Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 10)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

سنو شانی ایک کپ چاے تو بنادو

عمران نے لاوئنج میں بیٹھی مریم سے کہا

بھائی شانی صرف میں اپنی فیملی کیلیے ہو سو آپکو مجھے شانی کہنے کی ضرورت نی ہے سمجھے آپ

اینڈ باے دا وے آپ خود بھی بناسکتے ہیں وہ کہہ کر باہر آگئی

ارے تکر کی لڑکی ملی ہے تجھے وہ خود سے کہکر مسکرادیا

پانی پر بھی زادِ سفر میں پیاس تو لیتے ہیں

چاہنے والے ایک دفعہ بن باس تو لیتے ہیں

ایک ہی شہر میں رہ کر جن کو اذنِ دید نہ ہو

یہی بہت ہے ، ایک ہوا میں سانس تو لیتے ہیں

رستہ کِتنا دیکھا ہُوا ہو ، پھر بھی شاہ سوار

ایڑ لگا کر اپنے ہاتھ میں راس تو لیتے ہیں

پھر آنگن دیواروں کی اُونچائی میں گُم ہوں گے

پہلے پہلے گھر اپنوں کے پاس تو لیتے ہیں

یہی غنیمت ہے کہ بچّے خالی ہاتھ نہیں ہیں

اپنے پُرکھوں سے دُکھ کی میراث تو لیتے ہیں

###

تم ایسی نکلو گی مینے کبھی سوچا بھی ا تھا

تم جیسی لڑکی سے اب مجھے کوئی رشتہ نی رکھنا

نومی نے دھاڑ کر کہا اور اسے دکھا دے دیا

نومی

نومی پلیز میری بات سنو مینے اسے اسےنی دی تھی وہ تو دعا اور میری ایک ساتھ پک تھی

پلیز میرا یقین کرو

اقا نے روتے ہوے کہا

او اچھا کیسے کروں یقین تجھپر جو مجھے دے سکتی ہے وہ کسی کو ھی دے سکتی ہوگی مجھے تو اب تیرا تبار ہی نی رہا

جانے کس کس سے منعہ کالا کراکر آی ہوگی اب میرے

چٹاخ

اسکی بات کو مریم کے تھپڑ نے لگام دی

اقا پھٹی پھٹی آنکھوں ے اسے دیکھ رہی تھی مریم کے آنے پر اسکے پاس چلے آئی

وہ ابھی کچھ کہتا کے مریم نے ایک اور تھپڑ دے مارا

گھٹیا اندان تیری ہمت کیسے ہوی اقا پر الزام لگانے کی

مریم نے اسکا گریبان پکڑکے کہا

دفع ہوجاو اور اپنی شکل مت دیکھانا

تجھے کیا لگتا ہے اسے میں آسانی سے جانے دونگا

نا میڈم نا

میں اتنا بےوقوف نی ہوں جتنا تو سمجھرہی ہے

اسنے مکاری سے ہنستے ہوے ہا

کک کیا مطلب

اقا نے کہا

او زیادہ نا بن مطلب تو توں سمجھ ہی چکی ہوگی

پہلے تو توں اکیلی پستی مگر اب تم دونوں کو نی چھوڑوں گا مرد کی غیرت گوارا نی کرتی کے دو کوڑی کی عورت اسپر ہاتھ اٹھائے

انہیں کہیں سے بھی وہ پہلے والا نعمان نہیں لگرہا تھا

اب تو دیکھ را بہت ہاتھ چلتا چلتاہے ناں اب چلا کر دیکھا

وہ مکاری سے کہتا انکی طرف بڑھا

وہی رک نی تو

نی تو کیا کرلے کرلےگی توں

تیری نانی سہی کہتی ہے رے کے تو اک نمبر کی چنٹ ہے پر اب تو کچھ ی کرپاے گی تیری عزت بی اب میرے ہاتھوں سے ہی تار ہوگی

اسکے آنے تک مریم نے پھرتی سے اسکے پیٹ میں لات ماردی

پر پروہ رد تھا کہاں چھوٹی سی لڑکی کا وار اسے ہراسکتا تھا

اسنے اسے دونوں بازووں سے پکڑلیا تھا

تبھی مریم کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی اور اسنے گھوما کر لات ماری جسسے چھوٹی سی ایش ٹرے اسکے سر پر آکر لگی اسی آثنا میں مریم کی گردن کے پاس کر مخصوس نس دبادی تھی جسسے وہ بے ہوش ہوگیا تھا

پتا چلا سالے کے عورت کیا کیا کرسکتی ہے

مریم اسے کہہ کر اقا کو لے کر آگئی

سوری

کسبات کی سوری ہاں تمنے تو قسم کھا رکھی ہے کے میری بات نی ماننی آج کوئی گڑپڑ ہوجاتی تو اور جب اسنے تمہیں مارا تھا و تمہارے ہاتھ توٹے تھے کیا

مریم نے نہایت غصے سے کہا

منع کیا تھا ناں مینے پر

سوری مریم پلیز معاف کردو مجھے اقا نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا

اقا میں کون ہوتی ہوں معاف کرنے والی

معافی اسسے مانگو جسکے اصولوں کے خلاف تم ایک نا محرم سے ملنے آئی تھی

میری چھوڑو اسکی ناراضگی کا دھیان کرو اور اب رونا بند کرو اور چلو گھر

اقا نے سر ہلاتے ہوے اسسے الگ ہوئی

مریم مجھے اسے پک دینی نی چاہیے تھی اقا نے کہا

اب سمجھ آئی مریم نے اسے دیکھکر کہا جو اسکی بات پر شرمندہ ہوگئی تھی

چلو جو ہوا سو ہوا اب دوبارہ کسی کو مت دینا سمجھی مریم نے اسکی خفگی مٹانے کیلیے کہا

اعتبار بیچ کر سیکھے ہیں سبق میں نے

گویا دانشوری کی بڑی قیمت چکائی ہے”

@@@@

مریم

وہ راستے میں ہی تھیں جب عتیق کی آواز آئی

اقا نے مڑ کر دیکھا اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا مگر مریم نے مڑنا بھی گوارا نا سمجھا

چلو تمدونوں کو میں چھوڑ دیتا ہوں اسنے کہا

مہربانی بس چلے جائیں گے ہم

چلو شانی

اقا نے کہا

عتیق نے اس دوشمن جان کو دیکھا اور بائیک سٹارٹ کرلی تھی

مانا کے ہم یاد نہیں

اور طے ہے کے پیار نہیں

پھر بھی نظریں تم نہ ملانا

دل کا اعتبار نہیں

راستے میں جو ملو تو

ہاتھ ملانے رک جانا

ساتھ میں کوئی ہو تمہارے

دور سے ہی تم مسکانا

لیکن مسکان ہو ایسی

کہ جس میں اقرار نہیں

نظروں سے نہ کرنا تم بیاں

جس سے انکار نہیں

###

وہ تیز تیز قدم آگے بڑھا رہی تھیں تاکہ جلدی گھر پہنچ سکیں مگر انہیں معلوم نا تھا کے گے انکا یک اور مصیبت انتظار کررہی ہے۔

_______

وہ دونوں ابھی گھر کے دروازے پر پہنچی ہیں تھیں کے انہیں ارشد صاحب کی گاڑی نظر آگئی

اقا لگتا ہے ماموں آے ہیں تم نروس مت ہونا اوکے

مریم نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے کہا

اگر انہوں نے پوچھا تو میں کیا جواب دوں گی

اقا نے فکرمندی سے کہا

اقا تم نے کام بھی تو ایسا ہی کیا ہے اب بھگتو

مریم اسے کہتے ہوے اندر کی جانب لے آئی

السلام و عليكم ماموں مامی اور

مریم نے اندر آتے اندونوں کو کہا پر آگے کا منظر دیکھکر تو تو اسکی سانس ہی رک گئی تھی

ارشد صاحب کے ساتھ والی کرسی پر نومی بیٹھا ہوا تھا

کہاں سے آرہی ہو تم انہوں نے دھاڑ کر مریم کے پیچھے کھڑی اقصٰی کو دیکھکے کہا

وہ ماموں

شانی تم آج چپ کرجاؤ اسسے مجھے اب بات کرنے دو

تم کتنی بار اسکی غلطیوں پر پردہ ڈالو گی

تم بولتی کیوں نہیں

انکی دھاڑ سے اقا کی ٹانگیں تو کیا وہ پوری ہی لرز گئی

بولتی کیوں نہیں

ارشی تمیز سے بات کرو بیٹی ہے وہ تمہاری یہ کونسا طریقہ ہوا بات کرنے کا

رضیہ بیگم نے انہیں سمجھایا

آنٹی انکل نے کہا ہے ناں انہیں ہی بات کرنے دیں آپ

نعمان نے کہا

بولو اب انہوں نے کہا

وہ وہ پاپا میں

چٹاخ

ایک تھپڑ نے اسکی بولتی ہی بند کردی تھی

ارشی رضیہ بیگم چلائیں

نی رجو اب نی اسے بتانا ہوگا کے کسکے ساتھ منہ کالا کروارہی تھی

اسکے بعد یکے بعد دیغرے

بول کیا رجو نے تیری یہ پرورش کی تھی

کے تو اپنی عزت کی بھی پرواہ نا کرے

وہ مارتے ہی گئے

اقا کے رونے میں شدت آگئی تھی

بتا کون ہے وہ بول

ارشد نے اسے جنجھوڑتے ہوے

ماموں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں

ایسا کچھ ھی نی ہوا ماموں

آپ سے سنے کہہ دیا یہ سب

اسنے نومی کی طرف دیکھکے کہا جہاں مکروہ مسکراہٹ تھی

نومی نے انہوں نے کہا اسنے اسے کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا

اسنے اسی کمبخت کو اپنے ساتھ لانا چاہا تو اسنے اسے مارا اور اسکی یہ حالت کردی

انہوں نے اسکی طرف اشارہ کرتے کہا جسکے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی

واہ کیا کہانی بنائی ہے تمنے

اسنے کہا اور آپنے مان لیا ماموں اسکی یہ حالت مینے کی ہے

اور اسنے اقا کے ساتھ بدتمیزی کی تھی

مریم نے انہیں سب بتادیا تھا

اس کمینے کو تو میں نی چھوڑوں گا اب

آصف نے اسکا گریبان پکڑ کر اسے مارا

اسے تو پولیس کے ہوالے کردینا چاہیے

جیا نے کہا

رائٹ جیا تمنے ٹھیک کہا

آصف نے پھر جلدی سے فلورہ کے بھائی کو کال کی کیونکہ انکا ایک دوست پنجاب پولیس میں تھا

پندرہ منٹ بعد ہی پولیس آگئی

ارے اسکو تو ہم کب سے ڈھونڈ رہے تھے

کیا مطلب S H O

سر

ارشی نے پوچھا

ارشد جی یہ لڑکا بھولی بھالی لڑکیوں کو شادی کے جال میں پھنسا کے انکی سمگلنگ کرتا ہے

ارشد صاحب نے فھٹ اقا کی جانب دیکھا جسکا مان وہ توڑ چکے تھے

بچے مجھے معاف کردو انہوں نے اسسے کہا پر وہ ان

سنا کرکے چلی گئی مریم بھی اسکے پیچھے چلی گئی

ہر رشتے کی اپنی

جگہ ہوتی ہے قدر ہوتی ہے تقاضے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات یا شاید اکثر

کچھ رشتے کسی اک رشتے سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور پھر یہی اک رشتہ

پوچھا ہمارے ہاتھوں سے نکل کر ہمیں بھی بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے اتنا پیچھے کہ باقی ماندہ رشتے بھی کہیں دور رہ جاتے ہیں ۔.

پھر بچتا ہے تو بس اک خلش اور ہوک کا رشتہ

مریم مینے اسکا کیا بگاڑا تھا جو وہ ایسا نکلا

مینے تو اسے اتنا پیار کیا تھا ناں پھر

اقا نے روتے ہوے کہا

اقا پ کرجاو ار جو ہوا اچھے کیلیے ہوا

تم شکر کرو کے اللّٰہ نے تمہاری عزت بچالی

اور رہی ماموں کی بات تو بھی بھول جائیں گے

اب تم ہی بتاو کیا کرتے وہ جب انسے کسی نے کہا یہ سب تو

اور اقا چھوڑو تم سب اب فکر نا کرو سب ٹھیک ہوجاے گا

اقا نے اسکی بات پر سر ہلادیا

###

مریم میری بات سن لو پلیز

عتیق نے اسسے کہا

مجھے تمہاری کوئی بات نی سننی عتیق

وہ کہہ کر چلی گئی

وہ بس سردی کی ٹھٹھرتی ہواؤں میں ساکت سا رہ گیا

ایک آنسوں نے اسکے رخسار کو بگھوڈالا تھا

سردیاں ہیں تو اچھی ، مگر جب یہ موسم رِشتوں جذبوں اور مِزاجوں پر ٹھہر جائے تو روح بھی سرد ھو جاتی ھے سرد موسم کی چبھن میں وہ تکلیف نہیں ہوتی جو اپنوں کی بے رُخی میں ہوتی ھے ﹏☆

سائیاں میرےدل دےآسائیاں

سائیاں نہ کر تو بے پروائیاں

سائیاں تجھ کو دل دیا

اپنا تن من تجھ پہ وار دیا

سائیاں سکون نہیں ہے

سائیاں آنکھوں میں نیند نہیں ہے

سائیاں میری نیند تو واپس کر

سائیاں کچھ تو رحم کر

سائیاں میرا قصور بتا

سائیاں میرا درد گھٹا

سائیاں کچھ کر جاوں گی

بن تیرے میں مر جاوں گی

سائیاں معصومیت میں کھو بیٹھی ہوں

میں خود کو بہت رو بیٹھی

سائیاں تیرا انتظار رہے گا

مر کے بھی تجھ سے پیار رہے گا

سائیاں میری قبر پہ تو آنا

اپنے ہاتھ سے چراغ جلانا

پر آپا ایسے کیسے ہوسکتا ہے

ارشی صاحب کبسے اپنی بہن کو سمجھارہے تھے

ارشی دیکھ میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہو میری بچی کو بچالے تو تو جانتا ہے ناں

انہوں نے انکے سامنے ہاتھ جوڑ دیے تھے

اچھا رجو سے پوچھتا ہوں

انکو بہن کی بات پر رونا آیا کے وہ صغراں جو کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلاتیں تھیں آج انکو انکی اولاد نے کہاں لا کھڑا کیا

وہ بہن کو تسلی دیتے ہوے چلے گئے

وہ لڑکا جسے وہ دیکھنا بھی پسند نا کرتیں انکی بیٹی کی ضد کی وجہ سے آج اسے اپنا داماد بنانے چلیں تھیں

@@@

ارشی تم آپا کو ہاں کردو رضیہ بیگم نے کہا

پر رجو

پر ور کو چھوڑو مریم اب اسسے کبھی شادی نی کرے گی تو بہتر ہے کے تم بہن کا مان رکھلو

انہوں نے کہا

اچھا ٹھیک ہے رجو انہوں نے کہہ کر فون رکھدیا اور صغراں بیگم کی طرف آکے انہیں بتدیا

منگنی کی رسم ایک ہفتے بعد 27رمضان کو رکھی گئی تھی

عتیق نے واویلہ مچایا پر سب نے اسے چپ کرادیا

اسنے بھ سوچ لیا تھا کے اسکو اب کیا کرنا ہے

اسنے سارا پلان ترتیب دیلیا تھا پر اسے ارشد صاحب کی بات یاد آگئی تھی کے تم اس رشتے سے انکار نی کرو گے

اسکو فکر ہوی

پر اگلے ہی لمحے وہ شوچ کر خوش ہوگیا اور کہا

تیار رہنا مریم بی بی اب دیکھنا تم کے میں کیا کرتا ہوں

اسکی سوچ نے ہی اسکے چہرے چہرےپر مسکان لادی تھی اور وہ کمرے سے باہر آگیا

اسکا رخ ارشد صاحب کے روم کی جانب تھا

مریم مجھے معلوم ہے تم آج بھی مجھسے محبت کرتی ہو

مجھے محسوس ہوتا

محبت کم نہیں ہوگی

محبت ایک وعدہ ہے

یہ وعدہ شاعری بن کر مرے جذبوں میں دُھلتا ہے

کہ جس میں خواب اُگتے ہیں تو خوابوں کی ہری

شاخیں

گلُابوں کو بُلاتی ہیں

انھیں خوُشبو بناتی ہیں

یہ خوشُبو جب ہماری کھڑکیوں پر دستکیں دے کر

گزُرتی ہے

مُجھے محسوس ہوتا ہے

محبّت کم نہیں ہو گی

۔۔۔۔۔۔

کیا بکواس کررہے ہو تم

ارشد صاحب نے اسکے اسکےبات سن کر کہا

پاپا کوئی بکواس نی ہے اک شرط ہے اگر مریم میری منگنی میں آئی تو ہی میں ثناء سے منگنی کروں گا

اگر وہ نا آی تو؟

ارشد صاحب نے پوچھا

تو اویسلی نی کروں گا اسنے مسکرا کر کہا اور چلدیا

۔ ۔ ۔

جب تیرے شہر میں رہا کرتے تھے…,

ہم بھی چپ چاپ جیا کرتے تھے….,

آنکھوں میں پیاس ہوا کرتی تھی….,

دل میں طوفان اٹھا کرتے تھے…

گھر کی دیوار سجانے کی خاطر

ہم تیرا نام لکھا کرتے تھے

آج تیری تصویر دیکھی تو یاد آیا؟

کبھی ہم بھی محبت کیاکرتےتھے.‏‎

۔۔۔۔۔

مریم میری یہ شرط ہے اگر تمہیں منظور ہے تو ثناء کو ہاں کردوں

عتیق نے شوخی سے کہا

دل لگی شوشہ تھوڑی اداکاری ھوتی ھے

نام عشق کا مگر مکاری ھوتی ھے

ھوش آنے میں تھوڑا وقت تو لگتا ھے

ھاں پر کچھ روز خماری ھوتی ھے

ھر عمر میں نہیں علاج بھی ممکن

یہ عشق نام کی جو بیماری ھوتی ھے

بنتی نہیں ھے بات یہ الگ بات ھے

ورنہ بات ان سے روز ھماری ھوتی ھے

بے جھجھک بے خوف بس کرتے جائیے

رسمٍ وعدہ محبت میں سرکاری ھوتی ھے

ھونگی ملاقاتیں بھی بے تکلفی کے ساتھ

ابتداء عشق میں تھوڑی تیاری ھوتی ھے

اخلاق اپنا تو اب نام کا ھی رہ گیا ھے

اس نام سے تو اب بیوپاری ھوتی ھے

سچ مچ میں اب کبھی تنہا نہیں رھتی

سنگ تیرا خیال و چار دیواری ھوتی ھے

ذکر سحر جی کا پھر آنا ھے لازمی

بات جب کبھی کہیں تمہاری ھوتی ھے

مجھے م سے اتنی ہی ڈھیٹائی کی توقع تھی

مریم ے کہا

دیکھلو ہا ھا اں کے مہاری ہر ایک وقع پر پورا اتروں گا اسنے دانت نکالتے کہا

اسے یقین تھا کے مریم نی مانے گی

پر ہر بار توقع کے عین طابق بات تو نی ہوتی ناں

مریم اٹھ کھڑی ہوئی

مجھے معلوم تھا تم آج بھی مجھسے پیار کرتی ہو

اٹھتی ھر لہر کو دریا میں قہر ھونے تک

ھم نے دیکھا تھا دوا کو بھی زہر ھونے تک

دورٍ ترقی میں اجڑ بھی گیا کب کا جانے

ایک گاؤں جو بسا تھا وہ شہر ھونے تک

مفلسی نے کبھی جانے نہ دیا گھر کو اپنے

کیسا دکھتا ہے چمن دھوپ کے سر ھونے تک

رات بھر جشن کریں وصلٍِ بہاراں میں سنو

تارے سب سنگ رہیں گے یہ سحر ھونے تک

گو فصیلوں میں مجھے قیدتو یوں ہونا تھا

گر گئے دام مرے لعل و گہر ھونے تک

بے بسی اپنی رھی خوب سحر جی سر پر

ھوئے بدنام بہت دل سے سفر ھونے تک

غلطفہمی ہے تمہیں

مریم ے اگلی جو بات کہا سے سن کر تو اسکی ہنسی تو کیا اسکا دماغ بھی سمٹ گیا تھا

ارے اسے گیا ہوگیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *