Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 04)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 04)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
تم ی ناں مریم کیوں اسے تنگ کرتی ہو فوزیہ نے کہا
میں تنگ کرتی ہوں یا وہ
آپ اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا کرو سمجھی اور ہاں اپنے لاڈلے سے کہنا کے برف میں نمک ملا کر لگاے
اسکا درد ٹھیک ہوجاے گا
وہ کہہ کر جانے کیلیے اٹھ گئی
وہ جو باہر کھڑا اسکی بات سنکے مسکرارہا تھا اسے اٹھتا دیکھ کر اندر آکے پوچھنے لگا
تم سے مطلب اسنے ناک چڑھا کر کہا
اب سے تمہارے ہر کام میں میرا ہی مطلب ہے اسنے زیر لب کہا
کیا کہا
کچھ نی شانی اب تم ناراض تو مت ہونا مجھ سے اب اگر کسی نے مجھے کچھ کہا تو خد ہی ہینڈل کرلوں گا اسنے معصومیت سے کہا جس پر مریم کی ہنسی نکلی پر وہ چپ کرگئی
تم ہر بار یہی کہتے ہو پر عمل نی کرتے اسنے کہا اور چلی گئی اور وہ آوازیں دیتا رہا
@@@@@@@@@
مریم آج تم جارہی ہو نا
اقا نے کہا
ہاں
مریم نے کہا
تو پھر کیوناں آج مزا کرلیں ہم
انتینوں نے آئیڈیا دیا
کرلو
تمبھی آؤ نا یار
اوکے پر کرنا یا ہے مریم نے سوال کیا
جو ہمیشہ کرتے ہے انہونے مسکرا کر کہا
او تو پھر میں ی آونگی سوری ویسے بھی مجھے اب پیپسی پینی ہے یو گائز کیری آن وہ کہہ کر اٹھکے شاپ پر چلی گئی اور ان دونوں کیلیے بھی چیز لے آئی
شانی شانی شانی
وہ ابھی آکر بیٹھی ہی تھی کے عتیق چلاتا ہوا آیا
اب کیا مصیبت ہے کہہ کر مریم نے منہ موڑا اور وہی ٹھٹھک گئی
یہ یہ کیا ہوا تمہے اسنے پوچھا
وہ وہ لڑکے اسنے پھولی سانس سے کہا
کیا وہ وہ لگارکھی ہے مریم کو اسپے غصہ آیا
انلوگوں ے مجھے مارا ہے ابتم انکو مارو اسنے کہا
اچھا مارتی ہوں
کیا کہا تمنے کے میں انکو ماروں نو وے مسٹر تمنے کل کہا تھا کے ابسے مجھے تمہاری کوئی ضرورت نی ہے تو میں کیوں کروں تمہاری مدد اب اسنے بوتل کا سپ لیتے ہوے کہا
مینے کب ایسا کہا مینے تو کہا کے اب میبھی مارا کروں گا نے اسکی غلط بینی پر ٹرپ کر کہا
تو تمہے تو بس دو وقتوں میں ہی میری ضرورت ہوتی ہے ایک کھانے میں ایک مارنے میں اسن اطمینان سے جواب دیا
دیکھو شانی وہ آرہے ہے مجھے بچالو
اسنے ڈرتے ہوے کہا
تو خد مارو ساری زندگی تو میں تمھارے ساتھ نی رہنے والی نا
اچھا اسکا مطلب ہے تم میری مدد نی کرو گی اسنے رعب سے پوچھا
نی اسنے بھی کہا
نی کرو گی؟
اب کی لکھ کر دوں تمہے اسنے بیزاری سے کہا
تب تک انلوگوں نے اسے پکڑ لیا ابے اس سالی کے پیچھے کیوں چھپ رہا ہے ان میسے ایک نے کہا
بکواس مت کرنا اسکے بارے میں عتیق دھاڑا
کیوں نا کرے کرے گی ہم اسنے کہا اور اسکے پیٹ میں لات ماری
آہ وہ کراہا
ابے دیکھ لڑکیوں کی طرح آوازیں نکالتا ہے سالا اور پھر مارنا شروع کردیا
دے ہماری پین ڈرائیو اسنے کہا اور ایک اور لات ماردی
میرے پاس نی ہے عتیق نے کہا
مریم کہیں یہ اس پین ڈرائیو کی بات تو نی کررہا فاریہ نے سرگوشی کی
شش مریم نے اسے چپکرنے کو کہا
مریم کو برا لگا کے وہ لوگ اسے اسکی غلطی کی سزا دے رہی ہیں
اقا اسنے اشارے سے اقا کو بلایا اور اسکے ہاتھ سے بیگ لیا
شانی یہہ کیا کررہے ہو اقا نے حیرانی سے مریم سے کہا جو اب ہاتھوں پر کیلوں والی بینڈ چڑھارہی تھی
اسکی مدد کیونکے اسنے اسے ساری بات بتادی
اچھا پر خیال رکھنا
اسنے اثبات میسر ہلایا
ابے او کیوں ماررہے ہو اسے مریم نے انسے کہا جو بری طرح اسے پیٹ رہے تھے
ابے تو بیچ میں مت بول اسنے کہا
ابے تو اسے چھوڑ دے ہ۔ نی بولتا اسنے بنگالی اسٹائل میں کہا جو اس علاقے میں عام زبان تھی
ابے تیری تو لگتا ہے تو باز نا آے گی اسنے اسے تھپڑ مارنے کیلیے ہاتھ اٹھایا ر مریم نے فرتی سے اسکے پیٹ میں لات مارکے کیلوں والی بینڈ سے اسکے منہ پر مکا مارا
اور وہ گرگیا تو مریم نے اسکی کمر مے مارا جسسے وہ دوبارہ نی اٹھ پاے گا
اسکے بھای نے اپنے بھای کی حالت دیکھی تو اسے مارنے آیا پر فلارہ نے راستے پر کنچے بکھیر دیے تھے جسسے وہ سب منہ کے بل گرے
چونکے یہ معاملہ چیک پوسٹ کے نزدیک ہورہی تھا اسلیے ہاں پولیس آگئی
اور ان سب کو پکڑ لیا
ارے بیٹا آپ یہاں کیا کررہے ہو انہونے مریم سے کہ وہ انکل ہمنے اسدن آپکو ایک پین ڈرائیو دی تھی ناں تو انلوگوں نے اسے حاصل کرنے کیلیے میرے کزن کو مارا اور پھر ہمنے بھی جواب دیا
عتیق تو اسکی بات کر ہکابکا رہ گیا کے یہ ایسا کرسکتی ہے
جی بچے آپنے ہمیں وہ چپ دے کر اپنے شہری ہونے کی زمہداری پوری کی آی ایم پراؤڈ آف یو
انہونے فخر سے کہا
شکریہ انکل پر یہ ہمارہ فرض تھا
آپکا گھر کہاں ہے بچے انہوں نے پوچھا
ڈالمیا میں انکل
تو پھر آپ یہاں گلشن اقبال میں کیسے؟
ہم تو یہاں تک واک کرنے آئے تھےاسنے کہا
شاباش بچے انہونے کہا اور چلے گئے
مریم تم تم انلوگوں کو جانتی ہو پر کیسے عتیق نے حیرت سے پوچھا
تمہیں نی پتا عتیق اسنے کہا
نی مجھے نی پتا
او میری ماسی دے پتر نیں اقا نے کہا وہ ایسی ہی تھی جب اسے غصہ آتا ہ پنجابی بولنا شروع ہوجاتی
اسکی بات پر سب ہنس پڑے
یار بتابھی دو اسنے کہا
اچھا وہ لوگ بمب بناتے ہیں اور انکی چپ میں بمب بنانے کا فارمولا اور الیگل سیکرٹس ہیں
اسدن ہم اس کھولی کے پاس تھے جب انکے کسی ساتھی کی جیب سے پین ڈرائیو گری تھی
اور ہمنے اٹھائی تو اسے دینے کیلیے تھی پر وہ فون پر کسے سے کہہ رہا تھا کے اب وہ فوج کو برباد کردے گا کیونکے اسکی چپ میں سارا ڈیٹا ہے
تو ہمنے اسے چیک پوسٹ پر دےدیا اور انہونے اسسے سارہ ڈیٹا نکال لیا
پر ان کو کس نے کہا کءے پین ڈرائیو میرے پاس ہے عتیق نے پوچھا
وہ یے میرے بھای کے تمہاری اک بہت گندی عادت ہے کے تم مریم سے پوچھے بغیر اسسے چیزیں چھین لیتے ہو اقا نے اسے شرم دلانی چاہی
اچھا اب نی کروں گا ایسے اسنے ہونٹ پر ہاتھ رکھے کہا جہانسے خون نکل رہا تھا
فاری مریم نے کہا
جی
اسکی فرسٹ ایڈ کردو نی تو گھر جاتا ہی رونے لگ جاے گا اسنیں طنزیہ کہا
وہ بس اسے دیکھتا رہا اسے آج پتا چلگیا تھا کے مریم اسکی پرواہ کرتی ہے
@@@@@@@@@
بیٹا پیکنگ ہوگئی رضیہ بیگم نے پوچھا
جی امی بس شانی کے سپورٹ شوز رکھ دوں
اچھا بچے وہ پیار سے کہہ کر چلی گیں
@@@@@@
مریم کو آے آج چھ دن ہوگئے تھے اور پرسوں انکا فائنل تھا
پریکٹس بہت سترکٹ تھی۔
پر کسی نے صحیح کہا ہے ناں کے
راستے مشکل ہوتے ہیں منزل کو جانے کیلیے
@@@
آخر وہ دن آہی گیا جسکا سب کو ہی انتظار تھا
دوڑ شروع ہوچکی تھی
دوڑ کی لمٹ تین میل تک کی تھی
کوچ نے سیٹی بجا کر انکو بھاگنے ا اشارہ کیا
ہر کوئی جیتنے کیلیے ہر ممکن کوشش کررہا تھا پر جیت جسکا مقدر ہوتی ہے اسے ہی ملتی ہے اور ایسا ہی ہوا چار بار یک لڑکی کی مریم کو گرانے کے باوجود بھی مریم دوسرے نمبر پر آگئی تھی اور وہ ہت خوش تھی کیونکے اب منزل بہت قریب تھی
اسنے سوچا کے اب اسے دنیا کی کوئی طاقت بھی آرمی جوائن کرنے سے نی روک سکتی۔
پر دور کھڑی قسمت اسکی بات پر تلخی سے مسکرادی
اور گزرتے وقت نے رک کر کہا کے مجھے آنے تو دے پھر دیکھنا اور گزرگیا
جہاں قسمت اور وقت انسان کے خیلاف ہوں تو بس ک ہی سہارہ بچ جاتا ہے
بے شک وہ رحم کرنے والا ہے انپر جو اسکی مانتے
وہ جیت گئی تھی اب اسکی منزل اسکے قریب آرہی تھی
وہ بہت خوش تھی
اسنے گھر پے فون کرکے سبکو بتادیا تھا اور اگلے دن اسکی واپسی تھی
اقا اقا دیکھا مینے کہا تھا ناں کے میں جیت جاوں گی اسنے خوشی سے اقصٰی سے کہا جو اسکی خوشی میں خوش تھی
ہاں شانی مجھے تم پر یقین تھا کے تم کردیکھاوگی اب جلدی سے واپس آجاو ہمبھی پرسوں نکلنے والے ہیں اور تمہارے کپڑے بھی تو لینے ہے ناں
اقا نے نےکہا
ہاں تملوگ لےلینا نی تو میں وہی لہنگا پہن لوں گی جو اسکول پرفارمنس میں پہنا تھا اسنے سوچتے ہوے کہا
بس کر یار کتنی دفعہ پہنے گی اسے اقا نے کہا
ہا
چار بار تو پہنا ہے زیدہ تو نی ہے یار تمبھی ناں تمہے پتا ہے کے
ہاں مکجھے پتا ہے کے شانی دی گریٹسٹ بادشاہ فضول خرچی نی کرتا اقا نے اسکی ات کاٹتے ہوے کہا
تو پھر بھول کیوں جاتی ہو مریم نے کہا
میں کہتیں ہونکے شاید تم کبھی بدل جاو اقا نے افسوس سے کہا
بدلتے تو موسم ہے مریم کوئی موسم نی ہے جو بدل جاے مریم نے اپنے مخصوس انداز میں کہا
اچھا اپنا خیال رکھنا اللّٰہ حافظ
ارے یار اتنی جلدی اقا نے کہا
یار EARLY TO BED EARLY RO RISE MAKES MAN HEALTHY AND WISE
مریم نے کہا
ہاں
مریم تم کبھی کبھی کراچی کی لگتی ہی نی ہو اقا نے کہا
چل لڑکی مجھے باتوں میں مت لگاؤ
فوجی کبھی اپنی روٹین نی بدلتا
مریم ے کہتے ساتھ ہی فون بند کردیا
@@@@@@@@
مریم بیٹا نکلنے کا وقت ہوگیا ہے چلیں
عاشق صاحب نے پوچھا
جی ڈیڈی چلتے ہیں مریم نے اپنا بیگ گاڑی میں رکھتے ہوے کہا
ماموں ٹرین تو دیر سے ہی آنی ہے ہم ابھی کیوں جارہے ہیں اتنی جلدی اقا نے کہا جو ایک گھنٹہ پہلے ہی تیار تھے اور مریم کو یہہ عادت اپنے مما بابا سے ہی ملی ہے
کیونکے ہم اسکا انتیظار کریں گے ناکے ٹرین ہمارا کرے گی
عاشق صاحب اور شانی دونوں اکھٹھے بولے
اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادیے
اچھا جی تو میڈم میرے ساتھ رہ کر اتنی سمجھدار ہوگئی ہے
عتیق نے شوخی سے کہا
جی سر میڈم تو سمجھدار ہوگیں ہیں مگر آپ ابتک نی ہوے
مریم نے طنزیہ کہا
تو آپکردیں ناں اسنے آنکھوں میں شرارت بھرتے کہا
جوتوں سے اسنے کہا
تمہارے لیے تو جوتے بھی کھسکتا ہوں چاہے تو ازمالو اسنے سرگوشی کی اور مریم کو اپنا دل حلق میں دھڑکتا محسوس ہوا
تم تم دفع ہوجاو اب اسنے کہا
اچھا ہوجاونگا پر تم کیوں گیھبرارہی ہو اسنے اسے پسینے آنے پر چوٹ کی
کھبراتی ہے میری جوتی اور وہ بھی تمجیسے کالے کلوٹے سے میں کھبراووں اچھی خوش فہمی ہے اسنے طنًز کہا
ہا تمنے مجھے کالا کہا اسنے اپنے ہاتھ پیر کو دیکھتے ہوے کہا جو مرہم سے تو کالے تھے پر اسکا رنگ بادامی تھا
تمہارے علاوہ کوی اور ہے کیا اسنے کہتے ہوے سامان رکھا
ہا مریم تمہاری اتنی ہمت کے تمنے یرے بھائی کو کالا کہا
اقا نے مصنوئ لہجے میں کہا
دیکھا خون خون کو دیکھ کر بو مار ہی گیا آخر اسن فخر سے کہا
ہاں بولو مریم جواب دو میری بہن کی بات کا اسنے اقا کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
پراں مر توں مینوں وی کالا کرناآ کی اقا نے اسے رے کرتے ہوے کہا
مریم تمنے بتایا نی کے تمنے عتیق کو کالا کیوں کہا وہ جسکی بانچھیں تھوڑی بند ہوگئیں تھیں پھر کھل گئیں
بولو نا اب اسنے کہا اسکو آج کی بہن کی سپورٹ تھی تو وہ کیوں نا کھلتا
تمتو بیک گراونڈ میوسک دینا بند کرو
مریم ے اسے گھرکا
خیر ہے آج تمہے اس بھوت پے کیسے پیار آگیا اسنے اقا کو گھورا
تمنے میرے بھای کو کالا کہا
ہاں کہا تو مریم نے ینیزی سے کہا
تمنے اسے کالا کہہ کر اسے ۔
اسے
اسے
آگے بھی تو بولو عتیق نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھکے کہا جو یک ہی بات دہرارہی تھی اور مریم کو ترچھی نگاہوں سے دیکھکے ہنسا
اسے
اسے
سچائی بتانے کی کیا ضرورت تھی تمنے اس سچائی سے ہمکنار کردیا مریم اقا نے اپنی بات مکمل کرکے ہنستے ہوے کہا اور عتیق نے صدمے سے اپنی ماں جائی کو دیکھا
جو کے اسکی بے عزتی پر کہکہے لگارہی تھی
دیکھ لونگا تم دونوں کو
وہ کہہ کر پلٹا
شوق سے دونوں نے بیک وقت کہا اور مسکرانے۔
________
مما مما اسنے انہیں آوازیں دی
کیا ہوا شانی کیوں چیخ رہی ہو
انہونے کچن سے ہی آواز دی کیونکے وہ کھانا پیک کررہی تھیں
مما آنٹی نی آئیں ابھی تک اور انکل بھی نی آے
دیر ہورہی ہے ناں آپ فون کرکے جلدی آنے کا کہیں
مریم نے ردا خالہ اور شاہد چاچو کا پوچھتے ہوے کہا
ابھی بات ہوئ ہے میری
رضیہ بیگم نے کہا
تو کیا کھا انہونے اسنے دریافت کیا
اسنے کہا ہے کے وہ نی آرہی ہے انہونے نظریں جکھاکر کہا
مریم نے حیرت سے انھے دیکھا جو اسی سے ہی نظریں چرارہی تھیں
یانی کے انیہیں نانی نے فون کر ہی دیا مریم نے تاسف سے سر جھتکتے ہوے کہا
شانی اب ایسی بھی بات نی ہے انہوں نے اسے سمجھاتے ہوے کہا اسکی کوئی وجہ ہوگی نا ایسے ہی تو
اچھا مما آپ مجھسے یہ سب کہہ رہی ہیں اسنے کہا
جیسے میں تو انوں کو جانتی ہی نی ناں
خالہ نے سب تیاریاں کرلی تھیں میں اور اقا کل انکے گھر گئے ہوئے تھے انکا بیگ پیک تھا اور اسکول سے بھی انہونے ایک ہفتے کی چھٹی لے رکھی تھی
اسنے انکو بتایا تاکے وہ یہ بات صابت کردے کے وہ سبسے انجان نی ہے
یہ سب نانی کا ہی کیا دھرا ہے پتہ نی وہ کیوں انکی لائف سے دخل اندازی کرنا نی چھوڑتیں
اسنے کہا اور چلی گئی
راستے میں ہی اسنے کہا اور ہاں مما اگر اب نانی نے آپکو کچھ کہا تو اچھا نی ہوگا
مریم مریم وہ پیچھے سے اسے بلاتی رہ گئیں
وہ جانتیں تھیں کے انکی بیٹی غلط کبھی بھی برداشت نی کرے گی
ارشی کی بات پر سوچنا چاہیے مجھے کلکو اگر
نی نی میں ایسا کچھ نی سوچ سکتی
۔ ۔ ۔ ۔
تیار ہو آپ لوگ
عاشق صاحب نے انسے آتے پوچھا
جی
ماموں ہم تیار ہیں اقا نے کہا بس کھانا پیک ہوجاے اقا نے کہا
کھانا بھی تیار ہے چلیں اب عتیق نے رضیہ بیگم کو آتے دیکھا تو کہا
دیکھا شانی اس نادیدے تک کھانے کی خوشبو کیسے پہنچ گئی اقا نے کہا
اقا نے اسے دیکھا جو کبسے
چپ بیٹھی تھی
کیا ہوا شانی تمنے سنا نی کے مینے کیا کہا تھا
ہاں سنا
اسنے کہا
مجھے عتیق نامے کے علاوہ بھی کوئی کام ہے اقا
اسنیے بے زاری سے کہا
اچھا شانی اب چھوڑو بھی
رضیہ بیگم نے کہا
چھوڑ ہی تورہی ہوں مما
اور کر ہی کیا سکتی ہوں اسنے افسوس سے انہے دیکھکر کہا
چلیں آدھا گھنٹہ رہتا ہے اب
انہونے کہا کہا
۔ ۔ ۔
شانی تمنے کوئی سونگز ڈیسائڈ کیا ہے کیا؟
اقا ے پوچھا
کسلیے مریم نے پوچھا
ارے یار ڈانس کیلیے ور کسلیے اسنے اسے یاد دلایا
ڈانس کیوں کرنا
او اچھا اچھا مجھے بلکل یاد ہی نی رہی یہ بات اسنے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
چلو کوئی نئی اب ڈیسائڈ کرلو
اقا نے کہا
ٹیب دینا مجھے مریم نے اقا سے اپنی ٹیب مانگتے ہوے کہا اور پرس میسی U S B
نکالی تاکے نگ سلیکٹ کرسکے
تھوڑی دیر بعد اسنے گانا سلیکٹ کرہی لیا اور اقا کو بھی دیکھایا
اقا کو بھی اسکی سلیکشن بہت اچھی لگی اور اسنے بھی ڈن کہا
اب وہ دونوں گانیں دیکھرہی تھیں ناچنا تو تمہے میرے ساتھ ہی پڑے گا مس مریم
عتیق سوچ کر مسکرایا ۔
