Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 19)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

مریم تمہیں اسےیہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا اب دیکھنا میں تمہارا کیا حال کرتی ہوں

دعا نے مریم کو غراتے ہوئے کہا

ارے بہن آپ کیوں اسکی اتنی سائیڈ لے رہی ہیں

آپکا بھائی لگتاہے کیا

مریم نے معصوم ساسوال پوچھا

شٹ اب یو وچ

اے گالیاں مجھے بھی آتی ہیں سمجھی

میں چپ ہوں اسلیے کے میری پرورش اچھی ہوئی ہے

آئندہ سے مجھسے بکواس کرنے سے پہلے لاکھ بار سوچ لینا سمجھی

دوبارہ پنگا مت لینا ورنہ میں بھول جاوں گی کے میں کہا ہوں

مریم نےغصے سے لال ہوتے چہرے سے اسکا منہ دبوچ کر کہا

دفع ہو اب

اور دعا آنکھوں میں آنسوں لیےچلی گئی

@@

محسن جلدی کر چھٹی ہونے والی ہے

فیض نے بائیک کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

ہوگیا ہے

محسن نے اٹھتے ہوئے مسکرا کرکہا

اب آئیگامزہ

اسنے محسن کے ہاتھ پرہاتھ مارکر کہا

@@

چھٹی کا وقت ہورہا تھااور موسم بھی کافی خراب ہوگیا تھا

مریم نے جلدی سے بکس بیگ میں ڈالیں اور گیٹ تک آئی

کیونکے آج اسنے بائیک گیٹ کیطرف ہی کھڑی کی تھی

وہ بائیک کے قریب ہی آئی تھی کے اسے بائیک کے دونوں ٹائر پنکچر نظر آئے

انہیں بھی ابھی پنکچر ہونا تھا

مریم نے پریشانی سے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا

موسم کافی خراب ہورہا تھا

وہ چلتی ہوئی گارڈ کے پاس آئی

السلام و عليكم انکل

آپسے مدد چاہیے تھی

وعليكم و السلام

جیتی رہو بیٹی

بولو کیا کام ہے

پھر اسنے انسے کہا کے اسکی بائیک کے ٹائیر پنکچر ہیں

تو انہیں پنکچر

لگوادیں

ٹھیک ہے بیٹا مگر ابھی ابھی تو چھٹی ہوئی ہے

اسلیے میں تو نہیں جاسکتا

مگر کاشان انہوں نے اپنے بیٹے کا نام لیتے ہوئے کہا

وہ لگوادیتا ہے آپ تب تک انتظار کرلیں

تبھی ایک ہوا کا جھونکا اسکے بدن سے چھوکر گزرا

شکر ہے میرے مولا

انکل نے شکر ادا کیا

مریم گھبرا سی گئی تھی

انکل بس کب تک جائے گی آپ بائیک ٹھیک کرواکے رکھے گا میں بس سے چلی جاتی ہوں

بیٹا بس تو آج گئی ہی نہیں اور تو اور آج بسوں اوررکشے کی ہرتال ہے اسلیے کچھ بھی نہیں ملے گا

اوہ

مگر اسے کچھ یاد آیا

انکل ماموں

میرا مطلب ہے سر ارشد کہاں ہونگے اب

بیٹا وہ تو بریک کے بعد ہی چلے گئے تھے بچوں والے اسکول میں

مریم کو اب واقعی میں بہت پریشانی ہوئی

اوپر سے تیز ہوائیں

اسکا دل ڈھل گیا

اچھا انکل موبائل سے انہیں کال کرکے کہیں کے مجھے گھر چھوڑ دیں

بچے کالج میں موبائل منع ہے آپ گراوئنڈ میں جاکر بیٹھ جائیں میں کاشان کو بھیجتاہوں

جی

اسنے اردگرد پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہا

وہ آگے گراوئنڈ میں چلی آئی

تبھی ایک لڑکا لڑکی سے کہرہا تھا کے

تم نے دیکھا ہے کبھی دل کو اُترتے دل میں

دیکھو برسات میں برکھا کو اُترتے دل میں

موسم گُل میں بھی جلتا ہے کبھی دیکھو دل

تم نے دیکھی ہے کبھی شام سنورتے دل میں

خاک سے رزق کو چُنتے ہوئے چہرے دیکھو

حسرتیں دیکھی ہیں آنکھوں میں سمٹتے دل میں

مینے دیکھا ہے

جب تمہیں مسکراتے

وہ لڑکی اسکی باتوں سے خوش ہورہی تھی

مریم نے منہ دوسری طرف موڑلیا تھا

@@

بیگم ابھی تک شانی نہیں آئی

موسم بھی خراب ہورہا ہے

عاشق صاحب نے فکر مندی سے کہا

جی ابھی تک تو آ جاتی ہے شاید ٹرائیفک ہوگا اسلیے لیٹ ہوگی

اگر ہوا چلنے لگی تو انہوں نے پریشانی سے کہا

ارشی ساتھ ہی ہوگا اسے پتا تو ہے کے مریم ہوا سے ہلتے درختوں سے ڈرتی ہے

رضیہ بیگم نے انہیں تصلی دی

ارشی کا تو فون ہی نہیں لگرہا

اللّٰہ خیر رکھے

@@

اسے وہاں بیٹھے بیٹھے آدھا گھنٹا ہوگیا تھا

سارا کالج بھی خالی ہوگیا تھا بس چند ایک سٹوڈنٹس تھے

اسے اس سارے کالج سے وہشت ہورہی تھی

وہ اردگرد چلتی آرہی تھی

ایک تو ماموں کی سبزے کی بری عادت ہے

چلو لگالیا تو لگالیا

مگر اسے بھی آج ہی ہلنا تھا

اف اب میں کیاں کروں

ساری مصیبتیں آج ہی کے دن ہونی تھیں

اور یہ درخت

اسے بھی آج ہی ہلنا تھا

اسنے چکر لگاتے ہوئے کہا ابھی وہ کھڑی ہی تھی کے

تیز آندھی شروع ہوگئی

سارے درخت ایسے ہلرہے تھے جیسے ٹوٹ کر اسی پر گرنے ہوں

یا للّٰہ بند کردیں اسے

اسکا خوف کی وجہ سے دم گھٹنے لگا

اسنے بینچ سے ٹیک لگاکر نیچے بیٹھتے ہوئے

پانی کی بوتل نکالی مگر اسمیں پانی ختم ہوچکا تھا

مریم نے ہلا کر دیکھا پھر بھی ایک قطرہ نا نکلا

واٹر کولر بھی بند کردیا گیا تھا

او میرے اللّٰہ

اسکی آنکھوں میں آنسوں آگئے

ہوا تیز سے تیز تر آندھی میں تبدیل ہوگئی تھی

مریم ہلتے درختوں کو جتنا نا دیکھنے کی کوشش کرتی اتنا ہی وہ ہلتے تھے

تبھی اسے کسی کی آواز سنائی دی اسنے ادھر ادھر دیکھا اسکا دم گھٹ رہا تھا

تبھی اسےاپنے سامنے فض بیٹھا نظر آیا

ارے بی بی بدھی تم ابھی تک کالج میں ہو

مریم جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی

اسکی نظر اسکے پاس پڑی بوتل پر پڑی

اسنے پانی کیطرف ہاتھ بڑھایا

تو فیض نے جلدی سے بوتل اٹھالی

پپ پا پا نی ی

اسکا حلق خشک ہوگیا تھا جسسے اسسے بولا بھی نہیں جارہا تھا

او پانی چاہیے

یہ لے اسنے بوتل اسکیطرف بڑھائی جب وہ لینے لگی تو

اسنے پیچھے کرلی

پپ لی ی ز

پا اان نی دی ی یدووو

مریم نے اکھڑتے سانس سے کہا

فیض کے دل کو کچھ ہوا

مگر اسنے دماغ کو دل پر ہاوی کرلیا اور بوتل اوپر کو اچھال دی

مریم اوپر جاتی بوتل کیطرف دیکھ رہی تی جبھی تیز ہوا سے درخت ہلے مریم کا جسم کانپنا شروع ہوگیا

کیا کیاہوا ہیں فیض کو اسکی حالت دیکھکر پریشانی ہوئی

مریم مریم

اسنے جھٹکے کھاتی مریم کو تھام کر کہا وہ گرت چلی گئی

اسکا سارا جسم ٹھنڈا ہوچکا تھا جبکے اسکا ہاتھ اپنے گلے کی طرف تھا

مریم کیا ہوا تمہیں

فیض اب اسکے سر پر ہاتھ پھیررہا تھا

تبھی مریم کھانسنے لگی

فیض نے جلدی سے اٹھکر پانی کی تلاش کی مگر پانی درختوں کے پار چلاگیا تھا

اسنے جلدی سے گارٍڈ کو بلایا تب تک مریم بے ہوش ہوچکی تھی اور اسکے منہ سے خون نکل رہا تھا

@@

مریم کو وہ اب ہوسپٹل میں لے آئے تھے

اسے اسے شدید قسم کا سانس کا دورہ پڑا تھا

دل ما مسلہ ہونے کی وجہ سے اسے سانس لینے میں زیادہ دشواری ہوئی تھی

جسکی وجہ سے ہی سکے منہ سے خون نکل پڑا تھا

سب وہاں موجود تھے

ارشد صاحب کو ہسپتال آتے ہی گارڈ نے کال کردی تھی

سب وہیں موجود تھے

رضیہ بیگم بس روئے جارہی تھیں

اتنے میں ڈاکٹر نے آکر مریم کی حالت بتائی

اور کہا کے خوف کی وجہ سے پیشنٹ کی سانس اکھڑی تھی

انہیں کس چیز سے ڈر لگتا ہے؟

جی میری بہن ہلتے ہوئے درختوں سے ڈر لگتا ہے اور اسکا سانس بند ہوجاتا ہے

کافی عجیب ہیں

بہرحال آپ انہیں لیجاسکتے ہیں جب ہوش آجائے

وہ ہکر چلے چلےگئے

یہ لڑکی بھی عجیب ہے سانپ سے نہیں ڈرتی پر ہوا سے ڈرتی ہے

فیض سوچ کر رہ گیا

@@

مریم کو ہوسپٹل میں ہوش آگیا تھا مگر وہ ایک منٹ کے اندر ہی سوگئی

گھر والے اسے گھر لے آئے تھے

اقا نہیں گئی تھی کیونکے رضیہ بیگم نے اسے جیا کے پاس رکنے کو کہا تھا

@@@

۔مریم کو جب ہوش آیا تو صبح کی ہلکی ہلکی روشنی پردے سے ہوتے ہوئے کمرے میں داخل ہو رہی تھی

اسکے سر میں شدید قسم کا درد ہورہا تھا

اسے دھندلا دھندلا سا یاد تھا

مریم نے اپنے ذہن پر زور دے کرارد گرد دیکھا

وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر موجود تھی

وہ وہاں کیسے آئی تھی

اسنےیاد کرنے کی کوشش کی

اسے آخری بات جو یاد آئی اس سے وہ ایکدم کپکپائی تھی.

اسے یقین نہیں تھا کہ وہ اگلا دن دیکھے گی

اسے سانس لینے میں ابھی بھی تکلیف ہو رہی تھی

مریم کو لگا کت کمرے میں کوئی نہیں ہے اسلیے اٹھنے کی کوشش کی

اسے پیاس کا احساس ہوا تو

اس نے ادھر ادھر دیکھا تو رضیہ بیگم سامنے صوفے پر نیم دراز تھیں

شاید وہ سو رہی تھیں

مریم نےانہیں جگانا مناسب نہیں سمجھااسلیےاٹھنےلگی تو سانس بندہونے لگی

وہ جلدی سے روم فریج سےپانی لائی

اورپینا شروع کردیا جب اسے اچھولگا جسکی وجہ سے رضیہ بیگم کی آنکھ کھل گئی

کیاہوا شانی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں

انہوں نے اسکی کمر سہلاتے ہوئےکہا

جی مما ٹھیک ہوں

میں

مریم کو بولنے میں بھی تکلیف ہو رہی تھی اور وہ اپنی آواز بھی پہچان نا پائی تھی

چلو بیٹا آرام کرو

انہوں نے شفقت سےاسکے سر پر ہاتھ پھیرا

مریم لیٹ گئی اور سوچنے لگی کے

اسے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا

کم از کم اسے ہی اپنی پرواہ ہونی چاہیے تھی

اب وہ زندہ تھی

نجانے وہ کس بات کی سزا بھگت رہی تھی

جو لوگ اسکے ساتھ ایسا کررہے تھے

اس انسان سے تواسے کوئی توقع ہی نہیں تھی بھلائی کی پھر پھر کسنےاسے بچایا

وہ یہی بات سوچتے سوچتے سوگئی

@@

مریم کی آنکھ جیا کےاٹھانے سے کھلی تھی

کیا ہوا جیا

مریم نے اسکے سہارے ے اٹھتے ہوئے کہا

آپی صبح بخیر

اور

کیا حال ہیں آپ کے؟

اسنےمریم کو اپنے ننھےہاتھوں سے چھوتے ہوئے کہا

صبح بخیر

جیا

میں ٹھیک ہوں

مریم نےہلکی آواز سے کہااسسے بات کرنے میں مشکل ہورہی تھی

جیا کون آیا ہے یہ آوازیں کیسی ہیں

مریم نے چپل پہنتےہوئے کہا

آپی وہ ایک آنٹی اور انکل وغیرہ آئیں ہیں انکے ساتھ جو کل آپکو لیکر آیا تھا

مجھے کون لایا تھا

مریم نے حیرت سےپوچھا

تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور شاہینہ بیگم اندر آئیں

السلام و عليكم

آنٹی آپ یہاں؟

وعليكم و السلام

بچےکیسے ہو؟

انہوں نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے کہا

اللّٰہ کا شکر ہے آنٹی

میں ٹھیک ہوں

مریم نے کہا

چند اور رسمی گفتگو کے بعد آنٹی نے کہا

بیٹا اب ہم چلتے ہیں

وہ کہکر اٹھی ہی تھیں کے فیض اندر آگیا اور اسکے ساتھ اقااور رضیہ بیگم تھیں

جیاکو نہوں نے باہر بھیج دیا تھا

تم تم یہاں کیا کرنے آئے ہو مریم نے غصےسےاسے دیکھکے کہا

تم سے ملنے آیا ہوں

اور کسلیے

اسنے کرسی سیدھی کرکے بیٹھتے ہوئے کہا

بڑے بے شرم ہو تم تو

مریم نے ناگواری سے کہا

دیکھو

مریم

کل جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہئیے تھا

میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ تمہارے ساتھ ایسا کچھ نہیں کروں گا

اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

مجھے تمپر کبھی اعتبار نہیں ہے

اسلیے پلیز چلے جاؤ

شانی تم کیسے بات کررہی ہو

رضیہ بیگم نے اسکے لہجے پر کہا

مما آپ نہیں جانتی اسنے کیا کیا ہے اور پھر مریم نے انہیں کل کا واقعہ سنادیا

شاہینہ بیگم بھی غصے میں آگئیں تھیں

مریم میرا قصور نہیں تھا

مجھے تو لگا تھا کہ تم کوئی بدتمیز سی لڑکی ہو

پر یہاں تو معاملہ الٹا تھا

اچھا تو مہیں اب میں تمیز دار لگرہی ہوں

نہیں اب بھی نہیں لگ رہی خاص کر میرے معاملے میں

اسنے اس انداز سے کہا کے اقا کی ہنسی چھوٹ گئی

مریم نے اسے گھورا

تو فیض کی نظر اقا کےچہرے پر پڑی تو وہ کبھی مریم کو تو کبھی اقا کو حیرت سے دیکھنے لگا

کیا ہوا

شاہینہ بیگم نے بھی اقا کی طرف غور سے دیکھا تو انہیں بھی دھچکا لگا

ارے زبان سے تو یہی مریم لگرہی

ہے

تو آپ کون ہو؟

اسنے اقا سے پوچھا

تمسے مطلب جو بھی ہو وہ

تم جاو

اگر نا جاوں تو

اسنے ڈھٹائی سےکہا

مما

شانی

جاؤ کہا ناں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *