Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 29) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 29) 2nd Last Episode
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
یہ رہے پیپرز جائیداد کے آپ یہاں سے جا سکتی ہے اب۔۔۔
زرمینا اپنی امی کے ساتھ ہال میں بیٹھی تھی جب شدید غصے میں آتے بلال نے کچھ پیپرز ٹیبل پر گراتے کہا تھا۔۔۔۔
کیونکہ کل ہی زرمینا نے بلال کی غیر موجودگی میں دانین سے سٹور روم صاف کروایا تھا وہ اب بخار میں تپ رہی تھی۔۔۔۔
تبھی بلال کا صبر ٹوٹا تھا۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہے بلال مجھے ماں سگی نہ سہی سوتیلی ہی ماں لو ا۔۔۔
ماں صرف سگی ہوتی ہے آپ میرے بابا کی بیوی ہے اسی جائیداد کے لیے یہ سب کیا تھا ۔۔۔
رکھ لے ساری زندگی بھی کھاتی رہی تو کم نہیں ہو گی ۔۔۔
ہماری حویلی چھوڑ دے کیونکہ بابا کی وجہ سے آپ یہاں تھی اب نہیں رہے گی اپنی بیٹی کو لے کر چلی جاۓ۔۔۔۔
زرمینا کی امی بول رہی تھی جب بلال دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔۔
دارجی آپ بھی سمجھاۓ بلال کو یہ کیا کر رہا ہے۔۔۔
زرمینا کی امی ہال میں آتے سنجیدہ شکل بناۓ دارجی کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔۔
میرا پوتا بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے میری بچی بخار سے تپ رہی ہے اس کی ہمت کیسے ہوئ اس سے کام کروانے کی مالکن ہے وہ اس حویلی کی ۔۔۔
اب تم جاٶ دولت تمہیں ہم دے چکے ہے بات ختم ۔۔۔
تمہارے بیٹے کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ہم نے ایک معصوم بچی کی زندگی خراب کرنے کی کوشش کی میں بہت شرمندہ ہو ۔۔۔
دار جی اپنی بات کہتے وہاں سے چلے گے تھے ۔۔۔
تم ایسا نہیں کر سکتے میں محبت کرتی ہو تم سے ا۔۔۔۔
چٹاخخخ۔۔۔۔
لڑکی ہو تبھی چھوڑ دیا ورنہ ٹکڑے اتنے کرتا کہ کوٶں کو بھی نہیں ملنے تھے ۔۔۔
اب شرافت سے دفع ہو جاٶ ورنہ دھکا دینے میں دیر نہیں لگے گی مجھے ۔۔۔۔
زرمینا پاگلوں کی طرح بلال کا کالر پکڑے بول رہی تھی جب شدید طش سے اسے تھپڑ مارتے قالین پر گرایا تھا۔۔۔۔
بلال خان تم نے اس دانین کی وجہ سے چھوڑا مجھے دیکھنا وہ بھی چھوڑ کر چلی جاۓ گی تمہیں ۔۔۔
زرمینا کا بس نہیں چلا تو وہی چیختی چلاتی رہی جیسے وہ ان سنی کرتا وہاں سے واک آوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
————————————————————
مر جاٶ تم سب ذلیلوں شرم تو نہیں آتی تم سب کو میری والی مجھ سے ہی روٹھ گی ہے ۔۔۔
کیسے دانت نکال رہے ہو میری بددعا ہے تم سب کی بھی چھوڑ کر چلی جاۓ ۔۔۔
ہاے مجھے تو صدمہ لگ گیا کوئ ڈاکٹر کو بلا لو ۔۔۔
سفان سبحان روحان بلاج عمار آذان شاہ زین سارے کیفے ایریا آے تھے جب سفان اپنی ساری بات ان سب کو بتا چکا تھا۔۔۔
جہاں سب اب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے وہی گر رہے تھے ۔۔۔
تبھی دانت پیستے ہوۓ سفان اپنا سر پکڑے بولا تھا۔۔۔۔
ہاہہاہاہہااہہاہااہا۔۔۔۔
یار دیکھ لڑکیاں آرمی پر مرتی ہے وہ تو چاہتی ہے ان کو ایسا ہی ہبی ملے لیکن تیری والی نرالی ہے اسے نفرت ہے ۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہہااییایا ہاے عمار میری ہنسی نہیں روک رہی ۔۔۔۔
یار کوئ واقعی بچارے سفان کے لیے ڈاکٹر کو بلاے ۔۔
آذان اپنا پیٹ پکڑے ابھی بھی قہقہ لگاتے عمار کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
جو ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔
ادھر آٶ بیٹا میں چیک کرو کہاں درد ہے تجھے۔۔۔۔
بلاج بھی ہنسی کنٹرول کرتا سفان کے ماتھے کو چھوتے بولا تھا۔۔۔۔
مر جاٶ سارے تھوڑا تھوڑا کر کے یہ سارا قصور اس منحوس شانی کا لے آ اب روحی کو تبھی میری والی میرے پاس آے گی۔۔۔۔
سفان چڑتا ہوا سبحان کے لات مارتا بولا تھا۔۔۔۔
جس کی سیم حالت عمار جیسی تھی۔۔۔۔
ہاں یاد آیا آج روحی گھر آ جاۓ گی وہ مان گی ہے آنے کے لیے ڈائمن تم آنی کو مت بتانا۔۔۔
سبحان اچانک سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
میں بہت خوش ہو بالآخر میری بہن آ رہی ہے ۔۔۔
روحان خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
ایک اور بات کوئ بھی روحی سے کوئ سوال نہیں کرے گا مط۔۔۔
ہاں ہاں فوجی صاحب ہم سب سمجھ گے ۔۔۔
شاہ زین بھی قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
ارے یار میرا مسئلہ حل کرو کوئ ۔۔۔۔
سفان چیختا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاہہاہاہہاہا۔۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
————————————————————
یار میں سوچ رہا تھا دانی کے لیے پارٹی رکھے ویسے بھی کل اس کی برتھ ڈے آ رہی ہے ۔۔۔۔
بلال آذکٰی کے روم میں آتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاں رکھ لیتے ہے ایسے میں وہ بھی خوش ہو جاۓ گی ۔۔۔
اذکٰی بھی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہممم چلو پھر تیاری کرواو میرے ساتھ۔۔۔
بلال جلدی سے روم سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔
جب اس کی بے تابی پر وہ مسکرای تھی ۔۔۔
————————————————————
پلوشہ میں نے یونی جانا ہے شاہد ۔۔
شاہ زین اپنی گود میں بیٹھی پلوشہ کے بال سہلاتا ہوا نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔
کیونکہ ناشتے کے بعد ہی پلوشہ اسے چھوڑ ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔
جانا ضروری ہے کیا تم میرے پاس رہو مجھے سکون آتا ہے ۔۔۔
پلوشہ اسے ہگ کیے بچوں جیسی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
اچھا سنو کل دانین کی برتھ ڈے پارٹی ہے بلال نے انویٹ کیا ہے ۔۔۔۔
شاہ زین اس کے گال پر لب رکھتے بولا تھا جو آنکھیں بند کیے بس اس کی قربت محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
میں نے نہیں جانا بس تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہو ۔۔۔
پلوشہ بھی اپنے لب اس کی گال پر رکھتی بچہ بنتی بولی تھی۔۔۔
دیکھو میری جان وہ چھوٹی بہن ہے تمہاری تمہیں جانا چاہے باقی رہ گی میری بات میں تمہارے ساتھ ہی رہو گا۔۔۔
شاہ زین اس کا چہرہ اپنے قریب کرتا بولا تھا ۔۔۔
م۔میں کیسے ش۔شکریہ ادا کرو ہر دفعہ تمہاری اتنی پرواہ دیکھ کر مجھے رونا آ جاتا ہے میں تمہارے لیے نہیں بنی تھی تمہیں کوئ اچھی پاک لڑ۔۔۔۔
میرے لیے تم ہی بنی تھی میری جان بلکل ایک بچی جیسی تمہیں پتہ تم میرا عشق ہو ۔۔
رویا مت کرو بھوتنی لگتی ہو بلکل شرارتی اچھی لگتی ہو ۔۔۔
اچھا اچھا سوچا کرو یہ سب بھول جاٶ آج کے بعد ایسی بات کی تو تمہیں چھوڑ دو گا یہ یاد رکھنا۔۔۔
شاہ زین پلوشہ کے آنسو صاف کرتا آرام سے گود میں اٹھاۓ بیڈ روم میں لے کر جاتا بولا تھا ۔۔
ت۔تم مت چھوڑنا میں مر جاٶ گی اب وعدہ آج کے بعد میں کچھ نہیں کہو گی بس میرے پاس رہو۔۔۔
بیڈ پر لیٹی پلوشہ جلدی سے روتی شاہ زین کا ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔۔
لو یو میری جان ۔۔
شاہ زین اس کی اتنی محبت دیکھ کر اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
لو یو ٹو زین ۔۔۔
پلوشہ اٹھ کر دوبارہ اس کے گلے لگتی بولی تھی۔۔۔۔
پلوشہ کی حالت دیکھ کر شاہ زین نے یونی جانا کیسنل کر دیا تھا۔۔۔۔
ریلکس کچھ نہیں ہوا ششش آرام سے سو جاٶ اب ۔۔۔۔
شاہ زین اسے اپنے سینے سے لگاے دونوں کے اوپر کمبل لیتا بیڈ پر لیٹتا بولا تھا۔۔۔
کیونکہ رونے سے اس کا جسم کانپ رہا تھا ۔۔۔
ت۔تم چھوڑو گے تو نہیں مجھے۔۔۔
پلوشہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
بلکل نہیں ۔۔۔
شاہ زین نرمی سے کہتا اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔۔۔۔
پلوشہ نے سکون سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔
———————————————————–
سر ان دو لڑکوں نے ایک لڑکی کا قتل کر دیا صرف دولت کی وجہ سے ۔۔۔
ڈائمن اور سفان اس کے ٹارچر روم میں تھے جب اس کے آدمی دو لڑکوں کو اس کے سامنے گراتے بولے تھے۔۔۔۔
تم لوگ جانتے ہو ڈآئمنڈ کیسا ہوتا ہے ۔۔۔
ڈائمن نے گردن موڑتے ایک الگ سوال پوچھا تھا۔۔۔۔
خ۔خوبصورت ا۔۔۔
خوبصورت ایسا کہ ہر بندہ اسے پانے کے لیے سب کچھ کرتا ہے چوری قتل سب کچھ کیونکہ اسے ڈائمنڈز چاہے ہوتے ہے تاکہ وہ بے حد امیر ہو جاۓ ۔۔۔
پھر جانتے ہو کیا ہوتا ہے ۔۔۔
وہ دونوں بولے تھے جب ڈائمن پر سرار انداز سے بولا تھا۔۔۔۔
ن۔نہیں ۔۔۔
پھر موت ہوتی ہے وہ بھی اسی ڈائمنڈ سے ۔۔۔
جو دیکھنے میں بے حد خوبصورت اور قیمتی ہوتا ہے لیکن اگر وہی ہمارے منہ میں چلا جاۓ تو موت ہو جاتی ہے اس کے زہر سے ۔۔۔۔
اور وہی زہر ڈائمن ہے تم جیسوں لوگوں کے لیے ۔۔۔
اٹھاٶ ان دونوں کو اچھے سے خاطر تواضع کرو ان کی ۔۔۔۔
دونوں کے جواب پر ڈائمن اب کھڑا ہوتا غصہ سے غراتا بولا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں معاف ک۔کر دو ۔۔۔۔
وہ دونوں معافیاں مانگتے رہے لیکن ڈائمن ان سنا کرتے وہی کھڑا رہا ۔۔۔
می۔۔
اہہہہ۔اہہہہہ۔۔۔
اس سے پہلے ڈائمن کچھ کہتا جب روم میں کوئ بلیک ہڈی پہنے ماسک لگاے انٹر ہوتا ڈائمن کی کمر پر لات مارتا اس کے اوپر گرا تھا۔۔۔۔
آنے والی شخصیت کو دیکھ سفان ہکا بکا کھڑا تھا۔۔۔۔
کیسے ہمت ہوئ سفان کو مارنے کی ڈائمن کے بچے ۔۔۔۔
جنت زور سے ایک مکہ اس کے پیٹ میں مارتی غرای تھی۔۔۔۔
توبہ ہے آپو کہاں بچہ ہوا میرا ا۔۔۔
اہہہی اہہہہہ۔۔۔۔
ڈائمن مسکراتا ہوا سکون سے اس کا مکہ کھاتا بول رہا تھا جب جنت نے اس کا ہاتھ مڑورا رہا۔۔۔
تبھی وہ چلایا تھا۔۔۔۔
اوےےےے جنگلی بلی کب مارا میں نے سفان کو۔۔۔
ڈائمن غصے سے پاگل ہوتی جنت کو شولڈر سے پکڑے خود سے دور کرتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔
جنت نے سفان کو نہیں دیکھا تھا جو منہ کھولے اپنی ہی بیوی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
تمہاری بہن ہو میں ۔۔
میں تو اسی دن جان گی تھی جب اس کے جسم پر زخم دیکھے تھے وہ کوئ تازہ زخم نہیں تھے پرانے تھے جو تم روز اس کے زخموں پر وار کرتے تازہ کرتے تھے کیوں ۔۔۔
سرخ چہرہ لیے وہ گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔
ڈائمن اس کی ذہانت پر مسکرایا تھا۔۔۔۔
ہاں مارا اسے بلکہ یہ کم تھا جس دن مجھے پتہ چلا تمہاری حالت خراب کرنے والا تمہارا نالائق شوہر ہے اسی دن اسے مارا اتنا مارا کہ بچارہ یہ تک بتانے سے قاصر تھا پین کہاں کہاں ہو رہی تھی ۔۔۔
ہااہہاااااہاہا ہاہہاہاہاہاہاااا۔۔۔
ڈائمن جنت کا ماسک اتارے اس کے گال کھیچتا ہوا بولا تھا۔۔۔
جب خودی بات پر قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
وہ جانتا تھا جب سفان کو اتنی شدت سے مارا تو وہ بچارہ چلنے پھرنے سے بھی گیا ہوا تھا ۔۔
وہ تو اپنے تکلیف بتاتے بھی شرمندہ ہوتا تھا۔۔۔
کیوں مارا اسے کیوں میں جان سے مار دو گی تمہیں ۔۔۔
جنت سب سنتی اب طش میں آتی اس کے بالوں کو پکڑی اس کا سر گھوماتی بولی تھی ۔۔
تم کوئ لاورث یا گری پڑی لڑکی نہیں تھی جو سفان کا ظلم سہتی ۔۔۔
ہارون خان کی بیٹی اور روحان ہارون خان کی بہن تھی ۔۔۔
جو تمہارے ساتھ ایسا کرے گا میں جان نکال لو گا ۔۔
یہ تو تم عشق کرتی اس نکمے سے ورنہ کب کا اوپر پہیچچچچچچچ۔۔۔۔
ڈائمن دانت پیستے بول رہا تھا جب جنت نے شدید غصے سے مکہ اس کے پیٹ پر مارا تبھی وہ چلایا تھا۔۔۔۔
اس کا قصور نہیں تھا روحان بس حالات ایسے تھے تم نے اسے اتنا درد دیا جانتے ہو رات کو بھی سو نہیں پاتا نہ ہی لیٹا جاتا اس سے مجھے درد ہوتا ہے اسے ایسی حالت میں دیکھ کر ۔۔۔۔
اچانک جنت آنسو بہاتی ہوئ ڈائمن کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔
اس کے آنسو دیکھ ڈائمن نے سرخ براٶن آنکھوں سے سامنے کھڑے شرمندہ سے سفان کو گھورا تھا۔۔۔
جو اب سر جھکاے روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
اوےےے تم کب سے کمزور ہو گی اتنی بہادر ہو تم ا۔۔۔
عشق انسان کو کمزور بنا دیتا ہے اور طاقت وار بھی اپنی حالت دیکھی ہے اگر میں تمہاری باربی کو کچھ کرو تم میری جان لینے پر آ جاٶ ۔۔۔
اس کی سزا بنتی تھی بات ختم اسے بھی یاد رہے گا ساری زندگی تم کس کی بہن و۔بیٹی ہو ۔۔۔
سو دفعہ سوچے گا اب تمہیں تکلیف دیتے وقت۔۔۔
جنت بول رہی تھی جب ڈائمن تحمل سے بولا تھا۔۔۔
اہہہہ اہہہ میں بات ہی نہیں کرتی ۔۔۔
جنت اپنا سارا غصہ نکالتی اب روٹھے لہجے سے کہتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔
توبہ ہے ایسی بہن بھی نہ ہو اتنی بری حالت کر دی میری اور بات نہیں کرنی اس نے ۔۔۔
روحان اپنی پھٹی شرٹ بکھرے حیلے کو دیکھتا بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
یہ سب پرانے کپڑے ہے تم رکھ لو ۔۔۔
روحا اپنے روم میں آتی ملازمہ کو اپنے سارے کپڑے دیتی بولی تھی ۔۔۔
اففففف ماما کتنا بیوٹی فل لہنگا ہے مجھے بہت پسند آیا ۔۔۔
آپ ایسا کرے دانین کی برتھ ڈے پر یہ پہن لے بہت پیاری لگے گی ۔۔۔
بیڈ پر لیٹی جنت روحا کا پنک کلر کا لہنگا دیکھتی خوشی سے چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
شرم کرو بوڑھی ہو گی میں تم ایسا بول رہی ہو تمہارے بابا کم ہے جو تم شروع ہو گی ۔۔۔
روحا سرخ چہرہ لیے لہنگا دیکھتی بولی تھی انہیں یاد آیا تھا کیسے یہ پہن کر انھوں نے ہارون خان کو بتایا تھا وہ کتنی محبت کرتی ہے ان سے ۔۔۔
ماما پلیز پہنے گا پلیز بہت پیاری لگے گی ۔۔۔
بابا کو پاگل ہو جاۓ گے آپ کو دیکھ ک۔۔۔
بس بس تمہیں اتنا پیارا لگ رہا تو خود رکھ لو سفان کے سامنے پہن لینا۔۔۔
جنت مسکراتی ہوئ بول رہی تھی جب روحا ڈانٹتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
سفان کے نام پر جنت نے بلش کیا تھا۔۔۔۔
لی۔۔۔
ماما آپو بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے آپ یہ ضرور پہنا بابا کو اچھا لگے گا۔۔۔۔
روحاب بھی مسکراتی روحا کو بیک ہگ کیے بولی تھی ۔۔۔
جب روحا اور جنت کا منہ کھولا تھا وہ دونوں ہکا بکا تھی ۔۔۔
۔
ر۔ر۔روحی م۔میری جان۔۔۔۔
روحاب کو اپنے سامنے دیکھ روحا روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
وہ بلکل ویسی تھی جیسی بچپن میں تھی ۔۔۔۔
جی ماما آپ کی روحی میں ۔۔۔
روحاب روحا کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔
ج۔جنت دیکھو یہ میری بیٹی آی ۔۔۔
روحان آنیہ ہارون دیکھو میری بیٹی آی ہے ۔۔۔
روحا روحاب کا چہرہ دیوانہ وار چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جنت بھی اپنی بہن کو سینے سے لگاۓ رو رہی تھی ۔۔۔۔
کیسی ہو پارٹنر ۔۔
روحان سبحان کے ساتھ روم میں اندر آتا روحاب سے گلے ملے بولا تھا۔۔۔
م۔میں بلکل ٹھیک نہیں رونی ۔۔۔۔
بہت یاد کرتی تھی تم سب کو میں سمجھتی تھی کہ تم سب بھول گے مجھے ۔۔۔
روحاب آنسو بہاتی روحان کے سینے لگے روتی بولی تھی۔۔۔
ارے پاگل لڑکی ہم کیسے بھول سکتے ہے کبھی جسم سے خون جدا ہوتا ہے تم تو ہمارے جسم کا ایک ٹکڑا تھی جو میرے رب نے ہمیں واپس دیا ہے ۔۔۔۔
روحان اس کا ماتھا چومتا آبدیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔
ی۔یہ کون ہے ہیرو۔۔۔
آنیہ گھبرای سی ہارون خان کے ساتھ روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
ی۔ہ۔یہ باربی ہے اففف کتنی بڑی ہو گی رونی یہ ۔۔۔
روحاب اب آنیہ سے گلے ملتی بولی تھی جب آنیہ نے پریشان ہوتے روحان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
یہ روحاب ہے ہماری ۔۔۔
روحان مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
رو۔روحی میں نے بہت مس کیا تمہیں ۔۔۔
آنیہ یہ سنتی اس کے سینے سے لگی روتی بولی تھی۔۔۔۔
روحاب نے سب سے مل لیا تھا سواۓ ہارون خان سے جو خاموش سے سائیڈ پر کھڑے تھے ۔۔۔۔
بابا آپ مجھ سے نہیں ملے گے کیا ۔۔۔
روحاب ہارون خان کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔
م۔میں بہت شرمندہ ہو آپنی بیٹی سے اس دن بابر کی بات مان لیتا تو کبھی بھی تم سب سے جدا نہ ہوتی ۔۔۔
ہو سکے تو مجھے معاف ک۔۔۔
نہیں نہیں بابا مجھے کیوں گناہگار کر رہے آپ تو دنیا کے بیسٹ بابا ہے اب میں آ گی ہو سب بھول جاۓ ۔۔۔۔
ہارون خان اتنے سالوں بعد آج روتے اپنے ہاتھ جوڑتے بول رہے تھے جب روحاب ان کے ہاتھ پکڑتی ان کو چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
روحاب خوش تھی اپنی ساری فمیلی کو پاس آ کر وہی روحا ہارون بھی خوش تھے اللہٌ نے ان کی سن لی تھی۔۔۔۔
———————————————————-
دانی دانی یہ کیا کر رہی ہو پاگل ہو کیا۔۔۔۔
بلال اپنا سارا پلان تیار کرتا جب روم میں آیا تو سامنے دانین کو اس کی گن ہاتھ میں پکڑے دیکھ وہ پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
میں نے دیکھنا ہے یہ چلتی کہ نہیں جیسے فلیموں میں چلتی ہے ۔۔۔
دانین گن کو پکڑے اپنے ماتھے پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
جو بیڈ پر کھڑی تھی ۔۔۔
بلال کی جان لبوں میں آی تھی کیونکہ گن فل لوڈ تھی وہ تو ضروری کام کی وجہ سے ابھی روم سے باہر گیا تھا جب آذکٰی کو پلان سمجھتا لیٹ ہو گیا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں ایسا مت کرو یہ اصلی ہے جو نقلی ہے وہ سائیڈ پر پڑی ہے ۔۔۔
بلال آہستہ آہستہ اس کے قریب جاتا بولا تھا۔۔۔۔
نہیں یہ چلتی ہے زرمینا آپی نے کہا تھا یہ چلا کر دیکھنا ۔۔۔
دانین اس سے دور جاتی گن ویسے ہی ماتھے پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
وہ جھوٹ بولتی ہے یہ نہیں چلتی تم ایسا کرو دوسری والی اٹھا لو۔۔۔
بلال اس کے قریب جاتا دانت پیستا بولا تھا ۔۔۔۔
وہ م۔۔۔
دانین کے الفاظ منہ میں رہے تھے جب ایک ہی چمپ سے بلال بیڈ پر آتا اس سے گن چھنتا دور گرای تھی۔۔۔
و۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تمہیں ایک بار منع کر دو تو رک جایا کرو لیکن تم بچی بن کر رہتی ہو ۔۔۔۔
بلال خان کی بیوی ہو کوئ عام بات نہیں ۔۔۔
ابھی یہ چل جاتی اور گولی لگ جاتی جانتی ہو کیا ہوتا میرا ۔۔۔۔
دانین بول رہی تھی جب بلال اسے سینے سے لگاۓ غصے سے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ سوری ا۔۔۔۔
چپ ایک دم چپ بات مت کرو مجھ سے ۔۔۔
دانین پہلی دفعہ اس کا غصہ دیکھتی روتی ہوئ بول رہی تھی جب وہ دھاڑا تھا ۔۔۔۔
چٹاخ ۔۔۔
گن۔گندے ہے آپ میں نے نہیں رہنا آپ کے ساتھ۔۔۔۔
دانین کہتی اپنے ننھے سے ہاتھ کا تپھڑ اس کی گال پر مارتی روتی ہوئ روم سے باہر بھاگی تھی ۔۔۔
بلال نے دکھی ہوتے اپنا سر پکڑا تھا اب وہ کیسے مناۓ اسے ۔۔۔۔
————————————————————
اففف یہ سفان کال کیوں نہیں اٹھا رہا ۔۔۔
ویسے میری غلطی ہے مجھے بتا کر آنا چاہے تھا بابا کے پاس جا رہی ہو ۔۔۔۔
رات بھی ہو گی اب اگر گی تو بابا جانے نہیں دے گے ۔۔۔
جنت نے سارا دن سفان کو فون ملایا تھا جس نے ایک بار بھی کال نہیں اٹھائ تھی۔۔۔
روحاب سے ملنے سارے آ چکے تھے تبھی ان سب سے ملتی جنت آج رات وہی رک چکی تھی ۔۔۔
ابھی بھی تھک ہار کر وہ اپنے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔۔
میں اتنی پریشان کیوں ہو میں تو ناراض تھی ۔۔۔
ہاں میں ناراض تھی وہ مناۓ گا پھر ہی مانو گی ۔۔۔
اچھا ایک بار سوری کہے گا میں مان جاٶ گی لیکن تھوڑا نکھرا دیکھاٶ گی پھر آخر میں مان جاٶ گی ہاں ایسا ہی کرو گ۔۔۔۔
آج رات میں اپنی پیاری سی بیوی کو منانے ہی آیا ہو جانِسفان۔۔۔
جنت خود سے بولتی اب وڈراب سے اپنا نائٹ ڈریس نکال رہی تھی ۔۔۔
جب صوفے سے اٹھتا سفان مسکراتا ہوا اسی کی طرف آتا بولا تھا۔۔۔۔
ت۔تم کیسے یہاں اور میرے روم میں کیا کر رہے ہو نکلو باہر۔۔۔
جنت جو اپنے ٹاپ پر پہنی چھوٹی سی جیکٹ اتارے واش روم جا رہی تھی سامنے سفان کو دیکھتے ہکلاتے بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ ٹاپ اس کا پیٹ سے اوپر تک تھا جس سے اب برہنہ پیٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
شوہر اپنی بیوی کے روم میں ہی رہتا ہے مس جنت سفان خان ۔۔۔
اب کیا تمہارے اس ڈائمن شیطان بھای کے پاس رہو رات کو تاکہ جو تھوڑی سی ہڈیاں بچی میری وہ بھی ٹوٹ جاۓ ۔۔۔
سفان اسے گہری نظروں سے دیکھتا جنت کو کمر سے پکڑے اس کے بالوں کی ونگ اتارے بہکے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
جہاں اب اس کے لمبے بال کمر اور شولڈر پر بکھرے ہوۓ تھے ۔۔۔
ت۔تو آ گے جاٶ۔وہاں بیڈ پر سو جاٶ۔۔۔
اپنی گردن پر سفان کی گرم چلتی سانسوں محسوس کیے جنت گھبراتے ہوۓ بے دھیانی میں بول گی تھی۔۔۔
ارے واہ میری بیوی کو کتنی جلدی ہے بیڈ پر جانے کی آٶ ۔۔۔
سفان اسے منٹوں میں گود میں آٹھاۓ بیڈ کی طرف جاتا شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔
ک۔کیا بکواس ہے یہ میں تمہیں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔
میں روحی کے پاس جا ر۔۔۔۔
روحاب اپنے شوہر کے پاس گی ہے مس جنت ایسے کسی بھی کپل کو تنگ نہیں کرتے سمجھا کرو ۔۔۔۔
جنت جلدی سے بات سمجھتی اس کی گود سے نکلتی دروازے کے پاس جاتی بول رہی تھی جب سفان
اس کا بازو پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ ہاتھ اس کے پیٹ پر اس کے کان کی لو کو چومتا بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
س۔سفان تم تنگ کر رہے ہو مجھے میں روحان کو بتاٶ گی ک۔۔۔
کیا بتاٶ گی روحان کو کہ بچاٶ سفان سے وہ رومینس کر رہا مجھ سے یہی کہو گی ۔۔۔۔
اپنے پیٹ سے اوپر جاتی اس کی انگلیوں کو محسوس کرتے جنت زرا سختی سے بول رہی تھی جب سفان اسے گھوماتا اپنی طرف رخ کرتا اس کے گال پر لب رکھے بولا تھا۔۔۔۔
ک۔کیا چاہتے ہو جاٶ معاف کیا میں نے روحی آ گی میری میں بہت خوش ہو ۔۔۔
جنت اس کی انگلی اپنے چہرے کے اطراف پر محسوس کرتی تیز چلتی سانسوں کے درمیان بولی تھی ۔۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا سفان کی قربت سے دھڑکتا دل باہر آ جاۓ گا۔۔۔۔
جیسے وہ مشکل سے قابو کر رہی تھی۔۔۔۔
اپنا عشق مکمل کرنا چاہتا ہو میں تم اگر اجازت دے دو ۔۔۔۔
میں مانتا ہو اچھا شوہر تو نہیں بنو گا لیکن۔۔۔
تم بہت اچھے ہو سفان کیوں بار بار ایک ہی بات کرتے ہو بھول کیوں جاتے ۔۔۔۔
سفان نرمی سے اس کے بال سہلاتا ہوا بول رہا تھا۔۔۔
جب جنت اپنی آنکھیں کھولتی اس کی آنکھوں میں دیکھتی پل میں نظر جھکاتے بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ اسے آج سفان کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کا رنگ دیکھا تھا۔۔۔۔۔
جنت نے بلش کیا تھا ۔۔۔
تمہاری قربت تمہارے لمس میں آ کر میں آج سب بھولنا چاہتا ہو ۔۔۔۔
جنت میں وعدہ کرتا ہو آج کے بعد کوئ درد نہیں دو گا جس دن تمہیں تکلیف دو تم چھوڑ دینا مجھے۔۔۔۔
سفان اس کی بیوٹی بون کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
جنت آنکھیں بند کیے چپ اس کی باہوں میں کھڑی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا آج میری نڈر شیرنی چپ کیوں ہے ۔۔۔
یہ گھبراہٹ تو کبھی جنت سفان خان کے خون میں تو کبھی شامل نہ تھی ۔۔۔
سفان شوخ ہوتا جنت کے ماتھے سے پیسنہ اپنے لبوں سے صاف کرتا بولا تھا۔۔۔
اب جاٶ منا لیا ب۔۔۔۔
جنت ہوش میں آتی اس سے دور ہوتی بول رہی تھی جب سفان نے بیک سے ٹاپ کی زپ اوپن کی تھی ۔۔۔
جنت جلدی سے گھبراتے دوبارہ اس کے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔
سف۔سفان ۔۔۔
سفان نے نرمی سے اسے بیڈ پر لیٹاتے خود اس پر جھکا تھا جب جنت نے گھبراتے ہوۓ پکارا تھا۔۔۔۔
بولو جانِسفان آج میں تمہاری سانسوں کو بھی سنے کو تیار ہو ۔۔۔۔
سفان ٹاپ اس کے شولڈر سے نیچے کرتا وہاں اپنے لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
جنت شرماتی ہوئ خاموشی سے آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔
سفان اس کی اس ادا پر فدا ہوتا مسکراتا ہوا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔
سفان نے بہت پیار اور محبت سے جنت کو احساس دلایا تھا وہ اس سے کتنا عشق کرتا ہے ۔۔۔۔
جنت بھی خوش تھی اس جیسی جنگلی شیرنی کو ہنیڈل کرنے والا سفان خان آ چکا تھا۔۔۔۔
سفان آج بے حد خوش تھا اس کا بچپن کا عشق اسے مل گیا تھا۔۔۔۔
————————————————————
دانین کہاں ہے ۔۔۔
بلال رات کو روم میں دانین کو نہ پاتے دیکھ دارجی کے روم میں آتا بولا تھا۔۔۔
تم نے میری بچی پر ہاتھ اٹھایا شرم کرو بلال خان تم تو میرے پوتے لگتے ہی نہیں ۔۔۔
برہان کا فون آیا تھا دانین ان کے پاس ہے اب وہ کہتی ہے تمہاری ساتھ نہیں رہے گی ۔۔۔۔
دارجی شدید غصے میں آتے بلال خان پر دھاڑے تھے ۔۔۔
نہیں دارجی میں نے کب مارا بلکہ اس نے مارا مجھے اور یہ کیا بات ہوئ یہاں اس کی برتھ ڈے پارٹی کی ساری تیاری کر لی پورے گاٶں کو دعوت د ۔۔۔
میں نہیں جانتا کیا ہوا کیا نہیں ۔۔۔
وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔
بلال دکھی ہوتا بول رہا تھا جب دار جی بات کرتے بولے تھے ۔۔۔
لی۔۔۔۔
اب تم جا سکتے ہو۔۔۔
بلال بول رہا تھا جب دارجی حکم دیتے بولے تھے۔۔۔۔
بلال تو پریشان ہوا تھا اس کی وہ ننھی سی جان جس سے وہ عشق کرنے لگ گیا تھا کیوں دور جا رہی تھی ۔۔۔۔
