Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 27)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 27)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
““پانچ ماہ بعد۔۔۔۔
یہ لو جنت جوس پی لو۔۔۔
سفان جنت کے لیے جوس کا گلاس لاتا بولا تھا۔۔۔۔
شکریہ ۔۔
جنت نے آرام سے جوس کا گلاس لیتی بولی تھی۔۔۔
اور کچھ چاہے تمہیں ۔۔
سفان اس کے قریب بیٹھتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔
ان پانچ ماہ میں سفان نے بلکل اچھے شوہر کی طرح جنت کا خیال رکھا تھا وہ مسلسل کوشش کر رہا تھا جنت سے معافی مانگ سکے اپنی غلطیوں کے لیے لیکن ہر دفعہ جنت اس کی یہ بات اگنور کر دیتی تھی۔۔۔
ہاں چاہے مجھے کیا دو گے تم ۔۔۔
جنت جوس کا گلاس اب فینش کرتی مسکراہٹ روکے بولی تھی۔۔۔
ہاں بولو کیا چاہے پھر میں نے آفس جانا ہے آج شاہد لیٹ ہو جاٶ۔۔۔
سفان نظریں چڑاتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
ان پانچ ماہ میں ۔میں نے وہ سفان خان کھو دیا ہے جو رعب دار تھا جو ہر بات پر مسلسل لڑتا تھا میری ہر بات کو رد کر دیتا تھا ۔۔۔
اس سے بات کرنے میں مزہ آتا تھا اسے تنگ کرنے میں بھی لیکن اب تم وہ نہیں ہو مجھے مزہ نہیں آتا جب بھی بات کرو تم نظریں چڑا کر بات کرتے ہو کیا ہوا ہے سفان ۔۔۔
جنت نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑتے آہستہ آہستہ بولی تھی۔۔۔۔
م۔میں بہت شرمندہ ہو جنت اپنے کیے پر چاہے روحا ماما سے نفرت سہی لیکن مجھے تمہیں مارنا نہیں چاہے تھا ۔۔۔
کیا جاہل بزدل مردوں کی طرح میں نے برتاو کیا تھا۔۔۔
میں پھس گیا ہو کون سچا ہے کون جھوٹا ۔۔۔
آنی کی بات سنو تو وہ ٹھیک لگتی روحا ماما کی طرف دیکھو تو ایک درد دل میں آٹھتا ہے کہ ماما ایسی نہیں ہو سکتی اب اسی کشمکش متبلا ہو کیا کرو۔۔۔۔
سفان ویسے ہی نظریں جھکاۓ بولا تھا۔۔۔۔
میری طرف دیکھو تم ۔۔
جنت اسے تھوڑی سے پکڑتی اپنی طرف اس کا چہرہ کیے بولی تھی۔۔۔۔۔
میری ماما کہتی ہے اگر کوئ انسان برا ہے تو اس سے نفرت نہیں کرنی چاہے بلکہ اس کی برائ سے نفرت کرنی چاہے
مجھے امید ہے کوئ تو مسئلہ ہوا ہو گا تمہارے ساتھ جو تم ایسے بنے تھے اور ایک دن ایسا ضرور آۓ گا تمہیں میری ماما بھی اچھی لگے گی ۔۔۔
باقی جو کچھ بھی ہوا اسے بھول جاٶ ۔۔۔
جنت اس کے بال ماتھے سے پیچھے کرتی نرمی سے بولی تھی۔۔
ت۔تم مجھے معاف ک۔۔۔
میں معاف تبھی کرو گی جس دن تمہیں میری ماما سچی لگے گی ۔۔۔
تب تک تم اپنی آنی سے پوچھو کہ ہوا کیا تھا۔۔۔۔
سفان اس کے ہاتھوں کو پکڑتے پیار سے بول رہا تھا۔۔۔۔
جب جنت مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہممم۔۔
سفان شرمندہ ہوتا چپ ہو گیا تھا۔۔۔۔
————————————————————
بلال کدھر ہے اذکٰی۔۔۔
دانین اس کے روم میں آتی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
وہ مردانے میں ہے کوئ فصیلہ سننا تھا اس نے کیوں کیا ہوا۔۔۔
اذکٰی اس کا ہاتھ پکڑتے بولی تھی۔۔۔
وہ میں انہیں ہی بتاٶ گی میں آتی ہو۔۔۔
دانین جلدی سے روم سے باہر جاتی بولی تھی۔۔۔
———————————————————–
خان جی میں بہت غریب انسان ہو وہ دوسرے گاٶں کے لڑکے نے میری بیٹی کی عزت لوٹنے کی کوشش کی ۔۔
ایک غریب انسان کے پاس عزت ہی ہوتی ہے اگر وہ بھی چلی جاتی تو میں کہاں جاتا مجھے انصاف چاہے خان جی ۔۔۔
بلال سب گاٶں کے آدمیوں کے درمیان بیٹھا ان سب کی درخواست سن رہا تھا۔۔۔
جب ایک آدمی روتا ہوا پاس آتا بولا تھا۔۔۔
دارجی بھی آج چپ تھے وہ چاہتے تھے بلال خود یہ سب کرے۔۔۔
تم کچھ کہنا چاہو گے۔۔۔۔
بلال اس لڑکے کو اپنے آدمیوں کی گرفت میں پکڑتا دیکھ سرد مہری سے بولا تھا۔۔۔
و۔وہ خان جی میرا ایسا مقصد نہیں تھا میں تو بس اس کی بیٹی سے محبت کرتا تھا میں تو چاہتا ہو میرا نکاح کر دیا چاہے یہ جھوٹ بول رہے ہے۔۔۔
لڑکا منت کرتا روتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
و۔۔۔
بلال بلال کدھر تھے آپ میں نے ساری حویلی ڈھونڈ لی وہ تو آذکٰی آپی نے بتایا مجھے ۔۔۔
اس سے پہلے بلال کچھ کہتا جب دانین اپنے چھوٹے سے قدموں سے چلتی سب کو اگنور کیے سیدھا اسی کی گود میں آتی بولی تھی۔۔۔
سب گاٶں والوں نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔۔
دانی میری جان روم میں چل کر بات کرتے ا۔۔۔
بلکل نہیں آپ ابھی سنے میری بات ۔۔
بلال زرا شرمندہ ہوتا بول رہا تھا جب دانین ضدی انداز سے بولی تھی۔۔۔
اچھا جلدی بولو کیا ب۔۔۔
یہ کیسے بات کر رہے آپ دارجی دیکھ رہے اب یہ مجھ سے محبت نہیں کرتے ۔۔۔
بلال کو ایسا بولتے دیکھ اچانک دانین رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
اچھا سوری میری جان اب بولو کیا بات تھی۔۔۔
بلال جلدی سے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑتے بولا تھا۔۔۔
وہ بلاج لالہ باپ بنے والے ہے مطلب ان کے بے بی آۓ گا۔۔۔
دانین اب مسکراتی بول رہی تھی۔۔
پھر اس سے آگے۔
بلال نے جلدی سے پوچھا تھا۔۔۔
وہ میں کہہ رہی تھی ان کے بے بی آنے والا ہے تو ہمارا بھی آنا چاہے بے بی میں ہینڈل کر لو گی بلال ۔۔۔
دانین کی بات سنتے دارجی کے ساتھ سب لوگوں نے مسکراہٹ روکی تھی کیونکہ بلال کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔
ہ۔ہم۔ بھی لے گے ا۔۔۔
کب لینا ہم نے بے بی کدھر سے ملے گا آپ بتاۓ ہم جاۓ گے
میں پھر تیار ہو جاٶ ہم نے بے بی بھی لینے جانا ہے ۔۔۔۔
بلال بات کو ہنیڈل کرتا بول رہا تھا جب دانین جلدی سے بولی تھی۔۔۔۔
دارجی کے اشارے پر سب اب وہاں سے چلے گے تھے اب وہاں دونوں اکیلے تھے۔۔۔۔
یار دانین اس رات جو میں نے کیا وہ صرف تمہاری جان بچانے کے لیے تھا میں پہلے ہی شرمندہ ہو ا۔۔۔
تو آپ نے مجھ سے پیار نہیں کیا تھا کیا آپ نے تو یہی کہا تھا مجھے۔۔۔
بلال اسے دیکھتا بول رہا تھا جب دانین ایک نیو ایشو کھول کر بیٹھتی بولی تھی۔۔۔
ہاں میں نے پیار کیا تھا اپنی جان کو اس دن اچھا جاٶ اپنی وہ والی فراک پہنو جو میں لندن سے لایا تھا مجھے پیاری لگتی ہو اس میں ۔۔۔
بلال جلدی سے بات بدلتا ہوا بولا تھا جانتا تھا ابھی اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آۓ گا۔۔۔۔
اچھا میں جاتی ہو ۔۔۔
دانین اب خوش ہوتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
————————————————————
یار تمہیں سکون نہیں ہے زرا سا بھی کیا اتنے سارے نوکر ہے گھر میں لیکن ابھی بھی خودی چل رہی ہو۔۔۔۔
روحان آنیہ کو کمر سے پکڑے آہستہ آہستہ ساتھ چلتا بولا تھا۔۔۔
و۔وہ۔ڈ۔ڈاکٹر نے کہا تھا واک کیا۔ک۔کرو وہی کر رہی تھی۔۔۔
آنیہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی کیونکہ روحان اسے اب گود میں اٹھا چکا تھا۔۔۔۔
تبھی واک کیا کرو جب تمہارے پاس کوئ اور بھی ہو خودی چل پڑتی ہو ۔۔۔
روحان اب اپنے بھاری قدم لیتا ہوا مسکراتا بولا تھا۔۔۔۔
ا۔ایسی واک بھی نہیں کہا تھا ڈ۔ڈاکٹر نے کہ بچہ بن۔کر واک کرو آپ کی گود میں ۔۔۔
آنیہ اب اپنے ہاتھ اس کے سینے پر رکھتی ابھی بھی روٹھے پن سے بولی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر نے واک کا کہا تھا چاہے تم کرو یا میں کرواٶ ایک ہی بات ہے ۔۔۔۔
روحان اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
ن۔نہ کیا کرے۔۔۔۔
آنیہ سے کوئ بہانہ نہ بنا تو شرماتے ہوۓ اسی کے سینے میں منہ چھپا گی تھی۔۔۔
————————————————————
شجرت بیٹا آو ہم کھانا کھاتے ہے ۔۔۔
شجرت کو اپنی گود میں بیٹھاۓ حجاب مسکراتی بولی تھی۔۔۔۔
آج میں تم دونوں کو کھانا کھلاٶ گا۔۔۔۔
آذان وہاں آتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
کیوں ہمارے ہاتھ نہیں کیا جو تم کھلاٶ ۔۔
حجاب نکھرہ کرتی بولی تھی۔۔۔
ارے بھای جان آپ کو زیادہ ہی شوق ہے مجھے ہی کھانا کھلا دے۔۔۔
اس سے پہلے آذان کچھ کہتا جب عمار زینیہ کو لے آتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔۔
کیوں تیری بیوی کھانے کو نہیں دیتی میں تو اپنی بیوی کو کھلاٶ گا بس ۔۔۔
آذان مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاں زینی خودی کھا جاتی ہے دیکھے موٹی ہو گی یہ۔۔۔
عمار زینیہ کو آرام سے صوفے پر بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ ۔۔
میں سچی موٹی کیا حجاب بھابھی۔۔۔
زینیہ رونی شکل سے چلاتے حجاب کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
نہیں تم بہت پیاری لگ رہی ہو یہ عمار جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔۔
حجاب زینیہ کے لال گالوں کو چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
ارے بھابھی موٹے گلاسز لگاۓ یہ موٹیییییییییییییییی۔۔۔
اہہہہ اہہہہہہ۔۔۔
عمار پھر شرارتی انداز سے بول رہا تھا جب زینیہ نے شدید غصے سے اس کی کمر پر مکا مارا تھا۔۔۔۔
تبھی وہ بولتا چلایا تھا۔۔۔۔
ہاہااہااہاہاہہاہاہااہای۔۔۔۔۔
کیا یار مرد بن ایک عورت سے مار کھا رہے تم اب مجھے ہی دیکھو لو میں اپنی بیوی کو کبھی موٹی کہا بلکہ یہ تو موٹی ہے ہی نہیں موٹے ہو گے اس کے دشمن۔۔۔۔
عمار کی حالت انجواۓ کرتا آذان قہقہ لگاتا حجاب کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
یار زینی ایسے کوئ مارتا ہے کیا کتنا پین ہو رہا اب مجھے موٹی کہا تھا ہوئ تو نہیں تھی تم۔۔۔
عمار زینیہ کو پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ اس کے سر پر تھوڑی رکھتا بولا تھا۔۔۔۔
اہہہہ سڑک چھاپ پولیس والے تم نے کہا ہی کیوں میں تم پر کیس کر دو گی۔۔۔
زینیہ روٹھا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
یار مذاق تھا بلکہ تم اس روپ میں بے حد خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔
عمار پیار سے اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اہہہ بے شرم لڑکے کچھ لحاظ کر لو بڑا بھای سامنے بیٹھا ہے اور تمہیں رومینس سوچ رہا ۔۔۔
آذان مضوعنی منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔۔
تو تم بھی کر لو میں نے منع نہیں کیا۔۔۔۔
اچانک عمار سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
میں بھی کرتا ہو اپنی جان سے عشق یہ تو ایویں بس موٹااااااااااااا۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ یہ کیا تھا حجاب ۔۔۔۔
آذان پاس بیٹھی حجاب کا ہاتھ پکڑے اس کا سرخ چہرہ دیکھتا بول رہا تھا جب اس نے شدید غصے سے آذان کا ہاتھ ہی مڑور دیا تھا۔۔
تبھی وہ اب چلایا تھا۔۔۔۔
تم جانتے ہو کتنی دفعہ مجھے موٹا کہہ چکے ہو بات بات پر۔۔
جاٶ میں بات نہیں کرتی شجرت کو لے کر اپنے گھر جا رہی میں ۔۔۔
حجاب روٹھا سا چہرہ بناۓ وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
ہاے میرا رس گلا ناراض ہو گیا ہاے میں منانے کو تیار ہو ۔۔۔
دور جاتی حجاب کو گود میں اٹھاۓ وہ بولا تھا۔۔۔
ی۔ہ۔یہ کیا تھا میں صرف مذاق کر رہی تھی چھوڑو سامنے عمار بیٹھا ہے۔۔۔
حجاب ہکلاتی شوک ہوتی آذان کی باہوں میں مچلتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
وہ صرف اسے تنگ کر رہی تھی۔۔۔
ارے یہ خود بے شرم ہے اسے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔
آذان حجاب کو لے اب اپنے روم میں جاتا بولا تھا۔۔۔۔
جبکہ عمار اور زینیہ نے قہقہ روکا تھا کیونکہ حجاب اسے مسلسل مکہ مار رہی تھی۔۔۔
جیسے سکون سے کھاتے وہ روم میں جا رہا تھا۔۔۔۔
———————————————————–
ش۔شانی ایک بات کرو میں۔۔۔
روحاب سبحان کے پاس آتی بولی تھی۔۔
ان پانچ ماہ میں روحاب کو یقین ہو گیا تھا سبحان اس سے عشق کرتا جس نے ہر صورت میں اس کا ساتھ دیا تھا۔۔۔
روحاب جب بھی اسے تنگ کرتی سبحان آرام سے برداشت کر جاتا تھا۔۔۔۔
اس کا ساتھ پاتے روحاب خوش تھی ۔۔
اب وہ اپنے گھر والوں کے پاس جانا چاہتی تھی۔۔۔
تبھی نروس ہوتی اس کے پاس آی تھی ۔۔۔
ہاں بولو میری جان ۔۔۔
سبحان اس کا ہاتھ پکڑے اپنی گود میں بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔۔
و۔وہ۔تم۔نے اس دن بتایا تھا آپو کو کچھ ہوا ہے کیا ہوا ان کو۔۔۔۔
روحاب گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔۔
ہاں جنت کو ہارٹ اٹیک آیا تھا اب ٹ۔۔۔
کییییییییییاااااا اب کسی ہے آپو اففف شانی میں ملنا چاہتی ہو ان سے کتنے سال ان سے دور رہی میں ۔۔۔
سبحان آرام سے بول رہا تھا جب روحاب چیختی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
کیا تم واقعی سب کے پاس ج۔۔۔
ہاں میں جانا چاہتی ہو اپنی ماما بابا کے پاس اپنے جان سے پیارے بھای کے پاس اپنی ماں جیسی آپو کے پاس میں سب کے پاس جانا چاہتی ہو اپنی آنی کے پاس جانا ۔۔۔
مجھے لے جاٶ یہاں سے میں ان سب کے پاس رہنا چاہتی ہو اب تو میں اچھی والی لڑکی ہو تم نے مجھے بتایا تھا اس رات جو ہوا میرے ساتھ وہ سب وہم تھا میں گندی لڑکی نہیں تھی۔۔۔۔
سبحان شوک ہوتا بول رہا تھا جب روحاب روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
سبحان نے جھوٹ بولا تھا اس سے اس کے ساتھ وہ حادثہ نہیں ہوا تھا وہ جیسٹ وہم تھا وہ اچھی لڑکی تھی ۔۔۔۔
وہ شوہر ہو کر جان گیا تھا۔۔۔
بس اسی بات پر روحاب اپنے سالوں کے خول سے باہر آ گی تھی یہ جھوٹ سن کر وہ اچھی لڑکی تھی ۔۔۔۔
اور سبحان خوش تھا روحاب اس سے بھی محبت کرنے لگ گی تھی۔۔۔۔
ہاں ضرور جاۓ گے بلکہ تم تیاری کرو ہم جلد ہی جاۓ گے آنی تمہیں دیکھ کر خوش ہو جاۓ گی ۔۔۔
اور جنت بھی مجھ سے خوش ہو جاۓ گی سالوں سے اس کی نفرت کا نشانہ بنا ہو اب میں آزاد ہو جاٶ گا اس کی نفرت سے۔۔۔۔
سبحان اس کے آنسو اپنے لبوں سے صاف کرتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔۔
کیوں تم تو بہت اچھے ہو آپو کیوں نفرت کرتی تم سے۔۔۔
روحاب اس کی گال سہلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
یار ان کا مانا ہے تم میری وجہ سے اغواہ ہوئ تھی ۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ بتاٶ آنی کے گھر رہو گی یا میرے گھر۔۔۔
سبحان بولتا ہوا اچانک بات بدلتا ہوا بولا تھا۔۔۔
کیونکہ روحاب اداس ہو چکی تھی ۔۔۔
ظاہر سی بات ہے اپنی ماما کے گھر جاٶ گی بہت رہ لیا تمہارے ساتھ۔۔۔۔
روحاب اسے تنگ کرتی بولی تھی۔۔۔۔
اچھا جی ابھی بتاتا ہو میں تم کس کے ساتھ رہو گی۔۔۔
سبحان اسے بیڈ پر گراۓ اس کی گدگدی کرتا بولا تھا۔۔۔
ہاہ۔نہیں ۔۔ہاہاہہا۔۔۔۔کرو ۔۔۔ہاہاہہاہاہا اچھا میں تمہارے ساتھ ہی رہو گی ۔۔۔
روحاب قہقہ لگاتی پاگلوں کی طرح ہار مانتی بولی تھی۔۔۔۔
شکریہ میری جان مجھے مکمل کیا تم نے۔۔۔
سبحان اس کے گال چومتے اب اس کے لبوں پر اپنی گرفت رکھتا بولا تھا۔۔۔۔
روحاب نے شرم سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
ہاں تم ایسا کرو گل خان یہ میٹنگ فکس کر دو ہم کر لے گے ۔۔۔
ہارون خان اپنے آفس میں بیٹھے سامنے گل خان کو دیکھتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔۔
جبکہ بار بار نظریں اپنے موبائل پر جا رہی تھی ۔۔۔۔
جس کو دیکھ کر گل خان نے مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔
س۔سر و۔۔۔۔
اچھا ہارون میں کیا کہہ رہا تھا ۔۔
گل خان بول رہے تھے
جب ہارون کی گھورتی دیکھتے بات بدلتے بولے تھے۔۔۔۔
کتنی دفعہ کہا ہے دوست ہو میرے یہ سر مت کہا کرو یار اب تو تمہاری بیٹی بھی میری ہے پھر بھی سر کہتے ہو حد ہے۔۔
ہارون خان رزا سختی سے بولے تھے۔۔۔
اوکے باس ۔۔
گل خان اپنے سر کو خم کرتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔
جب تک چھوٹی کی کال نہیں آے گی تم کوئ دوسری میٹنگ نہیں کرو گے میں جانتا ہو اور تم بھی تو کیوں بار بار فون دیکھ رہے ہو۔۔۔
گل خان مسکراتے بولے تھے ۔۔۔۔
یار کیا بتاٶ پنک روز کے بنا ایک منٹ ہی نہیں گزارتا میرا بس عادت ہو گی اس کی ۔۔۔
دیکھنا ابھی کال آتی ہو گ۔۔۔
لو آ گی کال اب۔۔۔۔
ہارون خان مسکراتے بول رہے تھے جب فون رنگ ہوتا دیکھ مسکراتے بولے تھے۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہا چلو بات کر لو۔۔۔۔
گل خان قہقہ لگاتے اب آفس سے باہر جاتے بولے تھے۔۔۔۔
ہاے پنک روز ۔۔
ہارون جلدی سے کال پر روحا کی آواز سنتے بولے تھے۔۔۔۔
آپ ایسا کرے روحان کو کہے گا عین کو باہر کہی لے جاۓ گھومانے اس کی طیبعت بھی ٹھیک ہو جاۓ گی ۔۔۔
اور کچھ۔۔۔
ہارون خان مسکراتے بولے تھے جانتے تھے وہ اپنی ہر بات ایسے ہی بتاتی تھی۔۔۔۔
جنت کا بھی پوچھ لیا کرے بیٹی ہے آپ کی وہ اکثر شکایت کرتی ہے بابا فون نہیں کرتے ا۔۔۔
اور کوئ حکم پنک روززززز۔۔۔
ہارون خان اب بیزار ہوتے دانت پیستے ہوۓ بولے تھے۔۔۔۔
ہااہاہہاہاہہاہا ۔۔۔
کیا ہے ہارون بچے ہے ہمارے میں ان کی ہی بات کرو گی آپ ابھی بھی جلیس ہو جاتے ہے حد ہے ویسے۔۔۔۔
روحا ان کی بات سنتی قہقہ لگاتی بولی تھی۔۔۔
ہاں تو بچے ہے میں سوچ رہا پیدا ہی کیوں ہوۓ جب دیکھو ان کی باتیں کرتی ہو یہ نہیں سوچتی تمہارا معصوم سا شوہر سارا دن گھر سے باہر رہتا ہے کیا پتہ لاکھوں بلائیں میرے آس پاس ہو تم تو جلیس بھی نہیں ہوتی ۔۔۔
ہارون خان روزانہ کی طرح روٹھے بچہ بنتے بولے تھے۔۔۔
اچھا سوری اب میری بات سن لے وہ میں کہہ رہی تھی ہانی کے گ۔۔۔۔
ہاں ہاں سب کو فون کر لو گا پورے خاندان کو فون کر لو تم ایسا کرو ان سب کے پاس ہی چلی جاٶ۔۔۔۔
روحا اور تنگ کرتی مسکراہٹ روکتے بول رہی تھی جب ہارون روٹھے بچے جیسا بول کر خودی فون کٹ کر چکے تھے ۔۔۔۔
———————————————————–
اففف توبہ ابھی بھی بچوں جیسی حرکتیں کرتے ہے بچے بھی بڑے ہو گے ہمارے ۔۔۔
روحا ہارون کے آفس میں آتی گل خان کے کیبن میں بیٹھی بولی تھی وہ وہی بیٹھی ہارون کو تنگ کرنے کے لیے فون کیا تھا۔۔۔۔
بابا کیا شروع سے ایسے ہے۔۔۔
سفان بھی ان کا لال چہرہ دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
وہ آج روحا سے پوچھنے آیا تھا تاشہ نے جو باتیں اسے بتائ تھی وہ سچ ہے یا جھوٹ۔۔
تبھی وہ ہارون کے آفس ہی آ گیا تھا۔۔۔۔
اففف بیٹا کیا بتاٶ اب جا کہ ہی منانا پڑے گا مجھے آپ بھی آ جاٶ۔۔۔
روحا اٹھتی ہوئ مسکراتی بولی تھی۔۔۔
سفان بھی ساتھ گیا تھا۔۔۔۔
———————————————————–
ماما آپ جاۓ تب تک میں رزا یہ کال سن لو۔۔۔
ہارون کے آفس کے قریب جاتے سفان بولا تھا۔۔۔
جب روحا خود اندر چلی گی تھی ۔۔
گل خان میں یہ میٹنگ نہیں کرو گا بس بات ختم تم بھی جاٶ۔۔
ہارون برے منہ سے چکر لگاتے بنا دیکھے بولے تھے۔۔۔۔
نقصان ہو جاۓ گا پھر ہم غریب ہو جاۓ گے۔۔۔۔
روحا معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
بھاڑ میں گیا یہ سب مجھے بس تم چاہے لیکن تم ہو گے بس بچوں کی فکر رہتی ہے ۔۔۔
ہارون خان انہیں کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ روٹھے پن سے بولے تھے۔۔۔۔
ہارون کچھ شرم کرے ابھی کوئ ناراض تھا مجھ سے اب دیک۔۔۔
کس نے کہا میں ناراض نہیں ہو میں تو کافی ہو اب مناٶ مجھے۔۔۔۔
روحا شرماتے ہوۓ بول رہی تھی جب ہارون خان مسکراتے بولے تھے۔۔۔۔
اففف توبہ ہے باہر سفان ملنے آیا ہے ہارون اب تو یہ چھوڑ دے میں منا لو گی آپ کو گھر جا کر۔۔
روحا ان سے دور جاتی مسکراہٹ روکے بولی تھی کیونکہ ہارون نے بچوں جیسے منہ بناۓ ہونٹوں کو باہر نکلے انہیں ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
افففف اچھا اب مان جاۓ میرے کیوٹ سی چھوٹے سے شوہر ہے ۔۔۔
روحا ان کا ماتھا چومتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔
میری جان ہو پنک روز میرا عشق ہو تم۔۔۔
ہارون بھی ان کے گال چومتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔۔
و۔اہ واہ واہ کیا طریقہ ہے تمہارا مس روحا اپنے شوہر سے ہی دل بھر لیا کرو خود کا دوسروں کو بھی اپنے قبصے میں کر لیتی ہو۔۔۔۔
تاشہ بنا ناک کیے ہارون کے آفس میں آتی تالیاں بجاتی طنز کرتی بولی تھی۔۔۔۔
کیا بکواس ہے تاشہ اس عمر میں بھی یہ باتیں کرتے تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔
ہارون خان لال چہرہ لیے غراتے بولے تھے۔۔۔۔
ان کے آفس کے ڈور کے پاس کھڑا سفان یہ سب سن رہا تھا۔۔۔۔
بکواس نہیں محبت ہے مجھے تم سے آج بھی محبت ہے کیا ہے اس عورت میں مجھے دیکھو تمہاری خاطر میں نے آج تک شادی نہیں کی پلیز ہارون مجھے اپ۔۔۔
چچچ تم نے شراب پی ہے تاشہ ۔۔۔
تاشہ ان کے قریب آتی روحا کو گھورتی بول رہی تھی جب ہارون خان دھاڑے تھے۔۔۔۔
ی۔یہ شراب نہیں ہے یہ تمہاری ایسی محبت کا نشہ ہے جس میں سالوں سے تڑپ رہی ہو ۔۔۔
تاشہ مسکراتے ان کے پاس آتی بولی تھی۔۔۔
سفان شوک ہوۓ یہ سب سن رہا تھا اسے حیرت تھی آپنی آنی پر ۔۔۔۔
شرم کرو کچھ تم بچے ہو گے ہمارے شادی بھی ہو گی لیکن تم ابھی تک نہیں بدلی میں نے اچھا کیا جو اس دن تمہیں اپنے گھر سے نکال دیا تھا۔۔۔
نکلو باہر اب بھی سمجھتی کیا ہو اس عمر میں آ کر تمہیں پتہ چل رہا اپنی محبت کا۔۔۔۔
روحا بھی شدید غصے سے دھاڑی تھی۔۔۔۔
تم بکواس بند کرو ہاشم کو بھی اپنے جال میں پ۔۔۔
چٹاخخخ۔۔
ہمت کیسے ہوئ میری پنک روز کے بارے میں یہ بکواس کرنے کی سفان کی آنی نہ ہوتی تو ابھی ٹکڑے کر دیتا میں اب دفع ہو جاٶ یہاں سے۔۔
تاشہ روحا کی طرف دیکھتی بول رہی تھی جب ہارون خان نے زور سے تپھڑ مارتے دھاڑے تھے۔۔۔
ت۔۔۔
تم جاتی ہو کہ نہیں ابھی نکلو باہر سفان بیٹا لے جاٶ اپنی آنی کو ورنہ میں منٹوں میں قتل کرو گا اس عورت سے۔۔۔
تاشہ بے باک ہوتی ہارون کا کالر پکڑتی بول رہی تھی جب وہ اندر آتے سفان کو دیکھتے غراے تھے۔۔۔۔
تاشہ نے ہکا بکا ہو کر سفان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
س۔سفان و۔۔۔
آنی چلے آپ میرے ساتھ۔۔۔
تاشہ اب جلدی سے سب بھولتی سفان کو دیکھتی بول رہی تھی جب سفان بنا دیکھے شرمندہ اور غصہ ہوتا وہاں سے جاتا بولا تھا۔۔۔
ہارون یہ عورت کیوں نفرت کرتی ہے مجھے لگتا یہ میری بچی کو بھی درد دیتی ہو گی۔۔۔
روحا ہارون کے سینے سے لگتی روتی بولی تھی۔۔۔
ریلکس پنک روز سفان بہت اچھا بیٹا ہے ہماری بیٹی خوش ہے اس کے ساتھ ۔۔۔
ہارون خان خود بھی پریشان ہوتے ان کو تسلی دیتے بولے تھے۔۔۔۔
