Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 25)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 25)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
ٹہرو
میں
میں تم سے شادی کرنے کیلیے تیار ہوں
پلیز میرے پاپا اور بھائی کو چوڑ دو
مریم نے روتے ہوئے ولی سے کہا
وہ طنزیہ ہنسا
چھوڑ دو
اسکے حکم سے وہ انہیں چھوڑ کر کھڑے ہوگئے
وہ دونوں بے جان سے نیچے لڑھک گئے
ڈیڈی
مریم ہاتھ چھڑا کر انکے پاس لپکی
ولی بھی اسکے پیچھے ہی آگیا تھا
وہ انکے گلے لگے رورہی تھی جب ولی نے اسے بازو سے پکڑ کر ان لڑکوں کے پاس کیا
جسنے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا
اسکے اشارے سے ایک لڑکا باہر نکل گیا
سنا تونے تیری بیٹی مجھسے شادی کرنے کیلیے تیار ہے
چل اٹھ توں بھی نکاح کی رسم کیلیے تیار ہوجا
مریم بیٹا آپ مت کریں ایسا
انکی آنکھوں میں التجا تھی
ولی مجھے چھوڑ دو
مریم نے اسکی طرف دیکھ کر کہا
ارے میری جان ابھی تو پکڑا بھی نہیں ہے
اچھا چلو جاؤ تم
جاکر نکاح کیلیے تیار ہوجاؤ
وہ کہکر بیٹھکر کسی کو فون کرنے لگا اور مریم اپنے باپ بھائی کو لیکر اندر چلی گئی
جی بواجی
اسنے انہیں ساری بات بتادی اور آخر میں کہا
بس یہ سمجھ لیں کے آپکے بیٹے اور میرے باپ کو تکلیب پہنچانے والوں کو مجھ سے ہی تکلیف پہنچے گی
آپ سواگت کی تیاریاں کیجیے
آخر میں اسنے قہقہہ لگایا
@@@
نہیں شانی تم یہ بے وقوفی مت کرو
دیکھ نہیں رہی کے وہ تم سے کیسے پیش آرہا ہے
اور تم
رضیہ بیگم اور سب اسے سمجھا کر تھک چکے تھے
مما۔ڈیڈی۔آپی ۔بھائی اقا
آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں
اقا سے جو غلطی ہوئی ہے اگر اسے پتا ہوتا تو وہ اس سے شادی کرتا
اور لاڈوں سے پلی اقا اسکے ظلم برداشت ہیں کر پائے گی
تم بھی تو لاڈوں پلی ہو
تم کیسے برداشت کرو گی
کوئی بات نہیں شانی اگر میں پھانسی
بس ڈیڈی
پلیز ایسا مت کہیں
میری بات اور ہے
اگر اسنے مجھسے کچھ کہا تو میں بھی کہدوں گی
اور اسنے شرط رکھی ہے کے اگر میں اس سے شادی کرلوں گی تو وہ میری فیملی کو چھوڑ دیگا
یعنی کیس واپس لیلے گا
اور میرے لیے میرے اپنے ب سے بڑھ کر ہیں
مجھے اپنی نہیں آپ لوگوں کی پرواہ ہے
پلیز مان جائیں
اور اسکے کہنے پر سب مان گئے
تھے
مگر دل سے نہیں
بس آپ لوگ ایک بات کا خیال رکھیے گا کے اقا اسکے سامنے نا آئے
اوکے
سب نے کہدیا
رضیہ بیگم تو روئے جارہی تھیں
انکی بیٹی دلدل میں پھنسنے جارہی تھی
@@
مولوی نکاح پڑھواکر جاچکا تھا
مریم کے آنسوں رکنے کا نام نہیں لیرہے تھے
نکاح کے وقت والد کے نام پر عاشق صاحب چونکے تھے مگر نہیں انسب کی پرواہ نہیں تھی
پرواہ تھی تو بس مریم کی
چلو بھئی سسر تم میری بیوی کو میرے ساتھ بھیجنے کی تیاری کرلو
اور ہاں
جو جو سامان چاہیے وہ لیلے سمجھی
اسنے مریم سے کہا
وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں چلی گئی
@@
رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا
سب بہت رورہے تھے
مریم ان دونوں کو ملکر بہت روئی تھی
جیا کو سلادیا تھا
کیونکے جو بھی تھا
آخر تھی تو بچی ہی ناں
مریم انسے ملکر رو رہی تھی جب ولی اکتا کر بولا
ارے سارے آنسوں ابھی بہا لوگی تو ساری زندگی رونا کیسے آئے گا جبکے میں تو تجھے لے جا ہی رلانے کیلیے جارہا ہوں
چل بیٹھ
گاڑی میں
وہ اسے بازو سے پکڑ کر لے آیا تھا
گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر پھینک دیا تھا
اچھا
چلتا ہوں
اس وعدے کیساتھ کے آپکی بیٹی کی آنکھوں میں کبھی
آنسوں
انہیں تھوڑا اطمینان ہونے لگا جب وہ مسکرا کر بولاکبھی آنسوں ختم نہیں ہونے دونگا
اور گاڑی میں بیٹھ گیا
@@
بوا جی نے اسکا سواغت
بہت شاندار کیا تھا
جس رستے پر اسے چلنے کو کہا وہ کانٹوں سے بھرا تھا
مریم دیکھ دیکھ کر چلتے ہوئے بھی دو چار کانٹے چبھ ہی گئے تھے
اسکا رو رو کر گلا خشک ہوگیا تھا جب اسے پینے کیلے کڑوا گرم پانی ملا تھا
اسنے دو گھونٹ ہی بھرے کے اسکا نمک سے نہ کڑوا ہوگیا
اسکے ہاتھ سے گلاس گرگیا
یہ کیا بکواس ہے
پانی کہا تھانمک کی کان نہیں
اسنے انکی طرف دیکھ کر کہا
جو بھی ہے اب سے یہی تمہے ملے گ
ولی نے اسے مزید تپایا
کیوں تم بھی
یہی پیتے ہو
بکواس بند کر اپنی
وہ چلایا
اوکے میں بند کر لیتی ہوں تو کیا تم بکواس شروع کرنے لگے ہو
مریم نے بنا خوف کے کہا
جب ولی نے اسے اسطرح تھپڑ مارا کے وہ دور جا گری
اسے ایسا لگا جیسے اسکا گال جل گیا ہو
وہ اور مارنے کیلیے آگے بڑھا جب بوا نے اسے اشارہ کیا اور سکینہ کو شارہ کیا کے سے تہہ خانے میں ڈال دے
وہ روتے ہوئے چپ چاپ ملازمہ کے ساتھ چلدی
یہ راستہ اسنے خود چنا تھا
اسیلیے اس پر اسے اب ثابت قدم رہنا تھا
@@
ولی بیٹا جوش سے نہیں ہوش سے کام لے
مار تو اسے ہم بعد میں بھی سکتے ہیں
مگر تمہارے ولیمے سے پہلے نہیں
سمجھا
بوا نے اسے سمجھایا
ولیمہ
بوا جی میں دشمن کی بیٹی بیاہ کرلایا ہوں
اسنے انہیں یاد دلایا جیسے وہ بھول گئی ہوں پتا ہے مجھے
مگر لوگوں کو دیکھانے کیلیے ولیمہ کریں گے سمجھے
اب جا اسکے پاس
@@
سکینہ وہ جو لڑکی آئی ہے اس سے کہو کے میری بات سن جائے آکر
جی چھوٹے خان صاحب
ملازمہ نے سر جکھا کر کہا
@@@@@
وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ہوئی تھی جب چڑ ڑ ڑ ڑ کی آواز کیساتھ بیسمنٹ ( تہہ خانے ) کا دروازہ کھلا اس نے قدموں کی ابھرتی چاپ سن کر بھی سر نہ اٹھایا تمہیں چھوٹے خان جی بلا رہے ہیں اپنے کمرے میں
آنے والی ملازمہ نے پیغام دیا
اس پیغام پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا
کہہ دو اپنے خان جی سے میں نہیں آؤں گی جو بھی کہنا ہے یہاں آ کر کہہ لیں ویسے بھی اب باقی رہ کیا گیا ہے
مریم نے کہا
دیکھو تم چھوٹے خان جی کا غصہ دیکھ چکی ہو اس لیے ضد مت کرو اور چلو میرے ساتھ ملازمہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا
دور رہو مجھ سے میں کہیں نہیں جا رہی
میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی کیا
مریم چلائی
تم اپنی زبان کو ہتھیار بنا کر اپنے لیے مشکلات کھڑی کر رہی ہو ملازمہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی دیکھو جن حالات میں تم اس گھر میں آئی ہو اس لحاظ سے اپنی زبان بند ہی رکھو
ورنہ
ورنہ کیا تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جاؤ یہاں سے
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی میں چھوٹے خان جی کو جا کر تمہارا انکار بتائے دیتی ہوں
اسنے اسے دھمکانے کی کوشش کی
سکینہ تم جاؤ یہاں سے ولی کی آواز نے ناصرف سکینہ پر کپکی طاری کی بلکہ مریم بھی اس کی آواز پر خوفزدہ ہو گئی
جو اسنے اسکے باپ بھائی کیساتھ کیا تھا وہ بھولی نہیں تھی
جج جی چھوٹے خان جی سکینہ گھبراتی ہوئی جلدی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھی
وہ ہلکا ہلکا لزرتی ہوئی جھکے سر سے اسکی کی خون چھلکاتی نظریں خود پر گڑے محسوس کر رہی
تھی اسنے سر اٹھا کر دیکھا اسی لمحے وہ بولا مینے بلایا تھا تجھے وہ اسکے بال پکڑ کر غرایا
میں نوکر نہیں ہوں تمہاری جو ایسا سلوک کررہے ہو مریم نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
او رئیلی سلوک کیا ہی کیا ہے مینے ابھی تو دیکھتی تو جا کے ہوتا کیا ہے تیرے اور تیرے باپ کیساتھ وہ مسکرایا
زیادہ خوش فہمی مت پالو تمہاری اوقات تو اسدن مینے بیچ سڑک میں ہی دکھا دی تھی اور رہی بات اس گھر میں تمہاری بیوی بن کے رہنے کی تو وہ تم بھی جانتے ہو اور میں بھی
کے تم خود ہی مجھے میرے اپنے گھر چھوڑ کر آؤ گے میں تمہاری طرح بزدل نہیں ہوں جو دوسروں کو
اسکی زبان کو لگام ولی کے تھپڑ نے لگائی تھی وہ اور مارنے لگا کے اس نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
زلیل تو تم پہلے ہی تھے ثبوت دینے کی کیا ضرورت تھی کے تم بے غیرت بھی ہو وہ دبی دبی چلائی تھی جسگال پر اسنے مارا تھا وہاں جلن ہونے لگ گئی تھی تمہاری جرات کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی
ایسے ہی جیسے تمہاری جرات مجھے مارنے کی ہوئی
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی
اسکا جواب تو تجھے صبع ہی ملے گا
وہ بھی کرارا
اسنے انگلی دکھا کر کہا
مریم نے منہ پھیر لیا
@@
نو بجے ملازمہ اسے نیچے لیکر آئی
آگے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
_______
وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی جب اسے عاشق صاحب ولی کے قدموں میں گرے نظر آئے
وہ جلدی جلدی سیڑھیاں عبور کرکے نیچے انکے پاس جانے ہی لگی کے بوا نے جلدی سے آکر اسے پکڑ لیا تھا
وہ خود کو چھڑانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی
چھوڑو مجھے
ولی یہ تم اچھا نہیں کررہے
اسنے اسکی طرف دیکھ کر کہا جو بڑی شان سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا
ارے مینے کیا ہی کیا ہے
اببھی تک جو تم ایسے کہہ رہی ہو
وہ مسکراتا ہوا اٹھا اور عاشق صاحب کو بھی کھینچا
تم کل کہہ رہی تھی ناں کے تم مجھسے نہیں ڈرتیں
ہے ناں
وہ کچھ بھی نا بولی
یہ اپنے باپ کی حالت دیکھ رہی ہو یہ سب تمہاری وجہ سے ہے
مریم نے انکی طرف دیکھا جنکے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے
ڈیڈی وہ اپنا آپ چھوڑا کر انسے لپٹ گئی
آپ یہاں کیوں آئے آپ میری فکر نا کریں آپ پلیز یہاں اس آدمی کے سامنے مت آئیں
آہ
وہ انسے بات کررہی تھی جب ولی نے اسے بالوں سے کھینچا
تو نے جو ہمارا ہاتھ پکڑا تھا نا اسکی سزا تو باقی ہے
پکڑو اسے بوا جی
اور اسنے اسے انکے حوالے کرتےملازم کو آواز دی
ملازم سر جکھائے انگیٹھی لے آیا
ولی نے انگیٹھی میں سے جلتا ہوا کوئلہ چمٹے سے اٹھایا
کل تونے میرا ہات روکا تھا یہ اسکیلیے
اسنے کہتے ساتھ ہی عاشق صاحب کی کمر پر رکھ دیا
وہ درد اور جلن سے چلا اٹھے
ولی
پلیز انہیں چھوڑ دو میں دوبارہ نہیں روکوں گی تمہیں
وہ اسکے سامنے گڑ گڑائی
ولی یہ تمہیں کیا ہوتا ہے بیٹا اسے اپنی زبان پر قابو پانا بھی سکھا
بوا نے جلتی پر تیل کا کام کیا
وہ کوئلہ اٹھاکے انکی کمر پر پھر رکھ دیا
وہ تلملا اٹھے
آئیندہ کے بعد مجھ سے اور میری فیملی سے تمیز سے بات کرے گی
جو میں کہوں گا وہ ہی توں کرے گی اور ہمیشہ سر جکھا کے رکھے گی
مریم کچ نا بولی
بول
اسنے کوئلے کو داب دی
ہاں منظور ہے مجھے میں تمہاری
مطلب کے آپکی عزت کروں گی
اب تو میرے ڈیڈی کو چھوڑ دو
مطلب چھوڑ دیں
جب سنے کوئلے کو انکے جسم پر دوبارہ رکھا تو وہ جلدی سے بولی
اسنے کوئلہ نیچے پھینک دیا
اور ہنستا ہوا اسکے پاس آگیا
واہ واہ واہ
بڑی شیرنی بنی پھرتی تھی ناں اب سمجھ آئی
مجھ سے پنگا لینے کا انجام
اور تو سنجب بھی میں بولاؤں تجھے دوڑتا ہوا آنا
اگر نا آیا تو تیری بیٹی کو کار کے پیچھے باندھ کر گھسیٹتے ہوئی لاوں گا سمجھا
اور توں
تونے اگر میری یا بوا جی کی بات نا مانی تو تیرے باپ کو گھسیٹتا ہوا لاکر ایسی حالت بناوں گا کے یاد رکھے گا وہ بھی اور توں بھی
ولی میں آپکی ہر بات مانوں گی پلیز آپ انہیں کوئی نقصان مت پہنچائیے گا
پلیز اسنے ہاتھ جوڑ کر کہا
تیرے پاس اور کوئی آپشن ہے بھی نہیں سمجھی
اسنے اسے تھوڑی سے پکڑ کر جھٹکا دیا
ملازمہ کو اسنے اشارہ کیا جب مریم بول پڑی
ولی ایک بار میں مل لوں ڈیڈی سے
اسکے لہجے میں منت تھی کے نا اہتے ہوئے بھی اسکی گردن اثبات میں ہل گئی
وہ دوڑ کر انسے ملی
انکی کمر پر جلنے کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا
وہ انکے زخموں کو چھو رہی تھی
ڈیڈی آپ میری فکر مت کیجیےگا آپ پلیز خود کو مما اور باقی سب کو سنبھال لیجیے گا
آپی کی شادی کردیں تاکے میری وجہ سے انکا رشتہ نا ٹوٹ جائے
اور جاتے ہی اپنے زخموں کا علاج کروالیجیے گا
اسنے انہیں بڑی بییوں کی طرح سمجھایا
انکی آنکھوں سے آنسوں جھلک گئے
بابا آپکی بیٹی بہادر ہے وہ سب برداشت کرلے گی مگر اب آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دیگی
یہ میرا آپسے وعدہ ہے
اسنے انکے ہاتھ میں ہاتھ دیکر کہا
واقع میری بیٹی بہت بہادر ہے
انہوں نے روہانسے ہوکر کہا
ابے نکال اسے ولی نے ملازم سے کہا اور وہ انہیں بازووں سے کھینچتا ہوا لے گیا
مریم روتے روتے وہیں بیٹھ گئی
اے توں اپنا ڈرامہ بند کر اور جا یہاں سے
ولی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا
وہ کل سے آج تک انہیں کپڑوں میں تھی جو اسنے فوزیہ کی مگنی اور نکاح
پر پہنی تھی فراق
وہ بے جان قدموں سے سیڑھیاں چڑھ گئی
بوا جی اب کیا حکم ہے آپکا
وہ انکی طرف متوجہ ہوا
طس بیٹا اب اس لڑکی کو ولیمے کی تقریب کیلیے تیار کر
اور ہاں ہادی سے بات ہوا تمہارا
انہوں نے یاد آنے پر پوچھا
جی ہوگیا تھا
وہ اب بہتر ہیں
ملازموں کی فوج بھیجی تھی ہم نے اسکی دیکھ بھال کیلیے
ٹھیک ہے
میں بھی فون کرتا ہے سب رشتے داروں کو اور تمہاری بہن کو بھی کے شام میں تمہارا ولیمہ ہے
جی بہتر جیسا آپ ٹھیک سمجھیں
وہ کہہ کر چلاگیا
