Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 22)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 22)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
آج تو بسوں کی ہرتال ہے اسلیے آج تجھے اسکا دیدار نہیں ہوسکے گا میرے مجنوں
مطلب فیض نے نا سمجھی سے پوچھا
مطلب یہ کے
تجھے کیا وہ آئے نا آئے
محسن نے اسے تنگ کیا
بھلا وہ کوئی موقع جانے دے سکتا تھا کیا
مجھے کام ہے اس سے
فیض نے بے تکا سا بہانہ بنایا
او اچھا
محسن نے آنکھیں گھما کر اچھا پر زور دیکر کہا
بکواس نہ کر میں سیریس ہوں
اس نےاس کی بات کاٹی کیونکے وہ اسکی نظروں سے خوب واقف تھا
اچھا
میں تو مذاق سمجھا تھا
محسن نے اپنی دھن میں کہا
ویسے کیا اس کی وجہ وہ ہے؟
کسکی جی اور کون؟
فیض نے ناسمجھی سے کہا
یہی جو یہ توں گم سم سا رہنے لگا ہے اسکی وجہ مریم تو نہیں؟
اسنے تیر پھینکا تھا
محسن کی بات نے فیض کا رنگ ہی اڑا دیا تھا
وہ اتنی جلدی اس کے دل کا راز پا لے گا یہ نہیں سوچا تھا اس نے
اس کا دل اچھل کے حلق میں آگیا تھا
اور چہرے کے تاثرات بھی بدل گئے تھے
جب کے محسن کو اپنا اندازہ درست ہوتا ہوا لگا
جو تیر اس نے چلایا تھا وہ نشانے پے لگا تھا
وہ تو بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا
تمکتنے کمینے ہو ناں؟
تم ہم سب کے سامنے اسسے لڑتے رہے
چیخ چیخ کے کہتے رہے کہ تمہیں
مریم سے چڑ ہے اور دل میں پیار لیے پھرتے رہے ہاں
وہ لڑاکا عورتوں کی طرح کہتا رہا
ویسے بتانا پسند کریں گئے آپ کہ یہ سب کیسے
کہاں
اور کب ہوا؟
اور مجھ غریب کو بتایا کیوں نہیں گیا
محسن کی آواز میں ہلکی سی شکایات تھی
لیکن اس کے پاس ان سارے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا وہ خود نہیں جانتا تھا کے کب کیسے کہاں وہ اس کے دل میں اترتی روح میں سما گئی تھی
پتا نہیں
فیض نے کہا
میں خود کچھ نہیں جانتا
وہ بس اتنا ہی کہ پایا تھا
اوہ
تو یہ بات ہے
اس کو پتا ہے؟؟؟ نہیں
اس نے زمین پے پاؤں پھرتے ہوئے کہا تھا
مطلب معملہ
کافی سیریس ہے محسن نے اس کی طرف دیکھا جو ابھی خیالوں کی دنیا میں ہی کہیں مقیم تھا
ویسے میں نے سنا ہے عشق میں بھوک نہیں لگتی کیا یہ بات صیح ہے ؟
محسن نے بیچارگی دکھائی تھی
بکواس نہ کر چل ناشتہ کرتے ہیں
فیض نے مکا اس کی بازو پی مارکرکہا تھا
محسن کہ منہ سے بےاختیار آہ نکلی تھی
بیچاری
مریم
اسنے دکھ سے کہا
کیسے تیرے ظلم برداشت کرے گی گینڈے
بیچاری
فیض نے اس کی طرف شاکڈ
نظروں سے دیکھا تھا
اور ان دونوں کی ہی
ہنسی نکلی تھی
ویسے کیا تباہی جوڑی ہو گی ناں
تم دونوں کی
اسنے مسکراتے ہوئے کہا
چاند سورج جیسی تو سنی تھی
یہ تباہی والی تو پہلی بار سنی ہے
فیض نے اس کی بات پے حیران ہوتے ہوئے کہا تھا
وہ نارمل انسانوں کی ہوتی ہے
تیری اور اس کی تو تباہی ہی ہو سکتی ہے
مسٹر ایکشن وید مس ری ایکشن
محسن نے ہاتھوں کا کیمرے بناتے تصور کیا تھا
شٹ اپ محسن اور پلیز دوبارہ اس کا نام نہ بگاڑنا
فیض نے برا ماننے کی ایکٹنگ کی
اوہ
ہو و و و
تو بات یہاں تک پونچھ گئی ہے
اور ہم ہیں کے بےخبری میں ہی مارے گئے
محسن نے کندھے اچکائے تھے
تو اب ہمیں عزت دینی ہوگی
بھابھی جان کو
اور ان کی شان میں گستاخی نہیں کرنی چاہیے
ہے ناں
اس نے ایسے بناوٹی انداز میں کہا کہ اس کی ہنسی نکل گئی
تو نہیں سدھرے گا چل چلیں
اسنے اٹھتے ہوئے کہا
کہاں
محسن نے حیرانگی سے پوچھا
وہ تو آنے والی نہیں ہے تو اب میرا یہاں کیا کام
بیٹا تو پڑھنے آتا ہے عشق فرمانے نہیں کے معشوقہ نہیں آئی اور توں چلدیا پیچھے پیچھے
اس نے اسکی ٹانگ کھینچی
یار اب بس کر اسنے کہا
اوکے جان
چل ہاں جانا ہے؟
گھر جانے سے پہلے ہوٹل چلتے ہیں ناشتہ کرنے
فیض نے پلان بتایا
یار تو واقعی ہی الٹا ہے لوگ پیار میں ہوکر
پلیز محسن تم چپ کرکے چلو
اسنے اکتا کر کہا
اور محسن نے اچھے پچوں کی طرح منہ پر انگلی رکھ لی
@@@
وہ کمرے میں بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی جب اقا اسکے پاس آئی
مریم مجھے بائیک چلانی آگئ ہے کیا تم ایک بار دیکھ لوگی؟
واو اقا ویری گڈ
مریم نے ناول پیچھے رکھ کے کہا
چلو چلتے ہیں
مریم نے خوش ہوکر کہا
اور وہ دونوں رضیہ بیگم کو بتا کر نکل گئیں
اقا مزے سے کبھی ادھر کبھی ادھر کرکے بائیک چلارہی تھی جب سامنے سے ایک بچہ آرہا تھا
مریم نے اسے بریک لگانے کو کہا تو اسنے جلد بازی میں سپیڈ بڑھادی
چونکے بائیک جھول جھول کر چل رہی تھی تو ایک ٹھیلے سے جا ٹکرائی
اور اقا کو کافی چوٹیں آئیں
وہ کرارہی تھی
یہ تو شکر تھا کے بائیک بچ گئی تھی اور مریم بھی نہیں تو اسے کون سنبھالتا
عقل کی اندھی تمہیں کتنی بار کہا ہے کے سپیڈ والا کلچ اور بریک والا ایکساتھ پکڑنے چاہیے تاکے بروقت ضرورت تمہیں
خیر چھوڑو تمہاری میڈیسن لیتی ہوں
بیٹھو
مریم نے ہیلیمنٹ پہن کر اسسے کہا
@@
تقریباً
پانچ نٹ بعد ہی وہ دونوں کلینک کے اندر موجود تھیں
ڈاکٹر نے اسکی چوٹوں کا معائنہ کیا اور پٹی بندہواکر اودیات لکھ دیں
اور ایک عدد ٹینٹس اور پین کلر انجیکشن لگوانے کا کہا
مریم اسکیلیے جوس لے آئی
وہ جوس ہی پی رہی تھی جب نرس آگئیﻧﺮﺱ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁئی تھی
ﭼﻠﯿﮟ ﺁﺳﺘﯿﮟ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﺮﯾﮟ
ﺍﺱ ﻧﮯ اقصٰی ﮐﻮ ﮐﮩﺎ
ﻭﺍﭦ
ﺁﺭ ﯾﻮ ﺳﯿﺮﯾﺲ؟
اسﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺑے ﺎﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮑﻼ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﯽ ﻟﮕﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺁﭖ ﮐﯽاور ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ہے ﺗﻮ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺎ تو ﺳﻮﺍﻝ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﮑﻞ ہی ﺳﯿﺮﯾﺲ ﮨﻮﮞ
ﻧﺮﺱ ﺑﮭﯽ اقا ﮐﯽ ﭨﮑﺮ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﺒﮭﯽ ﭨﮑﺎ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
اس ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻻ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻭﺭ مریم ﻧﮯ ﻣﻨﮧ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮنکے ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘی ﺗﮭی ﮐﮯ ﻧﺮﺱ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ وہ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﮮ
اقا لگوالو انجیکشن
آرام آجائے گا
مریم نے اسے سمجھایا
ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﻮﺍﺅﮞ ﮔﯽ
وہ بھی اپنی ضد پر اڑی رہی
ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻧﮩیﮟ ﻟﮕﻮﺍﯾﺎ
ﺭﯾﻠﮑﺲ
اقا ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ بھی ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻤﮭیں ﭼﻮﭦ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺍنجیکشن ﺳﮯ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻓﯿﻞ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ
ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐاﻢ ﮨﻢ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻊ بھی ﮐﺮﺗﮯ ﮨیں ﮨﯿﮟ
ﺭﯾﻠﮑﺲ
ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘی ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮨی ﮨﻮ؟ ﮐﺘﻨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ؟
اقا ﭘﻠﯿﺰ ﯾﺎﺭ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﮨﮯ . ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﯾآﮑﭧ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ
مریم ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭاﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ
ﮨﺎﮞ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺲ ﭼﻠﮯ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﮨﯽ ﻟﮯ ﺁﺗی ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﮕﻮﺍﯾﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﻧﮧ ﮐیتنی ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
اقا نے کہا
پھر اسے یاد آیا کے وہ تو دن میں تین انجیکشنز لگواتی ہے
مریم ﻧﮯ ﻧﺮﺱ ﮐﻮ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ
ﺟو ﺣﯿﺮﺍﻥ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺤﺚ ﺳﻦ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﻥ ﮨﯽ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ
اقا ﮐﻮ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﺒﮭﻦ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺭﯾآﮑﭧ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻧﺮﺱ ﺑﻮﻟﯽ
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﯿﮉﻡ اب ﺁﺳﺘﯿﮟ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ وہ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺯﻭ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
کھوتے دی بچیے تینوں کینے آکھیا سیگا
کے مینوں
اسسے آگے وہ کچھ بولتی مریم نے ایک تھپڑ لگایا
مارا کیوں مجھے
وہ تقریباً چلائی تھی
مریم اسے بازو سے پکڑ کر باہر لائی
کیا بکواس کررہی تھی
کب چھوٹے گی تمہاری یہ گندی عادت
کتنی بار کہا ہے اپنی زبان پر کنٹرول رکھو مگر نہیں
میری بات نا ماننے کی تو تمنے قسم کھائی ہے
مریم بھی غصے میں آچکی تھی
اب اقا کو اپنے کیے پر شرمندگی ہوئی تھی
اسیلیے نرس سے معافی مانگنے گئی
ایم سوری مینے آپ سے بد تمیزی کی
کوئی بات نہیں میں بھی جب غصے میں ہوتی ہوں تو پنجابی ہی بولتی ہوں
نرس نے مسکرا کر کہا
@@@
وہ گھر پہنچیں تو مہر بانو آئی ہوئی تھیں
السلام و عليكم
انہوں نے سلام کیا
وعليكم و السلام
یہ کیا ہوا بلی کو
رضیہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا اور مریم نے انہیں ساری بات بتادی
بلی
انہوں نے گھور کر دیکھا تو
اقا نے سوری کیا
مہر آنٹی کیا بنا رشتے کا؟
اقا مہر بانو سے اس طرح پوچھ رہی تھی جیسے وہ بڑی بی ہو
اسکے انداز پر سب ہنسنے لگے
ارے بچی بننا کیا تھا ان لوگوں کو ہماری فوزیہ بہت پسند آگئی ہے اور اس ہفتے وہ لوگ آنے کا بھی کہہ رہے ہیں
انہوں نے بتایا
ارے اتنی جلدی
اقا نے کہا
اقا ہم نے کونسا آپی کی اسی دن رخصتی کرنی ہے جو تم ایسے کہہ رہی ہو
مریم نے اسسے کہا
وہ بھی ہے چلو آج بدھ ہے وہ لوگ جب تک آئیں گے تب تک تو ہم سب تیاریاں کرچکے ہونگے
اقا نے کہا
جبکے مریم چونکی
واٹ
مما جمعرات کو ماموں نے پارٹی دی ہے سب کو پر میں نہیں جارہی مگر ہفتے کو میرا ٹیسٹ ہے فزکس کا
اسلیے اب اسنے برا سا منہ بنایا
کیوں تم کیوں نہیں جارہی کل؟
انہوں نے پوچھا
بس مما شور شرابہ ہوگا اسلیے
بری بات مریم تم جاؤگی کل پارٹی میں
انہوں نے کہا اور اقا نے بھی انکی تائید کی
پر مما
پر ور کچھ نہیں تم جاؤگی تو مطلب جاؤ گی
اوکے وہ برا سا منہ بناکر اٹھ گئی
@@
مریم کونسی فراق پہنوں گی
اقا نے دو تین رنگ کی فرقیں پکڑ کر کہا
بلیک مریم نے ناول میں ہی توجہ دیتے ہوئے کہا
اقا نے فراقس کو دیکھا تو سب ہی کالے رنگ کی کنٹراسٹ کے ساتھ تھیں
کوئی فیروزی’پیلے۔پیرٹ اور سکن کلر کے امتجاز کے ساتھ تھیں
مریم کو کالا رنگ پہت پسند تھا اسلیے اسکے زیادہ کپڑے اسی رنگ کے ہوتے تھے
مریم یہ سب ہی تو کالی ہیں
اقا نے کہا اور مریم نے اسے سکن کلر والے پجامے والی پریس کرنے کو کہا
اور اقا نے وہی کردی
@@
وہ تیار ہوکر پارٹی میں پہنچی تو اسے سامنے سے ہی عتیق آتا ہوا دکھا تھا
اتفاق سے اسنے بھی بلیک سوٹ پہنا تھا
مریم پیچھے ہٹنے لگی تو کسی سے ٹکراگئی
وہ گرنے لگی کے اگلے بندے نے اسے تھام لیا
مریم کے جسم سے بجلی سے دوڑی
اسنے دیکھا تو وہ فیض تھا
جو اسکے چہرے پر ہی کھویا ہوا تھا
مریم کا دل زور سے دھڑکا وہ جلدی سے سیدھی ہوئی
اور وہ بھی سٹپٹاگیا
تھینکس اسنے کہا
کوئی بات نہیں فیض نے اسپر مکمل نگاہ ڈال کر کہا جو اسکے جیسے کپڑے پہنے ہوئی تھی
وہ بھی اتفاق سے بلیک سوٹ اور سکن کلر کی شرٹ پہنے ہوئے تھا
اور سکن اور بلیک کلر کا مفلر گردن پر لپیٹا تھا
اور مریم نے بلیک سکن کلر کے کام والی فراق اور سکن کلر کا پجامہ بلیک اور سکن کلر کے امتزاج والا ڈوپٹی حجاب کی طرح سر پر لیا تھا
جس سے اسکے چہرے کی معصومیت اور بھی بڑھ گئی تھی
@@
پارٹی کا آگاز ہوچکا تھا
طرح طرح کے گانے لگے ہوئے تھے
عتیق ان سب کو بڑا انجوائی کررہا تھا یا صرف مریم کو دیکھانے کیلیے ہنس رہا تھا
یہ تو اچھا تھا کے لڑکے ایک طرف اور لڑکیاں ایک طرف تھیں تو مریم بھی تھوڑا ریلیکس ہوگئی
یار بتایا تونے بھا بھی کو یا نہیں؟
محسن نے فیض سے کہا
کون بھا بھی
علی نے نا سمجھی سے کہا
ارے مریم بھابھی
اسنے کہا تو علی نے پھر پوچھا وہ کیسے بھلا
اور محسن نے ساری کہانی اسکے گوشگزار کی مرچ مسالہ لگا کر
علی کے سینے میں کوئی چیز چھن سے ٹوٹی تھی
آج تو وہ خود مریم سےاپنی محبت کا اظہار کرنے والا تھا
اسکی آنکھ میں آنسوں آگئے
کیا یوا فیض نے پوچھا
کچھ نی یا بس کچھ آنکھ میں چلا گیا ہے دھو کر آتا ہوں
وہ اٹھ کر چلاگیا اور وہ دونوں اپنی باتوں میں لگ گئے
@@
علی نے گزرتے ہوئے مریم کو دیکھا
جس کے چہرے کی معصومیت اسے اپنی طرف کھنچتی تھی
اسنے فیصلہ کرلیا تھا کے وہ اپنی دوستی کیلیے اپنی محبت قربان کردے گا اسلیے وہ وہاں سے چلاگیا
@@
اب باری ہے فرسٹ ائیر کی گرلز کی
وہ اسٹیج پر آئیں
مریم نے اردگرد دیکھا تو دعا سامنے تھی اسیلیے وہ اور ایشال بھی اٹھ گئے
جب سب گرلز اسٹیج پر جمع ہوگئیں تو فائینل ائیر کی باجی اور بھائی نے انہیں بتایا کے انسے سینئیر جو بھی چاہے انکی پسند کی چیز بتائیں
مریم کے سامنے فیض آگیا
لیٹس سٹارٹ
طرح طرح کی چیزیں پڑی تھیں
چوڑیاں اور میک اب وغیرہ اور کھیلونے گڑیا بھی
سب چن چکے تھے مگر فیض رہتا تھا
اسنے چوڑیاں چن لیں
مریم ہنس دی
وہ سمجھا شاید صحیح چنا ہے
اسے اتنا تو پتا تھا کے لڑکیاں چوڑیاں زیادہ پسند کرتی ہیں
اسیلیے اسنے بھی وہی چن لیں
اب ان دونوں فائینل ائیر والوں نے لڑکوں سے پوچھا
تو سب نے چوڑیاں میک اپ اور گڑیا کا بتایا
تقریباً سب کا ہی ٹھیک نکلا
جب اسنے ایشال اور مریم سے پوچھا تو ایشال کے پاٹنر نے جیولری چنی تھی جبکے ایشال کو چوڑیاں پسند تھیں
جب مریم سے پوچھا گیا تو اسنے
نہیں کہا
انہوں نے میک اپ جیولری وغیرہ کا کہا
تب بھی اسنے نہی کہا
ارے عجیب لڑکی ہو تمہیں یہ سب نہیں پسند تو یا پسند ہے؟
فیض نے اس سے حیرانی سے پوچھا
تبھی مریم کی نظر چھوٹے سے پستول پر پڑی تو اسنے اسے اٹھاکر کہا
مجھے یہ اچھا لگتا ہے
سب لڑکیاں حیران ہوگئیں
آپ کو پسٹل کیوں اچھا لگتا ہے؟
لڑکی نے پوچھا
کیونکے میں آرمی میں جانا چاہتی تھی
سب لڑکیاں ہنسنے لگیں
تبھی عتیق بولا
انسان کو بس وہی چیز اچھی لگتی ہے جو ملنا مشکل ہے
اب اس موٹی کو آرمی میں کون بھرتی کرے گا
سب ہنسنے لگے
مریم شرمندہ ہوکر وہاں سے آگئی ۔
