Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 25)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

ٹہرو

میں

میں تم سے شادی کرنے کیلیے تیار ہوں

پلیز میرے پاپا اور بھائی کو چوڑ دو

مریم نے روتے ہوئے ولی سے کہا

وہ طنزیہ ہنسا

چھوڑ دو

اسکے حکم سے وہ انہیں چھوڑ کر کھڑے ہوگئے

وہ دونوں بے جان سے نیچے لڑھک گئے

ڈیڈی

مریم ہاتھ چھڑا کر انکے پاس لپکی

ولی بھی اسکے پیچھے ہی آگیا تھا

وہ انکے گلے لگے رورہی تھی جب ولی نے اسے بازو سے پکڑ کر ان لڑکوں کے پاس کیا

جسنے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا

اسکے اشارے سے ایک لڑکا باہر نکل گیا

سنا تونے تیری بیٹی مجھسے شادی کرنے کیلیے تیار ہے

چل اٹھ توں بھی نکاح کی رسم کیلیے تیار ہوجا

مریم بیٹا آپ مت کریں ایسا

انکی آنکھوں میں التجا تھی

ولی مجھے چھوڑ دو

مریم نے اسکی طرف دیکھ کر کہا

ارے میری جان ابھی تو پکڑا بھی نہیں ہے

اچھا چلو جاؤ تم

جاکر نکاح کیلیے تیار ہوجاؤ

وہ کہکر بیٹھکر کسی کو فون کرنے لگا اور مریم اپنے باپ بھائی کو لیکر اندر چلی گئی

جی بواجی

اسنے انہیں ساری بات بتادی اور آخر میں کہا

بس یہ سمجھ لیں کے آپکے بیٹے اور میرے باپ کو تکلیب پہنچانے والوں کو مجھ سے ہی تکلیف پہنچے گی

آپ سواگت کی تیاریاں کیجیے

آخر میں اسنے قہقہہ لگایا

@@@

نہیں شانی تم یہ بے وقوفی مت کرو

دیکھ نہیں رہی کے وہ تم سے کیسے پیش آرہا ہے

اور تم

رضیہ بیگم اور سب اسے سمجھا کر تھک چکے تھے

مما۔ڈیڈی۔آپی ۔بھائی اقا

آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں

اقا سے جو غلطی ہوئی ہے اگر اسے پتا ہوتا تو وہ اس سے شادی کرتا

اور لاڈوں سے پلی اقا اسکے ظلم برداشت ہیں کر پائے گی

تم بھی تو لاڈوں پلی ہو

تم کیسے برداشت کرو گی

کوئی بات نہیں شانی اگر میں پھانسی

بس ڈیڈی

پلیز ایسا مت کہیں

میری بات اور ہے

اگر اسنے مجھسے کچھ کہا تو میں بھی کہدوں گی

اور اسنے شرط رکھی ہے کے اگر میں اس سے شادی کرلوں گی تو وہ میری فیملی کو چھوڑ دیگا

یعنی کیس واپس لیلے گا

اور میرے لیے میرے اپنے ب سے بڑھ کر ہیں

مجھے اپنی نہیں آپ لوگوں کی پرواہ ہے

پلیز مان جائیں

اور اسکے کہنے پر سب مان گئے

تھے

مگر دل سے نہیں

بس آپ لوگ ایک بات کا خیال رکھیے گا کے اقا اسکے سامنے نا آئے

اوکے

سب نے کہدیا

رضیہ بیگم تو روئے جارہی تھیں

انکی بیٹی دلدل میں پھنسنے جارہی تھی

@@

مولوی نکاح پڑھواکر جاچکا تھا

مریم کے آنسوں رکنے کا نام نہیں لیرہے تھے

نکاح کے وقت والد کے نام پر عاشق صاحب چونکے تھے مگر نہیں انسب کی پرواہ نہیں تھی

پرواہ تھی تو بس مریم کی

چلو بھئی سسر تم میری بیوی کو میرے ساتھ بھیجنے کی تیاری کرلو

اور ہاں

جو جو سامان چاہیے وہ لیلے سمجھی

اسنے مریم سے کہا

وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں چلی گئی

@@

رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا

سب بہت رورہے تھے

مریم ان دونوں کو ملکر بہت روئی تھی

جیا کو سلادیا تھا

کیونکے جو بھی تھا

آخر تھی تو بچی ہی ناں

مریم انسے ملکر رو رہی تھی جب ولی اکتا کر بولا

ارے سارے آنسوں ابھی بہا لوگی تو ساری زندگی رونا کیسے آئے گا جبکے میں تو تجھے لے جا ہی رلانے کیلیے جارہا ہوں

چل بیٹھ

گاڑی میں

وہ اسے بازو سے پکڑ کر لے آیا تھا

گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر پھینک دیا تھا

اچھا

چلتا ہوں

اس وعدے کیساتھ کے آپکی بیٹی کی آنکھوں میں کبھی

آنسوں

انہیں تھوڑا اطمینان ہونے لگا جب وہ مسکرا کر بولاکبھی آنسوں ختم نہیں ہونے دونگا

اور گاڑی میں بیٹھ گیا

@@

بوا جی نے اسکا سواغت

بہت شاندار کیا تھا

جس رستے پر اسے چلنے کو کہا وہ کانٹوں سے بھرا تھا

مریم دیکھ دیکھ کر چلتے ہوئے بھی دو چار کانٹے چبھ ہی گئے تھے

اسکا رو رو کر گلا خشک ہوگیا تھا جب اسے پینے کیلے کڑوا گرم پانی ملا تھا

اسنے دو گھونٹ ہی بھرے کے اسکا نمک سے نہ کڑوا ہوگیا

اسکے ہاتھ سے گلاس گرگیا

یہ کیا بکواس ہے

پانی کہا تھانمک کی کان نہیں

اسنے انکی طرف دیکھ کر کہا

جو بھی ہے اب سے یہی تمہے ملے گ

ولی نے اسے مزید تپایا

کیوں تم بھی

یہی پیتے ہو

بکواس بند کر اپنی

وہ چلایا

اوکے میں بند کر لیتی ہوں تو کیا تم بکواس شروع کرنے لگے ہو

مریم نے بنا خوف کے کہا

جب ولی نے اسے اسطرح تھپڑ مارا کے وہ دور جا گری

اسے ایسا لگا جیسے اسکا گال جل گیا ہو

وہ اور مارنے کیلیے آگے بڑھا جب بوا نے اسے اشارہ کیا اور سکینہ کو شارہ کیا کے سے تہہ خانے میں ڈال دے

وہ روتے ہوئے چپ چاپ ملازمہ کے ساتھ چلدی

یہ راستہ اسنے خود چنا تھا

اسیلیے اس پر اسے اب ثابت قدم رہنا تھا

@@

ولی بیٹا جوش سے نہیں ہوش سے کام لے

مار تو اسے ہم بعد میں بھی سکتے ہیں

مگر تمہارے ولیمے سے پہلے نہیں

سمجھا

بوا نے اسے سمجھایا

ولیمہ

بوا جی میں دشمن کی بیٹی بیاہ کرلایا ہوں

اسنے انہیں یاد دلایا جیسے وہ بھول گئی ہوں پتا ہے مجھے

مگر لوگوں کو دیکھانے کیلیے ولیمہ کریں گے سمجھے

اب جا اسکے پاس

@@

سکینہ وہ جو لڑکی آئی ہے اس سے کہو کے میری بات سن جائے آکر

جی چھوٹے خان صاحب

ملازمہ نے سر جکھا کر کہا

@@@@@

وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ہوئی تھی جب چڑ ڑ ڑ ڑ کی آواز کیساتھ بیسمنٹ ( تہہ خانے ) کا دروازہ کھلا اس نے قدموں کی ابھرتی چاپ سن کر بھی سر نہ اٹھایا تمہیں چھوٹے خان جی بلا رہے ہیں اپنے کمرے میں

آنے والی ملازمہ نے پیغام دیا

اس پیغام پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا

کہہ دو اپنے خان جی سے میں نہیں آؤں گی جو بھی کہنا ہے یہاں آ کر کہہ لیں ویسے بھی اب باقی رہ کیا گیا ہے

مریم نے کہا

دیکھو تم چھوٹے خان جی کا غصہ دیکھ چکی ہو اس لیے ضد مت کرو اور چلو میرے ساتھ ملازمہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا

دور رہو مجھ سے میں کہیں نہیں جا رہی

میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی کیا

مریم چلائی

تم اپنی زبان کو ہتھیار بنا کر اپنے لیے مشکلات کھڑی کر رہی ہو ملازمہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی دیکھو جن حالات میں تم اس گھر میں آئی ہو اس لحاظ سے اپنی زبان بند ہی رکھو

ورنہ

ورنہ کیا تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جاؤ یہاں سے

ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی میں چھوٹے خان جی کو جا کر تمہارا انکار بتائے دیتی ہوں

اسنے اسے دھمکانے کی کوشش کی

سکینہ تم جاؤ یہاں سے ولی کی آواز نے ناصرف سکینہ پر کپکی طاری کی بلکہ مریم بھی اس کی آواز پر خوفزدہ ہو گئی

جو اسنے اسکے باپ بھائی کیساتھ کیا تھا وہ بھولی نہیں تھی

جج جی چھوٹے خان جی سکینہ گھبراتی ہوئی جلدی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھی

وہ ہلکا ہلکا لزرتی ہوئی جھکے سر سے اسکی کی خون چھلکاتی نظریں خود پر گڑے محسوس کر رہی

تھی اسنے سر اٹھا کر دیکھا اسی لمحے وہ بولا مینے بلایا تھا تجھے وہ اسکے بال پکڑ کر غرایا

میں نوکر نہیں ہوں تمہاری جو ایسا سلوک کررہے ہو مریم نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

او رئیلی سلوک کیا ہی کیا ہے مینے ابھی تو دیکھتی تو جا کے ہوتا کیا ہے تیرے اور تیرے باپ کیساتھ وہ مسکرایا

زیادہ خوش فہمی مت پالو تمہاری اوقات تو اسدن مینے بیچ سڑک میں ہی دکھا دی تھی اور رہی بات اس گھر میں تمہاری بیوی بن کے رہنے کی تو وہ تم بھی جانتے ہو اور میں بھی

کے تم خود ہی مجھے میرے اپنے گھر چھوڑ کر آؤ گے میں تمہاری طرح بزدل نہیں ہوں جو دوسروں کو

اسکی زبان کو لگام ولی کے تھپڑ نے لگائی تھی وہ اور مارنے لگا کے اس نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

زلیل تو تم پہلے ہی تھے ثبوت دینے کی کیا ضرورت تھی کے تم بے غیرت بھی ہو وہ دبی دبی چلائی تھی جسگال پر اسنے مارا تھا وہاں جلن ہونے لگ گئی تھی تمہاری جرات کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی

ایسے ہی جیسے تمہاری جرات مجھے مارنے کی ہوئی

وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی

اسکا جواب تو تجھے صبع ہی ملے گا

وہ بھی کرارا

اسنے انگلی دکھا کر کہا

مریم نے منہ پھیر لیا

@@

نو بجے ملازمہ اسے نیچے لیکر آئی

آگے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔

_______

وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی جب اسے عاشق صاحب ولی کے قدموں میں گرے نظر آئے

وہ جلدی جلدی سیڑھیاں عبور کرکے نیچے انکے پاس جانے ہی لگی کے بوا نے جلدی سے آکر اسے پکڑ لیا تھا

وہ خود کو چھڑانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی

چھوڑو مجھے

ولی یہ تم اچھا نہیں کررہے

اسنے اسکی طرف دیکھ کر کہا جو بڑی شان سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا

ارے مینے کیا ہی کیا ہے

اببھی تک جو تم ایسے کہہ رہی ہو

وہ مسکراتا ہوا اٹھا اور عاشق صاحب کو بھی کھینچا

تم کل کہہ رہی تھی ناں کے تم مجھسے نہیں ڈرتیں

ہے ناں

وہ کچھ بھی نا بولی

یہ اپنے باپ کی حالت دیکھ رہی ہو یہ سب تمہاری وجہ سے ہے

مریم نے انکی طرف دیکھا جنکے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے

ڈیڈی وہ اپنا آپ چھوڑا کر انسے لپٹ گئی

آپ یہاں کیوں آئے آپ میری فکر نا کریں آپ پلیز یہاں اس آدمی کے سامنے مت آئیں

آہ

وہ انسے بات کررہی تھی جب ولی نے اسے بالوں سے کھینچا

تو نے جو ہمارا ہاتھ پکڑا تھا نا اسکی سزا تو باقی ہے

پکڑو اسے بوا جی

اور اسنے اسے انکے حوالے کرتےملازم کو آواز دی

ملازم سر جکھائے انگیٹھی لے آیا

ولی نے انگیٹھی میں سے جلتا ہوا کوئلہ چمٹے سے اٹھایا

کل تونے میرا ہات روکا تھا یہ اسکیلیے

اسنے کہتے ساتھ ہی عاشق صاحب کی کمر پر رکھ دیا

وہ درد اور جلن سے چلا اٹھے

ولی

پلیز انہیں چھوڑ دو میں دوبارہ نہیں روکوں گی تمہیں

وہ اسکے سامنے گڑ گڑائی

ولی یہ تمہیں کیا ہوتا ہے بیٹا اسے اپنی زبان پر قابو پانا بھی سکھا

بوا نے جلتی پر تیل کا کام کیا

وہ کوئلہ اٹھاکے انکی کمر پر پھر رکھ دیا

وہ تلملا اٹھے

آئیندہ کے بعد مجھ سے اور میری فیملی سے تمیز سے بات کرے گی

جو میں کہوں گا وہ ہی توں کرے گی اور ہمیشہ سر جکھا کے رکھے گی

مریم کچ نا بولی

بول

اسنے کوئلے کو داب دی

ہاں منظور ہے مجھے میں تمہاری

مطلب کے آپکی عزت کروں گی

اب تو میرے ڈیڈی کو چھوڑ دو

مطلب چھوڑ دیں

جب سنے کوئلے کو انکے جسم پر دوبارہ رکھا تو وہ جلدی سے بولی

اسنے کوئلہ نیچے پھینک دیا

اور ہنستا ہوا اسکے پاس آگیا

واہ واہ واہ

بڑی شیرنی بنی پھرتی تھی ناں اب سمجھ آئی

مجھ سے پنگا لینے کا انجام

اور تو سنجب بھی میں بولاؤں تجھے دوڑتا ہوا آنا

اگر نا آیا تو تیری بیٹی کو کار کے پیچھے باندھ کر گھسیٹتے ہوئی لاوں گا سمجھا

اور توں

تونے اگر میری یا بوا جی کی بات نا مانی تو تیرے باپ کو گھسیٹتا ہوا لاکر ایسی حالت بناوں گا کے یاد رکھے گا وہ بھی اور توں بھی

ولی میں آپکی ہر بات مانوں گی پلیز آپ انہیں کوئی نقصان مت پہنچائیے گا

پلیز اسنے ہاتھ جوڑ کر کہا

تیرے پاس اور کوئی آپشن ہے بھی نہیں سمجھی

اسنے اسے تھوڑی سے پکڑ کر جھٹکا دیا

ملازمہ کو اسنے اشارہ کیا جب مریم بول پڑی

ولی ایک بار میں مل لوں ڈیڈی سے

اسکے لہجے میں منت تھی کے نا اہتے ہوئے بھی اسکی گردن اثبات میں ہل گئی

وہ دوڑ کر انسے ملی

انکی کمر پر جلنے کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا

وہ انکے زخموں کو چھو رہی تھی

ڈیڈی آپ میری فکر مت کیجیےگا آپ پلیز خود کو مما اور باقی سب کو سنبھال لیجیے گا

آپی کی شادی کردیں تاکے میری وجہ سے انکا رشتہ نا ٹوٹ جائے

اور جاتے ہی اپنے زخموں کا علاج کروالیجیے گا

اسنے انہیں بڑی بییوں کی طرح سمجھایا

انکی آنکھوں سے آنسوں جھلک گئے

بابا آپکی بیٹی بہادر ہے وہ سب برداشت کرلے گی مگر اب آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دیگی

یہ میرا آپسے وعدہ ہے

اسنے انکے ہاتھ میں ہاتھ دیکر کہا

واقع میری بیٹی بہت بہادر ہے

انہوں نے روہانسے ہوکر کہا

ابے نکال اسے ولی نے ملازم سے کہا اور وہ انہیں بازووں سے کھینچتا ہوا لے گیا

مریم روتے روتے وہیں بیٹھ گئی

اے توں اپنا ڈرامہ بند کر اور جا یہاں سے

ولی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا

وہ کل سے آج تک انہیں کپڑوں میں تھی جو اسنے فوزیہ کی مگنی اور نکاح

پر پہنی تھی فراق

وہ بے جان قدموں سے سیڑھیاں چڑھ گئی

بوا جی اب کیا حکم ہے آپکا

وہ انکی طرف متوجہ ہوا

طس بیٹا اب اس لڑکی کو ولیمے کی تقریب کیلیے تیار کر

اور ہاں ہادی سے بات ہوا تمہارا

انہوں نے یاد آنے پر پوچھا

جی ہوگیا تھا

وہ اب بہتر ہیں

ملازموں کی فوج بھیجی تھی ہم نے اسکی دیکھ بھال کیلیے

ٹھیک ہے

میں بھی فون کرتا ہے سب رشتے داروں کو اور تمہاری بہن کو بھی کے شام میں تمہارا ولیمہ ہے

جی بہتر جیسا آپ ٹھیک سمجھیں

وہ کہہ کر چلاگیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *