Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi NovelR50672 Lo Mein Haar Gai (Episode 18)
Rate this Novel
Lo Mein Haar Gai (Episode 18)
Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi
وہ انتہائی غصےکی حالت
میں گھر پہنچی
گھرمیں سب کسی کےگھرگئےہوئےتھے
سوائےاقاکےوہ روم میں بیٹھی ناول پڑھرہی تھی جب مریم کمرےمیں آئی مریم نےبیگ ٹیبل پررکھااورروم فریج سےپانی نکال کرپیا آگئی تم اقانےاسےدیکھااورکہا
ہاں
سب لوگ کہاں گئےہیں پھپھواورماموں آپی فوزیہ کےساتھ بہاولپورگئےہیں بہاولپورکیوں مریم سیدھی ہوکےبیٹھی
ہاں وہ پھپھوصغرٰی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی
کیوں کیاہواانہیں
مریم نےپریشانی سےپوچھا اب مجھےکیاپتہ اقانےجنجھلاکرکہا
اوکےفائن مریم بھی اٹھ کرچینج کرنےچلی گئی
@@
مریم
کیاہوااتنےغصےمیں کیوں تھی تم اقانےاسسےپوچھاجوکاغذپھاڑرہی تھی اسےجب بھی کسی بات پرغصہ آتاوہ کاغذپھاڑتی تھی کیوں تمہیں کسنےکہااسنےاچھنبےسےپوچھاایساکچھ نہیں ہے تمہاری شکل بتارہی ہے
مریم سچ سچ بتاؤکیاہواہے اقانےزوردےکرکہا
اورمریم نےاسےکلسےاب تک کاواقع گوشوگزارکردیا
واٹ پاپانےتمسےمعافی کیوں منگوائی اقانےغصےسےکہا اقاتمہارادماغ توٹھیک ہےوہ ایک استادہیں انکیلیےسب بچےبرابرہیں غلطی میری بھی تھی مجھےایسےریآکٹ نہیں کرناچاہیےتھا
مریم مجھےتولگتاہےکےفیض کی شادی
بس اقا
کوئی فضول بات مت کرنامریم نےاسےوارن کیا مگرشانی اقاپلیز اوکےاقانےکہا
@@
سنہری صبح بھیگ رہی تھی مریم بھی نیند میں ایک نام ہی بڑبڑارہی تھی
پلیز آہستہ چلاو
فلورہ فلورہ یہ کہتے ساتھ ہی اسکی آنکھ کھل کھلگئی تھی وہ اٹھ بیٹھی
مسلسل دو سالوں سے اسےایسے ہی خواب آرہے تھے
اسکی آنکھیں نم ہوگئیں
اسنے اقا کیطرف دیکھنا چاہا مگروہ کہیں نہیں تھی سلیے وہ اٹھی اور وضو کرکے نماز پڑھنے چلی گئی
بیشک اللّٰہ اپنے ماننے والوں کو ےمراد نہیں کرتاانہیں سکون دیتا ہے
@@
آج صبح سےہی
وقفےوقفےسےبارش ہورہی تھی
مریم بالکونی میں کھڑی جیااورسعد
کوکھیلتےدیکھ
رہی تھی
کیادیکھ رہی ہوشانی
اقانےپوچھا
سعداورجیاکودیکھوکتنےپیارےلگرہےہیں ناں
مریم نےمسکراتےہوئےکہا
ہاں وہ توہےمیں توسوچ رہی تھی کےجیاکواپنی بھابھی بنالوں ویسےبھی
سعداورجیاایک ساتھ کتنےاچھےلگتےہیں
بلاول سےتواچھاہی ہےسعداقصٰی نےشرارت سےکہا
اقاتمہارامسلہ کیاہےتم کیوں انکےپیچھےپڑجاتی ہوانہوں نےتمہیں کیاکہاہےمریم نےخفگی سےکہااورناول کی دنیاسےباہریہ سب ناولزمیں ہی اچھالگتاہےناکےرئیل لائف میں کےبچپن کےرشتےجوانی تک چلیں
شانی تمبھی ناں کیوں نہیں چلسکتےماموں پھپھواورماماپاپاکاہی دیکھلواقانےاسےمثالیں دیں اورتمہارےپاس کیاثبوت ہےکےانکارشتہ نہیں چلےگا
اقاتم بھی اچھےسےجانتی ہوکےہمدونوں کےساتھ کیاہواہم بھی تومماڈیڈی اورماموں معمانی کی بیٹیاں تھیں ناں توہمارارشتہ کیوں ٹوٹایہ بھی ہوسکتاہےکےانکارشتہ ناٹوٹےمگرہم رسک نہیں لےسکتےاقااندونوں کوایک ساتھ اپنی زندگی گزارنی ہےیانہیں یہ انکافیصلہ ہوناچاہیےناکےہمارا
شانی تمتوسیریس ہی ہوگئی ایسےجیسےمیں ابھی قاضی بلواکرانکانکاح پڑھوانےجارہی ہوں
اقامینےتمہیں اسیلیےسمجھایاہےکےتم دوبارہ اس معاملےمیں بات ناکرومریم نےاسکےسرپرچپت لگاکرکہا
اوکےجانِ من
اقانےاک اداسےکہامریم مسکرادی
@@
صبح جب مریم اٹھی تواقصٰی کھانابنارہی تھی اورآصف جھاڑولگارہاتھا
اوروجیہہ میڈم آرام سےکرسی پرباجمان تھیں اورمنہ کےزاویےبگاڑنےمیں مصروف تھیں جبکےسعدڈسٹنگ کررہاتھامریم کودیکھتےہی آصف نےجھاڑوپھینک دیاکیونکےمریم کوڈسٹ الرجی تھی
اٹھگئی اسنےپیارسےکہااورمریم نےاثبات میں سرہلادیا
ناشتےمیں کیالوگی اقانےاسسےپوچھا
اقاتم جانتی ہوناں
مریم نےاسسےکہا
کیااقانےناسمجھی سےکہا
یہی کےبےسوادکھانامجھسےنہیں کھایاجاتامریم نےایک ہونٹ دباکرکہااسکی بات پرسب کھی کھی کرنےلگے
تواقانےہونقوں کی طرح دیکھااوربات سمجھ آنےپراسکوانگارآلودنظروں سےگھوراوہ اب کچھ کرنہیں سکتی تھی کیونکےاسکےدونوں ہاتھ مبارک آٹےمیں سنےہوئےتھےاوروہ یہ جنگ
بڑی مشکل سےلڑرہی تھی
اسنےکبھی مشین کےبغیرآٹانہیں گوندھاتھااوراسوقت وہ مشین کوہاتھ لگانےسےبھی گھبرارہی تھی پچھلی بارکی وجہ سےاسکی ہمت ناہوئی کےوہ یہ گستاخی دوبارہ کرتی
ہواکچھ یوں تھاکےجیااورعارف بھائی کھیل رہےتھےاورسداکی ناولوں کی دیوانی اقصٰی نےآٹاگوندھنےوالی مشین سامنےرکھےاس میں آٹاڈال رہی تھی اورساتھ ساتھ ناول بھی حفظ فرمارہی تھی
جب آٹاچھن چکاتومحترمہ نےپانی آٹےمیں ڈالنےکی بجائےمشین ہولڈرمیں ڈالدیااورعارف بھائی کوآن کرنےکاکہکرناول شیلف پررکھدیااورمشین بندکرنےہی لگی تھیکےایک زورجھٹکالگاپھرتوحواسوں کی کمزوراقادنیاجہاں کی پریشانیوں سےآزادزمین بوس ہوگئیں
اسکےبعداسکی ہمت ناہوئی مشین کوہاتھ لگانےکی
مریم چپاتی لیلوناں اقانےایک بارپھرکہا
اقاپلیزتم رہنےدومجھےاپنےپیٹ میں افغانستان کانقشہ نہیں رکھنامریم نےاسکی بنائےگئےنقشےکودیکھکرکہاجسےوہ چپاتی کانام دیکراس معصوم پرسراسرزیادتی کررہی تھی
اب کیاکروں پیڑےتوکیےنہیں جاتےمجھسےاسنےروہانسی ہوکراپنی پریشانی بتائی
رکومیں بنادیتاہوں
نہی آصف تمہیں پھپھونےمنع کیاتھااورآصف بیٹھ گیا
سعداورجیاکی آنکھوں میں جوامیدکی کرن جگی تھی کےاب اچھاکھانےکوملےگاوہ آصف کےبیٹھتےہی بھج گئی
مریم نےبچوں کودیکھااسےانکی فکرہوئی
مریم کےزہن میں ایک خیال آیااوروہ اسےپایاتکمیل تک پہنچانےکیلیےاپنےقدم مبارک کچن کیطرف لےگئی
سعداورجیاایک دوسرےکامنہ تکتےرہ گئےاورافسردہ ہوگئے
کیونکےمریم کبھی کچن آئی ہی نہیں توبناتی کیااقاتوپھربھی بدزائقہ سہی مگربنالیتی تھی
پرمریم اسکےتوپیازچھیلنےمیں ہی آنسووں سےچہرہ بھرجاتاتھااوردوسری بات یہ کےاسےوقت بھی کہاں ملتاتھایہ سب کرنےکا
مریمARE YOU SUREکےتم کھانابناوگی
اقانےاسکی طرف دیکھ کرکہاجیسےوہ کھانانہیں سندھ فتح کرنےکی بات کررہی ہو
اقاتم چپ چاپ آگ جلاکربیٹھ جاوبچوں اوربھائی کےپاس
جاؤبھی اسنےابکی باراسےغصےسےکہااوراقاکھسیانی بلی کیطرح سرکھجھاتی چلی گئی
مریم نےالماری میسےشیشےکاچھوٹاگلاس نکالاآٹاجواقانےگوندھ کررکھاتھااسےسامنےکرکےگھوراپھراس معصوم سےآٹےمیں گلاس گھونپاآٹابیچارہ ترپ کررہ گیامریم نےپھرگلاس باہرنکالاتواسمیں آٹےکاگولاپھنساتھااسکےچہرےپرفاتحانہ مسکراہٹ آئی
جیااسےہی گھوررہی تھی اسکےاندازاےکےمطابق مریم نےاپنےپچپن میں جوکھیل نہیں کھیلےتھاوہ اب کھیل رہی تھی
مریم نےپھراس پیڑےنماگولےکوبیلناشروع کردیاتوایک ترچھی سی چپاتی کی شکل بن گئی اسنےحیرانی سےاسےاٹھاکردیکھاسب ہی اسکی ترچھی چپاتی دیکھکےہنسنےلگےکمرےسےباہرنکلتاعمران بھی رککراسےدیکھکےہنسنےلگااسکی نظرجب عمران پرپڑی تواسنےجلدی سےچپاتی رکھدی
اسنی اردگرددیکھاتواسےکسترڈباؤل نظرآگیاوہ اسکی طرف لپکی
اسےاچھےسےدھوکرخشک کرکےاسنےچپاتی پررکھکےپھیراتوگولائی میں چپاتی کٹ گئی
سب ہی حیرانی سےاسےدیکھرہےتھے
مگرعمران سبسےلاتعلق بیٹھاتھااسی طرح مریم نےساری روٹیاں بیل کرپرات میں رکھدیں اورتوےپرایک ایک کرکےڈالتی جارہی تھی
اور انپر سبزیاں اور مسالہ جات ڈالکر رول کی شکل دیدی
وہ انہیں اوون میں رکھکے آئی ہی تھی جب اقانےکہاہمنے
چائےبھی پینی ہےاورمسکرائی
اوکےمریم نےپھرایک چولہےپرپانی چڑھایاجب اسےپتاچلاکےاسےتوچائےبنانی ہی نہیں آتی
اسنےاقاکیطرف دیکھااقاکوسمجھ آگئی تھی اسلیےوہ اٹھ کرآئی جب عمران نےکہاکےانہونےمنع کیاہےناں اکی توکیوں جارہی ہواقانےمریم کودیکھاجسنےاسےموبائل لانےکااشارہ کیااوراقانےاسکاٹیبل پرپڑاموبائل دیدیا
اکی وہ بولا
یہ دیرہی تھی عمران میں اسنےفون کیطرف اشارہ کرکےکہاعمران چپ ہوگیا
مریم نےجلدی سےگوگل سےچائےکی ریسپی لی اوردوکپ چائےبنانےلگی
شانی میں جوس پیتی ہوں
جیانےمریم سےکہاجوچائےمیں دودھ ڈالرہی تھی
مجھےپتاہےاسنےمسکراکرکہااورتین گلاس اورنج جوس کےنکالے
میں لاتےپیتاہوں
عمران نےموبائل میں سردیےہی کہا
عمران لاتےپیتےنہیں کھاتےہیں اقانےکہااسےمعلوم تھامگرمذاق کرناضروری سمجھا
اچھاجی وہ مسکرایا
کتنےکپ پیےگیں آپ بھائی
مریم نےدوکپ پانی ڈالتےہوئےکہادوپیوں گااسنےمصروف اندازمیں کہا
مریم کولاتےبنانی آتی تھیں کیونکےمریم شوق سےپیتی تھی اورکبھی کبھی الیکٹرک کیٹل سےبنابھی لیتی تھی
اسلیےلاتےبھی بنالی اورچائےبھی
مریم سب سامان ٹرالی میں رکھکےڈائینگ ٹیبل پرلےآئی
تب تک اوون کی بیپ ہوئی
وہ جلدی سےاوون سےبھاپ اڑاتی ٹرےنکال لائی
ارےیہ کب بنایاسبنےحیرانگی سےپراٹھارول دیکھااگرمیں چپاتی بناتی توسالن بناناپڑتااورزیادہ محنت کرنی پڑتی اسلیےمینےیہ بنالیےاسنےخوشدلی سےکہا
عمران اسکےاندازسےمسکرادیااسنےسب کودیےپلیٹ میں اورجنہیں چائےدینی تھی اسےچائےدی اپناجوس اورکافی کاکپ اٹھالیا
واو
شانی کوئی کہہ نہیں سکتاکےتمنےیہ پہلی باربنائےہیں اقانےپراٹھارول کھاتےہوئےکہاجبکےعمران اورسعدکی آنکھوں سےپانی نکل رہاتھا
مریم نےایک نوالہ
لیاتواسےاپنےحساب سےتومرچ سہی لگی مگرعمران توپھیکاکھاتاتھایہ اسےکیسےبھول گیاکےجب مماکھانابناتی تومریم اوراقاکیلیےنکال کرباقی دوسروں کی پسندکابناتی تھیں
آصف اورجیابھی سوں سوں کررہےتھے
کیاہوااقانےان چاروں کی طرف دیکھاجبکےعمران اٹھکرکچن سےآئس کریم لینےچلاگیا
اف مریم جی
آپنے کتنی مرچی ڈالی ہے اف اسنے ایک چمچ کھاتےہوئےکہا
بھائی مرچ کےبنا بھی کوئی زندگی ہےاسنےایک اداسےکہا
وہ اسےگھورکرہی رہ گیامینےتوسناتھاکےآپکو
پاستا
بہت پسندہے
اسنےمریم کومخاطب کرکےکہا
جی بھائی
توپھرآپ وہ کیسےکھالیتی ہیں
منہ سے
مریم
کادل اسکی کم عقلی پررویا
مطلب یہ کےکم مرچ کےکیسےکھاتی ہیں
کسنےکہاکےکم مرچ ہوتی ہےپاستےمیں جیسامرضی بنالواورہاں میں پاستاپرکالی مرچ کاپاؤڈرڈال کرکھاتی ہوں بھائی
مریم نےکافی کاسپ لیکرجوس کاسپ لیتےہوئےکہا
ارے آپ
بھائی میری مرضی میں جیسے مرضی کھاوں
اسنے پھر وہی عمل دہرایا
اف یہ لڑکی بھی ناپاگل ہے
اسدن چاکلیٹ کے ساتھ بریانی کھارہی تھی اب جوس جوس اور کافی
اسکادل اسکی عقل پرماتم کرنےکوکیاکتنی عجیب ہےیہ وہ ہنسا
@@
کیامریم نےبنائےرضیہ بیگم کوئی دس بارکہچکی تھیں
جی پھپھواقانےبھی رٹہ رٹایاکہدیا
اف بیگم آپ بھی ناایسےکہرہی ہیں جیسےشانی نےکسی کاخون کردیاہوعاشق صاحب نےتنگ آکرکہا
آپ سمجھتےنہیں ہیں اسکامطلب ہےکےشانی کوکوکنگ کاشوق ہونےلگاہےانہوں نےچہکتےہوئےکہا
لوبھئی بھلاشانی کوکیاضرورت ہےکچن میں جانےکی انہوں نےکہا
آپ بھی ناں اب نہیں توکب سیکھےگی اورکیوں نہیں جائےگی کچن میں کھاناکون بنائےگااورمت بھولیں کےوہ بیٹی ہےانہوں نےانہیں یاددلایا
کوئی نہیں ہماری بیٹی کوکام کرنےکی ضرورت نہی ہےاگراسکادل چاہےگاتوکرلےگی اگرناکیاتوآپ اسےفورس نہیں کریں گی
میں بھلاکیوں فورس کرنےلگی انہوں نےناراضگی سےکہافوزیہ کوبھی توخودبخودہی شوق اٹھاتھاکھانابنانےکامینےکوئی زبردستی نہیں کی ناآصف پر نافوزیہ پرتوہماری لاڈلی پرکیسےکروں
جی ہاں بلکل
@@
مریم مریم
اقاچلاتی ہوئی بولی
مریم جوبالکونی سےنیچےدیکھ رہی تھی اسکی طرف متوجہ ہوئی
مریم مینےکہاتھاناں کےپاشاہی جہان ہےاسنےچہکتےہوئےکہا
مریم کواسپرڈھیرساراغصہ ّآیاتمنےاسبات کیلیےشورکیا
اف اقاتم کب نکلوگی ان ناولوں سے
مریم نےاسکےہاتھ سےناول چھین کرکہا
مریم مجھےاچھالگتاہےپتاہےتمہیں حیااورجہان ایک دوسرےکیلیے
بس اقامریم نےاسےبیچ میں ہی ٹوکاجہان یہ جہان وہ کیامسلہ ہےتمہیں آخرکبھی تمنےاس جیسابندہ دیکھاحقیقی دنیامیں
مریم نےغصےسےکہا
شانی جہان جیسابندہ بھی ہےاورحیاکی عادت والی بندی بھی
اسنےآنکھیں مٹکاکرکہا
بتانےکاکشت کریں گی کےوہ گستاخ کون ہے
اچھا
اقاہنسی
جہان سکندرعمران کیطرح کاہےجبکےحیاسلیمان کی ریایکشن کرنےوالی عادت تمہارےجیسی ہےپھراقاکاناختم ہونےوالاسلسلہِ کمپیریزن شروع ہوگیاوہ عمران کوجہان اورمریم کوحیاسےملارہی تھی
اگرمریم تم عمران سےشادی کرلوتوتمہاری اوراسکی جوڑی جہان اورحیاوالی ہوگی
اقابس کروفضول بکواس
مریم نےتنگ آکرکہا
بھائی عمران کومیں بھائی مانتی ہوں اسلیےبہترہےکےآئندسے ایسی بات ناہومریم نےاسےوارن کیا
اوکے میڈم
اقا نے سر خم کرتے کہا
@@
۔مریم کالج جانےکیلیےتیارہورہی تھی
اسکےسر میں ہلکاہلکادردہورہاتھا
وہ جلدی سےجانےلگی کےکسی وجودسےٹکراگئی
وہ کوئی اورنہیں عمران تھاجواپنی ٹیب میں مصروف چلرہاتھاجب مریم سےٹکراکےاسکی ٹیب گرگئی
سوری بھائی
مریم نےاسکی ٹیب اٹھاکردی تواسکاسرعمران کےسرسےٹکراگیاجوٹیب اٹھانےکیلیےہی جکھاتھا
مریم نےماتھامصلہ اورسیدھی ہوگئی
مریم جی دوبارہ ٹکرالیں
نہیں تومصیبت آجائےگی
نی بھائی مجھےان باتوں پریقین نہی ہےوہ کہکرآگےبڑھگئی
عمران کندھےاچکاکررہ گیا
وہ چائےپی رہی تھی جب اسکےہاتھ سےشیشےکاکپ گرگیا
اوہ مریم لگی تونہی شیشی گرنےسےمصیبت
ممابس کریں آپ جانتی ہیں ناں مجھےیقین نہی ہےانسب پراسنےاپنابیگ پکڑتےکہاتورضیہ بیگم چپ کرگئیں اوردل میں اسکی سلامتی کی دعاکرنےلگئیں
اللّٰہ حافظ اسنےبائیک سٹارٹ کرکےکہا
مریم کومعلوم ناتھاکےمصیبت اسکاانتظارکررہی ہے
@@
وہ راستےمیں ہی تھی جب بارش شروع ہوچکی تھی اسلیے
مریم سائیڈپررک گئی تھی
بارش ذراہلکی ہوئی تواسنےکلائی پربندھی گھڑی دیکھی تھی جوکےنوبجارہی تھی اسلیےاسنےجلدی سےبائیک سٹاٹ کی کافی مشکل کےبعدوہ کالج پہنچی
اسنےجلدی سےلاک لگایااورکلاس کی جانب بڑھ گئی
وہ جلدی میں تھی
اسلیےبھاگتی بھاگتی کلاس تک پہنچی
مگرتب تک اسکاپہلالیکچرختم ہوچکاتھا
مریم دوسرےلیکچرروم کیطرف جارہی تھی جب اسےفیض کاگروپ آتاہوادکھائی دیا
مریم ان سےکوئی بات نہیں کرناچاہتی تھی اسلیےدوسری راہداری کیطرف چلی گئی
واہ کیابات ہےآج توہاتھی بھی ہم سےپچرہےہیں
فیض نےجملہ کساسب ہنسنےلگگئے
ہاں بدلاراستہ کیونکےہلکےہوئےکتےہاتھی کوبھی کاٹ لیتےہیں
اورتم توکچھ زیادہ ہی ہلکےہوئےہومریم نےاسکےہاتھ میں پکڑےفل سائززنگرکیطرف اشارہ کرکےطنزیہ کہا
اےکتاکسےبولووہ جانےلگی جب فیض اسکےراستےمیں آکرغصےسےبولا
لوبھئ
تمہارےتودماغ کیساتھ کان بھی خراب ہیں
مطلب
فیض نےناسمجھی سےکہا
مطلب یہ کےمینےتمہیں کتانہیں بلکےہلکاہواکتاکہاہےدونوں میں فرق ہوتاہےمریم نےمسکراتےہوئےکہا
تمنےمجھےہلکاکتاکہااسنےاسےکھینچتےہوئےدیوارکیساتھ لگاکرکہا
یہ کیا بدتمیزی ہےمریم اسےدھکادیتےہوئےبولی
مریم کےدھکےمیں اتنی طاقت تو ضرور تھی کےوہ پیچھے لڑھک گیا
ابے میں کتا نہیں ہوں شیر ہوں سمجھی
شیر ہوں
اسنے پنجے دیکھاتے ہوئے کہا
مریم کی ہنسی چھوٹ گئی
شیر ہو
اسنےاثبات میں سر ہلایا
واقعی میں مریم نے ہنستے ہوئے دوبارہ کہا
ہاں تمہے کوئی شک ہے کیا؟
نہیں
مان لیا نا
ابکی باراسنے کالر جھاڑتے ہوئی کہا
ہاں مان لیا چاہے کتے ہویا
اے کتا مت بولومجھے
اسنےدھمکی دی
پوری بات تو سن لو ڈھکن
مینے کہا ہے کے شیر ہویا کتے ہو تم رہوگے تو جانور ہی ناں
مریم نے مسکرا کر کہا
تیری تو جب تک اسے سمجھ آئی وہ چلی گئی تھی
اور محسن اور علی کھی کھی کررہے تھے
تم دونوں چپ کرو
دعا نے اندونوں کو غصے سے کہا
اوکے وکے دونوں ہی خاموش ہوگئے
دعا نے فیض کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن وہ جھٹک کر بولا اسسے بدلا تو لیکر رہوں گا وہ بھی جلد ہی۔۔
