Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 27,28)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

وہ اسے کہنے لگیں جب اسے جیا کی بدعا یاد آئی

آپی اقا اور شانی

اللّٰہ کرے آپ دونوں کی شادی پٹھانوں کے گھر ہو

پھر دیکھتی ہوں آپ لوگ مرچ کیسے ڈالتی ہو کھانے میں

بے اختیار ہی مریم کی آنکھوں میں آنسوں آگئے

مریم نے چند نوالے کھالیے تھے

اسے اپنی فیمیلی بہت یاد آرہی تھی

وہ عورت کھانے کی ٹرے واپس لے گئی

مریم وہاں سے اٹھ کر الماری کیطرف بڑھی

کیونکے اسکی دوائی کا وقت ہوگیا تھا

اسنے اردگرد دیکھا

گولی نگلی اور جلدی سے انجیکشن بھرنے لگی

اور بڑی جلدی سے لگا دوبارہ سب سامان اسنے اپنے کپڑوں میں چھپا دیا تھا

رات کافی گہری ہوگئی تھی

ولی بھی نہیں آیا تھا شام کے بعد اسیلیے مریم نے سونے کا سوچا اور بیڈ کی طرف بڑھی ہی تھی کے

دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ولی کمرے میں داخل ہوا

تو توں یہاں کیا کررہی ہے

اسنے مریم کو دبوچتے ہوئے کہا

مم میں وہ تکیہ لینے آئی تھی

مریم نے ہکلا کر جواب دیا

اچھا

اسنے اسکے بازو کو اور زور سے دبایا

جسپر تھوڑی دیر پہلے مریم انجیکشن لگارہی تھی

جی

اسکی آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں

ولی نے ایک نگاہ اسپر ڈالی اور اسے چھوڑ دیا

اور آگے بڑھکر ایک تکیہ نیچے پھینک دیا

مریم نے جلدی سے تکیہ اٹھایا اور الماری میں سی چادر نکالنے لگی جب وہ بول پڑا کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے ہی سوجاو

پر سردی

مریم کی بات ادھوری رہ گئی کیونکے ولی نے اٹھ کر اسکا منہ دبوچ لیا تھا

ام نے جب ایک بار تمکو منع کردیا تو ہوتی کیوں نہیں ہے

ڈیموں دیکھاوں

مریم نے نفی میں سر ہلایا

اور ہاں آئندہ کے بعد تیرا سر جکھا ہی ہونا چاہیے سمجھی

جی

مریم نے اثبات میں سر ہلادیا

جا اب

وہ بولا اور کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا

مریم چپ چاپ ٹھنڈے فرش پر لیٹ گئی

😞

@@@

صبح جب ولی کی آنکھ کھلی تو مریم نیچے سوئی ہوئی تھی

اسکا چہرہ ٹھنڈ کی شدت سے نیلا ہورہا تھا

وہ سکڑی سمٹی لیٹی ہوئی تھی

جب ولی کو شرارت سوجھی اور اسنے اسکا جو ہاتھ باہر نکلا تھا تکیے سے اسپر پاوں دے دیا

اچانک کافی دباو ہونے سے مریم تلملاتی اٹھ کھڑی ہوئی

ولی مسکرایا

اٹھ گئی میری بیوی

اسنے بیوی پر خاصہ زور دیکر کہا

لیکن مریم اسکے پاوں کے نیچے سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں تھی

ولی درد ہورہا ہے پلیز چھوڑ دیں مریم نے التجا کی

اچھا درد ہورہا ہے

اسبات کا احساس تجھے تب نا ہوا جب میرے بھائی کی ٹانگ توڑی تھی

ہاں بول اب

وہ اسے سر سے پکڑ کر بولا

غلطی ہوگئی مجھسے معاف کردیں

مریم گڑگڑائی تھی

اچھا

لو چھوڑ دیا

وہ اسے نیچے گرا کر اسکے اوپر سے گزر کر چلا گیا

مریم بلکتی ہی رہ گئی

وہ ویسے ہی پڑی تھی جب بوا نے اسے نیچے آنے کا کہا

اور وہ جلدی سے اٹھ کر نیچے آگئی

وہ منہ نا دھوسکی کیونکے واشروم میں ولی تھا

وہ جب نیچے آئی تو بوا نے اپنے پاس بلایا

وہ انکے ساتھ کھڑی ہوگئی

جی بوا جی

مینے تمہارے کو یہ بتانا تھا کے تم اب سے وہاں پر نہائے گی

اور ہاں گھر کا جو بھی کام ہوتا ہوگا وہ یہ تجھے بتادے گی اور آج سے توں وہ سب کام کرے گی

سمجھ گئی

جی بوا جی

اچھا پہلے ولی سے اجازت لے کے نہاکر دوسرا کپڑا پہن لو پھر کھانا بنانا اور پھر گھر کا صفائی کرنا تم

مریم سر ہلاکر اوپر اپنے کپڑے لینے آئی

وہ سوچ رہی تھی کے اسکی زندگی اب کیسے گزرے گی

وہ اندر جانے لگی تبھی اسے کل والی بات یاد آئی تو اسنے دروازہ ناک کیا اور بولنے ہی لگی تھی کے ولی نے اسے کمرے میں آنے کی اجازت دیدی

آجاؤ

مریم چپ چاپ کمرے میں داخ ہوگئی

جبھی اسکی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ولی پر پڑی

وہ جلدی سے مڑگئی

تب تک ولی نے اسے دیکھ لیا

اور جلدی سے بیڈ پر پڑی کمیض اٹھاکر پہننے لگا

تم تم اندر کیسے آئی

وہ اسکی طرف آکر بولا

مریم نے اپنے پیروں کیطرف دیکھا

ولی سمجھ گیا

وہ میں سمجھا کے بشیر ہے

اسیلیے آنے کی اجازت دی

وہ نظریں چرا کر بولا

وہ ا انداز سے بولتا بہ کیوٹ لگرہا تھا

اوپر سے اسکے بکھرے گیلے بال اسے بچہ ہی بنارہے تھے

کوئی بات نہیں

میں اپنے کپڑے لینے آئی تھی بس

مریم کہہ رہی تھی

تو لو ناں

ولی اسے وہیں کھڑا دیکھ کر بولا

وہ آپ نے اجازت نہیں دی تھی اسلیے

مریم نے سر جکھاکر ہی کہا اور آگے بڑھنے لگی جب ولی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

اچھا میری اجازت کی اتنی فکر ہے تمکو

تو جاو لیلو

وہ کہتا ہوا اسکا ہاتھ چھوڑ کے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا

مریم جلدی سے کپڑے نکال رہی تھی اور اسے یہ بھی ڈر تھا کے وہ اسکے پاس آکر اسکی دوائیاں نا دیکھ لے

@@

مریم واش روم میں گئی تو اسے ایک بالٹی نظر آئی

واش روم میں کوئی ٹونٹی نہیں تھی

وہ باہر نکلی ہی جب نوکرانی جسے بوا نے اسکی بات سننے کیلے بھیجا تھا آگئی

بی بی جی یہاں ٹونٹی نہیں ہے اسیلیے آپ کو کنویں سے پانی بھر کر نہانہ ہوگا

وہ کیا ہوتا ہے؟

مریم حیران ہوئی

وہ سامنے

ملازمہ نے اشارہ کیا تو وہ سامنے دیکھنے لگی اور پھر ملازمہ نے اسکا ساتھ دیا اور اسے پانی نکالنے کا طریقہ بتایا

مریم ویسے نکال رہی تھی اسکے بازوں میں کافی درد ہونے لگ گیا تھا

پر جیسے تیسے وہ نہا کر باہر نکلی اور بوا کی ہدایت کے مطابق وہ ملازمہ کیساتھ کام میں لگ گئی

کھانا اسے اب سب کے ساتھ مگر زمین پے بیٹھ کر کھانا ہوتا تھا

کیونکے بوا کے کہے کے مطابق اسکی اوقات نہیں ہے سب کے ساتھ مل کر بیٹھنے کی

وہ سب کو سرو کرکے

ولی یا بوا کی اجازت سے نیچے بیٹھ کر کھاتی تھی

دعا کا بھی اسکے ساتھ رویا اچھا نا تھا

مریم کو اس گھر میں آئے ایک مہینے سے زائد ہوگیا تھا

اور ہر دن وہ رات کو رو کر سوتی

ایک دن کھانا تھوڑا دیر سے بنا تو بوا جی نے اسکے ہاتھوں پر چمٹہ لگادیا تھا

اسدن بھی وہ سارے کام کرکے کمرے کی طرف جارہی تھی کیونکے ولی نے اسے بلایا تھا

وہ اجازت لیکر کمرے میں آئی تو ولی اپنے کپڑے نکال رہا تھا

جی آپنے بلایا

ہاں وہ تم میرے کپڑے استری کردو شام میں مجھے کہیں جانا ہے

وہ اس سے کہکر خود تیار ہونے چلا گیا

مریم نے کپڑے استری کرکے رکھدیے اورا سکے جوتے نکالنے چلی گئی

جب دعا نے اپنا کام دکھادیا

چھ نمبر پر کرکر استری ولی کی شرٹ پر رکھ دی

وہ تو شکر تھا کے مریم نے مین سوئچ آف کردی تھی نہیں تو اسدن کی طرح ولی اسکی کمر پر استری لگادیتا

وہ جب کمرے میں آئی تو ولی گھڑی پہن رہا تھا

اسے دیکھ کر ولی کرسی پر بیٹھ گیا

آجاؤ اور اسے بلایا

مریم جلدی سے گئی اور اسے جوتے پہنانے لگی

ولی اپنے موبائل پر مصروف تھا

سن آج رات کیلے پلاؤ بنالینا

اور ہاں اس میں مرچی روز سے تھوڑی زیادہ ڈالنا

سمجھی

اور مریم جی اچھا کہکر کھڑی ہوگئی

@@@

شام کے پونے سات بج رہے تھے جب مریم نے پلاؤ کو نم پر لگاکر چولہا بند کردیا

وہ چپاتیاں بنارہی تھی جب بوا نے اسے بلایا

کے پانی لیکر آئے تو وہ ہاتھ دھوکر پانی لیکر باہر آئی

تو سامنے بیٹھے لڑکے کو دیکھ کر حیران رہ گئ

_____

وہ لڑکے کوئی اور نہیں بلکے فیض اور علی تھے

پہلے تو مریم سمجھی کے شاید یہ دعا سے ملنے آئے ہیں اسیلیے وہ پانی لیکر آئ

پانی اسنے ٹرے سامنے کرتے ان تینوں سے کہا

جبکے علی اور فیض اسے اس گھر میں دیکھ کر ٹھٹھک گئے

وہ دونوں حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے

تم

آخر کار فیض نے ہی خاموشی توڑی

ارے علی اور فیض تم دونوں کو بتانا ہی بھول گئی

یہ ہماری بھابھی ہے

مریم ولی شہروز خان

دعا نے اسکا تعارف خاص کر فیض کو سناکر کہا

بھابھی

علی کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا

بھائی نے شادی کرلی

پر کب اور بتایا بھی نہیں؟

علی نے چونک کر اس سے پوچھا

جبکے فیض کے کانوں میں اسکی آواز گونج رہی تھی

کے میں تم سے تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی

اوہ بھابھی جان میں آپکا دیور علی علی نے ہاتھ بڑھاتے کہا

مریم نے مسکرا کر تھام لیا

پتا نہیں کیوں مریم کو آج علی کی آنکھوں میں وہ چمک نظر نا آئی

جو اسکی آنکھوں میں ہمیشہ ہوتی تھی

علی فیض تم دونوں ہاتھ منہ دھولو اور فیض تمہاری فیملی نہیں آئی؟

ولی نے ان دونوں کو مخاطب کرکے کہا

جی بھائی وہ مما پاپا تو آج کسی کے گھر گئے ہوئے تھے جبکے میرا بھائی اور میری بھابھی کل صبح چھ بجے کی فلائٹ سے آئیں گے کراچی سے

اسنے مریم کو تقریباً اگنور کرکے کہا

واہ عثمان کی شادی ہوگئی

ولی نے خوش ہوکر کہا

جی بھائی نکاح تو ہوگیا تھا بس رخصتی ہی باقی تھی

مریم خوش ہوگئی کے اسکی بہن کی شادی تو ہوگئی

ولی کیا میں کھانا لگادوں؟

مریم کے چہرے پر خوشی امڈ آئی تھی اور ساتھ ہی اداسی بھی کے وہ فوزیہ کی شادی نا دیکھ سکی تھی

ہاں لگادو اور سنو چاکلیٹ ہاٹ کافی بھی بنا نا فیض کو بہت پسند ہے

مریم کو یاد آیا کے اسنے بھی ایک ماہ سے اپنی ماں کے ہاتھ کی کافی نا پیی تھی

جی اچھا وہ کہکر کچن میں آگئی

وہ کھانا چیک کررہی تھی جب بوا آگئیں

جی بوا جی آپ کو کوئی کام تھا

ہاں ہم تمسے کہنے آئی تھی کے تم جلدی سے چار کپ کافی کے بنادو اور ہاں جلدی کرنا ہمارے مہمان کو انتظار نہیں کرانا سمجھی

جی اور وہ سر ہلاکر پھر سے کام میں مصروف ہوگئی

اسنے جلدی سے کافی بنائی تب تک دعا کچن میں آگئی اور اسنے جلدی سے ٹرے نکال لی مریم نے چائے کپوں میں ڈال کر اسے دیدی مریم بھی بار بار اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی

وہ بس دل میں یہ دعا کررہی تھی کے وہ جلدی سے چلا جائے اور ولی کوئی تماشہ نا بنائیں

اتنے میں ولی کچن میں آیا

کافی میں چینی تیرے باپ نے ڈالنی تھی کیا

وہ اسے بالوں سے پکڑ کر بولا

مریم کے سر سے ڈوپٹہ اتر گیا

جی وہ ڈالی تھی مگر کم ڈالی تھی

وہ

کیا وہ ہاں کیا وہ

جسکی پیالی میں کم ڈالنی تھی اسے زیادہ ڈال دی اور جسے دینی تھی اسے دی ہی نہیں

وہ سوری مجھے لگتا ہے کپ بدلے گئے ہونگے

مریم نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

اسکے بال ابھی بھی اسکی گرفت میں تھے

اچھا

یہ غلطیاں تم باپ بیٹی سے ہی ہوتی ہیں ہاں

ولی نے اسکا بازو مڑوڑتے کہا

ولی پلیز میرے ڈیڈی کو بیچ میں مت لائیں آپ

مریم تلملا اٹھی تھی

اور یہی اسکی آج کے دن میں بہت بڑی غلطی گزری کے ولی نے ایک زور دار تھپڑ اسکے گال پر دے مارا

مریم کو لگا جیسے اسکی گال پھٹ گئی ہے

اسکا سر سلیب سے لگا

کیا بکواس کی تونے ہاں

تیرے باپ کو تو میں چاہوں تو کتوں کی طرح گھسیٹ کر لاسکتا ہوں اور آگے تو توں سمجھ گئی ہوگی کے اسکا کیا حال کروں گا میں

نہیں ولی

پلیز آپ ایسا مت کریے گا

میں کچھ نہیں بولوں گی بس

مریم نے جلدی جلدی اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی

اور ولی جیسے آیا تھا ویسے ہی چلاگیا

کھانے کے میز پر سب موجود تھے سوائے دعا اور مریم کے

بوا جی نے مریم کو کھانا سب کو سرو کرنے کے بعد دعا کو اسکے کمرے میں دینے کیلیے بھیجھا

دعا ہمیشہ سب کے ساتھ ہی کھاتی تھی مگر آج اسے کیا ہوگیا

مریم سوچ ہی سکی

وہ جلدی سے اسکیلیے پلیٹ نکال کر کھانا لیکر چلی گئی

اسنے دروازہ ناک کرکے اس سے اندر آنے کی اجازت مانگی

دعا نے کھانا لیکر اسے باہر دھکا دیدیا

مریم کیلیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی

وہ ہمیشہ سے ہی اس سے ایسے ہی پیش آتی تھی

مریم کچن میں آگئی تو برتنوں کا ڈھیر پڑا تھا

وہ دیچگی دیکھنے کیلیے بڑھی ہی تھی کے اسکے پاوں کے نیچے فوک(کانٹا) آگیا

مریم نے جلدی سے وہ اٹھایا

مگر جلے پاوں پر لگنے سے اسکا پیر چھل گیا تھا مریم نے دیکھا تو اسے خون نکل رہا تھا

مریم نے جھک کر اسپر نمک لگادیا تھا

تھوڑی جلن کے بعد خون رک گیا اور مریم اٹھ کر برتن میں کچھ کھانا دیکھنے لگی

مگر وہاں تو کچھ تھا ہی نہیں

جبکے مریم جب دعا کو پلاؤ دیکر آئی تب اس میں ایک پلیٹ سے زائد چاول تھے

مریم نے اسے دھونے والے برتنوں میں رکھ دیا

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی

اکثر اسکے ساتھ ایسا ہوتا تھا

بوا برتن خالی کرکے فرج میں باقی بچا کھانا رکھ کر لاک لگا دیتی تھیں

اور اسے دوپہر یا صبح کی بچی ہوئی روٹی اور پانی ڈال دیتی تھی

اور وہ انکی اس نا انصافی پر کچھ کہہ بھی نا سکتی تھی

اور نا ہی اسمیں اتنی ہمت بچتی کے وہ سارا دن کام کرنے کے بعد رات میں ایکسٹرا مار کھاتی

اسے مار تو بونس میں ملتی تھی اسکی ذرا بھر کی غلطی کا انعام

وہ واحد لڑکی تھی جو بونس ملنے پر خوش نا ہوتی تھی

بلکے اصولاً تو اسے انکا شکر گزار ہونا چاہیے تھا

کیونکے جب باس اپنے آفس میں کام کرنے والے ملازمین کو بونس دیتے تو وہ خوشی سے پھولے نا سماتے تھے(وہ الگ بات ہے کے انہیں بونس میں پیسہ اور اسے مار)

مگر بونس تو بونس ہی ہے ناں

خیر چھوڑیں بونس کو

اسنے سارے برتن دھولیے تھے

اور کچن کا کام بھی ختم کرلیا تھا

ویلی مہارانی نے

اب وہ سارا دن فارغ رہ کر خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے کیلیے کمرے میں آکر چپ چاپ لیٹ گئی

(ہاہ آپ لوگ بھی سوچ رہے ہونگے کے کیسی لڑکی ہے بس کیا کریں ویلی رہ رہ کر اسکا دماغ میں سے نکل گیا تھا کے بچھلے ہفتے اسے سردی لگنے پر جو پھٹی پرانی چادر ولی نے گفٹ کی ہے وہ تو بچھائی ہی نہیں)

اسیلیے جلدی سے چادر بچھاکر سونے لیٹ گئی

ویلی اتنی تھی کے لیٹتے ہی اسپر نیند کی دیوی میربان ہوگئی

اگر اسے پتہ ہوتا کے صبح کا دن اسکیلے کتنی مشکلات لائے گا تو وہ ولی کا گلا دبا دیتی

ارے آپ لوگ تو ہیروئن کو قاتل ہی سمجھ بیٹھے

اسکا مطلب یہ تھا کے وہ ولی کا گلا دباکر اسکی آواز مدہم کر دیتی تاکے وہ شاہینہ بیگم اور انکے مکمل پریوار کو نا بلا پاتا

مگر افسوس وہ ایسا کچھ بھی نا کرپائی

مریم ابھی گوشت چولہے پر چڑھاکر صبح کے برتن صاف کررہی تھی جب بوا کی تحکم بھری آواز گونجی

ارے او کرم جل ویلی نکمی کیا نکماپن پہلا رہی ہے

وہ بوا جی

اسکی بات ادھوری رہ گئی جب ولی عجلت میں آیا

وہ بوا جی ہم جارہا ہے ہسپتال

کیوں اتنی جلدی کیوں

بوا نے پریشانی سے پوچھا

ہاں بوا جی وہ ایک ایمرجنسی آگیا ہے اسی لیے جارہا ہے

کیسی ایمرجنسی

مریم سوچ کر ہی رہ گئی

اچھا تم جاؤ

ارے بیٹا تم نے بات کیا تھا شاہینہ یا حسین سے؟

بوا نے یاد آنے پر پوچھا

جی بوا جی ہم نے انسے بات کرلیا تھا

انکو کوئی اعتراز نہیں ہے

وہ انہیں ساری بات بتا کر چلاگیا جبکے مریم سوچتی رہی کے کونسی بات؟

خیر مجھے کیا

بس یا للّٰہ پاک آپ میرا اک کام کردیں

کوئی بھی مجھے پہچان نا پائے

یا بوا جی مجھے کسی سے ملنے نا دیں

ابھی وہ دل میں یہی دعا کررہی تھی جب گاڑی کا ہارن بجا

بواجی جلدی سے باہر نکلیں

مریم کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوگئی

وہ جلدی سے گلاسوں میں پانی ڈالنے لگی جبھی بوا نے اسے آواز دی

وہ ٹرے اٹھائے چلی آئی

سب باتوں میں متوجہ تھے

جب اسنے سلام کیا

شاہینہ بیگم نے چونک کر اسے دیکھا

اور یہی حالت باقی تینوں نفوسوں کی تھی

مریم بیٹا آپ

آخر کار حسین صاحب کے لب کھل ہی گئے

جی وہ مسکرا کر بولی

جب اسکی نظر فوزیہ پر پڑی

جو حیرت سے ابھی تک اسے دیکھے جارہی تھی

مریم نے آنکھوں کے اشارے سے اسے سچ بولنے سے منع کیا

اور سب ٹھیک ہے کا کہا

یہ کیسے ممکن تھا کے ایک بہن دوسری بہن کا اشارہ نا سمجھتی

وہ آگے بڑھ کر اس سے ملی

Episode 28

جب مریم نے اس سے ملتے ہوئے اسکے کان میں کہا

آپی پلیز ان لوگوں کو پتا نہیں چلنا چاہیے

آپ سب کو سمجھا دیں

پلیز

اچھا تم فکر مت کرو شانی

اسنے اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے کہا

جبکے مریم کو درد کا احساس ہوا اور اس سے پہلے کے وہ روتی اپنی بہن سے الگ ہوگئی

مریم نے عثمان کے آگے سر جکھایا تو اسنے اسکے سر پر پیار دے دیا

آپ لوگ جانتے ہیں اسے

بوا سے یہ سب ہضم ناہوا جب وہ بول پڑیں

جی جانتے ہیں

مریم ہماری

میرے دیور کے کالج میں پڑھتی ہے

اسیلیے ہم جانتے ہیں اسے تھوڑا بہت اور بس کوئی رشتے داری نہیں ہے

اس سے پہلے کے شاہینہ بیگم کچھ اور بولتی فوزیہ بول پڑی

اور وہ اسے دیکھنے لگیں

جب اسنے انہیں خاموش رہنے کا سگنل دیا اور بعد میں بتاتی ہوں

جبکے عثمان چپ چاپ بیٹھا تھا

اسے معلوم تھا سب

کیونکے جب صبح فیض نے اسے کال کی تب انہیں پتہ چل گیا تھا

اور جب مریم نے فوزیہ کے کان میں بات کی تب وہ سمجھا کے کوئی بات ت ضرور ہے

اسیلیے خاموش ہی رہا

مریم بیٹا تم کھانا لگالو جاکر

بوا نے شیریں زبان سے اس سے کہا

جو اپنی بہن کے پاس بیٹھنے لگی تھی

فوراً اٹھ کھڑی ہوئی

@@

کھانا ان سب نے خوشگوار ماحول میں کھایا تھا

جب بوا اور دعا اٹھ کر چلی گئیں تب انہوں نے فوزیہ سے پوچھا

فوزیہ بیٹا ماجرہ کیا ہے

مریم بیٹی یہاں اس گھر میں کیسے؟

اور

ماما

مریم کی شادی ولی سے ہوگئی ہے

فوزیہ نے بمب پھوڑا

وہ تو تمہاری رخصتی پر بھی موجود تھی پھر اتنی جلدی کیسے وہ اس گھر کی بہو بن گئی

پھر فوزیہ نے انہیں سب بتادیا اور یہ بھی کہا کے مریم نے کہا ہیکے کسی کو پتا نا چلے

ٹھیک ہے بیٹا میں نہیں بولتی

شاہینہ بیگم نے افسردہ ہوکر کہا

بیگم کوئی اتنا بے غیرت کیسے ہوسکتا ہے

حسین صاحب نے کہا

جبھی بوا بھی آگئں

اور باتوں ہی باتوں میں وہ اپنے مقصد تک آئیں

بہن جی ولی نے آپسے بات کی تھی

تو آپ بتادیں کے کیا جواب ہے آپکا

بوا نے شاہینہ بیگم سے کہا

جی بہن مجھے تو کوئی اعتراض نہی

مگر بچے جیسا چاہیں گے

شاہینہ بیگم نے برتن اٹھاتی مریم کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری

مگر بہن ہمکو نہیں لگتا کے وہ بھی انکار کرے گا

کس بارے میں بوا جی

اتنے میں فیض اور علی کھانے کی میز پر آکر بیٹھے جب مریم وہاں کپڑا مار رہی تھی

اور انہیں دیکھ کر جلدی سے چلی گئی

اتنے میں دعا بھی آگئی

بیٹا شبنم کہہ رہی ہیں کے تمہاری اور دعا کی شادی کردی جائے

شاہینہ بیگم نے بوا کی بات دہرائی

WHAT NONSENSE

مام ایسا نہیں ہوسکتا

میں دعا سے شادی نہیں کرسکتا

وہ چلاکر بولا تھا

مگر کیوں

دعا نے جھٹکے سے پوچھا

دعا تم میری دوست ہو بس اسیلیے تمہیں بتاتا چلوں کے میں تمسے شادی نہیں کرسکتا

کیوں پوچھا تمنے اسکا جواب یہ ہے کے میں مریم سے محبت کرتا ہوں

اسلیے تمسے شادی نہیں کرسکتا

بس

وہ کچھ بولنے گی جبھی اسنے کہا

دعا میں کیا برائی ہے بیٹا

شاہینہ نے کہا

مام برائی اس میں ہیں پر یہ شادی نہیں ہوسکتی

لیکن فیض تمہاری تو مریم سے لڑائی ہوتی رہتی تھی پھر تم کیسے اس سے پیار

بلکل

درست کہا تمنے

بیشک ہماری بنتی نہیں تھی مگر مجھے اسکے معصوم پن پر پتہ نہیں کب پیار ہوگیا بس ہوگیا

اور تم یہ بات ذہن نشین کرلو کے تم کبھی بھی مریم کی جگہ

وہ اپنی بات مکمل کرتا اس سے پہلے ہی وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں چلی گئی

اب انکا بھی رکنے کا کوئی جواز نا تھا

@@

شام میں جب ولی گھر لوٹا تو بوا مریم کو بری طرح مار رہی تھیں

وہ انہیں سلام کرتا اوپر کی جانب بڑھ گیا

اسے اپنی بیوی کی اتنی فکر تھی کے وہ پوچھ بھی نا سکا کے ہوا کیا ہے

وہ اپنے کمرے میں جارہا تھا جب اسے دعا کے کمرے سے رونے کی آواز آئی تو وہ ہیں چلا گیا

دعا تم رو کیوں رہی ہو

ولی نے اپنی اکلوتی اور لاڈلی بہن سے پوچھا

کچھ نہیں ولی بھائی

دعا نے آنسوں صاف کرکے کہا

بتاؤ میرے بچے کیا بات ہے اسنے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا

پانی

مریم نے دروازہ ناک کرکے ولی سے اندر آنے کی اجازت لیتے ہوئے کہا

آجا اسنے نظر بھر کر بھی اسے دیکھنا گوارا نا سمجھا

بتاؤ میری بچی

وہ چاہے مریم سے جیسے بھی بات کرتا تھا بوا اور دعا سے ہمیشہ تمیز سے ہی بات کرتا تھا

مجھسے کیوں پوچھرہیں ہیں اپنی بیوی سے پوچھیں جو میری خوشیوں کو کھاگئی ڈائن کہیں کی

دعا نے خونخوار نظروں سے میز پر پانی رکھتی مریم کو دیکھ کے کہا

مینے کیا کیا ہے

اسنے دعا کو دیکھتے ہوئے ناسمجھی سے کہا

اوہ دیکھو بھائی کتنی بھولی بنتی ہے یہ

مگر یہ تمہارے بھول پن کا ڈرامہ میرے ساتھ نہیں چلنے والا

دعانے نفرت سے کہا

کیا کیا ہے اب تونے

ولی نے مریم کا ہاتھ مڑورتے ہوئے کہا تھا

جی جی مینے کچھ نہیں کیا

مریم نے روندھی آواز میں کہا

دعا تم بتاؤ ہم کو اسکی خبر تو ابھی لیتا ہے

اسنے اسے جھٹک کر کہا اور دعا نے الف سے یے تک ساری بات ولی کے گوش گزار کردی

اور مریم بے چاری ناں ناں میں سر ہلاتی رہ گئی

دعا سب کہہ کر رونا شروع ہوگئی

ولی نے غصے سے میز الٹ دیا جو مریم کے پیر پر لگا

آہ

وہ کراہی

بہت درد ہورہا ہے ناں تجھے تو اب تجھے بتاتا ہے ہم کے توں اور درد کیسے برداشت کرسکتی ہے

پپ پلیز اس میں میرا قصور نہیں ہے

آپ آپ

چٹاخ

وہ اور بھی کچھ کہتی ولی کے تھپڑ نے اسکی بولتی بند کردی

چپ بکواس بند کر اپنی منحوس

اور اسکے بعد تھپڑوں کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا

اور ولی اسے مارتا گیا اور وہ روتے ہوئے اپنی بے گناہی کا پقین دلارہی تھی

اسکی وہاں سنتا کون

جب ولی اسے مار کر تھک گیا تو اسے دکھا دے کر غصے سے لات مار کر چلاگیا

اور وہ وہیں گری پڑی روتی رہ گئی

تمنے کیا سوچا تھا تم مجھسے میرا فیض چھین لوگی بھی نہیں

اسنے اسپر ایک کہر آلود نگاہ ڈال کر اسے باہر نکال دیا

@@

مریم نے ایک نگاہ بیڈ پر سوئے ولی پر ڈالی اور چپکے سے الماری سے اپنی چادر نکالی اور آرام سے لیکر وہ باہر نکل آئی

اسنے سوچ لیا تھا کے اب اسے کیا کرنا ہے

وہ گیٹ کھول کر باہر نکل ہی رہی تھی کے دعا جو پانی پینے کچن میں جارہی تھی نے اسے دیکھ لیا

ارے یہ کہاں جارہی ہے اسنے حیرت سے چوروں کی طرح باہر نکلتی مریم کو دیکھکر کہا

اور سکے پیچھے لپک پڑی

@@

مریم تقریباً دس منٹ کی پیدل مسافت سے ایک پارک میں داخل ہوئی

دعا بھی اسکے پیچھے پیچھے آرہی تھی

یہ ملنے کس سے آئی ہے

دعا نے سوچا اور چپکے سے تھوڑا فاصلہ رکھ کے اسکے پیچھے بڑھرہی تھی

چونکے رات کا وقت تھا اسلیے کوئی نہیں تھا پارک میں

تھوڑی دیر بعد مریم ایک جگہ رکی تو دعا بھی جلدی سے درخت کی اوٹ میں ہوگئی تھی

میں آگئی ہوں

اسنے اونچی آواز میں کہا

اسکی آواز میں لڑکراہٹ نمایاں تھی

یہ کسے بلارہی ہے ضرور اسکا کوئی یار ہوگا

اتنے میں اسکی نگاہ سامنے کھڑے مضبوط مرد پر پڑی

وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پارہی تھی

بولو کیوں بلایا مجھے

اس آدمی نے کہا

اور دعا اس آواز کو تو ہزاروں میں پہچان سکتی تھی

وہ ضیض تھا

دعا نے اپنی آنکھیں پوری کھول کر دیکھا

بات کرنی ہے

مریم نے کہا

کیا بات کرنی ہے؟

دعا کے بارے میں

مجھے نہیں بات کرنی

فیض پلیز سب بھول جاؤ

مریم نے کہا

بھول چکا ہوں اور تمہارے کہنے کے مطابق سب فیصلے اللّٰہ کے سپرد کردیے ہیں

اب جیسی اسکی مرضی وہ چلائے گا میری زندگی

فیض نے کہا

تم ٹھیک کہرہے ہو مگر سوچو تو صحیح کے شاید اللّٰہ نے دعا کو تمہارے لیے

بس مریم چپ ہوجاؤ

فیض چلایا میں اس فیصلے سے راضی نہیں ہوں

مگر کیوں؟

بس میری مرضی

فیض تمہیں اللّٰہ پر بھروسہ ہے ناں تو اسکے فیصلے پر بھی بھروسہ کرلو

مریم مجھے اسپر بھروسہ ہے پر

فیض تمہیں پتا ہے تمہار امسلئہ کیا ہے؟

مریم نے کہا

تم نے اپنے فیصلے اللّٰہ پہ چھوڑ تو دیئے ہیں مگر

دل سے نہیں چھوڑے

تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہو جو تمہاری خواہش ہے

یہ کیسا اعتبار ہے

تم اسکی رضا میں راضی ہوجاؤ

مگر دعا خوبصورت ہیں ہے اور نا ہی میں اسسے پیار کرتا ہوں

یہ انکشاف دعا اور مریم پر عجیب سا گزرا

دعا کا رنگ گورا تھا مگر اسکے چہرے پر وہ کشش نا تھی جو مریم کے تھی

یہی تو اعتبار کا امتحان ہے فیض

اللّٰہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے

وہ ہمارے گمان سے بھی آگے ہے

ہم صرف وہ دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورت ہےجبکہ اللّٰہ یہ بھی جانتا ہےکےآپ کے لیئے کیا خوبصورت ہے اور کیا نہیں

یقین کروتم جس دن اس اعتبار پہ فیصلہ اللّٰہ پہ چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لیئے وہی بہترین ہوگا

اس دن نہ صرف تم بےچینی سے نکلو گے

بے شک وہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت انکی سوچ کے رخ تک بدلنے پہ قادر ہے

تم آزماکر تو دیکھو

اب تم مجھے بھول جاؤ ناں اور

پلیز

فیض تم دعا کو اپنالو

وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے اور تمہیں خوش بھی رکھے گی

خوش

جانتی ہو کیا مطلب ہوتا ہے خوشی کا مریم بی بی

خوشی وہ ہوتی ہے جسپر آپکا دل مطمئن ہو

جسسے آپ محبت کرتے ہوں اسے حاصل کرلیں اسکے دل میں رہیں

اسکے ساتھ رہیں

اسکا نام ہوتا ہے خوشی

اور وہ سب تو جب اسدن تمنے میرے گال پر تھپڑ مارا تھا اور مجھسے نفرت کا اظہار کیا تھا

اسی دن وہ خوشی مجھسے روٹھ گئی

پتا ہے کیوں مریم

وہ اسلیے کے تمنے میرا دل ہی نہیں

مجھے بھی توڑ دیا تھا

مریم میں یہ نہیں کرسکتا

وہ رودیا

فیض پلیز میرے لیے اسے اپنالو

پلیز مریم نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے

ٹھیک ہے میں دعا سے شادی کروں گا دعا کو خوشی کیساتھ حیرت بھی ہوئی

مگرمیر ی ایک شرط ہے

کیسی شرط مریم نے نا سمجھی سے کہا

تمہیں میرے پیر پکڑ یہ سب کہنا ہوگا

اسنے اپنا آخری تیر پھینکا

مگر

ٹھیک ہے پھر میں جارہا ہوں

شب بخیر

فیض تم پلیز دعا کو اپنالو اس شادی کرلو

مریم نے اسکے پاؤں پڑتے کہا

وہ مجبور تھی یہ سب کرنے کو

دعا یہ منظر حیرت سے دیکھ رہی تھی

جسسے اسنے ہمیشہ نفرت کی آج وہی اسکی خوشی کیلیے اسکے پیار کے پاؤں پڑرہی تھی

ٹھیک ہے سب کو کہدوں گا کے منگنی کی تاریخ رکھدیں

فیض بھی اس مریم کو دیکھ کر پریشان تھا کے یہ وہی مریم ہے یا کوئی اور ہے

سچی مریم نے خوشی سے اسکے سامنے ہوتے ہوئےکہا

اسنے اثبات میں سر ہلادیا

پر فیض پلیز تم کسی سے اسبات کا زکر مت کرنا

خاص کر دعا سے اسکا دل ٹوٹ جائے گا

اسکے دل کی فکر ہے تمہے میرے نہیں چلو تم بھی کیا یاد رکھو گی نہیں بتاتا

شکریہ وہ کہکر گھر کی طرف روانہ ہوگئی

دعا بھی اسکے پیچھے پیچھے جلدی آج وہ بہت خوش تھی اور شرمندہ بھی

@@

کہاں گئی تھی توں اور کس یار سے ملنے گئی تھی

وہ بھی کمرے میں آئی ہی تھی کے ولی نے اسے بالوں سے پکڑ کر کہا

وہ میں

میں بتاتی ہوں بھائی

اتنے میں دعا آگئی

اور مریم کا رنگ فق سے اڑگیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *