Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 19)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 19)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

مس رامین آپ کچھ اور کہنا چاہے گی۔۔۔

شاہ میر کا وکیل اس کی ملازمہ سے پوچھتا طنزیہ نظروں سے زینیہ کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا شاہ شاہ میر نے کچھ نہیں کیا میں اپنا کیس واپس لیتی ہو۔۔۔

رامین زینیہ سے نظریں چڑاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

وہی زینیہ نے دانت پیسے تھے ۔۔۔

کیونکہ آج اس کے کیس کا آخری فصلیہ ہونے والا تھا۔۔۔

شاہ میر کے حق میں فصلیہ مطلب زینیہ شاہ کی ہار ۔۔۔

زینیہ شاہ کی ہار عمار کیسے برداشت کرتا ۔۔۔

جیسا کہ رامین نے اپنی جھوٹے الزام بتا دے ہے اس لیے عدالت کا ف۔۔۔۔

میرا خیال ہے تمہیں وکالت چھوڑ کے کوئی اور کام شروع کر دینا چاہیے مس زینیہ۔۔۔

جج صاحب اپنا فصلیہ سنا رہے تھے جب یوینفارم میں کھڑے تیار سا عمار بولا تھا۔۔۔

بتا بھی کون رہا مجھے سڑک چھاپ پولیس والا۔۔

زینیہ بھی سب بھولے عمار سے لڑنا شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔

بلکہ کورٹ میں آیا ہر فرد اب ان دونوں کی لڑائ دیکھ رہا تھا۔۔۔

سلائی کڑھائی ‘ یا کوکنگ کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔

عمار اب اس کے پاس آتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بات اگنور کیے بولا تھا۔۔۔

میرا خیال ہے تمہیں یہ دنیا ہی چھوڑ دینی چاہیے۔‘‘۔

زینیہ بھی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اس کی بات سن کر وہ چہرہ جھکا کے دل کھول کے ہنسا تھا۔

اوووو سیرسیلی پھر میرے قتل کا کیس تم لڑنا جو جھوٹا کیس کو بھی صیح ثابت کر دیتی ہو ا۔۔۔۔۔

تمہارا منہ توڑ دینا میں۔۔۔

عمار بول رہا تھا جب زینیہ نے اس کے کالے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں بھرتے کہا تھا۔۔۔۔

تمہارا منہ کون سا بچ جانا مس زینیہ۔۔۔

عمار ویسے ہی سکون سے بولا تھا۔۔۔

و۔۔۔

بسسس بہت ہوا کیا طریقہ ہے یہ آپ دونوں اس ملک کے ہونہار ملازم ہو کیسے جنگلیوں کی طرح لڑ رہے ہو ۔۔۔۔

مس زینیہ اور ایس پی عمار آپ دونوں میرے آفس آے ۔۔۔

کورٹ کا ٹائم ویسٹ کر دیا ۔۔۔

اب یہ فصیلہ ایک ماہ بعد سنایا جاۓ گا ۔۔۔۔

عمار بول رہا تھا جب جج صاحب غصے سے آڈر دیتے وہاں سے چلے گے تھے۔۔۔۔

شاہ میر نے نفرت سے زینیہ کی طرف دیکھا تھا جو سکون سے اب دانت نکال رہی تھی۔۔۔

———————————————————–

ہاے زیادہ زور سے بال کھیچ دے میں نے عمار سوری۔۔۔

دونوں جج کے آفس بیٹھے تھے جب زینیہ پریشان ہوتی عمار کے بالوں کو چھوتی بولی تھی۔۔۔

ارے یار کچھ نہیں ہوا شکر کرو جج نے ایک ماہ کا ٹائم دے دیا اب ہم رامین کو راضی کر لے گے میں کیسے دیکھ لیتا میری زینی یہ کیس ہار جاتی ۔۔۔

عمار زینیہ کے ہاتھ پکڑتے پیارے سے بولا تھا۔۔۔

ہاے عمار میں کتنی خوش ہو تمہیں پا کر لو یو سو مچ جان۔۔۔

زینیہ خوشی سے پاگل ہوتی عمار کے گال پر کس کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاے ایک قابل پولیس والے کی عزت پر ہاتھ ڈال رہی بچاٶ مجھے۔۔۔

عمار اسے کمر سے پکڑے اس کی ناک چومتا ہوا بولا تھا۔۔

فکر مت کرو تم مجھ پر کیس کرنا۔۔۔

زینیہ دوبارہ اس کے گال کو چومتی بولی تھی۔۔

کیسا کیس۔۔

عمار نے حیران ہوتے پوچھا۔۔۔

میرے دل کی قید میں ہمیشہ تم رہو گے بلکہ جب تک میری سانسیں چل رہی ہے یہ کیس کرنا مجھے منظور ہے ۔۔۔

زینیہ دوبارہ اس کا گال چومتی بولی تھی۔۔۔

ہاے یہ میری زینی کو کیا ہوا یہ تو وہ جنگلی والی ہے ہی نہیں ۔۔۔

عمار اب اسے ہگ کیے بولا تھا۔۔۔

آہمم آہممم ہم سب جانتے ہے تم دونوں شادی شدہ ہو۔۔۔

جج صاحب اندر آتے مسکراتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔

ارے انکل آج تو ہی فیل ہوا یہ بیوی ہے میری۔۔۔

عمار بے شرمی سے دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

ہاہاہہاہااہاہا اور مجھے بھی آج ہی پتہ چلا تم واقعی ماہا ٹھرکی اسامہ کے بیٹے ہو۔۔۔

جج مسکراتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔

وہ اسامہ ہارون زیان کے دوست تھے جنھوں نے یہ کیس کا فصیلہ سنانا تھا ۔۔۔

اچھا اب میری سن لے ۔۔

عمار اب سنجیدہ ہوتا اپنا پلان زینیہ اور بہروز ملک کو بتا رہا تھا۔۔۔۔

————————————————————

ادھر آٶ تم ۔۔۔

جنت جوس کا گلاس لیتی ہال سے گزارتی روم میں جا رہی تھی جب تاشہ نے اسے آواز دی۔۔۔

یہ بولے۔۔۔

جنت وہی سے بولی تھی۔۔۔

میرے شوز لے کر آٶ ۔۔۔

تاشہ صوفے پر بیٹھتی بولی تھی۔۔۔

کیوں آپ معذور ہو گی جو چل نہیں سکتی۔۔۔

جنت ان کے پاٶں کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔

زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں جی۔۔۔۔۔

لو میں نے کچھ غلط کہہ دیا بس پوچھا ہے اگر معذور نہیں ہے خودی لے سوری میں یہ کام نہیں کر سکتی ۔۔۔۔

تاشہ آگ بگولہ ہوتی بول رہی تھی جب جنت سکون سے کہتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔۔۔

————————————————————

چٹاخ۔۔۔

جنت روم میں آتی جوس پی رہی تھی جب شدید غصے میں آتے سفان نے اسے تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔

ہمت کیسے ہوئ میری آنی کو جوا۔۔۔۔

چٹاخ ۔چٹاخ۔۔۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئ جنت ہارون خان کو مارنے کی کیا اپنی موت سے ڈرتے نہیں تم ۔۔۔

سفان اسے کھڑا کیے بول رہا تھا جب جنت بھی سکون سے اسے تھپڑ مارتی دھاڑی تھی۔۔۔

سفان شوک تھا اسے امید نہیں تھی جنت سے۔۔۔

آنی کو کیا کہا ت۔۔۔

اہہہہ میرا بچہ آنی سے ہی پوچھ لیتے میرے پاس کیوں آے ہو تمہاری آنی ننھی کاکی ہے جو اسے شوز پہناٶ میں تم کہتے ہو تو کپڑے بھی پہنا دیتی ہو۔۔۔۔

سفان بول رہا تھا جب جنت اس کے سرخ گال پر انگلی رکھتی طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی۔۔۔

مسٹر سفان اتنا تو مجھے پتہ تمہارے دماغ میں میری ماما کے خلاف جو اخناس تمہاری آنی نے بھرا ہے وہ فضول ہے ۔۔۔

اور تمہیں پتہ تم میرے ساتھ برا کرتے ہو مجھے زرا دکھ نہیں ہوتا جانتے ہو کیوں ۔۔۔۔

کیونکہ میں جنت ہارون خان ہو روحان ہارون خان کی بہن ہو ۔۔۔

جس دن میں نے خود اپنے بابا کو بتایا تم کیا کرتے ہو میرے ساتھ ۔۔

اس دن تمہارے اس جسم کے اتنے ٹکڑے ٹکڑے کرے گے بابا کہ تمہارے ٹکڑے کوٶں کتوں کو بھی نہیں ملے گے ۔۔۔

سمجھے تم یہ تمہارا ٹائم ہے تم انجواۓ کرو ۔۔۔۔

اور ہاں یہ آنی تمہاری ہے میری نہیں بیوی تمہاری ہو تمہارا کام کر سکتی ہو آ جاٶ کافی بنای ہے پی لو ۔۔۔

جنت آرام سے بولتی سفان کے گال پر لب رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جانتی ہو لڑکی چاہے بہادر ہو یا ڈرپوک جب اسے طلاق ہوتی ہے تو داغ ہوتا اس کے لیے میں تمہیں طلاق دے دو پر افسوس پھر تمہارے ماں باپ کی تربیت پر لفظ آ۔۔۔۔۔

سفان اسے غصے سے کمر سے پکڑے بول رہا تھا جب جنت اسے بیڈ پر دھکا دیتی اس پر جھکی تھی ۔۔۔

میری ماما نے بہت اچھی تربیت کی ہے انھوں نے بتایا ہے شوہر سے کیسے محبت کرنی ہے روکو میں بتاتی ہو۔۔۔

جنت اس کی شرٹ جھٹکے سے پھاڑتی اس کے مضبوط سینے پر ہاتھ پھیرتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

سفان کی سانس روکی تھی ۔۔۔۔

پیچھے ہ۔۔۔۔

سفان ابھی اسے خود سے دور کرتا بول رہا تھا جب جنت نے اپنے لب اس کی گردن پر رکھے تھے ۔۔۔۔

اہہہہ کیا ہوا بولتی بند ہو گی مسٹر سفان کی ۔۔۔۔

جنت سفان کے ماتھے سے پیسنہ صاف کرتی طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔۔

ڈرتا نہیں ہو میں سم۔۔۔

سفان ہمت کرتا بول رہا تھا جب جنت نے اپنی آنکھیں بند کیے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے تھے ۔۔۔۔

سفان کی حیرت سے آنکھیں پھٹی تھی وہ تو جنت کو ڈرا رہا تھا جبکہ وہ لڑکی ڈرنے کی بجاۓ اس کی جان نکال رہی تھی ۔۔۔۔

چ۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔

سفان اسے خود سے دور کرتا باہر کو بھاگا تھا۔۔۔۔

ہاہااہاہہااہاہہاہااا میرا بے بی ڈر گیا۔۔۔

جنت بیڈ پر لیٹتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

وہ سمجھ گی تھی سفان کو کیسے ہنیڈل کرنا تھا۔۔۔

————————————————————

میری شرط ہے شانی۔۔۔

روحاب نے جب دیکھا سبحان کسی بھی طور اس کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تبھی وہ جان بوجھ کر شرط رکھتی بولی تھی۔۔۔

بولو۔۔

سبحان اس کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا تھا۔۔۔

میرے ساتھ یہاں کھوٹھے پر رہو گے میں تمہارے ساتھ نہیں جانا اگر میرا دل تم نے جیت لیا میں تمہارے ساتھ جانے کو تیار ہو بولو کرو گے ایسا ۔۔۔۔

روحاب اس کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

مجھے کام ہے ۔۔۔

سبحان اچانک سنجیدہ ہوتا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

ہاہاہاہہاہااا میں جانتی تھی مجھے جیسی گندی لڑکی کے ساتھ کوئ نہیں رہ سکتا انہہہ محبت کرتا مجھ سے۔۔۔

روحاب قہقہ لگاتی اپنے آنسو صاف کرتی بولی تھی۔۔۔

———————————————————–

پھر کیا کرو گے تم میں تو کہتا ہو مجھے جانے دو روحی کو لے آٶ گا۔۔۔

ڈائمن ساری بات سنتا پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

نہیں یار میں بہت شرمندہ ہو اس کی حالت دیکھ کر سب میری وجہ سے ہوا اگر تب میں ہمت کرتا تو ان لوگوں سے اپنی روحی بچا لیتا پر بابا نے ایسا نہیں کرنے دیا ۔۔۔۔

مجھے اب خودی اسے اپنے گھر لانا پڑے گا میں وہی رہو گا تب تک جب تک وہ خود نہیں کہہ دیتی اسے گھر جانا ہے ۔۔۔۔

سبحان اپنی ساری بات اسے بتاتا بولا تھا۔۔۔

لیکن یار تم کیسے رہو گے مطلب تم آرمی والے ہو ا۔۔۔

میں ہنیڈل کر لو سب مجھے بس اب روحی چاہے ۔۔۔

آج بھی اس کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے ہے ۔۔۔

جب وہ سب کو چھوڑ کر بس مجھے کہہ رہی تھی بچاٶ مجھے شانی تم مجھے بچا سکتے ہو ۔۔۔

پتہ نہیں اتنے سال اس نے کتنی راتوں میں میرا ویٹ کیا ہو گا کہ میں آٶ گا ۔۔۔

اچھا چھوڑو سالے صاحب میری رخصتی کرواٶ میں جا رہا۔۔۔

سبحان اب اپنا بیگ اٹھاتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

توبہ توبہ تمہیں کون کہہ سکتا ہے تو آرمی والا ہے مجنوں۔۔۔

ڈائمن اسے سینے سے لگاۓ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہاے بس غرور نہیں کیا جانی ۔۔۔

سبحان بھی اس سے گلے

ملتا ہوا بولا تھا۔۔۔

———————————————————

ہاے روحی بھوک لگی ہے یار کیسی بیوی ہو شوہر بھوکا ہے تم سو رہی ۔۔۔

رات کو روحاب اپنے روم میں سو رہی تھی جب سبحان اندر آتا شور مچاتا بولا تھا۔۔۔

تم کیوں آے ہو۔۔۔

روحاب تو حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تمہارے ساتھ رہنے یار اچھا چھوڑو کھانے کو کچھ دو ۔۔۔

سبحان آرام سے بیڈ پر لیٹاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

روحاب سوچ میں گم اٹھ کر کچن میں گی تھی اسے امید نہ تھی سبحان اس کی خاطر یہاں رہنے لگ جاۓ گا۔۔۔

یہ لو کھا لو۔۔

روحاب جان بوجھ کر شلجم کا سالن ساتھ ایک روٹی لے کر آتی بولی تھی ۔۔۔۔

وہ جانتی تھی اتنے سے کھانے سے سبحان کی بھوک مٹنے والی نہیں تھی دوسری بات شلجم سبحان کو پسند نہیں تھے ۔۔۔

تمہیں پتہ مجھے یہ نہیں پسند۔۔۔

سبحان اب سالن دیکھتا بولا تھا۔۔۔

ہاں تو چلے جاٶ تم امیر ہو میں نہیں یہ میرے پیسوں سے آیا ہے سالن اب مجھے کیا پتہ تھا تم بھی آ جاٶ گے ۔۔۔

روحاب برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔

ہممم۔۔۔

سبحان نے بس اسے گھورا تھا۔۔۔

————————————————————

ہاے لگتا بھوک زیادہ لگی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہے تھا۔۔۔

سبحان کو مگن اب کھانا کھاتے دیکھ روحاب پاس بیٹھے سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

شکریہ مزہ آیا۔۔۔

سبحان کھانے سے فارغ ہوتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

انہہہ میرے سر پر آ گے۔۔۔

روحاب برتن اٹھاتی منہ بناتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔

ت۔تم یہاں سوٶ گے کیا نکلو باہر۔۔۔

روحاب واپس اندر آتی اسے اپنے چھوٹے سے بیڈ پر لیٹتے دیکھ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

ہاے تم چاہتی ہو وہ باہر کی ساری لڑکیاں تمہارے معصوم سے شوہر پر ڈورے ڈالے کیسی بیوی ہو میں یہی سوٶ گا۔۔۔

سبحان اٹھ کر اس کے قریب آتا اسے کمر سے پکڑے بولا تھا۔۔۔

یہ بات بات پر پاس کیوں آتے ہو دور ر۔۔۔۔

شوہر پاس ہی آتا ہے جانی کیا یہ بھی نہیں پتہ ۔۔۔

روحاب گھبراتی ہوئ اسے دور کرتی بول رہی تھی جب سبحان اس کی بات کاٹتا ہوا نرمی سے اس کے لبوں کو چھوتا بولا تھا ۔۔۔

انہہہ بے شرم ۔۔۔

روحاب اسے دھکا دیتی بھاگتی واش روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔

اب خود کو کوس رہی تھی کیوں سبحان کو یہ شرط بتای تھی جو ایلفی کی طرح اسے چیپک گیا تھا ۔۔۔