Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 1)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 1)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
“7 سال بعد ۔۔۔
پنک روز ۔پنک روز ۔پنک روز ۔
ہارون مسلسل روحا کو آواز لگا رہا تھا ۔۔
جی اب آپ کو کیا ہوا۔۔
روحا نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
روحا کی پریشانی دیکھ کر ہارون اپنی بات بھول گیا تھا ۔۔
کیوں پریشان ہو میری جان کیا ہوا ہے ۔۔
ہارون نے روحا کی کمر میں ہاتھ ڈالتے پوچھا ۔۔
یہ آپ کی بیٹی کافی ہے مجھے تنگ کرنے کے لیے ۔
ہارون اس نے پریشان کر کے رکھ دیا مجھے ۔۔
روحا نے ہارون کے ہاتھ کمر سے ہٹاتے ہوے بیڈ پر جاکر بیھٹتے ہوے تھکے ہوے انداز سے کہا ۔۔
اب کیا کر دیا میری جنت نے
۔ہارون نے دوبارہ روحا کو اپنے حصار میں لیتے ہوے پوچھا ۔۔
روحان روحاب دونوں کو میں نے تیار کر دیا مجال ہے مجھے تنگ کیا ہو دونوں نے تیار ہونے میں
اور ایک یہ جنت ہے جو مجھے مکمل پاگل کر چکی ہے ۔ابھی تک تیار نہیں ہوی
۔۔روحا نے غصے سے کہا ۔۔
ہاروننننن
۔۔میں آپ سے بات کر رہی ہو
۔ہارون مسلسل روحا کو غصہ میں دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔
جب روحا نے غصہ کرتے اسے متوجہ کیا ۔۔
یار بس کر دیا کرو
ہر وقت اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو ۔ہارون نے تحمل سے کہا ۔۔
اچھا میں کیا سوچ رہا تھا ۔
آج تم بہت پیاری لگ رہی ہو کیوں نہ ہم آج گھر ہی رہ لے میں تمہں بتاو گا تم کتنی خوبصورت ہو
۔ہارون نے بہکے ہوے انداز سے کہا ۔۔
شرم کر لے ہارون کچھ تین بچوں کے باپ بن گے لیکن ابھی بھی بے شرم ہے آپ
۔روحا ہارون کی بات کا مطلب سمجھ کر سرخ چہرہ لے بولی ۔۔
ہاہاہاہہاہاا پنک روز پہلے بھی کہا تھا مجھے شرم نہیں آتی ۔ہارون نے روحا کے لبوں پر جھکتے ہوے کہا ۔
۔جب اچانک جنت نے آواز دی ۔
بابا آپ اگے ۔
نو سالہ جنت کندھے سے نیچے جاتے کالے گہرے بال انکھوں پر چشما لگاے کالی گہری انکھوں میں شرارت لے بھاگی ہوی ہارون کے پاس آی اور اس کے گلے لگ گی ۔۔
کیسی ہے بابا کی جان
ہارون نے جنت کو پیار کرتے ہوے پوچھا ۔
میں ٹھیک بابا آپ کیسے ہے ۔
۔جنت نے سمجھداری سے پوچھا ۔۔
آپ کے بابا بھی ٹھیک ہارون نے جنت کا چشما اتارتے ہوے کہا ۔۔
چلو شروع ہو گیا دونوں باپ بیٹی کا پیار میرے لیے روحان اور روحاب ہی اچھے ہے ان کے پاس جا رہی میں روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔
جنت بیٹا جاو دیکھو۔
تمہارے بھای بہن کیا کر رہے ہے ۔
ہارون نے جلدی سے جنت کو کمرے سے بھیجا ۔
جی بابا ۔
۔جنت کہتی بھاگ گی تھی ۔۔
پنک روز میری جان کہاں جا رہی ہو ۔
۔ہارون بے جلدی سے روحا کو اپنے حصار میں لیتے پوچھا جو خود بھی کمرے سے جا رہی تھی ۔۔
روحان اور روحاب کو دیکھنے جا رہی تھی ۔۔
روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔۔
یار کنتی دفعہ کہا ہے روحان سے دور رہا کرو مجھے جلیسی ہوتی ہے روحان سے جب تم اس سے پیار کرتی ہو ۔
ہارون نے روحا کے گال چومتے ہوے کہا ۔
ہارون بیٹا ہے وہ ہم دونوں کا روحا نے حیرت سے منہ کھولے کہا ۔۔
تبھی چھوڑ دیتا ہو میں وہ ہمارا بیٹا ہے ۔
ورنہ میں اسے تم سے دور ہاسٹل چھوڑ آتا ۔
۔تم صرف میری ہو پنک روز میری عاشقی بس ۔
۔ تہمارے آس پاس صرف مجھے ہونا چاہے نہ کہ روحان کو ۔
ہارون نے جنونی انداز سے کہا ۔
ہارون بس کردے بچے ہے ہمارے اور آپ
۔روحا نے صدمے سے بولی ۔
ہارون پھر بہکے ہوے انداز سے جھک رہا تھا جب روحا نے رک دیا ۔۔
ہارون کبھی جو آپ کا رومینس کم ہو جایا کرے میں آپ کے سامنے آتی ہی نہیں
نہ آو گی نہ ہی آپ کو رومینس کا دورہ پڑے گا ۔۔
روحا گھبرای شرمای کہتی کمرے سے بھاگ گی ۔۔
ہاہاہا ہاہا۔
آج بھی میری پنک روز شرماتی ہے مجھے سے ہاے میری معصوم سی پنک روز تمہارے بنا میں کچھ نہیں ہو ۔
ہارون نے ہستے ہوے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے بیڈ پر گرتے ہوے کہا ۔۔
روحا 7 سالہ روحان روحاب کو دیکھنے چلی گی تھی جو کھلینے میں مصروف تھے ۔۔
(زینہ کی پیدائش سے ایک ماہ بعد روحا نے روحان اور روحاب کو جنم دیا ۔۔
روحان روحاب سے 5منٹ بڑا تھا ۔
۔دونوں ہی بہت خوبصورت تھے ۔روحان بالکل روحا جیسا تھا ڈارک براٶن آنکھیں ڈارک براٶن بال روحاب بھی بالکل روحان جیسی تھی
۔وہ دونوں سنجیدہ طیبعت کے مالک تھے ۔
روحا ہارون اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے ساتھ بے حد خوش تھے ۔۔).
————————————————————
عمارہ تیار کر دیا بچوں کو۔
اسامہ نے کمرے میں اتے ہوے پوچھا ۔
جی کر دیا ہے ۔
تحمل سے جواب دیا ۔۔
ویسے عمارہ عمار بالکل زیان کی کاربن کاپی ہے یار اس کی طرح سنجیدہ ہی رہتا ہے۔
۔مسکراتا بھی نہیں ہے ۔
ابھی صرف چھ سال کا ہے۔
اور میں حیران ہو اس کا سنجیدہ پن دیکھ کر ۔
کسی 60سال کے بابے جیسا ہے ۔
اسامہ نے پریشان ہوتے کہا ۔۔
عمار زیادہ زیان بھای کے پاس رہ ہے اس لیے ۔
عمارہ نے محبت سے زیان کا ذکر کیا ۔۔
تبھی یہ ایسا ہے کنتی دفعہ کہتاتھا اس سنجیدہ انسان کو دیکھ کر مجھے دورے پڑتے ہے سنجیدہ ہو۔۔
اسامہ نے پریشانی سے کہا ۔۔
زیان لالہ بہت اچھے ہے ہر وقت نہ پیچھے پڑ جایا کرے میرے لالہ کے عمارہ نے روٹھے پن سے کہا ۔
ارے ۔۔
اس سے پہلے اسامہ کچھ کہتا جب کمرے میں چھ سالہ اریج نے آتے پکارہ ۔
ارے میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔
سامہ نے مسکراتے ہوے اریج کو پیار کرتے کہا ۔
اریج اسامہ کی باکل کاربن کاپی تھی ۔
ہم کب جا رہے ہے مجھ سے ویٹ نہیں ہوتا ۔
زینیہ ویٹ کر رہی ہو گی ۔اریج نے بے تابی سے کہا ۔۔
لو پڑ گیا اسے دورہ زینیہ کے پاس جانے کا ۔۔
8سالہ آذان نے کمرے میں داخل ہوتے کہا ۔۔
آذان باکل عمارہ جیسا تھا گرے آنکھوں پر عادیتں اسامہ پر چلی گی تھی ۔۔
اس کی طرح ہنسی مذاق کرنے میں مصروف رہنا اس کا مشغلا تھا۔۔۔
عمارہ نے دو جڑواں بچوں جنم دیا ۔عمار اور اریج ۔
اریج عمار سے بڑی تھی ۔
————————————————————
برہان اپنی ان دونوں نموینوں کو پکڑ لے کتنی مشکل سے تیار کیا ہے اب مجھے ہونے دے تیار۔
پری نے غصے سے کہا ۔
اف یار پری جان تم غصہ مت کیا کرو تمہارے یہ لال ٹماٹر جیسے گال دیکھ کر میں بے قابو ہو جاتا ہو ۔۔
برہان نے پری کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔۔
کچھ شرم کر لے تین بچوں کے باپ بن گے ہے ۔
پری نے برہان کو شرم دالانی چاہی ۔ ۔
ابھی سات اور رہتے ہے ۔برہان نے بے شرمی سے کہا۔۔
بس کر دے بے شرمی میں تو کورس کیا ہے آپ نے ۔پری نے غصے سے کہا اور تیار ہونے چلی تھی ۔۔
بابا کی جان مت تنگ کیا کرو ماما کو ۔
برہان نے 8سالہ پلوشہ اور 5 سالہ دانین کو پیار کرتے ہوے کہا ۔۔
دانین باکل روحا جیسی تھی ۔معصوم ڈری سمی سی ۔لیکن پلوشہ بلکل ہانی جیسی تھی ۔شرارتی ہنسی مذاق کرنے والی ۔
8سالہ بلاج بھی باکل ہانی جیسا شرارتی اور باتونی والا تھا ۔۔
————————————————————
بابر آپ تیار ہو جاے تب تک میں بچوں کو تیار کر دو ۔
علیزے نے کام میں مصروف ہوتے کہا ۔
یار ابھی پرسوں آیا ہو میں اور آج ہانی کے گھر جاکر تم آج رات خراب کر رہی ہو ۔تمہں پتہ ہے نہ میں نے پھر پرسوں چلے جانا ہے ۔
بابر نے علیزے کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔۔
پیچھے ہو جاے بابر بچوں کو تیار کرنا ہے پہلے ہی لیٹ ہو گے ۔ہانی نے سب کے لیے پارٹی ارینچ کی ہے ۔
چلے تیار ہو جاے ۔علیزے نے بابر سے اپنا آپ چھرواتے ہوے کہا ۔
یہ سبحان کہاں ہے ۔بابر نے سبحان کو تلاش کرتے پوچھا ۔۔
ادھر ہی ہو گا ۔۔ علیزے نے حجاب کو تیار کرتے ہوے کہا ۔
5سالہ سبحان بابر کی فوجی کیپ پہن کر کھڑا تھا ۔
میرا بیٹا کتنا پیارا لگ رہا ہے ۔
بابر نے پیار کرتے ہوے کہا ۔۔
اس کو ابھی سے شوق ہو گیا آرمی میں جانے کا لیکن میں اسے آرمی نہیں جانے دو گی ۔میں نہیں چاہتی جو سب میں نے برداشت کیا وہ اگے اس کی بیوی برداشت کرے ۔میں ہرگز اپنے بیٹے کو آرمی میں جانے نہیں دو گی ۔علیزے نے دکھی ہوتے کہا ۔اور چلی گی ۔
آپ بے فکر رہو سبحان بابا ہے نہ وہ ماما کو سمجھا دے گے ۔بابر نے سبحان کو پیار کرتے ہوے کہا ۔
———————————————————–
او میری چھوٹی چشمش کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔
زیان نے 7سالہ زینیہ کو پیار کرتے ہوے کہا ۔
کندھے سے کافی نیچھے جاتے کالے بال زیان جیسی آنکھیں اور آنکھوں پر لگا چشما زینیہ باکل زیان جیسی تھی لیکن حیرکیتں بلکل ہانی جیسی شرارتی تھی ۔۔
ماما کہاں ہے آپ کی زیان نے زینیہ سے پوچھا ۔
ماما تیار ہو رہی ہے ۔چلو اب نیچھے جاو دیکھو پھوپھو آگی ہے ۔اذان عمار اریج کے پاس جاو ۔
زیان نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
سچی بابا اریج آ گی میں ابھی جاتی ہو لیکن وہ سنجیدہ انسان کیوں آیا مجھے ذرا پسند نہیں ہے ۔
زینیہ نے اپنی چھوٹی سے ناک چڑاتے ہوے کہا
۔
ایسا نہیں کہتے بھای ہے وہ آپ کا ۔ہرگز نہیں وہ میرا بھای نہیں جیسے بات کرنے کا پتہ نہ ہو ۔
اذان میرا بھای ہے کتنے اچھے سے بات کرتا ہے میں جارہی اس کے پاس زینہ خوشی سے چلی گی ۔
بلکل ماں جیسی ہے جو دل میں ہوتا صاف کہہ دیتی ہے یہ بھی نہیں سوچتی سامنے والے کے دل پر کیسی گزرتی ہے
۔زیان نے افسوس سے سوچا ۔۔
————————————————————
سب ہی آچکے تھے ۔
اپنے بچوں کے ساتھ پانچوں کپل بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔
ان کی زندگی مکمل ہو چکی تھی ۔۔
اپنے بچوں کے ساتھ مکمل خوش تھے لیکن ان سات سالوں میں ان کی محبت کم نہیں ہوی بلکہ بڑھتی چلی گی ۔۔
وہ سب ایک دوسرے سے عاشقی کرتے تھے ۔
ان کا ایک دوسرے کے بغیر کوی وجود نہ تھا ۔۔
————————————————————“![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے تیرے بنا کیا وجود میرا
تجھ سے جدا اگر ہم ہو جاے گے تو خود سے ہی ہوجاے گے جدا ۔
کیونکہ تم ہی ہو اب تم ہی ہو زند
زندگی اب تم ہی ہو ۔
چین میرا درد میرا
میری عاشقی اب تم ہی ہو ۔
تیرے لیے ہی جیا میں خود کو یوں دے دیا ۔
تیری وفا نے مجھ کو سنھبالا سارے غموں کو دل سے نکالا ۔تیرا ساتھ ہے میرا نصیب جوڑا مجھے ادھورہ میں رہ گیا ۔۔
تم ہی ہو اب تم ہی زندگی اب تم ہی ہو ۔
چین میرا میرا درد بھی
میری عاشقی اب تم ہی ہو ۔۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
)..
———————————————————
دانین جنت آپو پلوشہ آپو آپ کتنی پیاری لگ رہی ہے روحاب تم تو پری لگ رہی بالکل آنی جیسی
حجاب آپ بھی کیٶٹ لگ رہی اریج کے سوا سب پیارے لگ رہے۔۔
زینیہ نے خوشی سے کہا تھا۔۔۔
تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو پرنسیس
ان سب نے خوشی سے کہا۔۔
یار زینی تم جلتی ہو مجھ سے تبھی ایسی بکواس کرتی ہو اریج نے مسکراتے ہوے کہا۔۔
زینی کے دن اتنے برے نہیں آۓ جو چڑیلوں سے جل جاے۔
تحمل سے جواب دیا گیا۔
چلو شروع ہوگیا ڈرامہ ان کا دانین نے افسوس سے کہا۔
زینیہ اریج ایسے ہی لڑتی تھی لیکن ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر ہرگز گزارا نہ تھا۔۔
————————————————————
وہ ڈرامہ شروع ہوگیا زینی اور ارو کا
اذان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا۔۔
یار زینی کتنی کیوٹ لگ رہی
بلاج نے خوش ہوتے کہا۔
کبھی تو شرم کر لیا کرو بلاج ۔
عمار نے شرم دلانی چاہی۔
تمہیں کتنی بار کہا سب کو بھای کہا کرو سمجھ نہیں اتی کیا۔
زینیہ نے عمار کو دیکھتے غصے سے کہا۔۔
زینیہ کی آواز پر عمار حیران ہوگیا اچانک کہا سے اگی۔۔
بھای ہوگے یہ سب تمہارے میرے نہیں میں سگے کو بھی نہیں کہتا مجھے کہنا پسند نہیں
تحمل سے جواب دیا گیا۔۔
لڑو اب دونوں ہم چلتے ہے سبحان نے افسوس سے کہا۔۔
چلو روحاب چلتے ہے اذان نے مسکراتے ہوے کہا ۔
اور روحاب کو ساتھ لے گیا ۔۔
زینہ اور عمار لڑنے میں مصروف ہوگے تھے۔۔
————————-
یہ دونوں نہیں سدھرے گے ہانی زیان نے افسوس سے سوچا تھا۔۔
——————————————————–
دھیان سے خانم جانتی بھی ہو کیسی حالت ہے ۔۔
گل خان کرن کو اپنی باہوں میں لیتا صوفے پر بیٹھاتے پیار سے بولا تھا ۔۔۔
ارے کچھ نہیں ہوا خان میں بس ناشتہ بنانے جا رہی تھی ۔۔
کرن مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
وہ خوش تھی اس بات پر اللہٌنے اسے پیار کرنے والا شوہر دیا تھا ۔۔۔
حالانکہ وہ کتنا برا کر چکی تھی ۔۔
گل خان کو کرن پسند تھی جیسے ہی اس نے ہارون سے اپنی پسندگی کا بتایا اسی وقت کرن کی شادی گل خان سے کروا دی تھی ۔۔۔
نسرین بیگم بھی خوش تھی اپنی بیٹی کو ہسنتا بستا دیکھ ۔۔۔
گل خان نے کرن کو بہت پیار اور محبت سے رکھا تھا اس نے کبھی اسے کسی چیز کا طعنہ نہیں دیا ۔۔
اللہٌان کو اولاد سے نوازنے والا تھا تبھی گل خان کرن کے آس پاس رہتا تھا۔۔۔
ناشتہ کیوں بنانا ہے ملازمہ بنا دے گی ۔۔
گل خان کرن کے ہاتھ چومتے ہوۓ پیار سے بولا تھا۔۔
تم کتنے اچھے ہو اور میں کتنی ب۔۔۔۔
تم پہلے بری لڑکی تھی لیکن بعد میں اچھی بن گی تھی تبھی مجھ غریب کو پسند آئ ۔۔۔
کرن رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب گل خان بات کاٹتا بولا تھا۔۔۔
تم واقعی غریب ہو ۔۔
ہاہاہااہاہااہاہا۔۔۔
گل خان کا خان پیلس دیکھتی کرن طنزیہ قہقہ لگاتی بولی تھی۔۔۔
اچھا ریسٹ کرو میں نے آج آفس جانا ہے ۔۔
گل خان اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔
وہی کرن نے شرماتے ہوۓ نظریں جھکا لی تھی ۔۔
————————————————————
تمہیں آواز نہیں سنائ دیتی کیا۔۔۔۔
ہال میں مسلسل روحا کا فون بج رہا تھا ۔۔
جب روحان سنجیدہ شکل لیے غصے سے باہر آتا ملازمہ کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
س۔سوری بی۔۔۔
جاٶ یہاں سے ۔۔
ملازمہ کانپتی بول رہی تھی جب روحان چیخ کر دو ٹوک بولا تھا۔
سب ملازم روحان کے غصے سے ابھی سے ہی ڈرنے لگ گے تھے کیونکہ وہ سات سالہ کا بچہ ہو کے ہی اتنا غصہ اور رعب دار بچہ لگتا تھا۔۔۔
ابھی سے ہی اس کے ماتھے پر لاتعداد بل پڑتے تھے ۔۔
تبھی کوئ اس کے سامنے نہیں آتے تھے ۔۔۔
ر۔روحا جل۔جلدی آ۔آو مج۔مجھے پین ہو رہا ہے ۔۔
روحان نے جیسے ہی فون اٹھایا اسے کرن کی درد سے تڑپتے ہوۓ آواز سنائ دی تھی ۔۔۔
تو ڈاکٹر کو فون کرے پھوپھو پنک روز کو فون کیوں کیا۔۔۔
روحان ناگواری سے بولا تھا۔۔۔
لی۔ن۔لیکن بیٹا ت۔۔۔
ٹون۔ٹون۔ٹون۔۔۔
کرن بامشکل بول رہی تھی جب روحان فون کاٹ کرتا روحا کے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔
پنک روز کھانا دے مجھے ۔۔۔
روحان بے نیاز سا ہوتا روحا کے پاس جاتا بولا تھا۔۔
وہ بھول گیا تھا کوئ اپنی زندگی اور موت کی لڑائ بھی لڑ رہا تھا۔۔۔
گل خان اور ہارون کا پیلس ایک ہی ساتھ بنا ہوا تھا۔۔
آج ضروری میٹنگ تھی جس کی وجہ سے گل خان اور ہارون گے تھے ۔۔
تبھی کرن درد محسوس کرتی بامشکل روحا کو فون ملایا تھا۔۔۔
لیکن روحان نے پوری بات بنا سنے کاٹ کر چکا تھا۔۔۔
وہاں درد سے تڑپتی کرن اب بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔
