Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 15)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 15)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

””سفان💕جنت

عمار💕زینیہ اسپشیل 💖

یہاں ہو میں۔۔۔

جنت ہال میں اپنی فیورٹ بائیک لاۓ مسکراتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

بیٹا یہ کیا سفان ک۔۔۔

اففف ماما شادی میری ہے تو مجھے انجواۓ کرنے دے ۔۔

کیوں مسٹر سفان آۓ رخصتی کرواۓ۔۔۔

روحا پریشان ہوتی بول رہی تھی جب جنت ہکا بکا کھڑے سفان کو آنکھ ونک کرتی بولی تھی۔۔۔۔

سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔

میں بھول گیا تھا جنت ڈائمن کی بہن ہے اتنی آسانی سے میرے ساتھ جانے والی نہیں۔۔۔

سفان زبردستی مسکراہٹ لاۓ روحان کی طرف دیکھتا طنزیہ بولا تھا۔۔۔

ہاہااہاہاااا ظاہر سی بات ہے یار بہن میری ہے ۔۔۔

روحان قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

آ جاٶ جلدی تمہاری چڑیل آنی مطلب آنی ویٹ کر رہی ہو گی ہمارا۔۔۔

سفان سب کو دیکھتا اسیٹچ سے اترتا ہوا جنت کے پاس آیا تھا جب جنت اسے اپنے پیچھے بیٹھاتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

بڑا شوق ہے رخصتی کا۔۔۔

سفان کو توہین محسوس ہوئ تھی بائیک کے آگے جنت اور وہ خود اس کے پیچھے بیٹھا تھا تبھی دانت پیستے ہوۓ وہ سر گوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ہاں ۔۔

جنت ویسے ہی بائیک سٹارٹ کرتی بولی تھی۔۔۔

چلو جلدی جلدی ملو میری رخصتی ہونے والی ہے ۔۔۔

جنت اب سب کو دیکھتی جلدی جلدی شور مچاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

میں یہ تو نہیں کہو گا کہ میری بہن کا خیال رکھنا اتنا تو مجھے پتہ ہے میری بہن کو ہمیشہ خوش رکھو گے کیونکہ تم بہت اچھے ہو۔۔۔

پر یہ یاد رکھنا جنت ہارون خان ڈائمن کی بہن ہے تھوڑا سا درد بھی دیا میری بہن کو سیدھی موت دو گا باقی عقل مند کو اشارہ کافی ہوتا ۔۔۔

روحان ویسے ہی سفان سے گلے ملتے آہستہ سی سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔۔

ہ۔ہاں پتہ مجھے۔۔۔

سفان گہرا سانس لیتا ہوا بولا تھا۔۔۔

جنت سب سے دعائیں لیتی رخصت ہو چکی تھی۔۔۔

جبکہ سب مہمانوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی ایسی انوکھی رخصتی پر ۔۔۔۔

وہی زیان اور حنین کی دعاٶں کے سایہ نیچے زینیہ عمار کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

بس بہت ہوا میں تمہیں بتاٶ گا بائیک کیسے چلاتے ہے مس جنت۔۔۔۔

ہال سے باہر آتے جنت بلاوجہ اسے تنگ کرتی کبھی صیح راستے سے بائیک کو لاتی تو کبھی جنگل جیسے راستے سے لاتی۔۔۔

سفان بالآخر تنگ آتا اس کا شولڈر پکڑے بولا تھا۔۔۔

ڈرپوک۔۔۔

جنت طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی۔۔۔۔

ڈرپوک تم ہو۔۔۔۔۔

سفان شیطانی مسکراہٹ لاۓ جنت کو ایک ہاتھ سے پیٹ سے پکڑے جبکہ دوسرے ہاتھ سے بائیک کو پکڑے اب وہ سیپڈ سے تیز کرتا چلانا شروع کر چکا تھا۔۔۔

آگے بیٹھی جنت اب پوری سفان کے قبضے میں آ چکی تھی ۔۔۔۔

ب۔بس۔بس کرو سفان۔۔۔

آندھی طوفان کی طرح بائیک چلاتے سفان کا ہاتھ پکڑے جنت نے پھولے سانس سے کہا تھا۔۔۔

کیونکہ اسے ڈر لگتا تھا فل سیپڈ سے ۔۔۔

کیا ہوا مس جنت ڈر گی ابھی تو آگے بہت کچھ باقی ہے ڈر گی تم ۔۔۔

سفان اپنا چہرہ اس کے شولڈر پر رکھتے سکون سے بولا تھا۔۔۔

اس کے لب اس کی گردن پر بار بار ٹچ ہو رہے تھے۔۔۔

ڈ۔ڈرتی نہیں ۔ہ۔ہو تم سے سمجھے ۔۔۔

سفان کا لمس پاتے جنت اپنی تیز سانسوں سے بامشکل بولی تھی۔۔۔۔

اہہہ کیا ہوا ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں مس جنت ابھی سے نڈھال ہو گی ۔۔۔۔

جنت کی گردن ماتھے پر پیسنہ اور پھولا سانس غیر ہوتی حالت دیکھتے سفان اب سپیپڈ کم کرتا طنزیہ بولا تھا ۔۔۔

ش۔شیٹ اپ۔۔۔

جنت اس کے پیٹ پر کہنی مارتی ہوئ غرای تھی۔۔۔۔

———————————————————–

آ گے تم اتنی دیر بھی کوئ لگاتا ہے ا۔۔۔

ارے تاشہ آنی دیر ہو جاتی ہے رخصتی تھی میری۔۔

جنت بائیک سے اترتی سکون سے سفان کے پلیس میں انٹر ہوتی سامنے کھڑی تاشہ کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔

انہہہ۔۔۔

تاشہ برا سا منہ بناۓ بولتی اندر چلی گی تھی۔۔۔

———————————————————–

یہ کیا ہے سفان مجھے تو ایسے لگا جیسے یہ گھر اس کا ہے اتنی وہ خوش دیکھ رہی تھی۔۔۔

تاشہ روم میں آتی آگ بگولہ ہوتی بولی تھی۔۔۔

آنی ریلکس میں دیکھ لو گ۔۔۔

کیا دیکھ لو گے جو لڑکی پہلے ہی دن حکمرانی کرتی آ رہی تم اسے کچھ کرو گے۔۔

جاٶ ہو تو ہاشم کے ہی بیٹے جیسے وہ پوری زندگی روحا کا دیوانہ بنا گزار گیا ویسے تم بھی اس کی بیٹی کے پیچھے پاگل ہو ۔۔

سفان انہیں پرسکون کرتا بول رہا تھا جب تاشہ بات ٹوکتے نفرت سے چلائ تھی۔۔۔

تبھی سفان غصے سے روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔

————————————————————

تم میرے سر پہ زبردستی مسلط کی گئی ہو

یہ دلہن بن کر بیٹھنا تمہیں زیب نہیں دیتا مس جنت اب دیکھنا اس کا خمیازہ تمہیں ساری عمر بھگتنا پڑے گا” سفان اس کے سر پہ کھڑا چیخ رہا تھا۔۔

“زیادہ چلانے کی ضرورت نہیں ہے میں خود تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی تھی کجا تمہارے ساتھ شادی انکار۔

کیا اک دفعہ چھوڑ ہزار دفعہ کیا لیکن میری بھی کسی نے نہیں سنی” ماما نے بھی میری بات نہ مانی کتنا اچھا ہوتا تمہاری یہ منحوس شکل نہ دیکھنی پڑتی ۔۔

جنت نے جھٹکے سے گھونگھٹ اٹھاتے کہا تھا۔۔

“اک تو ہم لڑکیوں کو پہلے ماں باپ کی۔ ایموشنل باتیں سن کر نا چاہتے ہوئے بھی شادی کے لیے ہاں کرنی پڑتی اور اوپر سے پھر تم جیسے سرپھرے لوگوں کی باتیں اور سو کالڈ بدلہ بھی چپ چاپ برداشت کرو لڑکیاں فالتو ہوتی ہیں نہ” اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا لہنگا سنھبالتے بیڈ سے اترتے دانت پیس کر کہا تھا ۔۔

وہ تو روحا کی بات مان کر شرافت سے بیڈ پر بیٹھی اچھی دلہونوں کی طرح ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ اندر آتے سفان کو غصے سے چلاتے دیکھ وہ بھی اب سب بھلاۓ اس کے روبرو آتی بولی تھی۔۔۔

جبکہ اس کی باتیں سن کر وہ غصے سے لال پیلا ہوا جا رہا تھا۔۔

“اوہ یو سمجھتی کیا ہو تم اپنے آپ کو؟ چاہوں تو اک منٹ میں تمہاری اکڑ ختم کر سکتا ہوں پھر اس زبان کو کہی بھی چلانے سے پہلے ہزار بار سوچو گی”۔۔

سفان خان نام میرا اتنے بھی ہلکے میں مت لینا۔۔۔

اس نے انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتے ہوئے کہا تھا۔۔

“شدید غلط فہمی میں مبتلا ہو تم” اس نے اطمینان سے کہتے نامحسوس انداز میں ہاتھ اپنی گردن پر پھیرا تھا۔۔۔

جبکہ اس کی بات نے سفان کو جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا وہ سرخ چہرے پہ غضبناک تاثرات لیے اس کی طرف بڑھا تھا۔۔

اس کے قدم بڑھاتے اس نے بھی میں ہاتھ ڈال میں پکڑی چھوٹی سی سپرے نکالی تھی۔۔۔

اور اس کے قریب آتے ہی اس نے اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی اس کے ناک پر سپرے کر دیا تھا۔۔

کلوروفام کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے سیکنڈز میں ہی سفان بےہوش ہو کے اس کی طرف لڑھکا تھا اس نے تیزی سے اسے بیڈ پہ دھکا دیا تھا اسے یقین تھا۔۔

اسے ایسی سیچویشن سے لازمی گزرنا پڑے گا اس لیے اس نے پہلے سے ہی بندوبست کیا ہوا تھا۔۔

“ہونہہہ آیا بڑا دھمکیاں دینے والا”۔۔

ہارون خان کی بیٹی ہو ہارنا تو کبھی سکھا ہی نہیں ۔۔۔

اسے اک نظر دیکھتے وہ بڑبڑائی تھی اور پھر واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔

جلدی سے نائٹ ڈریس پہنا پھر باہر آتی سیدھا بیڈ کی طرف بڑھی۔۔

جہاں وہ بیڈ کے بیچ و بیچ دنیا جہان سے بیگانا پڑا ہوا تھا۔۔

“افففف سوؤں کیسے یہ تو پورے بیڈ پہ پھیلا ہوا ہے”۔

اس نے اسے گھورا تھا جیسے وہ جان بوجھ کے ایسے سو رہا ہو پھر ہمت کرتے جیسے تیسے کر کے اسے سیدھا کر کے اک سائیڈ پہ کیا اور اس کا کھسہ اتار کر رکھا تھا اور پھر بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ آ کر لیٹ گئی تھی۔۔

“پتہ نہیں صبح اٹھ کے کیا ری ایکشن ہو گا اس کا” اک لمحے کو اسے پریشانی نے گھیرا تھا

“خیر جو بھی ہو گا صبح دیکھا جائے گا” دوسرے ہی لمحے اس نے لاپرواہی سے کہتے آنکھیں موند لی تھی ۔۔۔

کافی دیر کروٹیں لینے کے بعد جنت نے موڑ کر بے خبر سو رہے سفان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

جو گہری نیند میں سو رہا تھا۔۔۔۔

ہاں اب نیند آۓ گی میرا سرہانہ بھی ساتھ نہیں۔۔۔

جنت سفان کی طرف جاتی اس کے سینے پر سر رکھے باہوں سے زور سے ہگ کیے اب سکون سے آنکھیں بند کرتی سو چکی تھی۔۔۔۔

نیند میں جاتی جنت کو ہنسی بڑی آی تھی سفان کی ایسی حالت دیکھ جو خود اسے ڈرانے آیا تھا۔۔۔

————————————————————

زینی یہ کیا کر رہی ہو ابھی مجھے دیکھنے تو دیتی ت۔۔۔

زینیہ جو شدید غصے میں روم میں آتی اپنے لہنگے کا ڈوپٹہ اتارے اب جیولری اتار رہی تھی ۔۔

جب کافی دیر بعد عمار ہمت کرتا اندر آتا بولا تھا۔۔

کیوں پہلی دفعہ تم نے مجھے دیکھنا ہے پہلے بھی تو ہزار دفعہ دیکھا تم نے ۔۔۔

زینیہ طنزیہ نظروں سے اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔

لیکن دلہن تم میری اب بنی ہو میرے لیے تیار ہوئ ہو جی بھر کر دیکھنے تو دو۔۔۔۔

عمار اپنی شروانی اتارے سکون سے زینیہ کو پکڑے بیڈ پر بیٹھاتے بولا تھا۔۔۔

جانتا تھا وہ صرف غصہ سے یہ سب کر رہی تھی۔۔۔۔

پیچھے ہٹو اپنا حق تم لے چکے ہو اس رات اب میرے پاس کیوں آ رہے ہو۔۔۔

زینیہ اسے خود سے دور کرتی بولی تھی۔۔۔

بھول کیوں نہیں جاتی اس رات کو میں پہلے ہی شرمندہ ہو زینی خود سے ۔۔۔

عمار بہکے ہوۓ انداز سے زینیہ کی گردن پر لب رکھے بولا تھا۔۔۔

ک۔کیسے بھول جاٶ۔عمار۔۔۔

زینیہ روتے ہوۓ اسے دور کرتی بولی تھی۔۔۔

———————————————————–

““ایک سال پہلے۔۔

عمار کو احساس ہوا تھا وہ کتنا غصہ کر چکا ہے تبھی شرمندہ ہوتا کیک کا ایک پیس اٹھاۓ اب زینیہ کے پاس آ رہا تھا۔۔۔

جبکہ اس کی میکسی پہنے بیک لیس برہنہ کمر کو دیکھتے عمار آہستہ آہستہ اس کے پاس آ رہا تھا۔۔۔۔

سوری میری جان ۔۔۔

عمار وہ کیک کا پیس اس کی برہنہ کمر پر لگاۓ آہستہ سے سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔۔

وہی زینیہ کی دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔

اس نے کبھی امید نہیں رکھی تھی عمار اسے ایسے مناۓ گا۔۔۔

ع۔ما۔ر عمار جاٶ یہاں سے۔۔۔

زینیہ اسے خود سے دور کرتی کانپتی آواز سے بولی تھی۔۔۔

اب روٹھی بیوی کو منانا بھی تو ہے میں نے کتنی بڑی غلطی کر دی میں نے۔۔

عمار آہستہ آہستہ اس کی کمر پر لگے کیک کو اپنے لبوں سے کھاتا مدہوش ہوتا بولا تھا۔۔۔

م۔میں ناراض نہیں ہو جاٶ عمار پلیز۔۔۔۔

زینیہ جلدی سے اسے دور کرتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی جبکہ وہ گھبراتے ہوۓ پیسنے سے بھیگ چکی تھی۔۔۔۔

ایسے کیسے جاٶ یار اب منانا تو پڑے گا ویسے اتنا ڈر کیوں رہی بیوی ہو میری۔۔۔

عمار کوئ بات پر توجہ نہ دیتا اسے کمر سے پکڑے اب بیڈ پر گراے بولا تھا۔۔۔

نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں جو ایسا کر رہے عمار میں نے غلطی کی تمہارے پاس آ کر ۔۔۔۔

زینیہ اپنے اوپر جھکے عمار کو دیکھتی زرا سختی سے بولی تھی۔۔۔۔

بیوی ہو میری پورا حق ہے مجھ گھبراٶں مت کچھ نہیں کرتا میں ۔۔۔

عمار نرمی سے اس کا ماتھا چومتا ہوا اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

ع۔م۔عمار لائٹ چلی گی م۔مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز کچھ کرو ۔۔۔

اس سے پہلے عمار اٹھتا جب لائٹ جاتے دیکھ زینیہ نے ڈرتے ہوۓ عمار کو شولڈر سے پکڑے اپنے چہرے پر جھکاتے بولی تھی۔۔۔۔

ریلکس زینیہ کچ۔۔۔

نہیں کیوں گی لائٹ تم جانتے ہو مجھے ڈر لگتا ہے عمار اور یہ جگہ بھی بڑی ڈروانی ہے مجھے ڈر لگ رہا بابا کو فون کرو میں نے بابا کے پاس جانا ہے ۔۔۔

عمار کے لبوں پر زینیہ کی گرم سانسیں پڑ رہی تھی وہ مدہوش ہوتا بول رہا تھا جب اچانک زینیہ روتے ڈرتے ہوۓ چلاتے بولی تھی۔۔۔۔

ت۔م۔چ۔چپ تو کرو ی۔۔

عمار اب اپنی ہوش کھوتا ہکلاتے ہوۓ بول رہا تھا جب زینیہ بولی تھی۔۔۔۔

م۔م۔مجھے بچاٶ عمار یہ جگہ کتنی خوفناک ہ۔۔۔

زینیہ ڈر سے عمار کو خود کے اتنا قریب کرتی بول رہی تھی جب عمار نے بے اختیاری سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے تھے۔۔۔

زینیہ عمار کا پہلی بار لمس پاتی جٹھکا کھاتی اسے خود سے دور کیا تھا۔۔۔۔

لیکن عمار اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیتا اپنے لب اس کی گردن پر رکھ چکا تھا۔۔۔

ع۔م۔عمار یہ غلط ہے پلیز چ۔چھوڑ۔۔۔۔

زینیہ منت کرتی تڑپتی ہوئ بول رہی تھی جب عمار دوبارہ اس کی بولتی بند کرواچکا تھا۔۔۔۔

اپنے عشق کو بیوی کے روپ میں اپنی سانسوں کے قریب پاتے عمار سب کچھ بھولتا اب اپنی شدتوں کو اس پر لٹا رہا تھا۔۔۔۔

زینیہ کی کوئ بھی مزاحمت اس کے کام نہیں آئ تھی ۔۔۔

اس نے بھی آنسو بہاتے خود سپردگی عمار کو دے دی تھی۔۔۔

زینیہ کے دماغ میں بیٹھ چکا تھا اس نے عمار کے ساتھ مل کر جو بھی کیا تھا وہ صرف گناہ تھا۔۔۔

————————————————————

اگلی صبح زینیہ روتی ہوئ بنا عمار کی طرف دیکھتے جلدی سے وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔

عمار جب جاگا تو رات کا سب سوچتا بہت شرمندہ ہوا تھا۔۔۔

وہ بھی سب بھلاۓ جلدی سے زیان کے گھر آسلام آباد آیا تھا۔۔۔

لیکن زینیہ نے اس کی نہ سنتے انسلٹ کرتے گھر سے نکال دیا تھا۔۔۔

عمار اپنے کیے پر بہت شرمندہ تھا۔۔۔

————————————————————

دیکھو زینیہ میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہو پورا سال ہو گیا تم نے مجھے اگنور کر کے بہت سزا دے دی ۔۔۔

میں نے بہت ہمت سے تمہاری بے رخی برداشت کی ہے ۔۔۔

تم کیوں شرمندہ ہوتی ہو بیوی ہو میری شرمندہ تب ہوتی اگر ہم دونوں کے درمیان ایسا رشتہ نہ ہوتا۔۔۔۔

عمار زینیہ کے بالوں کا جوڑا کھولے بڑے آرام سے بول رہا تھا۔۔۔

جبکہ زینیہ بہت رو رہی تھی۔۔۔۔

ع۔م۔عمار میں بابا کو کیا جواب دو گی وہ رات مجھے نہیں بھولتی میں مانتی ہو اس رات وہ سب کچھ بے خودی میں ہوا لیکن ایسی بھی کیا بے خودی تھی عمار تمہاری تم نے میری ایک بھی منت مزاحمت نہیں سنی۔۔۔

میں تو بابا کی اچھی والی بیٹی تھی تمہاری وجہ سے میں نے ایک سال ایک مجرم کی طرح گزاری ہے وہ شرم حیا جو تمہارے سامنے تھی وہ ساری چلی گی م۔۔۔۔

ششش ریلکس زینی ایسا کچھ نہیں ہوا جو بھی تھا وہ ہم دونوں کے درمیان ہوا تھا۔۔۔

اور تم ماموں کی اچھی والی بیٹی ہو ابھی بھی میرا عشق ہو ۔۔۔

پلیز مجھے اتنی اجازت دو میں نے تمہیں جو دکھ دیا اس کا ازلہ کر سکو۔۔۔۔

عمار اپنے لبوں سے زینیہ کے آنسو صاف کرتا بولا تھا۔۔۔۔

ت۔تم ٹھیک کہہ رہے کیا عمار کیا میں واقعی اچھی بیٹی بابا کی ۔۔۔

زینیہ عمار کے ہاتھ پکڑتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں تم بہت پیاری اور اچھی بیٹی ہو میری خوبصورت

بیوی ہو ۔۔۔

عمار آہستہ سے زینیہ کی ساری جیولری اتارے بولا تھا۔۔۔

ت۔تم بابا کو بتاٶ گے میں نے اس رات کچھ نہیں کیا۔۔۔۔

زینیہ ابھی بھی ایک ہی سوچ لے بولی تھی۔۔۔۔

ہاں بتا دو گا یار اب چپ کرو گی ۔۔۔۔

عمار اب سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔

مجھے بولے ہو تم رکو ابھی بتاتی ہو میں۔۔۔

زینیہ اب غصے میں آتی اسے مکے مارتی بولی تھی۔۔۔۔

ارے میری جنگلی بلی اپنے شوہر کو ایسے مارتے کیا گناہ ملے گا ۔۔۔

عمار اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو میں کرتا بیڈ پر گراتے اس پر جھکے بولا تھا۔۔۔۔

ہاں میں تو م۔۔۔

زینیہ اپنا سرخ چہرہ لیتی بول رہی تھی جب عمار نرمی سے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔۔

زینیہ نے بھی شرماتے ہوۓ اپنی خود سپردگی اسے دی تھی۔۔۔۔

وہ جانتی تھی اس کے عشق میں عمار ایک سال کتنا تڑپا تھا۔۔۔۔

وہ اسے اس کی ردعمل پر اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔

زینیہ خوش تھی عمار کا ساتھ پاتے ۔۔۔۔