Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 14)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

سامنےکے منظر نے اسے آنکھیں جکھانیں پر مجبور کردیا

وہ جلدی سےپلٹ گئی اسکےقدموں کارخ پرنسیپل آفس کی طرف تھا

ماموں یہ کیاہے؟

کیاکیاہےشانی

انہیں اسکی باتکی سمجھ نہی آئی

میرامطلب ہےکےیہ کمبائن کالج ہے

اسنےانسےتصیح چاہی

ہاں کیوں تمہیں نہی پتہ تھا؟

انہوں نےبھی حیرت سےاسےدیکھا

نہی مجھےنہی پتہ تھااوراگرمجھےمعلوم ہوتاتومیں ہرگزیہاں ناآتی

اسنےانسےکہاجواسکی بات پرچونک پڑےتھے

مطلب

مطلب یہ ماموں کےمیں اب یہاں نہیں پڑھوں گی

مگرکیوں بچےاگربوائزکامسئلہ ہےتوپنجاب کےہریونیورسٹی لیول کالج میں بوائزہونگےہی ہونگےتم فکرمت کروکوئی تمہیں تنگ نہی کرےگامیں بتادوں گاسبکواب ٹھیک ہے

جی مگرمجھےاچھانہی لگتامگرہم پہلےبھی کئی بارآچکےہیں تب تو

تم لوگ میرےاسکول میں آئیں تھیں بچےیہ یونیورسٹی لیول کالج ہے

جی ماموں میں سوچ کربتاوں گی اوکےاللّٰہ حافظ

وہ کہکروہاں سےنکل پڑی

@@

اگلےدن وہ باقاعدہ کالج جانےکیلیےتیارہوگئی تھی کیونکہ رات بھرعاشق صاحب اوررضیہ بیگم نےاسےکافی سمجھادیاتھاکےبس تمنےپڑھناہی ہےاورکوئی بات نہی کچھ بھی نہی ہوتا

اورجب اسنےاقاوالی بات کاذکرکیا توانہوں نےکہا کےہمیں تم پر اوراقاپر بھی پورا بھروسہ ہےانسب میں اسکی

کوئی غلطی نہی تھی اور تم نے صرف پڑھنا ہے انہوں نے سمجھایا

@

اچھامما ڈیڈی میں جارہی ہوں

شانی

بیٹا ارشی کو تو میٹنگ کیلیے اسلام آباد بلایا ہے تو تم کیسے جاو گی

انہوں نے کہا

ڈیڈی میں اپنی بائیک سے جاوں گی

مگر تمہیں تو ڈاکٹر نے مشقت والے کاموں سے منہ کیا ہے ناں

رضیہ بیگم نے حیرت سے کہا

اچھا تو کیا مما میں

خانپور پیدل جاوں گی کیا؟

اسنے کہتے ساتھ ہی بائیک سٹارٹ کردی اور ہیلیمنٹ پہن لیا

اچھا اللّٰہ حافظ

وہ کہہ کر نکل گئی

@@

ابھی وہ راستے میں ہی تھی کے ٹریفک جام لگا ہوا تھا

اسے بھی ابھی لگنا تھا

اسنے ناگواری سے گھڑی کو دیکھا جو8بجا رہی تھی

اسنے اردگرد کا جائزہ لیا تو سب دیدے پھاڑے اسے ہی دیکھ رہے ھے

ارے لڑکی ہوکر موٹر سائیکل چلارہی ہے ہاہاہا

انمیسے کسی نے کہا

کیوں

تمہیں کوئی تکلیف ہے اپنے کام سے کا رکھو سمجھے

مریم نے غصّے سے کہا

وہ شرمندہ سا ہوگیا

وہ8:30پر

ہی کالج آگئی تھی اسنےکلمہ شریف پڑھتےہوئےاندرکی جانب قدم بڑھائے

وہ اندر جاکراپنےڈیپارٹمنٹ ڈھونڈنےلگی تھی کےایک لمبی قطارلگی ہوئی تھی وہ اردگردکاجائزہ ہی لےرہی تھی کےایک لڑکااسکےقریب آیاوہ اپنےدھیان میں تھی کےاسےدیکھ ہی ناپائی

اہم اہم

اسنےگلاکھنکارا

مریم چونک کرمڑی

وہ دکھنےمیں توشریف لگتاتھا21’22کامعلوم ہوتاتھا

جی

مریم نےکہا

آپ فرسٹ ائیرکی طالباہیں غالباًاسنےکہا

جی

تو آپ یہاں کیاکررہی ہیں توکہاں جاوں

مریم نےناسمجھی سےکہا

میرا نام پروفیسر عمر ہے میرے ساتھ آجائیں

جی پر آپ

مریم اپنی بات مکمل کرتی اس سے پہلے ہی وہ اس کی بات سنےبغیرآگے بڑھ گیا

انکااچھاقد

صاف رنگت

سلیقےسےبنےبال بلیوشرٹ اور بلو جینس پہنے آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔ ہاتھ میں ایپل کے نیو ماڈل کا موبائل لیے وہ اس کے آگے چلتے عمر یا ہولیے کہیں سے بھی پروفیسر نہیں لگ رہے تھے۔ بلکے اسے تو وہ کسی فلم کا ہیرو لگ رہےتھے۔ تبھی وہ کنفیوز ہو رہی تھی.آپ سچ میں پروفیسر ہیں؟

چہرے پے دنیا بھر کی معصومیت سجاے اپنی کالی گہری بڑی بڑی آنکھوں سے وہ پروفیسر عمرکو ہی دیکھ رہی تھی

کیوں آپ کو کوئی شک ہے کیا؟

جواباً اس نے مڑ کرمریم کی کالی گہری بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھا.

نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا دراصل آپ

میں کیا؟ وہ ابھی بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا

بہت ینگ ہوں یا ہنڈسم ہوں یاچارمنگ ہوں؟

اگر بغیر فیل ہوے پڑھا جائے تو انسان ینگ ایج میں پڑھ لیتا ہے

اپنی ہنسی دباتے ہوے اس نے اس کی بات کو کاٹتے ہوے کہا اور اگر اب بھی یقین نہیں ہے تو پھر ہم ڈیپارٹمنٹ کورڈنیٹر کے پاس چلتے ہیں ٹھیک ہے

اب کی بار ایک ایک لفظ کافی چبا کر کہانہیں سر

آئ ایم ریلی سوری

میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ اب وہ واقعی شرمندہ نظر آرہی تھی۔

اوکے تو چلیں پھر

کہتا وہ آگے بڑھ گیا تھا

@@

۔وہ کافی دیر سے کلاس کے باہرکھڑی تھی

پروفیسر عمر اسے باہر کھڑا کر کے گئے تھے تاکہ آنے والے ہر سٹوڈنٹ کا نام وہ لکھ سکے ایسا کرنے کی تائید بھی اس کو پروفیسر نے ہی کی تھی. وہ چاہتے تھے کے کوئی بھی سٹوڈنٹ کلاس سے بنا اٹینڈنس کے نہ جائے. شانزے اپنا کام پوری ایمانداری سے کر رہی تھی. سب سٹوڈنٹ آچکے تھے لہٰذا وہ کلاس میں داخل ہوی تاکہ پروفیسر کو انفارم کرسکے.

مے آئی کم ان سر؟اس نے دروازے پے کھڑے ہو کے پوچھا

یس کم ان

ڈائیزکے پیچھے کھڑے ادھیڑ عمر شخض نے اندرآنے کا اشارہ کرتے ہوے کہا

مریم کے اندازے کے مطابق انہی پروفیسر ہونا چاہیے تھا. وہ اپنی سوچوں میں گم ڈائیز تک آئ تھی.

جی بیٹا بولیے.. نہایت نرم لہجے میں دوبارہ پوچھا گیا تھا.

جی مجے پروفیسر عمر سے ملنا ہے.

مریم نے جھجھکتے ہوے کہا.

جی بولیے

اس آدمی نے دوبارہ کہا حد درجہ شیری لہجہ تھا.

جی وہ مجھے

مجھے پروفسسر عمرسے بات کرنی ہے

… کافی اٹک اٹک کے اس نے دوبارہ اپنی بات دوہرائی تھی.

مریم کا اب کا سارا اعتماد غائب ہو چکا تھا.

جی بیٹا میں ہی ہوں پروفیسر عمر

پروفیسرنے اپنی مسکراہٹ کو دبایا تھا

. شاید وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ کسی مذاق کا حصہ بنی ہے

لیکن وہ اسے شرمندہ نہیں کرنا چاھتے تھے.

جب کہ ان کی بات سن کرمریم کو لگا کہ وہ زمین پے گر جائے گی یا پھر کلاس کی چھت اس کے اوپر گر جائے گی

جب کہ پوری کلاس میں سے کھی کھی کی آوازیں آرہی تھی. شاید پروفیسرصاحب کا ڈرتھا تبھی کوئی کھل کے کچھ کہنا سکا تھا.

سوری سر..!

! مجھے کوئی غلط فہمی ہوی تھی…

اس نے مری مری آواز میں کہا.

ایٹس اوکے بیٹا آپ اپنی کلاس میں جا سکتی ہیں.

تھنک یو سر..

. وہ جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کےاس کی نظر اس پے پڑی

. آخری رو میں چہرے پے گہری مسکراہٹ سجائے وہ چیئر پے بلکل ایسے براجمان تھا جیسے کوئی بادشاہ اپنے تخت پے بیٹھا ہو. جب کے اپنی تمام تر توجہ سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ایک آگ تھی

جو مریم کی آنکھوں میں جل رہی تھی.

جب کے اس کی آنکھوں میں تو شرارتوں کی قوس و قزاح بھکری ہوی تھی.

تبھی اس نے سر پے سلوٹ کے انداز میں ہاتھ لگایا جیسے اپنی شاندار پرفورمنز پے داد وصول کرنا چاہ رہا ہو

. جب کے اس نے اس کھاجانے والی نظروں سے دیکھا

اور وہاں سے چلی گئی

@@

ارے یار آج تو مزہ آگیا کیا بیوقوف بنایا ہے.

دعا نے چیر کھنچتے ہوے بولی

شکل دیکھی تھی اس کی بس رونا باکی رہ گیا تھا. سوری سر مجھے غلط فہمی ہوئی ہے شاید

. محسن نے اسکی نکل اترنے والے انداز میں بولا

وہ سب اب کینٹین میں بیٹھےاس کا مذاق اڑا رہے تھے

.

بس ہو گیا تم سب کا؟

میں شرط جیت چکا ہوں

تو اب شرط کے پیسے نکالو

.. وہ بھی پورے دس ہزار

…. مذاق نہیں ہے شرط جیتی ہے… وہ بڑے جوش سے بولا تھا.

ماننا پڑے گا تیرا ٹیلنٹ کیسے تو نے اس کو بیوقوف بنایا

… محسن نے اس کو پیسے دیتے ہوے بولا….

وہ تھی ہی بے وقوف

جبکہ مریم اس کے پیچھے کھڑی ساکت ہو گئی تھی

. جیسے کسی نے اس کے کانوں میں سور پھونک دیا ہو

. صرف چند ہزار روپیوں کے لیے ایسے اس کا مذاق بنایا گیا تھا.

جبکہ وہ لوگ پھر سے اس کا مذاق اڑا رہے تھے. تبھی دعا کی نظر اس پر

پڑی اور وہ چپ سی ہو گئی.

. فیض جو اب تک پیٹھ موڑے کھڑا تھا اس کی نظروں کے تعاقب میں مڑا اور ٹھٹھک گیا. یہ تو وہ جانتا تھا آج نہیں تو کل اس سے اس کا سامنا کرنا ہے پر اتنی جلدی یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا.

وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے قریب آے.

سب سن لیا کیا ؟اچھا سوری

.. شرط جتنی تھی یار اس لیے وہ سب کیا. اس نے جلتے ہوے انگاروں پرپانی ڈال تھا.

اور پلیز اب تم کوئی ماں بہن والا لیکچر مت سٹارٹ کر دینا.

.. اور پلیز رونا تو بلکل مت کیوں مجھے چپ کرانا نہیں آتا. اور لیکچر سنے کا ابھی موڈ نہیں ہے.. یہ بس چھوٹا سا مذاق تھا… جانتا ہوں تم مجھ پے غصہ ہو اور تھپڑ بھی مارنا چاہتی ہو.. رائیٹ ؟ لیکن اس سب سے کیا ہو گا

میں یہیں بیٹھا رہوں گا.. چار لوگ اور جمع ہو جائیں گئے… وننگ منی واپس کرنی پڑے گی اور تمہاری انرجی ویسٹ ہو گی تو پھر ایسا کرتے ہیں یہ پیسے بانٹ لیتے ہیں آدھے تمہارے آدھے میرے ٹھیک ہے

اس ایس بات سے لا پرواہ کے اس نے ابھی تک ایک بھی لفظ نہیں بولا بولتا جا رہا تھا.

ہان تم ٹھیک کہ رہے ہو ہم کالج کے سٹوڈنٹ ہیں یہاں یہ سب مذاق چلتا ہے. اور کسی کو کیا فرق پڑتا ہے

سب سے سب ایسا کرتے ہیں ایک مذاق تمنے کیا اب ایک میں کرتی ہوں اوکے

. تبھی اس نے بولا اور ساتھ ہی اپنی مٹھی میں بھری مٹی جو وہ گراوئنڈ سے لائی تھی اس کے منہ پے دے ماریں..

وہ اس حملے کے لیے بلکل تیار نہیں تھا. ایس لیے خود کو سمبھال نہیں پایا لیکن مٹی نے اب اپنا اثر دکھا دیا تھا تبھی علی دعا اور محسن اسکی ہیلپ کو اگے بڑھے لیکن مریم نے انہی اپنی دوسری مٹھی دکھا کرڈرایا جس میں ابھی بھی مٹی بھری تھی. جبکہ فیض اپنی آنکھیں مسلنے میں مصروف تھا

دیکھ لوں گا میں تمہیں

فیض نے آنکھیں مسلتے ہوے کہا

شوق سے پہلے

آنکھیں تو کھول لو

مریم بی بی نام ہے میراڈھونڈنے میں آسانی ہو گی

وہ وہاں سے جا چکی تھی جب کے فیض کے گروپ سمیت اس پاسس کھڑے سب لوگ حیران تھے کے یہ کیا ہوا ہے

@@

یار تمہیں فیض کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا.

تم جانتی نہیں ہو اس وہ.کسی پولیس آفیسر کا بیٹا ہے بہت پاور فلل لوگ ہیں اور وہ تم نے اچھا نہی کیا

وہ گراوئنڈ میں آکر بیٹھی تھی کے اک صبا نامی لڑکی اسسے باتیں کرنے لگی

جہاں تک میرا خیال ہے مینے کچھ غلط نہی کیا

اور ہاں کوئ جتنا بھی پاور فل کیوں نا ہو مجھے کوئی فرق نہی پڑتا

غلط غلط ہے اور مریم نے کبھی بھی غلط کا ساتھ نہی دیا اور نا ہی کبھی غلط کیا ہے اور نا ہی سہوں گی

لیکن وہ چپ نہیں بیٹھے گا بدلا ضرور لے گا. اگر اس نے کچھ کیا تو

..اب کی بار صبا نے ہلکی آواز میں کہا

جس میں کہیں نہ کہیں ڈرکی ہلکی آہٹ موجود تھی.

تب کی تب دیکھیں فلحال میری کلاس ہے میں چلتی ہوں. الله حافظ وہ کہتی چلی گئی تھی

جب کے صبا اس کو دیکھتی رہ گئی تھی… وہ جانتی تھی

فیض اتنی آرام سے ہارنے والا نہیں ہے… اور یہ خاموشی جتنی لمبی ہو گی اتنا زیادہ نقصان دہ ہو گی

مگر وہ مریم کو کیسے سمجھاتی

@@

مریم کینٹین میں بیٹھی تھی جب دعا اسکے سامنے آگئی

تمنے اچھا نہی کیا فیض کے ساتھ

اچھا

ٹھیک ہے نہی کیا

وہ پھر سے کولڈ ڈرنک پینے میں مصروف ہوگئی

دیکھلوں گی تمہیں

اسنے غصے سے کہا

اچھے سے

مریم نے پیچھے سے ہانک لگائی

@@@

وہ جب سے آیا تھا کمرے میں بند تھا ماما کے بولا نے پے بھی نہیں اٹھا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کے وہ اس کی لال آنکھیں دیکھ کر پریشان ہو جائیں۔ابھی بھی وہ نہ اٹھتا اگر عثمان اس سے آواز نہں دیتا۔ یہ عثمان کے آنے کا وقت نہیں تھااس وقت وہ آفس میں ہوتا ہے تو یقینن اس سے بولا گیا ہو گا اور یہ بھلا ماما کے علاوہ کون ہو سکتا تھا.

لیکن بہرحال اب سے اٹھنا ہی تھا. کیونکہ عثمان میں تو اس کی جان تھی اس کا اکلوتا بڑا بھائی جس نے ہمیشہ اسکا خیال چھوٹے بچے کی طرح کیا۔

وہ اس کا دوست بھائی ماں باپ سب کچھ تھا ہر چیز کا خیال رکھنا اس کے لاڈ کرنا اس کی غلطیوں کو چھپانا اور یہی وجہ تھی جس نے فیض کو تھوڑا خود سر بنا دیا تھا لیکن وہ کبھی عثمان سے نہ کوئی بات چھپتا تھا اور نہ کوئی بات ٹالتا تھا۔ یہی بات ان کی جوڑی کو بے مثال بناتی تھی۔ عثمان کو گھر آنے سے پہلے ہی اطلاع مل گئی تھی تبھی وہ سیدھا اس کے روم میں آیا تھا۔

کیا ہوا میرے ہینڈسم لٹل بھائی کو ؟

اس نے دروازہ کھولتے ہوے پوچھا.

کچھ نہیں بھائی

اچھا ذرا میری طرف دیکھو.. عثمان نے کچھ تشویش سے کہا

کچھ نہیں ہوا تو پھر منہ پے بارہ کیوں بج رہے ہے

.. وہ میں ابھی سو کے اٹھا ہوں.. اچھا تو اب تم نے جھوٹ بھی بولنا شروع کر دیا

انہوں نے خفگی سے دیکھا

. نہیں بھائی وہ میں بس…

چلو ٹھیک ہے تم نہیں بتانا چاہتے تو سہی ہے.. اب تمہارا بیسٹ فرینڈ کوئی اور ہو گیا ہے تو میں چلتا ہوں

عثمان اچھی طرح جنتا تھا اس کو اسی لیے بناوٹی ناراضگی دکھا کے بولا

.. اچھا نہ ٹھیک ہے اب ایموشنل بلیک میل نہ کریں اسنے اس کی گود میں سر رکھتے ہوے کہا… چلو اب جلدی بتاؤ اتنا موڈ کس بات پے خراب ہے… اور اس نے ساری بات عثمان کو بتا د

ی… وہ اب پھر غصّے میں تھا

جبکہ عثمان کا ہنس ہنس کے برا حال ہو رہا تھا.

. بھائی آپ کو ہنسی آرہی ہے

اسنے گھور کر کہا

… ہاں.. کیوں کے میرے شیر کو قابو کرنے والی شیرنی مل گئی ہے. میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ تمہارے لیے اسے گھرلے آیئں تم دونوں لڑتے رہنا اور میں ایسا ہی ہنستا رہوں گا..

. واٹ.

.. کیا کہ رہے ہیں آپ جانتے بھی ہیں وہ اور میں؟

یہ سب سے بڑا مذاق ہے… ایمپوسبل….اس نے بیڈ سے اٹھتے ہوے بولا.

.. مائی ڈیرلٹل برو بھولو مت ہر ایمپوسبل میں ایک پوسبلیٹی چھپی ہوتی ہے

.. عثمان نے اس کے کندھوں پے ہاتھ رکھتے ہوے کہا

.. پر اس کیس میں کبھی نہیں… ہو ہی نہیں سکتا… آپ جانتے ہیں مجھے اس وقت بھی شدید غصہ آرہا ہے میرا بس چلے تو اس کو دور سمندرکے بیچ میں ایک بڑا سا پتھر باندھ کر پھنک آؤں کبھی نہ نکلنے کے لیے.

. اچھا

اور دعا اس کے بارے میں کیا خیال ہے

.. بھائی اب بس کریں

وہ منمنایا

دیکھو ایک تو بتانی پڑے گی جلدی بتاؤ ورنہ میں مما کو بتا دوں گا عثمان کہتا کمرے سے نکل گیا تھا اور وہ اس کے پیچھےبھگا وہ جانتا تھا کہ اس معملے میں وہ اس کا ہی بھائی ہے…. وہ دونوں اب کسی بات پے ہنس رہے تھے… جب کے شاہینہ بیگم ان دونوں کو ہنستا دیکھتے ہی ہنس پڑی تھی

@@

شاہینہ بیگم اور حسین صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی

بیٹی شادی کرکے لاہور قیام پذیر تھی

انکا بڑا بیٹا

عثمان اپنے چچا اور ماموں کے ساتھ انکے سونار کے کام میں مدد کراتا تھا

وہ نہایت سلجھا ہوا لڑکا تھا

جبکے اسکے بر عکس

فیض نہایت خود سر تھا

سب کے بے جا لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا تھا

اسکے والدین میں بھی ہمت نا ہوتی ہوتی کے وہ اسے کسی بات میں دخل اندازی کرسکتے اسکی صرف عثمان سے بنی تھی مگر جب وہ غصے میں ہوتا تب اسے بھی نا چھوڑتا تھا

حسین اسکی اسبات پر سخت نالاں تھے انکی ہمیشہ دعا رہتی کے اسے عقل آجائے وہ اسکی شرارتوں سے تنگ تھے

حالاتِ پریشان تو گزر جائیں گےاِک روز

لیکن احباب کے ہونٹوں کی ہنسی یاد رہے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *