Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 20)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 20)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
““ماضی کچھ سال پہلے ۔۔۔
ہارون تم میری بات کو سیریس نہیں لے رہے مجھے دمھکی بھرے مسیچ اور کالز آتی ہے ۔۔
مجھے اپنے بچوں سے زیادہ تم لوگوں کے بچوں کی فکر ہے ۔۔
ایک آرمی والے کی زندگی بہت مشکل ہے اس کی فملیی کے ساتھ ساتھ آس پاس کے لوگوں کو بھی خطرہ ہوتا ہے ۔۔۔
بابر ہارون کو فون کرتا پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
ارے یار کچھ نہیں ہوتا گارڈز ہے وہاں ہمارے اور یہ دمھکی کچھ نہیں ہوتی اللہٌسب کو اپنے امان میں رکھے تم فکر مت ک۔۔۔۔
میری بات کیوں نہیں سنتے تم اچھا ایسے کرو کم از کم روحان سے بات کر لو پرنسپل کو کہو اس کی بات تم سے کروا دے ۔۔۔
ہارون پھر سکون سے بول رہا تھا جب بابر ایک دفعہ غصے سے بولا ۔۔۔
شاکر خانزادہ ایک بہت بڑا کرپٹ اور دہشت گرد آدمی تھی دنیا کی نظر میں وہ ایک اچھا اور سلجھا ہوا انسان تھا لیکن وہ برائ کے راستے پر ایک بادشاہ تھا۔۔۔
اسی کی ساری جائیداد پر بابر نے پوری آرمی کے ساتھ مل کر ریٹ کیا تھا۔۔۔
تبھی اب وہ کہی چھپا اسے ہی دمھکیاں دے رہا تھا جس پر بابر پریشان تھا۔۔۔
اچھا تم ایسا کرو ہم ہی وہاں چلے جاتے ہے ۔۔۔
ہارون مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
————————————————————
کہاں جا رہی ہو روحی ۔۔۔
دس سالہ روحان اپنی ہم عمر روحاب سے پوچھا تھا جو سفید یوینفارم میں آہستہ آہستہ کلاس سے باہر نکل رہی تھی۔۔۔
و۔وہ روحان میں شانی سے ملنے جا رہی بس ابھی آ جاٶ گی ۔۔۔
روحاب نے ڈرتے ہوۓ جواب دیا تھا۔۔۔
وجہ۔۔
روحان نے اپنی مسکراہٹ روکے پوچھا تھا جبکہ جانتا تھا روحاب سبحان سے کتنی محبت کرتی تھی ۔۔۔
و۔ہ ہ چاکلیٹ دینے جانا کل ہمارا نکاح ہوا اس لیے میں جلدی آ جاٶ گی ۔۔۔۔
روحاب اب مسکراتی ہوئ کہتی وہاں سے بھاگتی سبحان کی کلاس کی طرف گی تھی ۔۔۔
کل ہی روحان آنیہ روحاب سبحان جنت سفان کا نکاح ہو چکا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ہاے اکیلا بیٹھا ہے جاٶ یا نہیں ۔۔۔
روحاب اسے کلاس میں ڈھونڈتی اب گروانڈ میں آی تھی جہاں وہ اکیلا بک لیے سکون سے بنیچ پر بیٹھا تھا ۔۔۔
تبھی ایک درخت کے پاس وہ اکیلی کھڑی سوچ رہی تھی ۔۔۔
سبحان جان چکا تھا روحاب یہی کہی اسے دیکھ رہی ہے تبھی اپنی شیشے جیسی سنہری آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو مسکرایا تھا۔۔۔
نہیں میں کلاس میں جاتی ہو اب دیکھ لیا بہت ہے ۔۔۔
روحاب جلدی سے گھبراتے ہوۓ اپنی کلاس میں جاتی بول رہی تھی۔۔۔
جی سر اس فوجی کا بیٹا اکیلا بیٹھا ہے بلکہ اس کی بہن بھی ساتھ ا۔۔
انتظار مت کرو شوٹ کرو میں چاہتا ہو اس فوجی کو پتہ چلے کیا ہوتا ہے جب کوئ عزیز چیز چھن جاے ۔۔۔۔
گروانڈ کے پاس تقربیاً دس بارہ آدمی کھڑے فون پر بول رہے تھے جب شاکر آڈر دیتا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
————————————————————
ک۔کون۔ہ۔ہو تم۔لوگ۔۔۔۔
روحاب ابھی تھوڑی دور آی ہی تھی جب چالیس پچاس آدمیوں نے اسے گھیرا تھا۔۔۔۔
تبھی وہ ڈرتی چلائ تھی۔۔۔
سبحان اس کی آواز سنتا اسی کی طرف دیکھتا بھاگا تھا۔۔۔۔
اٹھاٶ اس لڑکی ک۔۔۔۔
ایک آدمی ابھی روحاب کا بازو چھو رہا تھا جب سبحان نے اپنی منی پاکٹ سے چھوٹی سی گن نکال کر شوٹ کیا۔۔۔
لیکن وہ گولی روحاب کے شولڈر کو چھوتی گزار گی تھی ۔۔۔۔
بچاٶ بچاٶ شانی بچاٶ مجھے۔۔۔۔
روحاب اپنی خون آلود شرٹ سے چیخ رہی تھی وہ ڈر سے کانپ رہی تھی ۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورے سکول کو ان دہشت گردوں نے اپنی گرفت میں لیے لیا تھا۔۔۔
اب وہاں دانین روحان بلاج آذان زینیہ عمار حجاب جنت سب چلا رہے تھے ۔۔۔۔
سکول سے باہر اب ہارون اور بابر پریشان سے کھڑے تھے۔۔۔
دیکھا میں نے کہا تھا تجھے دیکھ ہمارے بچے خطرے م۔۔۔
ریلکس اتنے پریشان مت ہو کچھ نہیں ہو گا ہمارے بچوں کو ۔۔
بابر بول رہا تھا جب ہارون بھی پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
اسی وقت زیان بھی اپنی پولیس فورس لیے وہاں آیا تھا۔۔۔
یہ سب کیسے ہوا ہارون۔۔۔
زیان پولیس یونفارم میں آتا پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
یار صبر کرو کچھ نہیں ہوتا اللہٌپر بھروسہ کرو۔۔
ہارون ان دونوں کو پرسکون کرتا جیسے تیسے اندر انٹر ہوۓ تھے۔۔۔
————————————————————
چھوڑو میری بہن کو جانور۔۔۔
روحان بھی سب سے جان چھاپے گروانڈ میں آتا سبحان کے پاس کھڑے ہوتے غرایا تھا ۔۔۔
روحاب کو وہ سب سبحان کی بہن حجاب سمجھے تھے ۔۔۔
روحاب اب تھر تھر کانپتی رو رہی تھی ۔۔۔
سبحان نے جب دیکھا وہ آدمی نہیں سن رہے تبھی پاگل ہوتا سب کو شوٹ کرنا شروع کر چکا تھا ۔۔۔
جبکہ اس کی طرف سے فائر ہوتی دیکھ اب وہ بھی روحاب کو
لے وہاں سے بھاگے تھے۔۔۔
انہی فائر میں سے ایک گولی دانین کو لگی تھی تبھی وہ وہی اپنی زندگی کی بازی ہار چکی تھی۔۔۔
بابا پلیز روحی کو بچاۓ بابا پلیز۔۔۔
بابر کو آتا دیکھ سبحان نے پریشان ہوتے کہا تھا ۔۔۔
بیٹا ہم بچا لے گے تم آو ساتھ میر۔۔۔
نہیں بابا اسے بچاۓ بابا پلیز۔۔۔
ہر طرف خون میں لت پت بچوں کو دیکھ بابر نے حوصلے سے کہا تھا ۔۔۔
ہارون خان دکھی ہوتے اپنی باہوں میں دانین کی لاش اٹھا رہا تھا اسے تو ابھی اپنی بیٹی کا بھی پتہ نہیں تھا وہ دور ہو چکی ہے ۔۔۔
پولیس اور آرمی والوں نے پورے سکول کو اپنے قابو میں لیے زخمی بچوں کو ہاسپٹل پہنچا رہے تھے۔۔۔
———————————————————–
دانین کی موت روحاب کی گمشدگی سب پر قہر بن کر برسی تھی ۔۔۔
جان سے عزیز بہن کو دور پاتے جنت گیارہ سال کی عمر میں ہی ہارٹ پیشٹ بن چکی تھی اسے پہلا ہارٹ اٹیک ہی تب آیا تھا ۔۔۔۔
جنت کو آرمی والوں سے نفرت ہو چکی تھی وہ سمجھتی تھی سبحان کی وجہ سے اس کی بات کے ساتھ یہ سب ہوا ۔۔۔
وہی سبحان خود کو مجرم سمجھتا اپنے باپ کو بھی نہیں بلاتا تھا وہ سمجھتا تھا اگر بابر روحاب کو بچا لیتا آج وہ یہاں ہوتی ۔۔۔
دانین کی موت پر پریسہ ساری دنیا سے بیگانہ ہو چکی تھی اسے کسی کی کوئ خبر نہیں رہتی تھی ۔۔۔
ہارون خان اپنی بیٹی کے غم میں کم پریشان تھے جبکہ وہ زیادہ پریشان اپنی پنک روز کے لیے تھے ۔۔۔۔
ان کا اپنے رب پر پورا یقین تھا وہ ایک دن ضرور انہیں ان کی بیٹی واپس دے گا ۔۔۔۔
تبھی وہ ہمت کرتے سب کو سبنھال رہے تھے ۔۔۔۔
دو سال بعد پری کے ایک اور بیٹی ہوئ تھی جس کا نام پری نے پھر سے دانین رکھا تھا ۔۔۔۔
پریسہ اب خوش تھے اپنی دانین کو واپس پا کر ۔۔۔۔۔
————————————————————
“”حال۔۔۔
ہ۔ہیرو میری مدد کرنا تم۔۔۔۔
آنیہ ٹبیل پر کھڑی تھی جب روحان کو اندر آتا دیکھ وہ بولی تھی۔۔۔
ضرور میری جان کیا مدد چاہے ۔۔۔
روحان واک سے واپس آیا تھا تبھی مسکراتا ہوا پاس آتا بولا تھا۔۔۔۔
ہ۔ہاں۔۔و۔وہ مجھے ی۔یہ چاہے ہ۔ہاتھ نہیں ج۔جا رہا میرا چھوٹا سا تو۔ہے۔۔۔۔
آنیہ ابھی بھی ٹیبل پر کھڑی اپنی چھوٹی چھوٹی بازوں کو اسے دیکھاتی معصومیت سے بولی تھی ۔۔۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے قریب کھڑی تھی جس کے اوپر جہاں اس کا بیگ پڑا تھا۔۔۔۔
آٶ ادھر میں ہو تو تمہیں ٹیبل کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔
روحان اسے ایک ہی جھٹکے میں اپنے شولڈر پر اٹھاۓ سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
ش۔شکریہ۔۔۔۔
آنیہ جلدی سے بیگ لیتی اب زرا نیچے کو آتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
افففف باربی صبح صبح تمہارا چہرہ دیکھ کر میں خوش ہو جاتا ہو آٶ ناشتہ کرنے چلے۔۔۔
آنیہ کے گال پر لگی مٹی کو اپنے لبوں سے صاف کرتا روحان اسے لے روم سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔۔
ن۔نہیں ہ۔ہیرو نیچے ماما بابا ہے شرم آتی مجھے چھوڑ دے پلیز۔۔۔۔
آنیہ اپنا سرخ چہرہ لیے اسے مکے مارتی بولی تھی جبکہ وہ سکون سے چلتا اب ڈائنگ ٹیبل پر ہارون اور روحا کے پاس آیا تھا۔۔۔۔
ہییییی و۔وہ میں جھولے لے رہی تھی بابا۔۔۔۔
ہارون خان کو دیکھتے آنیہ مزاخیا انداز سے ڈھیوں کی طرح دانت نکالتی بولی تھی ۔۔۔۔
کوئ بات نہیں بیٹا آٶ ناشتہ کرو۔۔۔
ہارون خان مسکراہٹ روکتے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے ۔۔۔۔
و۔وہ ماما میں ت۔۔۔
بیٹا آپ ناشتہ کرو ہم بعد میں بات کرے گے یہ بتاٶ کیا کھاٶ گی۔۔
روحان اسے نرمی سے روحا کی کرسی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھایا تھا جب آنیہ پھر شرمندہ ہوتی بول رہی تھی جب روحا اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ج۔جی ماما۔۔۔۔
روحان کی شوخ نگاہوں سے گھبراتے آنیہ اب جلدی سے پلیٹ پر سر جھکاۓ ناشتہ کرتی بولی تھی۔۔۔۔
کیا بچی کو نظروں سے کھانے کا ارادہ ہے میری جان۔۔۔
مسلسل آنیہ کو گھورتے روحان کو دیکھ ہارون اس کے کان میں سرگوشی کرتے بولے تھے۔۔۔۔
جی بابا ۔۔
روحان بھی دانت نکالے بے شرمی سے بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہہاہااہاہاہہاا مطلب میں معصوم ہو تمہاری ماما مجھ پر الزام لگاتی ہے میں بے شرم ہو حالانکہ یہ تم ہو ۔۔۔
ہارون خان قہقہ لگاتے بولے تھے جبکہ ان کی بات سنتے روحا کا بھی چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔۔۔
————————————————————
د۔دارجی میں آ جاٶ۔۔۔۔
دارجی اپنے روم میں بیڈ پر بیٹھے خبار پڑھ رہے تھے جب دانین اندر آتی ہکلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
کیا بات ہے لڑکی۔۔۔
وہ اپنی رعب دار آواز سے بولے تھے۔۔۔
لڑکی نہیں میرا نام دانین ہے آپ مجھے دانی کہہ لیا کرے۔۔۔۔
یلیو کلر کی چھوٹی سی فراک پہنے اپنے بالوں کی دو پونیاں بناۓ وہ پھولے گال لے اندر آتی سمجھداری سے بولی تھی۔۔۔۔
دارجی حیران تھے اس کی ہمت پر جو آرام سے ان کے روم میں کھڑی تھی ۔۔۔۔
کام بتاٶ۔۔۔۔
دار جی ابھی بھی سنیجدہ ہوتے بولے
تھے۔۔
و۔وہ کام تو بہت ضروری ہے آپ وعدہ کرے مان جاۓ گے۔۔۔
دانین خودی اب ان کے پاس بیڈ پر بیٹھی اپنی آنکھیں بڑی بڑی کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں بولو کام۔۔۔
دارجی اب اس کی طرف دیکھتے بولے تھے جب اب بلکل بیڈ پر بچوں کی طرح ان کے شولڈر سے لگی بیٹھی تھی۔۔۔۔
و۔وہ مجھے بابا یاد آ رہے بلال بھی نہیں حویلی تو۔مج۔مجھے نیند آئ ہے آپ سلا دے گے مجھے کیا جیسے بابا سلاتے تھے پلیز میں آپ کو بڑی والی چاکلیٹ دو گی پکا وعدہ۔۔۔
دانین ان کا ہاتھ پکڑے معصومیت سے بولی تھی ۔۔۔
دارجی حیران تھے اتنی ننھی سی بچی پر ۔۔۔
جاٶ یہاں سے میں تمہیں ایسے لگ۔۔۔۔
دارجی ابھی بول رہے تھے جب دانین نے جلدی سے ان کے گال پر کس کیا تھا۔۔۔
آپ بابا جیسے ہے میں آپ کو بابا کہو گی اب پلیز مجھے سونے دے اب اچھا میں آپ کو اپنے کھلونے بھی دے دو گی ۔۔۔۔
دانین اب ان کے دوسرے گال پر کس کرتی جلدی جلدی بولی تھی۔۔۔۔
دار جی پہلی دفعہ مسکراۓ تھے اس کی حرکت پر ۔۔۔
اچھا میں تمہیں سلا دیتا ہو پھر کیا کرو گی ۔۔۔
دار جی اب دانین کا سر اپنی گود میں رکھتے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے بولے تھے ۔۔۔
جو آپ کو چاہے وہی بس بلال آ جاۓ پھر اچھا میں سوچ رہی تھی آپ کے ساتھ سو جایا کرو میں۔۔۔
آپ کے ہاتھ نرم ہے بابا ۔۔۔۔
دانین اپنی بھاری ہوتی آنکھوں پر ان کے ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاں ضرور میرا بچہ آ جایا کرو بابا کے پاس ۔۔۔
دارجی کے منہ سے بے خیالی میں یہ الفاظ نکلے تھے ۔۔۔۔
جبکہ دانین اب گہری نیند میں چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
کتنی پیاری بچی ہے ہاے کہی غلطی تو نہیں کر دی بلال کی شادی اس سے کروا کر ۔۔۔۔
میں اتنا ظالم تو ن۔۔۔۔
آہممم آہممممم۔۔۔۔
دار جی کافی دیر دانین کے بال سہلاتے سوچ رہے تھے جب روم میں یونفارم پہنے بلال اندر آتا کھانسی کرتا انہیں متوجہ کروایا تھا۔۔۔
و۔ہ۔وہ یہ لڑکی کو لے جاٶ اور ہاں اپنی عادت کرواٶ دوسروں کی نہیں بلاوجہ تنگ کرنے آ گی ۔۔۔۔
دارجی جلدی سے سختی والے تاثرات لاتے نظریں چڑاۓ بلال سے بولے تھے ۔۔۔
جی دارجی میں خیال رکھو گا ۔۔
بلال اپنی مسکراہٹ روکے اب ان کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔
اب کیا ہے کھڑے کیوں ہو۔۔
دارجی اسے کھڑا دیکھ پھر سے بولے تھے ۔۔۔
دانی کو لے کر جانا ا۔۔۔۔
جاٶ آ جاۓ گی سو رہی ہے تم کپڑے چینج کرو۔۔۔
دار جی اسے حکم دیتے بولے تھے ۔۔۔
آپ نے ہی کہا تھا لڑکی تنگ کرتی ہے تو مجھے لے کر جانے دے اب ۔۔۔
بلال جان بوجھ کر دانین کو گود میں آٹھاۓ جاتے ہوۓ بولا تھا وہی دار جی اب سوچ رہے تھے کیسے روکے اسے ۔۔۔
ہاہاہہاہہاہااہا۔۔۔
روم سے باہر آتے بلال کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
————————————————————
بابا میں شادی کرنا چاہتا ہو۔۔۔
برہان کے پاس بلاج آتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
بڑی جلدی یاد نہیں آ گیا تمہیں ۔۔۔
برہان طنزیہ مسکراہٹ لاتے بولے تھے ۔۔۔
بابا انسان ہو غلطی ہو گی ایک دفعہ اجازت دے میں سب ٹھیک کر دو گا ۔۔۔
میں جانتا ہو ارو کتنا ہارٹ ہوئ تھی میری باتوں سے بس اب مجھے سب ٹھیک کرنے دے ۔۔
ویسے بھی بابا دیکھے یہ غلط ہے سب چھوٹوں کی شادیاں ہو گی میں بڑا ہو کر اکیلا رہ گیا۔۔۔
میرے بچے لیٹ ہو رہے ہے ۔۔۔
بلاج ساری بات کرتا لاسٹ میں شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔
ہاہاہااہااہاہاہہااا چلو میں اسامہ سے بات کرتا ہو سادگی سے رخصتی کروا لیتے ہے ہماری ہی بیٹی ہے ۔۔۔۔
برہان قہقہ لگاتے بولے تھے ۔۔۔۔
ہاےےےے شکریہ بابا آپ نے میرا دل جیت لیا دادی نے کتنا پیارا بیٹا پیدا کیا ہے مجھے فخر ہے آپ پر ۔۔۔
بلاج برہان کے گلے لگتے خوشی سے پاگل ہوتا چہکتا بولا تھا ۔۔۔۔
بدمعاش بے شرم یہ کیا بول رہا ہے ۔۔۔
تنزیلہ بیگم وہاں آتی مسکراتی ہوئ بلاج کا کان پکڑتے بولی تھی ۔۔۔۔
یہی کہ آپ نے اچھا بیٹا پیدا کیا ہے اب دیکھنا میرا بھی بیٹا میرے جیسا ہو گا۔۔۔
بلاج دانت نکالے تنزیلہ بیگم کے ہاتھوں کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
افف توبہ برہان تم کم تھے یہ نمونہ بھی مل گیا ہمیں ۔۔۔
تنزیلہ بیگم شوک ہوتی برہان کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ماما بیٹا میرا ہے تو مجھ پر جاۓ گا۔۔۔۔
برہان مسکراتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔
———————————————————–
کدھر چلا گیا یہ کالا ۔۔
صبح سے دوپہر ہو گی تھی پلوشہ اب نیند سے جاگتی نیچے سیڑھیوں کی طرف آتی بول رہی تھی ۔۔۔۔
کالے کدھر ہو تم ۔۔۔
پلوشہ اب ہال میں آتی بولی تھی جہاں مکمل سناٹا تھا۔۔۔۔
لگتا یونی چلا گیا۔۔۔۔
پلوشہ وہی صوفے پر بیٹھتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
اسے بھوک بھی لگی تھی اور کھانا اسے بنانا آتا ہی نہیں تھا۔۔۔
ہاں بولو زینی۔۔۔
پلوشہ اب زینیہ کی کال اٹھاتی بیزار سے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
لگتا موڈ خراب ہے۔۔
زینیہ مسکراہٹ روکے بولی تھی۔۔۔
ہاں وہ کالا نہیں مل رہا کدھر ہے مجھے بھوک بھی لگی ہے ا۔۔۔۔
شرم کرو کچھ شوہر ہے اور زین بھای دل کے اتنے اچ۔۔۔۔
ارے چھوڑو سارے مرد ایسے ہوتے ہے جب اپنا حق لے لیتے ہے تب بھول جاتے ہے بیوی ہے یا نہیں اور تم بھی دیکھنا تمہارا یہ زین بھای بھی ایسا ہی کرے گا بلکہ اب تو میں مجبور کرو گی کہ وہ میری طرف آے پھر اس کی اوقات پتہ چلے گی انہہہ۔۔۔
زینیہ بول رہی تھی جب پلوشہ نفرت انگیز لہجے میں کہتی فون کٹ کر چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
اتنے امیر ہو پھر بھی یہ کام نوکروں کی طرح کر رہے ہو مسٹر کالو۔۔۔
پلوشہ اب کچن میں آتی بولی تھی جہاں شاہ زین براٶن بینان پہنے مگن سا آلو کے پراٹھے بنا رہا تھا۔۔۔
آو کھانا کھا لو میں جانتا ہو تمہیں یہ پسند ہے ۔۔۔۔
براٶن کلر کی سلو لیس نائٹی پہنے جو بامشکل اس کی تھائ تک آ رہی تھی بکھرے بال میک اپ کے بنا ہی وہ شاہ زین کو خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی اسے مسکراتے دیکھ وہ بولا تھا۔۔۔
پلوشہ تو بس اس کی مسکراہٹ پر ہی فدا ہو گی تھی لیکن جلد ہی خود پر قابو پایا تھا۔۔۔۔
کیا نوکر نہیں تمہارے پاس مجھے کہو میں اپنے بابا کو کہتی ہو۔۔۔
پلوشہ چلتی ہوئ اس کے قریب آتی مہبوت ہوتی بولی تھی وہ مسلسل اس کا مسکراتا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
نوکر تو ہے لیکن انہیں اجازت نہیں تم جب گھر میں ہو تب وہ آے ویسے بھی کام ہی کتنا ہوتا جو نوکر اندر آے چلو یہ کھاٶ پھر بتانا کیسا بنا ہے ۔۔۔
شاہ زین اسے کمر سے پکڑتے کچن شلف پر بیٹھاۓ سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
ب۔بہت یمی ہے مطلب تم آج سے یہ سب کام کرنا ٹھیک۔۔۔۔
پلوشہ اب کھاتی ہوئ مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
جب کھانا کھایا جاۓ تب سر پر ڈوپٹہ لیا جاتا ہے اور بالوں کو بھی کور کرتے ہے ۔۔۔۔
شاہ زین اب ہاتھ دھوتا پلوشہ کے بالوں کا جوڑا بناۓ پیار سے بولا تھا۔۔۔۔
اس کی انگلیاں پلوشہ کو اپنی گردن پر ٹچ ہوتی محسوس ہوئ تو دل کی دھڑکن تیز ہوئ۔۔۔۔
اب تم چاہتے ہو میں یہ اتنا بڑا پردہ لو مجھ سے نہیں ہوتا رکھو یہ تم تو ایویں بولنے لگ گے ۔۔۔۔
پلوشہ اچانک اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی شلف سے اٹھتی باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ بتاٶ کوئ کام ہے ورنہ میں جم روم میں جانے والا تھا۔۔۔۔
شاہ زین مسکراہٹ روکے اس کے پیچھے آتا بولا تھا۔۔۔۔
ہمممم بڑا شوق اسے میرا کام کرنے کا چلو تم بھی سوچو گے پلوشہ برہان سے پلا پڑا ہے اتنا تنگ کرو گی خودی چھوڑ دو گے ۔۔۔۔
پلوشہ اب دل میں سوچتی شیطانی مسکراہٹ لاۓ شاہ زین کو دیکھا تھا۔۔۔۔
ہاں میرے نیل پینٹ لگا دو پلیز مسٹر کالو۔۔۔
پلوشہ اب صوفے پر بیٹھاتی اپنے سفید ہاتھ اس کے سامنے کرتی بولی تھی ۔۔
اچھا لاٶ ہاتھ۔۔۔
شاہ زین اس کے قریب بیٹھتا ہاتھ پکڑے سکون سے بولا تھا ۔۔
جبکہ اب پلوشہ سکون سے اسے سے نیل پینٹ لگا رہی تھی ۔۔۔۔
شاہ زین کا نرم سا لمس پاتے پلوشہ کو سکون آرہا تھا ۔۔
————————————————————
یہاں بھی لگا دو۔۔۔
ہاتھوں پر لگانے کے بعد پلوشہ اب اپنا پاٶں شاہ زین کی گود میں رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
وہ سمجھتی تھی مرد کی انا یہ گوارہ نہیں کرتی وہ ایک عورت کے پاٶں پکڑے تبھی جان بوجھ کر اپنے پاٶں آگے کیے تھے لیکن وہ تو شوک ہوئ تھی جب شاہ زین نے اس کے پاٶں پکڑتے نیل پینٹ لگانا شروع کیا تھا ۔۔۔
شاہ زین اپنے کام میں بزی تھا اس نے ایک دفعہ بھی پلوشہ کی اوپر جاتی نائٹی کے درمیان برہنہ تھائ کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
پلوشہ بہت غور سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
اب وہ آہستہ آہستہ خودی اس کے قریب آئ تھی ۔۔۔۔
ویسے مسٹر کالو یہ کام کہاں سے سکھے ہے ۔۔۔
پلوشہ اپنا ہاتھ بے خودی میں شاہ زین کی شیو پر پھیرتی بولی تھی ۔۔۔
اب تم کام نہیں کرتی تو شوہر کا فرض ہے بیوی کے کام پورے کر دے بس۔۔۔
شاہ زین بھی اب کام سے فری ہوتا اس کی طرف مسکراتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
سارے مرد تمہارے جیسے کیوں نہیں ہوتے کالو۔۔۔
پلوشہ ان کھوئ ہوئ اس کے چہرے کے قریب آتی بولی تھی۔۔۔۔
سارے میرے جیسے کالے نہیں ہ۔۔۔۔
شاہ زین آرام سے اس کی ٹانگیں اپنی گود سے اٹھاتے اٹھتے ہوے بول رہا تھا جب پلوشہ اسے شولڈر سے پکڑتی اپنے قریب لاتی اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے شاہ زین اسے دور کرتا جب پلوشہ دو سکنیڈ بعد ہوش میں آتی اسے چھوڑتی اٹھ کر بھاگی تھی ۔۔۔
جبکہ شاہ زین ہکابکا منہ کھولے ابھی بھی اپنے لبوں پر اس کا لمس محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
