Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 5)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 5)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

تم یہاں ہو یہ بڑے بڑے گیٹ تم جیسوں کے لیے ہی لگاۓ ہے ۔۔

رات کو ہارون گھر آیا تو اتنا سناٹا دیکھتا سیدھا کچن میں آیا تھا ۔۔

جب سامنے والے کو دیکھ ہارون نے برا سا منہ بناتے کہا تھا ۔۔

مسٹر ہارون خان وہ گیٹ آپ جیسوں کے لیے ہے میرے لیے نہیں ۔۔۔

وہ طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاں ایک تم ہی عقل مند رہ گے ۔۔

ہارون خان جلتا ہوا بولا تھا۔۔

ارے شکریہ جو آپ جیسے مین آف دی بزنس مین کا آیورڈ لینے والے نے مجھ نا چیز کی تعریف کی ۔۔۔

وہ مسلسل منہ میں سگریٹ دباۓ زرا سر کو تھوڑا جھکاتے داد لینے والے انداز سے بولا تھا ۔۔۔

تمہارا قتل پکا اب۔۔

ہارون غصے سے چھڑی لیتے اس کی طرف بڑھے بولے تھے ۔۔۔

وہی وہ ابھی بھی سکون سے کھڑے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا ۔۔

اہہہہ میرا بیٹا میرا ببر شیر ۔۔

ہارون نے چھڑی گراتے روحان کو زور سے گلے لگاتے آبدیدہ ہوتے بولے تھے ۔۔۔

روحان نے بھی اپنے مضبوط بازوں میں ہارون خان کے گرد حصار بنایا تھا ۔۔

کتنا ترسا تھا وہ باپ کی شفقت کے لیے۔۔۔

اچھا بس کرے کیا مجھے پنک روز سمجھ لیا ہے ۔۔

روحان مزاخیا انداز سے بولا تھا ۔۔۔

تم بن بھی نہیں سکتے انہہ۔۔

ہارون بھی پیچھے ہوتے روٹھے پن سے بولے تھے ۔۔۔

کیسے ہے بابا ۔۔۔۔

روحان ہارون کی آنکھوں کو دیکھتا اس کو چومتا بولا تھا ۔۔۔

تمہارے بابا بہت کمزور ہو گے بیٹا مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔

ہارون دوبارہ اس کو گلے لگاتے ضبط کرنے کے باجود آنسو بہاتے بولے تھے ۔۔۔

کہاں کمزور ہوۓ آپ آج بھی آنٹیاں آپ پر مرتی ہے اور یہ کیا رو رہے میں آج جس مقام پر ہو آپ کی وجہ سے ہو بس ایک پنک روز میری ہے اب ۔۔

آپ کوئ آنٹی ڈھونڈ لے ۔۔۔

روحان پھر ہلکے موڈ سے ہارون کو کرسی پر بیٹھاتے بولا تھا۔۔۔

رہنے دو پنک روز ہی کافی ہے اچھا جاٶ میرا بیٹا فریش ہو جاٶ ۔۔

زرا کبھی کبھی ان گیٹ کو عزت دینا یہاں سے شریف لوگ آتے ہے یوں چوروں کی طرح اندر مت آیا کرو ۔۔۔

ہاہاہااہااااہااہاہاہ۔۔۔

بابا آپ جانتے ہے میں شریف نہیں بیٹ بواۓ ہو سو مجھے یہ گیٹ ہضم نہیں ہوتے ۔۔

روحان ہارون کی بات سنتا شیطانی مسکراہٹ لاۓ آنکھ ونک کرتا کچن کی کھڑکی سے باہر کودتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔

جس دن پنک روز کو پتہ چلا تو پکا تمہارے ساتھ مجھے بھی جوتے پڑے گے ۔۔۔

ہارون جلدی سے کھڑکی سے باہر گردن نکالے اوپر کی طرف دیکھتے دانت پیستے بولے تھے ۔۔۔

کیونکہ چوروں کی طرح پلیس کی دیواروں سے ریگنتا ہوا بڑی جلدی اپنے روم میں جا رہا تھا ۔

جبکہ ہارون ابھی تک شوک تھے انھوں نے اپنے پیلس کے دروازے کیوں بناۓ ۔۔۔

کیونکہ جنت بھی ایسے ہی پلیس انٹر ہوتی تھی ۔۔۔

———————————————————–

دفع ہو جاٶ سب تم سب کی وجہ سے میرا گلا خراب ہو گیا روحان تو آیا ہی نہیں ۔۔۔

جنت اریج پلوشہ حجاب سب ہارون پیلس انٹر ہوئ تھی جب جنت شدید غصے سے بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ وہ سب ڈرامہ کیا تھا روحان آ جاۓ پاکستان جب وہ کافی گھنٹے ویٹ کرنے کے بعد بھی نہیں آیا تو جنت اپنی حالت ٹھیک کرتی واپس آ گی تھی ۔۔۔

صرف چلائ تھی تم وہ خون تو نقلی تھا ۔۔۔

اریج خود برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

چیخی تو سہی میں گردن دیکھو میری ۔۔۔

جنت اپنی گردن کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی ۔۔۔

یار میرا تو دل ٹوٹ گی۔۔۔۔

میں چھوڑ دیتا ہو تمہارا دل ۔۔۔

سب ہال میں انٹر ہوئ تھی جب پلوشہ اداس ہوتی بول رہی تھی ۔۔۔

تبھی صوفے پر بے نیاز بیٹھے روحان نے بھاری آواز سے کہا تھا ۔۔۔

روحانننننننن۔۔۔

جنت خوشی سے پاگل ہوتی بھاگتی اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔۔

اچھا ڈرامہ تھا آپو مجھے آپ سے یہ امید نہ تھی ۔۔۔

روحان کے دل میں سکون اتارا تھا لیکن پھر بھی جنت کو بالوں سے پکڑتے وہ زرا سختی سے بولا تھا ۔۔۔

ایک لات مارو گی تو سیدھے اوپر چلے جاٶ گے ۔۔۔

جنت اس کے پیٹ میں لات مارتی طش سے بولی تھی ۔۔۔

ہاہہاہایاایا کتنی ہلکی ٹانگ تھی میری چیک کرے ۔۔۔

روحان قہقہ لگاتا اپنی ٹانگ کو گھوماتا جنت کی ٹانگوں کو لاک کرتا بولا تھا ۔۔۔

جب جنت صوفے پر گری ۔۔

اہہہہ جنگلی ۔۔۔

جنت اٹھتی بولی تھی ۔۔۔

رو۔روحان دیکھو مجھے مت کہنا میری تو شادی ہونے والی مجھے چھوڑ دو پکا اپنی چاکلیٹ دو گی ۔۔۔

روحان سب کو اپنے سامنے کھڑا کیا تھا جب حجاب رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ اس نے پہلی دفعہ ہی اسے دیکھا تھا بس اس کی وحشت بھری باتیں ہی سننی تھی ۔۔

اچھا آپ کو معاف کیا بیٹھ جاۓ ۔۔

روحان اس کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔

اب جنت پلوشہ اریج روحان کو گھورتی سوچ رہی تھی کیسے بچا جاۓ ۔۔۔

و۔وہ میرے بھائ خود تم سے ڈرتے ہے ۔۔۔

ہاں میرا بھائ بھی ۔۔

پلوشہ اریج دونوں بولی تھی ۔۔۔

اچھی بات ہے اب کس کی سفارش لے کر آٶ گی جس سے میں رک جاو۔۔

روحان شیطانی مسکراہٹ لاۓ ان کے قریب جاتا بولا تھا ۔۔۔

وہی جس کی ننھی انگلیوں پر نچاتے ہو ۔۔

جنت پلوشہ اریج ایک ہی زبان میں چلاتی گل خان کے پلیس کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہااہاہا میں بھی دیکھتا ہو کون بچاتا ہے تم سب کو۔۔۔

روحان ان کے پیچھے بھاگتا کھڑکی سے نکلتا قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔

حجاب کے گلے میں چاکلیٹ اٹک گی تھی یہ دیکھ کر روحان ڈور کی بجاۓ ونڈو سے نکلا تھا ۔۔

———————————————————–

ک۔کیا ہوا بچاٶ۔بچاٶ۔

آنیہ گہری نیند سکون سے بیڈ پر سو رہی تھی ۔۔

جب ہاپتی کانپتی جنت پلوشہ اریج بھاگتی ہوئ آتی آنیہ کے اوپر گری تھی ۔۔۔

تبھی آنیہ چلاتے بولی تھی۔۔

اے چپ کر بہن کیوں جان نکال رہی ہو ۔۔

اریج جلدی سے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔

کیونکہ تینوں کے دل دھڑک رہے تھے روحان کے بھاری قدموں کی آواز سنتے جو انہی کی طرف بھاگتا آ رہا تھا ۔۔۔

ک۔کیا۔ہوا۔۔۔

آنیہ ہاتھ پیچھے کرتی بولی تھی ۔۔

موت آئ ہماری موت۔۔۔

پلوشہ پھولے سانس سے بولی تھی ۔۔

ک۔۔

یہاں چھپی بیٹھی ہو تم سب ۔۔۔

آنیہ بولنے والی تھی جب روحان طوفان بنا دروازہ کھولتے اندر آتا چلایا تھا ۔۔۔

دیکھو روحان ہم ڈرتے نہیں ہے تم سے سمجھے۔۔۔

پلوشہ ہمت جمع کرتی بولی تھی ۔۔

وہ تو دیکھ رہا ۔۔

روحان اندر آتا بیڈ کے قریب آتا شیطانی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

ا۔ر۔ارے پیچھے ہو جاٶ مجھے دیکھنے دو کو۔کون ہے ۔۔۔

آنیہ ان تینوں کے پیچھے تھی تبھی بیزار ہوتی آگے آتی بولی تھی ۔۔۔

پلیز عین اس کو کہو ہمیں چھوڑ دے ۔۔۔

جنت آنیہ کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔

پل۔پلیز۔چھ۔چھوڑ دے۔۔۔۔

آنیہ بیڈ کے کنارے آتی وہی کھڑی روحان کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

جو سب بھلاۓ اب اپنی باربی کو اپنے اتنے قریب دیکھا رہا تھا ۔۔۔

چھوڑ دیا جاٶ اب ۔۔۔

روحان ویسے ہی آنیہ کی نیند سے ہوتی سرخ آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

یاہوووووو اب تو جان بچ جانے پر نفل ادا کرو گی ۔۔۔

جنت اور اریج دونوں نعرہ لگاتی بھاگی تھی ۔۔۔

جبکہ پلوشہ روحان اور آنیہ کو اتنا قریب دیکھتی منہ بناتی چلی گی تھی ۔۔۔

ت۔تم کب آے ۔۔

آنیہ روحان کی آئ برو کو چھوتی بولی تھی جہاں ڈائمنڈ لگا چمک رہا تھا ۔۔۔

جب تم سو رہی تھی چلو سو جاٶ صبح ملے گے ۔۔۔

روحان اسے چھونا چاہتا تھا محسوس کرنا چاہتا تھا لیکن کچھ سوچتا جلدی سے کہتا روم کے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

کب تک تم اس ناسور کو اپنے سینے سے لگا کر رکھو گے سفان خان۔۔۔

تاشہ سفان کے روم میں آتی نفرت سے بولی تھی ۔۔

جہاں دنیا جہان سے بے خبر بس وہ اپنے ہاتھوں میں پکڑی پک کو دیکھ رہا تھا جس میں دو معصوم بچے کھڑے تھے ۔۔

ایک کی آنکھیں کالی تو دوسرے کی گرین تھی ۔۔۔

تو کیا کرو آنی میں۔۔۔

سفان سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

وہی کرو جو چند سال پہلے روحا نے کیا تھا ۔۔

کیا تم نہیں چاہتے وہ درد میں تڑپے دیکھو تو یہاں سالوں سے اکیلے تڑپ رہے ہو اب ان کو تڑپنا چاہے ۔۔

تاشہ وہی کھڑی بولی تھی ۔۔

کیونکہ سفان خان نے آج تک کسی کو یہ اجازت نہیں دی تھی کوئ اس کے روم میں آ سکے۔۔۔

سفان خان جانا مانا بزنس ٹائکون جو انگلیڈ میں اپنا بزنس چلا رہا تھا ۔۔۔

غصہ سردمہری رعب دبدبہ اس کی پرسلنیٹی سے جھلکتا تھا ۔۔۔

خاص کر اس کی سرخ گرین آنکھیں جن میں ایک ٹھنڈا سکون جیسا ٹھہراٶ تھا ۔۔

بھورے بال بھوری ہلکی شیو سرخ گرین آنکھیں عنابی ہونٹ دراز قد کسرتی جسم ۔

دنیا کی نظر میں سفان خان بزنس مین تھا جبکہ وہ ڈائمن کا رائٹ ہینڈ تھا ۔۔

جہاں ڈائمن کی کمی ہوتی وہاں سفان خان آ جاتا تھا ۔۔۔

بہت جلد آنی اب ٹائم آ گیا روحا کو یہ بتانے کا جب اپنوں سے دور رہا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ۔۔۔

سفان طش سے چلاتے بولا تھا ۔۔۔

تم جانتے ہو پاکستان سب حجاب کی شادی کر رہے ہے جنت بھی بہت خوش ہے ۔۔۔

تاشہ آگ لگاتی بولی تھی ۔۔

وہی آنی اب تو مزہ آۓ گا جب ہارون اور روحا کے سامنے اس کی بیٹی تڑپے گی تب دونوں کو احساس ہو گا ۔۔

نفرت ہے مجھے تم سے جنت ہارون خان ۔۔۔

بہت جلد ہم آمنے سامنے ملے گے ۔۔۔

سفان اب گہری سوچ سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

یہ غلط ہے روحان میں نے شوٹ ٹھیک کیا ہے ۔۔۔

رات کے دو بجے جنت اور روحان دونوں ہال میں شیشے کی بوتلیں رکھے باری باری نشانہ لگاۓ شوٹ کر رہے تھے جب جنت طش میں آتی چلائ تھی ۔۔۔

کہاں غلط آپو یہ دیکھے یہاں ٹھیک س۔۔۔۔

روحان بول رہا تھا جب جنت اپنی گن اس کی طرف کرتی اس کے پاٶں پر شوٹ کیا تھا ۔۔

وہی وہ خاموشی سے کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔

یہ ٹھیک تھا اب لگ رہی ہو آر ایچ کے کی بہن ہو ۔۔

روحان خوش ہوتا بولا تھا ۔۔

یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ورنہ کبھی میں یہ نہ بن سکتی تھی روحان۔۔۔

جنت اس کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔

چلو بس کرو مسکہ مت لگاٶ ۔۔۔

ڈرامے باز عورت۔۔۔

روحان موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بولا تھا جب جنت نے اس کے پیٹ پر لات ماری تھی ۔۔۔

بھورے بلے میں چھوڑو گی نہیں ۔۔۔

جنت اب اس کے ڈراک براٶن بالوں کو پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

ارے بابا ب۔۔۔

سوری بابا میں نے کچھ نہیں کیا تھا ۔۔۔

روحان اس کے پیچھے دیکھتا بول رہا تھا جب جنت جلدی سے پیچھے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

اب تو پکا تجھے مارو گی بھورے بلے ۔۔

جنت دانت پیستی اب روحان کے پیچھے بھاگتی بولی تھی ۔۔

کیونکہ ہارون وہاں تھے ہی نہیں ۔۔

————————————————————

شرم کرو بہارے کچھ ۔۔۔

اماں اس کی طرف دیکھتی غصے سے بولی تھی ۔۔

میں نے کیا کیا اماں۔۔۔

بہارے منہ میں ببل ڈالے اپنی ہڈی پہنے آہستہ سے باہر جا رہی تھی جب پکڑی گی ۔۔

کچھ دن پہلے ڈائمنڈ لے کر آئ آخر کیوں چوری کرتی ہو یہ سب تمہارا ہ۔۔۔

یہ سب میرا نہیں اماں یہ سب حرام کی کمائ ہے ۔۔

میں حلال کی کمائ کھاتی ہو ۔۔

بہارے اب اپنے ڈراک براٶن بالوں کا جوڑا کرتی جلدی سے کیپ لیتی ان کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

حلال کی کمائ مطلب۔۔۔

اماں شوک ہوتی بولی تھی ۔۔

جو شخص اپنی جان پر رسک لے کر محنت کر کے کماتا ہے اسے حلال کی کمائ کہتے اور میں ایسا ہی کرتی ہو ۔۔

بہارے اپنا لوجک بتاتی جلدی سے باہر بھاگ گی تھی ۔۔۔

وہی اماں نے اپنا ماتھا پیٹا تھا ۔۔

———————————————————–

ہارون یہ کافی آپ نے نہیں بنائ ۔۔۔

صبح روحا ڈائنیگ پر بیٹھی تھی جب اس کے سامنے کافی کا مگ آیا تھا ۔۔۔

تبھی وہ ایک سیپ لیتی حیران ہوتی بولی تھی ۔۔

ظاہر سی بات ہے پنک روز سب سے بیسٹ میں ہی کافی بناتا ہو۔۔۔

روحان جم ڈریس پہنے پیسنے سے بھیگا ہوا مسکراتا ہوا آیا تھا ۔۔

روحان میری جاننننن۔۔۔

روحا پاگلوں کی طرح روتی بھاگتی ہو روحان کے سینے لگی تھی ۔۔

وہ نہیں جانتی تھی روحان پاکستان آ چکا ہے ۔۔

ماما کی جان اب واپس تو نہیں جاٶ گے پکا وعدہ کرو ۔۔

روحا روتی روحان کا چہرہ دیوانہ وار چومتی بولی تھی ۔۔

بس کرو پنک روز اب تو میں جلیس ہو رہا ۔۔۔

ہارون نے جب دیکھا روحا مسلسل روتی بول رہی ہے تبھی آگے آتے ان کو پکڑتے روٹھے پن سے بولے تھے۔۔۔

آپ جلیس کیوں ہو رہے بیٹا ہے میرا جاۓ میں نے اپنے بیٹے سے باتیں کرنی ہے ۔۔

روحا روحان کا ہاتھ پکڑتی کہتی اپنے روم میں لے گی تھی وہی ہارون کا شوک ہوتے منہ کھولے کا کھولا رہ گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا پری جانی پریشان ہو۔۔

ناشتہ کرتے برہان نے پریسہ کو پریشان ہوتے دیکھ پوچھا تھا ۔۔۔

ہاں میں سوچ رہی پلوشہ کی شادی کر دے ۔۔

پری کچھ سوچتی بولی تھی ۔۔۔

ابھی بچی ہ۔۔۔

بچی نہیں ہے بلاج کی ایج کی ہو گی دیکھے بلاج کا اپنا ہاسپٹل ہے وہ سرجن بن گیا بس پلوشہ بھی کچھ بنے یا شادی کروا دیتے ہے ۔۔۔

اسے محبت کی ضرورت ہے آپ کو سمجھنا چاہے تبھی وہ ایسی ہے میں اچھی ماں نہیں بن سکی پہلے دانین اب پلوشہ بھی آہستہ آہستہ مجھے سے دور ہو رہی ہے ۔۔۔

پری آج اپنے دل کی بات بتاتی روی تھی ۔۔

کیونکہ کافی عرصے سے پلوشہ پری کے ساتھ اچھے سے بات نہیں کرتی تھی اسے تنگ کرنے کے لیے وہ ایسی ڈریسنگ کرتی تھی ۔۔۔

تم بہت اچھی ماں ہو اتنے اچھے سے بچوں کی تربیت کی مجھے خوشی ہے ۔۔

رہ گی پلوشہ کی شادی کی بات تو ریلکس رہو میرا سارا بزنس وہ ہنیڈل کرے گی ایسے بزی ہو جاۓ گی وہ بلاج اپنے ہاسپٹل میں بزی ہوتا اب مجھے ضرورت ہے ۔۔۔

برہان نرمی سے پری کا ہاتھ پکڑتے بولے تھے ۔۔۔

وہی واک سے واپس آتی پلوشہ نے سب سن لیا تھا ۔۔

بزنس ہنیڈل کرنے والی بات پر اسے غصہ آیا تھا ۔۔

کیونکہ وہ برہان کی وجہ سے ہی یونی میں پڑھ رہی تھی ۔۔

اس کی جان جاتی تھی پڑھائ سے ۔۔۔

ہاے پلوشہ کچھ کر ۔۔۔

پلوشہ دل میں سوچتی ہوئ اپنے روم میں گی تھی ۔۔۔

————————————————————

جنت میری جان دیکھو لڑکیوں کے ہاتھ میں گنز نہیں چوڑیاں اچھی لگتی ہے ۔۔

یہ شرٹ یا ٹاپ نہیں ڈوپٹہ اچھا لگتا ہے تم ایسا کیوں کر رہی ہو ۔۔۔

روحا جنت کی لک دیکھتی پیار سے سمجھا رہی تھی ۔۔۔

ماما یہ دنیا معصوم لوگوں کے لیے نہیں ہے معصوم بن کر بھی دیکھ لیا کیا ملا مجھے ۔۔

میری بہن چلی گی مجھ سے اسی معصومیت کی وجہ سے ۔۔۔

اب اور نہیں مجھے میری بہن چاہے ماما ہر حال میں ۔۔۔

جنت طش میں آتی بولتی باہر جاتی اپنی ہیوئ بائیک پر بیٹھتی چلی گی تھی ۔۔۔۔

سب جانتے تھے جنت کو آرمی پسند نہیں لیکن پھر بھی ہارون اور روحان دونوں نے

اسے آرمی ٹرائنیگ کروائ تھی ۔۔۔

جنت کا اپنا ایک سنٹر تھا جہاں وہ لاورث بے سہارا کمزور لڑکیوں کو فائینٹگ سکھاتی تھی ۔۔۔

ہر کسی کی مدد کرنے کے لیے وہ سب کے لیے گرل باس بنی تھی ۔۔۔

————————————————————

اٹھو تم یہاں سے جاٶ برتن دھو ۔۔۔

جب دیکھو سوئ رہتی ہو ۔۔۔

زرمینا نے دانت پیستے فرش پر سوتی تیرہ سالہ دانین کو لات مارتی بولی تھی ۔۔۔

ج۔جی آپی ۔۔۔

واٹ آپی کیا ہوتا ہے جاہل عورت ۔۔

زرمینا دانین کو بالوں سے پکڑتی بولی تھی ۔۔

چھ۔چھوڑے ۔میں برتن دھو دیتی ہو۔۔۔۔

دانین آنسو بہاتی اٹھتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

۔س۔سنیں میری مدد کر دے ۔۔۔

دانین نیچے کچن کی طرف آئ تھی جب سامنے اتنے زیادہ برتن دیکھتی روتی ہوئ ملازمہ سے بولی تھی ۔۔۔

جیسے پوری دنیا کے برتن کچن میں آ گے ہو اس نے کبھی یہ سب کام نہیں کیا تھا ۔۔۔

کچن اتنا بڑا تھا اگر دانین ایک کونے سے دوسرے کونے میں جاتی تو پندرہ منٹ لگتے اسے ۔۔۔

کیوں تم ہی یہ کام کرو گی انہہہ خون بہا میں آئ لڑکی کو ایسے ہی کام کرنے پڑتے ہے تم کوئ شہزادی نہیں ہو جو فری میں کھا جاٶ سب ۔۔۔

ملازمہ بھی دانین کو بالوں سے پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

وہ ایسے ہی ہر کام اپنے ننھے ہاتھوں سے کرتی تھی لیکن پرواہ کسی کو نہیں تھی ۔۔۔

ارے افشاں جلدی آٶ ۔۔

بڑے خان جی آ گے ہے ۔۔۔

ایک ملازمہ بھاگتی ہوئ اندر آتی بولی تھی ۔۔۔

وہی دانین کی دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔

کیونکہ آج تک اس نے بڑے خان جی کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔

ہاے اللہٌ مارے گے خان جی کا سوٹ استری کرنا تھا ۔۔۔

اے لڑکی چل سوٹ استری کر جلدی برتن بعد میں دھو لینا ۔۔۔

افشاں دانین کا ہاتھ پکڑتی اپنے ساتھ جاتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

یہ کیا طریقہ ہے تم سب کو سمجھ نہیں آتا کیا ۔۔۔

ہارون غصے سے بولے تھے فون پر ۔۔۔

آج حجاب کی رخصتی تھی سبھی وہی ہال میں جمع تھے ۔۔۔

تبھی ہارون کو انگلیڈ سے اپنی کمپنی سے فون آیا تھا جیسے سنتے وہ بولے تھے ۔۔

کیا ہوا بابا ۔۔۔

روحان پاس آتا بولا تھا۔۔۔

ورکرز میں کوئ ایشو ہو گیا ہے اور میجیر سے ہنیڈل نہیں ہو رہا مجھے بلا رہا ہے ۔۔

ہارون نے اپنا مسئلہ بتایا تھا ۔۔۔

آپ پریشان مت ہو میں چلا جا۔۔۔۔

ارے بیٹا اتنے عرصے بعد آۓ ہو میں دیکھ لو گا ۔

مجھے ابھی جانا ہو گا۔۔۔

روحان بول رہا تھا جب ہارون بولے تھے ۔۔۔

لیکن بابا آ۔۔۔۔

ارے یار اتنا بوڑھا نہیں ہوا چلا جاٶ گا ۔۔۔

بس سب کا خیال رکھنا ۔۔۔

ہارون روحا کو بنا بتاۓ خودی ہال سے باہر چلے گے تھے ۔۔۔

بابا بابا روکے میں خود چھوڑ کر آتا ہو ائیرپورٹ آۓ جلدی ۔۔۔

روحان ہارون کے پیچھے بھاگتا ہوا آتا بولا تھا ۔۔۔

پوری اپنی ماں پر گے ہو وہ بھی ایسا کرتی ہے آٶ ساتھ۔۔۔

ہارون مسکراتے اسے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ساتھ جاتے بولے تھے۔۔۔

————————————————————

بس کرو یار بیٹی تھی اس نے رخصت ہونا ہی تھا ۔۔۔

بابر کب سے علیزے کو چپ کروا رہے تھے جو بار بار رو رہی تھی ۔۔۔

کیونکہ رخصتی ہو چکی تھی ۔۔۔

لیکن اتنی جلدی میں نے نہیں سوچا تھا بابر ۔۔۔

علیزے اپنا سر ان کے سینے پر رکھتی بولی تھی ۔۔

دیکھو آج نہیں تو کل شادی ہونی ہی تھی تو آج ہی سہی ۔۔۔

بابر تسلی دیتے بولے تھے ۔۔۔

آ۔آپ جا کر فون کرے آسامہ بھائ کو پوچھے وہ کیسی ہے ۔۔۔

علیزے ابھی بھی روتی بولی تھی ۔۔

رات ہو گی ہے اچھا نہیں لگتا میں صبح بات کرو گا اب سو جاٶ۔۔۔

بابر بات ٹالتا ہوا علیزے کو بیڈ پر لیٹاتے بولا تھا۔۔۔

———————————————————–

شجرت بیٹا آو ماما سونے والی ہے پاس آ جاٶ ۔۔۔

ریڈ کلر کا بھاری لہنگا پہنے ڈراک میک اپ بالوں کا اچھا سا ہیر سٹاہل بناۓ وہ دلہن بنی آذان کے روم میں بیٹھی تھی ۔۔۔

جبکہ بے بی کوڈ میں ایک سال کی شجرت رو رہی تھی ۔۔۔

تبھی حجاب اٹھ کر پاس جاتی اسے گود میں آٹھاۓ بولی تھی ۔۔۔

آذان نے روم میں انٹر ہوتے یہ منظر دیکھا تھا ۔۔۔۔

ارے دیکھو ماما چاکلیٹ دے گی آٶ مل کر کھاتے ہے ۔۔۔

حجاب آذان کو اگنور کیے آرام سے شجرت کو لیتی صوفے پر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں کھاٶ دیکھو ماما بھی کھا رہی یمی ہے ۔۔۔

آذان مسکراتا ہوا واش روم سے کپڑے چینج کیے بیڈ پر آیا تھا جب دیکھا حجاب شجرت کو چاکلیٹ کھلاتی بول رہی تھی ۔۔۔

جاٶ پہلے چینج کر لو ا۔۔۔

اگر میں زرا سی ہلی تو شجرت رونے لگ جاۓ گی تم سو جاٶ۔۔۔۔

آذان دیکھ رہا تھا کہ شجرت بار بار حجاب کا بھاری ڈوپٹہ اپنے ننھے ہاتھوں میں لے رہی تبھی وہ بولا تھا ۔۔۔

جب وہ بنا دیکھے اپنے کام میں بزی ہوتی بولی تھی ۔۔۔

آذان تو سکون سے لیٹتا شوک ہوتا حجاب کا روپ دیکھنے میں مگن تھا جو میک اپ کے ساتھ بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔

آذان مسلسل اسے ہی

دیکھ رہا تھا جب اچانک کچھ دیکھتے اپنی نظریں چڑائ تھی ۔۔۔

شجرت بار بار اسے تنگ کر رہی تھی جب حجاب بنا کسی کا سوچتے اپنا ڈوپٹہ اتارا تھا ۔۔۔

وہی اس کے شولڈر لیس کرتی دیکھتے آذان نے نظریں چڑاتے دوسری طرف رخ کیے وہ لیٹ گیا تھا ۔۔۔

آذان کی پشت دیکھتے حجاب کے آنکھ سے آنسو ٹوٹا تھا ۔۔۔

م۔ما۔ما۔۔۔

شجرت جلدی سے اپنی چھوٹی انگلی اس کے آنسو پر رکھتی اٹکتے بولی تھی ۔۔۔

ماما کی جان چلو اب سوتے ہے ۔۔۔

حجاب زبردستی مسکراہٹ لاۓ شجرت کو سینے سے لگاۓ بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

یہ کیا تھا جاہل کپڑے ایسے استری ہوتے ہے ۔۔۔

رات کو ملازمہ بلال خان کے کپڑے لے کر آئ تھی ۔۔

جب وہ اپنی نیلی غصیب ڈھاتی نگاہوں سے غرایا تھا ۔۔۔

بلال خان پشارو کے گاٶں کا سردار تھا ۔۔۔

پورے گاٶں کے لوگ اس کے غصے سے ڈرتے تھے ۔۔۔

کیونکہ بلال خان نرم مزاج اچھے دل کا مالک تھا جو ہر غریب انسان کی مدد کرتا تھا ۔۔

لیکن غصے کا تیز بھی کافی تھا جو کبھی کبھی ہی اسے آتا تھا۔۔۔

کھربوں کی جائیداد کا اکلوتا وارث تھا وہ ۔۔

لاکھوں لڑکیاں اس ہر مرتی تھی ۔۔۔

ج۔جی بڑے خان وہ۔۔۔

کس نے استری کیے یہ۔۔۔

بلال دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔

جب ملازمہ نے اوپر اسٹور روم کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔

بلال اب طش میں آتا سیڑھیاں چڑتا ہوا اوپر جا رہا تھا ۔۔

جبکہ سارے ملازم کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے ۔۔۔۔

جبکہ دانین ان سب سے بے خبر نڈھال سی زمین پر بے ہوش ہوئ تھی ۔۔۔

کیونکہ کبھی اس نے اتنے برتن نہیں دھوۓ تھے ۔۔۔

زرمینا کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

اب وہ خوش تھی دانین کو کوئ نہیں بچا سکتا تھا ۔۔۔

بلال کے غصے سے ۔۔۔

————————————————————

ہر جگہ ڈھونڈ لیا وہ نہیں ملی بس ایک جگہ رہ گی ہے ۔۔۔

شانی ڈائمن کے آگے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔

جگہ کا نام بتاٶ۔۔۔

ڈائمن دو ٹوک بولا تھا۔۔۔

وہی جگہ جہاں ہم جیسے لوگ نہیں جاتے بلکہ وہ جاتے جو رات کے اندھیرے میں گناہ کرتے ہے ۔۔۔

شانی تحمل سے بولا تھا۔۔۔

ہمممم دیکھ لو بس دل سے دعا کرتا ہو وہ وہاں اس گندی جگہ پر نہ ہو۔۔۔

ڈائمن صبط کرتا بولا تھا۔۔۔

ا۔اگر وہ نہ ۔ملی۔ت۔۔۔

شانی پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

ہاہاہہاہاہا پھر وہی ہو گا جو سفان خان اور ڈائمن مل کر کرتے ہے ۔۔۔

سفان کو فون ملاٶ پوچھو کب آ رہا پاکستان اب ۔۔۔

ڈائمن طنزیہ قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں آ رہا صبح وہ۔۔۔

شانی اپنی گن اٹھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

کہاں ہو تم تمہیں ترس نہیں آتا مجھ پر۔۔۔

ڈائمن اپنے ہاتھ میں پک لیتا اس کی طرف دیکھتا اپنی سرخ ڈراک براٶن آنکھوں میں وحشت لاتا بولا تھا۔۔۔