Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 02)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

نی ڈاکٹرر ایسا نی ہوسکتا میری مریم کوما می نی جاسکتی۔وہ اتنی کمزور نی ہے پلیز آپ کچھ کریں۔ عتیق نے کہا

بیٹا ہم نے بہت کوشش کی مگر

اگر مگر کیا ہاں بولو

عتیق عاشق صاحب نے اسے روکا۔

وہ کبتک ہوش میں آے گی انہوں نے پوچھا

کچھ کہا نی جاسکتا۔2دن 2 مہینے 2سال یا پھر کبھی نی

آپ دعا کریں

وہ کہتا ہوا چلا گیا

نی میرے مولا ہم اس آزمائش کے کابل نی ہے ہمیں اس مے مت ڈال۔

رضیہ بیگم نے اللّٰہ سے روتے ہوے دعا کی

آپ سنمبھالیں خود کو عاشق صاحب نے کہا

می جاتا ہوں وہ میرے کہنے سے اٹھ جاے گی ہے ناں ماموں پھپھو۔عتیق نے کہتے ساتھ ہی اندونوں سے تائید چاہی

ہاں بیٹا تم صحیح کہہ رہے ہو پر

چٹاخ۔

مل گیا تجھے جواب یا اور دوں۔رضیہ بیگم نے ٹھپڑ مارکے کہا

پھوپھو اسمے بے یقینی سے انہیں دیکھا

بس بہت ہوگیا اب تم دفعہ ہوجاو میری بیٹی کی زندگی سے انہوں نے فیصلہ سنایا۔

بیگم۔

بس اب آپ کچھ نی بولیں گے ہمیشہ آپکی کی ہی سنتی آئی ہوں اب جو مریم کہے گی وہی ہوگا۔

انہوں نے حتمی فیصلہ سنایا

پھپھو آپ آپ کہہ رہی ہے کہ میں مریم کی زندگی سے دور چلاجاو ں اپنی مریم کی

بس بہت ہوگیا وہ تمہاری کچھ نی لگتی اب سمجھے کچھ نی لگتی وہ۔انہوں نے گرج کر کہا

پر پھپھو

اب کچھ پر ور نی ۔آپ کریں ارشد کو فون وہ آکر لے جاے اسے انہوں عاشق صاحب سے کہا

می نی جاوں گا بس اسنے کہا اور چلاگیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بیٹا زد مت کرو اور چلو ہمارے ساتھ ارشد صاحب نے منطیہ لہجے می کہا

نی بابا می مریم کو چھوڑ کر نی جاؤ گا۔وہ مسلسل پچھلے 4گھنٹوں سے یہی کہے جارہا تھا۔

تم بدتمیزی کررہے ہو اب۔انہوننے غصے سے کہا

اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو ایسا ہی صحیح۔وہ کہہ کر اٹھ گیا

اب میں کیا کرو باجی وہ نی مانا انہوں نے رضیہ بیگم سے کہا۔

ٹھیک ہے پر اب اسکا اور مریم کا کوئی رشتہ نی ہے اگر مریم نے خود کہہ دیا تو۔انہوں نے بات واضع کردی۔

🌺
🌺
🌺

ماضی

🌺
🌺
🌺

عاشق صاحب فوجی ہے۔

عاشق صاحب اور رضیہ بیگم کے4بچے تھے ۔3بیٹیاں اور 1بیٹا سب سے بڑی والی بیٹی کا نام فوزیہ ہے۔اسسے ایک سال چھوٹا بیٹا ہے جسکا نام آصف ہے۔اسسے 1.6سال چھوٹی بیٹی کا نام ثمرہ ہے اور ثمرہ سے 5سال چھوٹی بیٹی کا نام مریم ہے

انکی تیسرے نمبر والی ثمرہ بیٹی کے دل میں سوراخ تھا جسکی وجہ سے وہ 3.6

سال کی عمر میں فوت ہوگئی۔اسکا غم رضیہ بیگم کو بیت ہوا جسکی وجا سے انہیں برین ہیمبرج ہوگیا۔

وہ دنیا سے بیگانہ ہوگی۔یہی حال عاشق صاحب کا بھی تھا ک انہوں نے ابتک اپنی بیٹی کو زندہ نی دیکھا تھا جبسے وہ پیدا ہوی وہ گھر ہی نا آسکے۔

دو دن پہلے انہیں چھٹی ملی تو انہوں نے سوچا کے گھر ہو آئیں۔پر جب وہ گھر آے تو کوی بھی گھر پر نا تھا ۔

پڑوس پر بھی تالا لگا ہوا تھا پوچھتے تو کسسے پوچھتے۔

انہوں نے سرپرائز کا سوچکر کسی کو نہ بتایا پر انہیں کیا پتا تھا کے انھیں ہی سرپرائز ملنے والا ہے جو کے ناخوشگوار ہے

_________

ثمرہ کی موت نے جہاں سب دکھی تھے وہیں عاشق صاحب شرمندہ بھی تھے کہ وہ اسے دیکھ ہی نا سکے۔

یہ گلٹ انہیں اندر ہی اندر کھاے جارہا تھا۔

دوسری طرف رضیہ بیگ۔ بھی رو رو کر ہلکان ہورہی تھیں۔

۔ ۔ ۔

آپکو ڈاکٹر نے کہا ہے کے سٹریس مت لیں طبیعت دوبارہ خراب ہوجاے گی۔

نی ہوتی آپ ان کیوں آے ہیں انہوں نے خفگی سے کہا

آں اسی سوال سے بچنے کے لیے تو وہ انکا سامنہ نی کر پارہے تھے۔

آپی آپی اب کیسی ہے آپ ارشد صاحب نے اندر داخل ہوتے ہوے کہا۔

او بھای آپ کیسے ہیں

جسکی بچی مرجاے عہ ماں کیسی ہوگی بھلا؟

آپی بھول جاے آپ اللّٰہ کی چیز تھی اسنے لے لی اب بس کریے آپ

انہونے کہا

اچھا۔

وہ بس اتنا ہی کہ پای کے انہیں دورہ پڑگیا

۔ ۔ ۔

شبانہ تم جلدی آو آپی کی طبیعت ٹھیک نی ہے ۔ارشد نے اپنی بیوی کو فون کرکے کہا جو رضیہ بیگم کی دوست اور بھابھی بھی تھیں۔

اچھا میں آتی ہوں ابھی انہوننےکہہ کر نکلنے کو تیر ہوی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آپ آگیں اننہے اس وقت آپکی بہت ضرورت ہے۔

عاشق نے کہا

جی بھای آپ پریشان نا ہوں مینسمبھالونگی۔وہ کہہ کر اندر چلی گی۔

رجو تم کیسی ہو؟

کیسی ہوسکتی ہوں میں؟

انہوں نے نقاہت سے جواب دیا

کیا ہوا آج تمنے مجھے بانو نی کہا😧

دل ی کررہا میرا مجھے اکیلا چھوڑ دو۔انہونے کہکر چادر تان لی۔

شبانہ کو اپنی نند کم بہن کی حالت دیکھ کر رونا آیا۔

اب وہ فیصلہ کرچکی تھیں کے انہیں کیا کرنا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔

بابا بابا۔آصف اور فوزیہ انہے پکارتے ہوے آے

وہ انسب میں انہیں تو بھول ہی گئے تھے۔

جی بابا کی جان انہونے باری باری اندونوں کو چوما

بابا وہ چھموں کہاں ہے۔فوزی نے پوچھا

بیٹا وہ اللّٰہ تعالٰی کے پاس گئی ہے۔

بابا ہم کب جاے گے آصف نے پوچھا۔

بیٹا اس کے پاس صرف وہی جاتا ہے جسکو وہ بلاتا ہے۔انہننے پیار سے سمجھایا۔

وہ ہمیں کب بلاے گا۔فوزی نے معصومیت سے پوچھا۔

بیٹا ایسے نی کہتے ۔وہ ناراض ہوے

پر ہم اسسے کب ملے گے؟دونوں نے پوچھا

قیامت والے دن بیٹا ۔اب آپدونوں اسکےلیے دعا کرے۔

اوکے بابا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ارشد مینے اک فیصلہ کیا ہے

انہونے کہا

کیسا فیصلہ؟

میں نے اقصٰی کو رجو کو دینے کا

کیا بکواس کررہی ہو تم وہ دھاڑے

میں نے تو

کیا مینے تو ہاں کوی ماں اپنے بچے کو کیسے کسی کو دے سکتی ہے بولو تم وہ چیلاے

وہ کسی نی ہے وہ بھی چیخھیں۔وہ ہماری رجو ہے اسکو ہماری ضرورت ہے ارشی آج اسکے پاس بچہ نی ہے ۔

تو ہوجاے گے آج نی تو کل انہون نے کہا۔

ہمارے بھی تو ہوہی جایں گے۔

پر۔

مت سوچو کچھ بھی۔کیا تم بھول گئے ہوکے جب کوی بھی راضی نہ تھا تو رجو نے سبکو راضی کراکر ہماری شادی کروای تھی انہونے انہیں یاد دلایا۔

نی بانو میناپنی بچی نی دیسکتا۔

پر مینے فیصلہ کرلیا ہے بس۔وہ کہہ کر رکی نی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ویکھ رجو کون ہے یہ؟شبانہ نے اقا کو انکے سامنے کرتے ہوے پوچھا۔

یہ تو بلی ہے ناں۔انہوں نے خوش ہوتے ہوے کہا اور اقا کو گود میلے لیا۔

بانو تمہے یاد ہے کہ چھمو کی آنکھیں بھی بلی جیسی تھیں انہونے اقا کی آنکھوں کو چومتے ہوے کہا جو انکی گودمیں آتے ہی کھلکھیلانے لگی تھی۔

ہاں تو یہ بھی توتمہاری ہی ہے ابسے انہوں نے کہا

کیا مطلب ابسے کا وہ ٹھٹکیں

مطلب کے اقا آج سے تمہاری بیٹی ہے۔

یہ تمکیا کہہ رہی ہو مجھے نی چاہیے

پلیز تمھیں میری قسم لے لو اسے رجو ۔

وہ جو اقا کو بانو کو دینے لگی تہی رک گی۔

پلیز بانو۔

پلیز رجو مان جاو۔

اچھا ٹھیک ہے پر بیٹی یہ تمہاری ہی رہے گی۔

پر چھ ماہ کی بچی کو کیا پتہ کے اسکی ماں کون ہے۔

بس بانو مینے تمہاری بات مانی اب تم میری بات مانو۔انہونے ہا

اتنے می ننھی اقا نے بھی” گوں “کہا

اچھا جب پھپھی بھتیجی راضی تو کیا کرے گی ماجی۔

کہہ کر دونوں ہنس پڑی۔

انکو ہنستہ دیکھ کر اقا بھی رضیہ بیگم کی ناک پکڑ کر کھلکھیلا اٹھی۔

دور قسمت اور وقت بھی انکو دیکھ کر ہنس دیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اللّٰہ کی انپر عنایت ہوی اور اقا کے آنے کے ڈیڑھ سال بعد ہی انکو اک اور بیٹی سے نوزا گیا۔آج شام کو اقا کی دوسری سال گرہ تھی جب ننھی مریم نے صبح دس بجے آنکھیں کھولیں۔

اسبار عاشق صاحب نے پہلے ہی چھٹی لے رکھی تھی۔

وہ پریشانی سے ادھر اْھر جارہے تھے کیونکے رضیہ بیگم کو ایک ماہ پہلے ہی درد شروع ہوگیا تھا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جب بچی پیدا ہوی تب سب ہی وہاں موجود تھے۔

پیشنٹ کا ہسبینڈ کون ہے؟نرس نے پوچھا

جی میں ہوں عاشق صاحب نے کہا

آپکی بیٹی ہوی ہے مگر اسے سانس نی آارہی اور نہ ہی روی ہے لگتا ہے مردہ بچی ہوی ہے۔نرس نے کہا

انک تو مانو پیروں تلے سے زمین ہی کھسک گی یا میرے مولا رحم کر میرے مالک انہون نے آنسووں سے تر چہرے سے دعا کی۔

________

ماموں اتنے میں عتیق نے انہیں روتے ہوے دیکھلیا تھا تو انکے پاس آگیا۔آپ رو کیوں رہے ہیں۔اسنے انکے آنسو صاف کرتے ہوے پوچھا

انہوں نے اسے دیکھا جو تھا تو چار سال کا تھا مگر بہت سمجھدار تھا۔وہ اسوقت فیروزی رنگ کی شلوار کمیز پہنے ہوے تھا۔

کچھ نی بیٹا ویسے ہی ۔ ۔ انہونے کہا

ناں ناں ماموں آپ جھوٹ مت بولیے اسنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا۔

وہ اسکے اس انداز پر وہ ہنس پڑے اور کہا

اچھا۔

جی مجھے پتا ہے کے بے بی کو سانس نی آرہا ہے ناں اسنے ماتھے سے بال پیچھے کرتے ہوے کہا

ہاں انہونے اسکو اٹھاتے ہوے کہا

تو مے جاو اندر اسنے پوچھا

کیوں۔

عاشق صاحب کو حیرانی ہوی۔

ابھی دیکھنا وہ بھاگ کر او ٹی مے گیا۔

ارے رک جاو بیٹا انہونے کہا پر تب تک وہ جاچکا تھا۔

ارے ارے بچے تم اندر کیوں آئے ہو ۔نرس نے پوچھا

شش چپ آنٹی اسنے ہونٹوں پر انگلی رکھکر کہا

نرس اسکے آنٹی کہنے پر ہی ششدر تھی۔

آپ بےبی کو مجھے دیں اسنے حکم دیا۔

نرس نے ڈاکٹر کو دیکھا جسنے اسباط مے سر ہلایا ۔

ارے دیں ناں فالتو مے ٹائم ویسٹ نہ کرے میرا۔

اسنے ناگواری سے کہا

نرس نے بچی اسے گھور کر دےدی

گڈ اسنے کہا

عتیق نے بےبی کو لیتے ہی اسکو ٹانگوں سے پکڑ کر الٹا کرکے اسکی کمر پر ہلکی سی دھپ لگای پر بچی نا روی اسنے دو تین اور لگادیں اور اسکا ناک دبایا۔

یہ کیا کرہے ہو ڈاکٹر نے کہا

آپ بس دیکھتی جاے اسنے اطمینان سے جواب دیا۔

پر تم اندر آے کیسے؟

پاؤں سے۔

اسنے کہا

پر تمہے کسی نے روکا نی؟

نرس نے کہا

اسنے ناگواری سے نرس کو دیکھا اور کہا کے کسی مے اتنی ہمت ہے کے وہ مجھے عتیق رحمان کو روک سکے اسنے اپنی طرف انگلی کرکے کہا۔

اسکے اس انداز سے کہنے پر وہ دونوں ہنسنے لگی۔اگر آپکا ہوگیا ہو تو چپ کرجاے اب کیا ہے کے مجھے اپنے کام میں کسی کی مداخلت پسند نی ہے۔اسنے ماتھے پرسے پسینے کی بوندیں صاف کرتے کہا۔

اوکے اندونوں نے کہا

اسنے بچی کو الٹا کرکے اسکے ناک دبا کر کر اک اور تھپکی دی جسکی وجہ سے وہ رونے لگی۔

ان دونوں کا منہ حیرت سے کھل گیا۔

وہ چلا گیا

_________

مبارک ہو سر آپکی بیٹی زندہ ہے نرس نے آکر خوشی سے عاشق صاحب سے کہا

تیرا شکر ہے میرے مالک

عاشق صاحب نے وہی پر سجدہ ریز ہوکر کہا

میری نیوی کیسی ہے

شی از فائن ناؤ سر اک بات پوچھوں یہ بچہ کون ہے؟

مطلب مجھے تو لگتا ہے کے یہ کوی فرشتہ ہے۔ اسنے ہی بچی کی جان بچائی ہے۔نرس نے رشک سے کہا

یہ میرا بچہ ہے۔انہوں نے محبت سے اسے ساتھ لگاتے ہوے کہا

نرس نے انہے ساری بات بتای چونکے اب وہ کمرے مے تھے اسلیے رضیہ بیگم نے بھی انکی بات سنلی اور اٹھ کر اسے گلے سے لگالیا میرا بچہ شکریہ تیرا

او نو پھپھو ایسے نی کہتے اپنوں کو ۔ اسنے کہا

اچھا بچے دونوں نے اسے غلے سے لگالیا

۔ ۔ ۔

عتیق اٹھ جاؤ اب ۔

شبانہ بیگم نے کہا

نی ماما مینہی اسنے منتیا لہجے مے کہا

بیٹھنے دو نا بانو اسکو ۔رضیہ بیگم نے اسکی حمایت کرتے ہوے کہا

عتیق نے تشکر بھری نظروں سے رضیہ بیگم کو دیکھا

رجو کب سے اسکے سر پر بیٹھا ہے بس کرے اب نظر لگائے گا کیا معصوم بچی کو؟ بانو نے اسے کہا جو پچجھلے ایک گھنٹے سے بچی کو دیکھ رہا تھا

ہا ماما مینے کب اسکو نظر لگائی وہ صدمے سے چلایا

چیخو مت گدھے بیبی اٹھ جاے گی بانو ناراض ہوی۔

اور ماما میں بیبی کے سر پر کب بیٹھا تھا اسنے سرگوشی سے پوچھا اور پھر بیبی کو دیکھنے لگا۔

بس بھی کرو اور کتنا دیکھو گے ہماری بہن کو آصف اور فوزیہ نے کہا آپی بھای اب آپ بھی دیکھ لے ناں ہم دیکھ چکے ہے میری بہن کو اتنا مت دیکھو فوزی نے مصنوئی خفگی سے کہا

کیا کروں فوزی جان آپکی بہن ہے ہی انتنی پیاری میں اب کیا کرسکتا ہوں اسنے آنکھ مار کر کہا

اسکے انداز پر سب ہنس پڑے ۔

۔ کیا ہورہا ہے بھی عاشق صاحب نے آتے ہوے پوچھا

ارے آپ کہاں چلے گئے تھے رجو نے پوچھا

بس مٹھای بانٹنے بانٹنے گیا تھا۔انہوں نے ہاتھ دھوتے ہوے کہا

اچھا انہوں نے سر ہلایا

ہماری بیبی کتنی اچھی ہے ناں انہونے بیبی کو اٹھاتے ہوے کہا جو ذرہ سا کسمسائی

ہاں وہ تو ہے ۔

سب نے کہا

پیاری تو ہوگی ناں آخر گئی کسپر ہے عتیق نے کہا

کسپر گئی ہے عاشق صاحب نے بچی کو غور سے دیکھتے ہوے کہا

مجھپر ماموں اور کس پر اسنے فخریہ کہا

سب نے پہلے اسے اور پھر بچی کو دیکھا اور زور دار کہکہا لگایا

کیوں کیا ہوا ۔عتیق گڑبڑایا

آئینہ دیکھا ہے تم نے اقا نے غصے سے کہا

_______

کیوں کیا ہوا ہے میرے چہرے پر عتیق نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوے کہا

نئی کچھ نی ہے تمہارے چہرے پر اقا نے کہا

عتیق کواطمینان ہوا۔

بیبی جیسا اسنے بات واضع کی

سبکو مطلب سمجھ میں آگیا تھا اسلیے سب ہنسنے لگے۔

کیا مطلب اسنے پوچھا

مطلب یہ رے بھای کے تم کالے ہو اور بیبی بہت گوری ہے اور اسکی کوی بھی چیز تم سے نی ملتی ہے اب سمجھے اقا نے اسکا ہاتھ بیبی کے ہاتھ سے ملاتے ہوے کہا

عتیق کو اپنی دو سالہ بہن پر بہت غصہ آیا پھر سوچا کءے ٹھیک ہی تو کہہرہی ہے۔

پھپھو دانی میری اور بیبی کی برڈے اک دن ہی ہوا کرے گی نا اقا نے توتلی زبان سے کہا

ہاں بلی انہونے شفقت سے کہا

۔ ۔ ۔ ۔

پھپھو آج بیبی دو دن کی ہو گئی ہے تو اب اسکا نام کیا رکھیں اب ہم اسے بےبی تو نی بلا سکتے نا ساری عمر ابھی کلکو اسکی شادی بھی تو کرنی ہے ناں۔عتیق نے سمجھداری سےکہا مگر اسے پتہ ہوتا ک اسے سمجھداری مہنگی پڑنی ہے تو وہ کبھی نا کہتا اسکے کہنے کی دیر تھی کے شبانہ بیگم نے اک جوتا اسکے کمر مبارک پر رسید کیا۔

ہاے اللّٰہ جی وہ بلبلاتا ہوا اٹھا اور دیکھا کے اسکی والدہ ماجدہ دوسرا جوتاپکڑے نشانہ لگانے لگی ہے پر اسنے بروقت کیچ کرلیا

اف ہو ماما آپنے مجھے مارا مجھے عتیق رحمان کو ارشد فاروق کے بیٹے کو محمد صدیق کے پوتے کو وہ صدمے سے چلایا کیسے مارا آپنے مجھے ہاں بتاے ذرہ آپکی ہمت کیسے ہوی تب ارشد صاحب جو ابھی ابھی آے تھے نے اسکے سر پر چماٹ لگای۔

اف آ وہ کہتے پیچھے مڑا تو دیکھا کے ارشد کھڑے تھے

ہاں بولو اب اب کیوں چپ ہوگے ماں سے تو بڑی زبان چلاتے ہو انہونے کہا۔

اف پاپا آپکو پتہ نی کب عقل آے گی کے کسی کو مارنے سے پہلے بندہ بتادے کے میں مارنے والا ہوں تاکے اگلا بندہ تیار رہے مار کھانے کےلیے اسنے معصومیت سے کہا

اچھا کیوں مارا تھا آپنے اسے ارشد نے کہا

اور بونو نے انہیں سب بتادیا

نالائق تجھمے عقل نی ہے کیا دو دن کی بچی کی شادی کا سوچ رہا ہے انہونے اسکے کان مڑورتے ہوے کہا۔

آہ پاپا مینے کون سا کہا ہے کے آج ہی اسکی شادی کردیں مینے یہ کہا ہے کے اسکی شادی کیلیے تو نام کی ضرورت ہوگی نا اسلیے اسکا نام کب رکھیں گے۔

ہاں یہ تو تمنے ٹھیک کہا ہےانہوں نے سوچتے ہوے کہا

۔ ۔ ۔ ۔

سب ایک ساتھ جمع تھے کیونکے آج بیبی کے نام کا سوچنا تھا کے کونسا نام رکھیں ۔

سب اپنی اپنی پسند کا نام چٹ پر لکھ رہے تھے ۔کیونکہ عاشق صاحب نے پہلے ہی کہا تھا کے جسکو جو نام پسند ہو وہ لکھدے پر دوسرے کو نا بتاے

ہوگیا انہونے پوچھا

جی سب نے کہا

اب سب ایک پیج پر نام کھدے کے کسن کیا نام لکھا ہی سب سے پہلے ارشد صاحب نے نام لکھا(افراء)

شبانہ بیگم نے لکھا

بتول

آصف اور اقصٰی نے لکھا

آصفہ اور یامین

فوزیہ نے لکھا

ربیع

عاشق صاحب اور رضیہ بیگم نے لکھا

شانی مریم اور مریم

عتیق نے لکھا

مریم

چونکے اقا چھوٹی تھی اسلیے اسنے فوزی سے لکھوایا

اوکے اب مینکالتہ ہوں عتیق نے کہا

یس باس

سب ے کہا

عتیق نے پرچی نکال لی

کھولوں ۔عتیق نے کہا

نی پہلے دتھ تک دنوں ۔اقا نے کہا

اوے پہلے بولنا تو سیکھ لے مجھ سے پنگاہ بعد میں لیو اسنے ناگواری سے کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *