Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 30)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

اسنے صبح سے کچھ بھی نا کھایا تھا اسلیے کھانے پر ٹوٹ پڑی

مرچ بہت کم تھی مگر مریم کے منہ میں زخم تھے اسلیے وہ چپ چاپ کھا گئی

ولی اسے اس طرح کھاتا دیکھ کر ہنس پڑا

آرام سے

اسکے کہنے کی دیر تھی کے مریم کو اچھوکا لگ گیا اور وہ کھانسنے لگی

ولی نے جلدی سے اسے پانی دیا

مریم کھانا کھاچکنے کے بعد برتن دھوکر لیٹ گئی

آج اتنے دنوں بعد اسے سکون سے سونا پایا تھا

وہ ولی کے رویے پر حیران بھی تھی اور خوش بھی کے چلو آج کی رات تو اسنے انسانوں کی طرح بات کی

مگر کون جانے کے اسکی زندگی میں اور کیا کیا ہونا تھا

@@#

اگلی صبح سے ہی گھر میں تیاریاں شروع ہوچکیں تھیں

ولی اور بواجی دعا کو لیکر شاپنگ مال گئے تھے

جبکے مریم اور سارہ بیگم باقی سب نوکروں سے کہکر کام کروارہے تھے

مریم دوپہر کا کھانا بناچکی تھی اور سب کو بھی دے دیا تھا

سارہ بیگم اسکا بہت خیال رکھ رہی تھیں

انہیں دیکھ کر ہمیشہ اسے رضیہ بیگم کی یاد آجاتی تھی

ابھی وہ برتن دھو چکی تھی کے ملازمہ نے اسے کہا کے صفائی مکمل ہوگئی ہے اب کپڑے دھولیتے ہیں

اور وہ کپڑے دھونے چلی گئی

@@@@

شام میں انکی واپسی ہوئی تو انکے ہاتھ شاپنگ بیگز سے بھرے پڑے تھے

ولی کافی تھک چکا تھا

اور بوا بھی آتے ہی اپنے کمرے میں سونے چلیں گئیں اور دعا نے ملازمہ سے کافی کاکہا اور اپنے روم میں چلی گئی

مریم سوچ رہی تھی کے دعا سے بات کرلے کل سے اسے موقع ہی نہیں ملا تھا دعا سے بات کرنے کا

مریم نے اسکے لیے کافی بنائی اور اسکے کمرے میں دینے چلی گئی

اسنے دروازہ ناک کیا اور اندر آگئی

دعا مجھے تمسے ایک بات

اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیونکے دعا کے کمرے ولی اسکے بیگز رکھ رہا تھا

ہاں بولو

دعا نے اسکی طرف دیکھ کر کہا

ولی بھی اسکی طرف ہی متوجہ تھا

مریم نے ابھی بات کرنا مناسب نا سمجھا اسلیے بولی

دعا وہ اپنے کپڑے دے دینا میں پریس کردونگی

مریم نے کافی میز پر رکھتے کہا

اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے بھابھی کپڑے بوا نے پریس کروانے کیلیے بھیج دیے ہیں اور صبح تک آجائیں گے

دعا نے مسکرا کر کہا اور کافی پینے لگی

ہوگئی بات اب جاؤ یہاں سے

ولی نے اس سے کہا اور وہ خالی کپ لیکر چلی گئی

برتن دھونے کے بعد سارے گھر کے لاک چیک کرکے وہ کمرے میں آئی تو ولی ایک ڈبا پکڑے کھڑا تھا

مریم نے دروازہ ناک کیا اور اجازت ملنے پر کمرے میں آگئی

وہ اپنی چادر اٹھارہی تھی جب وہ بولا

یہ تمہارے لیے دعا کی منگنی پر تم یہی پہننا

مریم نے اسکی طرف دیکھا تو وہ اسے ڈبا پکڑارہا تھا

مریم نے حیرت سے پکڑلیا اور اسے دیکھنے لگی

کھول بھی لو

وہ بولا

مریم نے اسے کھولا تو اسکی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں

کیا ہوا

وہ اسے اس طرح دیکھ کر بولا

مریم نے نفی میں سر ہلایا

۔آپ یہ میرے لیے لائیں ہیں

مریم نےحیرانگی سےولی کودیکھا

جسنے شادی سےاب تک اسےآنسوؤں کےعلاوہ اورکچھ نہیں دیاتھا

اورآج

وہ اسکےلیےساڑھی لایاتھا

وہ بھی اتنی خوبصورت

توحیرانی توبنتی ہےناں

ہاں

تمہارے لیے لایا ہے ہم

گھروالوں کیلیےلایاتھا

تو

تم توہمارا

گھروالی ہے

ناں اسلیےتیرےلیےبھی لایاہے

شکریہ

مگر

کیااگرمگر

ہاں

چپ چاپ پہنوں اسےسمجھی

مگرمیں ساڑھی نہی پہنتی

تومیں کیاکروں

پہن اسے بلکےابھی پہن کر دکھا

اس نےاسے بازو سے پکڑ کر جنجھوڑدیا

آپ سمجھ کیوں نہیں رہے میں یہ کیسے پہنوں گی

مریم نےروہانسی ہوکر کہا

اچھا

توتوں یہ نہیں پہنےگی تومیں تجھے پہنادوں

گا

اور توں تو

مجھےجانتی ہے ناں

اسنےمکاری سےمسکراتےہوےکہا

مریم جواسکی بات پرسر اٹھا چکی تھی

اور اسکی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں

اسنےجلدی جلدی ساڑھی پکڑی اور واشروم میں گھس گئی

جب وہ باہرآئی تبھی کمرےمیں بوا آگئیں

اور زور زور سےچلانےلگیں

ارےناس پیٹی

یہاں توسج سنورکربیٹھی ہے

کام تیرا باپ کرےگا

مریم نے انکے آخری جملے پر سر اٹھا کر انہیں دیکھا

اے

دیکھ کیارہی ہے

کھائےگی مجھے انہوں نےاسپر مکوں اورتھپڑوں کی برسات کردی

بوا یہ کیا کررہی ہیں آپ

ولی جو کال سننے باہر بالکونی میں گیا تھا اندر آکر بولا

وہ جو مریم پر اپنا غصہ نکال رہی تھیں

ابےتم کونیں معلوم

سج سنور کےنیین مٹکارہی تھی

کام اسکے باپ

نےتو نہیں کرنیں جویہ یہاں سج کےبیٹھی ہے

چل

دفع ہوپہن پرانےکپڑے انہوں نےاسکی کمر میں لات رسید کرتے ہوئےکہا

ولی نےایک نظر اسے دیکھا جسکا صاف شفاف چہرہ آنسووں سے بھیگا تھا

بوا نے اسے اتنا مارا تھا مگر پھر بھی وہ کچھ نابولی

اسےپچھلی بارکاواقع یادتھا اورولی کی بات بھی

مریم چپ چاپ واشروم کی جانب چلپڑی

ولی نے اسے جاتا دیکھا

ناجانےکیوں آج اسے اس پرترس آرہا تھا

نہیں مجھے اس پر بلکل بھی ترس نہیں کھانا

اسکے باپ نے جو میرے ساتھ کیا اس کیلیے وہ یہی ڈیزرو کرتی ہے

اسنے سوچا اور

وہ سر جھٹک کر باہر نکل گیا

_____

وہ واش روم سے نکل کر کچن میں آگئی تھی

@@@

فنکشن شروع ہوچکا تھا

فیض کی فیملی بھی آچکی تھی

وہ کچن میں کام کررہی تھی جب علی کچن میں پانی لینے آیا

تو اسے وہاں اسوقت دیکھ کرچونک گیا

آپ یہاں

مریم نےمڑکے دیکھا

اور کہا

جی بھائی آپکوکچھ کام تھا

پانی لینے

آیا تھا اسنےکہا

اورفرج کی طرف آنےلگا

فرج چونکےمریم کی سائیڈ پرتھی

لہٰذااسنےاسےبوتل نکال کردیدی

اسنےشکریہ کہا

مریم کووہ بیمارسالگا

اسیلیےپوچھ بیٹھی

آپکی طبیعت توٹھیک ہےناں بھائی

اسنےفکرمندی سےپوچھا

بڑی فکرہورہی ہے

یارکی

ولی جو وہاں کسی کام سے آیا تھا

اسکی بات سنکربولا

مریم ڈرسی گئی تھی اسےاچانک دیکھ کے

اسکی نظریں اسکی جانب اٹھیں اوراگلےہی لمحےاسنے نظریں نیچیں کرلیں

بھائی پلیز

مریم جی توصرف میری طبیعت پوچھ رہی تھیں

علی نےصفائی دیناچاہی

اوہو

مریم جی

کمال ہےاسنےتالی بجاتےہوئےکہا

واہ واہ

بھائ آپ

علی کی بات بیچ میں ہی رہ گئی کےولی نے ہاتھ اٹھا کر اسے چپ کرایا

اب تم جاؤ

اس سےمیں بات کرتاہوں

اس نےاسےجانےکیلیےکہا

اورخود مریم کی جانب قدم بڑھائے

پربھائی

جا ناں

ایک بات میں بات سمجھ نہی آتی کیا

بھائی مریم

اسکے بولنے سے ولی نےمریم کےمنہ پر تھپڑ دے مارا

بھائی

علی بولا

اسنے ایک اور مارا

اور کہا کے

اب جب تک توں یہاں ہوگا ایسے ہی اسکو ماروں گا

مگر بھائی

انکی غلطی نہیں ہے

اسکی بات مکمل ہونےتک اسنےاسےتین تھپڑ اور مار دیے جس سے مریم کا ہونٹ پھٹ کرخون نکلنے لگا مگر وہ چپ چاپ آنسوں بہا رہی تھی

اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھیں

علی سے یہ سب دیکھا نہیں جارہاتھا

اور وہ پچھلی بارکی طرح مداخلت بھی نہیں کر سکتا تھا

کیونکےوہ اچھی طرح سے جانتا تھا کےاسکا صلہ بھی مریم کو ہی بگھتناپڑے گااسیلیے وہ چلاگیا

دیکھ

تیرے یار سےتیراحال نا دیکھا گیا اورتجھے چھوڑ کے چلاگیا

تتتتو

وہ مکاری سے ہنسا

مریم نے بے یقینی سے اسے دیکھا جسے اسپر تو نا سہی مگر اپنے سگے بھائی پر بھی بھروسہ نا تھا

اے

کیا دیکھ رہی ہےآنکھیں نیچی رکھ

اسنے اسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیا

مریم کووہ پل یاد آیا

جب ایک دفع مما اس کی گنگھی کررہی تھیں تواسکے بال کھینچےگئےتھےتومما کتناپریشان ہوئیں تھیں

اورآج

وہ اسطرح مارکھارہی تھی اوراسکی فکر کرنے والا بھی کوئی ناتھا

اب جلدی سےتیار ہوکےآجااسنےکہا

اسنےاثبات میں سرہلایا

روکیوں رہی ہے

تیراباپ تونہیں مرگیا اسنےاسکی گال پرچٹکی کاٹی

ولی پلیز

آپ ڈیڈی

اسکی بات ادھوری رہ گئی کیونکےولی نے اسے زور کا تھپڑ مارا

اوروہ سیدھاچولہےپرجاگری

وہ توشکرتھاکےآگ نہیں جلرہی تھی اس میں

زبان لڑارہی ہے

ہمرے ساتھ

تیری اتنی جُرات اسنے اسے ایک اور دکھا دیا اور وہ شیلف سے نیچے لڑھک گئی

پھر کیا تھا وہ ماری گیا اور گالیاں بکتا رہا

بلاتا ہوں

تیرے باپ کو

نی ولی پلیز آپ ایسا مت کریں جتنا مارنا ہےمجھے مارلیں

مگر میرے گھر والوں کو کچھ مت کہیں

پلیز

اسنے اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا

اسکےدل کوکچھ ہوا مگر انا دل پر آڑے آگئی

اور وہ اسے لات مار کے چلا گیا

اور وہ پیچھے بلکتی رہی

یا اللّٰہ انکےدلوں میں رحم ڈالدے

میرے مولا

اسنے روتے ہوئے کہا

اس سےیہ سب برداشت نا ہوتا تھا مگرکیاکرتی

جوقسمت میں لکھاتھاوہی ہوناتھابےشک وہ انہیں ہی مشکل میں ڈالتاہےجواسکےقریب ہوں

اےمنحوس

تویہاں اپنے باپ مرے کاماتم منارہی

انہوں نےاسےبالوں سےپکڑ کر کھینچا

بواجی

پلیز آپ نےجوکہنا ہےمجھےکہیں

میری فیملی کوبیچ میں مت لائیں

اچھا

آج پھر تیری زبان کھل گئی

بلاؤں ولی کو

اورکہوں کےفون کرکے بلائےتیرےباپ کو

پچھلی بارکی طرح

انہوں نے

شیطانی ہنسی ہنستےکہا

مریم کاچہرہ سفید ہوگیا تھا

نن نئی بواجی

پلی پلیز آپ انہیں کچھ مت کہیے

اسنےاٹکتےہوئےکہا

وہ کیسےانکےسامنےاپنامنہ کھول سکتی تھی اسنے خودسے عہد لیا تھا

چاہےاسکے ساتھ وہ جوبھی کریں

وہ کچھ نابولےگی

اچھانئی بتاتی چل اٹھ اورسب مہمانوں کوکھانا دے

اورہاں

اچھےسےمنہ دھولینا

سمجھی کسی کوپتہ ناچلے

سمجھ

گئی ناں

انہوں نےاس سےتائیدچاہی

اوراس نےسرجھکا کر ہاں میں سرہلا دیا

وہ اسپر طنزیہ مسکراہٹ اچھال کرچلی گئیں

@@

ارےتم یہاں ہے ہم تجھکو کب سےڈھونڈ رہا

تھا

ولی کچن سے ملحقہ باتھروم میسےمریم کونکلتا دیکھ کےبولا

جی آپکوکوئی کام تھا

اسنےسرجکھاکرکہا

ہاں تم ہمارےساتھ چلوناں

بتاتاہے

تجھکووہ اسےکہکرآگےبڑھا

مگرکسی احساس کےتحت دوبارہ استک آیا

تمنے ہمارا لایا کپڑا نہی پہنا

ہمنےتجھےکہاتھاکےآج پہننااسنے

اسکی تھوڑی پکڑ کرکہا

اسکادل چاہاکےکہدےکےکب پہنتی تب جب وہ اسپرلاتوں جوتوں کی برسات کررہا تھا یا تب جب وہ اسے سبکے سامنےگھسیٹتا ہواکچن تک لایاتھا

اسنےکہابھی توبس اتناکے

جی پہن لیتی ہوں

جلدی آنا

وہ حکم صادرکرتاچلاگیا

اور وہ آنکھ میں آئےآنسوں کوپیچھے دھکیلتی جلدی سےآگےبڑھی

کیونکےوہ اب اچھی طرح جانچکی تھی کےدیرکرنےکی اسےکیا سزاملنی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *