Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 23)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 23)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
وہ رونے میں مصروف تھی جب فیض آیا
تم یہاں کیا کررہے ہو مریم نے اپنے طرف بڑھتے ہوئے فیض سے کہا کیا مطلب کیا کررہا ہوں بھئی یہ تمہاری اکیلی کا تو کالج نہیں ہے صرف میرا بھی ہے اسلیے میں جہاں چاہوں جاسکتا ہوں وہ اسکے قریب بیٹھتے ہوئے بولا اچھا ٹھیک ہے مریم نے اٹھتے ہوئے کہا جبھی اسنے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ارے تم کہاں جارہی ہو؟ بھئی یہ تمہارے اکیلے کا تو کالج نہیں ہے صرف میرا بھی ہے اسلیے میں جہاں چاہوں جاسکتی ہوں مریم نے اسکی ت ہی اسے لوٹادی تھی واہ بھئی واہ آج تو تم میرے رنگ میں ہی رنگ گئی ہو مگر تم یہاں سے نہیں جاسکتی کیوں یہاں پر کیلفیو لگا ہے مریم نے اسکی بات کا جواب دیا مریم مجھے سیدھی اور صاف بات کہنے کی عادت ہے اسلیے میں تمسے سیدھے سیدھے کہتا ہوں کے مجھے تم سےمحبت ہوگئی ہے پتا نہیں کب سے مگر ہوگئی ہے اب تم بتاؤ تم میرے لیے کیا جذبات رکھتی ہو؟ اسنے اتنی آسانی سے اپنی بات کہہ دی تھی مگر مریم اسکی بات سن کر سن ہی ہوگئی تھی بولو اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تم پاگل تو ہیں ہوگئے یہ کیا بکواس کررہے ہو تم تم کسی سے محبت کرتے ہوگے مگر مجھ سے نہیں اور اورمیں میں تو تمہارے جیسے انسان کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی اسکا دل ٹوٹ سا گیا مریم بھی غصے میں بہت بول چکی تھی مجھ جیسا خیر چھوڑو پہلے کی باتوں کو تم بھی اتنے دنوں سے دیکھرہی ہوگی کے میں کتنا بدل چکا ہوں میں پورا بدل جاوں گا مگر تم ایک بار ہاں کہدو پلیز وہ اسسے اپنے پیار کی بھیک مانگ رہا تھا فیض تم جیسے بھی ویسے ہی رہو مگر مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اسلیے میرا خیال اپنے دل سے نکال لو مگر مریم جب ہمارا نکاح ہوجائے گا تب تب تو تم مجھسے محبت کرو گی ناں؟ اسنے آس بھرے لہجے سے کہا میں تمہیں کچھ کہرہی ہوں اور تم کچھ کہر رہے ہو تمہیں سمجھ نہیں آئی کی مجھے تم بلکل بھی اچھے نہیں لگتے مریم نے تنک کر کہا اور وہاں سے چلی آئی ویسے بھی اب اسکا بلکل موڈ نہیں تھا پارٹی میں واپس جانے کا
@@
وہ گھر آکر چپچاپ لیٹ گئی تھی
اقا نے اسسے اتنی جلدی آنے کا پوچھا تو اسنے بتایا کے
ویسے ہی اور لیٹ گئی
@@
اگلے دن وہ کالج نہیں گئی تھی
اقا نے پوچھا تو انے ویسے ہی کہہ کر ٹال دیا
اقا کے اسرار کرنے پر اسنے اسے سب بتادیا
اور اقا بھی چپ ہوگئی
@@
آج مریم کا ٹیسٹ تھا اور فوزیہ کے رشتے والوں نے بھی آنا تھا
اسلیے رضیہ بیگم نے اسے جلدی آنے کا کہا
@@
وہ ٹیسٹ دی کر نکلی تو اسے فیض نظر نہیں آیا
اسنے شکر ادا کیا کے وہ نہیں آیا تھا
وہ جلدی جلدی گھر کیلیے نکلی
کیونکے بارہ بجے تک مہمان آگئے ہونگے اور ابھی ساڑھے بارہ ہورہے تھے
@@
فیضی
بیٹا اٹھو
ہمیں کہیں جانا ہے
ماما آپ لوگ جائیں مجھے نہیں جانا
بیٹا عثمان نےکہا تھا کے تم بھی ساتھ چلو گے اسلیے اٹھو جلدی۔
اور سے چارو ناچار اٹھنا ہی پڑا
پچھلے دو دن سے وہ کالج نہیں گیا تھا
وہ کیسے اسکا سامنا کرتا بھلا
@@
وہ جب گھر پہنچیں تو آگے بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھکر ٹھٹھک گئی
تھی
اسکے قدم وہیں منجمند ہوگئے تھے
_______
وہاں اور کوئی نہیں بلکے
شاہینہ بیگم ‘حسین صاحب ‘ فیض اور عشمان بیٹھے تھے
مریم ان کو دیکھ کر چونک گئی تھی
اتنے میں رضیہ بیگم کی نگاہ اس پر پڑگئی
شانی وہاں کیوں کھڑی ہو اندر آؤ ناں جلدی
مہمانوں سے ملو
سب مہمانوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا
فیض کے لبوں پر احتزائیہ مسکان تھی
وہ سر ہلا کر آگے آگئی
السلام و عليكم
اسنے سب کو مشترکہ سلام کیا
وعليكم و السلام
بیٹی
حسین صاحب اور شاہینہ بیگم سے پیار لیکر وہ سائیڈ پر ہوگئی
حال احوال کے بعد وہ ان سے معذرت کرکے اپنے کمرے میں آگئ
وہ کمرے میں آئی ہی تھی کے فوزیہ کو بیڈ کے سائیڈ پر چھپا دیکھکر وہ اس طرف ہی آگئی
آپی آپ یہاں کیوں چھپی ہیں؟
شش اسنے لبوں پر انگلی رکھی
اتنے میں اقا وہاں پر آگئی
شانے سائیڈ آ میں بتاتی ہوں
پھر اسنے بتایا کے باہر جو لوگ آئے ہیں ان میسے ایک لڑکا وہ ہے جسکی آپی کیساتھ لڑائی ہوئی تھی
تم نے دیکھا؟
مریم نے گھبراتے ہوئے پوچھا
نہیں میں تو باہر ہی نہیں نکلی ابھی دس منٹ ہی ہوئے ہیں
آپی نے بالکونی سے انہیں دیکھا تب سے چھپی ہیں
وہ سمجھ رہی ہیں کے وہ انکی شکایت لیکر آئیں ہیں
وہ تو شکر ہے رشتے والے نہیں آئیں ابھی تک
کیا میں سمجھی کے وہ رشتے والے ہی ہیں
مریم کو اپنی عقل پر افسوس ہوا تبھی رضیہ بیگم آئیں اور مریم کو جلدی کپڑے چینج کرنے کا کہا
اور مریم واش روم میں گھس گئی
وہ باہر نکلی تو وہ اقا سے کہرہی تھیں کے منع بھی کیا تھا فوزیہ کو کے آج کہیں نا جائے مگر میری بات نہیں سنتی
مگر مما آپی تو
وہ اس سے پہلے کچھ کہتی اقا نے اسکے پاؤں پر پاوں مارا
اور اسے چپ رہنے کا کہا
اور وہ بھی انہیں جلدی آنے کا کہکر واپس چلی گئیں
شانی پاگل پھپھو کو بتایا ہے کے آپی گھر پر نہی ہیں تاکے وہ آپی سے بدلا نا لے سکے
اچھا پہلے بتانا چاہیے تھا ناں
مریم نے بیڈ پر بیٹھتے کہا
چلیں
اقا نے ڈوپٹہ لیتے کہا
نی میں نی جارہی
مگر کیوں؟
اقا نے حیرت سے کہا
اقا وہ آیا ہے
مریم نے کہا
وہ کون
اچھا فیض وہ جلدی ہی پہچان گئی تھی
مریم نے اثبات میں سر ہلایا تبھی عاشق صاحب روم میں آئے اور اقا اور مریم کو باہر آنے کا کہا اور فوزیہ کو کال کرنے کا
اوکے ڈیڈی
جلدی آنا آپ دونوں
وہ انکے سر پر پیار دیتے ہوئے چلے گئے
آپی اب آپ نہیں بچ سکتیں
مریم نے اسے باہر نکال کر کہا
وہ رودینے کو تھی
اب کیا کروں
آپ چھ نا کریں بلکے حالات کا سامنا کریں
اور فوزیہ کو مریم کی بات اچھی لگی اسیلیے اٹھ کھڑی ہوئی
وہ جو سی گرین کپڑے اپنے رشتے والوں کیلیے پہنے تھی اس میں ہی ملبوس باہر آگئی
اسکے آگے مریم اور اقا تھیں
رضیہ بیگم جو کچن سے اسے باہر آتا دیکھ چکی تھیں
وہ اسکے پاس آکر اسے مہمانوں کے سامنے لے گئیں
یہ ہے ہماری بیٹی فوزیہ انہوں نے شاہینہ بیگم سے کہا جو اسے اپنے ساتھ بٹھارہی تھیں
فوزیہ تو انکا نام فوزیہ ہے
عثمان جو اسے دیکھ کر چونک گیا تھا زیر لب بڑبڑایا
وہ انسے باتیں کرنے لگئیں
عثمان من ہی من مسکرارہا تھا
کے جسے اسنے چاہا تھا اسکی ماں اسی کو ہی اسکا ہمسفر بنارہی تھیں
اقا کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا
اسے یقین نہیں آرہا تھا کے یہ لوگ اسکا رشتہ لینے آئے تھے
جبکے مریم فیض کی نظروں سے بچنے کیلیے کچن میں آگئی اور اسکے پیچھے اقا بھی اپنی حیرت کا اظہار کرنے آگئی
مجھے پہلے ہی لگا تھا
مریم نے پلیٹ میں بسکٹ سیٹ کرتے کہا
وہ کیسے؟
بدھو مہر خالہ انکے ساتھ ہی براجمان تھیں
او اچھا
اور وہ چائے لیے جبکے مریم بسکٹ مٹھائی اور رولز کی ٹرے لیے ڈرائنگ روم میں آئیں
وہ ٹرے رکھ رہی تھیں تبھی عثمان بول پڑا
واؤ آپ دونوں جڑوا ہو؟
اقا نے نفی میں سر ہلایا
نہیں تو شانی مجھ سے چھوٹی ہے دو سال
اقا کے تفصیل سے بتانے پر مریم نے اسے کوہنی ماری
شانی یہ کیسا نام ہوا بھلا؟
اسنے حیرت سے کہا
جبکے فیض ہنوز مسکرائے جارہا تھا
نام بچی کا مریم ہے پیار سے شانی کہتے ہیں
شاہینہ بیگم نے کہا
مام آپ انہیں جانتی ہیں؟
اسنے خوشگوار حیرت سے پوچھا
جی بلکل بہت ہی اچھی بچی ہے
جب بانو ہمیں اس گھر میں لائی تبھی میں یہ رشتہ پکا ہی سمجھ رہی تھی
آپ یہاں پہلے بھی آئیں ہیں
ہاں
ایک بار تمہارے پاپا اور بھائی کیساتھ آئی تھی
اچھا
او ہو تو یہ وہ والی مریم ہے؟
اسنے اسکے کہنی مارتے ہوئے کہا
وہ دھیما سا مسکرا کر سر ہلانے لگا
پھر تو مام کو کہتا ہوں دونوں کا ہی رشتہ پوچھ لیں
اسنے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا
جبکے وہ سوچ میں پڑگیا کے کاش ایسا ہوجاتا
تبھی بیل کی آواز آئی تو مریم نے دروازہ کھولا
تو سامنے ارشد صاحب شریفاں بی بی شبانہ بیگم اور عتیق موجود تھے
مریم ان دونوں کو دیکھکر مسکرا ہی رہی تھی کے اسے شریفاں بی بی اور عتیق نظر آگئے
مریم نے ارشد کی جانب دیکھا تو ہونٹ بھینچ کرہی رہ گئے
مریم سمجھ گئی ان سے ملکر انہیں انہیں اندر لائی
فوزیہ اور آصف انسے ملے بعد میں ماموں اور معمانی سے
آج شریفاں بی بی خوش خوش تھیں
شاید انکی لاڈلی نواسی کا رشتہ ہونے والا تھا یا مریم کا عتیق سے رشتہ ٹوٹا تھا اس پر
السلام و عليكم
سب نے بیک آواز سب کو سلام کیا
انہوں نے جواب دیا
وہ چاروں ہی حیران تھے کے سر ارشد انکے گھر کیسے آئیے؟
ارشد صاحب بھی ٹھٹھک گئے تھے
بھائی صاحب آپ
حسین صاحب بول ہی پڑے
جی میں فوزیہ مریم اور آصف کا ماموں ہوں اور بھائی اور آپی کا بھائی ہوں
انہوں نے اپنا تعارف کروایا
پھر شبانہ بیگم نے بھی اپنا تعارف کروایا
پھر شریفاں بی بی نے کہا کے وہ آصف اور فوزیہ کی نانی ہیں
عاشق بیٹے کی پھپھو ماں ہیں اور اقصٰی کی دادی ہیں
انہوں نے سرے سے ہی مریم اور رضیہ بیگم کا نام نہیں لیا
انکا ایسا مریم کو اگنور کرنا فیض کو نا پسند لگا
میں عتیق ہوں پھپھو اور ماموں کا بھاتیجا
اکی ,آپی اور بھائی کا بھائی
اور مریم کے
فیض نے جلدی سے پوچھا
اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا مریم بول پڑی
افکورس میرا بھی بھائی ہے
اسکی بات سے فیض کو تسلی جبکے عتیق کی آنکھوں میں انگارے پھوٹ پڑے
آپ نے بتایا نہیں بیٹا کے ارشد صاحب آپکے ماموں ہیں
شاہینہ بیگم نے پوچھا
جی آنٹی وہ کالج میں تو سر ہی ہیں ناں
اسلیے
مریم کہا
انکا دل بہت خوش ہوا
وہ ایسی ہی لڑکی اپنے بیٹے کیلیے چاہتی تھیں
انکے دل میں ارشد صاحب کیلیے عزت اور بھی بڑھ گئی
جو اپنے اصولوں کے اتنے پکے تھے کے اپنی سگی بھانجی سے بھی معافی منگوائی اسکی غلطی پر
انہوں نے مریم کا رشتہ بھی مانگنے کا سوچا
جسے مریم نے سہولت سے یہ کہکر انکار کردیا کے وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی
نی مما ڈیڈی میں اس سے شادی نہیں کروں گی
مگر کیوں بیٹا
شاہینہ بیگم نے اس سے پوچھا تو اسنے بس یہی ہا اسے شادی کرنی ہی نہیں ہے
ٹھیک ہے بیٹا بس آپ ٹینشن نا لیں
عاشق اور رضیہ نے کہا
عاشق صاحب اور رضیہ بیگم نے اسکی طرف داری کی کے اگر وہ نہیں چاہتی تو اسکی بات نہیں ہوگی
اگر فوزیہ سے رشتہ کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں
تو شاہینہ بیگم نے بھی ہیرے جیسی لڑکی ہاتھ سے جانے نا دی
اور اگلے ہفتے منگنی کی اور نکاح کی رسم ایک ساتھ کرنے کیلیے کہا
کیونکے اگلے مہینے عثمان پانچ سالوں کیلیے لندن جارہا تھا
اتنی جلدی
عاشق صاحب نے کہا
جی بھائی صاحب ہماری بھی مجبوری ہے
انہوں نے کہا
فوزیہ شرما کر وہاں سے چلی گئی
تھوڑی بہت بات چیت کے بعد انہوں نے اگلے ہفتے کی تاریخ پکی کرلی تھی
اقا اور مریم کو ارشد صاحب نے انہیں گھر دیکھانے کو کہا تو انہوں نے انکا گھر دیکھ لیا
اب وہ اقا اور مریم کے روم میں موجود پوسٹرز اور گنز دیکھ رہے تھے
عثمان کے پوچھنے پر مریم نے بتادیا تھا
کے وہ آرمی میں جانا چاہتی تھی
مریم نے بتا یا کے اب وہ نہیں جاسکتی کیوں کے وہ دل کی مریض ہے
جسپر فیض اور عثمان کو افسوس ہوا
میں نے یہ سیکھا ہے کہ جب تک میں ہر ایک کی ہر بات کو دل سے لگاتتی
رہوں گی تب تک میں اذیت میں رہوں گی
کسی دوسرے انسان کو صرف الفاظ سے میرا سکون چھیننے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے
اسلیے مینے اب لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرنا بند کردی ہے اسنے
فیض کو دیکھ کر کہا
عثمان نے اسے دعا دی اور کہا کے ہر بہن کو تمہارے جیسی ہونا چاہیے
جی بھائی
اتنے میں جیا انہیں بلانے آگئی کھانے کیلیے
وہ لوگ کھانا کھا کر اگلے ہفتے آنے کا کہکر چلے گئے تھے
وہ چاروں بھی چلے گئے
تبھی رضیہ بیگم نےاور عاشق صاحب نے اسے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی
اور مریم اقا کو بھی
مگر قسمت اور وقت کے فیصلوں پر کسی کی چلی ہے جو ان کی چلنی تھی
راستہ ایک ہی ہے
اس پہ انسان ایک وقت تک چلتا ہے
اور پھر آخر وہ واپس اپنے قدموں کے نشانوں پہ لوٹتا ہے
جو ببول اُگا کر جاتے ہیں
ان کو لہولہان کرنے والے کانٹے ہی ملتے ہیں
اور جنہوں نے پھول بکھیرے ہوں
ان کا انتظار گلستان کر رہے ہوتے ہیں
اب یہی انتظار تھا کے انکا انتظار کون کررہا تھا
پھول یا کانٹے؟
@@
یار توں کیوں اداس بیٹھا ہے؟
فیض لائبریری کی سیڑھیوں میں بیٹھا تھا جب محسن اور علی آئے تھے اسکے پاس
اداس تو نہیں ہوں
اسنے اپنے چہرے پر زبردستی مسکان لاکر کہا
جانے دے
محسن نے اسے ایک دھپ لگاتے ہوئے کہا تھا
اچھا تم دونوں یہاں کیا کرنے آئے تھے؟
وہ کچھ بولتے اس سے پہلے ہی اسنے سوال کر ڈالا
ہاں وہ میں بتانے آیا تھا کے ایگزامز ہوچکے ہیں تو علی نے اسلام آباد جانا ہے
کیوں وہ چونکا
بس ویسے ہی یار یہاں رہکر بہت بور ہورہا تھا
اسیلیے جارہا ہوں شام میں ہی
اچھا
تو ہمیں اب بتارہا ہے کمینے
فیض نے اسکے سینے پر مکا مارا
وہ خاموش ہی رہا
اچھا فیض تونے بتایا نہیں
محسن نے بات شروع کی
کیا؟
اسنے نا سمجھتے ہوئے کہا
او ہمارے منہ سے سننا چاہتا ہے
ہاں
اسنے اسے چھیڑا علی چپ چاپ تھا
بھابھ
اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بول پڑا
نی مانی یار اسکی آنکھوں میں اداسی واضع تھی
تو پھر بات کرلی تھی
علی وہاں سے جانے لگا تب اس نے انکی بات سنی
تو وہیں رک گیا
ہاں بات کی تھی باقائدہ مام رشتہ بھی لیکر گئیں
مگر اسنے انکار کردیا
ارے یار اسکی کس نے سنی ہوگی تو اسکے پیرنٹس سے بات کرتا
یار مریم کی اپنے گھر میں بہت چلتی ہے
اسکی بہن سے کسی نے اسکی مرضی نہیں پوچھی مگر اس کے انکار کرنے پر اسکے مما پاپا نے بھی انکار کردیا یہ کہہ کر کے وہ اسکی مرضی کے خیلاف کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے
اور پھر اسنے سارا واقع انہیں سنایا
علی کے دل میں ایک امید ے جگہ لی
وہ واپس آکر اپنے بھائی کو اسکے گھر بھیجے گا
مگر وقت کا کوئی بھروسا نہیں ہے
