Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lo Mein Haar Gai (Episode 08)

Lo Mein Haar Gai by Maryam Bibi

مما لائیں اسے مجھے دے دیں اور آپ چلی جائیں

رضیہ بیگم نے پہلے اسے حیرت سے دیکھا پھر مسکرا کر جیا کو اسے دےدیا

وہ بہت خوش تھیں کے چلو آج مریم نے اسے اٹھا ہی لیا

فجیہہ پہلے تو اسکا انجان لمس محسوس کرکے رونے لگی پر جب مریم نے اسے تھپکی دی اور سیٹی بجائی تو وہ چپ ہوگئی ور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی

وہ اس پہچاننے کی کوشش کررہی تھی جبھی مریم نے کہا کے جیا میں تمہاری آپی ہوں

اب م میرے ساتھ رہوگی ٹھیک ہے ناں

جیا کو کیا خاک سمجھ آنی تھی اسلیے وہ منہ کھولنے لگی

ارے مما اسکے تو دانت ہی نی ہیں تو یہ کھانا کیسے کھاتی ہے

رضیہ بیگم نے اسے بتایا کے ابھی یہ بچی ہے بعد میں آیں گے

@@@@@

اب جیا کو دودھ پیلانا اور نہلانے کھیلنے کی ذمی داری مریم نے ے لی تھی اور رضیہ بیگم مطمئن ہوکر گھر بنوانے میاں عاشق صاحب کی مدد کرنے لگ گئیں تھیں

کے ایک دن اقا چاول بناے تھے

اور مریم جیا کو لیکر بیٹھی تھی وہ اندنوں سکول نی جاررہی تھی کیونکے گرمیوں کی چھٹیاں تھیں

تو اقا نے مریم کو چاول دیے تو وہ کھانے لگگئی

اب یا کا بھی ایک دانت نکل آیا تھا

وہ اسے ہی کھاتا ہوا دیکھکے زبان نکال رہی تھی

مریم نے اسے یکھا تو اسکے منہ میں بھی چاول کے دانے ڈال دیے ڈالنے تو پورا چمچ والی تھی پراسنے سوچا کہ پہلی بار کھاے گی تو اچھا لگتا ہے کے نی

اسکے منہ میں اسنے چاول ڈالدیے

جیا ے تھوڑا منی ہلایا مگر اسسے کھا نا گئے تو وہ رونے لگگئی

بری بات جیا تمسے کہا ھا ناں کے مجھے روتے بچے اچھے ی لگتے پھر کیوں رو رہی ہو

نریم ے اسسے کہا جو رونے میں مصروف تھی اور چپ ہونے کا نام بھی نئی لے رہی تھی

صد شکر کے اسی وقت رضیہ بیگم آگیں

ارے یہ کیوں رورہی ہے انہوں نے جلدی سے ہاتھ دھوتے وچھا

پتہ ی مما لگتا ہے اسے اقا ے چاول پسند نی آئے اسی لیے رو رہی ہے

کیا تمنے اسسے چاول کھلادیے

انہونے جلدی سےاسے پکڑ کر اسکا منہ کھولا تو اسمیں ابھی بھی چاول تھے

انہونے جلدی نکالے اور اسے کلی کروائی

اف جیا تم اتنی سلو ہو ابھی تک کھایا نی

اسنے اسے آنکھیں دیکھاکر کہا

بیٹا ابھی چھوٹی ہے اسلیے اگر اسکے منہ میں ڈالنا ہی ہوتو تھوڑا سا

انہونے کہا

تھوڑا ہی تو ڈالا تھا پر آگے سے دھیان رکھوںگی اوکے مریم نے کہا

تمہیں زے ی بات بتاوں جب تم چھوٹی جیا سے بھی تو ردا اور شاہد نے بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی کیا تھا

پر تم روئی نی بلکہ تمنے تو بغیر دانتوں کے ہی کھالیا اور نلوگوں کھیلایا بھی تمہے اسسے زیادہ تھا

شکر ہے میں آگی تھی نی تو اسنے تو تمہیں پوری پلیٹ ہی کھیلادینی تھی

انہونے ہنستے ہوے کہا

واقع

تو اور کیا پر شانی تم نارمل بچوں کی طرح نی تھی تمنے بڑے مزے سے ھایا اور تمہے پتا ہے اسوقت تم دو ماہ کی تھی

تب تک کا نارمل بچہ تو پانی بھی نی زیادہ پی سکتا اور تمنے کھچڑی کھائی تھی وہ بھی بنا روے مزے سے

پھر اسکے بعد عتیق مہیں کچھ نا کچھ تھوڑا کرکے کھیلاتا تھا

ارے مجھے یاد کیا جارہا ہے

اسنے کمرے ں داخل ہوتے کہا

لو شیطان نام لیا اور عتیق حاظر ہوگیا

مریم بڑبڑائی

کچھ کہا

کیا کسی نے اسنے مریم کو دیکھتے کہا

ہاں میں سوچرہی تھی کے تم ابھی تک آئے نی

دماغ خراب کرنے

اسنے ہا

اچھا تو میری شان میں یہ کسیدے پڑھے جاررہے تھے

ایسا ہے تو جو میں گڈ نیوز لایا ہوں وہ نی بتاتا اب

کیا اپنے گھر جاررہے ہو

مریم نے چہک کر کہا

جی نی نی جارہا میں

چلو میں اب بتاہی دیتا ہوں

تمہارا ایڈمیشن ہوگیا ہے اور سب سے اچھی بات کے سکول بھی گھر کے نزدیک ہی ہے

اسنے بتایا

واو کونسے گھرکے

اسنے سوال کیا

جو بن رہا ہے اسنے بتادیا

گڈ تھینک یو عتیق اسنے خوشی سے کہا اور عتیق اسے خوش دیکھکر خود بھی خوش ہوگیا

______

اب مریم دوبارہ اسکول جانے لگ گئی تھی۔پر وہ اس ماحول میں رچ بچ نا سکی کہونکہ ایک تو تعلیم مختلف تھی اوپر سے اسکی دوستیں اسکے ساتھ نا تھیں

کبھی کبھی اسکا دل کرتا کے بہت روے پر اپنے اوپر کنٹرول کرگئی تھی

ویسے تو ان تینوں کا آپس میں رابطہ تھا دن میں کئی بار باتیں کرتیں پر جو مزا ساتھ بیٹھنے میں ہوتا ہے وہ دور جانے میں کہاں ہوتا ہے

مریم اسکول بھی جارہی تھی اور جیا سے بھی کھیلتی تھی اسے آسنا میں انکا گھر بھی رہنے کے قابل ہو گیا تھا

بس دروازہ لگنا باقی رہ گیا تھا اور کچھ دنوں تک وہ بھی ہو ہی جانا تھا

ایک دن مریم بیٹھی پڑھ رہی تھی کے فاریہ کی کال آئی

اسنے کہا کے اسے کینسر ہے اور وہ چند روز کی ہی مہمان ہے

اسکی بات سن کر تو مریم کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی

اسنے کہا کے کب اور تم ایسی باتیں مت کرو

مریم رودی

یار میرے پاس زیادہ وقت نی ہے ہوسکے تو مجھ سے آخری بار مل لو اسکی آواز سے نقاہت عیاں تھی

فاری پلیز نا ایسا تو مت کہو

مریم نے روتے ہوے کہا

اسکی طرف دیکھکے جیا نے ھی رونا شروع کردیا جسکی آواز سن کر رضیہ بیگم جو کے سامان سیٹ کررہیں تھیں نئے گھر میں وہ بھی آگئیں اور مریم اور فجیہہ کو روتے دیکھ کر ٹھٹک گئیں

کیا ہوا بچے رو کیوں رہے ہو اور کسکی کال تھی انہوں نے جیا کواٹھا کر اسسے پوچھا جو اب فون بند کرچکی تھی

مما وہ وہ ف فف فارریہ

کی کال تھی مریم نے روتے ہوے انہیں سب بتادیا اور اب وہ بھی پریشان ہوگئیں اور انہوں نے اسکے بابا کو کال کرکے بتایا اور کہا کے ٹکٹس بک کرالیں ہم ابھی جارہے ہیں

اور انہوں نے جلدی جلدی پیکنگ کی اور روانہ ہوگئے

گاڑی چونکے دیر سے آئی تھی اسی لیے نہیں پہنچنیں میں دیر ہوگئی

عاشق صاحب نے اشفاق صاحب کو فون کرکے پوچھلیا تھا اسپتال کا اسی لیے وہ ڈائیریکٹ ہی شفاء چلے گئے

مریم نے جلدی جلدی سے لفٹ کا بٹن دبایا اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے اور اسکی ٹانگ میں ھی شدید درد تھا

تبسے وہ اب تک اسکی شفا کی ہی دعائیں کیے جارہی تھی

مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا

اسنے جیسے ہی مریم کو دیکھا تو فاریہ کے پاس لے آی

میں تمہارا ہی انتظار کررہی تھی اچھا ہوا تم آگئی اب میں سکون سے مرسکوں گی فاریہ نے مریم سے گلے لگتے کہا

ایسے تو مت کہو تمہیں کچھ نی ہوگا سب ٹھیک ہوجائے گا تم فکر نا کرو مریم نے بامشکل اپنے آنسو روک کر کہا

مجھے پتہ ہے کے کچھ ٹھیک اسکی بات آدھے میں ہی رہ گئی اور اسکی سانس اکھڑنے لگی

ک کک کیا ہوا فاری

اٹھو س سسبٹھیک ہوجائے گا مریم نے اسے کہا جسکا رنگ سفید کپڑے کی مانند ہوگیا تھا

اشفاق اور عاشق صاحب جلدی سی ڈاکٹر کو بلا لائی

آپ لوگ ذرہ ہر جائیں

ڈاکٹر نے کہا

وہ لوگ ابھی باہر گئے ہی تھے کے کے ڈاکٹر ے آکر کہا کے آپکی بچی اب اس دنیا میں نئی رہی

اسکا کہنا تھا کے گویا بمب گرادیا تھا سب پر

مریم نے لگی تب جاکے فلورہ نے اسے جلدی سے پکڑا

مریم سنبھالو خود کو اسنے بھی روتے ہوے کہا

فللورہ یہ یہ سسس سسب کیسے ہوا ہے

وہ ت ت تووو بلکل ٹھیک تھی نااااں

شددت غم کی وجہ سے اسسے بولا نی جارہا تھا

یہ اللّٰہ کی مرضی تھی بیٹا اشفاق صاحب نے کہا

اسسی کی تو مرضی چلتی ہے ہر معاملے میں اب ہم یا کرسکتے ہیں عاشق صاحب نے بھی انکی تائید کی

@@@@@

وقت کو گزنا تھا وہ گزرگیا

مریم اور اسکے مما بابا اسکے ناویں کے بعد گھر لوٹ آئے تھے

مریم ھی واپس اسکول جانے گی

مگر اسکا دلودماغ ابھی بھی وہیں اٹکا ہوا تھا

اسکی کلاس کی لڑکیوں کو جب اس سبکا پتہ چلا تو انہوں نے اسسے دوستی کا فیصلہ کیا مگر مریم نے سہولت سے انکار کردیا

اسے کسی سے کوئی بات نی کرنی تھی تو اسلیے اسنے انکار کردیا

ایسے ہی وقت گزرتا گیا دن مہینوں میں اور مہینیں سالوں میں بدل گئے آج جب فاریہ کی دوسری برسی تھی تو فلورہ نے مریم سے کہا کے اب ہ ہمیشہ یہیں رہے گی اسکے بھائی کہا تھا کے وہ گھر لے دا نی تو انکا اپنا گھر تھا اسکے پاپا کو تو اب نیوی والوں نے ملائیشیا بھیج دیا تھا انکا کوئی پتہ نی تھا کے انہوں نے کب آنا ہے

اسلہے اسکی ذمہ داری اب بھائی پر تھی

تو مریم نے بھی خوشی سے سبسے کہا کے اسکے بچپن کی دوست اسکے ساتھ ہی پڑھے گی

جب مریم کا آٹھوئیں جماعت کا آخری پیپر تھا اسدن فلورہ بھی اپنا سامان لیکر انکے اتھ رہنے آگئ تھی انہوں نے بہت مستی کی اسی بیچ میں اقا اور عتیق کا جھگڑا ہوگیا تھا کے وہ اسے بائیک چلانا نی سیکھارہا تھا کیونکے اسکے امتحان ہونے والے تھے

تو مریم نے اسسے کہا کے چلو میں سیکھاتی ہوں تمہیں

اقا بہت خوش تھی کے مریم نے آج اتنے دنوں بعد اس سے مسکرا کر بات کی ہے

ریم اسے جب سیکھارہی تھی تو اقا نے جلد ہی سیکھ لی مگر وہ اکیلے چلانے سے ڈر ہی تھی

مریم کیوں نا آج ایک ریس ہوجائے عتیق بائیک پر بیٹھا اسسے مخاطب ہوا

جی ضرور

مریم نے کہا

پر اقا نے منع کردیا کے اسے ڈاکٹر نے ٹانگ کو زیادہ ہرکت دینے سے منع کیا تھا

کوئی بات نی اقا تم فکر نا کرو

مریم نے اسسے کہا جو اسکیلیے فکر مند ہورہی تھی

چلو ٹھیک ہے پر آرام سے چلانا

کیونکے جب مریم بائیک چلاتی تھی تو بائیک چلتی نی بللکے اڑتی تھی

اندونوں نے ریس شروع کرنے کیلیے اپنی اپنی بائیکس کو ریس دی

اقا کے شروع کہنے پر دونوںنے شروع کردی

عتیق ویسے تو بہت اچھی چلاتا تھا مگر مریم سے ہمیشہ ہی ہار جاتا ا اور آج بھی ایسا ہی ہوا

وہ سمجھرہا تھا کے کافی عرصے کے بعد مریم چلائے گی تو رفتار تھوڑی تو کم ہوگی

اسکی رفتار پہلے جتنی تو ناسہی مگر عتیق سے تو زیادہ ہی تھی اسلیے جیت اسکا قدر بنی

کہا تھا ناں ہار جاو گے مریم نے فخریہ لہجے میں کہا اور اقا اور فلورہ نے اسے چڑایا

ایک دن تو ضرور جیتوں گا میں دیکھ لینا اسنے کہا

اوکے دیکھلیں گے مریم نے بھی لٹھ مار جواب یا

پر اگر اسے قسمت کے کھیلوں کاپتہ ہوتا تو وہ بلکل نا کہتا

@@@@@@

فلورہ یار جلدی کرلو تمبھی ناں کتنی دیر کر رہی ہو

مریم نے اسے کہا جو کبسے ایک گھنٹے سےجوتوں کی دکان پر لگی ہوی تھی

شانی کرتورہی ہوں پر کبھی کوی اچھا لگتا ہے تو کبھی کوئی

اچھا تم وہ والا لے لو مریم نے اک سلور کلر کے فینسی ہیل سینڈل کی طرف رہ کیا

NOT BAD YAAR

اسنے ستائیشی نظروں سے دیکھ لیا

تمہاری چوائس تو بہت اچھی ہوگئی ہے

فلورہ نے جان کر اسے چھیڑا

کیا طلب ہوگی؟ میری چوئس ہمیشہ سے ہی پرفیکٹ ہے

اسکی بات پر دونوں ہی مسکرادیں اور ساری شاپنگ کرکے

ماموں کے گھرسے ہوکے وہ گھر لوٹ آئیں

@@@@@@

تمہارا دھیان کہاں رہتا ہے عتیق کیسے بھول آئے تم وہ گفٹ؟

بس شانی شانی جلدی آتے ہوے پتہ ہی نا چلا

عتیق نے کہا جو شاپنگ بیگ میسے گفٹ والا بیگ اپنے گھرہی بھول آیا تھا

چلو کوئی بات نی میں لے تی ہوں

مرہیم ے ہیلیمنٹ پہنتے کہا

میں بھی چلتا ہوں اسنے کہا

اوکے پر پلیز تیز چلانا

اوکے اسنے بھی اثبات میں سر ہلادیا

کہاں جارہیں ہیں آپ دونوں اکیلے اکیلے

فلورہ نے شرارت سے کہا

یار کتنیبار کہوں کے دو لوگ اکیلے نی ہوتے

ماموں کے گھر جارہے ہیں سامان نے مریم نے کہا

میں بھی چلوں

تم کیا کروگی جاکر کل گئی تو تھی

بس ویسے ہی پلیز زززززفلورہ نے کہا

اوکے عتیق تم گھر رہو ہم جاتے ہیں

مریم نے اسسے کیز لیتے وے کہا

نی یہ ھی آسکتا ہے نا ہمارے ساتھ

فلورہ نے کہا

یار ڈبل سواری پر پابندی

پلیز مریم چلنے دو اسے بھی فلورہ نے اسکی بات کاٹ کر کہا

اوکے مریم نے اسسے کہا اور فلورہ عتیق کے پیچھے بیٹھ گئی تھی کیونکہ مریم نے اسے کہا

شانی ایک بات کہوں آج تم پلیز ایک سائیڈ پر بیٹھ سکتی ہو پلیز

عتیق اور فلورہ نے کہا

میں کبھی نی بیٹھی اور ناہی مجھے بیٹھنا آتا ہے

ایک بار پلز فلورہ نے کہا

اوکے اب چلو اسنے بیٹھتے ہی کہا

اور وہ دونوں باتیں کررہیں تھیں کے ایک دم ہی عتیق نے رفتار تیز کردی

جیجو

جیجو آہستہ چلاو ناں پلیز مجھے ڈر لگتا ہے فلورہ نے چیخ کر کہا

جبکہ عتیق نے سلو کرنے کی بجائے بائیک اور تیز کردی

عتیق تمہیں سنائی نی دیتا کے فلورہ کیا کہہ رہی

مریم نے کیریل کو پکڑتے غصے سے کہا جو بائیک کو کبھی ادھر تو کبھی ْادھر چلارہا تھا

عتیق مریم چلائی

جیسے وہ دونوں اسے کہہ رہی تھیں وہ وہیسے ہی اور تیز کررہا تھا کے اچانک ایک ٹرک سامنے سے رہا تھا

عتیق نے جلدی تے بریک لگائی چونکہ رفتار تیز تھی سلیے جیسے ہی سنے بریک ائی مریم جو پیچھے بیٹھی تھی اچھل کر سڑک کے پار گری اور گرتے ہی بے وش گئی اور فلورہ و پہلی ہی سہمی تھی توازن برقرار نا رکھ پائی اور وہ بھی گرگئی ادھر اس ٹرک کے نوکڑ عتیق کی بائیک کو لگی اور وہ بائیک سمیت گرگیا اسکی بائیک ا پہیہ فلورہ کے سر پر لگا

انکی خوشنصیبی ہی سمجھے ے اسی وقت ریسکیو والے بھی گزر رہے تھے اور انہیں اٹھالیا اور اسپتال لے آے

عتیق کا فون ٹوٹ چکا تھا اسلہے انہوں نے مریم کے فون سے انکے گھر اطلاع پہنچائ

اور وہ سب آگئے تھے

ایک گھنٹہ ہوگیا تھا

انہیں وہاں آئے پر مریم ابھی بھی ہوش کی دنیا سے بیگانہ تھی

اور جب ہوش میں آئی تو صدمہ برداشت نا کر پائی اور اورکوما میں چلی گئی

_______

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی

نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سی

نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے

مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے

کوئی بھی رت ہو اسکی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی

وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی

نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے

نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو

نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے

نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔

نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو

نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو

کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخن

کبھی تو کشت زعفراں، کبھی اداسیوں کا بن

سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی

وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسل کی بھی

سو ایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی

میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی

میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے

کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہے

شجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہیں

نہ ڈھول ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں

میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں

وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوں

نہ اس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی

جب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی

سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا

وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا

بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی

اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی

. . .

آج مریم کو کوما یں گئے چھ ماہ ہوگئے تھے پر اسے ابھی تک ہوش نی آئی تھی

علی ہاوس میں تو بلکل ہی خاموشی چھائی ہوی تھی

وہ گھر جو ہر وقت شور اور چلگاریوں سے کہیلتا تھا آج سناٹے میں ڈوبہ ہوا تھا

وہ لوگ جو مستی میں لگے ہوتے اب کسی بت کی مانند ایک دوسرے کے چہرے کھوج رہے تھے کے کوئی تو نئی نوید ہو

مگر بے سود تھا سب

عاشق صاحب تو مانوں بت ہی بنگئے تھے انکی سبسے مضبوط بیٹی جسے ہمیشہ وہ بیٹا کہتے تھے جو انسے ایک دن بھی بات کیے نا رہ سکتی تھی آج چھ مہینے انسے تو کیا کسی سے بھی بات نی کررہی تھی

ڈاکٹر آتے جاتے رہتے مگر مریم کی حالت میں کوئی سدھار نا آیا

انکا کہنا تھا کے اسکی حالت نا تو بگڑ رہی ہے اور نا ہی سنور رہی ہے

۔ ۔ ۔

دوسری جانب عتیق جسے رضیہ گم نے اسکے پاس جانے سے بھی منع کیا تھا جب وہ چلی جاتیں تو وہ آکر اسسے باتیں کرتا اسے اپنی بے گناہی کی یقین دہانی کراتا مگر اسنے نا اسسے بات کرنی تھی اور نا ہی کی

پورے خاندان میں یہ بات پھیل گئی تھی

کچھ اظہارِہمدردی کرتے تو کچھ جلے پے نمک چھیڑکتے اور جنکا کام باتیں بنانا ہوتا وہ باتیں بناتے

ہر کسی کی زندگی اچھے سے گزر رہی تھی کیونکہ جب آپ کسی کے دکھ درد کو صرف اسکا دکھ ہی گردانیں گے تو ایسا تو ہوگا ہی

عتیق مسلسل اسسے باتیں کیے جارہا تھا مگر وہ جواب کہاں سے دیتی وہ تو سانس لینے والی لاش بن گئی تھی

اب زیارت کا شرف بخش دو مجھے‬⁩____

‏نجانے کب سے وضو آنکهوں کا کيے بیٹھے ہیں

عتیق کے دل نے آواز دی اور اسکے دل کی آواز نے اسکے مردہ وجود میں تھوڑی ہرکت کی اور اسکا ہاتھ ہلنے لگا

وہ بھاگ کر ڈاکٹر کو بلا کر لایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *