Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 20,21)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 20,21)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
اب اسکا سانس پھولنے لگا تھا
اسے اب اپنے آپ پر شرم آنے لگی
اسلیےوہاں سے چلاگیا
اور شاہینہ بیگم بھی سب سے ملکر چلی گئیں
تو مریم کو اقا نے لٹادیاشانی یہ فیض ہےکتناہینڈسم ہے
انلوگوں کےجانےکےبعداقانےبیڈپرلیٹی مریم سےکہا
اللّٰہ کومانواقاتمہیں وہ ہینڈسم لگتاہےآنکھیں ٹھیک ہیں تمہاری
مریم نےاسکی آنکھوں کےآگےہاتھ لہراکرکہامگراقاکی ہنسی چھوٹ گئی تھی
اقاکیاہواپاگل تونہیں ہوگئی ناں
مریم کوتشویش ہوئی
جبکےوہ اورزیادہ ہنسنےلگپڑی
اقاکیاہوا
شانی تمنےاپنی آوازسنی ہےکتنی بھاری ہوگئی ہےاقانےاپنی ہنسی کنٹرول کرکےکہا
مریم بھی ہنس دی مگراسکےگلےمیں دردہونےلگ گئی
اچھاوہ ہینڈسم نہیں ہےاقانےپوچھا
کون
فیض اورکون؟
مریم نےنفی میں سرہلایا
توتمہاری نظرمیں ہینڈسم کیساہوتاہے؟وہ اچھابھلاہےقدکاٹھ بھی اچھاہےرنگ بھی گوراچٹاہےاور
اقاسب سےبڑی بات میرےلیےیہ ہےکےانسان کی آوازاچھی ہونی چاہیےاسکاتمیزسےبات کرناچاہیےاورجہاں تک اٹریکٹ کی بات ہےمجھےاچھی آنکھیں اورآوازاٹریکٹ کرتی ہےناکےگورارنگ یاطویل کامت
انسان کوملٹی ٹائیلینٹٹ ہوناچاہیےتاکےزندگی کےکسی بھی موڑپراگراسےکسی کام کی ضرورت ہوتووہ کام اسےآئیں ناکےدوسروں کامحتاج رہے
مریم پھریہ سب خوبیاں توعمران میں ہیں پھرکیوں تم
اقامینےبتایاتوہےکےمجھےشادی ہی نہیں کرنی
ہاں یہ بات سچ ہےکےعمران بھائی اچھےہیں مگرمیں اچھی نہیں ہوں
میںانکےلائیک ہی نہیں ہوں
انہیں بہت اچھی لڑکیاں مل جائیں گی مگرمیں اچھی نہیں ہوں
کیوں تم کیوں اچھی نہی ہو؟
نہیں
مگرکیوں تم میں کیابرائی ہےمریم؟
مجھمےسب سےبری بات یہ ہےکےمینےمحبت کی تھی اوراچھی لڑکیاں محبت نہیں کرتیں کسی نامحرم سےاورمیں نہیں چاہتی کےمیں کسی کی امانت میں خیانت کروں
اوراقاانکےاورمیرےراستےجداہیں
وہ ایک پرفیکٹ انسان ہیں اورمیں میں کیاہوں؟نامیں بھاگ سکتی ہوں نامیں زیادہ چل سکتی ہوں
مریم نےاسسےکہاجومنہ میں انگلی دیےاسےدیکھرہی تھی
ہوگئی تمہاری بات ختم
اسطرح توپھپھو’ماما’رداپھپھو’عارفہ بھابھی اوررانیہ سب ہی بری ہیں
کیونکےانہوں نےبھی تومحبت کی ہےناں؟اقانےاسےلاجواب کرناچاہا
مگروہ بھی مریم تھی اپنےنام کی ایک
اقاانہوں نےجسسےمحبت کی تھی اللّٰہ نےانہیں انکامحرم بنادیااورمیرےنصیب میں وہ نہیں تھااسلیےاللّٰہ نےاسےمیرانابنایااوربس کرواب اس ٹاپک کوعمران بھائی میرےبھائی ییں اوررہیں گےبھی
اسنےکہکرپانی کےساتھ پینکلرلیلی
اوراقاچپ کرگئی
کیونکےمریم کیساتھ بحث کرنااسکےبس میں ناتھا
اورباہرکھڑاعمران جوکےمریم کاحال احوال لینےآیاتھااسکی باتیں سنکرحیران رہ گیاکےاسکےدماغ میں یہ سب چلرہاہےاسکےدل میں مریم کیلیےعزت اور بھی بڑھ گئی تھی
@@
کیا ہوگیا تھا ہمارے شانی کو؟
ارشد صاحب نے اسسے ملتے ہوئے کہا تھا
ماموں آپ بھی جانتے ہیہں
ناں کے مجھے ہلتے ہوئے درختوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے پھر بھی آپنےاپنے کالج میں اتنے زیادہ درخت لگوائے
اسنے خفگی سے کہا جبکے ارشد صاحب کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا
ماموں کیوں ہنس رہیں ہیں
تمہاری آواز کتنی عجیب ہوگئی ہے
اتنے میں اقا آگئی
پاپا مریم بلکل کاٹون لگرہی ہے ناں سعد نےاقا کو چڑانےکیلیے کہا
مگر اسکا آخری لفظ منہ میں ہی تھا
کے اقصٰی نےاسپر گدھی کانشانہ لگایامگروہ اسےلگنے کی بجائے
کمرے میں آتےآصف کو لگ گیا
پھر کیا تھا اقا آگے آگے اور آصف اسکے پیچھے پیچھے
@@
کہاں جارہی ہو مریم
فوزیہ نے الماری سے یونیفارم نکالتی ہوئی مریم سے کہا
بس آپی کالج جارہی ہوں
مگر مریم ابھی تک تمہاری آواز ٹھیک نہیں ہوئی ہے سب لوگ مزاق بنائیں گے
پر آپی
پر ور کچھ نہیں بس تم آرام ہی آرام کرو
اوکے
فوزیہ نے اسکے ہاتھ سے ہینگر لیکر کہا
@@
فلورہ فلورہ
مت جاؤ مجھے چھوڑکے پلیز پلیز مت جاؤ
مریم سوتے سوتے بڑبڑارہی تھی
کیا ہوا شانی
اقا نے لیمپ آن کرکے اسسے پوچھا
پھر وہی خواب آیا تھا
مریم نے آنکھوں کے کنارے رگڑ کر کہا
دو سال بیت گئے ہیں شانی مگر تم اب تک اس حادثے کے اثر سے باہر نہیں نکل سکی
“حادثوں کے اثر سے باہر نکلنا اتنا آسان تو نہیں ہوتا وہ بجھے بجھے سے انداز میں بولی
“کوشش تو کی جاسکتی ہے ناں
تم سارا دن اس کمرے میں بند رہتی ہو
الٹی سیدھی سوچوں میں غلطاں رہتی ہو
ایسی صورتحال میں برے خواب نہیں آئینگے تو اور کیا ہوگا
. میں نے تمہیں کل بھی کہا تھا کہ اس کمرے سے باہر نکلو
تنہائی غم کو بڑھادیتی ہے
مگر تم ہوکے میری بات مانتی ہی نہیں
اقا مجھے تنہائی اچھی لگتی ہے اور پلیز لائٹ آف کردو
اقا نے اسپر کمبل درست کیا اور لیمپ بند کرکے لیٹ گئی
@@
آج وہ تین دن بعد کالج آئی تھی
اسکی بائیک تو ارشد صاحب گھر لے آئے تھے مگر رضیہ بیگم نے اسے بائیک پر جانے کی منظوری نا دی تھی
اسلیے آج وہ بس سے آئی تھی
صبا نے اسسے حال چال پوچھا اور پھر پتا نہیں کہاں گم ہوگئی تھی
اسکے ساتھ ایک لڑکی نظر آرہی تھی
لگتا ہے نئی دوست ہے
ایشال نے مریم کے پاس بیٹھکے کہا
ہوگی
مریم نے لاپرواہی سے کہا
ارے مریم تم آگئیں
فیض نے ایشال اور مریم۔ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا
کیوں نہیں آنا چاہیے تھا
اسنے الٹا ہی سوال کردیا
آنا چاہیے کیوں نہیں
مگرمیرے کہنے کا مطلب یہ تھا کے اب کیسی طبیعت ہے تم مو ٹی کی
اسنےشرارت سےکہا
۔ٹھیک ہوں
کدو کے بیج جیسی آنکھوں وا
اسکی بات پر ایشال مسکرادی
@@
چھٹی کے بعد وہ جب گھر آئی تو اسکا سامنا عتیق سے باتیں کرتی ثناء سےہوگیا
اسکے الفاظ مریم کےدل پر تیر ثابت ہوئے
______
مریم دروازے میں کھڑی سب سن رہی تھی
اس سے آگے بڑھنے کی بھی ہمت نہیں ہورہی تھی
عتیق کہرہا تھا کے میں نہیں چاہتا تھا کے وہ موٹی میری زندگی میں شامل ہو
میں اسسے پیچھا چھوڑانا چاہتا تھا
مریم کو صرف اس انسان سے یہ سب کہنے کی توقع نہیں تھی
کوئی جو مرضی کہتا مریم اسے اسبات کا جواب دیدیتی تھی مگر اسے کیسے دیتی جسسے کبھی اسنے محبت کی تھی
جسے اسنے چاہا تھا
تو کیا ہوا تھا کے اسنے کبھی اپنی محبت کا اظہار نا کیا تھا مگر کرتی تو تھی وہ اسسے محبت
جو آج کسی غیر نہیں نہیں غیر نہیں اپنی منگیتر کے سامنے اسکی بے عزتی کررہا تھا
مریم نے اپنے آنسوں پونچھے وہ اور بھی بہت کچھ کہرہا تھا
مگر مریم کو تو جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا
مریم چپ چاپ اسے کراس کرتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب چلپڑی
وہ کمرے میں آئی تو اقا اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ کر گانا سن رہی تھی
بے دردی سے پیار کا سہارا نہ ملا سہارا نہ ملا
ایسا بچھڑا وہ مجھکو نہ دوبارہ ملا
ٹوٹ گیا پیار کا سہانا سپنا
وہی نکلہ بیگانہ جسے جانا اپنا
غم کی اس کشتی کو کنارہ نہ ملا کنارہ نہ ملا
ایسا بچھڑا وہ مجھکو نہ دوبارہ ملا
مریم کو یہ گانا اپنے پر لگا
کے جیسے وہ اسی کیلیے بنایا گیا تھا
مریم تم آگئی
اقا نے سیدھی ہوکر موبائل بند کرکے کہا تھا
ہاں آگئی ہوں
اچھا کب آئے تھے وہ لوگ
مریم نے سپاٹ لہجے میں پوچھا
کون اقا نے نا سمجھی سے پوچھا
تمہارا بھائی اور ہونے والی بھابھی
مریم نے چبا چبا کر کہا
مریم پلیز میرا اس منحوس لڑکی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے
اچھا بتاؤ تو
ایک گھنٹہ ہوا ہے
اچھا مریم نے سر ہلایا
اقا تم مجھے انجیکشن لگادو گی
مریم نے روم فرج سے پانی نکال کر اسے کہا
وہ کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتی تھی اسلیے اسسے کہا
کیا انجیکشن وہ بھی میں
اقا نے حیرانگی سے اسے دیکھا
ہاں کیوں تمہیں کیا ہے
مریم نے لاپروائی سے کہا
نا با با ناں اسنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا
اب بھی ڈرتی ہو
نہیں میں کیوں ڈروں گی میں تو بس
ہاں وہ مجھے پھپھو بلا رہی تھیں
اقا نے اٹھتے ہوئے کہا
اقا بچپن سے ہی انجیکشن سے بہت گھبراتی تھی
مریم کی دیکھا دیکھی اسنے اپنے باقی عام لڑکیوں والے ڈر پر تو قابو پالیا تھا مگر مریم کی طرح اسکا بھی ایک ہی خوف تھا
اسلیے مریم نے اسے بگھادیا نہیں تو وہ پریشان ہوتی
مریم کپڑے بدل کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی
عتیق ایسے سوچتا تھا اسکے بارے میں
وہ اسے ایک بار کہدیتا میں اسکی زندگی سے چلی جاتی
مگر وہ فلورہ کو تو نا تنگ کرتا
اسکی وجہ سے میں اپنی دوست سے دور ہوئی ہوں
مریم ابھی رونے میں مصروف تھی جب کمرے کا دروازہ ناک ہوا
اور دروازہ کھلنے پر جو چہرہ اسے نظر آیا اسنے اسکا پارہ چڑہادیا تھا
@@
رضیہ بیگم کام میں مصروف تھیں جب اقا تقریباً بھاگھتی ہوئی آئی تھی
کیا ہوا بلی بھاگ کیوں رہی ہو
کچھ نہیں پھپھو مریم نے کہا کے مجھے انجیکشن لگادینا اسلیے میں نیچے گئی
اگر وہ آپ سے پوچھے تو آپ کہنا کے مینے بلایا تھا
وہ کہتے ساتھ ہی
کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی
پھپھو آپی فوزیہ کہاں ہے
اسنے اردگرد نگاہ دوڑاکر کہا
فوزی تو ابھی تک آئی نہیں کہرہی تھی کے چھ کپڑے بھی لینے ہیں اور ابھی تک نہیں آئی
بس آتی ہی ہوگی انہوں نے کہا جب ڈور بیل بجی
اقا نے اٹھکر دروازہ کھولا تو مہربانو(رشتے کروانےوالی خالہ) تھیں
السلام و عليكم خالہ
اقا نے انہیں خوشدلی سے سلام کیا
وعليكم و السلام
جیتی رہو انہوں نے اسکے سر پر پیار دیا
وہ عمر میں اتنی زیادہ عمر کی نا تھیں مگر پیشے کے لحاظ سے سب انہیں خالہ ہی کہتے تھے
مہر تم آؤ آؤ
رضیہ بیگم نے تولیے سے ہاتھ خشک کرکے کہا
کیسےھو؟
مہربانو نے دعا سلام کے بعد پوچھا
اللّٰہ کا شکر ہے مہر اور سناؤ کیسے آنا ہوا
اقا نے انکی طرف دیکھا جو بھول ہی چکی تھیں کے چھلے ہفتے انہوں نے آپی فوزیہ کے رشتے کیلیے کہا تھا
پھپھو اقا نے انہیں اشارہ کیا
او ہاں ہاں میں بھول ہی گئی تھی
لائی کوئی رشتہ انہوں نے کہا
ہاں باجی ویسے تو تین چار لڑکے ہیں مگر مجھے ایک لڑکا اپنی فوزیہ کیلیے بہت اچھا لگا پہلے آپ اس لڑکے کی تصویر دیکھ لیں
انہوں نے چہکتے ہوئے کہکر انہیں ایک فوٹو دکھائی
لڑکا لاکھوں میں ایک ہے
بہت اچھا ہے اپنے ماموں اور باپ کے کاروبار کو سنبھالتا ہے
سنار ہے لڑکا اور سکے ماموں کا اپنا بزنس ہے بہت نام ہے انکا شہر میں
شہربانولڑکے کی فوٹو ہاتھ میں داب کراسکی خوبیاں گنوانے لگ گئیں
خالہ پک تو دکھادیں
اقا نے مسکراتے ہوئے کہا
لو بھئی دیکھلو
انہوں نے پکچر دیتے ہوئے کہا
تصویر دیکھ کر رضیہ بیگم کی آنکھیں کھل گئی تھیں
لڑکا واقع میں بہت خوب
صورت تھا
اقا اور رضیہ بیگم کو بہت پسند آیا تھا فوزیہ کیلیے دونوں کی جوڑی اچھی لگے گی نا پھپھو
اقا نے کہا
ہاں ماشاءاللّٰہ بہت پیارا ہے
اچھا مہر تمہارے پاس فوزیہ کی فوٹو ہے ناں تو لڑکے والوں سے بات چلالو اگر انہیں فوزیہ پسند آتی ہے تو وہاں ہی بات پکی کرلیتے ہیں
جی باجی مینے لڑکے کی ماں کو فوٹو دکھائی ہیں کافی
مگر اسکی ناک کے نیچے کوئی آتی ہی نہیں ہے
کہتی ہے اپنے بیٹے کیلیے ہیروں جیسی بیوی لائے گی پھر بھی بات کرتی ہوں شاید انہیں فوزیہ بیٹی پسند آجائے انہوں نے چائے پیتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے پھر بتادینا مجھے بھی
@@
تم تم یہاں کیا کررہے ہو؟
مریم نے جنجھلا کر اسے دیکھا
کیوں کسی اور کا انتظار کررہی تھیں
عتیق نے ناک چڑھا کر کہا
انتظار تو تمہارا بھی نہیں کررہی تھی تو تم کیوں آئے
مریم نے بے رخی سے کہا
میں بھی پافل نہیں ہوا جارہا تمسے ملنے کیلیے بس اتنا بتانے آیا تھا کے میری شادی ہے تین ماہ بعد آجانا اگر آنا ہوا تو نہیں تو پچھلی بار کی طرح سارا فنکشن مت خراب کردینا اپنے ڈرامے سے
اور ہاں یاد رکھنا اگر اسبار تمنے ثناء سے کچھ کہا ناں تو مجھسے برا کوئی نہیں ہوگا
اسنے اسے وارن کرتے ہوئے کہا
تمسے برا ہے بھی کون مریم نے بھی حساب بے باق کیا
ہاں برا ہی تھا جو اتنے سال تمہیں جھیلتا رہا
اسنے طنز کا تیر چلایا
تو پھر آئے کیوں ہو؟مریم نے حیرت سے کہا

رہتے ناں اپنی ثناء کیپاس
مریم آخری لفظ جباکر کہا
ہاں تو تم جیسی بد صورت اور موٹی چوٹی کے پاس رہنا بھی کون چاہتا ہے
اسنے نحوست سے کہا
جو بھی ہوں تمہاری طرح قاتل تو نہیں ہوں مریم نے روندھائی آواز میں کہا
او بی بی اگر مجھے پتا ہوتا کے اسے مارنے سے یا ایکسیڈینٹ سے تیرے سے پیچھا چھوٹ جائے گا تو میں کب کا اسے مارچکا ہوتا
اتنی نفرت کرتے ہو؟![]()
اسسے بھی کہیں زیادہ کے تم سوچ بھی نہیں سکتیں
اور جیسی تمہاری حالت ہے تمپر تو کوئی ترس ہی کھاسکتا ہے
اور ہاں تم اسبات کو تصلی کرکے تسلیم کرلو کے تم موٹی ہو اور سمسے کوئی بھی پیار نہیں کرسکتا سمجھیں
مریم کو تو چپ ہی لگ گئی تھی
اسے وہ عتیق لگا ہی نہیں تھا
یہ تو کوئی اور عتیق تھا وہ عتیق جو اسسے محبت کے دعوے کرتا وہ تو کہیں نہیں تھا
اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں بہہ رہے تھے
وہ جا چکا تھا
ہاں وہ جانے کیلیے ہی تو آیا تھا
میری آنکھوں سے تیری یاد کا سایہ نہیں جاتا
میں نے مان لیا تم کو بھلایا نہیں جاتا
اک مدت سے تیرا نام
لکھا تھا دل پر
میں کیا کروں
وہ مجھ سے مٹایا نہیں جاتا
ھونے والےتو خود ہی اپنے ھوجاتے ہیں
کسی کو اپنا بنایا نہیں جاتا
@@
فوزیہ کہاں تھیں اتنی دیر کردی آنے میں
شام میں جب فوزیہ آئی تو رضیہ بیگم نےپوچھا
بس ماما وہ رش کافی تھا اسنے کہا اور انہیں کپڑے دکھانے لگی
@@
مریم آج کالج نہیں گئی تھی
اسے بہت تیز بخار ہوگیا تھا
یہ بخار اپنوں کے بدل جانے کا تھا
بے شک وہ اسسے اب نفرت کرتی تھی مگر کبھی پیار بھی تو کیا تھا
اقا’رضیہ بیگم اور فوزیہ
اسسے پوچھ پوچھ کر تھک گئیں تھیں مگر وہ کچھ بتاکے ہی نہیں دے رہی تھی
چار پانچ دن کے بخار ے اسکی ساری ہمت نچوڑ لی تھی
آج وہ پانچ دن کے بعد کالج جارہی تھی
@@
وہ ابھی کلاس میں داخل ہوئی ہی تھی کے ایشال اور دعا نے اسے گھیر لیا
حال احوال کے بعد انہوں نے اسپر ایک نیا انکشاف کیا کے چار دن سے انہیں ایک نئے سر انگلش پڑھارہے ہیں اور بہت سخت بھی ہیں
کون ہیں؟
پتا ہیں پر انکا نام
وہ ابھی بتاتیں کے کلاس میں سر آگئے کا شور اٹھا
لو دیکھ لینا اب
دعا نے کہا
مگر میم کہاں ہیں؟
اسنے پوچھا
میم رقیہ انہیں انگلش پڑھاتی تھیں اور چونکے انکے شوہر کی وفات ہوگئی تھی اسیلیے سر ارشد نئے سر کو لائے ہیں
ایشال نے بتایا
اتنے میں سر کلاس میں داخل ہوئے
جنہیں دیکھ کر مریم کا چہرہ دہواں دہواں ہوگیا ۔
Episode 21
ماما آپسے کتنی بار کہوں کے مجھے ابھی شادی نہیں
کرنی ہے
فوزیہ نے انسے کہا
مگر کیوں بچے آج نہیں تو کل تو شادی کرنی ہی پڑے گی ناں
انہوں نے پیار سے سمجھایا
پر ماما
پر ور کچھ نہیں چندا
ہمیں ہمارا فرض پورا کرنے دو کل پتا نہیں ہم رہیں یا نا رہیں
انہوں نے آخر میں اسے ایموشنل بلیک میل کیا تھا
ماما خبردار اگر دوبارہ آپنے ایسا کہا
آپ اور پاپا جہاں کہیں گے میں شادی کرلوں گی
وہ کہکر بیگ اٹھا کر آفس کیلیے نکل گئی
اور رضیہ بیگم پیچھے سے مسکراتی رہیں اور اسکیلیے دعا کرتی رہیں
@@
وہ سر کوئی اور نہیں بلکے عتیق تھا
جسکی نظر اس پر پڑی تو فاتحانہ مسکرایا
مریم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے کیسے ریآکٹ کرے
او مس
اسے اسکے لب ہلتے لگے
مگر اسے سنائی کچھ نہیں دے رہا تھا
او ہیلو مس موٹی
اسنے ایک بار پھر کہا جبکے دعا کے زور سے ہلانے پر وہ ہوش کی دنیا میں آئی
او مس موٹی
کس دنیا میں کھوئی تھی
اسنے اسکا مذاق اڑایا
ساری کلاس کھی کھی کرنے لگ گئی
سائیلنٹ اسنے ڈائس بجا کر کہا
بتاسکتیں ہیں آپ
اسنے آئیبروز اچکاکر کہا
جی نہیں سر
کہیں نہیں تھی
اسنے اٹک اٹک کر جواب دیا
اچھا تو کیا آپکے پیرنٹس نے آپکو اتنی تمیز نہیں سیکھائی کے جب کوئی بڑا آئے تو اسے سلام کرتے ہیں
سرالسلام و عليكم
اسنے کہا
اسنے رجسٹر کھول لیا
ایکسکیوزمی سر
مریم نے اسے متوجہ کیا
یس سنے آئیبرو اٹھا کر کہا
سر میرے والدین نے تو مجھے سلام کرنا سیکھایا ہے
کیا آپکے والدین نے آپکو سلام کا جواب دینا نہیں سیکھایا
یا سیکھایا تھا مگر آپ بھول چکے ہوں
ساری کلاس کھی کھی کرنے لگی
شٹ اپ آل اوف یو اینڈ یو گیٹ لاسٹ فرام مائے کلاس
اسنے مریم سے کہا
کیوں سر آپ نے یہاں بیٹھ کر پڑھنا ہے
سب پھر ہنسنے لگ گئے
او مس موٹاپے کی دکان جاؤ یہاں سے ورنہ ہیڈ آفس یں تمہاری شکایت درج کرادوں گا
پھر تمہارے موٹاپے کو جگہ نہیں ملے گی
اسنے اسپر طنز کاتیر چلایا
مریم کو اسکی یہ بات بہت بری لگی اسنے اردگرد دیکھا سب ایک دوسرے سے سر گوشیاں کرنے لگے
اوکے سر
بدتمیزی کی دکان
وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی
سب پھر کھی کھی کرنے لگے
عتیق کے تو مانو سر پر لگی تھی
آوٹ
وہ دھاڑا
مریم نے اپنا بیگ اٹھایا اور اسے دیکھے بناہی کلاس سے چلی گئی تھی
@@
مریم باہر نکلی تو عتیق بھی اسکے پیچھے ہی آگیا تھا
تت تتو
بڑا برا لگا ناں تمہیں اف اب میں
وہ کچھ اور کہتا اسسے پہلے ہی وہ وہاں سے چلی گئی
اور وہ مسکرادیا
@@
وہ کلاس لیکر نکل ہی تھی جب صبا نے کہا
مریم ایشال ویٹ میں ابھی آتی ہوں
وہ کہکر دوسری جانب چلی گئی جب ایشال نے مریم سے کینٹین چلنے کا کہا
لیکچر فری تھا اسلیے وہ دونوں کینٹین کیطرف چلی گئیں تھیں
مریم ایک بات پوچھوں
ہاں پوچھو
مریم سر بیشک جتنے بھی روڈ کیوں نا ہوں مگر
وہ اتنی بدتمیزی سے کسی سے بات نہیں کرتے تو تمسے ایسے بات کیوں کی؟
ایشال حیران تھی
کیونکے مریم کبھی بھی کسی سے ایسے بات نا کرتی تھی مگر سر سے کی تھی
ایشال کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کے وہ کسی ایک سے چڑتے
ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کے اسے اپنے اوپر کسی کی نظروں کا احساس ہوا اسنے اردگرد دیکھا مگر سب سؤڈنٹس اپنے کام میں مصروف تھے
کیا آگے بولو ایشال نے اسسے کہا
اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے کیساتھ باتیں کرنے لگئیں
مگر مریم کو مسلسل خود پر نظروں کا احساس ہورہا تھا
@@
مریم گھر پہنچی تو وہ گھر مٹھائی لیکر پہنچا ہوا تھا
رضیہ بیگم تو اس سے خاص بات نہیں کرتیں تھیں
اسلیے اپنے کام میں ہی مصروف رہیں
پھپھو جی آپ تو کام میں ہی لگ گئیں منہ میٹھا کیا ہی نہیں
وہ اسے دیکھکر پلیٹ اٹھا کر بولا
کرلوں گی
انہوں نے اسکا ہاتھ جھٹک کر کہا
جس سے وہ انہیں مٹھائی دیرہا تھا
مریم نے لگی تبھی وہ اسکے راستے میں حائل ہوگیا
ارے رے تم کہاں جارہی ہو
منہ تو میٹھا کرلو
اسنے برفی اسکے سامنے کی
نو تھینکس
اسنے اسکا ہاتھ پرے کیا
اور جانے لگی
ارے ایسیےکیسے جارہی ہو
اسنے اسکے منہ کی طرف بڑھائی تو
مریم نے پھر پرے کیا
لو ناں
اور موٹی نہی ہوتی
اسنے دوبارہ کیا
اسبار مریم کا صبر جواب دے گیا اور الٹے ہاتھ کا جھانپڑ اسکے منہ پر مارا جس سے اسکے ہاتھ سے پلیٹ گر گئی
نو مینز نو اسنے انگلی اٹھاکر کہا
اور کمرے میں چلی گئی
@@
مریم تم یہاں بیٹھئ ہومیں تمہیں سارےگھرمیں ڈھونڈچکی ہوں
اقانےلان میں بیٹھی مریم سےکہا
کیوں ڈھونڈرہی تھی
مریم نےسامنےدیکھتےہوئےپوچھا
ویسے ہی تم دکھائی نہیں دی اسلیے میں تمہیں ڈھونڈھنے لگ گئی
مریم تم مجھے کچھ پریشان لگ رہی ہو سب ٹھیک تو ہے ناں
اقا نے فکر مندی سے پوچھا
ہاں اقا سب ٹھیک ہے بس ٹھنڈی ہوا کھانے کا دل کیا اسلیے آگئی
ہوا وہ بھی تم لان میں
جانے دو مریم کسی اور سے کہنا یہ سب
اقا جب تک ہم اپنی گھبراہٹ پر قابو نہیں پائیں گے تب تک آگے نہیں بڑھ سکتے
انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک وہ خود ہار نا مان لے
مریم نے اسکی طرف دیکھ کر کہا
ٹھیک کہا تمنے
کیا مریم تمہیں پتا ہے یہ لائینز کس نے کہیں تھیں
مریم نے نفی میں سر ہلایا
شانی یہ حیا کی دوست خدیجہ رانا نے کہا تھا
اقا نے چہکتے ہوئے کہا
اقا کبھی تو ان ناولز سے باہر آجایا کرو
اور مجھے یہ بات اسلیے معلوم ہے کیونکے میں قرانِ پاک کو سمجھ کر پڑھتی ہوں
اور اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل والوں کیلیے
مریم نے اسکے ماتھی پر انگلی کرکے کہا
مریم تمہیں پتا ہے؟
کیا؟
مریم نے نا سمجھی سے کہا
ارے یہی کے جہان سکندر بھی قران کو سمجھ کر پڑتا ہے
مریم ایک بار تم یہ ناول پڑھ کر دیکھو کتنا اچھا لگے گا
اوکے جتنی اقا اس ناول کی تعریف کررہی تھی اسسے تو پڑھنا ہی تھا
نام کیا ہے ناول کا مریم نے پوچھا
جنت کے پتے
اقا نے کہا
واو نام تو بہت اچھا ہے
ہاں پورا ناول ہی اچھا ہے
ٹھیک ہے جب سنڈے کی چھٹی ہوگی تو رات کو پڑھ لوں گی
@@
اگلے دن مریم کلاس میں آئی ہی تھی کے
عتیق بھی آگیا
پورے تین منٹ پہلے ہی وہ کلاس میں لیکچر لینے آگیا تھا
اسکے چہرے سے صاف جھلکتا تھا کے وہ آج کوئی نیا منصوبہ بناکر آیا ہے
لیکچر کے دوران وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا
جبکے مریم اسکے کہے گئے الفاظ کے معنٰی پر کچی پینسل سےلکھ رہی تھی
جبھی دعا نے اس سے ریزر مانگی تو اسنے ایک ہاتھ سے ریزر دیدی اورنظر اپنی کاپی پر ہی جمائی رکھی
بس اسی موقعے کی اسے تلاش تھی اسنے بورڈ مارکر سے مریم پر نشانہ لگایا
جو سیدھا مریم کے ناک پر لگا
وہ ہڑبڑاگئی
او مس آپ کلاس کو ڈسٹرب کررہی ہیں
اسنے اسسےکہا
مینے کیا کیا اسنے بورڈ مارکر پکڑ کر کھڑے ہوکر کہا
ساری کلاس اس کی طرف ہی متوجع تھی
سب کو ڈرامہ جو دیکھنے کو مل رہا تھا
اتنی بھی بھولی نا بنو اب
مینے خود تمہیں اس لڑکی سے بات کرتے دیکھاتھا
سر آپ اپنی نظرچیک کروالیںتاکے آپ کو درست نظر آسکے
دعا نے مجھسےریزر مانگی تھی اور میں اسے وہی دیرہی تھی
اسنے دعا کو دیکھا تو اسنے بھی اثبات میں سر ہلادیا
جی سر مریم صحیح کہرہی ہے
اوکےاور مس مریم آپ بتا سکتیں ہیں ریزر کسلیے استعمال کی جاتی ہے؟
سر یہ تو سب کو پتا ہے میں کیا بتاوں؟
سرریزر غلطیاں مٹانے کیلیے استعمال ہوتی ہے
کلاس میسےایک لڑکے نے کہا
آپ کچھ کہنا چاہیں گی اسنے مریم سے کہا
جی سر
بہت سےلوگوں کا ماننا ہے کے ریزر صرف غلطیاں مٹاتی ہے
جبکے میرا ماننا ہے کے یہ انسان کو موقع دیتی ہے کے وہ اب بھی اپنی غلطی کو درست کرلے اب بھی ماضی کی غلطیوں کو نا دہرائے
یہ انسان کو موقعےدیتی رہتی ہے حتٰی کے یہ اپنی زندگی اپنے آپ کو ختم کرلیتی ہے مریم نے اپنی بات مکمل کرلی تھی
عتیق حیران تھا کے مریم اتنی گہری بات کیسے کرسکتی ہے
ساری کلاس اسکیلیے تالیاں بجارہی تھی
کسی کام سے جاتےعلی اور فیض اسکی بات سننے کیلیے اسکی کلاس سے باہر رک گئے تھے
وہ بھی اسکی بات سن کر حیران تھے کے انہوں نے تو کبھی اس پہلو کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا
@@
کلاس ختم ہونے کے بعد دعا کی اثرار سے وہ دونوں بھی گراونڈمیں آگئیں تھیں
تبھی فیض بھی انکے ساتھ آکر بیٹھ گیا
واہ موٹی کیا خوب بھاشن دیا ہے تمنے تو
آخر یہ کہاں چھپاکر رکھا تھا
اسنے اسکا مذاق بنایا
جبکے مریم نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا
او زبان سنبھال کر بات کر میری دوست سے
ایشال اور دعا نے ایک ساتھ کہا
غلط کیا کہا مینےاسنے کہا
دعا نےایشال کیطرف دیکھا مریم آج تم ٹھیک تو ہو؟
کیوں مجھے کیا ہوا اسنے گھاس کو دیکھتے ہوئے کہا
جبکے اسکے دماغ میں عتیق کے کہے الفاظ گھوم رہے تھے
موٹی ہی رہو گی
تم جیسی موٹی
مریم دعا نے اسے جنجھوڑا تو وہ حال میں واپس آئی
تمنے آج اسکی بات کا جواب نہیں دیا
صحیح تو کہا ہے اسنے کے میں موٹی ہوں اور ہمیشہ ہی رہوں گی
واہ موٹی سمجھ گئی
فیض نے اسسے کہا
دیر سے ہی مگرسمجھ گئی ہوں
شکریہ فیض تمنے مجھے سچ سے ہمکنار کرایا
مریم نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور چلی گئی
فیض کے دل کو کچھ ہوا
ایشال اوردعا بھی آج اسکے رویے کو دیکھ کر پریشان تھیں
@@@
فیض گھر آیا تو کافی پریشان تھا
شاہینہ بیگم بھی اسکی پریشانی نوٹ کررہی تھیں
مگر وہ اسسے بات نہیں کرسکتی تھیں
اسدن مریم والی بات ر وہ اس سے شدید ناراض تھیں
اسلیے عثمان کو بھیج دیا اس سے بات کرنے کیلیے
کیا ہوا فیضی تم آج چپ چپ لگ رہے ہو کوئی بات ہوئی ہے کیا؟
عثمان نے بیڈپر اوندھے منہ لیٹے فیض سے کہا
نی بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ سیدھا ہو بیٹھا
کچھ تو ہوا ہے میرے شیر کو
اسنے کہا
بھائی مجھے شیر مت کہا کریں
اسنے ناراضگی سے انکی طرف دیکھا
کیوں
انہوں نے حیرانی سے پوچھا
کیونکے پہلے وہ خود ہی کہتا پھرتا تھا کے وہ شیر ہے آج خود ہی کہنے سے منع کررہا تھا
بھائی شیر ہویا کتا ہو ہوتا تو جانور ہی ہے ناں
اسنے کہا
اچھا تو اب پتا چلا ہے میرے بھائی کو
وہ اسکے پاس آکر بیٹھ گئے
اچھا سچ سچ بتانا
یہ سب تجھے اس مٹی والی لڑکی نے ہی کہا ہے ناں
کیا نام تھا بھلا؟
مریم فیض نے سرسری سا کہا
ہاں مریم
اوہو اسکا مطلب ہے اسنے ہی یہ سب کہا ہے
عثمان نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا
بھائی آپ بھی ناں
پتا نہیں کیوں مریم کے نام سے اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی
اسلیے وہ اٹھ کر بالکونی میں آگیا تاکے عثمان اسکے دل کا حال نا جان لیں
@@@
ایسا کافی دن چلتا رہا
عتیق کسے نا کسی بات پر مریم کی بے عزتی کرتا رہتا
اسے ہمیشہ ڈچ کرتا
مگر مریم نے اب تو جیسے منہ پر کفل لگا لی تھی
یہ نہیں تھا کے وہ اسکی بات کا ااثر نا لیتی یا جواب نا دیتی تھی
جو بات اسے زیادہ بری لگتی وہ اسکا منہ توڑ جواب دیتی
اور دوسری طرف فیض بھی مریم کے رویے کو نوٹس کررہا تھا
وہ اسکی کسی بات کا جواب نہیں دیتی تھی
اسکی ہر الٹی بات کو نظرانداز کرتی رہتی تھی
وہ پریشان ہوگیا تھا
اسکے رویے سے اس سے کوئی بات کرتا تو مناسب سا جواب دے دیتی
جب ھی اسے موٹی کہتا تو وہ کہیں کھوسی جاتی تھی مگر اسے جواب نہیں دیتی تھی
اگر وہ پوچھتا تو کے برا نہیں لگتا اب تمہیں تو وہ نفی میں سر ہلاکر کہتی
سچ کا برا نہیں لگایا جاتا
اور چپ چاپ وہاں سے چلی جاتی
اکثر وہ اسے اکیلے میں روتے دیکھتا
اسکے دل کو کچھ ہوتا تھا
جب وہ اسکے پاس جاتا تو وہ نم آنکھوں سے بھی مسکرادیتی
اور فیض کو دکھ ہوتا اپنے رویے پر
وہ خود بھی اپنی بدلتی حالت پر حیران ہوتا
@@@
مریم
وہ جارہی تھی جب علی نے اسے پکارا
جی
مریم نے اسکی طرف دیکھکے کہا
السلام و عليكم
علی نے اسے سلام کیا
وعليكم و السلام
آپکو کوئی کام تھا
جی وہ پرنسیپل سر نے سب سٹوڈنٹس کو ہال میں جمع ہونے کیلیے کہا ہے
علی نے تمیز سے کہا
بھلے وہ فیض کے گروپ کا تھا مگر کبھی بھی وہ کسی سے بدتمیزی سے بات نہیں کرتا تھا
اوکے مریم نے اسے دیکھکے کہا
وہ مسکرایا تو اسکی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی مریم کو اسکی آنکھیں بہت اچھی لگیں تھیں
وہ مسکراتا ہوا چلا گیا اور مریم بھی حال کی جانب چلنے لگی
کوئی تھا جسے یہ منظر بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا
@@
سب سٹوڈنٹس ہال میں جمع ہوگئے تھے
جب سر ارشد فاروق اسٹیج پر آئے اور انہیں کالج میں چھوٹی سی پارٹی کیلیے کہا تھا
سب سوچ رہے تھے کے انہوں نے کس لیے پارٹی دی ہے
صرف مریم جانتی تھی کے پارٹی کسلیے ہے
عتیق مسکرا رہا تھا
آپ سب سوچ رہے ہونگے کے کسلیے پارٹی ہے
دراصل میرے بیٹے کی شادی ہے اس مہینے کی آخر میں
انہوں نے عتیق کی جانب اشارہ کرکے کہا
سب حیران تھے کے سر عتیق ہی پرنسیپل ارشد فاروق کے بیٹے ہیں
اور سیکنڈ ائیر کے ایگزامز ہونے میں بھی دو منتھ ہیں اسلیے سوچا کے پارٹی ہوجائے
انہوں نے مسکرا کر کہا جبکے سب سٹوڈنٹس نے یاہو کا نعرہ لگایا
ہر طرف شور ہونے لگا سر چلے گئے تھے اسیلیے مریم بھی باہر آگئی تھی
مریم
مریم ابھی باہر نکلی ہے تھی کے فیض نے اسے پکارا
مریم نے مڑکر دیکھا
ہاں
مجھے تمسے کچھ بات کرنی ہے
اسنے تمہید باندھی
ہاں بولو
مریم نے اسسے کہا
وہ میں
وہ میں
کہنا چاہتا ہوں کے
فیض جلدی بولو کلاس شروع ہونے والی ہے
مریم میں کہرہا تھا کے میں تم سے
وہ اپنی بات مکمل کرتا اس سے پہلے ہی کلاس شروع ہونے کی بیل ہوگئی اور مریم چلی گئی
او شٹ
وہ بس ہاتھ پر ہاتھ مارکر ہی رہ گیا
@@
آج مریم کالج نہیں آئی تھی کیونکے بسوں کی ہڑتال تھی
فیض گیٹ کے پاس ہی اسکا انتظار کررہا تھا
جب محسن آگیا
کیسا ہے توں؟
محسن نے کہا
فیض اپنے ہی خیالوں میں گم تھا اسکے آنے کا پتا ہی نہیں چلا
ابے تیرے سے بات کررہا ہوں اسنے اسے جنجھوڑ ڈالا
ہاں کیا کہرہا تھا توں؟
اسنے اپنے خیال سے چونک کر کہا
کیا ہوا؟
سب ٹھیک تو ہےناں؟
کل رات کو کتنی کالز کیی
پر تو نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا
کیا ہوگیا ہے تجھے؟
کافی دن سے کھویا کھویا لگرہا ہے؟
بتا بھی
کچھ نہیں یار بس ایسے ہی
اچھا مجھسے چھپا رہا ہے
نہیں
کچھ نہیں چھپا رہا یار
تو بتا کیسے آنا ہوا؟
او ہیلو کیا کہرہا ہے؟
کالج کوئی کیا کرنے آتا ہے؟
اسے اپنے ہی سوال پر شرمندگی ہوئی
ویسے ہی پوچھ لیا
اسنے ارد گرد دیکھ کر کہا
کسے ڈھونڈ رہا ہے؟
مریم کو
اسکی زبان سے ایک دم ہی پھسلا اسلیے گڑبڑا کر محسن کو دیکھنے لگا
مگر محسن کی بات سن کر اسے افسوس ہوا
