Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Last Episode)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

کیا مگر وہ کیسے

پتا نہیں کیسے مگر انہیں نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے

کسی بات کی پریشانی لگی ہے انہیں

تم کوشش کرنا کے اب اسے کوئی پریشانی نا ہو

ڈاکٹر نے کہا

اور چلی گئی

کیوں تم میرے دل کے اتنے قریب ہوتی جارہی ہو

وہ اسے پاس بیٹھا اسکے بالوں میں انگلیاں پھیر کے اپنی محبت کا اعتراف کررہا تھا

ویسے تو وہ ہمیشہ سر ڈھکے ہی رہتی ہے مگر ولی نے اسے دو بار بے پردہ کیا تھا

اسے یاد تھا کے وہ کیسے اپنے ڈوپٹے کیلیے روئی تھی

اب تمہیں رونے نہیں دونگا

اسنے اس سے وعدہ کیا تھا

خان جی وہ دلہن مطلب کے اس لڑکی کا باپ آگیا ہے

خادم نے سر جکھا کر کہا

اچھا اسے بیٹھاو میں آتا ہوں

اسنے ایک نظر اسکے معصوم نیلوں سے بھرے چہرے پر نگاہ ڈالی اور اپنے پیار کی مہر ثبت کرکے اٹھا

مریم کو بے خودی سے دیے گئے لمس نے ہوش کی دنیا میں لا پٹخا

اسنے تھوڑی سی آنکھیں کھول کر دیکھا کمرے میں کوئی نہیں تھا

وہ اٹھ بیٹھی

زہن پر زور ڈالنے سے اسے جو یاد آیا تو جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی

@@

وہ باہر نکلنے لگی تب اسے عاشق صاحب سامنے آتے دیکھائی دیے

ڈیڈی وہ بے اختیار ان سے لپٹ گئی

انہوں نے اپنی لاڈلی بیٹی کا چہرہ تھاما جہاں نیل ہی نیل تھے

انہیں پرانی مریم یاد آئی

جسکا چہرہ بے نشان تھا

انہیں کافی دکھ ہوا

آپ ٹھیک ہیں

اسنے پوچھا

جبکے انہوں نے اثبات میں سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا

تجھے سمجھ نی آئی مینے تجھے کہا تھا کے نیچے ہی بیٹھا رہ مگر تیرے کان پر جوں نہیں رینگی

شاید تجھے ی بات سمجھ نہیں آئی

ولی نے عاشق صاحب کے گردن میں ہاتھ ڈال کر کہا

اسکے ایک ہاتھ میں بندوق تھی

ولی آپ یہ سب

مریم نے کچھ بولنا چاہا جب ولی دھاڑا

میں تجھسے نہیں تیرے باپ سے بات کررہا ہوں

ولی بے شک تمہاری بیوی ہے مریم مگر تمہارا کوئی حق نی ہے کے تم اسے مارو

تو سمجھائے گا مجھے

اسنے انکا گریبان پکڑ کر انہیں سیڑھیوں کے ریلنگ پر لے آیا

ولی مریم اس سے اپنے باپ کو چھڑوارہی تھی گر وہ انکا گلا دبا رہا تھا

ولی پلیز میرے بابا ہو چھوڑ دو

میں ہاتھ جوڑتی ہوں

آپ جو کہیں گے وہی کروں گی

پلیز

وہ اسکے پاؤں پکڑے اسکی منتیں کررہی تھی

نی کریں

وہ روئے جارہی تھی جب اسے اپنے باپ کی آنکھیں سرخ ہوتی دیکھائی دیں تو اسمیں تا نی کہاں سے اتنی ہمت آئی کے اسنے ولی کو دھکا دیا

چونکے وہ ایک مظبوط مرد تھا اسلیے بس لڑکھڑایا

مگر عاشق صاحب کا گلا چھوٹ چکا تھا

آوازیں سن کر سارہ بیگم بھی باہر آگئیں

وہ آج پہلی بار عاشق صاحب کو اتنے سالوں بعد دیکھ رہی تھیں

توں پیچھے ہٹ جا آج اسے نی چھوڑوں گا

اسنے مریم کو دھکیل کر انکا گریبان پکڑنا چاہا تو مریم نے اسکا بازو

پکڑ لیا

پلللیییییییییز ولی

اسکے الفاظ منہ میں ہی تھے کے ولی نے بازو چھڑانے کیلیے اسے دھکا مارا

چونکے وہ سیڑھیوں کے کنارے تھی منہ کے بل نیچے گرتی گئی

ولی کی سمجھ میں نہیں آیا

مریم

وہ بھی اسکے پیچھے لپکا

اسکا سر بری طرح سے پھٹ گیا تھا

و و و لی ی ی

پ پپ پلیییز می ی ی ری ف ف فیملی کوو چھ چھوڑددو

بابا

اسنے اپنی بائیں طرف کھڑے روتے ہوئے عاشق صاحب کی طرف ہاتھ رکھ کے کہا

جی بابا کی جان

انہوں نے روتے ہوئے

اسکا ہاتھ تھام لیا

بابا م میں ببہت ب ب بری ہوں نااا

وہ اٹک اٹک کر کہرہی تھی

نی شانی تم سے اچھا تو کوئی ہے ہی نہیں

انہوں نے روتے ہوئے کہا

وہ

مسکرادی

ووولی ی ی

آپ پ پلیزز میری فیملی کو و معاف کردیں

پلیییز

اسنے خون بھرے ہاتھ جوڑے

دعا یہ سارا منظر دیکھ کر تھم سی گئی تھی

ولی آپ پ چاہتے تھے ناں میں کہوں کے میں ہار گئی

آج کہہ دیتی ہوں

میں ہارگئی

لو میں ہارگئی

اب میری فیملی کو بخش دیں ولی

اسکا سانس اکھڑ رہا تھا عاشق صاحب روتے ہوئے اسے آوازیں دی رہے تھے

مگر اسکی زبان پر ایک لفظ تھا

میں ہار گئی

مریم

آنکھیں کھولو

تم یونہی جاسکتی

اٹھو

ولی نے اسے جنجھوڑا

جبکے اسکا وجود سفید اور بے جان پڑگیا

اسکا ہاتھ عاشق صاحب کے ہاتھ سے نیچے گرگیا

شانی

وہ روتے ہوئے اسے پکار رہے تھے

انکی وہ بیٹی جو انکی ایک پکار پر بھاگی آتی تھی

اب بے جان پڑ گئی تھی

انکی پکار کا بھی اس پر کوئی اثر نا تھا آج

مریم

ولی چلایا

وہ اسے پکار رہا تھا مگر اسکے وجود میں جنبش بھی نا ہوئی

وہ بے حس بے حرکت

پڑی رہی

تمھارے سینے میں دل نہیں ہے

تمھیں زرا بھی رحم نہیں ہے مجھ پر

مریم

جب میں کہہ رہا ہوں اُٹھو تو کیوں نہیں اُٹھ رہی تم

تم نے کہا تھا ناں کے تم میری ہر بات مانوں گی

اُٹھو

پلیز بیکار کے ڈرامے مت کرو

اب وہ نخوت سے بولا

سمجھ نہیں آرہی

تمہیں

ماروں تو عقل آئے گی تمھیں

پیار کی زبان تو سمجھ آتی نہیں ہے نا

ہے نا اگر آتی تو ایسے نہ کرتی تم

اسے پتا نہیں چلا کب ایک نھنھا سا آنسو اس کے خون سے لت پت چہرے پر جذب ہوگیا

ہاتھ جوڑوں تمھارے

کچھ تو بولو

وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑرہا تھا

اس سے آگئے کچھ کہا نہیں جارہا تھا

کچھ اٹک گیا تھا اسسے حلق میں

کیا ہوگیا تھا اسے سوچنے کا وقت بھی نہیں تھا

دعا بھی رورہی تھی

ابھی تو اسنے مریم کو سمجھا تھا اور وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی تھی

کم سے کم اُٹھ نہیں سکتی تو کچھ بول تو دو

وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا

مانتا ہوں مینے تمہیں دکھ پہنچایا ہے

مگر

اب اس کی آواز بھیگی تھی

عاشق صاحب نے درد سے آنکھیں بند کر لیں تھیں

یہ لو ہاتھ جوڑتا ہوں

تمہارے

کان بھی پکڑتا ہوں

کہو

تو پیر بھی پکڑ لوں گا مگر کچھ تو کرو جس سے میرا رُکتا دل چل پڑے

مریم رحم کھاؤ مجھ پر میرا دم گھٹ رہا

بے شک مینے تمپر رحم نہیں کھایا

مگر یقین مانو مجھے دشواری ہورہی ہے تمھیں واسطہ ہے رب کا

میں تو تمہارے باپ سے بدلا لے رہا تھا

پلیز

پلیز میں سب بھول جاوں گا تم اٹھ جاو

اب وہ بقائدہ ہاتھ جوڑ کر درد ناک لہجے میں اس کے ٹھنڈے وجود سے مخاطب ہوا

تھا

عاشق صاحب کے لیے سب برداشت سے باہر تھا

یہ کیسی سزا دے رہی ہو تم

وعدہ کرتا ہوں تم سے میری وجہ سے اگر تمہاری فیملی تنگ آتی ہیں تمھیں

بتارہا ہوں

میں سب بھول جاؤں گا سب تمہارے باپ کی وجہ سے جو میرا باپ مرا وہ بھی معاف کردوں گا

آئی پرامس مریم

اسکی بات پر سارہ بیگم اور عاشق صاحب دونوں پی چونک گئے

مریم اب تو آنکھیں کھول دو

کم سے کم سانس تو لو

گھٹی آواز میں اب وہ اس کے پیروں پر اپنے لب رکھ چکا تھا تاکہ کچھ تو ہو

ولی

یہ تم کیا بکواس کررہے ہو عاشق بھائی کی وجہ سے تمہارہ باپ مرا ہے؟

یہ کیا بکواس کررہے ہو تم

سارہ بیگم اسکا گریبان پکڑ کر بول رہی تھیں

عاشق صاحب چپ چاپ اپنی بیٹی کی لاش دیکھ رہے تھے

او کم آن بی جان

آپ کو نہیں پتا

بھائی نے ہمیں سب بتادیا ہے کے کیسے آپ کا

مریم کے باپ سے یارانہ تھا

اور کیسے آپکی وجہ سے ہم اپنے باپ کے سائے سے محروم رہے

کیا بک رہی ہو دعا

ایسا کچھ نہیں ہے

تم صاف صاف بتاو بات کیا ہے

اور پھر دعا نے انہیں وہ ساری باتیں بتادیں جو ولی نے اسے بتائیں تھیں

او میرے اللّٰہ

ولی میرے بچے تم اپنے دل میں بغض رکھے بیٹھے تھے اتنے سالوں سے

وہ روتے ہوئے سر تھام کر بیٹھ گئیں

ولی اگر تمہیں غلط فہمی ہوگئی تھی تو تم اپنی ماں سے کلئیر کرلیتے

عاشق صاحب نے کہا

تمہاری ماں میری کزن ہے

اور ولی

بس بھائی میں بتاتی ہوں اسے

سارہ بیگم نے انہیں روکا

تمہارے باپ کی موت کی وجہ انکا لالچ تھا

تمہارا باپ ایک کمینہ انسان تھا

بس بی جان میرے بابا جانی کے بارے میں

چپ ولی آج میں بولوں گی اور تم سنوگے

تمہارا باپ تمہاری بہن اور بوا کو لالچ میں آکر بیچنے جارہا تھا

میرے منت سماجت کرنے کے باوجود بھی تمہارے باپ نے تمہاری نگین بوا کا کاسودا کردیا

اور اسے پتا ہے کون خریدنے آیا

ایک بڈھا بندا

جسکی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں تھا

بوا کے پیروں تلے سے تو زمین ہی نکل گئی

تو کیا بھابھی نگین مری نہیں تھی

انہوں نے چونک کر پوچھا

نہیں

بلکے اسکے بھائی نے اسے جیتے جی ماردیا

وہ آدمی اسے کوٹھے پر چھوڑ آیا

جہاں وہ روز جیتی روز مرتی تھی اور اسکا بھائی

تمہارے بابا جانی

انہوں نے ولی کو تلخی سے کہا

وہ اس سے حاصل کردہ پیسوں سے اپنا نشہ پورا کرتا رہا

جب اسکا پیسا کم ہونے لگا تو وہ تمہیں انہوں نے دعا کی طرف اشارہ کیا

کو بیچ دینا چاہتا تھا

تبھی بھائی عاشق کا ٹرانسفر اسلام آباد ہواوہ مجھسے ملنے آئے تومینے سوچا کے نگین کی زندگی تو نا بچا پائی مگر دعا کی ہی بچالوں

اسلیے مینے انہیں سب بتادیا

انہوں نے میری مدد کی

اور جس دن وہ دعا کو بیچنے جارہا تھا

اسی دن پولیس کی مدد سے اسے پکڑوالیا تھا

اور قانون نے اسے پھانسی کی سزا دیدی

اور اسکے بعد تم مجھسے بد گمان ہوگئے

اور تمہاری بوا سے پتا چلا تمنے مجھے حکم دیا ہیکے میرے سامنے مت آنا

میں نہیں آئی کیونکے میں تمہیں تکلیف میں دیکھنا نہیں چاہتی تھی

اور ولی تمنے میرا تم لوگوں کے پاس نا آنے کا تو پتا تھا

مگر میرے جسم پر نیل اور جلے کے نشان تمہیں نہیں دکھے

میں سمجھ رہی تھی کے شاید تمہیں اپنے باپ کی موت کا صدمہ لگا ہے اسلیے تم ایسے ہوگئے

اور عاشق بھائی نے تمہاری او ہم سب کی ضروریات کا خیال رکھا

اور تمہیں پڑھوایا

میں نے سارہ تمہیں کافی ڈھونڈا مگر تم مجھے نا ملی اسیلیے میں تمہارے گھر گیا

مگر وہاں تالا لگا تھا

سال بیت گیا مگر تمہاری خبر نا ملی

رضیہ ہمیشہ کہتیں کے سارہ ہمیں ضرور ملے گی اور آج تم ملی تو ایسے

وہ رونے لگپڑے

ولی اور دعا تم وگ سوچ رہے ہوگے کے تم لوگ خان ہو اور بھائی پنجابی تو میں بتادوں کے

میں تمہارے باپ سے محبت کرتی تھی اور ہمارے خاندان میں ذات برادری کا بھی ایشو نی تھا

عاشق بھائی اور ارشد بھائی نے میری شادی کروادی تمہارے باپ سے

اور جس انسان نے تم پر احسان کیا ولی آج اسی کی بیٹی کی تم نے جان لیلی

وہ روتے ہوئے وہاں سے چلی گئیں

جبکے عاشق صاحب نے مریم کو اٹھایا

ان کیلیے مشکل تھا اپنی جوان بیٹی کو کندھا دینا مگر انہوں نے ایسا کیا تھا

ولی ان سے کچھ کہنا چاہتا تھا

مگر

سب ختم ہوگیا تھا سب ٹوٹ گیا تھا

اسے مریم کے الفاظ سن رہے تھے

ولی آپ چاہتے تھے ناں میں کہدوں

تو آج کہرہی ہوں

لو میں ہار گئی

میرے اپنوں کیلیے

میں ہارگئی

اب میری فیملی کو کچھ مت کرنا

میں ہارگئی

اسے اسکی آواز بار بار سنائی دے رہی تھی

وہ اس سے کہنا چاہتا تھا کے تم نہیں مریم

آج میں ہارا ہوں

میں ہار گیا ہوں

لو میں آج ہارگیا ہوں

مگر اسے اپنا سانس بند ہوتا لگا

پھر آہستہ آہستہ ولی کی سسکیاں عرش تک پہنچ گئیں تھیں

مریم نے اپنوں کیلیے موت کو بھی گلے لگالیا تھا

جبکے وہ بدنصیب اپنوں کا ساتھ ہوتے ہوئے بھی اکیلا تھا

اگر وہ اپنی ماں سے یا مریم کے باپ سے بات کرلیتا تو شاید آج مریم زندہ ہوتی

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *