Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 26)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

مریم آج بھی بیسمنٹ میں ہی بیٹھی تھی

وہ گٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی جب ملازمہ نے دروازہ کھولا

اسنے جھٹکے سے سر اٹھایا

اسکی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہورہی تھیں

تمہیں خان جی بلارہے ہیں

اسنے اسے بتایا

اس سے پہلے کے وہ اسے جواب دیتی اسے عاشق صاحب کا چہرہ اور زخم یاد آگیا

بے اختیار ہی آنسوں ٹوٹ کے بکھرے

اور اسنے انہیں پلو سے صاف کیا اور ملازمہ کے ساتھ چلپڑی

ملازمہ بھی اسے دیکھ کر حیران ہوئی کے کل جب اسے مار پڑی تب تو نا ہاری تھی آج کیسے ہار گئی

انہیں سوچوں میں گم ولی کا کمرہ آگیا

ملازمہ اسے چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی

اسنے ایک ہاتھ سے دروازہ کھولا

اندر آگئی

ولی بلایا آپ نے

اسنے اسنےسامنے دیکھتے ہوئے کہا

جب وہ جو اپنے کپڑے دیکھ رہا تھا بغیر مڑے بولا

باہر جاو

کیا

سنا نہیں بہری ہو مینے کہا باہر جاو

مریم جلدی سے باہر آگئی

اب ناک کرکے اندر آو

مریم کو وہ وقت یاد آیا جب عمران پہلی بار اسکے کمرے میں آیا تھا بغیر ناک کیے تب اسنے اسکو کتنی سنائیں تھیں

اسکی آنکھ سے آنسوں نکل گیا تھا

مر گئی ہو

ولی برہمی سے بولا

مریم نے ناک کیا

اب اندر آنے کی اجازت مانگو

مریم نے روہانسی آواز میں کہا

کیا میں اندر آجاوں

ہاں آجاو

وہ اندر آگئی

آپ نے بلایا تھا

اسنے سامنے دیکھتے کہا

ہاں وہ سامنے جو کپڑے دیکھ رہی ہوناں

اسے پہن کر جلدی سے تیار ہوجاو

وہ ہنوز اپنے کپڑے چیک کرنے میں مصروف تھا

مریم نے سوچا کے کہدے کیوں

مگر چپ رہی

اچھاوہ بیڈ پر پڑے کپڑوں کی جانب آئی

وہاں مغربی طرز کا گلابی اور پرپل کلر کا گاؤن تھا جو کے بیک لیس اور گہرے گلے والا تھا

اسکے ساتھ تنگ پاجامہ تھا

مریم نے ڈوپٹے دیکھا تو وہ بس نام کا ہی ڈوپٹا تھا

چھوٹا سا اور باریک

آپ سچ میں پٹھان ہیں

کافی ظبد کرنے کے بعد وہ پوچھ ہی بیٹھی

ہاں کیوں؟

مینے سنا تھا کے پٹھان بہت غیرت مند ہوتے ہیں

جبکے آپ نے تو اسبات کو جھوٹھا ہی ثابت کردیا کےمجھے یہ لباس دیکر

کیا بکواس ہے

وہ کپڑے بیڈ پر پٹخ کر اسکی طرف آیا

مریم نے اسے کپڑے دکھائے

اسے واقعی میں شرمندگی ہوئی کے اسکی بوا یہ کیسے کپڑے لائیں ہیں

پھر اسکے دماغ میں آیا کے بوا نے اسے نیچا دکھانے کیلیے

ایسا لباس لیا ہوگا

تو کیا ہوا

آج ولیمے میں تمہیں یہی کپڑے پہننا ہونگے

وہ ان کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا

ولیمہ؟

کس کا ولیمہ اور میں سب لوگوں کے سامنے تو کیا اکیلے میں بھی ایسے کپڑے نا پہنوں

وہ انہیں بیڈ پر رکھتے بولی

پہننے تو تجھے پڑے گےہی

ولی پلیز آپ ایسا مت کریں میں یہ نہیں پہن سکتی

مریم نے التجا کی

کیوں نہیں پہن سکتی ہاں

پہن ورنہ

ورنہ ورنہ کیا

ہاں ورنہ کیا

آپ میری مجبوری نہیں سمجھ سکتے

اسکا گلہ کتنا بڑا ہے اور میری پٹ

وہ بولتے بولتے رک گئی

وہ اسے اپنی کمزوری نہیں بتانا چاہتی تھی

ولی میں یہ نہیں پہن سکتی بس

اچھا اگر تم یہ نہیں پہن سکتی تو

وہ بولتا ہوا سائیڈ ٹیبل پر گیا اور کینچی نکال لایا

اس سے پہلے کے مریم کچھ سمجھتی یا سنبھلتی اسنے سینے سے اسکا ڈوپٹہ اتارکر اسکی فراق کاٹ دی

بس ولی

بس کریں میں پہن لوں گی

اسنے روتے ہوئے اپنا سینہ چھپایا

آج پہلی بار وہ کسی مرد کے سامنے ننگے سر کھڑی تھی

اسنے جلدی سے ولی کیطرف پیٹھ کرکے زمین پر پڑا اپنا ڈوپٹہ اٹھایا

ولی کو اپنے کیے پر تھوڑی شرمندکی ہوئی

مگر بدلا آڑے آگیا

اتنے میں چڑڑ کی آواز سے دروازہ کھلا تو

ایک لڑکی آکے ولی سے لپٹ گئی

آگئی میری گڑیا

ولی نے اسسے پیار کرتے کہا

جی بھائی

آگئی

مگر آپنے اچھا نہیں کیا

میں دودن کیلیے باہر کیا گئی آپ نے تو

اسکی بات بیچ میں رہ گئی

کیونکے مریم شناسا آواز سن کر پلٹی تھی

@@

آپ بتاتے کیوں نہیں کے شانی کیسی ہے اور اسنے آپکو کس لیے بلایا تھا

رضیہ بیگم نے پوچھا

اور پھر انہوں نے ساری بات انکے گوشوگزار کردی

اور رضیہ بیگم کو چپ لگ گئی

@@

وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکے دعا تھی

تم تم یہاں کیا کررہی ہو

اس لڑکی نے مریم سے پوچھا

دعا بیٹا تم اسے جانتی ہو

یہی ہے میری بیوی

ولی نے حیرت سے پوچھا

جی بھائی اچھے سے

آپکو بھی پوری دنیا میسے یہی ملی تھی

اسنے نفرت سے کہا

جبکے مریم اسے دیکھتی ہی رہ گئی

کیوں کیا ہواولی کے پوچھنے پر دعا نے ساری باتیں اسے بتادیں

مطلب کے یہ کالج میں بھی بدتمیز ہی تھی

وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا

چلو ہم باہر چلتے ہیں

اور توں میرے آنے سے پہلے تیار ہوجانا سمجھی

وہ اسے کہکر دعا کولیکر چلاگیا

مریم جلدی سے واش روم میں گھس گئی

اسکے زہن میں ترکیب آگئی تھی

@@

بوا جی یہ تو بھائی نے اچھا ہی کیا اسے سبق سیکھانا بھی ضروری تھا

آپ اسے اس گھر میں نوکر بنا کر رکھیں

دعا نے انہیں مزید پٹی پڑھائی

تم فکر نا کرو

آج وہ جو پہنے گی اسکی بڑی بے عزتی ہونے والا ہے

بس تم دیکھتی جاو

بوا مسکرا کر بولیں

@@

مریم کپڑے پہن کر باہر آگئی تھی

میک اپ کے نام پر اسنے لپ اسٹک لگائی تھی جوکے وہاں پڑی تھی

کانوں میں شاپر میں رکھے آویزے پہن رکھے تھے

بلا شعبہ وہ خوب صورت دکھ رہی تھی

مریم نے سر پر اچھے سے ڈوپٹہ لیا اور کمرے کا دروازہ کھولنے لگی تھی

اسکا ایک ہاتھ دروازے پر اور دوسرا سرپر پن لگارہا تھا

جبھی باہر سے ولی نے بھی دروازہ کھینچا

وہ اپنا توازن برقرار نا رکھ پائی

اور ولی کے اوپر گرپڑی

ولی نے اسے تھام لیا

اسکی نظریں مریم کے چہرے پر جم سی گئیں

جبھی مریم نے جھٹکے سے خود کو چھڑایا

ولی نے اسکی جانب دیکھا جو بلکل ڈھکی ڈھکی سی تھی

یہ کیا پہنا ہے

اسنے اسکے کپڑوں کی جانب اشارہ کیا

مریم نے نا سمجھی سے کہا گاؤن کیوں؟

وہ تو

تم ہی کہہ رہی تھی کے وہ لباس گہرے گلے والا ہے

تو اسکا گلا تو نارمل ہی ہے

جی وہ مینے اسکے ڈوپٹے کو ڈبل کرکے اسکے ساتھ جہاں کپڑا نہیں تھا گلو سے چپکالیا تھا

مریم نے اسے بتادیا

وہ کہتے ہوئے اتنی معصوم لگرہی تھی کے اسکے چہرے پر مسکراہٹ ابھری

مگر جلد ہی اسنے چہرہ سپاٹ کرلیا

گلو کس سے پوچھ کر لی تھی

وہ چلایا

مریم گھبراگئی

آپ نہیں تھے کمرے میں

چٹاخ

آئیندہ کے بعد میری چیزوں کو ہاتھ بھی مت لگانا

اسنے سے تھپڑ مارکر کہا

جبکے وہ چپ چاپ سر ہلا گئی

وہ نیچے آئی تو بوا اور دعا حیران رہ گئیں

مریم کے جسم کا کوئی بھی حصہ نظر نہیں آرہا تھا

بوا نے اسے بے عزت کرانے کیلیے یہ کام کیا تھا مگر اسنے تو انکے کیے کرائے پر ہی پانی پھیر دیا

بوا جی آپ تو

دعا مجھے بھی نہیں پتا یہ اسنے کیسے کیا

حالانکے کمرے میں مینے سکینہ سے کہہ کر سوئی دھاگا سب ہٹوادیا تھا

پھر اسنے یہ سب کیسے کیا

کہیں بھائی نے تو نہیں

نہیں نہیں

وہ تو دوپہر کا میرے اور تمہارے ساتھ ہے اور بدلا بھی نہیں جاسکتا

بس اس نے ڈوپٹہ اور لیا ہے

سب لوگ اسے رشک سے دیکھ رہے تھے

بلا شعبہ انکی جوڑی بہت اچھی لگ رہی تھی

مریم نے اردگرد دیکھا تو اتنے لوگ تھے

ہر کوئی انہیں ہی دیکھ رہا تھا

مریم نے سوچا اگر اسے G N B میں گزارا وقت ذہن میں نا ہوتا تو آج تو وہ اتنے لوگوں کے سامنے شرمندہ ہوتی

اسکا چہرہ ایک عورت نے ڈھک دیا تھا

انہیں ایک ساتھ بٹھادیا گیا تھا

سب لوگ انہیں تحائف دے رہے تھے

اور انکی جوڑی اچھی لگرہی تھی

مریم اپنے دل یں سوچ رہی تھی

کیا خاک اچھی ہے

زبردستی کی شادی

اقا صحیح کہتی ہے

لوگ دکھاوا بہت کرتے ہیں

وہ بس سوچ کر ہی رہ گئی جب ایک عورت نے اسکا گھونگٹ اتارا

ماشاءاللّٰہ بھئی

بہو تو تمنے اچھی چنی ہے سارہ

مریم حیران ہوئی کے کون سارہ پھر اسنے اس عورت سے بات کرتی عورت کیطرف دیکھا

تو یہ ہیں سارہ

اسنے انکی طرف دیکھا جنہوں نے اسکا چہرہ ڈھکا تھا

صحیح کہا آپنے

سارہ بیگم مسکرا کر رہ گئیں

ولی نے تلخی سے انہیں دیکھا

وہ بھی بھلا کیا کہتیں کے بیٹے نے انہیں پوچھنے کی بات تو دور اپنی بیوی سے ملایا تک ناتھا

بہر حال وہ پہلے کونسا کوئی کام انسے پوچھ کر کرتا تھا

مریم کو شور سے اپنی طبیعت خراب ہوتی محسوس ہوئی

اسنے چاروں طرف دیکھا تو ایک بیرے کو بلایا اور اس سے لیکر پانی پینے لگی تھی کے ولی نے ہاتھ مار کر گرا دیا

وہ جو مہمانوں کے بیچ مصروف تھا اسے بیرے کو آواز دیتا دیکھ کر اسکی طرف آیا

تیری ہمت کیسے ہوئی ہاں

میری اجازت کے بغیر پانی پینے کی

مریم گم سم اسے دیکھے جارہی تھی

وہ مجھے پیاس لگرہی تھی اسیلیے پانی

بکواس بند کر

ولی کا اسپے ہاتھ اٹھ گیا

مریم نے اپنی گال پر ہاتھ رکھا جہاں پر اسنے سب کے سامنے سے تھپڑ مارا تھا

وہ ششدر کھڑی تھی

سب لوگ باتوں کو چھوڑے انکی طرف متوجہ ہوگئے

بیٹا کیا کررہے ہو

کیوں تماشا لگارہے ہو

سارہ بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھکر کہا

جو اسنے جھٹک دیا

بی جان آپ اسے لیکر جائیں میں اسے آکر دیکھتا ہوں

وہ اسکا بازو انکے حوالے کرکے وہاں سے چلا گیا اور وہ اسے اسکے کمرے میں لے آئیں

بس بیٹا چپ کرجاو

وہ ایسا ہی ہے

مگر دل کا برا نہیں ہے

جی آنٹی

مریم نے سر ہلادیا

کیونکے وہ جانتی تھی کے اولاد جیسی بھی ہو والدین اسکی اچھائی ہی بیان کریں گے

آنٹی نہیں بیٹا تم مجھے ماما جان یا بی جان کہ سکتی ہو

انہوں نے پیار سے اسکے ماتھے پر ہاتھ پھیر کے کہا

جی بی جان

یہ ہوئی نا بات

اب تم آرام

انکی بات ابھی درمیان میں ہی تھی کے

ولی دندناتا ہوا کمرے میں داخل

ہوا

تیری اتنی ہمت

اسنے جھٹکے سے اسے بیڈ سے اٹھایا

ولی

سارہ بیگم بولیں

بی جان آپ یہاں سے چلی جائیں یہ میرا اور اسکا معاملہ ہے

سارہ بیگم ایک نظر مریم پر ڈال کر چلی گئیں

ہاں

کیسے بیٹھی توں میرے بیڈ پر ہاں

تیری اتنی اوقات نہیں ہے کے توں میری چیزوں یا بیڈ پر بیٹھے

مریم نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا

نیچے سوئے گی توں سمجھی

مریم نے سر ہلادیا

مجھسے پوچھ کر ہر شے کو ہاتھ لگائے گی سمجھی

میرے آگے زبان کھولنے کی تو ہمت بھی مت کرنا

اس دن کا یاد ہے یا بھول گئی

وہ کچھ بولنے لگی جب اسنے ا سے یاد دلایا

مریم پھر کچھ نا بولی

مریم کے چہرے پر پسینہ آگیا تھا

تمہارا مجھسے نکاح ہوا ہے

مطلب کے تم میری اب غلام بن گئی ہو

اور ہاں اس کےساتھ ساتھ تمہاری زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار بھی میرے پاس ہوگا تم کب سوگی

کب جاگو گی

تم کب کیا کروگی وہ سب میں طے کرونگا

جو میں کہو ں گا تمہیں وہی کر نا ہو گا

اگر تم نے ایسا کیا تو ڈیموں تو صبح دیکھ ہی چکی ہو

مریم کے شدتِ جزبات سے ہونٹ کپکپارہے تھے

بس تم یہ یاد رکھو کے تم میرے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئی ہو

تمہاری زندگی کی ڈور اب میرے ہاتھ میں ہوگی

سمجھی

اس کی بات سن کروہ اپنی جگہ سن کھڑی رہ گئی

تبھی وہ دوبارہ اس کے پاس آیا اور کچھ دیر تک کھڑے رہ کر اس کے چہرے کے مدوجز دیکھنے لگا پھر اس کے سامنے آتے ہوئے اپنے بالوں کو پیچھے کرنےلگا

مریم بہت گھبرا گئی تھی

وہ اسکے قریب آیاتھاکے

تبھی

وہ پیچھے ہوئی

اسنے غصے سے مریم کو کھینچ کر اپنے حصار میں لے لیا

تم مجھ سے بھاگ کر کہاں جاوگی

پلیز ولی چھوڑیں مجھے

مریم خود کو چھڑاتے ہوئے بولی

تمہاری حالت کیوں بگڑ گئی ہے

یاد ہے وہ دن جب مارا تھا مجھے

اسنے اپنے گال پر انگلی رکھ کے کہا

وہ تمہارا ماضی تھا

جب تم آزاد تھی مگر

اب صرف میں ہی تمہارا حال اور مستقبل ہوں یہ بات تم جتنی جلدی سمجھ جا و تمہارے لیے بہتر ہے اور یہ کہ کر وہ اسے جھٹکے سے چھوڑ کر دروازہ بند کر کے چلا جاتا ہے

مریم وہیں نیچے زمین پر بیٹھتی ہی چلی گئی

اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی

رات کے وقت ایک عورت کھا نا لے کر کمرے میں داخل ہوئی

مریم کمرے کے کونے میں بیٹھی رو رہی ہوتی ہے

اسے اپنی فیملی بہت یاد آ رہی تھی وہ خاتون آرام سے

اس کے پاس آکر بیٹھ جا تی ہے

اور اسے کھا نا کھا نے کا بولتی ہے

جبکے مریم منہ چھپائے رورہی ہوتی ہے

وہ اسے ہلاتی ہے اور مریم کو سمجھا تی ہے کے اس طرح رو رو کے تم صرف اپنا ہی نقصان کرو گی

اب رونے کا کوئی

فائیدہ نیہں ہے

خان سے تمہارا شادی ہوچکا ہے بس اب تم بھی اسکو قبول کرلو

مریم نے جھٹکے سے سر اٹھایا

کیسے قبول کرلوں میں

وہ مجھے زلیل کرتا ہے

میرے پے ہاتھ اٹھاتا ہے

وہ اپنے آنسوں صاف کرتے بولی

بیٹا

کون مرد ہاتھ نہیں اٹھاتا

یہی تو مرد اپنی شان سمجھتے ہیں

عورت کو مار کر

مریم انکی بات سنکر حیران ہوگئی

آنٹی کون سی دنیا میں رہتی ہیں آپ

آپکو پتا ہے عورت پر ظلم کرنا قانوناًجرم ہے

بچے کہتا تو ہر کوئی ہے

اگر تم اب چھوٹے خان جی کے خیلاف رپٹ کرانے گئی تو

کوئی انہیں نیں کہے گا سب تمہارے کو ہی قصوروار سمجھے گا

کیونکے جس معاشرے میں ہم رہتا ہے ناں وہاں مرد کا کوئی قسور نہیں ہوتا

سب عورت کو ہی غلط سمجھتا ہے

چلو چھوڑو تم ان باتوں کو

بڑی بیگم نے تمہارے یے کھانا بھیجا ہے

تم کھا لو

کون ہیں وہ؟

مریم نے نا سمجھی سے کہا

ارے تمہارا ساس

خان جی کا بی جی

انہوں نے اسے تفصیل بتائی

کہرہا تھا کے تم صبح کا بھوکی ہوگا

اور خان جی بھی ابھی گھر پر نہیں ہے اسیلیے جلدی انکے آنے سے پہلے کھالو

مریم نے ہاتھ دھوئے

اور کھانا کھانے لگی

ایک والہ ہی لیا تھا جب اسے سالن بہت پھیکا لگا

اسکا منہ بن گیا

ارے بی بی تمہارا بھی منہ بن جاتا ہے کیا

وہ ہنسی تھیں

جب مریم نے کہا

آنٹی اسمیں مرچی تو ہے ہی نہیں

تم پنجابی ہے ناں

مریم نے ہاں میں سر ہلایا

اسی واسطے

ہم پٹھان ہیں ناں اسلیے کم مرچ کھاتا ہے

چلو کل سے ہم تمکو بھی ہری مرچ لادے گا

اب تو کھالو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *