Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 22)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 22)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
حجاب میری جان جاٶ آرام کرو میں شجرت کو ہینڈل کر لو گی۔۔۔
بخار و زکام میں مبتلا حجاب کو دیکھتی عمارہ نے پیار سے کہا تھا جو شجرت کو گود میں لیے چکر لگا رہی تھی۔۔۔
نہیں ماما آپ جاۓ بابا کے ساتھ میں ہینڈل کر لو گی۔۔۔
حجاب زبردستی مسکراہٹ لاۓ بولی تھی۔۔۔
عمارہ اور اسامہ نے اریج سے ملنے جانا تھا تبھی وہ بولی تھی۔۔۔
ارے بیٹا مجھے ہی دو اس کی پھوپھو ب۔۔
عمارہ یار کدھر ہو آ جاٶ ۔۔۔
عمارہ ابھی بول رہی تھی جب اسامہ کی جنجھلائ آواز سنائ دی ۔۔
جاۓ آپ۔۔
حجاب ان کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
بیٹا اپنا خیال رکھنا ویسے آذان کو فون کر کے بتا دیا تھا زینی بھی گھر نہیں ورنہ وہ خیال رکھ لیتی تمہارا۔۔۔
عمارہ جاتے ہوۓ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
کوئ بات نہیں ماما۔۔۔
حجاب سکون سے بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
ارے ماما کی جان ادھر بیٹھے ماما ابھی آتی ہے ۔۔
حجاب شجرت کو صوفے پر بیٹھاتے خود جلدی سے کچن کی طرف جاتی بولی تھی۔۔۔
م۔ما۔ماما۔آ۔جا۔۔۔۔
شجرت بھاں بھاں کرتی روتی صوفے سے نیچے گری تھی جب وہ چلائ ۔۔۔
ہال میں انٹر ہوتے آذان نے بھاگ کر اسے گود میں اٹھایا تھا جب کچن سے بوکھلائ سی حجاب باہر آی تھی۔۔۔
سوری وہ میں فیڈر لینے چ۔۔۔۔
تنگ آ گی ہو میری بچی سے تو بول دو یہ بہانے نہیں ٹھیک ابھی میری بیٹی گر جاتی تو کیا کرتی تم۔۔۔
حجاب نڈھال سی چلتی پاس آتی بول رہی تھی جب آذان طش سے چلایا تھا۔۔۔۔
یہ کیسی بات کی آذان بیٹی ہے م۔۔۔۔
نہیں ہے تمہاری یہ سگی بیٹی میں پہلے ہی کہتا تھا نہیں شادی کرنی تم سے لیکن ماما لوگ مانے ہی نہیں میں ہنیڈل کر لیتا اپنی بیٹی کو ۔۔۔
اب تم جیسی موٹی لڑکی اپنا وزن سبنھالے گی یا میری بیٹی۔۔۔
حجاب پھر بولتی جب آذان منہ میں جو آیا بول چکا تھا۔۔۔
بسسسس بہت ہوا مسٹر آذان اگر میں چپ ہو کر تمہاری بات سن رہی ہو تو تمہارے عشق کی وجہ سے ۔۔۔
بلکل ٹھیک کہا میرے بھی ماں باپ بھای راضی نہیں تھے کہ میں تم جیسے شادی شدہ لڑکے سے شادی کرو جس کی ایک بیٹی بھی ہے ۔۔
لیکن کی میں نے تمہاری بیٹی کو اپنا مانا ہر کام کیا کبھی تمہیں فیل ہوا تمہاری بیٹی بھی ہے میں نے اکیلے رہ کر اس کی دیکھ بھال کی ۔۔۔
اتنے بخار میں بھی شجرت کو دیکھ رہی میں نے تو سگی ماٶں سے زیادہ محبت کی ہے اس سے ۔۔
اب مزے سے کہا رہے ہو یہ میری نہیں ہے ۔۔۔
مہندی کی رات بھی تمہاری ہر بات سن لی تھی کہ جو لڑکی اپنا کھانا پورا نہیں کر سکتی وہ مجھے محبت کیا دے گی ۔۔۔
بلکل ٹھیک کہا تھا تم نے میں تمہیں وہ محبت نہیں دے سکتی جو علیشبہ نے دی تھی ہاں ہو موٹی اب کیا مر جاٶ میں ۔۔۔
تمہیں میرا تو احساس نہیں ہے یہ کہا کر میرا دل ہی توڑ دیا شجرت بیٹی نہیں میری ۔۔۔
تم ہینڈل کرو میں جا رہی ہو اپنے بھای کے پاس۔۔۔۔
حجاب مسلسل روتی ہوئ اب ہال سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔
حجاب حجاب سنو میری بات مجھے غصہ ا۔۔۔۔
سوری میں کچھ نہیں سن سکتی اپنی بیٹی کو سبھنال لو۔۔۔
آذان اب پریشان ہوتا اس کے پیچھے جاتا بول رہا تھا جب حجاب بولتی چلی گی تھی۔۔۔۔
اب وہاں وہ اکیلا ہی کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔۔
ب۔بابا ماما۔۔۔
شجرت اپنی آنکھیں گول کرتی بولی تھی۔۔۔۔
بیٹا ماما آ جاۓ گی تم میرے ساتھ آو۔۔۔
آذان اسے بہلاتا ہوا روم میں لے گیا تھا۔۔۔
————————————————————
سوری جنت میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
جنت بیڈ پر الٹی ہو کر لیٹی تھی جب سفان اس کے پاس بیٹھتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔
پہلے درد دیتے ہو پھر سوری کرتے ہو واہ مسٹر سفان خان ۔۔
جنت طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی۔۔۔۔
جس پر میری غلطی ہو میں سوری کر لیتا ہو سمجھی تم اب زیادہ نکھرا مت دیکھاٶ۔۔۔۔
سفان اب دانت پیستے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
اب جاٶ پ۔۔۔
جنت ویسے ہی بول رہی تھی جب اسے اپنی کمر سے شرٹ اوپر کو سرکتی ہوئ محسوس ہوئ تھی۔۔۔
ک۔کیا کرنے والے ہو ۔۔۔
جنت جلدی سے کروٹ لیتی سفان کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ریلکس مرہم لگانے والا تھا۔۔۔
سفان واپس اسے الٹا کرتا نرمی سے شرٹ اوپر کرتا وہاں سرخ ہوئ کمر پر آہستہ آہستہ مرہم لگا رہا تھا۔۔۔۔
اس کے لمس پر جنت کی سانسیں تیز ہوئ تھی۔۔۔
اب آرام کرنا ۔۔۔
سفان دوبارہ شرٹ ٹھیک کیے اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ایک بات کہو تمہیں۔۔۔
جنت سفان کا ہاتھ پکڑتی نرمی سے بولی تھی۔۔۔۔
ہاں کہو۔۔۔
وہ تحمل سے بولا تھا۔۔۔۔
تمہاری آنی نے جو بھی ماما کے خلاف بتایا ہے تم کوشش کرنا یہ جانے کی میری ماما کی کوئ غلطی نہیں تھی کیونکہ اتنا تو میں جان گی تم اتنے بھی برے نہیں ہو۔۔۔
بس کوشش کرنا تاکہ اگر تم کچھ غلط کر دو تو خود ہی نظروں سے گر نہ جاٶ۔۔۔
جنت نے کہتے نرمی سے اپنے لب اس کے ہاتھ پر رکھے تھے۔۔۔
ہممم۔۔
سفان کوئ جواب نہ دیتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔
————————————————————
“”ایک ماہ بعد۔۔۔
میم آپ نہیں مل سکتی شاہ میر سر سے ۔۔۔
زینیہ شاہ میر کے بنگلے کے باہر کھڑی تھی جب گارڈ زرا غصے سے بولا تھا۔۔۔
مجھے جانے دو بات کرنی بہ۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو نکلو یہاں سے ۔۔۔
زینیہ آگ بگولہ ہوتی بول رہی تھی جب عمار باہر آتا بولا تھا۔۔۔
تمہیں کیا مسئلہ ہے میں کیا نہیں آ سکتی اس شاہ میر کے بچے کو میں بتاٶ گی یہ میرا کیس خراب کر رہا ہے عمار میں اسے جان سے مار دو گی ۔۔
زینیہ عمار کا کالر پکڑتی دانت پیستے بولی تھی۔۔۔
ہاہاہہا یہ پاگل ہے تھوڑی سی میں دیکھ لو گا تم جاٶ۔۔۔
گارڈ کو منہ کھولتا دیکھ عمار قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
یہ کیا حرکت تھی زینی تم ہماری سالوں کی محنت کو ضائع کرنے والی تھی عقل ہے تمہارے پاس میں تمہاری جان بچانے کے لیے اس انسان سے دور رکھتا ہو اور تم ہو کہ بسسسس۔۔۔
عمار اسے لیے اب کار میں بیٹھتا بولا تھا۔۔۔
کب عمار کب اسے سزا ملے گی تم جانتے ہو کل چار لڑکیوں کا ریپ کیا اس انسان نے اپنے فارم ہاوس پر اور سب کو چپ بھی کروا دیا اس نے کب اسے سزا ملے گی ا۔۔۔۔
شششش ریلکس ہمارے پاس شاہ میر کے خلاف ہر ثبوت مل گیا ہے بس تھوڑا ویٹ کرنا ہو گا کیونکہ ہم بہت جلد اس پر ریٹ کرنے والے ہے ۔۔۔
روتی زینیہ کو چپ کرواتے عمار نے اسے کہا تھا۔۔۔
اور کل جو کورٹ کا فصیلہ ہو گا وہ ک۔۔۔
کورٹ بھی اپنے قابو میں لے گی شاہ میر کو تم بس پریشان مت ہو جانتی ہو اپنی جان سے زیادہ تمہاری فکر ہے غلطی سے بھی شاہ میر کو پتہ نہیں چلنا چاہے تم بیوی ہو میری سمجھی۔۔۔۔
زینیہ پھر بول رہی تھی جب عمار ایک دفعہ پھر سے سمجھاتا بولا تھا ۔۔
عمار ہمیں روحی ملے گی دوبارہ کیا کیونکہ یہی شخص جانتا ہے وہ کہاں ہے ۔۔۔
زینیہ پر امید نظروں سے اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ہاں میری جان مل جاۓ اب گھر جاٶ ماما کے پاس نہیں بلکہ زیان بابا کے پاس جاٶ ان کو کہو رات کو پولیس ریٹ تیار رکھے کیونکہ شاہ میر ہماری قابو میں آنے والا ہے اب مجھے جانا ہے اس گندے انسان کے پاس ۔۔
عمار اس کا ماتھا چومتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔۔۔
زینیہ اب پر سکون ہوئ تھی اس کی باتیں سنتی ۔۔۔
————————————————————
میری بیٹی اب کھانا کیوں کم کھاتی ہے ۔۔۔
بابر حجاب کے پاس آتے اسے ہگ کیے بولے تھے ۔۔۔
جو اس ایک ماہ میں کمزور ہو گی تھی جہاں وہ ہر وقت کھاتی رہتی تھی وہاں وہ بامشکل کھاتی تھی ۔۔۔
گھر آ کر اس نے یہی کہا تھا وہ رہنے آی ہے علیزے اور بابر نے بھی نہیں پوچھا تھا اسے کیا ہوا ہے وہ چاہتے تھے ان کی بیٹی خود ہر مسئلہ حل کرے۔۔۔
اتنا تو دونوں سمجھ گے تھے کوئ تو بات تھی جس کی وجہ سے حجاب سب کو بھلاے یہاں رہ رہی تھی۔۔۔
آذان نے بہت کوشش کی تھی اس سے ملنے کی لیکن وہ ایک بار بھی نہیں ملی تھی اس سے ۔۔۔
ارے آج کرنل صاحب گھر پر ہے ۔۔۔
حجاب مسکراتے بابر کا مذاق بناتی بولی تھی۔۔۔
ہاہااہااہاہہا بس سوچا اپنی بیٹی کو ٹائم دے دو ۔۔۔
بابر قہقہ لگاتے بولے تھے۔۔۔۔
بیٹی کو یا بیوی کو ۔۔۔
حجاب اب شرارتی انداز سے علیزے کو آتا دیکھ بولی تھی۔۔۔
شرم کر لو حجاب ماں ہو تمہاری۔۔
علیزے سرخ چہرہ لیتی بولی تھی۔۔۔۔
اففف ماما میں کہاں شرم کرو آپ ہی شرما رہی ہے ۔۔۔
حجاب ان کے سرخ گال دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
بس بس بہت ہو گیا تم یہ بتاٶ گھر کب جاٶ گی اب تو عمارہ روازنہ پوچھتی ہے ان کی بیٹی کب آے گی۔۔۔
علیزے حجاب کو گلے لگاۓ بولی تھی ۔۔
ماما چلی جاٶ گی جب دل کرے گا آپ مجھے اچھے سے پراٹھے بنا کر دے بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔
و۔۔۔
ارے جاٶ میری بیٹی نے فرمائش کی ہے میرے لیے بھی بناٶ جا کر ۔۔۔
علیزے بولنے والی تھی جب بابر مسکراتے ان کی طرف دیکھتے بولے تھے۔۔۔
اففف ایک میں ہی پاگل ہو بیٹی بھی نہیں سنتی پہلے بیٹا نہیں سنتا تھا اب یہ بھی ۔۔۔
علیزے منہ میں بڑبڑاتی ہوئ وہاں سے گئیں تھی۔۔۔۔
بیٹا کھایا پیایا کرو ایسے تو کمزور ہو گی ہو تم۔۔۔
بابر حجاب کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے۔۔۔۔
جی بابا۔۔۔۔
ان کے سینے سے لگتے حجاب نے آنسو کنٹرول کرتے کہا تھا۔۔۔۔
————————————————————
تمہارے بابا نے تو اپنے بزنس کے لیے ایک نیو مینجر ہائر کیا ہے اب کیا خیال ہے طلاق لینا چاہو گی ۔۔۔
پلوشہ ابھی نیند سے جاگتی نیچے آی تھی جب شاہ زین اس کے سامنے ناشتہ رکھتا ہوا سکون سے بولا تھا۔۔۔۔
ط۔طلاق کیوں۔۔۔
پلوشہ ہکلاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
وہ کیسے اسے بتاتے ایک ماہ میں ہی وہ شاہ زین کی قربت کی سحر ہو چکی تھی اب
وہ کسی بھی قیمت پر اسے کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔لیکن دل میں ڈر بھی تھا اگر اس نے یہ بات اسے بتائ تو وہ مذاق بناۓ گا اس کا تبھی وہ خاموش تھی ۔۔۔
لیکن شاہ زین کا ساتھ پاتے وہ جیسے دنیا کی ہر چیز بھول گی تھی تبھی اب پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
ظاہر سی بات ہے اسی کام کے لیے شادی کی تھی تم نے ۔۔
شاہ زین پراٹھے کا نوالہ بناتا اسے کھلاتا بولا تھا۔۔۔
وہ بلکل ایک بچے کی طرح اس کا خیال رکھتا تھا۔۔۔
بس اسی کام کے لیے شادی کی تھی کیا۔۔۔
پلوشہ نوالا کھاتی اس کے لبوں کی طرف دیکھتی کھوئ ہوئ بولی تھی۔۔۔
ہاں میرے خیال سے تم نے زبردستی کی تھی۔۔۔
شاہ زین پھر اسے نوالہ کھلاتا سکون سے بولا تھا جب پلوشہ بے چین ہوئ تھی۔۔۔
اچھا مسٹر کالو میں کیسی لگتی ہو تمہیں کیا اچھی نہیں لگتی۔۔۔
پلوشہ اپنے بال کان کے پیچھے کرتی بےاقراری سے بولی تھی۔۔۔
شاہ زین کے لبوں پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔
وہ سب سمجھ رہا تھا لیکن چاہتا تھا پلوشہ خود سے کہے اسے وہ سب جو وہ سوچ رہا تھا۔۔۔
پتہ تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہے ۔۔
شاہ زین اب اس کی آنکھوں کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
تم مجھے چھو سکتے ہو مسٹر کالو۔۔
پلوشہ بلش کرتی اس کے قریب آتی بولی تھی۔۔۔
تمہارے گال بہت پیارے ہے۔۔
شاہ زین پھر سکون سے بولا تھا۔۔۔
اور اور۔۔۔
پلوشہ بے تاب ہوتی زیادہ قریب آتے بولی تھی۔۔۔
اور بس۔۔۔
شاہ زین مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
اہہہہ میں بتاتی ہو مجھے تم میں کیا پسند ہے ۔۔۔
پلوشہ اب برا سا منہ بناۓ اسے پکڑے کھڑا کرتی بولی تھی۔۔۔۔
مجھے یہاں سکون ملتا ہے پتہ نہیں کیوں ایسے لگتا دنیا کی کوئ بھی چیز مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔۔۔
یہاں بے حد سکون سے میں ساری زندگی تمہاری باہوں میں رہنا چاہتی ہو۔۔۔
پلوشہ بچوں جیسے منہ بناۓ اپنی باہئیں اس کی گردن میں حائل کرتی گردن میں منہ چھپاۓ ہگ کیے بولی تھی۔۔۔
میں تو کالو ہو تم اتنی خوبصورت ہو ہمارا کیا جوڑ پھر۔۔۔
شاہ زین اپنی مسکراہٹ روکے پلوشہ کو کمر سے پکڑتے سکون سے بولا تھا۔۔۔
کالو ہو لیکن تمہاری یہ باہئیں پیاری ہے تحفظ دیتی ہے مجھے اور سکون بھی۔۔
پلوشہ ویسے ہی منہ چھپاے بولی تھی۔۔۔
مطلب محبت ہو گی تمہیں ۔۔
شاہ زین اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔
پہلی دفعہ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی۔۔۔
ن۔نن۔نہیں تو۔۔۔
پلوشہ جلدی سے دور ہوتی ہکلاتے بولی تھی۔۔۔
اچھا تمہیں نہیں ہوئ کیا لیکن مجھے تو ہوئ ہے محبت۔۔۔
شاہ زین اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ک۔کون۔ہے وہ ۔۔۔
پلوشہ نے ڈرتے پوچھا تھا۔۔۔
وہی جو اس وقت میری سانسوں کے قریب کھڑی ہے جو میری بیوی ہے جس پر میرا حق ہے یہ نک چڑی لڑکی میری ملکیت ہے ۔۔
شاہ زین آہستہ آہستہ اسے اپنے سحر میں جھکڑ رہا تھا۔۔۔
م۔میں نہیں کرتی۔۔۔
پلوشہ جلدی سے اس کا اظہارِمحبت سنتی دور ہوتی روم کی طرف بھاگتی بولی تھی۔۔۔۔
نہ کرو لیکن میں کرتا ہو۔۔۔
شاہ زین نے پیچھے سے یہ کہا تھا ۔۔۔
جب دور جاتی پلوشہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔
————————————————————
کدھر ہو تم۔۔۔
روحان اپنے روم میں تھا جب اسے سبحان کی کال آئ تھی جو شدید غصے میں بولا تھا۔۔۔
ریلکس کیا ہوا ہے اتنے غصے میں کیوں ہو سب ٹھی۔۔۔
کیا ٹھیک ہونا ہے روحی نے آج پھر خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے اب تو میں بھی تھک گیا اسے یہ یقین دلا کر وہ اچھی لڑکی ہے گندی نہیں۔۔۔
یہ سب اس شاہ میر کے باپ کی وجہ سے ہوا ہے میرے قابو میں ایک آدمی آیا ہے وہ ہی بتا سکتا ہے اس رات روحی کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔۔
تم اپنے ڈائمنڈ ہاوس جاٶ وہاں لے کر آتا ہو میں اسے ۔۔
سبحان اپنی کہتا جلدی سے فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔
شاہ میرررررر خانزادہ بہت جی لیا تم نے اب تو موت پکی تمہاری۔۔۔
روحان شدید غصے میں روم سے باہر نکلاتا غرایا تھا۔۔۔
ہ۔ہیرو کا۔۔۔
جاٶ سو جاٶ باربی میں بعد میں آٶ گا۔۔۔۔
آنیہ مسکراتی ہوئ کافی لے روم میں آتی بول رہی تھی جب روحان بنا اسے دیکھے غصے سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
روحان کی ڈراک براٶن آنکھیں سرخ دیکھتے آنیہ تھر تھر کانپی تھی۔۔۔۔
ی۔یہ ہیرو نہیں ت۔تھا ی۔یہ جن تھ۔تھا شاہد۔۔۔
آنیہ منہ میں کہتی وہی زمین بوس ہوئ تھی۔۔۔۔
روحان اس بات سے بے خبر اپنی کار میں بیٹھتا چلا گیا تھا۔۔۔
