Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 25)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 25)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
““سفان
جنت
“بلاج
اریج
“بلال
دانین اسپشیل۔۔۔
ادھر آو لڑکی۔۔۔
تاشہ جنت کے روم میں آتی بولی تھی۔۔
جی بولے کیا کہنا آپ نے۔۔۔
جنت بیڈ سے اٹھتی اپنی پینٹ میں ہاتھ پھساۓ بولی تھی۔۔۔
سٹور روم میں تھوڑا سا سامان ہے وہ زرا ملازمہ سے مل کر نکال لو۔۔۔
تاشہ شیطانی مسکراہٹ لاۓ حکم دیتی بولی تھی۔۔۔
جی میں کر لو گی آپ ملازمہ کو بھیج دے ۔۔۔
جنت بھی راضی ہوتی بولی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا اب یہی رہنا ہے تو وہ یہی کے کام کرے گی۔۔۔۔
————————————————————
اففف کتنی دھول مٹی ہے روم میں تم پہلے اسے تو صاف کروا لیتی پاگل عورت۔۔۔
جنت ملازمہ کے ساتھ سٹور روم میں آتی کھانستی بولی تھی۔۔۔
کیونکہ مٹی کی دھول سے اب جنت کا سانس روک رہا تھا۔۔۔
سو۔سوری میم میں کر دیتی ہو کام آپ جا۔۔۔
ارے میں کرواتی ہو کام ورنہ وہ چڑیل آنی سو باتیں سنائ گی سفان کو کہ تمہاری بیوی ایسی ویسی بلا بلا بلا۔۔۔
ملازمہ ڈرتی بول رہی تھی جب جنت منہ بناتی تاشہ کی نقل اتارتی بولی تھی۔۔۔
ہاہااہاہااایا میم یہ کیا تھا۔۔
ملازمہ قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی۔۔
تمہاری بڑی میم کی نقل اتاری میں نے۔۔۔
جنت آنکھ ونک کرتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
اچھا یہ سامان تم سفان کے روم میں رکھ دو میں یہی ہو۔۔۔
پوری مٹی سے چہرے بھرے جنت کام سے فارغ ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
میم آپ شاور لے لیے میں بعد میں یہ سب کر دو گی آپ آے باہر۔۔
ملازمہ جنت کے گندے کپڑے دیکھتی بولی تھی ۔۔
ارے تم جاٶ میں آتی ہو۔۔۔
بڑے بڑے باکس اٹھاتی جنت نے اسے جانے کا کہا تھا۔۔۔
ملازمہ چلی گی تھی جب تاشہ چوڑی چھپے آتی سٹور روم کا ڈور بند کر چکی تھی۔۔۔۔
اففف میری کمر تھک گی بلاج کو پتہ چلا میں نے اتنا وزن اٹھایا ہے تو ڈانٹے گا ۔۔۔۔
ایک تو میرے دل کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔
جنت کی کمر اور دل کی سائیڈ پر پین ہو رہا تھا تبھی گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔
آج تک روحا اور ہارون نے کبھی بھی جنت سے اتنا کام نہیں کروایا تھا جیتنا وہ آج کر چکی تھی ۔۔۔
اب روم میں جا کر گرم پانی سے شاور ل۔۔۔
اہہہ اہہہہہ۔۔۔
جنت اب مسکراتی جلدی سے ڈور اوپن کرتی بول رہی تھی جب ایک باکس سے پاٶں اٹکتے ہی وہ فرش پر مٹی کے اوپر گری تھی۔۔۔۔
ساری مٹی ناک اور منہ کے اندر گی تھی۔۔۔۔
ن۔نسرین۔ک۔کوئ ہے۔۔
س۔سفان۔آ۔ن۔آنی کوئ ہے بچاٶ م۔مجھے یہ۔م۔ٹ۔مٹی میری سانسوں میں جا رہی ہے۔۔۔
مٹی سے لت پت ہوتی جنت بامشکل سانس لیتی چلا رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ اس کی آواز کوئ بھی نہیں سن رہا تھا۔۔۔
———————————————————–
آٶ آٶ میرا ہونہار بیٹا آیا ہے۔۔۔
لنچ پر بلاج کو ڈائنگ ٹیبل پر آتے دیکھ برہان مسکراتے طنز کرتے بولے تھے۔۔۔
اہہہ شکریہ بابا۔۔۔۔
بس سوچا لنچ گھر کر لو۔۔۔
اریج کو بریانی کی ٹرے لاتے دیکھ بلاج دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
بیٹا چوبیس گھنٹوں میں اکیس گھنٹے تو گھر رہتے ہو کام کس وقت کرتے ہو۔۔۔
برہان اپنی مسکراہٹ روکتے بلاج کی طرف دیکھتے بولے تھے ۔۔
جو اریج کو اپنے پاس بیٹھاۓ مسکرا رہا تھا۔۔۔
چلو بابا میں تین گھنٹے کام تو کرتا ہو آپ تو ویلے نکمے میری ماما پر قبصہ ڈال کر بیٹھے ہے ۔۔۔
بلاج بھی بے شرموں کی طرح دانت نکالے ان کے پاس بیٹھیں پریسہ کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔
یہ سارا قصور آپ کا ہے برہان دیکھے اب تو بچے بھی کہنے لگ گے ہے ۔۔۔
پریسہ شرمندہ ہوتی برہان کے کندھے پر مکہ مارتی بولی تھی۔۔۔
اففف میرے جیسے معصوم شوہر پر الزام ہے ۔۔۔
ہاےےےے کہاں جاٶ میں ۔۔۔
برہان پریسہ کا ہاتھ چومتے دہائ دیتے بولے تھے۔۔۔
اففف توبہ توبہ میری غلطی جو آپ کے پاس بیٹھ گی۔۔۔
پریسہ لال چہرہ لیے شرمندہ ہوتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
اریج نے اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔
دیکھو میرے بابا کتنے رومانٹک ہے تبھی میں ایسا ہو۔۔۔
بلاج اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
تم زیادہ بے شرم ہو بابا کی بجاۓ۔۔۔
اریج بھی دانت پیستے ہوۓ بولی تھی۔۔
بے شرم زیادہ ہو تو میری بیٹی بھی آنی چاہے دنیا میں۔۔
بلاج بے باک ہوتا بولا تھا۔۔۔
افففف افففف۔۔۔
اریج اپنے کانوں سے دھواں نکلتے لال چہرہ لے وہاں سے واک آوٹ ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
ویسے دانی تم نے بتایا نہیں آج تک بلال خان تمہیں کیسا لگتا ہے۔۔۔
اذکٰی کے ساتھ مل کر دانین ریڈی گو کھیل رہی تھی گاٶں کے کافی بچے بھی حویلی کے گراونڈ میں کھیل رہے تھے ۔۔۔
جب اذکٰی نے اس سے پوچھا۔۔۔
دوست بہت اچھا ہے پتہ مجھے تو محبت بھی ہو رہی اس سے۔۔۔
دانین وہی اپنے پھولے گال لیتی شرماتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
ارے واہ کیا بات ہے پھر بتایا بلال کو تم نے۔۔۔
اذکٰی بچوں کو بھیجتی اب دانین کو اپنے پاس بیٹھاۓ بولی تھی۔۔۔
شرم آتی بہت کیا بتاٶ اور کیسے بتاٶ وہ تو بڑے مجھ سے پتہ کس بھی سوچ سمجھ کر کرتے ہے ج۔۔۔
ایک منٹ دانی ایسی پرسنل باتیں کسی کو نہیں بتاتے میری جان۔۔۔
اذکٰی اس کی بات سنتی اچانک پریشان ہوتی اسے سمجھاتے بولی تھی۔۔۔
تمہیں بھی نہ بتاٶ کیا۔۔۔
دانین اس کی طرف سوالیہ انداز سے بولی تھی ۔۔
ہاں کسی کو بھی نہیں بس اپنے دوست کو بتایا کرو اچھا میں تمہیں بتاتی ہو اپنے دوست کو کیسے کہو گی تمہیں اس سے پیار ہے۔۔۔
اذکٰی اسے اب آہستہ آہستہ سب بتا چکی تھی۔۔۔۔
ہاے یہ تو سن کر ہی شرم آ گی میں نہیں کر رہی ایسا کچھ۔۔۔
دانین شرماتے ہوۓ کہتی وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہااہاہاہاہ اففففف میری چھوٹی سی بھابھی جان۔۔۔۔
اذکٰی اس کی حرکت پر قہقہ لگاتی مسکرائ تھی۔۔۔۔
————————————————————
اففف کتنا دل گھبرا رہا میرا ۔۔۔
روحا روم میں چکر لگاتی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
کیا ہوا میری پنک روز کو۔۔۔
ہارون انہیں بیک ہگ کرتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔
پ۔پتہ نہیں دل گھبرا رہا آپ ایسا کرے سفان سے پوچھے جنت کیسی ہے ۔۔۔
روحا ان کی طرف اپنا رخ کیے رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔
اچھا ریلکس میں پوچھ لیتا ہو ویسے کیا کہو گا اسے می۔۔
ہاروننننننن یہاں گھبراہٹ سے جان جا رہی میری آپ کو مذاق کی پڑی ہے میں خودی پوچھ لیتی ہو مجھے لگتا جنت ٹھیک نہیں ہے میری۔۔۔
ہارون خان مسکراتے بول رہے تھے جب روحا چیختی چلاتی ہوئ بولتی خودی فون لیے بولی تھی۔۔۔
اچھا بابا لاو میں فون ک۔۔۔
ہلیو بیٹا کیسے ہو۔۔۔
ہارون پاس آتے بول رہے تھے جب روحا فون ملاتی سفان سے بولی تھی۔۔۔
جی ماما میں بلکل ٹھیک آپ سناۓ ۔۔
سفان اپنے آفس میں بیٹھا بولا تھا۔۔۔۔
و۔وہ بیٹا بس یہ پوچھنا تھ ۔تھا ۔
کہ جنت۔ک۔۔۔
ریلکس ماما جو بھی پوچھنا سکون سے پوچھے میں سن رہا ہو۔۔۔
روحا پریشان ہوتی بول رہی تھی جب سفان تحمل سے بولا تھا۔۔۔
اسے کبھی نہیں لگا تھا روحا ویسی عورت ہے جیسا تاشہ نے بتایا تھا۔۔۔۔
تبھی وہ اکثر ان سے نرمی سے بات کرتا تھا۔۔۔
وہ بیٹا پوچھنا یہ تھا جنت کیسی ہے مطلب طیبعت کیسی ہے میری بات نہیں ہوئ اس سے تم زرا بات کروا دیتے۔۔۔
روحا ہارون کی طرف دیکھتی بولی تھی جو انہیں ہی دیکھتے مسکرا رہے تھے ۔۔۔
جی ماما جنت ٹھیک ہے آپ فکر مت کرے میں گھر ہی جا رہا ہو آپ کی بات کروا دیتا ہو۔۔۔
سفان مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
جی اچھا بیٹا۔۔۔۔
روحا بھی خوش ہوتی اب فون پر بات کر رہی تھی۔۔۔۔
————————————————————
آنی جنت کدھر ہے ۔۔۔
سفان دوپہر کو گھر آتا تاشہ کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
اسے پورے گھر میں جنت نہیں ملی تھی۔۔۔
پتہ نہیں یہی کہی ہو گی بیٹھی میں نہیں جانتی۔۔۔
تاشہ جوس پیتی سکون سے لاپرواہ ہوتی بولی تھی۔۔۔
جنت جنت کہاں ہو یار تمہاری ماما کا فون آیا تھا۔۔۔
سفان اب خودی پورے گھر میں چکر لگاتا بول رہا تھا۔۔۔
سٹور روم میں لیٹی جنت اکھڑی سانس لے رہی تھی۔۔
س۔سف۔سفا۔سفان پلیز ہیلپپپپپپپپ۔۔۔
ہمت جمع کرتی جنت چلاتی اب بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔
———————————————————–
جنت جنت یہ سب کیسے ہو گیا افففف پاگل لڑکی کب سے ایسی ہی ہو۔۔۔
سفان جو بولتا جا رہا تھا اچانک جنت کے چلانے کی آواز سنتا سٹور روم کا ڈور اوپن کرتا زمین پر مٹی میں لیٹی جنت کا سر اپنی گود میں رکھتا پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
جہاں آنکھوں سے آنسو بہا کر سفان کے
ہاتھ گیلے کر رہا تھا۔۔۔۔
جنت جنت ہوش میں آٶ۔۔۔
سفان اپنے رومال سے جنت کا سارا چہرہ صاف کرتا بولا تھا۔۔۔۔
اووو مائ گاڈ اس کی سانسیں اتنی کم کیوں چل رہی ہے ۔۔۔
سفان ناک کے پاس اپنا ہاتھ لاتا اس کی مدھم چلتی سانسوں کو چیک کیے بولا تھا۔۔۔
ج۔جنت ہوا کیا ہے کوئ مٹی سے بے ہوش ہوتا ہے تمہاری ماما کا فون آیا تھا جنت میری بات سن رہی ہو۔۔۔۔
سفان اس کا گال تپھتپا ہوا بولا تھا۔۔۔
جب اسے کچھ نظر نہیں آیا تو اس کے چہرے پر جھکے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتے وہ بولا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ وہ اپنی سانسیں اس میں منتقل کر رہا تھا۔۔۔۔
خ۔خوں۔غوں۔۔۔
ہوش میں آتی جنت نڈھال سی کھانسی تھی ۔۔
شکر تم ٹھیک ہو آٶ روم میں چلتے ہے ۔۔۔
جنت کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا وہ خوش ہوتا اب گود میں اٹھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
————————————————————
میں آج بتاٶ گی بلال کو میں کتنی محبت کرتی ہو بلال سے۔۔۔
دانین سی گرین کی فراک پہنے اپنے بالوں کو کھلا چھوڑے ہلکے سے میک اپ کیے وہ شرماتی بول رہی تھی۔۔۔۔
وہ کہی سے بھی وہ چودہ سالہ دانین نہیں لگ رہی تھی جو بلال سے پہلے کمزور سی تھی اب تو یہ گولو مولو سی کیوٹ سی دانین تھی جو بلال خان کے عشق میں بڑی ہو گی تھی۔۔۔۔
ارے واہ بڑی خوش ہو تم کوئ بات ہے کیا۔۔۔
زرمینا اس کو تیار سا دیکھ جلتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
ہاں وہ میں ب۔۔۔
کچھ نہیں ویسے تیار ہوئ تم کیوں آی ہو یہاں ۔۔
دانین اسے بتانے والی تھی جب اذکٰی کی بات یاد آتے وہ زرا سختی سے بولی تھی۔۔۔
ہاں میں یہی بتانے آئ تھی ہم سب دوسرے گاٶں شادی پر جا رہے ہے ۔۔
دار جی نے کہا ہے موسم خراب ہے تم باہر مت جانا بلال شام تک آ جاۓ گا۔۔۔
زرمینا منہ بناتی دارجی کا مسیچ دیا تھا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے اب تم جاٶ۔۔۔۔
دانین شیشے کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
اچھا اس کے ساتھ چھوٹے سے جوتے اچھے لگے گے میرے پاس ہے تم آٶ میں دیتی ہو۔۔۔
زرمینا اب جلتی اس کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ہاں دو۔۔۔
معصوم سی دانین اس کی باتوں میں آتی بولی تھی۔۔۔
وہاں دیکھ رہی ہو جوتے پڑے ہے ۔۔۔
زرمینا اسے حویلی کے پیچھے بنے برف خانے میں اندر دھکیلتی ہوئ بولی تھی ۔۔
آ۔آپی یہاں تو جوتے ہی نہیں ۔۔۔
برف خانے کے اندر جاتی دانین اچانک سردی محسوس کرتی بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ زرمینا اب ڈور بند کیے سکون سے حویلی کے اندر چلی گی تھی۔۔۔
جبکہ دانین وہاں چلا رہی تھی۔۔۔۔
دانی کدھر ہے میں مل لو۔۔۔
دارجی تیار ہوۓ خوش ہوتے بولے تھے۔۔۔
و۔وہ دار جی دانین سو رہی ہے اب اچھا تو نہیں لگتا اسے اٹھایا جاۓ ہم چلے اب۔۔۔
زرمینا اب جلدی سے بولتی ان کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ہاں یہ تو ہے چلو میں فون پر بات کر لو گا دانی بچے سے۔۔۔
دارجی بھی بات مانتے مسکراتے ہوۓ باہر جاتے بولے تھے ۔۔۔
————————————————————
سفان نے میری جان بچائ افففف ۔۔۔
جنت کو جب سے پتہ چلا تھا سفان نے اس کی جان بچائ ہے تب سے وہ خوش ہو رہی تھی۔۔۔
اسے آج احساس ہوا تھا وہ سفان خان سے عشق کرتی ہے ۔۔۔
کیا میں سفان سے محبت کرتی ہو۔۔۔
ہاں میں کرتی ہو محبت افففف کتنے مزے کی فلیگلز ہے میں آج بتاٶ گی مجھے کتنی محبت ہے۔۔۔
جنت خود سے اعتراف کرتی شرماتی ہوئ اب سوچ رہی تھی سفان سے کیسے اظہارِمحبت کرے۔۔۔۔
میں آج تیار رہو گی ہاں ایسا ہی کرتی ہو۔۔۔
جنت اب اٹھتی کبڈ سے اپنی ساڑھی نکالتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
ارے آنی رات ہو گی آپ کدھر جا رہی ہے۔۔۔
رات کو اپنے اسٹڈی روم سے باہر آتے ہال میں شراب پیتی جھولتی تاشہ کو دیکھ سفان بولا تھا۔۔۔
میں جیو یا مرو تم اپنی بیوی کے ساتھ رہو اپنی ماں کا درد بھول گے تم جو اس عورت کی بیٹی کے ساتھ زندگی کی نئی شروعات کرنے جا رہے ہو آخر بیٹے بھی تو ہاشم خان کے ہو جس نے پوری زندگی روحا ہارون خان کی محبت میں مبتلا رہا ہے ۔۔
اور میں ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی میں جا رہی ہو لندن۔۔۔
تاشہ شراب سے جھومتی ہوئ نفرت سے بولی تھی کیونکہ جنت انہیں بتا چکی وہ سفان کو آج اظہارِمحبت کرے گی تبھی وہ جلتی بولی تھی۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ سب آنی ایسا کچھ ن۔۔۔
ایسا ہی تم جا کر دیکھ لو اپنی بیوی کو اہہہ بزدل انسان بلکل باپ جیسے ہو ۔۔۔
سفان غصے سے بول رہا تھا جب تاشہ آگ لگاتی اب باہر جاتی بولی تھی۔۔۔۔
جنت جنت کہاں ہو۔۔۔
سفان اب شدید غصے میں روم میں آتا چلایا تھا جہاں اندھیرہ کیا گیا تھا۔۔۔۔
جن۔۔۔
اس سے پہلے سفان بولتا جب اسے جنت کے ہاتھ اپنے سینے پر محسوس ہوۓ تھے۔۔۔۔
————————————————————
دانی میری جان کدھر ہو۔۔۔
رات کو بلال گھر آیا تھا جب پوری حویلی میں خاموشی دیکھ وہ
پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔
شکر ہے بلال آ گے تم پتہ نہیں دانی کدھر ہے میں بھی ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔
اذکٰی بھی پریشان آتی بولی تھی۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ میں نے تمہاری ذمہ داری پر چھوڑا تھا یار ۔۔۔
ٖغلام کاکا ۔۔
بلال طش میں آتا چلایا تھا۔۔۔
ج۔جی خان جی۔۔۔
کاکا سر جھکاۓ آۓ تھے۔۔۔
دانی کدھر ہے ڈھونڈو ابھی۔۔۔
بلال طش میں آتا بولا تھا۔۔۔
کہاں چلی گی یار اب تو بارش ہونے لگ گی ہے ۔۔۔
اذکٰی اب باہر زور و شور سے ہوتی طوفانی بارش دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
و وہ خان جی م۔میں نے میم کو برف خانے کی طرف جاتے دیکھا تھا۔۔۔
ایک ملازمہ سر جھکاۓ بولی تھی۔۔۔
کیااااا۔۔۔
دانی دانی ۔۔۔۔
بلال یہ سنتا ہی برف خانے کی طرف بھاگتا چلایا تھا۔۔۔
جیسے ہی اس نے ڈور اوپن کیا تھا اندر برف کی مورت بنی دانین بے ہوش پڑی تھی۔۔۔۔
دانی میری جان افففف یہ کتنی نیلی ہو گی ہے۔۔۔
بلال جلدی سے اندر جاتا اسے گود میں اٹھاۓ پریشانی سے بولا تھا جو برف سے نیلی پڑ چکی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر کو بلاٶ جلدی۔۔
اسے گود میں لیتا وہ باہر کی طرف بھاگتا بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
تم مجھے اپنے جال میں پھسانا چاہتی ہو جاہل لڑکی۔۔۔
سفان جنت کا ہاتھ پکڑتے اپنے سامنے لاتا اسے فرش پر دھکا دیتا چلایا تھا ۔۔۔
تاشہ کی باتیں اسے ہتھوڑے کی طرح دماغ میں لگ رہی تھی تبھی وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا۔۔۔
کی۔کی۔کیا قصور ہے میرا جو ایسے جاہل انسان بن رہے ہو ۔۔
جنت اپنے سامنے اسے دیکھتی ڈرتی ہوئ بولی تھی کیونکہ اب اس کے سر سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہہاہا ۔۔۔۔
قصور نہیں گناہ ہے تمہارا کہ تم روحا ہارون خان کی بیٹی ہو ۔۔
سفان اس کے چہرے پر تپھڑ مارتے ہنستا ہوا بولا ۔۔۔
یو ۔۔۔۔
ششش آواز مت آے ورنہ وہ حال کرو گا کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہو گی ۔۔
سفان اسے بالوں سے پکڑتا اس کی بات کاٹتا ہوا بولا ۔۔۔
جنت کو حیرت ہو رہی تھی اس کا روپ دیکھ کر وہ تو محبت کرتی تھی اس سے ۔۔۔
تم اچھا نہیں کر رہے میرے ڈیڈ کو جانتے نہیں تمہارا قتل کر دے گے ۔۔۔
جنت اپنے ہونٹ سے خون صاف کرتی ہمت کرتے بولی ۔۔
ویسے خوبصورت ہو تم بلکل ماں جیسی تبھی تو مجھے تمہاری اس شکل سے نفرت ہے ۔۔
سفان اس کا خوبصورت چہرہ دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
خبردار ٹچ کیا تو مار دو گی ۔۔
جنت اسے روکتی چلاتے ہوے بولی جو بہکے ہوۓ انداز سے اس کی گردن چھونے والا تھا ۔۔
ارےےے جنت بے بی تو ڈر گی ویسے وہ جنت کہاں ہے جو نڈر تھی ۔۔
وہ اس کا مذاق اڑاتا ہوا بولا ۔۔۔
جنت کو آج صیح اس سے ڈر لگا تھا۔۔۔
جبکہ گہری گرین آنکھوں میں غصہ وحشت تھی اس کے ۔۔
تو ہے تم پر جو اپنی کمزوری عورت پر تشدد کرتے نکالتے ہے ۔۔
جنت بے بسی ہوتی اس کے چہرے پر توکتی ہوی بولی ۔۔
وہ تو خود پر حیران تھی اس جاہل انسان سے محبت کیسے کر بیٹھی تھی وہ۔۔۔
تمہاری اتنی ہمت تشدد تو دیکھا نہیں تم نے ابھی بتاتا ہو میں کون ہو ۔۔
جنت کی حرکت دیکھتا سفان غصہ سے کوڑا پکڑتے اسے مارتے بولا ۔۔
آہہہہ آہہہہہ بچاٶ بچاٶ ڈیڈ ڈیڈ ۔۔
جنت درد سے تڑپتی ہوئ چیختی ہوی بولی ۔۔
جبکہ اس کی چیخ و پکار سننے والا کوئ بھی نہیں تھا وہاں ۔۔۔
ہاہااااہہاہاہاہاہااہاہاااا ۔۔۔ایسا درد میں چاہتا تھا ۔۔
جیسے میرے بابا نے سہہ تھا مرتے وقت صرف تمہاری ماں کی وجہ سے ۔۔
تمہیں دیکھ کر ہارون خان اور روحا ہارون خان دونوں تڑپے گے کسی اپنے کو درد میں دیکھو تو کیا ہوتا ہے ۔۔
وہ ہنستا ہوا اسے مارتے ہوے چلاتا کہا رہا تھا ۔۔
جنت خون سے لت پت اپنے ہوش حواس کھوتی زمین پر گری پڑی تھی ۔۔۔
سفان مسلسل اسے مارنے میں بزی تھا۔۔۔۔
کیا ہوا مر گی کیا۔۔۔
کافی دیر اسے مارتے اب سفان سکون میں آتا اس کی سانسوں کو چیک کرتا بولا تھا۔۔۔
جب اسے احساس ہوا تھا وہ سانس مشکل سے لے رہی ہے ۔۔۔
اففف افففف یہ کیا کر دیا میں نے کیسے غصہ سے مارا ہے تف ہے تجھ پر سفان خان۔۔۔
سفان اب شرمندگی سے اس کی سانسوں کو چیک کرتا جلدی سے گود میں لیتا باہر کی طرف بھاگتا بولا تھا۔۔۔۔
سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا اس کا۔۔۔
————————————————————
ڈاکٹر کو بلایا تم نے۔۔۔
روم میں ہیٹر دانین کے گرم کپڑے پہناۓ رضآئ میں لپٹی دانین کے پاٶں رگڑتے بلال نے اندر آتی آذکٰی کو دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔
وہ نہیں آ رہی اتنی طوفانی بارش ہو رہی ہے اس کا آنا مشکل ہے ۔۔
آذکٰی دانین کا گال چھوتی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جو ابھی بھی ٹھنڈا تھا۔۔۔
یار مر جاۓ گی یہ ہمیں کچھ کرنا پڑے گا دانی کے جسم کو گرمی کی ضرورت ہے یہ پوری نہیں کر رہے ۔۔۔
بلال پریشان ہوتے بولا تھا۔۔۔
ڈاکٹر نے ایک حل بتایا وہ جس گرمائش کی ضرورت دانی کو ہے وہ تم دے سکتے ہو۔۔۔
آذکٰی اسے حل بتاتی نظریں جھکا گی
تھی ۔۔۔
ی۔یہ نہیں ہو سکتا دانی بچی ہے اب۔۔۔
اس کی جان بھی جا سکتی ہے سمجھنے کی کوشش کرو بلال ویسے بھی تم کچھ غلط نہیں کرو گے بیوی ہے تمہاری تم بعد میں اسے ہنیڈل کر لینا۔۔۔
بلال اس کی بات کا مطلب سمجھتا ہکلاتا بول رہا تھا جب وہ کہتی روم سے باہر گی تھی۔۔۔۔
نہیں میں ایسا کچھ نہیں کرو گا تم بچی ہو ابھی ۔۔۔
میں ویسے بچا لو گا۔۔۔۔
بلال اس کے اوپر حاوی ہوتا اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں سے گرمائش دیتا بولا تھا۔۔۔۔
جبکہ اس کے جسم تھوڑا سا گرم ہوا تھا۔۔۔۔
کافی دیر تک بلال نے یہ عمل دوہرایا تھا۔۔۔۔
ب۔بلال۔۔۔
ہوش میں آتی دانین اب روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
دانی میری جان شکر تمہیں ہوش آیا یہ سوپ پیو پہلے گرم ہے۔۔۔
بلال جلدی سے اسے سوپ دیتا بولا تھا۔۔۔۔
جب دانین دوبارہ بے ہوش ہوئ تھی۔۔۔
اس کے ہونٹ دوبارہ نیلے ہو چکے تھے ۔۔۔
تمہاری جان بچانے کے لیے مجھے یہ سب کرنا ہو گا ہو سکے تو معاف کر دینا۔۔۔۔
بلال اب اس کی زیادہ بگڑتی حالت دیکھ اپنی شرٹ اتارے اس کے چہرے پر جھکتے بولا تھا۔۔۔۔
بہت نرمی سے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھتا اسے گرمائش دینی شروع کر چکا تھا۔۔۔
دماغ میں صرف یہی بات تھی وہ اپنی دانین کو ایسا کر کے بچا لے گا۔۔۔۔
چاہے جیسے بھی سہی لیکن وہ دانین سے اپنی زندگی کی شروعات کر چکا تھا۔۔۔۔
———————————————————-
ڈاکٹر ڈاکٹر کیا ہوا انہیں ۔۔۔
سفان جلدی سے ڈاکٹر کے پاس آتا بولا ۔۔
آپ کون مسٹر ویسے ان کے ساتھ کوئ اور ہوتا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔
کیونکہ ایک دو دفعہ خودی روحان یہاں آتا جنت کا چیک اپ کروا چکا تھا تبھی ڈاکٹر بولا تھا۔۔۔
جہاں خوبصورت کھڑا مرد پریشان سا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
م۔میں شوہر ۔۔
سفان نے ہکلاتے ہوے کہا ۔۔
ان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔۔۔
ڈاکٹر نے افسوس کرتے کہا ۔۔
کیاااااا وہ شوک ہوتا بولا ۔۔۔
جی آپ کو کیا پتہ نہیں آپ کی مسز ہارٹ پیشنٹ ہے ۔۔
ڈاکٹر نے اس کی فائل چیک کرتے کہا ۔۔۔
کی۔کی۔۔۔لیکن اتنی کم ایج میں ۔۔۔کیسے ۔۔
سفان نے ہکلاتے بات کرتے ادھوری چھوڑتے کہا ۔۔۔
دوسرا ہارٹ اٹیک تھا یہ تو اللہٌ کا کرم تھا بچ گی آئیندہ خیال رکھے گا ۔۔۔
ڈاکٹر اس کا کندھا تھپتپھا کر کہتا چلا گیا تھا ۔۔۔
سفان کے لیے یہ ایک پہاڑ جیسی خبر تھی ۔۔
کیسا شوہر تھا وہ جو اپنی بیوی کا خیال نہ رکھ سکا ۔۔۔
جبکہ وہ ہاتھوں میں سر دیتا سوچ رہا تھا باقی سب کو کیا جواب دے گا ۔۔۔
ڈائمن کو کیا بتاۓ گا وہ اس کی بہن کے ساتھ کیا کر چکا تھا۔۔۔
وہ روحا کو کیا جواب دے گا ان کی بیٹی کا خیال نہ رکھ سکا۔۔۔
سفان کا سر پھٹ رہا تھا وہ کتنا بڑا گناہ کر چکا تھا جنت کو مار کر ۔۔۔۔
