Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 13)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 13)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
ابھی تورزلٹ نہیں آیاماموں جب آئےگاتبھی آسکوں گی میں اسنےمسکراکرکہا
اچھاویسےتمہیں تواسکاانتظاربھی نہیں کرناچاہیےکیونکےوہ تمہارےماموں کاکالج ہے
پھربھی ماموں رولزرولزہوتےہیں اگراب رولزفالونہی کروں گی توآرمی میں
اسکی بات ادھوری رہ گئی اسکی نظرسامنےآئینےپرپڑی جواسےمنہ چڑارہاتھاکےحالت دیکھ اپنی بعدمیں لمبی لمبی پھینکنا
کوئی بات نہی ماموں بس چھ دن کی ہی توبات ہےاسکےبعداقااورمیں حاضراسنےانکی آنکھوں میں آنسوں دیکھلیےتھےاسیلیےبات بدل کربولی
اقصٰی وہ کبھی نہیں آئےگی وہ تواپنےباپ کوجلادسمجھتی ہےاستادکافرض ہوتاہےکےاگرکوئی بھی بچہ نقل کرےتواسکوڈانٹنےیاسمجھانےکامگراسنےمجھسےاسی بات پرمنہ فلایاہےکےمینےسبکےسامنےاسےڈانٹ دیااب بھلااسنےکام بھی توایساہی کیاتھا
ایک نمبرکی نکمی ہےمجال ہےجوکورس بھی کھول کردیکھلےانہوں نےدل کی بھڑاس نکالناضروری سمجھا
اب ایسی بھی بات نہیں ہےوہ پوچھ نہیں رہی تھی بلکےبتارہی تھی اورماموں اس لڑکی کونہیں آتاتھااسلیےاقانےاسکی مددکی تھی بس مریم نےاقاکی سائیڈلینی چاہی
بس میری نالائق اولادغلطیاں کرےاورتم اسپرپردہ ڈالتی رہواچھاہےاقانےکی تبھ بھی تمنےاسکی طرفداری کی اورجب عتیق نے
انہوں نےبات ادھوری چھوڑدی کیونکےوہ سب اسکےسامنےعتیق کانام نہی لیتےتھے
مریم اقانےمریم کوآوازلگائی
ہاں مریم نےاسےدیکھتےہوےکہاجسکےچہرےسےصاف واضع تھاکےوہ اپنی شان میں قصیدےسن چکی ہے
دی ماسٹرارشدفاروق سےکہدوکےانہوں نےبہت غلط کیاتھامجھےڈانٹ کروہ بھی سب کےسامنےاسنےسب پرزوردیتےناک چڑھاکراپنےباپ کیطرف منہ کرکےکہا
مریم مس صدیقی سےکہدوکےاگروہ غلطی کریں گی توانہیں سزاہی ملےگی ناکےپھولوں کےہارپھنائیں جائیں گےاورجہاں سبکی بات ہےتوآپ انوکھی نہیں ہیں جوآپکوالگ لےجاکرسزادی جائے
وہ بھی آخراسکےباپ تھےوہ کیوں پیچھےرہ جاتے
اندونوں کی نوک جھونک برابرچلرہی تھی اوروہ ایک دوسرےسےبات مریم کومخاطب کرکےکہہ رہےتھےجیسےدوسرابندہ توسن ہی نی رہا
مریم انکی باتوں سےزآگئی تھی اسیلیےوہ روم سےباہرآگئی
باہروہ اتنی تیزی سےنکلرہی تھی کےسامنےسےآتےوجودکوبھی ناں دیکھ پائی اوراسسےٹکراگئی
وہ گرنےہی والی تھی کےعمران نےاسےسنبھال لیا
عمران نی اتنےغورسےاسےآج دیکھاتھا
میں نے دیکھی ہیں یار کی آنکھیں
مست آنکھیں، جھکی جھکی آنکھیں
تھوڑی تھوڑی سی سرمئی آنکھیں
اور تھوڑی سی شبنمی آنکھیں
ایسا کیا ہے تمھاری آنکھوں میں
تم کو ڈھونڈیں گلی گلی آنکھیں
ان کی کوئی مثال کیسے ہو
لب گلابی شراب سی آنکھیں
تیری آنکھوں کو دیکھ کر جانا
کیسے کرتی ہیں شاعری آنکھیں
تیری آنکھیں بنا کے کاغذ پر
روز چوموں میں کاغذی آنکھیں
تیری آنکھوں کی خیر ہو جاناں
تیری آنکھوں پہ وار دی آنکھیں
میرے جیون کی کالی راتوں میں
بھر گئیں روشنی تِری آنکھیں
ہر کسی پر نگاہ الفت کی
ہم سے برتیں ہیں بے رخی آنکھیں
یہ ہیں سامان موت کا ساحل
ان کو سمجھو نہ عام سی آنکھیں
اسےوہ کسی پری سےکم نہیں لگی تھی وہ اسےدیکھتاہی رہ گیاجبکےمریم اسسےالگ ہوگئ
شکریہ بھائی
مریم نےکہااورلاؤنج میں آگئی جہاں جیااپنےگڈلک سےجنگ لڑرہی تھی
کیاہواجیا؟
مریم نےاسسےپوچھا
کچھ نہی شانی اسمیں پیسےنہیں جارہےہیں وہی اندرڈال رہی ہوں
مریم نےاس چھوٹےسےمٹی کےگڈلک کودیکھااورکہامجھےدیکھاناذرا
جیانےفٹ سےگڈلک اسکےہوالےکردیا
مریم نےاسےہلاکردیکھاجوزیادہ پیسوں سےبھرےہونےکی وجہ سےہل بھی نہی رہاتھا
جیااسمیں توپہلےہی بہت پیسےہیں
ارےجیامیڈم تمنےاتنےپیسےجمع کیےہوئےہیں آوتمہاراگڈلک توڑتےہیں عمران نےمریم سےگڈلک لیتےہوےکہا
نہی بھائی
اسےپہلےکےجیاعمران کوروکتی وہ زمین پرمارکرگڈلک توڑچکاتھااوراسکےسارےپیسےبکھرگئے
اپنی جمع پونجی کوایسےدیکھ کرجیارونےلگ پڑی
مریم نےاسکےپیسےجلدی جلدی سمیٹےاورایک کٹورے میں ڈال دیےاوراسےچپ کروایامریم اسےاٹھاکراسکےروم میں لےگئی اسےسلاکرجب وہ باہرآئی توعمران اسےہی دیکھ رہاتھا
آپ میں ذرہ سی بھی
رات سینے میں ایسا درد ہوا
میرے چہرے کا رنگ زرد ہوا
بس کہ حرکت رکی میرے دل کی
کوئی کاوش ہو جیسے قاتل کی
چند لمحے گئے کہ فوت ہوئی
خیر انجام میری موت ہوئی…
جانے کیوں روک تھام کرتے رہے
آنکھ اور کان کام کرتے رہے
میں نے دیکھا کہ لوگ آنے لگے
رونے والوں کو چپ کرانے لگے
فون تھا اور د ر پہ دستک تھی
آگیے وہ بھی جن سے چشمک تھی
پہلے پوچھا ، انہیں ہوا کیا تھا
پھر یہ بولے ، کہ اک بہانہ تھا
موت برحق ہے سب کو مرنا ہے
بس کہ تھوڑا قیام کرنا ہے
کوئی جاتا نہیں کسی کے ساتھ
خواہ پکڑے رہے حبیب کا ہاتھ
وہی باتیں ازل کی فرسودہ
جنکو سن سن کے دل ہوا بود ا
وہی چہرے وہی زباں انکی
تذکرے میں کشاں کشاں انکی
موت کی داستاں پرانی ہے
جیسے بچپن کی اک کہانی ہے
سب کی آنکھیں ہیں نم مگر جاناں
میرے مرنے کا غم ، مگر جاناں
پوچھ لیتے ہیں جانے آنے میں
دیر کتنی ہے میرے جانےمیں
اب بھلا انتظار کس کا ہے
بیٹیاں آچکی ہیں بیٹا ہے
روک رکھنے میں فائدہ کیا ہے
جلد سے جلد دفن اچھا ہے
رشتہ دار آرہے ہیں پے در پے
واسطے جن کے اب میں ہوں اک شے
دوستی پر تھا جن کی ناز بہت
آج برتے ہیں امتیاز بہت
کیسی سب نے نگاہ پھیری ہے
کسی دل میں جگہ نہ میری ہے
کتنے سطحی ہیں آج وہ چہرے
جن سے رشتے رہے کبھی گہرے
گور تیار کر رہے ہیں کہیں
کرنے والے ہیں مجھ کو خاک نشیں
کیسے غم سے گزارتے ہیں مجھے
مٹی کہہ کر پکارتے ہیں مجھے
وہ جو نوعمر دور دور کو ہیں
زندگی کے لیے غرور کو ہیں
اہل فرصت کی بات چل نکلی
لو سیاست کی بات چل نکلی
ہیں کہیں ہست و بود کی باتیں
نفع و نقصان و سود کی باتیں
فاتحہ اور درود کی باتیں
ساری باتیں وجود کی باتیں
بحث میں ہو چکے ہیں سب غلطاں
کرنے بیٹھے ہیں مشکلیں آساں
اور مجھ پر جو وقت آیا ہے
اس پہ کالی شبوں کا سایا ہے
فرش پر یوں پڑی ہوں آج کہاں
میں کہاں اور مرا مزاج کہاں
سن رہی ہوں بہت فسردہ سی
جانے زندہ ہوں میں کہ مردہ سی
آنسوؤں میں بدل چکی ہوں میں
سردآہوں میں ڈھل چکی ہوں میں
خواب ہے یا کوئی حقیقت ہے
ہاں یہ میں ہوں یہ میری میت ہے
اتمیزنہیں ہےکیاکےکسی کی چیزکواسکےکہنےسےبھی آپ اسےتوڑنیں سے بازنہی آئےکیایہی سب سیکھاہےآپنےترکی میں
کیایہی آپکی ٹرینگ ہوئی ہےآپکو شرم آنی چاہیےمریم نےاسےغصّےسےکہا
کیاہوگیاشانی جی
انف ازانف کتنی بارکہاہےآپسےکےمیں شانی صرف اپنےاپنوں کیلیےہوں آپکیلیےنہی توکالڈمی سسٹر مریم اوکےمریم نےاسےوارن کیا
اچھامریم جی دوبارہ نہی کہوں گاآپکوشانی ویسےاتنی بھی بڑی بات نہی ہےجس پرآپ ایسےریآکٹ کررہی ہیں
ایک گڈلک ہی توتوڑاہےویسےبھی آج نہی توکل اس مانوں بلی نےتوڑہی لیناتھامینےہی اسکاکام آسان کردیااسنی صوفےپرپھیلتےہوےکہا
اچھاپرآپکوکوئی حق نہی ہےکسی کی چیزوں کوہاتھ لگانےکااوکےوہ کہکرچلی گئی جبکےوہ آرام سےبیٹھااسےجاتادیکھتارہا
پاگل ہےپوری اسکےلبوں پرمسکان آگئی
میں نے دیکھی ہیں یار کی آنکھیں
مست آنکھیں، جھکی جھکی آنکھیں
تھوڑی تھوڑی سی سرمئی آنکھیں
اور تھوڑی سی شبنمی آنکھیں
ایسا کیا ہے تمھاری آنکھوں میں
تم کو ڈھونڈیں گلی گلی آنکھیں
ان کی کوئی مثال کیسے ہو
لب گلابی شراب سی آنکھیں
تیری آنکھوں کو دیکھ کر جانا
کیسے کرتی ہیں شاعری آنکھیں
تیری آنکھیں بنا کے کاغذ پر
روز چوموں میں کاغذی آنکھیں
تیری آنکھوں کی خیر ہو جاناں
تیری آنکھوں پہ وار دی آنکھیں
میرے جیون کی کالی راتوں میں
بھر گئیں روشنی تِری آنکھیں
ہر کسی پر نگاہ الفت کی
ہم سے برتیں ہیں بے رخی آنکھیں
یہ ہیں سامان موت کا ساحل
ان کو سمجھو نہ عام سی آنکھیں@@@
مریم
عتیق نےاسےآوازدی
آج اتنےدنوں بعداسےاسکی آوازسنائی دیتھی
مریم اب بھی وقت ہےاگرتم کہو تومیں یہ منگنی توڑدونگا
عتیق کی آنکھوں میں بےبسی تھی
ہاں توڑدےیارویسےبھی وہ لڑکی مجھےایک آنکھ نہی بھاتی
وہ مریم سےپوچھرہاتھاجب عمران بیچ میں ٹپک پڑا
او بھائی آپکواب اتنی بھی تمیزنہیں ہیکےکسی کےمعملات میں نہی بولتےمریم نےغصےسےاسےدیکھا
عتیق اسکےبولنےپرمحفوظ ہوااورمسکراکراسےدیکھا
اورتم مسٹرعتیق الرحمان منگنی کرویاشادی کرومیری بلاسےمجھےکوئی فرق نہیں پڑتاسمجھےوہ کہ کرجانےلگی جب عتیق نےاسسےکہا
فرق توتمہیں پڑتاہےمس مریم بی بی اگرتمہیں فرق ناپڑتاہوتاتواس دن تم ہسپتال میں ناہوتی
بلکےمیری اپنےایکس منگیترکی منگنی انجوائےکرتی اسنےطنزکیا
اورعمران تواسکےایکس منگیترکہنےپرہی ساکت ہوگیا
وہ تو اسے اپنی منت ہی سمجھ بیٹھا تھا
تُو ہی تو جنت میری…. تُو ہی میرا جنوں
تُو ہی تو مًنت میری….. تُو ہی روح کا سکوں
تُوہی اکھیوں کی ٹھنڈک….
**** تُو ہی دل کی ہے دستک
اور کچھ نہ جانوں میں.. بس اتنا ہی جانوں
***** تجھ میں رب دکھتا ہے…..
یارا میں کیا کروں؟؟
سجدے سر جھکتا ہے ** یارا میں کیا کروں؟
توکیااس دن مریم جی اسکی وجہ سے نہی نہی ایسانہی ہوسکتااس نےسوچا
جی نہیں بھائی عتیق اگرمجھےآپ میں ذرہ سی بھی دلچسپی ہوتی ناں تومیں کبھی ناں آتی اوررہی بات اس دن کی تومجھےمعلوم نہی تھاآپ اپنےچھوٹےسےزہن میں یہ بات بھی لاسکتےہیں اگرمجھےپتاہوتاتواپنےآپ پرکنٹرول کرتی اورآج اسطرح آپکاطنزبرداشت ناکرتی ہورہی ہوتی سمجھےآپ اسنےروہانسی ہوکرکہااوروہاں سےبھاگ گئی وہ نہیں چاہتی تھی کےاسکےآنسوں کوئی دیکھلے
اورعتیق وہاں ساکت کھڑااسکےآپ کہنےپرسوچ رہاتھاکےکیااب میں مریم کیلیےاتناہی پرایاہوگیاہوں کےاسنےمجھےآپ کہاکیونکےایک بارمریم نےاس سے کہا تھا کے وہ آپ صرف ان لوگوں کو کہتی ہے جو اس کیلیے اجنبی ہوں اور آج مریم نے اسے اپنے لیے اجنبی ہی تو بنادیا تھا
وہ انہیں سوچوں میں غم اوراس دن کو قوس رہا تھا کےکیوں اسنے اسکی بات نامانی تھی
۔چھوڑ کے تیرا دامنِ رحمت ،
آقا ہم سے بھول ہوئی ہے
کھوئی اپنی قدر و قیمت ،
آقا ہم سے بھول ہوئی ہے
دنیا کے ٹھکرائے ہوئے ہیں ،
آقا تیرے در پےآئے ہوئے ہیں
کھول دو اپنا بابِ رحمت ،
آقا ہم سے بھول ہوئی ہے
حد سے گزری ہے نادانی ،
آقا تیری کوئی بات نامانی
گھیرے ہوئے ہیں نفرت و ذلت ،
آقا ہم سے بھول ہوئی ہے
دیکھ ہماری آنکھ مچولی ،
اپنا ہی سینہ اپنی گولی
بھول گئے ہم درس اخوت ،
آقا ہم سے بھول ہوئی ہے
علم و عمل کا رشتہ ٹوٹا ،
آقا جب سے تیرا دامن چھوٹا
فرقہ فرقہ ہو گئی امت ،
آقا ہم سےبھول ہوئی ہے
درس قرآن بھول گئے ہم ،
آقا تیرا فرمان بھول گئے ہم
لے ڈوبی ہمیں مال کی کثرت ،
آقا ہم سے بھول ہوئی ہے
کون کرے ان سب کا مداوا ،
آقا ہے ہمیں تیرا سہارہ
کر دو اپنی خاص عنایت ،
آقا ہم سےبھول ہوئی ہے
وہ پھو ٹ پھوٹ ۔کر رو دیا






بھلانا آسان نہیں ہوتا
میری ایک بات مانو گے؟
ایک کام کرنا تم۔۔
بہت مصروف ہو جانا
کسی سے کچھ نہیں کہنا
کوئ پوچھے بھی تو تم
بہانہ اچھا بنا دینا
کبھی تنہا نکل جانا
شہر کے ویرانوں میں
کبھی آباد کر لینا
کوئ گوشہ خیالوں میں
کبھی ہنسنا کبھی رونا
کبھی ساری رات نہ سونا
کبھی آہٹ اگر کچھ ہو
اچانک چونک جانا تم
سنو۔۔!
وہ میں نہیں۔۔ لیکن ۔۔
ہاں میری یاد وہ ہو گی
اسے ہی تھام لینا تم
اسے بانہوں میں بھر لینا
سینے میں چھپا لینا
پھر یکدم مسکرانا تم
نہ خود کو آزمانا تم
چھلک جائیں اگر کچھ اشک
ان میں کھلکھلانا تم۔۔!
سنو۔۔
تم پر مان ہے بہت
میری ایک بات مانو گے؟
بھلانا ضروری نہیں ہوتا
محبت قرب ہے بےشک
جو روحوں میں دمکتی ہے
محبت وصل ہے بےشک
جو ہجراں میں چھلکتی ہے
یہ کیف ہے، مہک سی ہے
اگر بتیوں سی سلگتی ہے
محبت کو اگر جانو
تو یہ دعاۓ یار جیسی ہے
جب بے اختیار ہو جانا
اپنے دست وا کرنا
کچھ آنسو بہانا تم
رب کو سب بتانا تم
محبت کو دعا دینا
محبت سانس جیسی ہے
اسے ہر سانس جی لینا
سنو۔۔
بھلانا آسان نہیں ہوتا
انوکھا کام کر جانا
تم ایک راز ہو جانا
محبت حیاتِ جاودانی ہے
اک اداۓ مہربانی ہے
محبت میں نہیں مرتے
سنو تم بوجھ نہیں ڈھونا
تم
مریم کیلیے وہ پل کسی قیامت سے کم نا تھے وہ اپنی بے بسی پر پچھتارہی تھی
۔مگر کہتے ہیں ناں کے اب پچھتاوا کیسا
اسی طرح مریم یا عتیق کے پچھتانے یا ترپنے سے نا تو ان کی زندگیاں پہلے جیسی ہونی تھیں اور نا ہی ہونے والی تھی یہ قسمت کا اور اللّٰہ کا فیصلہ تھا بیشک جو عمدہ فیصلے کرنے والا ہے ہوسکتا ہےکے وہ ان کیلیے بھی کچھ اچھا سوچ رہا ہو؟کیا پتاوہ پھر سے ایک ہوجائیں؟مگر وقت سے پہلےکچھ نہی ہوسکتاسوائے صبر کے
بےشک وہ صبر کرنے والوں کی سنتا ہے
@@
آج مریم کارزلٹ آناتھا سب بے صبری سے انتظار کررہے تھے
جب اقااورمریم گھر میں داخل ہوئی
کیا ہوا بیٹا اور کیسا رزلٹ آیا رضیہ بیگم نے بے قراری سے ان دونوں سے پوچھا
اچھامریم صرف اتنا ہی کہ پائی
پھپھوایویں منہ فلارکھاہےاچھے نمبرہیں میرے توسات سو ہیں ان میڈم کےتو 880نمبر ہیں پھربھی خوش نہی ہے
میں خوش ہوں اقا
مریم نےاسےٹوکتےہوےکہا
مبارک ہوبچےاب کل کالج آجاناسمجھےتمدونوں
ارشدنےکہا
جی مریم کی آوازدب سی گئی کیونکےاقانےچلاکرکہا
کوئی نئی جی میں تےنئی آناں جومرضی کرلیو کیوں پھپھو
اقانےپنجابی میں کہااورہاں میں پرائیویٹ پڑھلوں گی مگرانکےکالج نہی پڑھوں گی سمجھادیں انکوآپ
وہ کہہ کرچلی گئی
@@
اگلےدن مریم تیارہوکرکالج کیلیےروانہ ہوگئی
ٹیسٹ اسنےکلئیر کرلیا تھا
اور بے شک وہ ارشد فاروق کی بھانجی تھی مگر وہ ہی چاہتی تھی کے اسکے ساتھ کوئی رعایت ہو اور وہ بھی اصولوں کے پابند تھے
جاؤ مریم کالج دیکھلو
انہوں نے کہا اور مریم جی کہکر باہر آگئی
وہ سامنے کا منظر دیکھ کر ٹھٹھک گئی
اسکا سر ہی چکراگیا
