Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 28)
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 28)
Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar
س۔سفان میری بات سنو تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو۔۔۔۔
تاشہ ائیرپورٹ پر سفان کے ساتھ کھڑی ہکلاتی بولی تھی۔۔۔۔
کیونکہ سفان شدید غصے میں کھڑا تھا۔۔۔
بس آنی بہت ہوا آپ انگلینڈ جا رہی ہمیشہ کے لیے اس سے آگے ایک لفظ نہیں سنو گا۔۔۔۔
سفان ان کے ہاتھ میں ٹکٹیس رکھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ا۔ایسے کیسے میں نے تو ابھی ہارون کو پانا ہ۔۔۔
بسسسس آنی بہت ہوا ساری زندگی میرے دل میں روحا ماما کے لیے نفرت پیدا کی اب اسی کے شوہر کو حاصل کرنا چاہتی ہے ۔۔
جس کے تھے ہارون خان انہیں مل گے بس کرے آپ کی ہی باتوں سے میں نے پہلی دفعہ ایک عورت پر ہاتھ اٹھایا ہے اسے مارا ہے ۔۔۔
میری ماں نے ایسی تربیت نہیں کی تھی کہ ایک عورت کے ساتھ ایسا کیا جاۓ ۔۔
میں نے جو کچھ بھی کیا صرف آپ کے کہنے پر اب بس میں اپنی لائف میں خوش رہنا چاہتا ہو یہاں بھی اکیلی ہے تو وہی اکیلی رہ لے کافی ہے پیسوں کی فکر مت کرنا آپ۔۔۔
سفان اپنے گارڈز کو آتا دیکھ شدید طش سے بولتا اپنی بات مکمل کر چکا تھا۔۔۔۔۔
ل۔لیکن۔م۔۔۔
آپ میری آنی ہے میں کچھ بھی غلط نہیں کہنا چاہتا بہتر یہی ہے آرام سے چلی جاۓ۔۔۔
تاشہ گھبراتی ہوئ بول رہی تھی جب سفان کہتا بنا دیکھے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
————————————————————
جی آپ کو کس سے ملنا ہے۔۔۔
پریسہ ہال میں آتی سامنے گاٶن پہنے حجاب نقاب میں ملبوس لڑکی کو دیکھ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
کیا ہے ماما آپ نے مجھے پہچانا نہیں ۔۔۔
پلوشہ اپنا نقاب اتارتی روٹھے پن سے بولی تھی۔۔۔
ی۔یہ کہ۔کیسے ہو گیا ۔۔۔
پریسہ حیران ہوتی بولی تھی۔۔۔
یہ میرا کمال ہے پھوپھو دیکھ لے ۔۔۔
بلاج کے ساتھ آتا شاہ زین مسکراتے بولا تھا۔۔۔۔
م۔میں ابھی تک حیران ہو بیٹا۔۔۔۔
پلوشہ سے گلے ملتی پری ہکلاتی بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ شاہ زین کو دیکھ کر پلوشہ شرمائ تھی۔۔۔
اوےےے ہوۓےےے ہماری جنگلی بلی آج شرما رہی ہے۔۔۔
اریج بھی وہاں آتی پلوشہ کے لال گالوں کو دیکھتی تنگ کرتی بولی تھی ۔۔۔
افف ارو نہ کرو یار۔۔۔
پلوشہ ابھی بھی شرماتی بولی تھی۔۔۔۔
شاہ زین کو بہت اچھا لگ رہا تھا پلوشہ کا ایسا شرمانا گھبرانا۔۔۔۔
کیا کر دیا ایسا جو میری بہن لڑاکا سے سیدھا معصوم بن گی ۔۔۔
سب صوفے پر بیٹھے تھے جب بلاج شاہ زین کو تنگ کرتا بولا تھا۔۔۔۔
ہاہہاہااہا میں خود حیران ہو پلوشہ کو کیا ہوا ہے ۔۔۔
شاہ زین اپنے قریب بیٹھی پلوشہ کو دیکھتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
وہ واقعی حیران تھا پلوشہ نے ان پانچ ماہ میں خود کو مکمل تبدیل کر لیا تھا۔۔۔
جہاں وہ ہر وقت میک اپ اور ماڈرن ڈریسنگ میں رہتی تھی وہاں اب سادہ سی ڈریسنگ میں رہتی تھی۔۔۔
شاہ زین کے ساتھ بلکل بچہ بن کر بات کیا کرتی تھی ۔۔۔۔
بلاج مجھے عشق ہوا ہے وہ بھی مسٹر کالو سے۔۔۔
پلوشہ سب کے سامنے کہتی شاہ زین کے شولڈر پر سر رکھے سکون سے بولی تھی۔۔۔۔
ہووووووو ۔۔۔
بلاج اور اریج دونوں نے ہوٹنگ کی تھی مل کر پریسہ خوش تھی اس کی بیٹی خوش تھی شاہ زین کے ساتھ۔۔۔۔
ارے ارے میری شہزادی آی ہے کسی نے بتایا ہی نہیں ۔۔۔
برہان بھی ہال میں آتے سب سے ملتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔۔
کیسے ہے بابا آپ اور بزنس کیسا جا رہا ہے۔۔۔۔
پلوشہ ان سے ملتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اپنی بیٹی کو دیکھ لیا میں بہت خوش ہو بزنس بھی اچھا جا رہا ۔۔۔
برہان اسے سینے سے لگاۓ پیار سے بولے تھے ۔۔۔
اچھا بابا آپ کو بتاٶ میں نے کیا ک۔۔۔
رہنے دو پلوشہ اب کیوں بتانا تم خوش ہو کافی ہے سب کے لیے۔۔۔
شاہ زین جانتا تھا پلوشہ کیا کہنے والی تبھی وہ بولا تھا۔۔۔۔
ارے بتانے دو بابا کو پتہ چلے ان کی بیٹی نے کیا کارنامہ کیا تھا۔۔۔
پلوشہ اب دانت نکالے سب کو اپنا کارنامہ سنا رہی تھی۔۔۔۔
ہاہااہاہاہاہا ہااہاہاہہاہہاہا۔۔۔۔
اففف افففف میری جنگلی بلی کمال کر دیا ۔۔۔
میں حیران ہو شاہ زین کیسے مان گیا۔۔۔۔
بلاج قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔۔
بس یار جب بلا پیچھے پڑ جاۓ تو انسان کب تک بچتا ہے ۔۔۔۔
شاہ زین زرا پلوشہ سے دور ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
میرے تھے تم تو میرے پاس ہی آنا تھا تم نے ۔۔۔۔
پلوشہ برا مناۓ بنا شاہ زین کا کالر پکڑے اپنے قریب کرتی بولی تھی۔۔۔۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
لو یو شاہ زین مجھے اپنانے کے لیے ۔۔۔
سب کے سامنے پلوشہ اسے ہگ کیے کان میں سرگوشی کرتی آپنے آنسو کنٹرول کیے بولی تھی۔۔۔۔
دونوں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا شاہ زین نے اسے بچہ بنا کر ہینڈل کیا تھا۔۔۔۔
شاہ زین کی اتنی کئیر پر پلوشہ دن با دن اس کے عشق میں ڈوب رہی تھی۔۔۔
تبھی وہ پورے حق سے اپنی فلیگلز بتا دیتی تھی۔۔۔
لو یو ٹو میری جنگلی بلی اب چپ ہو جاٶ کارٹون لگتی ہو پوری ۔۔۔
شاہ زین نرمی سے اس کا ماتھا چومتا ہوۓ اس کی سرخ ناک دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔
یار ارو کچھ کھانے کو لاٶ یہ دونوں تو رومینس میں بزی ہو گے۔۔۔۔
پریسہ برہان وہاں سے چلے گے تھے جب بلاج یہ سب دیکھتا مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔۔
اچھا لاتی ہو کچھ کھانے کو۔۔۔
اریج صوفے سے اٹھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
چلو یار اب میں بھی چلتا ہو تم لوگ کئیری آن کرو۔۔۔
بلاج اریج کے پیچھے جاتا آنکھ ونک کرتا وہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہا۔۔۔۔
اس کی حرکت پر دونوں کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔
————————————————————
جنت باتھ کے بعد ابھی بیڈ پر آکر بیٹھی ہی تھی کہ دروازہ بجنے لگا۔۔۔
اُفف یہ آنی ہو گی۔۔۔
بیڈ سے اُٹھتے جنت نے بیزاری سے سوچتے چپل پہنی تھی….
اپنے بالوں پر اس نے ٹاول لیا ہوا تھا۔۔۔
مگر دروازہ کھولتے سامنے سفان کو دیکھ کر جنت کو حیرت ہوئ تھی ۔۔۔
جنت نے دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر کی راہ لی تھی..
اففف یہ جلدی آ گیا خودی کہہ رہا تھا لیٹ آۓ گا۔۔۔
میرے بال کتنے گیلے ہے اسے پتہ چل جاۓ گا میرے بالوں کا۔۔۔
جنت بیڈ پر بیٹھی مسلسل سوچ رہی تھی۔۔۔
جنت آؤ کھانا کھا لو.
پھر میڈیسن بھی لینی ہے تم نے ۔۔۔
ابھی جنت سوچ ہی رہی تھی ۔۔
جب کمرے کے ٹبیل پر سفان نے کھانا لگاتے کہا تھا۔۔۔
جنت کو ٹیبل پر اپنی فیورٹ بریانی دیکھ کر سفان پر خیریت ہوئی تھی..
آؤ بھی اب ٹھنڈی کرو گی کیا..
شوک ہوتی جنت کو دیکھ کر سفان بولا تھا۔۔۔۔
جنت ویسے ہی چپ کر کے ٹیبل کے سامنے صوفے پر براجمان ہو گئ تھی..
جنت کو سفان نے ساری بریانی آپنے ہاتھوں سے کھلائ تھی۔۔۔
جنت کو تو آج ہر لمحے حیریت گھیر رہی تھی…
کیا دیکھ رہی ہو اتنی حیرت سے۔۔۔
خود کو گھورتے پاتے دیکھ سفان اب جنت کے لبوں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتا بولا تھا۔۔۔۔
و۔وہ کچھ نہیں ۔۔۔
جنت جلدی سے ہکلاتی کہتی وہاں سے اٹھی تھی۔۔۔۔
آج اسے سفان بدلا بدلا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
یہ کیا ہو گیا اسے منٹوں کے بعد مجھے حیران کر رہا ہے۔۔۔
جنت سوچ کر رہ گئی تھی مگر کچھ بول کر اپنی شامت نہیں لانا چاہتی تھی..
جنت میں جانتا ہو معافی مانگنا کم ہو گا میرے لیے لیکن اب کوشش میں کرو گا۔۔۔۔
دور جاتی جنت کو جلدی سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ سفان نے اس کا ٹاول اتار کر گیلے بالوں میں انگلیاں چلاتے سرگوشی کرتے کہا تھا۔۔۔۔
سفان نے جنت کے بالوں پر اپنی انگلیاں چلانی شروع کی تھی…
جنت کی سانسیں تیز ہوئ تھی۔۔۔
ک۔کیا ہوا ہے تمہیں سفان۔۔۔
جنت اپنا رخ سفان کی طرف کرتی ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ آج تو اس کی گرین آنکھوں کا رنگ بھی بدلا ہوا تھا۔۔۔
مجھے معاف کر سکتی ہو؟؟؟
سفان نے نرمی سے اس کی ناک چومتے کہا تھا۔۔۔
جنت کو رونا آیا تھا..
جنت بولو..
سفان اس کا گال سہلاتا بولا تھا۔۔۔۔
سفان میں تم سے عشق کرتی ہو یہ نہیں جانتی کب سے میں نے تمہیں اسی دن معاف کر دیا تھا جب تمہیں یہ احساس ہوا تھا تم نے کتنا غلط کیا تھا۔۔۔۔
ا۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔۔۔
جنت اسے زور سے ہگ کیے روتے ہوۓ بول رہی تھی جب سفان درد سے چلایا تھا۔۔۔۔
ک۔کیا ہوا سفان تمہیں۔۔۔
جنت دور ہوتی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
کچھ نہیں یار و۔۔۔۔
سفانننننن ی۔یہ سب کیسے ہو گیا۔۔۔۔
سفان نظریں چڑاتا بول رہا تھا جب جنت نے جھٹکے سے اس کی شرٹ پھاڑی تھی۔۔۔۔
جہاں اس کے سینے اور کمر پر چھوٹے چھوٹے زخم بنے ہوۓ تھے تبھی وہ اسے بیڈ پر بیٹھاتی بولی تھی۔۔۔۔
ارے یار وہ ایک حادثہ ہو گیا تھا۔۔
کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا تھا ب۔۔۔۔
جھوٹ بول رہے ہو یہ تو ایسے لگتا کسی نے جان بوجھ کر تمہیں ایسے زخم دے ہے۔۔۔۔
سفان ابھی بھی نظریں چڑاتا بول رہا تھا جب جنت طش سے چلائ تھی۔۔۔۔۔
اچھا یہ چھوڑو میری بات سنو ۔۔۔
پہلے یہ بتاٶ اتنے لمبے بال کیسے ہو گے۔۔۔۔
سفان اس کا مائنڈ چینج کرتا جنت کو اپنے گود میں بیٹھاۓ اس کے کمر تک جاتے بالوں میں منہ چھپاۓ بولا تھا۔۔۔۔
و۔وہ ماما کو اچھے لگتے تھے تو رکھ لیے بابا بھی کٹوانے نہیں دیتے تھے ۔۔۔۔
میں تنگ آتی تھی تبھی وہ ونگ لگا لیتی تھی۔۔۔
آج باتھ لیا تو ابھی تک ونگ نہیں لگائ میں نے ۔۔۔
جنت اس کی انگلیاں اپنی کمر پر محسوس کرتی ہکلاتی بولی تھی۔۔۔۔
بہت خوبصورت بال ہے۔۔۔
سفان اس کے بالوں کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
میرے بابا ہاشم خان تھے۔۔۔
ہم پاکستان ہی رہتے تھے جب ایک دن بابا دادا جان کی ساری جائیداد لیے ہمیں لے کر انگلینڈ بھاگ گے۔۔۔۔
دادی جان کو نہیں پتہ تھا بابا نے شادی کی ہے ۔۔۔
انھوں نے وہاں جا کر دادی کو فون کر کے بتایا تھا۔۔۔۔
ہم سب اپنی چھوٹی سی دنیا میں بہت خوش تھے۔
لیکن بابا مجھ سے اور ماما سے غافل رہنے لگ گے ہر وقت روم میں بیٹھے اپنے خیالوں میں رہتے تھے۔۔۔۔
چھ سال کا تھا جب ایک دن سکول سے آیا تو دیکھا ماما بابا لڑ رہے ہے ان کی بحث ایک ہی روحا ہارون خان کے نام کی۔۔۔
ماما بار بار انہیں سمجھا رہی تھی روحا کسی کی بیوی ہے لیکن بابا کی ایک ہی بات تھی روحا ان کی ہے ۔۔۔
بس اسی دن کے بعد میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بابا ماما کے ساتھ اچھے سے رہتے ہو بلکہ وہ مارتے تھے ماما کو۔۔۔۔
مجھے نفرت محسوس ہوئ تھی روحا نام کی عورت سے ۔۔۔
جنت سفان کے سینے پر مرہم لگا رہی تھی جب سفان کھوۓ ہوۓ لہجے سے بولا تھا۔۔۔۔
بابا کو کوئ فکر نہیں ہوتی تھی ہماری بلکہ وہ ہر کسی کی شکل میں روحا کا چہرہ ڈھونڈتے تھے۔۔۔
ایک قسم کے پاگل ہو چکے تھے انہیں ہر جگہ بس روحا دیکھتی تھی۔۔۔۔
سالوں گزار گے نو سال کا تھا جب اللہٌ نے مجھے پیاری سی بہن دی تھی ۔۔۔
تم جاتی ہو میں کتنا خوش تھا میری پیاری سی ڈول آئ ہے ۔۔۔
میں سمجھا تھا بابا اب ٹھیک ہو جاۓ گے لیکن میں غلط تھا۔۔۔
ابھی تو میرے ان ہاتھوں نے بہن کا لمس بھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔۔
کہ بابا نے مار دیا اس معصوم کو۔۔۔
سفان اپنے ہاتھ دیکھتا پھوٹ پھوٹ کر روتا بولا تھا۔۔۔
م۔مطلب۔۔۔
جنت اس کے آنسو صاف کرتی ہکلاتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
دو دن تھی میری بہن ۔۔
میں سکول نہیں جانا چاہتا تھا لیکن ماما نے کہا کہ میں جاٶ پھر شام کو میری ڈول مجھے ملے گی۔۔۔
میں مان گیا۔۔۔
شام کو گھر آیا تو صرف بابا کی آوازیں آ رہی تھی چیخنے چلانے کی ۔۔۔
میں بھاگا روم کی طرف تو یہ دیکھ کر حیران رہ چکا تھا۔۔۔
میری بہن کی گردن بابا کے ہاتھوں میں دبوچی ہوئ تھی جبکہ ماما گہری نیند سو رہی تھی۔۔۔
میں نے جا کر دیکھا تو بابا میری بہن کی گردن پکڑے بس یہ کہہ رہے تھے تم میری روحا جیسی نہیں ہو تم میری پنک روز جیسی نہیں ہو۔۔۔
اپنی بہن کو چھڑوایا تو میرا دل بند ہو گیا یہ محسوس کر کے وہ کب کی مر چکی تھی۔۔۔
ماما کو دیکھا تو وہ بھی مر چکی تھی۔۔۔۔
بابا اب مجھے بھی کہنے لگ گے میں روحا جیسا کیوں نہیں ۔۔۔
روحا کے نام پر مجھے نفرت ہو گی ۔۔۔
میری ماما بہن چھوڑ کر چلے گے۔۔۔
بابا کو کوئ ہوش نہیں تھا وہ صرف ایک ہی بات کہہ رہے تھے۔۔۔۔
کچھ دن بعد آنی آ گی انگلینڈ انھوں نے میرے ذہین میں روحا کے لیے غلط باتیں ڈالی ۔۔۔
مجھے شدید نفرت ہو گی تھی۔۔۔
بابا کے ایک دوست تھے وہ اکثر بابا کی موجودگی میں ہمارے گھر آتے تھے ۔۔۔
لیکن مجھے اچھے نہیں لگتے تھے عجیب سے تھے ہر وقت چھوتے رہتے تھے ۔۔۔۔
ایک دن آنی گھر پر نہیں تھی بابا بھی سو رہے تھے
جب ان کا دوست گھر آیا میں اپنے روم میں اسٹڈی کر رہا تھا ۔۔۔
وہ روم میں آۓ ا۔۔۔اور انھوں نے م۔میرے س۔۔۔۔
کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔
جنت خود بھی آنسو بہاتی اس کے آنسو صاف کرتی بولی تھی۔۔۔
کیونکہ اچانک سفان دس سالہ سہما ہوا سفان خان بن چکا تھا۔۔۔۔
پ۔پھر اس انسان نے میرے ساتھ زیادتی کی میں چیختا چلاتا رہا کوئ میری مدد کو نہیں آیا تھا۔۔۔۔
اس گندے انسان نے میرے بعد میرے بابا کو زہر کا انجکشن لگا دیا ۔۔۔۔
بابا تڑپتے رہے میری آنکھوں کے سامنے میں کچھ نہ کر سکا۔۔۔۔
بابا بھی روحا کو پکارتے اپنی زندگی سے بازی ہار چکے تھے۔۔۔
میں اکیلا رہ گیا بس یہی سوچتے سب چلے گے میں کیوں دنیا میں رہ گیا۔۔۔۔
کافی عرصے بعد پتہ چلا وہ بابا کو دوست نہیں دشمن تھا۔۔۔
دادی کو آنی نے فون کیا انھوں نے کہا سفان کو پاکستان بھیج دیا جاۓ ۔۔۔
میں نے کسی کو نہیں بتایا تھا اپنے بارے میں کہ انگلینڈ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔۔
میں پاکستان آ گیا۔۔۔
یہاں آ کر مجھے کسی کا نہیں پتہ تھا سب کون ہے جب میں کرن پھپھو کے گھر آتا اس کے ساتھ تمہارے گھر تب مجھے تمہاری ماما پیاری لگتی تھی۔۔۔
میرے لیے کیوٹ لیڈی تھی وہ ان کی وجہ سے مجھے تم بھی اچھی لگتی تھی جب میرے ساتھ آ کر باتیں کرتی تھی۔۔۔۔
مجھے زندگی میں پہلی دفعہ دوست ملا جو مجھے سمجھتا ہے تم آتی تھی ہر روز میرے پاس۔۔۔۔
دادی کو آنی نہیں اچھی لگتی تھی انھوں نے تمہارے بابا سے بات کی ہم دونوں کا نکاح کر دیا جاۓ تبھی میں بھی مان گیا کیونکہ میں تم سے محبت کرنے لگ گیا تھا۔۔۔۔
جس دن نکاح ہوا اسی دن مجھے پتہ چلا کہ کیوٹ لیڈی ہی وہی روحا ہے جن کی وجہ سے میری فمیلی برباد ہو گی ۔۔۔
تبھی آنی نے بتایا وہ ہارون خان کی سکیرٹری تاشہ ہے جن کو ان سے محبت تھی لیکن روحا نے شادی نہیں ہونے دی۔۔۔
ایسی باتیں مجھے بتا کر خراب کیا گیا۔۔۔
اسی دن ہم دونوں کی لڑای ہوئ سب سمجھے میں تم سے لڑ کر انگلینڈ گیا ہو لیکن کوئ نہیں جانتا تھا روحا ہارون خان کی وجہ سے میں سب کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔
وہ سفان خان بنا جو نہیں بنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
تمہارے عشق کے آگے مجھے وہ نفرت یاد آ جاتی جو آنی دن با دن مجھ میں بھرتی تھی۔۔۔۔
میں نے تبھی تمہارے ساتھ یہ سکون کیا ۔۔۔
م۔میں معافی بھی مانگو تو کم ہے جنت ت۔تم مجھے کوئ بھی سزا دو میرے لیے کم ہو گی۔۔۔
سفان پھوٹ پھوٹ کر روتا اپنا سر اس کے پاٶں پر رکھتا بولا تھا۔۔۔۔
ایس۔ایسے تو مت کرو سفان میں سمجھ گی تھی کوئ تو وجہ تھی جو تم بنے ورنہ بچپن میں ایسے بلکل نہیں تھے ۔۔۔
میں نے تمہیں پہلے ہی معاف کر دیا اب مجھے شرمندہ مت کرو۔۔۔۔
جنت اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتی بولی تھی جو ہچکیاں لیتا رو رہا تھا۔۔۔۔
ت
تم نے واقعی معاف کر دیا کیا م۔ی ۔میں ماما سے بھی معافی مانگ لو گا جنت ۔۔۔
سفان اسے ہگ کیے بولا تھا۔۔۔۔
سب بھول جاٶ ماما کو کچھ مت بتانا ہم اپنی زندگی کی شروعات کرتے ہے میں اپنی باقی کی زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتی ہو۔۔۔۔
جنت اس کی آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
م۔میں بہت محبت کرتا ہو تم سے بلکہ عشق ہو تم میرا جنت لو یو سو مچ ۔۔۔
سفان جنت کے گال چومتا خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔
سالوں کا غبار اس کے دل سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
لو یو ٹو میری جان ۔۔۔
جنت بھی خوش ہوتی اسے ہگ کیے بولی تھی۔۔۔
میں تمہیں کوئ دکھ نہیں دو گا اب وعدہ۔۔۔
سفان دوبارہ روتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اففف پاگل انسان یہ چھوڑو یہ بتاٶ چوٹ کیسے آی تھی۔۔۔۔
جنت اس کا ذہین بدلتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
یہ بعد میں بتاٶ گا پہلے ایک کس دو۔۔۔۔
سفان بھی بات چینج کرتا اس کے لبوں کو سہلاتا بولا تھا۔۔۔۔
اہہہہ میرا بچہ ابھی کون رو ر۔۔۔۔
جنت اس سے دور ہوتی مذاق بناتی بول رہی تھی جب سفان اسے بیڈ پر گراے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔
جنت مسکرای تھی اس کی حرکت پر ۔۔۔
————————————————————
یس سر بس کچھ دن پھر ہم اپنا فرض ضرور نبھاۓ گے ۔۔۔
سفان اپنے روم میں کھڑا کیسے سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔
جی سر ہم ریڈی ہے آپ بس آڈر کرے دشمنوں پر ہم حملہ کرنے کو تیار ہو جاۓ گے ہماری آرمی فورس اپنے وطن کو بچانے کے لیے کچھ بھی کر جاۓ گی ہم اپنی جان بھی دینے کو تیار ہے ۔۔۔
جنت روم میں آی تھی جب بیڈ پر سامان اور سفان کی بات سنتی وہی شوک ہوی تھی۔۔۔۔
س۔۔۔۔
تم آرمی میں ہو سفانننننن۔۔۔۔
سفان سردمہری سے بول رہا تھا جب جنت طش سے چلائ تھی۔۔۔۔
جنت جنت میری بات سنو ا۔۔۔
ی۔یہ سب کیا ہے سفان۔۔۔
سفان جنت کی آواز سنتا جلدی سے کال کٹ کرتا اس کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔
جہاں بیڈ پر اس کی یونفارم بمب چاقو گنز رکھے ہوۓ تھے۔۔۔۔
ہاں میں روحان سبحان ہم تینوں آرمی آفسرز ہے ۔۔۔
میں تمہیں بتانے و۔۔۔۔
نفرت ہے مجھے آرمی والوں سے سنا تم نے ۔۔
سفان بول رہا تھا ۔۔
جب وہ زور و شور سے چلائ تھی۔۔
جبکہ رونے سے اس کی آنکھوں سے آنسو اور اس کا نازک جسم کانپ رہا تھا ۔۔۔
کیونکہ شدید غصے سے جنت کی طیبعت خراب ہو رہی تھی اب ۔۔۔
دیکھو میری جان ساری آرمی ایسی نہیں ہ۔۔۔
۔ت۔تم جانتے ہو اس کے۔سا۔تھ کیا ۔ہو۔ہوا ۔تھا۔
پھر۔بھ۔۔
ر۔روحی چلی گی ان آرمی والوں کی وجہ سے ۔۔
سفان نرمی سے اسے بتا رہا تھا ۔۔
جب وہ گہرے گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔
کیسے دیکھ لیتا اپنے عشق کو اتنے درد میں جیسے وہ بچپن سے ہی چاہتا تھا ۔۔۔
ت۔تم ۔ سے۔ب۔بھی نفرت ہے م۔مجھے۔۔۔
وہ اسے خاموش دیکھتی روتے ہوۓ کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ شدید غم میں وہی بیٹھ چکا تھا جانتا تھا وہ معصوم لڑکی کیوں آرمی والوں سے نفرت کرتی تھی ۔۔۔
افففف یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔
سفان اب افسوس کرتا سوچ رہا تھا۔۔۔۔
