Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 23)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 23)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

بلال آپ سے کچھ پوچھو میں۔۔

دانین بلال کے پاس آتی کچھ سوچتی بولی تھی ۔۔

ہاں پوچھو جان۔۔

بلال اس کا ہاتھ پکڑے مسکراتے بولا تھا۔۔۔

آ۔آپ کی ماما بھی کیا خون بہا میں آئ تھی ۔۔۔

دانین نے ڈرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔

ہاں میری امی خون بہا میں آئ تھی۔۔۔

میرے بابا ایک دن شکار پر گے تھے ہرن پر فائر کرنے کی بجاۓ امی کے بھای کو گولی لگ گی ۔۔۔

دار جی نے اپنے بیٹے کو بچانے کی وجہ سے امی کی شادی بابا سے کروا دی ۔۔۔

بابا زرمینا کی امی سے محبت کرتے تھے انھوں نے مجبورًا امی سے شادی کر لی ۔۔

زرمینا کی امی بابا کی کزن تھی انھوں نے بھی ضد سے کسی سے شادی کر لی ۔۔۔

لیکن آج تک بابا نے امی کو محبت نہیں دی بلکہ روز مارتے تھے گالیاں دیتے تھے امی کی وجہ سے ان کی محبت دور ہو گی ۔۔

امی ہر درد اپنی قسمت سمجھ کر سہہ لیتی تھی۔۔

پھر میں پیدا ہو گیا ۔۔

کافی سالوں بعد پتہ چلا زرمینا کی امی کا شوہر وفات پا گیا اور وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ یہاں حویلی آ گی ۔۔۔

بس پھر کیا بابا نے دار جی کے آگے ضد کرتے اس کی امی سے شادی کر لی ۔۔۔

میری امی بلکل خاموش ہو گی تھی اب تو وہ درد بھی سہنے کے قابل نہیں رہی تھی دار جی بھی زرا رحم نہیں کھاتے تھے۔۔۔

جب ہوش سبنھالا تو دیکھا اپنی ماں پر ظلم ہوتے پھر ایک دن بابا سے مار کھاتے امی اپنی زندگی سے آزاد ہو گی مجھے اکیلے کو چھوڑ کر چلی گی ۔۔۔

زرمینا پھر میرے پیچھے پڑ گی اس کے باقول ہم کون سا سگے بہن بھای ہے ہم شادی کر سکتے ہے تم جانتی ہو مجھے نفرت ہے ان سب سے ان کی وجہ سے میری امی نہیں رہی اسی کی امی کی وجہ سے میری ماں مار کھاتی تھی۔۔۔

بلال آبدیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔

س۔سوری بلال میں نے ویسے ہی پوچھا یہاں سب کہتے تھے آپ کی امی بھی ایسی تھی ت۔۔۔۔

دانین خود روتی ہوئ بلال کے سینے سے لگی بولتی چپ ہو گی تھی ۔۔

ارے تم کیوں رو رہی ہو۔۔۔

بلال جلدی سے اس کے آنسو صاف کرتا بولا تھا۔۔۔

و۔وہ مجھے نہیں پوچھنا چاہے تھا۔۔

دانین پھر روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

اچھا یہ چھوڑو یہ بتاٶ اذکٰی کے ساتھ کیا کرتی ہو سارا دن مل کر ۔۔۔

بلال اس کا ذہین بدلتا ہوا سکون سے بولا تھا۔۔۔

وہ مجھے ہر بات بتاتی ہے ہر کام بتاتی ہے پتہ میں نے چاۓ بنانی سکھی ہے آپ پیے گے۔۔۔

دانین اب خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں ضرور جاٶ بنا کر لاٶ چاے ۔۔۔

بلال اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا تھا۔۔۔

جی اچھا۔۔۔

دانین اب خوش ہوتی روم سے باہر گی تھی۔۔۔

————————————————————

عین میری جان اب طیبعت کیسی ہے ۔۔۔

آنیہ کو بے ہوش ہوتے روحا دیکھ چکی تھی تبھی وہ اسے بیڈ پر لیٹاۓ ڈاکٹر کو بلا چکی تھی ۔۔۔

اب ہوش میں آتی عین کو دیکھ وہ پیار سے بولی تھی۔۔۔

ج۔جی بہتر م۔ماما۔۔

آنیہ اٹھ کر بیٹھتی سر جھکاۓ بولی تھی۔۔۔

مسٹر ہارون آپ یہ میڈیسن منگوا لے ان کو ضرورت ہو گی اور خیال رکھے کافی ویک لگتی ہے یہ۔۔۔

ڈاکٹر ہارون کو پرچی دیتی بولی تھی ۔۔۔

کیا ہوا میری بیٹی ک۔۔۔

پریگنٹ ہے آپ کی بیٹی اسی وجہ سے چکر آیا آپ خیال رکھے اس کا ۔۔۔

ہارون پریشان ہوتے بول رہے تھے جب ڈاکٹر مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

واٹٹٹ۔۔۔

ہاے میں کتنی خوش ہو میری جان کتنی بڑی خوشی دی ہے تم نے ۔۔۔

روحا پہلے حیران پھر خوش ہوتی لال چہرہ لیے آنیہ کو سینے سے لگاۓ بولی تھی ۔۔

خوش رہو بیٹا ہمیشہ ۔۔

ہارون بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔

جبکہ آنیہ اب شرمائ تھی ۔۔۔

————————————————————

تمہاری ہمت کیسی ہو مجھے اریسٹ کرنے کی۔۔۔

رات کو شاہ میر اپنے سامنے اتنی پولیس فورس دیکھتے ان کے درمیان سکون سے کھڑے عمار کو دیکھتے غرایا تھا۔۔۔۔

مجرم کو اریسٹ ہی کیا جاتا ہے جہاں تک میرا خیال ہے ۔۔۔

عمار سکون سے بولا تھا۔۔۔۔

ابھی فصیلہ آنا باقی ہے میرا تم پہلے ہی ار۔۔۔۔

فصیلہ تو صبح آۓ گا لیکن یہ اریسٹ اس وجہ سے ہو رہے تمہارے باپ کی سزا تمہیں ملے گی ۔۔۔

آج سے دس سال پہلے تمہارے باپ نے ہارون خان کی بیٹی کو اغوا کیا تھا جو آج تک نہیں ملی اب باپ تو گیا تمہارا اوپر اس کا جواب تم دو گے ۔۔۔

شاہ میر گھبراتا بول رہا تھا جب عمار بولا۔۔۔

مجھ سے پنگہ لے کر تم اچھا نہیں کر رہے ۔

شاہ میر تملاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جیل میں جا کر بولنا جو بھی کہنا ہو اریسٹ کرو اسے جلدی سے ۔۔۔

عمار اپنے کیپ سر پر لیتا ان سب کو آڈر دیتا جا کر اپنی کار میں بیٹھا تھا ۔۔۔

جبکہ شاہ میر اب نفرت سے اسے دیکھتا پولیس کی حراست میں جا رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

بولو تم اس رات میری بہن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔

روحان اس آدمی کی انگلی کاٹتے وحشت سے بولا تھا۔۔۔

کیونکہ وہ کب سے اس پر ظلم ڈھا رہا تھا جبکہ اس آدمی کا ایک ہی جواب تھا وہ کچھ نہیں جانتا ہے ۔۔۔

م۔می۔میں نہیں جانتا ۔۔۔

آدمی چیختا روتا ہوا بولا تھا ۔۔

تم سب جانتے ہو بولو ۔۔

سبحان بھی شدید غصے میں آتا اس آدمی کے گال پر چاقو چلاتا بولا تھا۔۔۔

ر۔حم رحم کرو ا۔۔۔

کیوں تم لوگوں نے میری بہن پر رحم کیا تھا کیا وہ معصوم ننھی سی جان تھی ۔۔۔

ویسے مجھے پتہ چلا تمہاری ایک بیٹی بھی ہے کیا خیال ہے تمہاری بیٹی کے ساتھ یہ سب کیا جاۓ تو تمہیں احساس ہو گا درد کیا ہوتا ہے ۔۔۔

روحان اب آہستہ آہستہ اس کی ساری انگلیاں کاٹتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں پلیز میری بیٹی کا کیا قص۔۔۔

قصور تو میری روحی کا بھی نہیں تھا اب بتاٶ اس رات کیا ہوا تھا۔۔۔۔

آدمی روتا منت کرتا بول رہا تھا جب سبحان اس کا کان کاٹتا غرایا تھا۔۔۔۔

و۔وہ۔شاہ میر س۔سر کے ڈیڈ نے روحاب نام کی لڑکی کا ریپ کیا تھا۔۔۔

م۔میں وہی تھا سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کیونکہ ہم سب نے بابر کی بیٹی حجاب کو کڈنیپ کرنا تھا جبکہ ہم سب روحاب کو اٹھا لاۓ ۔۔۔

وہاں اڈے میں جا کر پتہ چلا وہ غلط لڑکی اٹھا لاۓ ہے تبھی شاکر خانزادہ نے شدید غصے میں وہ کام کیا تھا۔۔۔

پھر اس کے بعد ہم سب نے مل کر بے ہوش روحاب کو سڑک کنارے گرا دیا تھا۔۔۔

م۔مجھے معاف۔ک۔۔۔۔

آدمی روتا ہوا سب بتا رہا تھا جب آخری بات سنتے سبحان نے منٹوں میں اس کی گردن کاٹی تھی۔۔۔

اب اس آدمی کا سر اس کے قدموں میں پڑا تھا جبکہ سبحان شدید بے بسی سے رو رہا تھا۔۔۔

م۔میں ۔ک۔کیسے بتاٶ گا روحی کو کہ وہ سب ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔

سبحان روحان کی طرف دیکھتا چلایا تھا۔۔۔

سیم حالت روحان بھی ایسی ہی تھی۔۔۔۔

ہ۔ہم سب ہنیڈل کر لے گے روحی کو تم اسے گھر لے آٶ بس۔۔۔

روحان اسے گلے لگاۓ حوصلہ دیتا بولا تھا۔۔۔

————————————————————

حجاب میری بات سنو یار ایک موقع تو دو ۔۔

حجاب ہال میں بیٹھی ٹی وی پر فلم دیکھ رہی تھی جب آذان وہاں آیا تبھی وہ اسے گھورتی روم میں آئ تھی جب وہ پیچھے آتا بولا تھا۔۔۔

کیا ہوا مسٹر آذان بیوی کی ضرورت محسوس ہو گی کیا جو آ گے۔۔۔

حجاب غصے سے غرای تھی۔۔۔

یہ تو اس کی گولو مولو سی حجاب نہیں تھی یہ تو کوئ کمزور سی حجاب لگی تھی آذان کو۔۔۔

مجھے معاف کر دو حجاب پلیز مجھے احساس ہو گیا ہے میں اور میری بیٹی تمہارے بنا نہیں رہ سکتے ۔۔۔

آذان حجاب کو کمر سے پکڑتے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتے بولا تھا۔۔۔

تم مجھے دھوکہ دے رہے ہو کل کو میری انسلٹ کر دو گے دوبارہ۔۔

حجاب اس سے دور جاتی بولی تھی۔۔۔

نہیں میں وعدہ کرتا ہو کبھی بھی تمہیں کچھ نہیں کہو گا ہمیں ضرورت ہے تمہاری ۔۔

میں تم سے محبت کرنے لگ گیا ہو یار سمجھو میری بات ۔۔۔

آذان اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیتا اس کے گال پر لب رکھے بولا تھا۔۔۔۔

لیکن تم تو علیشبہ سے محبت کرتے ہو اور مجھے بھی بس شجرت کی وجہ سے اپناٶں گے۔۔

حجاب ایک بار پھر کمزور لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔

وہ میرا ماضی تھی تم میرا حال و مستقبل ہو حجاب بس ایک موقع دو مجھے میں سب ٹھیک کر دو گا۔۔۔۔

آذان التجا کرتا اب اپنے لب اس کے لبوں کے قریب لاتا بولا تھا۔۔۔۔

نہیں میں نہیں دو گی تمہارا کیا ہے پھر سے انسلٹ ک۔۔۔

حجاب پیچھے ہوتی بول رہی تھی جب آذان اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتا اس کی بولتی بند کروا چکا تھا۔۔۔۔

حجاب نے حیرت سے اپنی آنکھیں کھولی تھی اسے بلکل امید نہیں تھی اس کے اس ردعمل پر ۔۔۔۔

جبکہ آذان اب مدہوش ہوتا آہستہ آہستہ اپنے لبوں کا لمس اس کی گردن پر چھوڑ رہا تھا۔۔۔

ا۔اچھا آ جاٶ گی اب ت۔تم جاٶ۔۔۔

اس سے پہلے وہ کوئ گستاخی کرتا جب حجاب ہوش میں آتی جلدی سے بولتی دور ہوئ تھی ۔۔۔

شرم سے اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

اففف زینی کدھر ہو یار ۔۔۔

رات کو عمار روم میں آتا آس پاس دیکھتا چلایا تھا۔۔۔

یہی ہو پاگل چلا تو ایسے رہے جیسے دہشت گرد پکڑ کر لے گے مجھے ۔۔۔

زینیہ اسے بیک ہگ کیے مسکراتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔

لگتا بڑی خوش ہو وجہ جان سکتا ہو میں۔۔۔

زینیہ کو ہاتھ سے پکڑتے آگے کرتے عمار اس کا خوشی سے چمکتا چہرہ دیکھ بولا تھا۔۔۔۔

ہاں خوش تو بہت ہو مسٹر عمار ۔۔۔

زینیہ عمار کی گردن میں بائیں ڈالتی سکون سے بولی تھی۔۔۔۔

اچھا تو مجھے بھی بتاٶ۔۔۔

عمار اسے کمر سے پکڑتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔

زینیہ کو دیکھ کر اس کی ساری تھکن اتر چکی تھی۔۔۔۔

تم باپ بنے والے ہو۔۔۔

زینیہ اس کے کان میں سرگوشی کرتی شرماتے بولی تھی۔۔۔۔

کیااااااااا کیییییییییاااااا۔۔۔

آہستہ عمار باہر آواز جاۓ گی ۔۔۔

زینیہ جلدی سے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاے میں کتنا خوش ہو میرے بھی بچے ہو گے ۔۔۔

عمار اسے گود میں لیتا گول گول گھومتا بولا تھا۔۔۔

وہ بچے میرے بھی ہو گے مسٹر عمار ۔۔

زینیہ اب ناراض نظروں سے اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔

پہلے میرے بعد میں تمہارے ہو گے ۔۔۔

عمار اسے بیڈ پر بیٹھاتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

کوئ نہیں پہلا حق میرا ہو گا سڑک چھاپ پولیس والے۔۔۔

زینیہ اب لڑاکا عورتوں کی طرح اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔

پہلا حق میرا ہے تم پر بعد میں بچوں کی ماں بننا تم ۔۔۔

عمار زینیہ کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیتا مدہوش ہوتا بولا تھا۔۔۔

زینیہ اس کی بات پر مسکرائ تھی۔۔۔

————————————————————

یہ سب کون ہے۔۔۔

شاہ میر جیل میں اپنے ایک آدمی سے ملتا بولا تھا آج اسے کورٹ لے کر جا رہے تھے ۔۔

یہ والی ڈائمن کی بیوی ہے یہ شانی کی یہ والی سفان خان اور یہ ایس پی عمار کی بیوی ہے ۔۔۔

اس کا آدمی ان سب کی بیویوں کی پکس دیکھاتا بولا تھا۔۔۔

بہت شوق ہے ان سب کو مجھے سزا دینے کا ان سب کو اغوا کرواٶ ۔۔

لیکن سر ابھی تو آپ کو کورٹ ل۔۔۔۔

میں وہاں ہو گا جبکہ تمہیں یہ کام کرنا ہو گا میں بھی دیکھنا چاہتا ہو ان سب پر کیا گزارتی ہے ۔۔۔

اس کا آدمی فکر مند ہوتا بول رہا تھا جب شاہ میر کچھ سوچتا بولا تھا۔۔۔

پولیس اسے اپنی حراست میں لیتی اب وین میں بیٹھاتی کورٹ کی طرف لے گی تھی ۔۔۔

————————————————————

جج صاحب شاہ میر ہی تھا جس نے میرا ریپ کیا تھا یہی تھا وہ شخص جو مجھے دمھکی دیتا تھا۔۔۔

پورے ایک ماہ کی زینیہ اور عمار کی محنت رنگ لائ تھی انھوں نے بہت مشکل سے رامین کو راضی کیا تھا تبھی جا کر اس نے گواہی دوبارہ دی تھی۔۔۔۔

یہ عدالت سارے گواہ و ثبوت کو مدنظر رکھتی ہوئ مسٹر شاہ میر کو پھانسی کی سزا سناتی ہے ۔۔۔

جج صاحب اپنا آڈر دیتے وہاں سے چلے گے تھے جبکہ پولیس اب سکون سے کھڑے شاہ میر کو ہاتھکڑی لگا رہی تھی۔۔۔

روحان سفان عمار سبحان سبھی آے ہوۓ تھے ۔۔۔

آج وہ سارے خوش تھے رامین کے ساتھ ساتھ شاہ میر ان سب کا بھی مجرم تھا جیسے آج سزا مل چکی تھی ۔۔۔

یاہووووو یاہووووو ۔۔

میں جیت گی میں جیت گی ۔۔۔۔

زینیہ خوشی سے پاگل ہوتی وہی عمار کے گلے لگتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں میری جان جیت گی ہے زرا آرام سے ۔۔۔

عمار اسے کمر سے پکڑتے بولا تھا۔۔۔۔

کیوں کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔۔

روحان نے پریشان ہوتے پوچھا تھا۔۔۔

جب زینیہ شرماتی ہوئ کورٹ سے باہر بھاگی تھی۔۔۔

یار میں باپ بننے والا ہو۔۔۔

عمار مسکراتا بولا تھا۔۔۔

مبارک ہو یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔

سب اس کے گلے ملتے ہوۓ بولے تھے۔۔

ویسے مسٹر تم بھی باپ بننے والے ہو مجھے صبح آنی نے بتایا۔۔۔۔

سبحان شرارتی انداز سے روحان کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

سیرسیلی کیا لیکن باربی نے تو بتایا ہی نہیں ۔۔

روحان شوک ہوتا بولا تھا۔۔۔

ہاں یار سچی تو فون کر زرا آنی کو۔۔۔۔

سبحان مسکراتا بولا تھا۔۔۔

———————————————————–

یار شاہ میر کو سزا ہو گی لیکن میرا دل کہہ رہا وہ کچھ تو مسئلہ کرے گا مطلب وہ اتنے سکون سے گیا ہے جیسے پھانسی کی سزا نہیں کوئ گیم ہو۔۔۔

وہ سارے وہی کافی دیر سے کھڑے باتیں کر رہے تھے جب سفان کچھ سوچتا بولا تھا۔۔۔

ہاں دیکھ لے گے ویسے بھی کورٹ سے کو۔۔۔

س۔سر۔

سر۔سر ۔۔

روحان ابھی بول رہا تھا جب اس کا پرسنل گارڈ خون سے لت پت اندر کو آتا بولا تھا۔۔۔

کیا ہوا تمہی۔۔

روحان نے سردمہری سے پوچھا تھا ۔۔

سر وہ شاہ میر کے آدمی نے اس وین کو آگ لگا دی جس میں وہ تھا۔۔

کافی پولیس والے مارے گے اور سر جنت آنیہ زینیہ اور روحاب میم اس کے قبصے میں ہے ۔۔۔

اس کا گارڈ فر فر بولتا ان سب پر بجلیاں گرا چکا تھا۔۔۔

کییییییاااا یہ سب کیسے ہو گیا اب اس شاہ میر کو ہم نہیں چھوڑنے والے ۔۔۔

سبحان شدید غصے سے چلاتا کسی کو فون ملا رہا تھا جبکہ اب وہ سارے کورٹ سے باہر بھاگتے اپنی اپنی کاروں میں بیٹھے تھے ۔۔

انہیں کیسے بھی ان سب کو بچانا تھا۔۔۔