Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 2)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 2)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

کیا ہوا بیٹا اتنا چلا کیوں رہے ہو۔۔۔

روحا وڈراب روم سے باہر آتی روحان کا سرخ سفید چہرہ دیکھتی پاس آتی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

پنک روز بھوک لگی ہے کھانا دے ۔۔

روحان روحا کے سینے لگتے پیار سے بولا تھا۔۔۔

تو بیٹا یہ بات آپ آرام سے بھی بول سکتے تھے ۔۔

اتنا غصہ وہ بھی کم عمر میں توبہ ۔۔۔

روحا اس کا ماتھا پیار سے چومتی پھر اس کی سرخ ناک کھیچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

پنک روز آپ جانتی ہے مجھے شور ہرگز نہیں پسند روم میں تھا جب پھوپھو کا فون آیا بس و۔۔۔

کیا ہوا کرن کو سب ٹھیک ہے ۔۔

روحان روحا کے ہاتھوں کو پکڑتا اس پر لب رکھے بول رہا تھا جب روحا پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔

وہ ماما پھوپھو کو شدید پین ت۔۔۔۔

اففف اففف روحاننننن کیا حرکت ہے یہ چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔

روحان روحا کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جب روحا ہاتھ چھڑواتی غصے سے بولی باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔

روحان روحا کو تبھی ماما کہتا تھا جب وہ اسے پریشان دیکھتا تھا ۔۔۔

————————————————————

ک۔کسی ہے خانم اب ۔۔

روحا ایمرجنسی میں کرن کو خودی ہاسپٹل لے آئ تھی جب اسے آپریشن تھیٹر لے کر چلے گے تھے ۔۔۔

تبھی گل خان پھولتے سانس سے بھاگتا ہوا آتا پریشان سا بولا تھا ۔۔۔

روحا اسے فون کر چکی تھی ۔۔۔

وہ ٹھیک ہے لالہ آپ دعا کرے ۔۔

روحا اس کی طرف دیکھتی خود بھی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔

شکریہ چھوٹی ورنہ کرن کو کیا ہوتا ۔۔۔

گل خان روحا کے سر پر ہاتھ رکھتا پیار بولا تھا ۔۔

نہیں لالہ یہ سارا قصور روحان کا ہے مجھے پہلے بتا دیتا تو سب ٹھیک ہوتا اب تو کرن کی حالت بھی اتنی خراب ہو چکی تھی ۔۔۔

بس دعا کرے ۔۔

روحا پھر ویسے ہی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا پنک روز۔۔۔

رات کو ہارون اپنے روم میں آتا روحا کو غصے اور روحان کو سیریس شکل لیے بیڈ پر دیکھتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہونا کیا ہے اس سے پوچھے یہ باز نہیں آۓ گا اپنی حرکتوں سے ۔۔

روحا دانت پیستے ہوۓ بولی تھی ۔۔

ہارون کو کچھ نہیں پتہ تھا وہ ابھی اپنی میٹنگ سے رات واپس آیا تھا ۔۔۔

وا ہ واہ میری پنک روز شیرنی اچھی بات ہے مارو اس کو تب تک میں آتا ہو ۔۔۔

ہارون اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتا آنکھ ونک کرتا واپس روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

کیونکہ جب تک وہ جنت کو سوتا ہوا نہیں دیکھتا تھا تب تک اسے سکون کی نیند نہیں آتی تھی ۔۔۔

————————————————————

اچھا میری پنک روز سوری اپنے معصوم سے روحان کو معاف کر دو ۔۔۔

روحان ویسے ہی بیٹھا تھا جب روحا غصے سے بیڈ پر لیٹی تھی تبھی وہ بھی معصوم سی شکل بناۓ اس کے ساتھ لیٹتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

بیٹا ایسا نہیں کرتے عورت کی عزت کرنی چاہے آپ جانتے تھے ان کا بے بی ہونے والا تھا ان کو ہماری ضرورت تھی ۔۔

روحا کو روحان کی بات پر بہت پیار آتا ہے تبھی اسے اپنے سینے سے لگاۓ وہ آرام سے بولی تھی ۔۔۔

کیا پھوپھو کا بے بی ہو گیا۔۔۔

روحا اسے آہستہ آہستہ سمجھا رہی تھی تبھی وہ سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جی تمہاری پھوپھو کے بیٹی ہوئ ہے ہم صبح جاۓ گے ۔

آپ بھی وعدہ کرو بے بی گرل کو پکڑو گے غصہ نہیں کرو گے ۔۔۔

روحا اس کا ماتھا چومتی بولی تھی جو آہستہ آہستہ نیند میں جا رہا تھا ۔۔۔

اب بتاٶ کیا ہوا تھا جو میری پنک روز غصے میں تھی ۔۔۔

ہارون روم میں آتا بولا تھا ۔۔۔

آگے آپ ٹائم مل گیا میری ایک بات تک نہیں سنی آپ نے حد ہے ۔۔۔

روحا ویسے ہی لیٹی غصے سے اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

اب تو ٹائم ہی ٹاٹم ہے جانِ ہارون مائ پنک روز۔۔۔۔

ہارون اپنی شرٹ اتارتے جلدی سے روحان کو اس سے دور کرتا خود روحا کو ہگ کیے لیٹتے پیار سے بولا تھا۔۔

توبہ ہارون اب تو چھوڑ دے اور روحان کو اد۔۔۔۔

تم بتاٶ آج یہ ناک سرخ کیوں ہے غصہ کی وجہ سے ہوتی ہے ۔۔۔

روحا گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب ہارون اس کی ناک کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

چلو شکر ہے کرن بلکل ٹھیک ہے ہم صبح جاۓ گے ۔۔۔

ہارون روحا کے بالوں کا جوڑا کھولتے اس میں انگلیاں چلاتے روحا کی ساری بات سن رہا تھا جب وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔

مجھے تو ٹیشن ہے روحان کی اتنی کم عمر میں ایسا ہے ب۔۔۔

شششش باقی باتیں بعد میں چلو سو جاٶ ۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب ہارون اس کے لبوں کو نرمی سے چھوتے بولا تھا ۔

ہارون کی ایک سائیڈ پر روحان جبکہ دوسری سائیڈ پر روحا گہری نیند میں سو رہی تھی ۔۔۔

بابا کی جان کتنا پیارا بیٹا ہے بلکل میرا جیسا ۔۔۔

ہارون روحان کا گال چومتا پیار سے بولا تھا جو نیند میں معصوم بچہ لگ رہا تھا ۔۔۔

میں پنک روز

جیسا ہو۔۔

روحان نیند میں بڑبڑاتا ہوا منہ بناتا بولا تھا ۔۔

ہاہاہہاہاہ توبہ پنک روز ٹھیک کہتی ہے یہ نیند میں بھی ہوش میں رہتا ہے ۔۔

ہارون قہقہ لگاتا ہوا خود سے بولتا اب سکون سے آنکھیں بند کرتا سونے لگ گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

ارے کتنی پیاری بیٹی ہے ماشاءالله۔۔۔

کرن سے ملنے سارے آۓ تھے جب روحا ریڈ بے بی کمبل میں پیاری سی بیٹی دیکھتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ک۔کیس۔کیسی ہے ۔۔۔

کرن کمزور لہجے میں پوچھا تھا ۔۔

بہت پیاری دیکھو روحان کیسی ہے بہنا ت۔۔۔

پنک روز میری بہن بس جنت آپو اور روحاب ہے ۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب روحان بات کاٹتا ہوا کرن کے پاس جاتا بولا تھا۔۔۔

پھوپھو سوری مجھے معاف کر دے ۔۔۔

روحان کرن کا ہاتھ چومتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

لگتا ہی نہیں تھا وہ کسی بڑے سے معافی مانگ رہا تھا ۔۔۔

ارے چھوڑو میرے بیٹے دیکھو میری بیٹی کیسی ہے اس کا نام بتاٶ۔۔۔

کرن روحان کی طرف دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی کیونکہ وہ دیکھ چکی تھی معافی صرف وہ روحا کو خوش کرنے کے لیے ہی بول رہا تھا۔۔۔

باربی ۔۔۔

روحان اپنے ہاتھوں میں اس کی بیٹی لیتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

سب حیران تھے روحان جس کے ماتھے پر ہر وقت بل رہتے تھے وہ پہلی دفعہ مسکرایا تھا ۔۔۔

پھوپھو اس کا نام انیہ خان رکھے اور یہ میری باربی ہے ۔۔۔

روحان نرمی سے انیہ کا ماتھا چومتے بولا تھا ۔۔۔

تمہاری ہی باربی ہے ۔۔۔

کرن مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

“تمہاری ہی باربی ہے“یہ لفظ روحان کے دماغ میں بیٹھ گے تھے ۔۔۔

اب وہ کسی کو نہیں پکڑا رہا تھا بلکہ خودی گود میں لیتا سب کو دیکھا رہا تھا ۔۔۔

روحان کی حالت دیکھ روحا پریشان ہوئ تھی ۔۔

کیونکہ وہ گل خان کو بھی نہیں پکڑا رہا تھا ۔۔

————————————————————

“”دو سال بعد۔۔۔

اوے کیا ہوا تم رو رہی ہو ۔۔۔

آذان حجاب کے پاس آتا بولا تھا جو مسلسل سوں سوں کرتی رو رہی تھی ۔۔۔

و۔وہ سب کہتے میں موٹی ہو کوئ بھی بات نہیں کرتا سارے بھاگ جاتے مجھ سے ۔۔۔

حجاب روتے ہوۓ اپنے آنسو صاف کرتی بولی تھی ۔۔۔

کہاں موٹی ہو یار تم بہت پیاری ہو پتہ مجھے بہت پیاری لگتی ہو تم۔۔

آذان اس کی طرف دیکھتا اس کے سرخ پھولے گال کھیچتا ہوا بولا تھا ۔۔

جہاں سی گرین فراک پہنے موٹی گولو سی حجاب اپنی عمر سے بڑی لگ رہی تھی ۔۔۔

پکا تم شادی کرو گے مجھ سے پھر پوری زندگی ساتھ رہنا۔۔

حجاب خوش ہوتی اس کا ہاتھ پکڑتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔

پکا چلو دادٶ سے بات کرتے ہے وہ نکاح کروا دے گے ۔۔

آذان اس کا ہاتھ پکڑتا اپنے ساتھ لے کر جاتے مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہاے بیوٹی فل ۔۔

بلاج شرارتی انداز سے اریج کو دیکھتا بولا تھا ۔۔

جو برفی کھانے میں بزی تھی ۔۔۔

ہاے کیسے ہو۔۔۔

اریج اپنی گرے آنکھوں میں چمک لاتے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

آج تمہیں کچھ بتانا ہے میں نے ۔۔۔

بلاج اسے دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔

ہاں بولو تمہیں کب سے اجازت کی ضرورت پڑی ۔۔۔

اریج اب فری ہوتی بلاج کی شرٹ پر لگے بٹنوں پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔

میں بہت محبت کرتا ہو تم سے بہتتت زیادہ کیا شادی کرو گی ۔۔۔

بلاج مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔

کیاااآآاااا۔۔۔

لیکن ہم چھوٹے ہے او۔۔۔

ہم نکاح کر لیتے ہے باقی شادی بڑے ہو کر کرے گے ۔۔۔

اریج ہکا بکا بول رہی تھی جب بلاج اس کا ہاتھ پکڑے مہر پیلس کے اندر لے کر جاتا بولا تھا ۔۔

————————————————————

آہہہ آہہہہ۔۔۔

دو سال کی انیہ جو ریڈ فراک پہنے جھولے پر اکیلی بیٹھی روحان کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔

دو سال روحان نے انیہ کو خود سے دور نہیں کیا تھا وہ ہر پل اس کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔

ہر کام اپنے چھوٹے ہاتھوں سے کرتا تھا ۔۔۔

ابھی بھی وہ اس کا فیڈر بنانے پلیس کے اندر گیا تھا ۔۔

جب اسے انیہ کے چلانے کی آواز آئ تھی ۔۔۔

باربی باربی کیا ہوا ۔۔

روحان پاس جاتا فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔

جب اسے عمار دیکھائ دیتا ہے ۔۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔

روحان انیہ کو گود میں اٹھاۓ اب سکون میں کھڑے عمار کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

اٹھانے والا تھا اسے لیکن یہ ڈھیٹ اتنی ہے آئ ہی نہیں بس چلانا شروع کر دیا ۔۔۔

عمار انیہ کے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتا پیار سے بولا تھا ۔۔۔

چٹاخخ۔۔

تیری ہمت کیسے ہوئ باربی کو ہاتھ لگانے گی ۔۔۔

روحان شدید غصے میں آتا عمار کو مکہ مارتا بولا تھا ۔۔۔

عمار کے حساب سے روحان زیادہ صحت والا تھا کیونکہ دس سال کی عمر میں ہی وہ بلکل ہارون جیسی باڈی بنا چکا تھا ۔۔۔

غصہ رعب حکم چلانا سیریس کھڑوس ہونے کی وجہ سے وہ اپنی عمر سے دگناہ دیکھتا تھا ۔۔۔

تبھی سارے بچے اس سے ڈرتے تھے سواۓ عمار انیہ کے ۔۔۔

یہ ہاتھ لگ۔۔۔

عمار اپنے ناک سے خون صاف کرتا غصہ سے بول رہا تھا

۔

جب روحان اس کا وہی ہاتھ پکڑتے طش سے چلایا تھا ۔۔۔

یہی ہاتھ توڑ دینا میں۔۔۔

کیوں یہ صرف تیری ہے کیا ۔۔۔۔میری بھی کزن ہے ۔۔

دیکھنا ایک دن میں ہی اسے لے جاٶ گا ۔۔۔

عمار مشکل سے اپنا ہاتھ چھڑواتا ہوا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

تیری یہ تب بنے گی جب روحان ہارون خان چھوڑ دے گا ۔۔۔۔

اور یہ تیری بھول ہو گی کہ روحان اپنی باربی کو چھوڑے گا ۔۔۔

اب دیکھ میں کیا کرتا ہو ۔۔۔

روحا دانت پیستے عمار کی طرف دیکھتا انیہ کو گود میں لیتا اندر جاتے بولا تھا ۔۔۔

———————————————————–

یہ کیا بات ہوئ آذان ابھی تم لوگ بچے ہ۔۔۔۔

روحا لوگ سارے مہر صاحب اور تنزیلہ بیگم کے پاس بیٹھے تھے ۔۔

جب آذان بنا کسی کی ستنا اپنی کہہ گیا تھا ۔۔۔

تبھی عمارہ نے سمجھاتے بول رہی تھی ۔۔

جب وہ بولا.

ماما پ۔۔۔

ہم لوگ بھی شادی کرنا چاہتے ہے ۔۔۔

آذان بول رہا تھا۔جب بلاج بھی اندر آتا شرماتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

آہہہہ آہہہہہہ۔۔۔

بلاج اور اریج دونوں ایسے شرما رہے تھے جیسے واقعی شادی ہو گی ہو ۔۔۔

تبھی پریسہ اور علیزے نے غصے سے اپنی جوتی اتار کر دونوں کو اُڑا کر ماری تھی ۔۔۔

وہی وہ دونوں تڑپے تھے ۔۔۔

بچے غلط تو نہیں کہہ رہے کروا دیتے ہے ویسے بھی سارے ہمارے ہی بچے ہے ۔۔

مہر صاحب مسکراہٹ روکے بولے تھے ۔۔

بابا یہ غلط ہے کل کو اگر ان سب کی پسند بدل گی تو پھر کیا کرے گے ۔۔۔

بلکل نہیں کرنا ایسے۔۔۔

روحا غصے میں آتی بولی تھی ۔۔۔

ل۔۔۔

ماما میں نے باربی سے شادی کرنی ہے ۔۔۔

ہارون بولنے والا تھا جب روحان طش میں آتا بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔

ہارون بابر برہان زیان آسامہ سب کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ ان کی

بیویاں ہکا بکا منہ کھولے اپنے بچوں کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔

کیا بکواس ہے میں یہاں دوسروں کے بچوں کے لیے لڑ رہی آپ بھی یہاں آ گے ۔۔۔

روحا روحان کو غصے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

پھر کب شادی کروا رہی ماما ۔۔۔

روحان ہر بات اگنور کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

بس بہت ہو گیا یہ شادیاں ہرگز نہیں ہو گی خاص کر انیہ اور روحان کی انیہ ابھی بچی ہے بڑی ہو جاۓ تب دیکھ لے گے ۔۔۔

روحا کی غصہ میں آواز سنتے سارے چپ کر گے تھے کیونکہ سب جانتے تھے ہوتا وہی تھا جو روحا کہتی تھی ۔۔۔

بلاج اریج آذان حجاب نے دکھ سے اپنا منہ لٹکا لیا تھا ۔۔۔

جبکہ روحان اب انیہ کو ریڈ ڈوپٹہ دے رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

““کچھ سال بعد ۔۔۔۔

ہاں ایسا سیٹپ کرو یار ۔۔۔

اریج عمار کا ہاتھ پکڑتے بولی تھی ۔۔

جو ان سب کو ڈانس سیٹپ سکھا رہی تھی ۔۔۔

کر تو رہا کیا ٹانگیں توڑ دو ۔۔

عمار برا سا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔

کیونکہ آج آذان اور حجاب کی مہندی تھی ۔۔۔

ان سالوں میں کچھ نہیں بدلا تھا ۔۔

حجاب ویسے ہی موٹی تھی اس کے کھانے پینے میں فرق نہیں آیا تھا ۔۔

وہی آذان پڑھ لکھ کر بزنس ٹائکون بن چکا تھا ۔۔۔

ارے اس سیریس انسان کو چھوڑ میرے ساتھ ڈانس کر۔۔۔

پنک ٹاپ ساتھ بیلو جینز پہنے پلوشہ تیار سی اسٹیج پر آتی بولی تھی ۔۔

سب نے مہندی کے حساب سے لہنگے یا سوٹ پہنا تھا جبکہ پلوشہ ویسی کی ویسی تھی ۔۔۔

ہاں اس سے کروا لو میری جان چھوڑ۔۔

عمار اپنی جان بچتا دیکھ شکر ادا کرتا بولا تھا ۔۔

ارے میرا پیارا بیٹا کدھر جا رہا۔۔۔

زیان عمار کی طرف دیکھتا پیار و شفقت سے بولا تھا ۔۔

وہ بلکل زیان جیسا تھا سنجیدہ انسان ۔۔

ہاۓ آئ جی سر کیسے ہے ۔۔

عمار مسکراتا ہوا زیان کو سلوٹ کرتا بولا تھا ۔۔

زیان کی وجہ سے ہی وہ مسکراتا تھا ۔۔

بد معاش اپنے بابا کی طرح مجھے تنگ کرو گے اب کیا صرف میں سر ہی ہو تمہارا۔۔۔

زیان عمار کو اپنے قابو میں کرتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہہاہا آپ آئ جی ہے ا۔۔۔۔

اور تم ایس پی عمار ہو۔

عمار ان کے گلے لگتا قہقہ لگاتا بول رہا تھا جب زیان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جی ماموں ۔۔۔

بس شروع ہو گیا تم دونوں کا پیار ہاے کوئ ہمیں بھی پیار کرتا ۔۔۔

اسامہ بھی پاس آتے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔

بابا آپ تو میری جان ہے دنیا کے بیسٹ بابا ہے لو یو ۔۔۔

عمار اسامہ کو بھی گلے لگاۓ اس کے گال پر کس کرتا بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہااہاہاا مجھے ہنسی آ رہی ہے یہ دیکھ کر یہ سارے ہمارے بچے ہے ۔۔۔

آسامہ سامنے اریج پلوشہ آذان حجاب عمار اور سامنے سے آتی زنینہ کو دیکھتا قہقہ لگاتا زیان کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

مہندی کا فنکشن سٹارٹ ہو چکا تھا ۔۔

تیری شکل دیکھ کر واقعی مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا یہ پیارے سے بچے تیرے ہے ۔۔۔

زیان آسامہ کی طرف دیکھتا مذاق کرتا بولا تھا ۔۔

ہاہہاہا فنی ہنسی بلکل نہیں آئ ۔۔۔

آسامہ برا سا منہ بناتا بولا تھا ۔۔

نہ ہنس ت۔۔

بابا بابا۔۔

زیان ابھی بول رہا تھا جب زینیہ بھاگتی ہوئ

ہوئ اس کے سینے لگی بولی تھی ۔۔

زینیہ کو دیکھ عمار نے برا سا منہ بنایا تھا ۔۔۔

کیا ہوا میری جان کو۔۔

زیان اس کے ماتھے پر کس کرتا بولا تھا ۔۔

وہ بلکل حنین کی کاربن کاپی تھی شرارتی نڈر منہ پر جواب دینے والی ۔۔

ماما نے میک اپ نہیں کرنے دیا کہتے جب شادی ہو تب کر لینا آج مت کرنا ۔۔۔

زینیہ معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔

میرا بیٹا ویسے ہی بہت پیارا ہے میک اپ کی ضرورت ہی نہیں ۔۔۔

زیان زینیہ کے بالوں پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔

سچی ہاۓ چلے اب میں اپنے کزنوں سے مل لو ہاے ارو تو جل۔۔۔

وہ کیوں جلنے والی اتنی بھی پیاری نہیں لگ رہی تم۔۔

زینیہ خوش ہوتی بول رہی تھی جب عمار بات کاٹتا سردپن سے بولا تھا۔۔۔

تم سے بات نہی کی دوست ہے میری وہ میں جو مرضی کرو انہہ۔۔۔

زینیہ کا اب دھیان عمار پر گیا تھا تبھی برا سا منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

تمہاری شکل ہے دوست بنانے وا۔۔۔۔

اور تمہار منہ ہے جو ایس پی بن گے تمہیں کوئ پانچ روپے نہ دے۔۔۔

عمار منہ بنتا بول رہا تھا جب زینیہ بھی حساب برابر کرتی بولی تھی ۔۔

تم۔۔۔

چل یار یہاں سے ان کی لڑائ شروع ہو گی ۔۔

آسامہ زیان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ وہ دونوں سب بھولے اب لڑانے میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔

————————————————————

کچھ شرم ہوتی کچھ حیا ہوتی ۔۔۔

لیکن وہ شرم حیا والا سسٹم پریسہ برہان میں بلکل نہیں ہے روح جانی ۔۔۔

روحا مہندی کے لیے ساڑھی پہنتی شیشے کے سامنے کھڑی تھی ۔۔

جب اسے اپنی کمر پر کسی کے ہاتھ محسوس ہوۓ تھے تبھی وہ اپنی مسکراہٹ روکے پریسہ کے ہاتھوں کو پکڑتی بول رہی تھی تبھی پری بھی آگے آتی مسکراتے بولی تھی ۔۔۔

دونوں کی خوبصورت میں زرا فرق نہیں آیا تھا ۔۔

پریسہ پہلے دن کی طرح آج بھی روحا کی کریزی دوست تھی بچے بڑے ہو گے لیکن پری کا روحا کو تنگ کرنا کم نہیں ہوا تھا ۔۔۔

شرم کر لے پری اب تو ہمارے بچے بھی بڑے ہو گے ۔۔۔

روحا پری کے ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

اسے خوشی تھی جو دوست تھی اب وہ بھابھی بھی بن کر اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔

روحا کی صرف ایک ہی دوست تھی پریسہ ۔۔۔

ہاں تو ہم کون سا بوڑھے ہو گے دیکھ مجھے ۔۔۔

پریسہ روحا کے گال کھیچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیا روح میں ناراض ہو ۔۔۔

روحا مسکرا رہی تھی جب اچانک پری روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

ک۔کیا ہوا کی۔۔۔

کاش تم لڑکا ہوتی ہاے میں شادی کر لیتی ۔۔۔

روحا اچانک پریشان ہوتی بول رہی تھی جب پریسہ شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔۔

رک ابھی تو میں بتاتی ہو رک جا۔۔۔۔

روحا اپنا جوتا اتارتی ہوئ اس کے پیچھے بھاگتی بولی تھی ۔۔

ہاں تو ظلم ہوا میرے ساتھ میری شادی برہان سے کروا دی ورنہ تو جانتی ہے مجھے صرف تم سے محبت ہے ۔۔۔

اچھا بس کر ابھی ہارون بھائ کو پتہ چل گیا اس کی پنک روز کتنا بھاگ رہی میری جان نکال دے گے ۔۔۔

روحا اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی جب سانس لینے کے لیے روکی تھی تو پری پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جان تو میں نکالو گی اچھے سے ۔۔

روحا دوبارہ پری کے پیچھے بھاگتی بولی تھی ۔۔

ہاہاہااہا ڈر گی ۔۔۔

روحا پریسہ کو روم سے باہر جاتے دیکھ قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

شکریہ میری جان ایک تمہاری وجہ سے ہی آپو اتنا ہنساتی مسکراتی ہے ورنہ ہم سب جانتے ہے وہ کتنا دکھی ہے ۔۔

پریسہ روم سے باہر آی جب روم کے پاس سے گزراتے برہان سے ٹکرائ تھی ۔۔

تبھی روم کے اندر سے گونجتا قہقہ سن کہ برہان پیار سے بولا تھا۔۔۔

دوست ہے میری جان سے زیادہ پیاری ہے برہان تمہاری بہن سے پہلے میری دوست ہے ۔۔۔

اتنا تو کر سکتی ہو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے پہلے کیا کم دکھی تھی اس عمر میں بھی وہ دکھی ہے ۔۔۔

پریسہ برہان کے سینے پر سر رکھے آبدیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔

اللہٌجو کرتا بہتر کرتا ہے اب یہ تو آگے جا کر پتہ چلے گا جہاں اتنا صبر کیا تھوڑا اور کر لیتے ہے ۔۔۔

برہان خود افسردہ ہوتا بولا تھا ۔۔

———————————————————-

شکر مجھے پنک روز کے ہسنے کی آواز سنائ دی ۔۔

ورنہ میرے معصوم سے کان ترس گے تھے ۔۔

ہارون واش روم سے باہر آتا روحا کو بیک ہگ کرتے پیار سے بولا تھا ۔۔۔

ہاے آپ کے لیے تو میں ساری زندگی ہنس سکتی ہو ۔۔

روحا اپنے آنسو کنٹرول کرتی اس کی طرف رخ کیے ہارون کی آنکھوں کو چومتی شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ایسے ہی رہ کرو تم بہت صبر والی ہو پنک روز دیکھنا ایک دن سب ٹھیک ہو جاۓ گا

إن شاءالله.

ہارون اس کے آنسو صاف کرتا بولا تھا ۔۔

إن شاءالله۔۔

روحا آہستہ سے کہتی اس کے سینے پر سر رکھ چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

ارے دیکھو بلاج لالہ آ گے ۔۔۔

زینیہ اریج کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی جب

مہر پلیس میں انٹر ہوتے بلاج کو دیکھتے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

بلاج برہان کی کاربن کاپی تھا شرارتی سا ۔۔۔

دنیا میں جانا مانا ہارٹ سرجن ڈاکٹر بلاج برہان مہر ۔۔۔

جو ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا تھا ۔۔

ہاے چھوٹی کیسی ہو ۔۔

بلاج زینیہ کے سر پر اپنا سفید بھاری ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔

میں بلکل ٹھیک چلے ارو کے ساتھ ڈانس کرے ۔۔

زینیہ اس کا ہاتھ پکڑتے اریج کے ہاتھ پر رکھتے بولی تھی ۔۔

مجھے پھوپھو سے ملنا ہے ۔۔

بلاج اریج کو بنا دیکھے کہتا ہاتھ چھڑواتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا ۔۔۔

زینیہ اریج کے سامنے شرمندہ ہوئ تھی ۔۔۔

جبکہ وہ اگنور کیے اب حجاب کے ساتھ جا کر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

ماما کتنا دفعہ کہو میں شادی نہیں کرنا چاہتا لیکن آپ لوگوں نے بھی حد کر دی ۔۔۔

آذان عمارہ کے پاس روم میں آتا شدید غصے سے بولا تھا۔۔۔

وہ اپنی جان بچاتا روم میں آیا تھا۔۔۔

تم اسی سے شادی کرو گے سمجھے آج تک تم سب کا دوست بن کر دیکھایا ہے مجھے مجبور مت کرنا میں باپ بن کر دیکھاٶ ۔۔۔

عمارہ تو سر پکڑے رونے بیٹھ گی تھی جب آسامہ شدید غصے میں بولے تھے ۔۔۔

کیا بابا یہ غلط ہے میں نے صرف علشبہ سے محبت کی تھی اس کے سوا کوئ نہیں آۓ گی میری لائف میں ا۔۔۔

وہ مر چکی ہے کیوں نہیں سمجھتے محبت دوبارہ بھی ہو جاتی ہے بیٹا ۔۔۔

آذان طش سے چلاتے بول رہا تھا جب آسامہ نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔۔

محبت ان سے ہوتی بابا جو پیارا ہو یہ موٹی لڑکی جیسے ہر وقت کھانے کا پڑا رہے وہ مجھے کیا محبت دے گی ۔۔

سوری میں شادی نہیں کر سکتا ۔۔۔

آذان زہر اگلتے بولا تھا ۔۔

لیکن تم دونوں دوست ہو اور کیا ہوا اگر وہ موٹی ہے پچپن میں تو شادی کر ن۔۔۔

وہ صرف دل رکھنے کے لیے کہا تھا آپ کیا سمجھتے ہے مجھ جیسے خوبصورت انسان کی موٹی بیوی ہو سکتی ہے ۔۔۔

اسامہ شوک ہوتا بول رہا تھا جب آذان بولا تھا ۔۔

شادی تمہاری اسی کے ساتھ ہو گی اگر نہیں کر سکتے تو جاٶ ہمارے لیے ایک ہی بیٹا ہو گا عمار ۔۔

تم مر چکے ہمارے لیے ۔۔

آسامہ بھی شدید غصے میں بولے تھے ۔۔

ان سب کی باتیں کسی نے باہر کھڑے سنے تھی ۔۔

اسامہ جیسے ہی روم سے باہر آے سامنے والی شخصیت کو دیکھتے وہ شرمندہ ہوۓ تھے ۔۔۔

جب وہی شخصیت مسکراتے اسامہ کا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ لے گی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا مسلہ ہے اب ۔۔۔

رات کے اندھیرے میں وہ بیس پیچیس گاڈرز کے درمیان سنسنان راستے میں کھڑی غصہ سے دھاڑی تھی ۔۔

جبکہ ہاتھوں میں وہ گن لے سب کو گھور رہی تھی ۔۔۔

م۔م

میم۔پلیز چلے ورنہ روحان سر ہمیں بولے گے ۔۔

ایک گاڈر منت کرتا بولا تھا ۔۔۔

تمہارا سر میرا بھائ ہے مجھے ڈرانے کی ض۔۔۔

جنت ابھی بول ہی رہی تھی جب اسے روحان کا فون آیا تھا ۔۔۔

خبردار آپو اگر آپ سیدھی مہندی کے فکشین میں نہ گی تو میں کبھی پاکستان نہیں آٶ گا ۔۔۔

اب شرافت سے گارڈز کے ساتھ مہر پلیس چلی جاۓ ۔۔۔

اس سے پہلے جنت کچھ کہتی جب روحان بنا اس کی سنی رعب دار آواز میں کہتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔

یہ سب تم لوگوں کی وجہ سے ہوا ورنہ روحان کو کیسے پتہ چلتا میں مہندی پر نہیں کہی اور جا رہی تھی ۔۔۔

جنت اپنی گن گھوماتے ہوۓ ان سب کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

جنت بلکل روحا جیسی تھی کوئ بھی دور سے دیکھتا تو یہی سمجھتا روحا ہے ۔۔

بس جنت کی آنکھیں حنین جیسی گہری کالی تھی اور وہ نڈر بہادر بھی تھی سب گرلز کے لیے وہ گرل باس تھی ۔۔۔۔

ابھی بھی وہ مہندی پر جانے کی بجاۓ اپنے کسی کام میں جانے والی تھی ۔۔

تبھی وہ گارڈز کو کہہ رہی وہ اکیلی جاۓ گی لیکن وہ روحان کا حکم بھی نہیں توڑنا چاہتے تھے ۔۔۔

ت۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔۔

میری فیورٹ گن ۔۔

جنت ابھی بول رہی تھی جب کوئ تیزی سے بھاگتا ہوا اس سے گن چھنتا بھاگ گیا تھا ۔۔۔

جنت ہکابکا چلائ تھی ۔۔۔۔

تم جو کوئ بھی ہو چھوڑو میری گن ہے اگر تمہیں گن ہی چاہے میں دو گی لیکن یہ نہیں ۔۔۔

گارڈز کو وہی روکتی جنت خود پیچھے بھاگتی چلائ تھی ۔۔

جبکہ آگے بھاگنے والا جو شخص تھا وہ تو بس گن پر لگے ڈائمنڈ دیکھ کر حیران تھا ۔۔۔۔

چھوڑو میری گن ہے بھای نے گفٹ کی تھی ۔۔۔

جنت نیچے کو جھکتی اس کی ٹانگ کھیچتے غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

تم کیا سمجھے تھے کوئ عام لڑکی ہو کیا ۔۔۔

گرل باس ہو ۔۔

جنت گرے شخص کے اوپر آتی طنزیہ مسکراہٹ لاتی اس سے گن لیتی بولی تھی ۔۔۔

جبکہ نیچے گرے شخص کی ڈراک براٶن آنکھیں مسکرای تھی ۔۔

ایک شیطانی سوچ آ کر ۔۔

وہی جنت اس کی آنکھوں کی چمک میں کھو چکی تھی ۔۔