Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love By Rania Mehar Readelle50322 Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 6)

192.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se "Season 2" Ishq Wala Love (Episode 6)

Meri Ashiqui Tum Se “Season 2” Ishq Wala Love By Rania Mehar

بلال اب طش میں آتا سیڑھیاں چڑتا ہوا اوپر جا رہا تھا ۔۔

جبکہ سارے ملازم کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے ۔۔۔۔

جبکہ دانین ان سب سے بے خبر نڈھال سی زمین پر بے ہوش ہوئ تھی ۔۔۔

کیونکہ کبھی اس نے اتنے برتن نہیں دھوۓ تھے ۔۔۔

زرمینا کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

اب وہ خوش تھی دانین کو کوئ نہیں بچا سکتا تھا ۔۔۔

بلال کے غصے سے ۔۔۔

ت۔۔۔۔

بلال خان جیسے ہی اندر آتا طش سے بولنے والا تھا تبھی وہ شوک ہوتا چپ ہوا تھا ۔۔۔

افشاں رام کاکا جلدی آٶ۔۔۔۔

بلال جلدی سے بے ہوش ہوئ دانین کو باہوں میں بھرتا اپنے روم کی طرف بھاگتا چلایا تھا ۔۔۔

ج۔جی بڑے خان ج۔۔۔۔

جلدی سے ڈاکٹر کو بلاٶ۔۔۔

رام کاکا اندر آتے بولے تھے جب بلال دھاڑا تھا ۔۔۔

جی اچھا۔۔۔

رام کاکا چہرے جھکاۓ باہر چلے گے تھے ۔۔۔

کس کی بچی ہے یہ کتنی معصوم ہے اتنی دفعہ ملازموں کو کہا کام پر ساتھ مت لے کر آیا کرے ۔۔۔

بلال مسلسل پریشان ہوتا چکر کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

دانین بے ہوش اس کے بیڈ پر پڑی تھی ۔۔۔

وہ نہیں جانتا تھا دانین ہی اس کی بیوی تھی ۔۔۔

پریشان نہ ہو خان جی بس کھانا نہ کھانے کی وجہ سے بے ہوش ہو گی ویسے بھی خیال رکھے کافی ویک ہے ۔۔۔

لیڈی ڈاکٹر دانین کا چیک اپ کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہممم جاٶ۔۔۔

افشاں جاٶ گرم دودھ لے کر آٶ ساتھ سنیڈوچ لے کر آٶ ۔۔۔

بلال نیا حکم دیتا بولا تھا ۔۔۔

پتہ نہیں کیوں لوگ معصوم بچیوں پر اتنا ظلم کرتے ہے ۔۔۔

بلال وہی بیڈ پر فکر مند ہوت بولا تھا ۔۔۔

اسے نفرت تھی یہ رسم و راوج پر خون بہا سسٹم چھوٹی ایج میں نکاح کرنا ۔۔۔باپ بھای شوہر کے ہر گناہ کی سزا اس کی ماں بہن بیوی پوری کرتی تھی ۔۔۔

وہ اپنے گاٶں کا یہ نظام چینج کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

بتانا چاہتا تھا عورت کے لیے تعلیم کتنی ضروری ہے ۔۔۔

عورت کا بھی حق ہے ہر کام میں حصہ لینے کا۔۔۔

تبھی وہ ایک ساتھ پہلے غصہ سے گاٶں چھوڑ کر باہر امریکہ چلا گیا تھا۔۔۔

اسے پتہ تھا اس کی شادی ایک خون بہا لڑکی کے ساتھ کر دی لیکن آج تک اس نے دانین کی شکل نہیں دیکھی تھی ۔۔۔

تبھی اپنی ہی بیوی کو کسی اور کی بچی سمجھ رہا تھا

————————————————————

ہاہاہہاہااہاہااہاہاہہا۔۔۔

بیٹا ایسا تو نہیں کرتے ماما ہو میں تمہاری ۔۔۔

آذان گہری نیند سو رہا تھا جب اسے صبح حجاب کا قہقہ گونجتا ہوا سنائ دیا ۔۔

تبھی وہ اپنی آدھ کھلی آنکھ سے سامنے کا منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

جہاں بھیگے بال جو کمر سے چپکے ہوۓ تھے صاف شفاف خوبصورت چہرہ سرخ پھولے گال وہ مگن سی شجرت کو پکڑے کھڑی تھی ۔۔۔

جو شیشے کے سامنے کرسی پر شجرت کو کھڑے کیے شرٹ پہنا رہی تھی ۔۔۔

جبکہ شجرت اپنی ننھی انگلیاں اس کی گردن پر چلا رہی تھی تبھی وہ قہقہ لگا رہی تھی ۔۔۔

دیکھو سیم سیم ڈرایسنگ ہو گی ما۔۔۔۔

حجاب اسے اپنے جیسا ڈریس پہناۓ اسے گود میں آٹھاتی بول رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر آذان کے ٹھنڈے ہاتھ محسوس ہوۓ تھے ۔۔۔

سامنے کا منظر دیکھتے آذان بے خیالی میں اٹھتا حجاب کو پیچھے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔۔

دیکھو بابا آ گے تمہارے۔۔۔

حجاب اس کے ہاتھ خود سے دور کرتی اپنی دھڑکن کو سبنھالتی اپنا رخ آذان کی طرف کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہ۔ہا۔ہاں آو بیٹا بابا کے پاس۔۔۔

آذان بھی ہوش میں آتا گھبراتا جلدی سے شجرت کو پکڑے بولا تھا۔۔۔۔

اچھا ہوا تم پکڑو میں ماما کے پاس جا رہی انھوں نے پراٹھے بناۓ ہے ۔۔۔

حجاب جلدی سے سرخ چہرہ لیتی کہتی روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

س۔سر زینیہ میم آئ ہے ۔۔۔

روحان اپنے روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب ملازمہ اندر آتی ڈرتے بولی تھی ۔۔۔

تو پوچھنے والی کیا بات تھی خیر بھیجو۔۔۔

روحان اسے گھورتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہاۓ صبح صبح کام ۔۔۔

زینیہ چہکتی ہوئ اندر آتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں حجاب کے ولمیے کے ساتھ باربی کے لیے پارٹی رکھی ہے بس اتنی کی تیاری تم بتاٶ صبح کیوں آ گی آنی نے گھر سے باہر نکال دیا کیا۔۔۔

روحان اسے جم سوٹ میں ملبوس دیکھتا بولا تھا۔۔۔

ہاہااہاہااہاہااہاہا جو کام میں کرنے جا رہی ماما تو پکا مجھے نکالے گی ۔۔۔

زینیہ قہقہ لگاتی اس کے پاس جاتی بولی تھی ۔۔۔

خطرہ ہے ت۔۔۔

جہاں تم جیسے بھائ ہو وہاں خطرے بھی کم پڑتے ہے کچھ نہیں ہوتا ہاں بس یہ ایس پی کو کہنا کنٹرول میں رہے ۔۔۔

روحان بول رہا تھا جب زینیہ سکون سے بات کاٹتی بولی ۔۔۔

کچھ نہیں کہے گا وہ۔۔۔

روحان جانتا تھا زینیہ عمار کی بات کر رہی تھی ۔۔۔

تبھی وہ سکون سے دو ٹوک بولا تھا۔۔

اچھا بتاٶ ت۔۔۔

اچھا جا رہی ہو کھڑوس کہی گا انہہ۔۔۔۔

زینیہ بول رہی تھی

جب روحان کی گھوری دیکھتی منہ بناتی باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ سب جانتے تھے وہ اتنا ہی بولتا تھا جیتنا اسے کام ہوتا تھا فضول بات کرنا اسے پسند نہ تھا۔۔۔۔

————————————————————

ارے میری پنک روز یہ لے کافی پیے ۔۔۔

روحان روحا کے پاس ہال میں آتا پیار سے بولا تھا ۔۔۔

جانتا تھا ہارون کے جانے پر وہ خاموش ہو گی تھی سب جان گے تھے غصہ میں وہ چپ کر جاتی تھی ۔۔۔

جاٶ یہاں سے تم باپ بیٹا مجھ سے پیار نہیں کرتے اگر کرتے تو مجھے بتا دیتے ۔۔۔

لیکن نہیں بوڑھی ہو گی ت۔۔۔۔

کہاں سے بوڑھی ہوئ ہاے اگر میں بیٹا نہ ہوتا تو پکا شادی کرتا آپ سے پنک روز۔۔۔

روحا اسی کے سینے پر سر رکھے روٹھتے ہوۓ بول رہی تھی جب روحان مذاق کرتا بولا تھا۔۔۔

بدمعاش ہو گے تم۔۔۔

روحا اسے مکہ مارتی بولی تھی ۔۔۔

یہ غلط بات ہے یار صرف ماما کے لیے پیار آنی کے لیے کچھ نہیں ۔۔۔

حنین اور زیان ہال میں انٹر ہوۓ تھے تبھی حنین روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

ارے آنی آپ کو کیسے بھول سکتا ہو ۔۔۔

روحان جلدی سے ان کے گلے لگتے بولا تھا۔۔۔

ہاں بس کرو جیسی ماں ہے ویسی اولاد۔۔۔

حنین روحا کے گلے لگتی بولی تھی ۔۔۔

کیا بے بی گرل میں نے کچھ کہا۔۔۔

روحا جلدی سے پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

اففف دیکھا بس سب کا خیال رکھنا اپنا نہیں ٹیشن مت لے ہارون بھائ آ جاۓ گے پھر مل کر پٹائ کرے گے ۔۔۔

حنین روحا کے گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

حنین کی جان بستی تھی اپنی ماں جیسی بہن میں کیسے روحا اس کا خیال رکھتی تھی اولاد بڑی ہونے کے باجود ان دونوں کی محبت ایسی ہی تھی ۔۔۔

چلے آئ جی سر اجازت ہو میں اپنی آنی کو ساتھ لے جاٶ۔۔۔

روحان زیان سے اجازت لیتے بولا تھا۔۔۔

لے جاٶ مجھے بھی سکون آۓ گا۔۔۔

زیان مسکراتے بولے تھے ۔۔۔

اہہہہ سکون مطلب میں تنگ کرتی آپ کو اب پکا نہیں آٶ گی یہاں۔انہہ۔۔

حنین برا سا منہ بناۓ کہتی روحان کا ہاتھ پکڑتی ہال سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔

و۔وہ زیان بھائ ہانی بس ای۔۔۔

ارے چھوڑے آپو شکر ہے چلی گی آپ ایسا کرے مجھے اپنے ہاتھوں کے آلو والے پراٹھے بنا کر کھلاۓ ورنہ ہانی کھانے نہیں دیتی ۔۔۔

روحا جلدی سے پریشان ہوتی زیان کی طرف دیکھتی بول رہی تھی تبھی زیان سکون سے بات کاٹتا بولا تھا۔۔۔۔

حنین زیان کو ہیوی کھانا نہیں کھانے دیتی تھی اس کے حساب سے ہیوی کھانا کھانے سے وہ موٹا ہو جاۓ گے۔۔۔

تبھی زیان ہر دفعہ چوری چوری روحا سے کہا کر ایسے کھانے کھا لیتے تھے ۔۔

———————————————————–

ارے ارے بچہ روکو آرام سے اٹھو۔۔۔

دانین کو صبح ہوش میں آتے دیکھ بلال جلدی سے اس کے قریب بیٹھتا بولا تھا۔۔۔

وہ ساری رات وہی بیٹھا رہا تھا۔۔۔

ب۔بڑے خان۔جی۔۔۔

دانین ڈرتے ہوۓ بلال کی نیلی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ڈرنے کی ضرورت نہیں میں تمہارے گھر چھوڑ دیتا ہو ۔۔۔

بلال اسے پرسکون کرتا بولا تھا۔۔۔

ہاےےے سچی مطلب میں اپنی ماما کے پاس جا سکتی ہو ۔۔

پر دارجی نے کہا تھا خون بہا میں آئ لڑکی بس قید میں رہے گی ۔۔

دانین پہلے خوش ہوتی بیڈ پر کھڑی ناچتی ہوئ بولی تھی لیکن دار جی کی بات یاد کرتے اداس ہوتے بولی تھی ۔۔۔

م۔مطلب۔۔۔

چوبیس سال کا نوجوان بلال خان پہلی دفعہ ہکلایا تھا ۔۔

اس کا دل زور زور سے دھڑکا تھا کہ سب کو عورت کا حقوق بتانے والا خود کسی عورت پر ظلم نہ کر دے ۔۔۔

آپ شوہر میرے میں بیوی آپ کی ۔۔۔

دانین مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

م۔مطلب۔اچھا۔۔۔

بلال خود پر قابو پاتے بامشکل سکون میں آتا بولا تھا ۔۔

اسے دارجی سے بات کرنی تھی ہر حال میں ۔۔۔

لیکن اس سے پہلے اسے دانین کو خوش رہنا تھا وہ معصوم سی لڑکی اس کی بیوی تھی اب۔۔۔

اچھا چھوڑو یہ بتاٶ تمہیں میں کیسا لگا۔۔۔۔

بلال اب دانین کی طرح بچہ بنتا اس کے اور قریب بیٹھتے بولا تھا۔۔۔

کیونکہ وہ جانتا تھا خون بہا میں آئ لڑکی کے ساتھ کیا کچھ ہوتا تھا وہ کیا کچھ سہتی ہے۔۔

تبھی وہ اس کے ننھے سے دماغ کی حفاظت کر رہا تھا تاکہ آگے جا کر وہ ویسی نہ بن جاۓ جیسی اس کی ماں بن چکی تھی۔۔۔

لک۔ل۔۔۔

ہم اچھے والے دوست ہے آج سے جو تمہارا دل کرے تو مجھ سے شئیر کر سکتی ہو بلکل دوست سمجھ کر اب بتاٶ میں کیسا لگا۔۔۔

دانین گھبراتی بول رہی تھی جب بلال بات کاٹتا بولا تھا۔۔۔

آپ بہت پیارے ہے آپ جانتے ہے میرے بابا جیسے ہے بابا بلکل ایسی محبت کرتے تھے دوست بن کر اور بلاج بھائ بھی ایسے تھے بس دور ہو گے مجھے سارے یاد آتے ہے ۔۔۔

آپ جانتے ہے پلوشہ آپو میرا خیال رکھتی تھی ماما کی طرح ۔۔۔

دانین کے دماغ میں جیسے ہی یہ بات پڑی بلال خان اس کا دوست بھی ہے تبھی اپنے دل کا ہر غم بتانے کے لیے اس کی گود میں آتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔

نرم ملائم لمس نازک جسم خوبصورت بیوی کا احساس ہوتے ایک پل کے لیے بلال خان کا دل دھڑکا تھا۔۔۔

لیکن اپنی حالت پر قابو پاتے وہ جلدی سے اسے کمر سے پکڑے اس کی ساری باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔

مجھے ماما کے پاس جانا آپ لے جاۓ گے ۔۔۔

دانین آنسو بہاتی بولی تھی ۔۔۔

ضرور میری جان ہم جلدی جاۓ گے پہلے اپنا خیال رکھو۔۔

بلال کے منہ سے بے دھیانی سے یہ لفظ ادا ہوۓ تھے۔۔۔

ہاےےے سچی۔۔۔

دانین کا ذہین بچہ تھا تبھی بلال کی بات پر اتنا گھور نہ کرتی وہ اس کا گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

بلال کے گال پر ڈمپل پڑا تھا مسکراتے ہوۓ ۔۔۔

———————————————————

بہت برے آپ ہارون۔۔۔

رات کو روحا ہارون سے فون پر بات کرتی روٹھے لہجے سے بولی تھی ۔۔۔

بے شرم بھی ہو یہ بھی کہو۔۔۔

ہارون مسکراہٹ روکے بولے تھے۔۔۔

ہاں سب ہے آپ پاکستان آۓ دیکھنا میں نے بات ہی نہیں کرنی بس بات ختم۔۔۔

روحا ان کی پرسکون والی حالت دیکھ جلتے ہوۓ کہتی فون بند کر چکی تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہا میری پنک روز۔۔۔

ہارون خان قہقہ لگاتے اب سکون سے بیڈ پر لیٹتے بولے تھے۔۔۔

————————————————————

آذان ہلیپ کرنا پلیز۔۔

حجاب ولیمے کے لیے ڈریس پہن رہی تھی جب اسے اپنی پیچ کلر کی مکیسی کی بیک زپ بند نہیں ہوئ تبھی تیار ہوتے آذان کو اندر آتے دیکھ وہ بولی تھی۔۔۔

بالوں کو کرل کیے ہلکے میک اپ خوبصورت چہرے کو اور زیادہ نکھار رہا تھا جبکہ سرخ پھولے گال آذان کو زیادہ متوجہ کرتے تھے ۔۔۔

کم کھایا کرو موٹی اب پھس گی زپ ۔۔۔

آذان اس کی حالت دیکھتا مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔

کیونکہ حجاب ابھی بھی چاکلیٹ کھا رہی تھی ۔۔۔

تم بھی کھا لو پتلے سوکھے ڈنڈے۔۔۔۔

حجاب برا سا منہ بناتی بولی تھی ۔۔

اچھا سانس روکو اپنی ۔۔۔

آذان اس کے پیچھے آتا بولا تھا۔۔۔

ایسے تو مر جاٶ گی میں ۔۔۔

حجاب معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

یار پھر چینج کر لو۔۔۔

آذان سے جب زپ بند نہ ہوئ تبھی اکتاۓ لہجے سے بولا تھا ۔۔

یہ قصور تمہارا ہے جانتے تھے میرا سائز ایسا نہیں ہے دیکھو کتنی تنگ ہے ۔۔۔

حجاب اب غصے سے گھورتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں تو میں نے علیشبہ کے حساب سے دیا تھا سائز وہ ایسی م۔۔۔۔

آذان جلدی سے بولتے اچانک روک چکا تھا۔۔۔

تم سے نہیں ہونا میں عمارہ ماما کی پہن لیتی ہو۔۔۔

حجاب اب سرخ چہرہ لیتی باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔

وہی آذان بھی شرمندہ ہوتا خود بھی باہر آیا تھا۔۔۔

————————————————————

بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔

سب ہال میں اسیٹچ پر کھڑے تھے جب سبحان حجاب سے ملتا اس کا ماتھا چومتا بولا تھا۔۔۔

ہاے سچی مجھے بہت خوشی ہوئ ۔۔

حجاب نے عمارہ کی مکیسی پہنی تھی جو اس نے اپنے ولیمے پر پہنی تھی ۔۔۔

تبھی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

کہاں خوبصورت ہو مجھے زرا پسند نہیں آئ ۔۔۔

روحان بلیک تھری پیس پہنے اپنی وجہہ پرسنلیٹی لے اسیٹچ پر آتا سردپن سے بولا تھا۔۔۔

روحان کو دیکھ کر سبحان عمار بلاج آذان سب کا منہ کھولا رہا گیا تھا۔۔۔

میں زیادہ پیاری ہو۔۔۔

حجاب اپنے قریب آتے روحان کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

خوش ہے میری بہن۔۔۔

روحان اس کے سر پر ہاتھ رکھتے پیار سے بولا تھا۔۔

بہتتتتت۔۔۔

حجاب نظریں جھکاۓ بولی تھی ۔۔

جس دن آذان نے تکلیف دی مجھے بتانا ایک ہی گن سے شوٹ کرے گے اس کو ۔۔۔

روحان حجاب کے کان میں سر گوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

وہ جان گیا تھا حجاب نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔

تم کب آۓ۔۔

سارے اس کے گلے لگتے خوشی سے بولے تھے ۔۔

کل آیا تھا سوچا تم سب پر بمب گراٶ ۔۔۔

روحان سب سے ملتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ارے میں گفٹ دینا بھول گیا۔۔۔

روحان جلدی سے اپنی پاکٹ سے بوکس نکالتا بولا تھا۔۔۔

ہاے کتنی پیاری سپون ہے ۔۔۔

حجاب وہی گفٹ بوکس کھولتی بولی تھی ۔۔۔

جو ایک بڑی خوبصورت سپون تھی جس پر ڈائمنڈز سے ایج لکھا تھا۔۔۔

ہاہاہااہاہااہاہاہااہاہا مجھے پہلے ہی پتہ تھا روحان الگ ہی گفٹ دے گا ۔۔۔

سبحان قہقہ لگاتا روحان کے گلے بولا تھا۔۔۔

ظاہر سی بات ہے انسان کو وہی گفٹ دینا چاہے جو اسے پسند ہو سب جانتے ہے کھانا حجاب کو کتنا پسند ہے بس اس لیے یہ سپون دی آج سے یہی یوز کرنا ۔۔۔

روحان دوبارہ حجاب کے سر پر ہاتھ رکھے بولا تھا۔۔۔

سب خوش تھے سواۓ عمار اور جنت ۔۔

عمار روحان کی وجہ سے تو جنت سبحان کی وجہ سے خوش نہیں تھے ۔۔۔

————————————————————

ہاے بیوٹی فل لیڈیز ۔۔۔

روحان اب نسرین بیگم اور تنزیلہ بیگم کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔

روحان میرا بچہ۔۔۔

دونوں حیران ہوتی اس کے گلے لگی بولی تھی ۔۔۔

بس کرے سارے دیکھ رہے ایک معصوم بچے کی عزت پر ہاتھ ڈال رہی ۔۔۔

روحان ان دونوں کو ویسے ہی گلے لگاۓ موڈ ٹھیک کرتا بولا تھا۔۔۔

جانتا تھا سب کی حالت کیسی ہوئ ہے آج روحان کو دیکھ کر ۔۔۔

میں کیسی لگ رہی ۔۔۔

جنت بھی سیم روحان جیسی ڈریسنگ کرتی

آتی بولی تھی ۔۔۔

میک اپ کے نام پر صرف پنک لوس لگایا تھا اس نے ۔۔۔

زرا پیاری نہیں جیسی بھوتنی ہو ۔۔۔

تم سے پیاری تو نانو اور دادو ہے ۔۔۔

روحان جنت کی ناک کھیچتا ہوا بولا تھا ۔۔

رک زرا ابھی بتاتی ہو۔۔۔

جنت غصے میں آتی روحان کو کمر سے پکڑے بولی تھی ۔۔۔۔

اتنا بھی کمزور نہیں ہو اچھا روحان ہارون خان نام ہے میرا۔۔۔

اس سے پہلے جنت اپنی ٹانگ گھوما کر روحان کی ٹانگوں کو لاک کرتی گراتی جب روحان اسے اٹھاتے اپنے شولڈر پر ڈال چکا تھا۔۔۔۔

ہاے دیکھو کیسا زمانہ آ گیا ہے بے شرمی کی بھی حد ہے ۔۔۔۔

یہ روحا کی بیٹی کیسے سرے عام کسی انجان لڑکے کے شولڈر پر لٹک رہی ہے ۔۔۔

افففف ایک بیٹی نے کیا کم ذلیل کروایا ہارون خان کو جو یہ بھی ایسا کرنے لگ گی ۔۔۔

روحا اسیٹچ سے اترتی نیچے آی تھی جب پاس ٹیبل کے قریب بیٹھی عورت دوسری کو سامنے کا منظر دیکھاتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں روحان ابھی بھی جنت کو شولڈر پر ڈالے سب سے مل رہا تھا جبکہ جنت بھی سکون سے سب سے ایسے ہی مل رہی تھی ۔۔۔۔

مہمانوں میں سے کوئ نہیں جانتا تھا ہارون خان کا بیٹا روحان خان آ چکا ہے نہ ہی کسی نے آج تک اسے دیکھا تھا۔۔

آ۔آپ کو شرم آنی چاہے ای۔۔۔۔

شرم ہمیں نہیں تمہیں آنی چاہے اپنی بیٹی کو ہنیڈل کرو کیسے جوان لڑکے کے ساتھ چپک رہی ہے ۔۔۔

روحا ان کے پاس جاتی بول رہی تھی جبھی وہ عورت بات کاٹتی غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

اووو ہیلو ازیکسومی آنٹی پہلے اپنا گربیان چیک کرے پھر میرے ماما کو کچھ کہنا سمجھ آئ ۔۔۔

جنت اور روحان جلدی سے ان کے پاس آۓ تھے تبھی جنت اپنی پاکٹ سے گن نکالتی اس عورت کے ماتھے پر رکھتی غرای تھی ۔۔

دیکھا اپنی بیٹی کو کیسے غنڈہ بنا کر رکھا توبہ توبہ ا۔۔۔۔

بس بہت ہوا آنٹی لحاظ کر رہے اس کا مطلب یہ نہیں آپ کچھ بھی بولے ۔۔۔

وہ عورت ڈرتی بول رہی تھی جب روحان شدید غصے میں آتا غرایا تھا۔۔۔۔

اسیٹچ سے سب نیچے آ چکے تھے۔۔۔

میں کچھ غلط نہیں کہہ رہی جو سنا وہی کہا روحاب کم عمر لڑکی ہو کر سکول سے بھاگ گ۔۔۔۔۔

بھاگی نہیں تھی وہ سمجھی کڈنیپ ہو چکی ہے وہ اپنی بیٹی کے بارے میں کیا کہتی ہے ۔۔۔

جو پرسوں اپنے کلاس فلیو کے ساتھ بھاگ گی امریکہ اسے بھی روکتی آپ۔۔۔

عورت بول رہی تھی جب جنت دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔

وہی عورت گھبرائ تھی۔۔۔

نہ۔نہیں ۔نہیں وہ بس گھو۔۔۔

بس کرے پہلے اپنا گھر ہنیڈل کرے آپ بعد میں ہمارے لیے سوچنا ۔۔

آپ جیسے گندے لوگ ہوتے ہے جو بہن بھائ کا پاک رشتہ بھی گندہ کرتے ہے جس لڑکے کو اتنا بول رہی جانتی بھی ہے جس کمپنی میں آپ کا شوہر کام کر رہا وہاں کا اونر ہے یہ ۔۔۔

آر ایج کے ۔۔۔

جنت ہارون خان کا بھای ۔۔۔

سمجھی آپ جاۓ اپنا گندہ دماغ صاف کرے اور ہو سکے تو بیٹی کا بھی پوچھ لینا ۔۔۔

اپنی بیٹی کے لیے کچھ بھی جھوٹ بول رہی دوسروں کی بیٹیوں کے لیے آرام سے زہر اگل رہی ۔۔۔

جاۓ یہاں سے ۔۔۔

جنت شدید غصے میں آتی چلائ تھی ۔۔۔

س۔سر۔۔۔

سن نہیں رہا جنت نے کہا جاٶ تو جاٶ۔۔۔۔

وہ عورت اب روحان کی طرف دیکھتی ڈرتے بول رہی تھی جب روحان شدید غصے پر کنٹرول کرتا دو ٹوک بولا تھا۔۔۔۔

میری روحاب ایسی نہیں روحان یہ سب ایسی باتیں کرتے ہ۔۔۔

شششش ماما ہمیں پتہ روحی ایسی نہیں تھی آۓ گھر چلتے ہے ہم ۔۔۔

روحا مسلسل روتی بول رہی تھی جب روحان ان کو سینے سے لگاۓ بولا تھا۔۔۔

اس کا دل کر رہا تھا ابھی اس عورت کو گولی مار دے جس کی وجہ سے اس کی ماں روی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا بات ہے اس جگہ کی جہاں ہر لڑکا بے تابی سے اندر جا رہے تھے ۔۔۔

شانی ایک لڑکے سے ملتا رات کے اندھیرے روپ بدلتا ہوا کوٹھے پر آیا تھا۔۔۔

تبھی اتنا رش دیکھتا وہ حیران ہوتا بولا تھا۔۔

عیجب کوٹھا ہے یار یہ اس کی جو مالکن ہے وہ خواجہ سرا ہے اور یہاں ہر لڑکی اپنی مرضی سے آتی ہے اگر دل کرے تو واپس جا سکتی ہے ۔۔۔

سب سے بڑی بات اس مالکن کی بیٹی ہے جو کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا ۔۔

اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سب لڑکے روز بے تاب ہوتے آتے ہے ۔۔۔

جبکہ وہ لڑکی اپنی مرضی سے لڑکا چنتی ہے ۔۔

مطلب یہاں لڑکے کی مرضی نہیں لڑکی کی ہوتی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رات گزارنا چاہتی ہے ۔۔۔

شانی ساری بات سنتا حیران ہوتا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں ایسا ہی چل اندر چلتے ہے۔۔۔

اس کا ساتھی اندر جاتا بولا تھا۔۔۔

————————————————————

بہارے تم باہر جاٶ گی ۔۔

اماں بہارے کو پینٹ شرٹ پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے چہرے پر ماسک لگاۓ کھڑی تھی جب وہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جانتی تھی عرصے بعد بہارے اپنے دل کا غبار نکالنے والی تھی ۔۔۔

اماں جانے دے آج تو سب کو پتہ ہونا چاہے بہارے کیا چیز ہے ۔۔۔

بہارے سرخ آنکھیں لے دانت پیستی ہوئ بولتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔

دیوانے رک جا تیرا ہم سے سامنا ہے “

“آنکھوں سے چھولے چھونا ہاتھوں سے منع ہے“😍

“خواب میں جو آے جاۓ یار ہم وہی ہے “

“ہم کسی کو آسانی سے مانے ہی نہیں ہے “😍

“تیرے بن شام ہے بے نظارہ تیرے بن عشق ہے بے سہارا ””

“عاشق بنایا عاشق بنایا “😍😍

شانی جیسے ہی اندر آیا تبھی رنگ برنگے کپڑے پہنے کافی لڑکیاں ڈانس کر رہی تھی ۔۔۔

وہ باقی لڑکوں کی طرح ایک سائیڈ لگے صوفے پر سکون سے بیٹھ گیا تھا ۔۔

جبکہ اس کی شیشے جیسی سنہری آنکھیں بڑی گہری نظروں سے سب جگہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ارے آۓ بہارے آپی ۔۔۔

گل جلدی سے ناچتی اپنے پاس آتی بہارے کو دیکھتے بولی تھی ۔۔۔

ہاں ضرور ایسی کام کے لیے تو آئ میں ۔۔

بہارے مسکراتی ہوئ ان سب کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔

جیسے ہی سب کو پتہ چلا مالکن کی بیٹی خود یہاں آئ تبھی سب نشے سے چور لڑکوں نے ہوئٹنگ کی تھی ۔۔۔

شانی بس مسلسل سانس روکے سامنے کھڑی بہارے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

جو سکون سے کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔

کافی لائٹس کی وجہ سے بہارے کی ڈراک براٶن آنکھیں چمک رہی تھی ۔۔۔

اس سے پہلے بہارے اب واپس اپنے روم میں جاتی جب کسی نے اسے کمر سے پکڑا تھا۔۔۔

چٹاخخخ۔۔۔

بہارے اس لڑکے کی ہمت چیک کرتی اس کے گال پر تپھڑ مارا تھا۔۔۔

وہ شوک تھی آج تک کسی مرد نے اسے چھوا نہیں تھا اس کی اجازت کے بنا اور یہ لڑکا۔۔۔

ت۔م۔تم نے شاہ میر کو۔تپھڑ مارا۔۔۔

شاہ میر نام کا لڑکا نشے سے جھولتا زمین پر گرے بولا تھا۔۔۔

ہاں مارا کیا کرو گے تم جیسوں کی اوقات ہے ہی کیا۔۔۔

بہارے غصے سے غراتی بولی تھی ۔۔

وہی شانی ہکا بکا کھڑا ہو چکا تھا بہارے کی آواز سن کر۔۔۔

اماں بھی اپنے روم سے باہر آتی تماشہ دیکھنے لگ گی تھی ۔۔

انہیں پتہ تھا بہارے ایسا ہی کرتی تھی ۔۔

ایک طوائف ہو کر اتنے نخرے۔۔۔۔۔”

شاہ میر اٹھ کر اس کی کلائ پکڑتا استہزائیہ ہنستے بولا تھا۔۔۔

“تو تمہیں کس نے کہا تھا ایک طوائف کے قدموں میں پڑتے ۔۔۔

بہارے اسے گھورتی ہوئی بولی۔

صاف طنز تھا جب شاہ میر اس کے قدموں میں گرا تھا۔۔۔

“تم جیسی طوائفیں شاہ کے پیروں میں رُلتی ہیں۔۔۔۔۔۔”

غرور سے لبریز شاہ میر کا انداز جتانے والا تھا۔

بہارے کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئ تھی ۔۔

لیکن ماسک کی وجہ سے کسی کو دیکھائ نہیں دی۔۔۔

“اور ہم جیسوں کو تم جیسے شاہ ہی طائف بناتے ہیں۔۔۔۔۔”

بہارے اسے دیکھتی سکون سے بولی تھی ۔۔

کیا بکواس ہے اتنی بھی تم لوگ صاف شفاف نہیں ہوتی سارا الزام ہم مردوں پر ڈال رہی ہو۔۔۔

شاہ میر غرایا تھا۔۔

“تم جیسے حوس پرست مردوں کی خاطر ہم جیسوں کو طوائف بننا پڑتا ہے شر ہمارے اندر نہیں تمہارے اندر ہے تمہارے باعث نجانے کتنی لڑکیوں کو اپنی عزت کا جنازہ نکالنا پڑتا ہے۔۔

بہارے بھی شدید غصے سے اس کا گریبان پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں تم جیسوں کی اوقات کیا ہے دو ٹھکے کی عورتیں پیس۔۔۔۔

بہت بول لیا اور میں نے سن لیا اب میں تمہیں تمہاری اوقات دیکھاٶ گی ۔۔

شاہ میر اسے گہری نظروں سے گھورتا بول رہا تھا جب بہارے اپنی پینٹ سے بلٹ نکالتی اس کی کمر پر مارتی بولی تھی ۔۔۔۔

جہاں اتنا شور تھا اب صرف بہارے کی بلٹ مارنے اور شاہ میر کی چیخے سنائ دے رہی تھی ۔۔۔۔

شانی یہ سارا منظر دیکھتا خوش ہوا تھا۔۔۔

اٹھاٶ اس کو پھیک کر آٶ گندے نالے میں ۔۔

ہر عورت کمزور نہیں ہوتی نہ ہی ہر لڑکی طوائف شوق سے بنتی ہے ۔۔۔

تم جیسے مردوں کا قصور ہے سارا۔۔۔

شاہ میر پر سارا غصہ نکالتی بہارے اس کے خون سے لت پت جسم پر آخری لات مارتی اس کے ساتھیوں کی طرف دیکھتی کہتی وہاں سے واک آٶٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

میں ناراض ہو۔۔۔

روحا ہارون سے فون پر بات کرتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

جب صبح تمہارے پاس آٶ گا پنک روز تب ناراض ہونا تاکہ پھر تمہیں راضی کر سکو۔۔۔

ہارون باہر نکلتےباہر روڈ پر چلتے واک کرتے روحا سے فون پر بولے تھے ۔۔۔

کب آۓ گے جانتے ہے میں نہیں جانے دیتی اور آپ بنا بتاۓ آ گے ۔۔۔

پہلے ہی روحاب کو کھو چک۔۔۔

آ جاٶ گا یہ بتاٶ کچھ چاہے میری جان کو میں خرید لو گا۔۔۔۔

ہارون جلدی سے بات چینج کیے پیار سے بولے تھے ۔۔۔

روحان انہیں سب بتا چکا تھا آج کیا ہوا تھا۔۔۔

ہاں مجھے بس آپ چاہے آپ کا ساتھ چاہے واپس آ جاۓ پلیز ہارون۔۔۔۔

روحا اب رونی آواز سے بولی تھی ۔۔۔

اففف میری جان میں جلدی آ۔۔۔

ٹھاہہہہہہ۔۔

ہاروننننننن۔۔۔

ہارون ابھی بول رہے تھے جب روحا کو فون سے گولی چلنے کی آواز سنائ دی ۔۔۔

تبھی وہ چلائ تھی ۔۔۔

ہارون ہارون۔۔

روحا مسلسل فون پر بول رہی تھی جبکہ دوسری طرف خاموشی چھا گی تھی۔۔۔۔

————————————————————

روحان روحانننن۔۔۔

روحان روم میں بیٹھا اپنی گنز صاف کر رہا تھا جب اسے روحا کے چلانے کی آواز سنائ دی۔۔

کیا ہوا ماما۔۔۔

روحا کو اپنے روم میں آتے دیکھ روحان جلدی سے پریشان ہوتا بولا۔۔۔

ت۔م۔تمہا۔رے بابا۔میں۔ان کو کھونا ن۔نہیں چا۔یتی روحاب۔کی۔طرح۔۔۔۔

روحا مسلسل روتی روحان کو بتا رہی تھی ۔۔۔

جبکہ اسے زرا سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔

اچھا ریلکس ماما میں فون کرتا ہو بابا ۔۔۔

روحان انہیں اپنے سینے سے لگاۓ خود فون ملاتا بولا تھا۔۔۔

جبکہ دوسری طرف فون بند جا رہا تھا۔۔۔