۔۔

جب آنیہ شرمائ تھی۔۔۔

چ۔چلے س۔سو ج۔جاۓ نی۔نیند آی ہے۔۔۔

آنیہ جلدی سے بیڈ پر لیٹتی بولی تھی ۔۔۔

اب تو سونے کا بلکل موڈ نہیں ہے میری جان۔۔۔

روحان اس پر حاوی ہوتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہی۔نہیں ۔۔۔

آنیہ ابھی بول رہی تھی جب روحان نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کے گرفت میں لیتا اس کی سانسوں کو بند کیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

سوری عمار تم جو کہو گے میں کر لو گی اب ناراض تو نہ ہو یہ کدو جیسی شکل مجھے بہت پسند ہے ۔۔۔

رات کو بیڈ پر آتی زینیہ عمار کے سینے پر بیٹھتی اس کے گال کھیچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

تو چشمش تم کیوں نہیں پہلے میری بات مان جاتی پھر میں ناراض نہ ہو۔۔۔

عمار اسے کمر سے پکڑتے اپنی طرف جھکاتے بولا تھا۔۔۔

اچھا اب معاف کر د۔۔۔

معافی ملے گی جب کس کرو گی مجھے۔۔

زینیہ بول رہی تھی جب عمار کروٹ چینج کیے اس کے اوپر آتا بولا تھا۔۔۔

اگر میں نہ کرو پ۔۔۔۔

تو میں زبردستی کر لو گا کس مائ وائف۔۔۔۔

زینیہ اسے تنگ کرتی بول رہی تھی جب عمار اپنے لب اس کے لبوں کے قریب لاتا بولا تھا۔۔۔۔

اووووے سڑک چھاپ پولیس والے میں وکیل ہو ا۔۔۔۔

زینیہ اس کو گردن سے پکڑتے مسکراہٹ روکے بول رہی تھی جب عمار بے خود ہوتا اس کے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں کر چکا تھا ۔۔۔

اس کی بے تابی پر زینیہ مسکرائ تھی۔۔۔۔

————————————————————

ک۔کیسی ہو تم اب۔۔۔

جنت کو سوپ پلاتے سفان ہکلاتے بولا تھا۔۔۔۔

تم نے اتنی سی جان چھوڑ دی سانسیں لے رہی ہو ۔۔۔

اتنا خوش ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے روحان کو اس لیے نہیں بتایا میں نے کیونکہ میں محبت کرتی ہو تم سے سفان خان تبھی یہ سب سہہ گی میں ۔۔۔

جنت سوپ پیتی آرام سے بولی تھی۔۔۔

سفان کو اور زیادہ شرمندگی ہوئ تھی یہ سن کر ۔۔

تمہارا شکریہ ج۔۔۔

ہو سکے تو میرا سر دبا دو۔۔۔

سفان شرمندہ ہوتا بول رہا تھا جب جنت لیٹتی بولی تھی۔۔۔

ہاں میں دبا دیتا ہو۔۔۔

اس کا سر اپنی گود میں رکھتے سفان بولا تھا۔۔۔۔

ماما کہتی تھی جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بے حد محبت ہو جاۓ تب وہ اس کا ہر ظلم برداشت کر لیتی ہے یہ سوچ کر وہ ایک دن اس کے پاس آ جاۓ گا۔۔۔۔

میں آج یہ کہتے زرا شرمندہ نہیں ہوتی سفان تم میری بچپن کی محبت ہو جیسے میں نے پوری شدت سے چاہا ہے۔۔۔

مجھے امید ہے جس دن تمہیں اپنی آنی کا سچ پتہ چلے گا تب تمہیں احساس ہو گا۔۔۔۔

سفان اس کا سر دبا رہا تھا جب جنت اسے ہگ کیے آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔۔۔

سفان یہ سب سنتا اب چپ ہو گیا تھا۔۔۔

———————————————————–

کہاں ہو زین میں اداس ہو گی۔۔۔۔

پلوشہ رات کو اکیلی روم میں بیٹھی بول رہی تھی۔۔

ہاے کیا کرو کدھر رہ گیا۔۔۔۔

پلوشہ اب واقعی بور ہوتی بول رہی تھی۔۔۔۔

چلو جب تک وہ نہیں آتا میں کچھ کر لیتی ہو۔۔

پلوشہ اب وڈراب روم کی طرف جاتی بولی تھی۔۔۔

تم بنو گے میرے زین جب تک وہ نہیں آ جاتا۔۔۔۔

پلوشہ شاہ زین کی شرٹ لیے اب وہ ایک سرہانے پر چڑہاۓ بولی تھی۔۔۔۔

تم کتنے پیارے ہو افففف۔۔۔

پلوشہ اب وہ تکیہ لیتی بیڈ پر لیٹتی سکون سے بولی تھی۔۔۔۔

تمہیں ایک بات بتاٶ آج کہو گی یہ ضدی نک چڑی لڑکی کو تم سے بے حد عشق ہے ایسا عشق جس کو کرنے میں مجھے سکون آۓ گا ۔۔۔

میرا سکون ہوتم تمہارے چھونے سے سکون ہوتا ہے مجھے۔۔۔

پلوشہ اب سرہانے کو ہگ کیے اپنے دل کی بات بتاتی شرماتی بول رہی تھی۔۔۔۔

————————————————————

آ گے تم کدھر تھے پتہ میں نے کتنا مس کیا ہے بور ہو گی تھی میں ۔۔۔

شاہ زین کو روم میں آتا دیکھ پلوشہ جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑے بیڈ پر اسے گراے بولی تھی۔۔۔

اچھا ریلکس م۔میں لیٹ ہو گیا تھا تم لیٹو میں چینج کر لو ۔۔۔

شاہ زین اس کی بے تابی دیکھتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔

کیا چینج کرنا میں کروا دیتی ہو۔۔۔۔

پلوشہ جلدی سے اس کی شرٹ کے بٹن کھولتے بولی تھی۔۔۔۔

طیبعت ٹھیک ہے تمہاری مطلب بخار ہ۔۔۔۔

ہاں بخار ہوا مجھے عشق کا بخار مجھے تم سے بہت سارا والا عشق ہے زین۔۔۔۔

شاہ زین پلوشہ کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جب پلوشہ اس کے دل کے مقام پر لب رکھتے بولی تھی۔۔۔۔

سوچ لو کہی یہ عشق مہنگا نہ پڑ جاۓ میں کالا کلوٹا تم اتنی حسین ل۔۔۔۔

نہیں میں بلکل بھی حسین نہیں ہو بلکہ تم ہو چاہے تمہارا رنگ کالا ہی سہی لیکن تمہارا دل اتنا خوبصورت ہے کہ کیا بتاٶ تبھی مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا ہے ۔۔۔

شاہ زین مسکراتے کروٹ چینج کیے بول رہا تھا جب پلوشہ اب اس کے لب سہلاتی بولی تھی۔۔۔۔

مطلب تم میرے عشق میں رنگنے کو تیار ہو۔۔۔۔

شاہ زین خوش ہوتا آہستہ سے اس کی گردن پر لب سہلاتا بولا تھا۔۔۔

میں تو تمہارے ساتھ اپنی آخری سانس تک جینے کو تیار ہو زین کیا تم مجھ جیسی کو اپناہوں گے ۔۔۔

پلوشہ اسے گردن سے پکڑتے اپنے قریب لاتے نرمی سے اپنی ناک اس کی شیو پر سہلاتے بولی تھی۔۔۔۔

تم بہت پیاری ہو ماضی میں جو کچھ ہوا سب بھول جاٶ میں نے پہلے ہی کہا تھا اپنے یہ لمحات انجواۓ کرو ۔۔۔

شاہ زین اس کے کان کی لو چومتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔

م۔میں و۔۔۔

اگر اجازت ہو تم مجھے اپنی لائف میں شامل ہونے کی اجازت دے دو۔۔۔

پلوشہ گھبراتی شرماتی بول رہی تھی جب شاہ زین اپنی پوری شرٹ ریمو کیے بولا تھا۔۔۔۔

جب پلوشہ نے اپنی رضامندی دیتے اپنی آنکھیں بند کی تھی۔۔۔۔

شاہ زین نے نرمی سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے تھے ۔۔۔

اس کی اجازت پاتے شاہ زین نے اس پر اپنے عشق کی بارش کی تھی۔۔۔۔

شاہ زین کی قربت پاتے پلوشہ کو یقین ہو گیا تھا انسان کا دل و اخلاق اچھا ہونا چاہے ۔۔۔

کبھی کبھی خوبصورت انسان بھی اچھا نہیں ہوتا جتینا خوبصورت دل کا مالک انسان اچھا ہوتا ہے ۔۔۔

پلوشہ خوش تھی بے حد شاہ زین کا ساتھ پا کر جس نے اس جیسی لڑکی کو اپنایا تھا۔۔۔

شاہ زین بھی خوش تھا پلوشہ کا ساتھ پاتے۔۔۔